Sunday, 22 March 2015

محمد ﷺ کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا

1 آرا
اپنے بزرگوں  کےمزار پر  دربار  بنانے اور مجاور  بن کے بیٹھنے  کی  ہمیں  اجازت نہیں،  الکھ نگری  میں جو ممتاز  مفتی صاحب نے اپنے پیر و مرشد  سائیں اللہ بخش صاحب  رحمتہ اللہ علیہ کے مزار  کا احوال  لکھا ہے  ، یہاں  بھی کچھ ایسا  ہی حال ہے۔ یہ ایک  نہایت عجیب و غریب  قصہ ہے  جس کے متاثرین  میں سے آخری نام خاکسار کا ہے ۔
 اس پس منظر سے واضح ہو گیا  کہ  اپنے والد صاحب کی قبر  پر  ہم دربار  کھڑی کر کے آمدنی کا ذریعہ  نہیں بنا سکتے ، مگر پکی  قبر اور زائرین کے بیٹھنے کیلئے چبوترہ  تو بنوا سکتے ہیں۔ 
پس  تین  محرم  الحرام کو اس کام کا آغاز کیا گیا۔   بڑے بھائی  کا ارادہ  ابا جان کے پہلو میں دفن ہو نے  کا ہے تو منصوبہ یہ تھا کہ لگے ہاتھوں  ان  کی   قبر بھی  تعمیر  کر لی جائے  اور ساتھ  ہی بنیادیں کھڑی کر کے  ایک سادہ  ساکمرہ بنا دیا جائے  ۔  ہمارے  دیرینہ  مستری  حاجی محمد  رمضان صاحب جنہوں  نے  ابا جان  کی قبر تعمیر کی  تھی ،  کی نگرانی  میں کھدائی کا کام شروع ہوا۔ جب  کھدائی کرتے مزدور  قبر کے قریب پہنچے  تو  نہ صرف انہیں  بلکہ  ارد گرد کھڑے  سب لوگوں  کے  ناک سے تازہ گلابوں  کی خوشبو ٹکرائی۔  ہر  ایک دوسرے کی  طرف حیرانی سے  دیکھتاہوا یہ پوچھنے لگا کہ کیا خوشبو تمہیں بھی آئی ہے  یا صرف مجھے آ رہی ہے۔
اس  مرحلے پرہم نے  حاجی صاحب سے  ایک بار پھر پوچھا  کہ  قبر کی  محراب کے اوپر  منوں  کے حساب سے مٹی کا بوجھ پڑا ہے  ، جبکہ  آپ پہلو سے مٹی ہٹوا کے کھدائی کروا رہے  ہیں، کیا اس سے واقعی  مٹی کے  کھسکنے  اور ابا جی کی قبر کی  محراب ہلنے کا کوئی  خطرہ نہیں، انہوں  نے  اپنے برسوں کے تجربے کی  بنیاد پر  ہمیں تسلی دی  اور کھدائی جاری رہی۔  یہاں تک  کہ  پہلو کی  طرف سے  ایک دوسری قبر  کے برابر جگہ  کھود لی گئی کہ  اچانک ابا جی کی قبر  کا مٹی کا تعویز کھسکا اور  کسی آئس  برگ کی  طرح پہلو کی  طرف  ڈھلک آیا ،  اتنی زیادہ مٹی کے ڈھلکنے کے جھٹکے سے ابا جی کی قبر کی  محراب (جو کے کچی اینٹوں سے بنی ہوتی  ہے) ہلی اور ہلکی سی ٹیڑھی ہو گئی۔  ساتھ ہی وہاں موجود  حاضرین کے دل بھی ہل گئے۔ بڑے بھائی  صاحب کا  اس جھٹکے سے پارہ ہائی ہو گیا  ، اور وہ حاجی صاحب پر  برس پڑے کہ حاجی صاحب  ہمیں یہی خطرہ تھا  اور اسی  لیے مشورہ دیا تھا  کہ ابا جی کی قبر سے  بھی مٹی ہٹا لی جائے ، مگر  آپ کسی کی سنتے ہی کہاں ہیں،حاجی صاحب بھی برسوں کے تجربے کو فیل ہوتا دیکھ کے ہکا بکا کھڑے تھے۔  بھائی صاحب تو سر پکڑ کے بیٹھ گئے ، جبکہ میں نے مزدوروں  اور حاجی صاحب کو تسلی دی کہ اب بہتر یہی ہے کہ قبر کے  اوپر سے  مٹی ہٹا لی جائے ، تاکہ مزید کوئی پسوڑی  نہ کھڑی ہو جائے ۔ اور مزدور  آرام آرام سے قبر کے اوپر سے  مٹی  پہلو میں کھودے گڑھے میں کھینچ کر باہر نکالنے لگے۔
جب ابا جی کی  قبر سے مٹی ہٹا ئی گئی  تو  محراب  کے اوپر  بچھائی  گئی  کھجور کے پتوں  کی  چٹائی  مٹی  میں مٹی  ہو چکی تھی  اس کے محض  نشانات  سے  محسوس ہوتا  تھا کہ  یہاں 9 ماہ پہلے  چٹائی تھی۔  محراب  کی ٹیڑھ اور  ایک جانب کو جھکاؤ واضح نظر آیا۔  اب ہمارے سامنے  دو  آپشن تھے  کہ قبر  کے ساتھ ایک  اور دیوار  محراب کی اونچائی تک  کھڑی کر کے اس پر کنکریٹ کے  بنے سلیب  رکھ دئیے جائیں ۔  یا پھر  قبرکھول کر  محراب ہٹا  لی جائے  اور محراب کی بجائے  سلیب  رکھ کے پکا کام  کر دیا جائے  تاکہ مستقبل کیلئے کوئی خدشہ  نہ رہے۔
 دونوں  آپشن میری  طرف سے پیش ہوئے اور  سب لوگ پہلے آپشن  پر فوراً متفق ہو گئے ۔ اسی دوران  ابا جی کے بڑے بھائی  صاحب کی آمد ہوئی  اور صورت حال دیکھ کر  ان کا رنگ بھی فق ہو گیا۔  اچانک  ابا جی کی قبر  کی پائنتی کی  جانب سے مٹی قبر کے  اندر  کی جانب کھسکتی  نظر آئی تو  بڑے بھائی کابلڈ پریشر کم ہونے لگا۔ ابھی اسی مخمصے میں تھے کہ  ابا جی کے  سینے  کے مقام پر بھی ایک  اینٹ نیچے کو کھسکی تو  میں نے  حاجی  صاحب  کو  قبر  کھولنے کا کہہ دیا۔   بڑے بھائی صاحب  اس وقت  کسی فیصلے  پر نہیں پہنچ پا رہے تھے اور سر پکڑ کے  ایک طرف بیٹھے تھے ، قبر کھلنے کا سن کے چچا جان ڈر کے مارے دربار  شریف پر جا بیٹھے ، اور  حاجی صاحب نے ایک بار پھر مجھے سوچنے کیلئے کہا، اور کہا کہ  پہلےکسی  مولانا صاحب سے  اس بارے  میں مشورہ     لینے کا  صائب مشورہ دیا، جس پر  خاکسار کو جلال آ گیا۔  میں نے  مولانا  صاحبوں کی ایسی  تیسی کہہ کر کہا  کہ:۔"یہ میرے والد صاحب کی قبر ہے اور میں کہہ رہا  ہوں  کہ  میرے والد صاحب اس وقت یہی چاہتے ہیں کہ قبر کھول کر  دوبارہ بنائی  جائے ۔"حاجی صاحب نے بڑے  بھائی صاحب کی طرف سوالیہ نظروں سے  دیکھا تو وہ خاموش رہے ،   اتنے میں نے ایک مزدور کو قبر کے سرہانے سے مٹی ہٹانے کو کہا اور مٹی ہٹا لی گئی ۔
 محمد  اسلم جو کہ ابا جی  کا انتہائی جانثار  عقیدت مند  ہے ،  جسے ہم مذاقاًابا  جی کا جن کہا کرتے تھے ،  جسامت میں  کسی دیو سے کم نہیں ، لیکن دل کا  ایسا کمزور  کے  قبر کھلنے کا  سن کے کانپتے  لبوں سے  کنکریٹ کے سلیب  لانے کا   بہانہ کر کے  کھسک لیا۔ اتنے  میں میرے  دوسرے دو بھائی بھی آ گئے  اور وہ بھی  دور کھڑے  ہو گئے ۔
حاجی صاحب نے  قبر کے دھانے سے اینٹیں ہٹانا شروع کر دیں  ،  اور قبر  تقریبا  9 ماہ بعد کھل گئی ۔ سب کے حلق خشک ہو چکے تھے،  کسی کی آواز نہیں نکل  رہی تھی ۔  اب  محراب  کی اینٹیں  ہٹانے  کی صورت میں قبر کے اندر مٹی گرنے کا  خدشہ تھا، جس پر میں نے تجویز دی کہ  اندر  ایک  چادر بچھا دی جائے  ، تاکہ جو بھی مٹی ، دھول وغیرہ گرے وہ چادر پر  گرے۔ تجویز  تو سب کو اچھی لگی  لیکن اس کام  کو انجام دینے  کیلئے سب کی  متفقہ نظریں مجھ پر  پڑیں۔    میں  اندر دربار  شریف میں گیا  اور  اپنے جد امجد  حضرت  مخدوم سید  محمد باغ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ  (صاحب دربار عالیہ کوٹ والا) کے مزار کا سبز رنگ  کا  بڑا  غلاف اتار لایا۔ 
 الحمد اللہ  یہ خاکسار کیلئے اعزاز  کی بات تھی  کہ  تدفین کے وقت بھی باوجود  حاضرین میں سب  سے چھوٹا ہونے  کے ،  مجھے ہی ابا جی کو قبر میں اتارنے  کی  سعادت نصیب ہوئی ، اور آج 9ماہ  بعد  بھی  ان  کی خلوت  گاہ میں مجھے ہی اترنے کی  سعادت (دوسرے لفظوں  میں اجازت) حاصل ہوئی۔
میں سرہانے کی طرف سے قبر میں اترا  اور  اندر  بیٹھ گیا،  دیکھا تو  محراب  کی  جو دو اینٹیں  کھسک کر  قبر کشائی کا  سبب بنی تھیں   وہ  وہیں  معلق تھیں، حالانکہ صرف تھوڑی سی  اٹکی ہوئی تھیں ، پھر بھی محراب اتارنے کے دوران  گری نہیں۔ اس کے بعد  میں  نے  ابا جی کی جانب توجہ کی ۔ تو   کفن کھڑکھڑاتا  ہوا ویسے  ہی سلامت  تھا،  اندر  سے  پورا جسم  صحیح  سلامت  محسوس  ہو رہا تھا۔   بائیں گھٹنے کے ذرا اوپری  جانب  کفن پر خون  کے  ایک  سکے برابر چھوٹے سے نشان  کے  علاوہ  پورا کفن  بے داغ پڑا  تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ  میں دفن کے وقت   ابا جی کو  سیدھا لٹا کر نکلا تھا،  لیکن اس وقت  وہ اس انداز میں لیٹے  نظر آئے جیسے ان کی زندگی میں لیٹنے کی عادت تھی۔  قبر  جتنی  کشادہ تھی  ،  اب تو  میت پر اتنا عرصہ  گزر جانے کے  بعد جسم کے حساب سے اور  بھی کشادہ لگنا چاہیے تھا ، لیکن  میں نے دیکھا کہ  ابا جی کا  جسم بھرا بھرا  ہونے کی وجہ سے قبر بھی بھری ہوئی  لگ رہی تھی ،  اور  مجھے اچھی طرح  یاد ہے کہ تدفین  کے وقت  دونوں پہلوؤں سے  قبر  کی دیوا ر کا فاصلہ ایک ایک  ہاتھ تھا،   لیکن اب  جسم اس  اندا زمیں پڑا تھا  کہ  مجھے  پیر رکھنے  کیلئے جگہ مشکل سے مل رہی تھی  اور میرے  پیر اور  ہاتھ ان کے جسم سے لگتے ہوئے  ان کے جسم کی  حرارت تک محسوس کر رہے تھے۔  
یوں سمجھ لیں  کہ جیسے  ایک  آلتی  پالتی مارے بیٹھے بندے کو اگر  اچانک لیٹنا پڑ  جائے ۔ یعنی  دیکھنے پر  صاف صاف یہی معلوم ہوتا تھا کہ  یہ ہمارے  اندر داخل ہونے سے پہلے بیٹھے ہوئے تھے۔ کیونکہ  مجھے اچھی طرح یاد ہے  کہ  دفن کیلئے  لٹاتے وقت  ابا جان کے  گھٹنے سے گھٹنا  اور  پیر سے پیر جوڑ  کے  لٹایا  تھا، اب  دونوں پیروں کے  درمیان   ڈیڑھ فٹ کا  واضح  فاصلہ تھا اور  دونوں گھٹنوں کے درمیان  بھی کافی فاصلہ تھا۔
ابا جان کو  جگر کا کینسر  تھا، ڈاکٹرز کی پیش گوئی تھی  کہ  ان کو  وفات سے پہلے خون کی الٹیاں  آئیں گی اور وفات کے بعد بھی کینسر پھٹنے پر  خون جاری ہو جائے گا۔  ہمارا اپنا مشاہدہ بھی یہی تھا کیونکہ  اس  سے  پہلے رشتہ داروں کی وفات ہم نے دیکھی تھی ، اور  دفن تک  ان  کا خون جاری تھا ، آگے اللہ کو پتا۔  لیکن اباجی کے معاملے میں ساری پیش گوئیاں دھری کی دھری رہ گئیں ، قریباً سوا سات  بجے  شام کو وفات پائی  ، اور دوسرے دن  سوا چار بجے  اپنی قبر میں لٹائے گئے ، اور اس وقت تک میں ان کے ساتھ تھا، اور میں نے خون بہنا تو دور خون کا کوئی دھبہ بھی نہ دیکھا تھا۔  اب نو ماہ بعد  صرف ایک پانچ روپے  کے سکے کے برابر  خون کا دھبہ ان کے سفید کفن پر دیکھا ۔
خیر  یہ سب مشاہدہ  کر کے میں نے دربار شریف کا غلاف  ابا جی کے  اوپر  بچھا دیا  اور  باہر نکل آیا۔  بڑے بھائی میرے  قریب آئے اور  آنسوؤں سے لبریز  آواز میں کان میں پوچھا:۔ کیسے ہیں؟ سو رہے ہیں۔؟ میں نے جواب دیا :۔ جیسے دفنایا تھا ، ویسے  کے ویسے ہیں ، حتیٰ کے کفن  کو بھی کوئی زوال تک نہیں۔ اب تین لوگ  محراب کی اینٹیں  ہٹانے لگے اور  باقی سب  باہر نکالنے لگے۔  محراب اوپر سے پوری طرح ہٹا دی گئی۔  تو قبر کا منظر سب  کیلئے واضح ہو گیا۔  جب سلیب رکھنے کیلئے  دیوار  کی درستگی  کر لی گئی تو میں دوبارہ قبر میں اترا اور   احتیاط سے غلاف  اکٹھا کر کے باہر پکڑا دیا۔  اس کے بعد  تو سب لوگ  قبر کی طرف امڈ آئے ، اور اللہ کی  قدرت کا  اپنی آنکھوں سے نظارہ  کیا۔ میں  نے سب کے سامنے  کفن کے اندر ہاتھ ڈال کر  کفن کی اوپری  چادر جھاڑی  ، جس کی کورے لٹھے  والی کھڑکھڑاتی آواز باہر کھڑے ہر  بندے نے سنی۔   قبرستان  میں  اس  وقت  جتنے بھی لوگ آئے ہوئے تھے ، سب  یہ نظارہ دیکھنے آنے  لگے اور دیکھ کر بے اختیار درود شریف کا ورد  کرنے لگ جاتے۔
کمال کی بات  یہ  تھی کہ  کفن کے بند  (کپڑے کا ایک پٹی نما عمودی ٹکڑا، جسے بعدمیں دفن کے وقت کھول دیا جاتا ہے) جو ابا جی  سے الگ ایک طرف پڑے تھے ، وہ مٹی میں  گل کر  مٹی ہو چکے تھے،  سوائے اس تھوڑے سے سرے کے جو  ابا جی کے  کفن کے  ساتھ مس ہوا پڑا  تھا بالکل صحیح سلامت تھا۔ 
 بے شک اس میں عقل والوں کیلئے  بہت سی نشانیاں ہیں۔
اس کے بعد  میں باہر آیا اور  کنکریٹ کے  سلیب  رکھ کے قبر کو  دوبارہ بند  کر دیا گیا۔  اوربقیہ  کام  معمول کے مطابق جا ری رہا۔

میں کوئی عالم نہیں کہ علمی نکتوں یا فقہی  مسائل پر  بحث کروں  اور  فروعی  باتوں پر مناظرے کروں  ، میں ایک سادہ سا مسلمان ہو ں ، جو  اپنے مشاہدے  کے بل بوتے پر  یقین سے کہتا ہے کہ  یہ شاندار  انجام  ، یہ  پر شکوہ  نظارہ ءِ  قبر اس شخص کا  تھا  جو حقیقی  معنوں میں  غلامِ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھا، یہ  انجام ایک  میلاد منانے  والے اور کثرت سے درود شریف پڑھنے والے  کا  تھا۔  جن کی قبر کشائی  کا  احوال آپ نے پڑھا  ،  وہ  باقاعدگی  سے ہر ماہ کی گیارہ تاریخ کا دن اور  بارہ تاریخ کی شام  کو  گیارہویں  شریف کی محفل کا  انعقاد کرتے تھے ،  اور وہ ان کی وفات کے بعد  بھی جاری و ساری ہے۔
سائنس  کہتی ہے  کہ دفن کے 78 گھنٹوں  کے اندر اندر  قبر کے اندورنی حبس اوردباؤ  کی تاب نہ  لاتے ہوئے  میت   پوری طرح پھٹ جاتی ہے ۔  لیکن  میں نے  آپ  کو 78 نہیں کم وبیش 9 ماہ     بعد  کا  نظارہ دکھایا  ہے۔ جھوٹ سچ  اللہ  بہتر جانتا ہے۔
جو بھی تیرے فقیر ہوتے ہیں
آدمی بے نظیر ہوتے  ہیں

1 آرا:

  • 24 March 2015 at 14:27

    سبحان اللہ! اللہ عز وجل سید ممتاز حسین بخاری کو غریقِ رحمت کرے۔ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے، دین و دنیا اور آخرت کی بھلائیاں عطا فرمائے۔ آپ کے ایمان کو استقامت عطا فرمائے۔
    وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ﴿١٠سورة الحشر﴾۔
    اور وہ جو ان کے بعد آئے عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ اے ہمارے رب بیشک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے
    نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے تقریباً چالیس پشت گزر جانے کے بعد ممتاز صاحب کا جسد خاکی مٹی کی خرد برد سے محفوظ رہا۔ اس پر میں سورۃ حم السجدہ کی آیات نمبر 30، 31 اور 32 کا ترجمہ یہاں درج کرنا چاہتا ہوں
    بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا (30) ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اور تمہارے لیے ہے اس میں جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لیے اس میں جو مانگو، (31) مہمانی بخشنے والے مہربان کی طرف سے، (32) اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں (33)۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما