Thursday, 4 December 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔ (تدفین)۔ (11)

2 آرا

گزشتہ سے پیوستہ


زمین  سے تقریباً    پانچ فٹ  نیچے   قبر  کے اندر  داخلے  کیلئے ایک  فٹ چوڑا  اور دو فٹ لمبا روشن دان  نما راستہ تھا۔   اس  سے قبر  کے فرش تک  مزید پانچ  فٹ گہرائی تھی۔  قبر  کے فرش  پہ   ابا  جی کی ہدایت کے  مطابق  ریت بچھائی گئی تھی ۔   اندر  سے  قبر تقریباً سات فٹ  لمبی   اور  اڑھائی  فٹ چوڑی  تھی۔  حالانکہ  اس  وقت  ہم سطح  زمین  سے   تقریباً دس فٹ  نیچے  بیٹھے  تھے اور قبر  صرف ایک  دو فٹ  کے روشن دان  جو کہ قبر کی چھت کے قریب  یعنی زمین کی سطح سے پانچ فٹ نیچے تھا، کے علاوہ  چاروں طرف سے مکمل طور پر بند تھی ۔ اس  کے باوجود  اس  خاکسار  نے  حیرت انگیز  طور پر  قبر  کو  آخری کونے تک   یکساں طور پر  روشن پایا ۔  باہر  چار بجے  کا  مغرب کی طرف ڈھلتا سورج اپنی  گرمی کا زور دکھا رہا تھا ۔  لیکن اندر اترتے  ہی حیرت انگیز  طور پر  ایک ٹھنڈک کا احساس ہوا اور پسینہ خشک ہو گیا۔ 
اس  سب خوشنمائی کے باجود  فدوی  کو اعتراف  ہے  کہ  قبر  کی ہیبت    نے میری فطری  بےخوفی  اور  نڈر   پن کو  ایسا  پچھاڑا کہ بیان سے باہر  ہے۔  ظاہر میں نہ کوئی  کپکپاہٹ تھی ، نہ ہی  میں ڈرا ہوا لگ رہا تھا۔ لیکن  اندر سے  یوں محسوس  ہو رہا تھا کہ  دل جیسے جکڑن  کے  مارے  پسلیوں سے  سر ٹکرا  رہا  ہے۔ اور     جب  سرہانے  والی سائیڈ سے  مٹھی بھر  ریت اٹھا کر   سورۃ  القدر  کی تلاوت شروع کی ۔     انا انزلنا فی لیلۃ  القدر  ۔  لیلۃ  القدر  خیرمن  الف  شہر۔تک  پہنچتے  پہنچتے  سانس پھول گیا۔   اور  ایسا محسوس  ہوا کہ  گلے  تک  ریت  ہی ریت بھر گئی ہو۔  سورۃ  القدر جو  بچپن سے  ہی حفظ تھی  آج یہ  چھوٹی سی سورۃ  پڑھنا  جوئے  شیر ثابت  ہو رہا تھا ۔  میں زور  لگا کے پڑھنا  چاہتا ہوں  لیکن الفاظ جیسے  گلے سے  اوپر آنے  سے  انکاری ہیں۔  ذہن  کی سلیٹیں  خالی خالی  نظر آ رہی  ہیں۔  جلدی  سے  دوبارہ  پہلی آیت  سے پڑھنا  شروع کی   ۔   اور  حیرت  انگیز  طور  پر    دوسری  آیت  پہ پھر اٹک گیا۔  
تھوڑا اوپر  ہو کر  ہاتھ باہر  نکالا ۔ قریب  ہی جنید کھڑا  تھا۔  میرے ہاتھ میں اس کا پائنچہ  آیا ۔ میں نے کھینچ  کے اسے متوجہ کیا  اور کہا  کہ سورۃ القدر  کی تلاوت کرنا ۔  اس نے حیرانی سے  جھک کر  میری طرف دیکھا  اور  پوچھا تمہیں نہیں آتی کیا۔؟ میں اب کیا کہتا کہ  قبر کی ہیبت  سے  سب  پڑھا پڑھایا  بھول  بھال گیا ہے ۔  میں نے کہا  کہ  آپ پڑھ  دیں ایک بار   اندر میں بھی پڑھتا جاتا ہوں۔  خیر اس نے  سورۃ  القدر  پڑھنی شروع  کی اور میں ساتھ ساتھ  دہراتا  گیا۔  تلاوت  کے بعد  مٹھی  میں بھری  ریت پر  پھونک مار کے  قبر کے  فرش پر  سرہانے کی طرف  بکھیر دی۔    پائنتی  کی جانب  بیٹھا  کزن   جس کی عمر  تقریباً 47  سال تو ہو گی ۔ مجھ سے بولا  کہ   :۔ "آج  73ویں بار قبر میں اترا ہوں  میت اتارنے  کیلئے  لیکن   قبر کی  ہیبت   آج بھی دل دہلا دیتی  ہے۔ تم  تو  سرہانے   کی جانب سے  بیٹھے ہو  ،  لیکن یہاں سے  قبر   (اس نے اشارہ  کر کے بتایا) ہلتی ہوئی   اور بھیانک  محسوس  ہوتی ہے۔   میں نے آج  تک اتنی  سپیشل  قبر نہیں دیکھی۔  واقعی  ایسی  قبر چاچاجی (میرے والد مرحوم) کی ہی ہو سکتی ہے  اور  دیکھنے سے صاف معلوم ہو رہا  ہے کہ انہی  کی ہدایات  میں ایسی قبر بن سکتی ہے۔  بعض قبریں  تو ایسی  بھی دیکھی ہیں کہ  میت  لٹانے کیلئے  جگہ  تنگ پڑ جاتی ہے۔" شاید  ہم دونوں ہی اپنے  دلوں پہ چھائی  ہیبت  کم کرنے  کیلئے  باتوں  کا سہارا  لے رہے  تھے۔  اچانک  میرے ذہن میں اس یادگار موقع  کی تصویر لینے کا خیال  کوندا۔  میں نے  جیب میں ہاتھ  ڈالا  تو  جیب خالی تھی ۔   باہر  گرمی سے بے حال  ہوتے  بھائی کہہ رہے  تھے  کہ اب ہم  اتارنے  لگے  ہیں۔  میں نے جلدی  سے باہر  کھڑے  جنید سے  موبائل مانگا۔  اس نے  وجہ پوچھی  اور موبائل نکال کے دے دیا۔ میں نے  جلدی سے دو تصویریں بنا کے موبائل  باہر دے دیا۔

 اب  قبر کے باہر  کھڑے دونوں  بھائیوں نے  اباجی  کو  اندر  اتارنا شروع  کر دیا۔ سب  سے پہلے  پاؤں  اندر آئے  اور  میں نے پیر والا  بند تھام کے  ہاتھ بڑھایا  اور دوسرا  بند بھی تھام لیا۔   
بہت ہی عجیب اور      ناقابل بیان منظر تھا۔   اندر  باہر  سے ایک ہی آواز  آ رہی  تھی کہ  دھیرے ، دھیرے ۔۔۔  لیکن اندر اور  باہر والوں  کو یکساں  محسوس  ہو رہا تھا  کہ  جتنا  ہم   دھیرے  دھیرے  اتار رہے ہیں اس سے  کئی گنا زیادہ تیزی سے      ابا جی  اندر  آ رہے تھے ۔  باہر  والے  بھائی مجھے  بلند آواز میں نہ کھینچو ، نہ کھینچو   کہہ رہے تھے  اور میں اندر سے  انہیں "دھیرے دھیرے  ارے بھئی آہستہ آہستہ" کہہ رہا تھا۔  
اسی  افراتفری میں ابا جی  اندر اتر آئے ۔  اور  ایک اور حیرت  انگیز       منظر سامنے آیا۔  وہ  ابا جی  جنہیں فدوی اپنے  ہٹے کٹے جثے کے باوجود   اکیلا اٹھا  کے بٹھا بھی نہ سکتا تھا  آج  سارے کے سارے  ابا جی کو  اپنے  دونوں بازوؤں میں اٹھا کے  بیٹھا تھا ۔ اس سے بھی زیادہ  حیرت انگیز بات یہ  کہ  ابا جی  کا  وزن  ایک تولہ بھی  محسوس  نہ ہو رہا  تھا ۔ یوں لگ رہا  تھا کہ  میں نے صرف  بازوؤں کا اشارہ  کیا ہوا  ہو ، جبکہ اٹھا  کسی اور نے رکھا  ہو۔   پاؤں  میں کزن کی جانب بڑھائے اور ابا جی  اب ہم دونوں کے ہاتھوں  پر لیٹے تھے۔  آہستہ  آہستہ  ہم نے  بیٹھے  بیٹھے  ایک ٹانگ   سائیڈ پہ کی  اور انہیں نیچے  لٹاتے  ہوئے   دوسری  ٹانگ  بھی  دھیرے سے نکال  لی۔ 
اب ابا جی  فرش پر لیٹے تھے ۔  میں نے  تھوڑ ا ساآ گے بڑھ  کے  کفن  کے سرہانے  بندھی ہوئی پٹی کھول  دی۔  اور پھر کفن کا  پہلا بند کھول  کر  ابا  جی کا چہر ہ دیکھا۔  یہ ایک  اور حیرت  ناک ترین منظر تھا ۔  کل  وفات کے  وقت سے  آج  چار  بجے تک  میں نے بلا شبہ  لاتعداد مرتبہ  یہ  چہرہ دیکھا  تھا۔  لیکن  اب  جو میں قبر کے اندر  دیکھ  رہا  تھا  یہ منظر کچھ اور تھا۔   صرف میں ہی نہیں کزن  نے بھی  آگے جھک  کر چہرہ  دیکھا  اور  بے اختیار سبحان  اللہ کہہ اٹھا ۔ ایسی  پیاری  مسکراہٹ  بالکل  واضح  تھی  کہ   سچ  مچ رشک آ گیا۔   یہ مسکراہٹ ابھی  تقریباً آدھا گھنٹہ  پہلے  جب مسجد  کے سامنے  آخری دیدار  ہو رہا  تھا  ، تب چہرے پر نہیں تھی۔ اور  نہ ہی یہ  میری نظر کا دھوکا تھا ۔   مسکراہٹ  اتنی صاف اور  واضح تھی   کہ  کزن دیکھ کر بولا:۔" واہ او یار  واہ ۔  ساری زندگی  ٹُھک  نال گزاری اے ۔ اج  وی اوہا ٹُھک  اے"ترجمہ( واہ رے  یار واہ۔  ساری زندگی جس  دبدبے  سے گزاری  آج  بھی وہی دبدبہ  ہے)۔  یہ وہ اطمینان بھری مسکراہٹ  تھی  جو ماں  کی گود میں سوتے بچے  کے لبوں  پر ہوتی ہے ۔ اور  آج ابا  جی بھی  اپنی اماں  جان  کے عین پہلو میں  ہمیشہ  کیلئے  آ کر  بہت  خوش لگ رہے تھے ۔   چہرہ ایسا  پر نور  اور نورانی  کہ  کفن  تک  روشن روشن لگ رہا تھا۔ میں نے چادر سے چہر ڈھانپ دیا۔
اب  ابا جی کے  دونوں سائیڈوں سے  ہاتھ رکھ  کے دیکھا  تو  آدھا آدھا  ہاتھ  قبر  دونوں طرف سے  کھلی تھی ۔  اور سرہانے  کی  طر ف  سے  پورا  ایک ہاتھ کھلی تھی ۔ پائنتی  کی جانب  سے  کزن نے  بھی تصدیق  کیا کہ  یہاں  سے  بھی قبر  کی دیوار  ایک ہاتھ  دور  ہے۔ 
اب  ہم نے  اپنے  قدموں کے نشان مٹا کر  نکلنا  تھا۔ سب سے آگے میں بیٹھا  تھا  سو میں جھکے  جھکے  اٹھا  اور   ایک  پیر  دوسری  طرف  خالی  جگہ  احتیاط  سے رکھا  اور  آہستہ  آہستہ  کھسکتا  قبر  کے داخلی سوراخ  تک پہنچ گیا۔  وہاں  ہاتھوں  کے  زور  سے  اوپر  چڑھا  اور  باہر  نکل گیا۔  میرے  بعد  کزن بھی  اسی طرح  5 منٹ   بعد  کھسکتا  کھسکتا  نکل آیا۔  باہر لوگ دم بخود کھڑے تھے۔ 
اب  مستری  محمد رمضان صاحب نے  دو فٹ کا  روشن دان  کچی  اینٹوں  سے  بند کرنا شروع کر دیا۔ اور  میں نے  کھجور  کی ایک  لمبی سی ہری  چھڑی  سرہانے  کی جگہ  کے  تعین کے  طور پر  وہاں  گاڑ  دی۔   اب  سب بھائی اور ماموں وغیرہ  آگے بڑھے  اور کلہ شہادت  با آوازِ بلند  پڑھتے ہوئے  مٹی ڈالی جانے لگی ۔  سب تھوڑی  تھوڑی  ڈال کر  ایک طرف ہٹ گئے اور پھر  حافظ محمد  رشید اور  فدوی نے  قبر  پر  مٹی ڈال کے اسے  کو زمین سے  بلند کر دیا۔  تعویز کا نشان  بنانے کے  بعد  پیلو  کے درخت  کی  ہری  ٹہنیاں  قبر پہ بکھیر دی گئیں۔
اس  کے بعد  ابا  جی  کی  زندگی کی  آخری  گیارہویں شریف  ان  کی آخری  آرام گاہ  پر  منعقد  کی گئی اور ابا جی کے پسندیدہ  نعت خوان  اور  ان کے عقیدت  مند  جناب  حاجی  عطا محمد صاحب آگے  بڑھے  اور قبر کے  سرہانے  کھڑے  ہو کر  ایک نعت  شریف اور  ایک منقبت  حضرت غوث الاعظم  سرکار  ؒ کی سنائی ۔  اس  کے بعد جنید  حسنین بخاری  نے  ختم  پڑھا ۔ دعا  مانگی گئی۔اور حاضرین میں برفی بانٹی گئی۔   اسی دوران  روشن پاکستان  پبلک سکول  کے پرنسپل  میاں محمد شریف کے استفسار  پر   حسنین  بھائی   نے انہیں ابا جی  کا ذکر  کرنے کا  مخصوص طریقہ   اور اس کا  راز بتایا۔ بہت سے لوگوں  نے  کہا کہ سبحان اللہ  یہ بہت ہی دلچسپ  حقیقت  معلوم ہوئی  ہے آج۔  حافظ محمد ذیشان بخاری  اور حافظ محمد  رشید  قبر  کے پاس بیٹھ کر تلاوت  قرآن مجید میں مصروف ہو گئے ۔ اور  آہستہ آہستہ  لوگ واپس  ہونے لگے۔  سب  سے آخر میں فدوی بھی  آنے لگا تو  قبر کی پائنتی  سے لپٹ  کر زارو قطار روتا  محمد اسلم  نظر آیا ۔  مجھے  ایسا  محسوس ہوا کہ  جیسے  ابا جی کہہ  رہے ہوں  کہ اسے لے جاؤ یہاں سے۔  میں واپس  آیا اور اسلم  کو دلاسادے کر اٹھا  یا اور  کہا کہ   اس  طرح روؤ گے تو  انہیں تکلیف ہو گی ۔  بس یہ  یقین رکھو  کہ ہم نے ان کا  ظاہری  جسم دفنایا ہے  ہے ۔  ہمارے دلوں  میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور پھر  عرفان کے ساتھ موٹر  سائیکل  پہ بیٹھ کے چل پڑا۔     

2 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما