Saturday, 21 March 2015

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔ ۔ (آخری قسط)۔

1 آرا
جمعرات 12جمادی الاول، بمطابق  13 مارچ  2014 کی سہ پہرتقریباً سوا چار بجے والد محترم  جناب سید ممتاز  حسین  بخاری  کو  ان کی والدہ محترمہ کے  پہلو میں واقع ان  کی آخری آرام گاہ میں اتارنے کا شرف  خاکسار (جوگی) کو  حاصل ہوا۔
اس کے بعد  روزانہ  صبح کی نماز کے  بعد   ان کی قبر پر  تلاوت  کرنا اور  پھول ڈالنا میرا معمول ہو گیا۔  تدفین کے  دوسرے دن صبح  جب تلاوت  اور  ختم سے فارغ ہو کر  میں لوٹ ہی رہا تھا  کہ  دو آدمی  قبرستان  میں داخل ہوئے ،  اور مجھ سے پوچھا  کہ  پیر ممتاز شاہ صاحب کی قبر  کونسی ہے۔؟ میں نے  ہاتھ کے اشارے سے بتایا  تو اس  نے مجھ  سے  دریافت  کیا کہ آپ  ان کے کیا لگتے ہیں، میں نے  بتایا کہ خاکسار ان کا چھوٹا  بیٹا ہے۔ اس  پر  اس نے میرا ہاتھ تھام لیا  اور مجھ سے  معذرت کی  کہ  میں عمرے  پر گیا ہوا تھا اور  ابھی کل ہی  واپسی ہوئی ہے ۔  مجھ سے جنازے میں شرکت  سے محرومی  پر افسوس کا اظہار کیا  اور  ہم  چلتے چلتے ان کی قبر تک  آ پہنچے۔
قبر کے پاس پہنچ کر اس نے میری طرف دیکھا  اور کہا  کہ  یہ اس  وقت مدینہ منورہ  میں  ہیں۔ میں  نے اس کا حسن عقیدت سمجھ  کر محض مسکرانے پر  اکتفا کیا، لیکن اس نے مزید جو کچھ بتایا  وہ  سننے اور لکھنے لائق تھا۔
اس نے بتایا  کہ  عمرے پر  روانہ ہونے   سے پہلے جناب سید باقر  شاہ صاحب (میرے ماموں زاد بھائی) کے پاس حاضر  ہوئے۔  انہوں  نے فرمایا کہ  آپ ہمارا سلام لے جائیں  اور حرم شریف میں آپ  کی ملاقات  میرے  دادا جان سید باغ علی  شاہ  بخاری رحمتہ اللہ علیہ (راقم کے نانا جان) سے ہو گی ، انہیں ہمارا سلام پہنچا دیجئے  گا۔  راوی کا کہنا تھا کہ  سننے  میں یہ بات مجھے بہت عجیب  لگی لیکن پاس ِ ادب سے  کسی چوں چرا کی بجائے میں نے حامی بھر لی۔ لیکن دل  میں مجھے پریشانی  تھی کہ ہم مرحوم  پیر صاحب تک  سلام کیسے پہنچائیں گے۔  ایک  دن حرم شریف  میں طواف کے بعد  جب میں سستانے  کیلئے  ایک  ستون سے ٹیک لگا کر  بیٹھا  کعبہ  کو دیکھ رہا تھا کہ  اچانک کسی نے میرا کندھا ہلا کر  مجھے اپنی طرح متوجہ کیا۔ سر اٹھا کر  دیکھا تو قبلہ  سید باغ علی  شاہ صاحب  کھڑے تھے ۔ بقول اس کے ، قبلہ پیر صاحب کو اپنے  پاس دیکھ کر  میں ہکا  بکا رہ گیا اور  کچھ  سمجھ  نہ آیا کہ  کیا  کروں کیا  کہوں ، یہاں تک  کہ انہوں نے  خود ہی فرمایا کہ میرے  پوتے نے  جو میرے لیے پیغام بھیجا ہے  وہ بتاؤ۔  میں نے ادب  سے  ان کا سلام پہنچایا اور جواب  میں وہ  بھی سلام  کہہ کر ایک طرف چلے گئے۔ اور کل میں واپس آیا ہوں آج صبح  صبح قبلہ پیر صاحب کے مزار پر  حاضری دینے آیا ہوں ۔  اس کے  بعد راوی نے  دوبارہ میرے  والد صاحب کوباقاعدہ مخاطب کر کے  کہا  کہ :۔" مجھے یقین ہے آپ اس وقت مدینہ منورہ میں ہیں۔" اس کے بعد  انہوں نے  ایصالِ ثواب کیا  اور  وہاں سے  قبلہ نانا جان کے مزار کی طرف چل پڑے  اور خاکسار نے گھر لوٹ  کر اماں جان کو ان کے والد صاحب  کی تازہ ترین کرامت سنائی۔
اتوار 16  مارچ  2014 کو  قل خوانی کا  اہتمام تھا۔  حسب الحکم  اوپن ایئر انتظام کیا گیا۔  تقریباً چار کنال  کے رقبہ  پر دریاں  بچھائی گئیں،  لیکن  تمبو کنات نہیں لگائے گئے۔  9 بجے کے بعد  جوں جوں  سورج بلند ہوتا  گیا گرمی بڑھتی گئی ۔ مجھ سمیت  بڑے بھائی کو یہ پریشانی  تھی کہ  11 سے 12 بجے تک  کس طرح لوگ اتنی گرمی میں بیٹھیں گے۔ لیکن  مجبوری یہ تھی  کہ  ابا جان کا حکم تھا کہ  شامیانے  قناتیں نہ لگائے جائیں ۔  جن لوگوں کو  یہ وجہ معلوم نہیں  تھی  ان کے خیال میں شاید ہم کنجوسی  کی وجہ سے شامیانے  وغیرہ نہیں لگوا رہے۔ حتیٰ کہ میرے  ماموں  سید کاظم مسرور بخاری نے اپنی ناراضگی کو اظہار بھی کیا اور کہا کہ اگر خرچے کا مسئلہ  ہے تو مجھے بتائیں لیکن عین دوپہر کے وقت لوگ کس طرح بیٹھیں گے۔  انہیں جواب ملا کہ  جن  کا  یہ  حکم ہے وہ  جانیں اور ان کی  قل خوانی جانے ، ہم نے تو بس حکم کی تعمیل  کی ہے ۔
اور الحمد اللہ  اس قدر تعداد میں لوگ آئے  کہ چار کنال  پر بچھی دریاں  کم پڑ گئیں  ، اور دوبارہ  65 دریاں مزید منگوائی گئیں۔ 
جونہی  پرو گرام شروع ہوا  تو سب نےدیکھا کہ  مغرب  کی جانب سے بادل کا ایک  بڑا سا ٹکڑا  رینگتا ہوا  آیا اور  پنڈال پر ٹھہر گیا۔  ہماری جان میں جان آئی اور لوگوں کیلئے دھوپ سے  بچاؤ کا  قدرتی انتظام ہو گیا۔ 
نعت خوان حضرات  کثیر تعداد میں آئے ہوئے  تھے،  ہر ایک کو زیادہ سے زیادہ  دو منٹ  کا وقت دیا جاتا  رہا،  سب سے  آخر میں ابا جان کے پسندیدہ نعت  خوان  ، حاجی  عطا محمد  صاحب  کو  فری ہینڈ دیا  گیا  ۔  اور  حاجی صاحب  کا  یہ حال تھا  کہ نعت پڑھتے پڑھتے ہچکیاں  لگ جاتیں۔  اس کے بعد  میرے  چچا زاد  بھائی  سید ضمیر  حسین  بخاری خطاب کیلئے کھڑے ہوئے ،   موت اور اس کے متعلقات پر تھوڑی سی روشنی ڈالنے کے بعد  جب مرحوم  کا  ذکر چھڑا  تو ہجوم میں آہ و بکا  کی آوازیں  وقفے وقفے  سے  بلند ہوتی رہیں ،  لوگ  دھاڑیں مار مار  کے روتے رہے ،  اس دن  مجھے ابا جی کی  سربستہ  زندگی کا  ایک  اور  راز پتا چلا،  صرف مجھے ہی نہیں ہم سب بھائیوں پر یہ راز اس دن منکشف ہوا۔  راوی  بیان کرتے ہیں، کہ  جب ہم عمرے پر  روانہ ہونے لگے تو  مرحوم  نے  ایک  مہر بند  رقعہ  میرے  حوالے کیا اور فرمایا  کہ یہ امانت  مدینہ منورہ  پہنچا دیجئے گا۔ مدینہ منورہ جب ہماری حاضری ہوئی  تو  مجھے وہ رقعہ رکھنے کیلئے  کوئی مناسب جگہ نہ ملی تو  میں نے  روضہ مبارک  کے  ساتھ پڑے قرآن مجید  کے ڈھیر  کے نیچے وہ رقعہ  رکھ دیا ۔
(اس دن شام کو  جب اماں جان سے اس بات کی تصدیق  چاہی تو اماں نے ہمیں  پہلی بار  یہ بتایا کہ  ہاں انہوں  نے  آنجناب  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم کے نام ایک  رقعہ لکھا تھا ، اور جس کیفیت میں لکھا تھا  اسے  لکھنے  سے راقم قاصر ہے )
ٹھیک 12  بجے ختم  پڑھا  گیا اور  بھائی کی دستار  بندی ہوئی ،  اور  کھانا  تقسیم ہونے لگا۔  بریانی اور زردہ  اس قدر  زبردست  بنا ہوا تھا کہ  لوگوں نے جی بھر کھایا اور اپنے ساتھ بھی تبرک کے طور پر لے گئے ۔
ایک صاحب  نے بعد میں روایت  کیا کہ  "میرا  بیٹا  شدید  بیمار تھا ،  اس دن قل خوانی میں جو لنگر بانٹا  گیا ، اس کا کچھ حصہ میں اپنے ساتھ بطور تبرک لے  گیا اور بیٹے کو کھلایا ۔  اور  میرا بیٹا جو کئی سالوں  سے  بیمار تھا اور ڈاکٹرز جواب  دے چکے تھے ، اب الحمد اللہ  وہ بالکل صحت مند ہے۔"
اللہ والوں کے راز اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی  بدل گئی
اک شخص  سارے شہر کو  حیران کر گیا

جانے  والے تو چلے گئے  لیکن دنیا کا چلن بھی بدل گئے ۔  ان  کی وفات کے بعد  خاکسار  نے  بہت  کچھ  بدلتا دیکھا  ہے۔  کچھ ایسا بدلاؤ جس  کا سوچنا  بھی نا ممکن تھا، لیکن وہ ممکن دیکھا ہے۔
لوگوں کو  اب  خدا  یاد آ گیا ہے ۔ لوگوں کو اب موت یاد رہنے  لگی ہے۔
لوگ  اب موت کی تیاری  دل  سے کرتے پھرتے ہیں۔
جسے دیکھو وہی  اپنا کفن  تیار  کروا رہا ہے۔ ہر  دس میں سے پانچ  افراد اپنی زندگی میں اپنی قبریں تیار کروا  رہے ہیں۔  علماء جب بھی تقاریر  میں موت کا ذکر کرتے ہیں ،  تو ان کا نام  لازمی لیتے ہیں۔  غرض کہ ان کی وفات جیسے وسیب کیلئے ضرب المثل بن گئی ہے۔
دور  ، دور سے لوگ  ان کا  صرف ذکر  سن کر ان کی  قبر پر فاتحہ  خوانی کیلئے آتے ہیں۔ ابھی  حال  ہی کا واقعہ ہے ۔  جو کہ وقوعے کے دو دن  بعد  مجھے معلوم ہوا۔
(دروغ بر گردن راوی)
16  مارچ  2015 کو  ایک  فیملی مزار پرحاضر  ہوئی ۔  ان کی کمسن بچی پر  جنات کا  قبضہ تھا۔  بچی کے والدین نے ہر طرح کا علاج کروایا ، عاملوں  ،پیروں فقیروں  کے  پاس چکر لگائے ، لیکن بے سود۔  بچی کے والد  (جو کہ  سید ممتاز حسین بخاری   رحمۃ اللہ  علیہ کا مرید بھی نہیں) نے اپنے پیر صاحبان  کے پاس جا کے فریاد کی ، جب حاضرات کا عمل کیا گیا ، تو  (بقول ان کے) قابض جن نے کہا  کہ  یہ سید  ممتاز حسین  بخاری کی  مریدنی ہے  ،  اس لیے  اب تک زندہ ہے۔  آپ ان کے مزار پر حاضری دیں ، ہم چھوڑ دیں گے۔  اور پھر  وہ  سب  مزار  پر حاضر ہوئے ۔ اب  وہ بچی بالکل ٹھیک  ہے ۔ 
اس کے علاوہ  اور بھی بہت سے واقعات ہیں ، جو  ہم تک لوگوں کی زبانی پہنچتے ہیں۔  اور ہماری حیرانی  در حیرانی کا سبب بنتے ہیں۔

نام فقیر انہاں  دا باہوؒ،  قبر جنہاں  دی جیوے ہو۔۔۔ 

1 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما