Pak Urdu Installer
Showing posts with label آپ بیتی. Show all posts
Showing posts with label آپ بیتی. Show all posts

Friday, 21 February 2014

ڈبویا مجھ کو ہونے نے 21 (قسط بیست و یکم )۔

1 آرا

بلائے جاں ہے غالبؔ  ، اس کی ہر بات


شیطان کی آنت  کا پھر بھی کوئی نہ کوئی  اختتام ہو سکتا  ہے ، مگر  جوگی اور وسیم کی شرارت  ایجادی   بے لگام و بے اختتام  تھی ۔سونے پہ سہاگہ  ان  کی  دیدہ  دلیری  اور  ہاتھ  کی صفائی ۔ایسے کرتوت نما  کارناموں کے موجد  ہوئے  کہ  شیطان  بھی پناہ  مانگے ۔ شیطان سے گلو خلاصی  تو  بہت  سستی  ہے  مگر  ان   کے  ڈسے کو  نہ  لاحول   فائدہ  دیتا  نہ ہی آیت  الکرسی  کا  ورد  کام آتا  ۔
ببل  گم  (چیونگم ) چباتے چباتے  جب تھک جاتے  تو  بے دید  انسانوں  کی  طرح   حقارت سے پھینک دینے  کی بجائے ،  بصد  احترام  اسے سر   (آنکھوں) پر  جگہ دیتے ۔  البتہ  یہ الگ بات ہے  کہ وہ سر کسی  بدنصیب  غافل  طالب علم  کا  ہوتا ۔ بالوں  میں لگتے ہی  ببل  گم گوہ کی طرح چمٹ جاتی   ۔  جسے  نہ تو  کوئی  شیمپو نہ صابن   دھو سکتا  تھا  نہ  ہی پٹرول یا مٹی کے تیل  سے  الگ  کیا جا سکتا  تھا ۔  نتیجہ  متاثرین  کی ٹنڈ  کے طلوع  کی صورت  میں نکلتا ۔
( گوہ :۔ ایک خزندہ ( رینگنے والا جانور )ہے ، جو کہ گرگٹ سے بڑااور  مگرمچھ  سے چھوٹا ہوتا ہے ، مگر  اسی  خاندان  سے ہونے   کے باعث ان کا ہمشکل ہوتا ہے ۔ گوہ  کی پکڑ  بہت مشہور ہے ۔ ایک بار جہاں چمٹ جائے  پھر  اسے وہاں  سے چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے ۔ پرانے زمانے میں گوہ  کی اسی خصوصیت کے پیشِ نظر  چور  اسے سدھا  کر  اپنے ساتھ رکھتے ۔ بلند و بالا  عمارتوں پر چڑھنے  کیلئے ، اور فصیلیں پھلانگنے  کیلئے  یہی  قدیم ٹیکنالوجی  استعمال کی جاتی تھی) 
کئی بے چارے  صبح  نماز کے وقت  چاہنے کے باوجود  بھی  بستر  سے اٹھنے  سے  قاصر پائے  گئے   ۔ تحقیق  ِ حال  پر  معلوم  ہوا  کہ  گوند  سے چارپائی کے ساتھ    چپکے  پڑے ہیں۔اکثر   بے چاروں  کی  بیٹھتے ہی بے محابا  دھاڑیں  نکل جاتی تھیں۔  کئی بستر پر  لیٹتے ہی تڑپ  کر  اٹھ  کھڑے  ہوتے  اورٹاپتے  ،  جھاڑتے  ہلکان ہو تے رہ  جاتے   ۔ کیکر  کے کانٹوں  کی  وہاں  موجودگی  سب  کی سمجھ سے باہر تھی۔
تبت  ٹالکم پاؤڈر سے  قارئین میں سے بہت سے واقف ہونگے ۔ مگر  اس پاؤڈر کا  ایسا  استعمال  یقیناًکبھی  کسی نے نہ سنا ہوگانہ  دیکھا ہوگا ۔
 کلاس  کے  کمروں  میں تو قالین  بچھے تھے  مگر  ہوسٹل  کے کمروں  اور  برآمدوں  میں چپس  کا  فرش تھا ۔ صفائی کا  بہترین  انتظام ہونے  کی وجہ سے فرش ہمیشہ  چمکتے دمکتے رہتے تھے ۔  اور  پھر  ایک  دن  جوگی  کا  تبت ٹالکم پاؤڈر  کا ڈبہ  اچانک   خالی کیا ہوا ، کوئی قیامت  سی  قیامت  برپا  ہو  گئی  ۔یکے بعد  دیگرے  کئی   بے چارے برآمدوں   میں  پھسلے  اور  کمر پکڑے    ہائے ہائے کرتے پائے گئے ۔ حد  تو اس وقت  ہوئی جب ہوسٹل انچارج  صاحب عشا  ء کے بعد معمول  کے  راؤنڈ پرتھے ۔  جیسے ہی جوگی  کے کمرے میں داخلے کو  پہلا  قدم رکھا ۔ اچانک  تین چار فٹ  ہوا میں اچھلے اور دھڑام سے  زمین  پر  آرہے ۔  سارے تنتنے  اور  اکڑ فوں  ہوا ہو گئے  ، اور تین  دن صاحبِ فراش رہنے کے بعد انہوں نے ہوسٹل وارڈن کے عہدے سے استعفیٰ  دے دیا۔
اور پھر  ایک دن تو حدکی  بھی  حد   ہی ہو گئی ۔جو  بھی  باتھ  رومز  سے   باہر  آتا  ،  نہایت بے چین و  بے کل نظر   آتا۔گویا  بندے  نہ ہوئے مرغانِ بسمل   ہو گئے ،  اک  سی سی سی سی  ، سی صدا تھی جو   چاروں طرف سے گونج رہی  تھی ۔ بازار  میں"ونٹو  جینو"  اور "کمال  مرہم " کا کال پڑ گیا ۔  کسی  ظالم  نے  باتھ روم   کے  لوٹوں  میں لال مرچیں  گھول کے رکھ دی تھیں۔    

کیا خوب ! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور


فارسی کی  ایک  ضرب المثل بھی کیا خوب ہے :۔ ہر روز عید  نیست کہ حلوہ خورد کسے۔حالانکہ غالب نے تو تسلی دی تھی کہ " آہ  کو چاہیے  اک عمر  اثر ہونے تک "  مگر  ان مظلوم طلبہ کی  آہیں صرف تین  مہینے میں ہی اثر  کر گئیں ۔   جوگی  کو  ایک دن  ناشتے کے بعد میس سے واپسی پر کلاس میں ایک  ضروری کام پڑ گیا ۔ اسی  دوران  گھنٹی  بج گئی ،   جوگی    کلاس  سے نکلنے  ہی لگا  کہ  جناب  محترم  شبیر  احمد  صاحب کلاس روم  میں داخل  ہوئے ۔ جوگی کو  دیکھا  تو پوچھ لیاکہ تم   کون ہو ۔؟ نہ چاہتے  ہوئے  بھی جوگی  کے منہ سے  سچ  نکل  گیا  کہ  اسی  کلاس  کا  مانیٹر ہوں ۔  شبیر  صاحب  کے منہ  سے  ایک لمبی  سے  اوہ ہ ہ ہ ہ  اچھاااااااااا خارج ہوئی ۔" کافی عرصے سےبیمار تھے اب کیسی  طبیعت ہے ۔؟  " جوگی  نے  دنیا  جہان  کی مسکینی  اپنے  چہرے  پر  سجا  کر  جواب  دیا :۔"اب  تو ٹھیک  ہوں  ، اسی  لیے اب حاضر  ہو گیا ہوں۔" شبیر صاحب نے  اسی مسکینی  سے متاثر ہو کر  مزید عیادت کی :۔ "خیر تو ہے  کیا  ہوا تھا ۔۔۔؟؟ " اس  سے پہلے کہ  جوگی کوئی جواب گھڑتا ، "قبائلی علاقے " سے وسیم نے اپنی دانست  میں کمک اندازی  کی :۔"یرقان ہو گیا تھا ۔" یہ سن کر شبیر صاحب  کی رہی  سہی  ہمدردی  بھی امڈ پڑی :۔ "اوہ۔۔۔۔  آئی سی ۔۔۔۔  خیر  اب تو ٹھیک ہو نا ں ، بے فکر  رہو  جلد  ہی دوبارہ  ریکور کر لو گے ۔" اور جوگی نے دل  ہی  دل میں خود کو کوستے  ہوئے "جی سر " کہہ کر  مجبوراً  قبائلی علاقے کی راہ  لی ۔ شبیر  صاحب "بے چارے مانیٹر " کی  پڑھائی  میں ہوئے حرج  کے احساس  تلے دبے تھے ، اس لیے  کہا :۔ " تمہارے کلاس  فیلوز  نے بتایا تو ہوگا  کہ ہم اپنا سلیبس  سارا ختم  کر چکے ہیں۔ تمہیں مشکل  تو ہوگی ، لیکن  تمہارے دوست   مدد   کر دیں گے ، اور اگر  مزید  مدد  کی ضرورت  ہو تو  بلا جھجھک   مجھ سے پڑھ لینا۔ " اس  کا جواب  صرف  "جی بہت بہتر " کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا سو  یہی جواب  دے کر  باقی  سارا وقت جوگی نے  اپنی  نیند  کا ماتم کرتے  گزارا ۔

دیکھیے  لاتی ہے اس شوخ کی  نخوت کیا رنگ


بیالوجی کی تدریس  کیلئے  بھی ایک نئے استاد صاحب کا تقرر ہوا۔انہوں  نے  پہلےہی دن  رعب جمانے کیلئےاپنےتعارف  میں بہت سی لمبی لمبی چھوڑیں ،  اور  یہ  دعویٰ کیا کہ  ان کا تدریسی  تجربہ اتنا ہے جتنا کہ  کلاس میں بیٹھےطلبہ  کی کُل عمر ہے ۔ نیز  کلاس میں نظم و ضبط قائم رکھنے  کا انہیں  صرف شوق ہی نہیں خبط بھی  ہے ۔ مزید  یہ کہ  "میں نے بڑے بڑے شرارتی  طالب علموں  کو  سدھایا ہوا ہے ، اس لیے  بہتر یہی  ہے  کہ خود بخود ہی انسان بن جائیں ورنہ  میں کسی  رعایت کا قائل نہیں۔" یہ تعارف صرف زبانی کلامی ہی نہ تھا ، بلکہ تعارف کے دوران  انہوں  نے ظفر اقبال  کو کھڑا کر کے  ایک بارہ  نمبر  کا طمانچہ  جڑ دیا ۔ اس کا قصور یہ تھا کہ وہ ان  کی باتیں  مسکرا ، مسکرا کر  سن رہا تھا ۔ اس کے بعد  دو اور بے قصوروں کے حصے میں بھی ایسے  کرارے  کرارے طمانچے  آئے ۔  جوگی  کیلئے یہ  ایک کھلا چیلنج تھا  بلکہ در اندازی  تھی کہ  اس  کے مانیٹر ہوتے ہوئے  اس  کی رعایا  یعنی کلاس نہم کے طلبہ کو محض  اپنی انا کی تسکین  کیلئے تھپڑ جڑ دئیے جائیں۔  
اگلے دن  جب   استاد  صاحب نے   چاک نکالنے  کیلئےچاک  کے ڈبے  میں  ہاتھ  ڈالا  تو یکدم  گھبرا  کر  پیچھے ہٹ  گئے ۔  ڈبا نیچے  گرپڑا۔     ڈبے میں سے  ایک   بڑا سا  مینڈک   پھدک کر  باہر آیا  ، اور استاد  بہادر  کے اوسان  خطا ہو گئے ۔   باوجود  کوشش  کے  کوئی  بھی اپنی ہنسی  روکنے میں کامیاب  نہ ہو سکا ۔استاد ِ محترم اس قدر ضعیف  القلب  ثابت  ہوئے  کہ  کلاس نہم تو کیا  حزب الرحمن اسلامی اکادمی  میں تدریس  سے بھی   ہمیشہ  کیلئے تائب ہو گئے ۔

اک تماشا ہوا ، گلہ نہ ہوا


شعبان کا چاند نظر آتے ہی پاکستان  میں پٹاخے  ،  شرلیاں  بازار میں عام دستیاب ہو جاتے ہیں۔ اکادمی  کے  طلبہ کی تو بازار تک بھی  رسائی نہ تھی ۔  مگر  جوئندہ  ، پائندہ ۔شب ِ برات  تو ہمیشہ  سے آیا کرتی  تھی مگر  جس  دھوم دھام  سے اس بار آئی   تھی ،  شاید  ابھی تک کسی کو نہ بھولی ہو ۔ (بشرطیکہ وہ  اس رات وہاں موجود رہا ہو)۔ 
ڈنر  کے بعد میس سے واپسی  پر   جوگی نے وسیم کے ہاتھ میں ماچس دیکھی ۔ حیرانی تو بہت ہوئی ،  مگر پوچھنے کاموقع نہ ملا ۔  اس کے صرف دس  منٹ بعد جب جوگی اپنے کمرے سے  انگڑائی لیتا ہوا نکلا  تو ایک گڑبڑ کا احساس ہوا ۔  چاروں  طرف بھگدڑ سی مچی تھی ۔  جوگی  نے برآمدے میں ایک جانب سے رشید  صاحب کو غصے سے آگ بگولہ ، اور ہاتھ  میں ڈنڈا پکڑے آتے دیکھا تو  غڑاپ سے دوبارہ کمرے میں گھس گیا ۔ ناصر علی کی بدقسمتی کہ  عین اسی  وقت اسے کمرے سے نکلنے کی سوجھی  جبکہ   رشید صاحب  بلائے ناگہانی  کی طرح سر پہ پہنچ  چکے تھے ۔  بغیر  کسی وارننگ کے رشید صاحب نے اندھا  دھندڈنڈا بازی  شروع  کر دی ، بے چارے ناصر کے حصے میں بھاگتے بھاگتے بھی  دس  گیارہ  ڈنڈے تو آ ہی گئے ۔  حواس  بحال ہوئے تو معلوم  ہوا  کہ سب طلبہ کو نیچے صحن  میں فوارے کے پاس جمع ہونے کا  حکم ہے ۔  جوگی  نے  پتلی گلی  پکڑی اور باتھ  روم  کی طرف  بھاگا ۔  مگر   ادھر جانے والی  گیلری کا دروازہ بند تھا ۔  مجبوراً  سب کے ساتھ   ہجوم  کا حصہ بن  گیا ۔  کچھ دیر  بعد  چرواہے کی طرح  جب رشید  صاحب تمام طلبہ کو  نیچے ہانک لے آئے  تو   انگریزی  ، اردو مکس  زبان میں مرغا بن جانے کا  آرڈر دیا ۔ 
جیسا کہ آپ پچھلی اقساط میں پڑھ چکے ہیں ، اردو زبان  کا استعمال  ان کے بگڑے موڈ کی نشانی تھی ، لیکن یہ آج معلوم ہوا کہ اردو کے ساتھ جب انگریزی بولنے  لگیں تو  انتہائی  خراب موڈ کی نشانی ہے ۔ کسی  میں دم مارنے کی مجال نہ تھی ، حتیٰ کہ اساتذہ بھی  ایک طرف خائف کھڑے تھے ۔ مرغوں پر  جب ڈنڈوں  کی برسات  ہوئی  تو بانگیں دینے لگے۔ رشید صاحب کے  غصیلے  انگریزی  اردو مکسچر  سے   اتنا   ہی سمجھ آیا کہ  کسی شیطان کے  چیلے نے پٹاخہ  چھوڑا  تھا جوکہ برآمدے میں  آتے  رشید  صاحب کی ٹانگوں کے درمیان پھٹا  تھا۔بس اب رشید صاحب کو اسی  ناہنجار  کی  تلاش تھی ۔  تیس چالیس  بے چاروں کی پٹائی  کے بعد مجرم  کا سراغ تو ہاتھ نہ آیا  البتہ رشید صاحب ہانپنے لگے  ، مگر غیض  و غضب میں کمی  نہ آئی ۔  ڈنڈا اندازی چھوڑ کے  زبانی  کلامی لیکچر دینے لگے ۔  طلبہ بے چارے  سر جھکائے سننے کے علاوہ کر بھی  کیا سکتے  تھے۔     

Tuesday, 7 January 2014

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط بیست)۔

2 آرا

سوئیے اب ایسی جگہ چل کر  جہاں کوئی نہ ہو


مورچہ بندی  کے  بعد   سےجوگی اوروسیم کی  زندگی کا  گولڈن  پیریڈ  شروع ہو گیا ۔  تمام تر سختیوں  کے باوجود  ان  ملنگوں  کے دن  عید  اور راتیں  شبِ برات تھیں۔  اسی  زمانے میں بڑی کلاسوں  کیلئے  کچھ نئے اساتذہ  کا اکادمی  میں تقرر ہوا ۔  ظاہر  ہے  نئے ہونے کے سبب  وہ  جوگی  اینڈ ہمنوا  کی شکل  اور کرتوتوں  سے ناواقف تھے  اور اسی بات کا فائدہ ملنگوں  نے  خوب اٹھایا ۔
  نظام الاوقات  حسبِ  سابق  تبدیل  ہوا۔  جس کے مطابق  صبح  نماز  کے بعد  اسمبلی  ، اور پھر  کلاسیں۔  کمپیوٹر، انگلش  ، ریاضی ، وغیرہ  قسم  کے  پیریڈ صبح  سوا  نو بجے تک  تھے ۔  سوا  نو بجے  ناشتے کا  وقفہ ،  ناشتے  کے بعد  ساڑھے نو بجے  سے بارہ  بجے  کے درمیان   بوستانِ سعدی ،  عربی  بول چال کے علاوہ  نئے آنے  والے اساتذہ  کے   فزکس ، اور  کیمسٹری  پیریڈز  تھے ۔بوستانِ  سعدی  مولانا  غلام محمد صاحب پڑھاتے  تھے  اور  جیسا  کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے  فنا فی السعدیؒ تھے ۔  انہیں شاید  یہ  بھی  نہیں معلوم  ہوتا  تھا  کہ  ان  کی  کلاس  میں کون  کون  بیٹھتا  ہے  اور کون کون  کچھ دنوں سے مسلسل  غائب ہے ۔ وہ  بس آتے  ہی  "ہاں بھئی ! پچھلا  سبق  یاد  ہے نہ  تجھے ۔۔۔؟؟؟  " اور سب کے  باجماعت  زوردار "ہاں جی" پر انہیں کچھ ایسا اندھا اعتبار  تھا  کہ  انہوں  نے کبھی کسی  سے پچھلا پڑھایا  سبق  سننے کا سوچا  بھی نہیں  ۔ 
  عربی کا  معلم مولانا   نذر  محمد  صاحب پڑھاتے تھے ،  مولانا غلام محمد  صاحب کے حقیقی  بھائی تھے  مگر سبق  سننے  کے معاملے  میں ان سے  مختلف تھے ۔  لیکن  یہ  بھی سچ ہے  کہ  حد درجہ سادہ دل  اور  بے حد شفیق استاد  تھے ۔ ان  کی  عادت  تھی کہ ہر ایک  طالب علم  سے  صرف  ایک  سطر  سنتے  تھے ۔ اور  ان  کی   اسی  عادت  سے جوگی  اور وسیم  پچھلے  تین سال  سے  خوب  فائدہ  اٹھا  تے آ رہے تھے ۔  جب مولاناصاحب سبق سننا  شروع کرتے تو وسیم اور جوگی کلاس  میں بیٹھے  لڑکوں  کو  گن کر  انہیں سبق  کی  کُل  سطروں  کی تعداد  سے  نفی کرتے  اور جو  سطر ان کے حصے  میں آنی ہوتی  ،اپنی باری  آنے تک  صرف اسے ہی  رٹا مار  لیتے اور  اس  فارمولے  کے طفیل مولانا صاحب  کی  نظر میں وسیم اور جوگی  نہایت  ہونہار  اور  لائق  طالب علم تھے جو دل لگا کر پڑھتے تھے۔
اب  جوگی اور وسیم  نے دن کو دو حصوں  میں تقسیم کیا ۔  ناشتے کے فوراً بعد   ساڑھے  نوبجے  جوگی  کا  وقت   شروع  ہوتا  تھا ۔اور  وہ  ہوسٹل میں جا کر  مورچے کی گہرائیوں  میں یوں غائب ہو جاتا جیسے حضرت   یونس علیہ السلام  کو مچھلی  نگل  گئی تھی ۔ جبکہ  اس دوران وسیم  کلاس  میں موجود  رہتا  تاکہ  کسی قسم کے ہنگامی حالات کی  صورت  میں   بروقت  قابو پایا جا سکے ۔ دوپہر  کے  کھانے کے وقت  وسیم  جوگی کو  آ کے جگا لے جاتا  اور  پھر دوپہر  کے کھانے  کے بعد  وسیم  کا  ٹائم شروع  ہو جاتا   ۔ اس دوران  جوگی  کلاس  میں موجود  رہتا  اور وسیم  ڈریم لینڈ  کی سیر کو  نکل جاتا ۔ یہ فزکس  کی  بدقسمتی کہ  اس کےپیریڈ اور    جوگی  کے آرام  فرمانے  کا وقت ایک  ہی    تھا ۔جیسا  کہ مثل مشہور  ہے کہ گیہوں کے ساتھ  گھن بھی پس جاتا ہے ۔ پس  بوستانِ سعدی  ، المعلم العربی کے ساتھ  ساتھ  فزکس  بھی جوگی  کی  نیند  کی چکی کی  زد میں  آکر   پس گئی۔

آلسی ہر حال  میں سوتا  ہے  سحر ہونے تک


لیکن  یہ سب  اتنا آسان  بھی نہ تھا  جتنا  کہ قارئین  کو پڑھنے  میں لگ رہا  ہے ۔ اس  سب کیلئے  حد درجہ خود اعتمادی  اور  انتہائی درجے  کی دیدہ   دلیری  کی  ضرورت تھی جو کہ  جوگی اور وسیم میں ایسے کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی جیسے کھیوڑہ میں نمک ، اور  چولستان میں ریت ۔۔۔
مولانا برادران  کی توخیر  تھی  مگر  نئے آنے والے اساتذہ  جناب محترم شبیر  احمد صاحب(طبیعیات) اور محترم جناب افتخار  احمد صاحب (کیمیا ) کو  حیرت تھی کہ جب سے  وہ   یہاں پڑھانے لگے  ہیں تب سے  کلاس  نہم کے مانیٹر  صاحب کے درشن سے محروم ہیں۔ہر بار  پوچھنے پر  وسیم  کی طرف  سے جواب  ملتا:۔"مانیٹر صاحب(جوگی) بیماری کی رخصت پر ہیں۔"اور  جب  اپنی باری  پر  جوگی  کلاس  میں موجود ہوتا تو  وسیم کی غیر موجودگی پر  اٹھنے والے ہر قسم کے سوالات کیلئے  تسلی بخش  جوابات  پٹارے میں تیار رکھتا  تھا۔کبھی کبھار  خلاف ِ  معمول جوگی  کی  عین سونے کے  اوقات میں ڈھنڈیا پڑ جاتی  تو   واقفانِ حال اساتذہ احتیاطاً ہوسٹل میں جوگی کے کمرے کا تالا بھی کھلوا کر دیکھنے  پر  اصرار کرتے  کہیں باہر  سے تالا لگوا کر  جوگی  اندر سویا  ہوا نہ ہو۔  مگر  ایک بار نہیں کئی بار  باوجود  کمرہ  تلاشی کے جوگی  کو  کوئی نہ ڈھونڈ سکا  حالانکہ صرف چند فٹ کے فاصلے پر محو  خواب تھا۔
 یہ تو دن کی صورتحال تھی ۔  رات کے وقت بھی مغرب  سے  عشاء  کی نماز کے بعد تک سونے  کی باری وسیم کی تھی  اور رشید صاحب کے راؤنڈ کے بعد سے  رات گیارہ بجے تک  جوگی  کا  مورچے پر قبضہ رہتاتھا۔

اس  سب کے باوجود  مورچہ  بہرحال   بقیہ تمام طلبہ  کیلئے برمودا  ٹرائی اینگل  کی طرح ہنوز  ایک سر بستہ راز  ہی تھا ۔  کئی طلبہ  کا اس وقت حیرت سے برا حال ہوجاتا  جب  اچھا بھلا  ان کے سامنے  بیٹھا جوگی  کتاب کا ورق  بدلنے  کے  دوران گدھے کے سر سے سینگ  کی طرح غائب ہو جاتا ۔اس کے علاوہ وسیم  کا بھی یہی حال تھا  اسے کمرے میں آتا  اور سب سے سلام دعا کرتے تو  سب دیکھتےتھے  ، لیکن پھر  پلک جھپکنے   میں اسے جیسے زمین نگل لیتی ۔کئی کمزور دل  طالب علموں نے ماہرانہ تجزیے کی  روشنی میں  جوگی اور وسیم کوجنات  قرار دیا جو کہ انسانی روپ میں ان کے ساتھ رہ کر تعلیم حاصل کرنے  آئے ہوئے ہیں۔   

ورنہ ہم چھیڑیں گے ، رکھ کے، عذرِ مستی، ایک دن


جاتی گرمیوں کے دن تھے ، کمرے میں لگے دو پنکھے  ساون  بھادوں  کے    حبس  کا بھلا کیا مقابلہ کرتے ، اس لیے  گراؤنڈ فلور  والےتمام کمروں کے طلبہ  تواپنی چارپائیاں ہوسٹل کے صحن میں گراسی پلاٹوں میں بچھا لیتے  تھے ، جبکہ اوپری منزلوں کے  قیدی   زیادہ سے زیادہ  برآمدے میں چارپائیاں ڈال کر  ہوا چلنے  کی دعائیں ہی مانگ سکتے تھے ۔صبح اذان  کے وقت سے جاگے مظلوم طلبہ  سارےدن کی دماغ نچوڑ پڑھائی کے بعد  گیارہ  بجے   سرہانے پر سر رکھتے ہی دنیا اور مافیہا سے بے گانہ ہو جاتے ۔
جبکہ نیند کی ڈبل ڈوز کے بعد  جوگی اور وسیم تازہ دم  ہو چکے ہوتے تھے ، اور  پھر  بے چارے سوئے ہوئے طلبہ کی شامت  آ جاتی ۔  
طلبہ کےپانی کیلئے  رکھے   جگ اور مگ کا استعمال جوگی  اور وسیم  مینڈک پکڑ کر اکٹھے کرنے  کیلئے کرتے ۔  فوارے  کے چاروں طرف لگی  آرائشی روشنیاں اور برآمدوں میں جلتی ٹیوب لائٹس پتنگوں  اورپروانوں کی کمزوری    تھیں جن کی طرف  "کچے دھاگے سے  بندھے  کھنچے چلے آئیں گے سرکار  میرے" کے مصداق وہ   جوق در جوق کھنچے چلے آتے ، اور  مینڈک  بھی اس  شاندار  ضیافت کیلئے ٹراتے ، پھدکتے، اچھلتے ، کودتے  تشریف  لے آتے    ۔  اس  لیے وسیم اور  جوگی کو مینڈکوں کی تلاش میں کوئی  جوئے شیر  نہ نکالنی پڑتی،  بلکہ غالب دکنی  کے شعر  کی طرح :۔
احمقوں  کی کمی نہیں غالبؔ
ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں
(احمقوں  کی جگہ مینڈکوں پڑھا جائے)
ایک پکڑنے کو ہاتھ مارتے تو دو تین مینڈک ہاتھ  میں آجاتے،  ان سب مینڈکوں کو  طلبہ کے  پانی اور دودھ  رکھنے  کیلئےدھو مانجھ   کے  رکھے گئے جگ میں  چندے  کی طرح جمع  کیا جاتا ۔  اور پھر  صحن میں غفلت کی نیند سوتے طلبہ  کے  بستروں پر  چھوڑے جاتے ، بلکہ کئی ایک کے تو گریبان اور بنیان میں بھی ڈال دئیے جاتے ۔اس  کے بعد  کیا  ہوتا  ہوگا  یہ قارئین خوب تصور کر سکتے ہیں۔ البتہ جوگی اور وسیم چہروں  پہ مسکینی  طاری کیے ایسی زوردار ، خراٹےمارکہ نیند  کی  ایکٹنگ کرتے جیسے  پچھلی کئی صدیوں سے اصحابِ کہف کی مانند  نیند  سے جاگے ہی نہیں۔
صرف اسی  پر  ہی بس  نہ تھی  بلکہ کئی  بدقسمتوں کو   چارپائی سمیت  اٹھا کر  فوارے کے  تالاب میں رکھ آتے  ، جن میں سے           اکثر  توصبح جاگتے اور جونہی پیر  نیچے دھرتے تو بجائے دھرتی  ماتا کے اپنے نیچے گوڈے گوڈےپانی  دیکھ کر بھونچکا  جاتے  کہ  یا الہی  یہ ماجرا کیا ہے ۔؟؟جبکہ کچھ بے چاروں کو کچی نیندمیں نہلانے کیلئے جوگی اور وسیم نے فوارہ آن کرنے والے  بٹن سے ایک لمبی تار جوڑ رکھی تھی ۔ یہ تار   زمین میں دبی  دبی عین اس جگہ سر  باہر  نکالتی  جہاں وسیم اور جوگی کی چارپائیاں جلوہ فگن ہوتی تھیں۔ ظاہر  ہے اس تار سے ایک  بٹن  بھی منسلک   کیا ہوا تھا ۔لہذا جن طلبہ کو نیند  میں نہلا کر  سبق سکھانا  مقصود ہوتا ان کی چارپائیاں فوارے  کے تالاب  میں رکھ دی جاتیں۔  اور پھر   اطمینان  سے  اپنی چارپائی پر لیٹ کر  مزے سے بٹن  دبا  دیا جاتا ۔ فوارہ تو جیسے  حکم کا ہی منتظر ہوتا تھا ،  آن ہونے  کا اشارہ  ملتے ہی پانی، فراٹے بھرتا ،  راکٹ کی طرح ہوا میں بلند ہوتا اور دس فٹ اونچائی سے    پھیل کر  تالاب میں سوئے بے چاروں کو پانی پانی کر دیتا ۔ اچانک  نیند  سے ہڑبڑا کر  جاگنے والوں کا حال دیکھنے  لائق ہوتا تھا ، لیکن جوگی اور وسیم کو ہمیشہ  اس بات کا قلق رہا کہ وہ  ان  کی اس ہیئت  کذائی پر  اسی وقت کھل کے قہقہے بھی نہیں لگا پاتے ۔
کئی لوگوں کو  اس تخریب کاری اور شب  خون  کے پیچھے جوگی اور وسیم کا ہاتھ کارفرما  ہونے کا پختہ  یقین تھا۔ مگر یہ دونوں بھی ایسے کائیاں تھے کہ  نہ کبھی رنگے ہاتھوں پکڑےگئے نہ ہی ان  واقعات  میں ان کے ملوث ہونے کے ثبوت  ملے ۔مجبوراً  طلبہ  کو جوگی اینڈ ہمنوا  سے ہمیشہ  بنا کر  رکھنی پڑتی تھی ۔ صحن  میں  سونے  والے باقاعدہ  دودھ سوڈا  اور  بسکٹس  پیسٹریوں  کی صورت  میں انہیں  خراج  ادا   کرتے  تاکہ کبھی ایسی رات  نہ دیکھنی پڑے ۔

Saturday, 12 October 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط نوزدہم)۔

3 آرا

چھوڑی اسدؔ! نہ ہم نے  گدائی  میں دل لگی


گوشۂ عافیت کا راز فاش ہونے  کے  چند  دن  بعد  وسیم  نے طلسمی  چارپائی دریافت  کر ڈالی ۔ اس  دریافت کا شانِ نزول کچھ یوں ہے  کہ ایک دن   بندروں کی  نقل کرتے ہوئے جوگی کی ایک الٹی قلابازی  پر  وسیم کی چارپائی کا رام نام  ستیہ  ہو گیا ۔اور  اسی بہانے  سیانوں کا وہ  قول سچ ثابت ہو گیا  کہ  "جو ہوتا  ہے بہتر ہی  ہوتا ہے "۔ چارپائی کا ٹوٹنا  بھی جوگی اور وسیم  کیلئے اس وقت نویدِعافیت  ثابت  ہوا  جب  وسیم  کو  اس ٹوٹی ہوئی چارپائی کے  بدلے  ایک صحیح سالم  چارپائی  الاٹ  ہوئی ۔ جو کہ نہ صرف دیکھنے میں عمروعیار کی ہم شکل تھی بلکہ اعمال  میں عمرو عیار کی  زنبیل  کی  چارپائیانہ صورت  تھی۔ اس کا کمال یہ تھا  کہ  اس پر بندہ  لیٹتے ہی  اندر  دھنس جاتا تھا ۔  اور  اس کے بعد  اگر  اوپر  سے بیڈ شیٹ  یا کوئی  کھیس ، چادر وغیرہ بچھا دی جاتی  تو  دور بین تو کیا خورد بین  سے دیکھنے پر  بھی کسی  کو  معلوم نہ ہو سکتا تھا  کہ  چادر  کے نیچے کوئی آلسی  آرام فرما  بھی ہے ۔اس  نعمتِ  غیر مترقبہ  کو  جوگی اور وسیم نے  تائیدِ غیبی  قرار  دے کر  بغلیں بجائیں اور  خداکا شکر ادا کیا۔یوں  نیند پوری کرنے کا مسئلہ  جزوی طور پر حل ہو گیا ۔طریقہ  واردات  یہ تھا  کہ  وسیم اور جوگی میں سے کوئی  ایک  اپنی باری پر خوابِ  خر گوش کے  مزے  لوٹتا  اور دوسرا  اس  کے اوپر  کھیس اور چادر بچھا کر   بھائی  چارہ نبھاتا۔وسیم  کی طرف  سے اس حیرت انگیز   چارپائی  کو  طلسمی  چارپائی  کا  خطاب عطا  کیاگیا۔

قضا سے  شکوہ ہمیں کس قدر ہے ، کیا کہیے


چند  اصلی  سیانوں کا قول ہے  کہ خوشی  ہو یا غم  دونوں  ہمیشہ  نہیں رہتے ۔  پس وسیم اور جوگی  کی  یہ  بے ضرر  سی خوشی  بھی آخر   ایکسپائر  ہو گئی ۔ بے  خودی  کی طرح یہ ایکسپائری  بھی  بے سبب  نہ تھی  غالب ؔ۔ کیونکہ  واقعی پردہ داری  میں  کچھ رنگے ہاتھوں  پکڑا گیا ۔ خلافِ  معمول  وقوعے کی رات  وسیم  کو عشاء  کی  اذان  سے پہلے  ہی نیند آگئی ۔ نماز کیلئے جاتے وقت  جوگی  نے  یارانہ  نبھایا اور وسیم کے اوپر  کھیس بچھونا برابر کر کے  چلا گیا ۔ کیونکہ طلباء  کے جانے کے بعد  بعض اوقات  بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اکثرہوسٹل  کی  تلاشی  بھی  لی جاتی تھی کہ کوئی  آلسی   مسجد جانے  کی بجائے  بستر پہ پڑا  اینڈ  نہ رہا ہو۔ وسیم  اور جوگی کی نیند  تو ویسے بھی ضرب المثل تھی ۔ نماز سے  واپسی  کے بعد  جیسا  کہ پہلے ذکر  ہو چکا ہے  ہوسٹل  انچارج  صاحب حاضری  چیک کرتے تھے  اور اس  کے علاوہ  جناب  محترم  رشید صاحب  (رائیسِ  ادارہ) بھی  چکر  لگایا کرتے تھے ۔  اور یہ وہ دن تھے  جب  وسیم  دوسری  اور جوگی  پہلی منزل  پر  رہتے  تھے ۔
  وسیم  بدستور  نیندمیں تھا جب  نماز کے بعد  کے معمولات  حسبِ معمول  شروع ہو گئے ۔  رشید  صاحب آئے تو  وسیم کی چارپائی  سونی سونی دیکھ کر  وسیم کی غیر موجودگی کا  سبب پوچھا ۔  اس کا  ایک سکہ بند جواب تھا کہ  نچلی منزل  پر  جوگی  کے ساتھ ہوگا ۔  یہاں تک تو سب  خیر گزری  مگر ہوسٹل  انچارج صاحب  جب حاضری  چیک کرنے  آئے  تو  نجانے کس خیال  میں وسیم کی خالی چارپائی  دیکھ کر  اس پر تشریف رکھ دی  اور پھر  جلدی  سے گھبرا کر کھڑے  ہو گئے ۔  حیران تھے  کہ یا الہی یہ ماجرا کیا ہے ؟؟ ۔  قصہ کوتاہ ،   جب اوپر سے کھیس ہٹایا  گیا تو  نیچے  سے وسیم  کسی  حنوط کی ہوئی  ممی  کی  طرح  نیند  میں ڈوبا  برآمد ہوا۔ 
اس کے بعد  وہی  ہوا جو  اکثر ہوتا ہے ۔ یعنی انکوائری  ہوئی ۔۔۔  چارپائی تبدیل  ہوئی ۔۔۔ اور  وسیم  کی  جوگی سمیت  چند پیشیاں  ہوئیں(قصور  چاہے کسی  ایک کا ہوتا  مگر  پیشی  دونوں  کی ہوتی تھی) ۔۔۔۔ ان پیشیوں  میں ہمیشہ کی  طرح  خشک  قسم کے لیکچر  سننے پڑے ۔۔۔۔ جن میں زیادہ سونے کے نقصانات  ، اور  جاگنے کے فوائد کے ساتھ ساتھ  تعلیم  میں دل لگانے  کے فوائد  اور  ذہانت کا  واسطہ دے کر  کسی پوزیشن  کے حصول کا  لالچ  بھی دیا  گیا ۔  مگر جوگی  اور وسیم نے ایک دوسرے  کی جانب  دیکھا اور آنکھوں  ہی آنکھوں  میں خوب ہنسے  کہ  میر ؔ بھی کیا  سادہ ہیں۔۔۔
سادہ و پُرکار  ہیں خوباں غالبؔ
ہم سے پیمانِ وفا  باندھتے ہیں

 
اس  فتنہ  خو کے در  سے  اب اٹھتے  نہیں اسدؔ


کسی  بھی پوزیشن  اور  اس کے بدلے  میں ملنے والی واہ وائی  کی نسبت   جوگی  اور وسیم  کو  اپنی  خوابوں کی دنیا  زیادہ  پیاری  تھی ۔  جہاں  ان کی  بلاشرکت غیرے  حکومت  تھی ۔اور  اس  خوابوں  کی دنیا  تک  جانے  والا  راستہ  جس  سرنگ  سے  ہو کر  گزرتا تھا  وہ  اب  قابل ِ استعمال  نہ رہی ۔لیکن  جیسا  کہ  استادِ محترم  کا  فرمانِ عالیشان  ہے :۔
لکھتے رہے جنوں کی حکایاتِ خونچکاں
ہر چند اس  میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
جوگی اور  وسیم  کی  افتادِ  طبع  نے بھی کولمبس  کی  طرح  آخر کار  ایک نیا امریکا  دریافت  کر ڈالا (حالانکہ یہ ایک تاریخی مغالطہ  ہے کہ امریکہ  کی دریافت  کولمبس  کا کارنامہ  ہے ، مگر  چونکہ محاورہ  یہی ہے اس لیے یہی لکھا گیا )۔  ضرورت ایجاد کی ماں ہے  ، پس  اس  ماں نے ایک  بچےکو  جنم دیا  ، جس کا  نام اس کے والدِ گرامی  (جوگی) اور چچا محترم (وسیم  اکرم) نے  "مورچہ" رکھا ۔ قطعہ  تاریخی  کے  ضمن  میں جوگی نے علامہ اقبال کے مشہور  شعر میں بھی ترمیم کر ڈالی 
پڑھائی  شڑھائی تو ہوتی ہی رہے  گی مگر
ضروری ہے آلسی  کیلئے کارِ مورچہ بندی
مورچہ بندی کیلئے جوگی نے اپنی چارپائی کو  پنکھے کے نیچے سے  ہٹا کر  کونے  میں دیوار کے  ساتھ رکھ دیا ۔(ویسے  بھی  اب تو  سردیوں  کی آمد  آمد تھی )اور چارپائی  کے  نیچے  فرش پر  وسیم  کے  گھر سے لایا گیا اضافی بستر  بچھایا  گیا ۔  نیچے کھیس  اور اس کے اوپر  رضائی بطور گدا  بچھائی گئی ۔ اس کے بعد  اوپر  چارپائی  کے  دو اطراف میں کھیس  اس طرح لٹکا دیا  دیا  گیا  کہ  دیکھنے میں محسوس ہوتا کہ کھیس سائز  میں بڑا ہونے کے سبب چارپائی سے نیچے کو ڈھلکا ہوا ہے ۔ لیکن در حقیقت  یہ مورچہ محل  کا  پردہ تھا ۔  چارپائی کے دو  طرف سے دیوار تھی ، اور  ایک  طرف سے مزید  چارپائیاں ۔۔۔  اور ایک  طرف چارپائیوں  کے درمیان آنے جانے کا راستہ ۔ ۔۔۔  ان دونوں  اطراف سے  کھیس لٹکا کر عوام کی نظروں سے مورچہ  غائب کر دیا  گیا ۔ اوپر چارپائی پر  ویسے  ہی  حسبِ معمول  بستر بچھا  ہوا  تھا ۔ جبکہ  نیچے  مورچہ  محل  میں  عمران سیریز ، فلمی رسالوں  کی  ورائٹی  کے  علاوہ  ایک  عدد  ریڈیو  بھی ہیڈ فون  کی  سہولت  سمیت  موجود تھا ۔اس قدر  پرسکون  اور آرام دہ ماحول  کہ  جنت  واقعی دل  کے  بہلانے کا  خیال لگنے لگی ۔اور سب بڑھ  کر  اس  کا  خفیہ  پن،  اول تو  کوئی سوچ  بھی  نہ  سکتا  کہ اس چارپائی  کے  نیچے  کیا  ہے۔ دوسرا    کوئی  نیچے  بیٹھ کر دیکھنے  کے باوجود  اندازہ  بھی  نہ کر سکتا  تھا   کہ بظاہر  اس لٹکے  کھیس  کے  پیچھے  آلسیوں  کی  جنت  بھی  آراستہ  ہو سکتی  ہے۔
ماضی  کی  غلطیوں سے سیکھا گیا  سبق  جوگی اور وسیم کو  ازبر تھا۔  اس لیے  مورچے کے راز کو انتہائی  خفیہ  رکھا  گیا ۔ حتیٰ کہ  کمرے  میں رہنے والے باقی  نو  طلباء میں سے  صرف  دو یا تین  طلبہ مورچے  کی موجودگی  سے  آگاہ تھے ۔  ان  سے  بھی  راز کو  راز  رکھنے  کا باقاعدہ  حلف لیا گیا ۔ صرف  یہی  نہیں مورچہ  بندی  کے  اگلے  ہی دن  جوگی  نے کلاس  میں طلبہ  سے  ایک تنبیہی  خطاب  کیا  جیسے  پاکستان کے  وزراءاعظم  اور مارشل لا ء والے جرنیل  قوم سے  خطاب کرتے ہیں۔ اس خطبہ  کا  خلاصہ یہ  تھا  کہ :۔اتفاق  میں برکت ہے ، اور دریا میں رہ  کر مگر مچھ سے  بیر  پالنے  والے  مگر مچھ کا تو  کچھ نہیں بگاڑ پاتے البتہ خود  نہ  بھی مریں تو  کم از کم  لولے لنگڑے ضرور ہو جاتے ہیں۔  ماشاءاللہ  ہماری  کلاس  میں پہلے بھی اتحاد  و اتفاق ہے امید  ہے یہ قائم رہے گا۔ اور  کسی  طالع  آزما  چغلخور نے  اگر    تخریب  کاری کی کوشش کی تو  انجام بہرحال اچھا نہ ہوگا۔

Sunday, 6 October 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط ہجدہم)۔

4 آرا

صد جلوہ روبرو ہے جو مژگاں اٹھائیے

Saturday, 21 September 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط ہفدہم)۔

2 آرا

گر کیا  ناصح نے  ہم کو قید، اچھا!یوں سہی


نئے  قانون کے نفاذ کابھی جوگی اور وسیم  کے معمولات پر کچھ خاص اثر نہ ہوا۔ یعنی جو محفل  ہوسٹل کے گراسی  پلاٹوں  پہ سجتی تھی ۔وہ  اب    کھیل کے میدان کے مشرقی  سرے  پر واقع  ٹیوب ویل کے  حوض پر سجنے لگی  ۔ عجیب بات یہ کہ محفل کے شرکاء کی تعداد بجائے کم ہونے کے بڑھتی گئی  ۔ اور مزے  کی بات یہ  کہ  باقاعدگی  سے کرکٹ  کھیلنے  کے عادی طلباء  بھی اب کرکٹ  بھول بھال  کر  اس محفل کا  حصہ  نظر آتے ۔سب قاعدے قانون  دھرے کے دھرے رہ گئے ۔  مدعی  لاکھ  برا چاہے تو کیا ہوتا  ہے ۔۔۔۔
اس  پر  قانون میں  ایک ترمیمی  بل کے ذریعے  اضافہ عمل میں لایا گیا  کہ تمام طلباء پر یہ بھی  لازم ہے کہ وہ کسی نہ کسی کھیل  میں حصہ لیا کریں ۔

کھیل کے میدان  تقریباًتین ایکڑ کے رقبے پر پھیلے ہوئے تھے ۔ایک حصے  پر  فٹ بال کھیلنے والوں کا قبضہ تھا ۔ اور اسی کے  کچھ حصے میں کبڈی کھیلنے والوں کا میدان سجتا تھا ۔ بقیہ دونوں حصوں  میں کرکٹ  کے نشئی  اپنا نشہ  پورا کیا کرتے  تھے ۔جوگی  کے پسندیدہ ترین استاد جناب محمد  حنیف صاحب فٹ بال  کھیلنے والوں میں شامل  تھے اس لیے جوگی  اور وسیم  نے فٹ بال  ٹیم میں شمولیت اختیار  کی ۔مزے کی بات  یہ  دونوں  کا  تجربہ  صرف  دیکھنے  کی  حد تک تھا۔  پہلے ہی دن  شاید  لمبے قد  اور دیو  جیسے بازوؤں  کی  وجہ  سے  جوگی کو گول کیپر  کھڑا  کر دیا گیا ۔وسیم  کو  تو شاید  میدان  میں فٹ بال  کو کک  لگانے کا  موقع  میسر  نہ آیا  مگر  گول کیپر  کی حیثیت  سے کھڑے جوگی  کی طرف فٹ بال  بھاگ بھاگ  کے آتا ۔گول   کی  دو کوششیں ناکام  کرنے بعد  تیسری  بار  فٹ  بال  جب  گول  کی طرف آیا تو جوگی صاحب  نے جو ش میں آ کر   زندگی  میں پہلی بارجو کک  ماری اس کا  فٹ بال  پر  تو  کوئی خاص  اثر  نہ  ہوا  سوائے اس  کے  کہ  دس بارہ  فٹ  دور  جا گرا البتہ  جوگی  میاں پر   اچھا خاصا اثر ہوا۔ اس وقت تو  گول پوسٹ  چھوڑ  کے  پاؤں  سہلانے میدان کے   کنارے جا بیٹھے  ۔  مغرب ہوتے ہوتے پاؤں  اچھا  خاصا سوج گیا۔ اور  عشاء  ہونے تک حالات مزید  بگڑچکے تھے  ۔  اور صبح  جوگی  صاحب چلنے پھرنے سے بھی عاجز تھے ۔
کچھ  دن  کی مالش  رنگ لائی اور پیر  ٹھیک  ہوگیا  مگر  جوگی  اور وسیم نے پھر کبھی فٹ بال  کا نام نہ لیا۔ چونکہ قاعدے کی رو سے کسی نہ کسی  کھیل میں حصہ لینا  ضروری تھا ۔اور ویسے  بھی بقول  جناب  مرزا  غالب ؔ علیہ الرحمۃ
اپنا  نہیں وہ شیوہ  کہ آرام  سے بیٹھیں
اس در پہ نہیں بار تو کعبے  ہی کو ہو  آئے
 اس لیے جوگی  نے میس  میں تنور جلانے  کیلئے  آنے والی لکڑیوں میں سے ایک  اچھا  سا ڈنڈا  منتخب کیا  اور میس  کی کلہاڑی سے دو  عدد بہترین  گُلیاں  تخلیق  کیں ۔ اور اگلے دن  کرکٹ گراؤنڈ کے  ایک طرف جوگی  اینڈ کمپنی  نے   گلی ڈنڈے کا میدان سجا لیا ۔ اکثر طلبا  ء کیلئے  یہ نیا  کھیل تھا ، اور کچھ اس کھیل  کے کھلاڑی  نکل آئے ۔ اب جو  انہوں نے جوگی اور وسیم  کو گلی ڈنڈا کھیلتے  دیکھا تو ان  کو بھی کھیلنے کا شوق چرایا ۔ یوں چند دن بعد  گلی ڈنڈا کھیلنے والی دو ٹیمیں معرض وجود میں آگئیں ۔ اور بڑے  معرکے  کا کھیل ہونے لگا ۔ لیکن  چونکہ  اسی میدان میں کرکٹ کھیلنے والے بھی  ہوتے  ا س لیے  گلی ڈنڈا  کھیلنے  والے  کھلاڑیوں  کی مہارت اکثر ان بیچاروں کے ماتھے اور کبھی سر کیلئے  عذاب بننے لگی ۔ ایک  بار جب  جوگی  کی شاٹ  پر  گلی  ایک  کرکٹر  کے منہ سے ٹکرا  کر  اس کے ثنایا  علیا(سامنے  کے  دو اوپری دانت) کی شہادت  کا باعث بنی  تو گلی ڈنڈے  کے  کھیل پر پابندی  لگ  گئی ۔
 

عشق نبرد پیشہ  طلبگارِ مرد تھا


علم الصرف  کے مدرس  جناب محمد امین صاحب  کی  زبانی  جب یہ معلوم ہوا کہ  آنجناب  کراٹے ماسٹر بھی ہیں تو  جوگی  وسیم اور ناصر وغیرہ کے پیہم اصرار پر  انہوں  نے  عصر سے مغرب کے درمیان  کراٹے  کلاس  کی حامی بھر لی ۔شدہ شدہ  یہ  خبر  پھیل گئی  کہ  اب اکادمی میں کراٹے کلاس بھی ہوا کرے  گی ۔  پہلے  دن تقریباً ڈیڑھ سو  طلباء کراٹے سیکھنے  کیلئے  میدان  میں تھے ۔  دوسرے دن یہ  تعداد دگنی  ہو چکی تھی ۔ اور  جب  امین  صاحب نے  آٹھ فٹ اونچی   فلائنگ کک  کا  مظاہرہ  فرمایا  تو  تیسرے  دن نہ صرف  ہوسٹل  کا صحن  کراٹے سیکھنے  کے شوقین  طلباء سے بھر گیا  بلکہ  چاروں  طرف برآمدوں  میں بھی  دو دو قطاریں  بن چکی  تھیں۔ سب کا خیال  تھا  کہ  بس  ہفتے دو ہفتے  میں ہم بھی جیکی چن  بن جائیں گے ۔  مگر  جب  پہلے چار  دن صرف  جسمانی  ورزشیں  ہی  ہوتی رہیں۔ تو  وہی  ہوا جو کوفے  میں حضرت مسلم بن عقیل کے ساتھ ہوا تھا ۔پانچویں دن  صرف  22  طلباء  کراٹے  کلاس میں تھے اور چھٹے دن  یہ تعداد مزید  کم ہو کر  بارہ  رہ  گئی ۔ اور ساتویں  دن  یہ نفری  سات  کے ہندسے  پر  تھی ۔ سات  کا عدد  کچھ  ایسا سعد  واقع  ہوا کہ  کراٹے کلاس  کی  تعداد  پھر سات  پر ہی قائم  رہی ۔

لکھتے رہے  جنوں کی حکایاتِ خونچکاں


وقت  گزرتا  رہا لیکن  ایسے  محسوس  ہوتا  تھا  کہ گزرنے  کی  بجائے  بے چارے  طلباء پر  تنگ  ہوتا  جا رہا  ہے ۔ دن رات وہی چوبیس  گھنٹے  والے  ہی تھے ۔  ایک گھنٹے  میں بھی پہلے کی طرح ساٹھ منٹ تھے ۔ مگر اساتذہ  شاید  سمجھتے  تھے  کہ  طلباء کے  پاس چوبیس  کی بجائے  چونتیس گھنٹے  کا وقت  ہوتا  ہے  ۔ ایک دن میں سولہ  اساتذہ  کو  بھگتنے  کے علاوہ  ہفتے میں ایک  بار  لنگر  خانے  میں  لگا  لکڑیوں  کا ڈھیر  بھی  میس  میں ڈھونا  ہوتا تھا۔  سال  بھر  جتنے  چاول  کھاتے تھے  سال میں ایک بار وہ  بونے کی ذمہ داری  بھی  انہیں ناتوانوں پر  تھی ۔  وہ  منظر  بھی دیکھنے سے تعلق  رکھتا تھا ۔  کسان  زمین  تیار کر کے پانی لگا دیتے  تھے  اور صبح  کی نماز  کے بعد  طلباء  شلواریں گھٹنوں  تک  چڑھا  کے  یاجوج  ماجوج  کی طرح کھیت  میں ایک  طرف سے گھستے  اور دوسرے  سرے پر جا نکلتے ۔اسی  رفتار سے ایکڑوں پہ ایکڑ  دھان  بوتے  بوتے  نو بجنے  تک سب  کوہ قاف  کے  جنوں  کے  ہم شکل بن چکے ہوتے ۔ پھر  وہیں برگد  یا پیپل کی  گھنی  چھاؤں  میں  لسی  اچار  کے ساتھ  لنگر  خانے آئی  روٹی  سے ناشتہ  کرتے ۔  روٹی  شاید  اس  کیلئے  چھوٹا لفظ  ہے ،"روٹا "کہنا  زیادہ  مناسب ہوگا۔حجم  میں وہ تین روٹیوں  کے برابر  ہوتی  ،   بے حد  عمدگی  اور مہارت  سے  پکائی  گئی ۔  اتنے  محیط  کے باوجود  کیا  مجال  کہ  کہیں سے گولائی یا  موٹائی  میں  فرق  آ جائے ۔جوگی  ہمیشہ  اس روٹی  کے  حجم پر  حیران  ہی  رہا  تاآنکہ  جب تک  اس نے گولڑہ  شریف  کے  لنگر  خانے  میں  اس  سے بھی  بڑی  روٹی  نہیں دیکھ  لی۔ خیر  یہ تو  ایک  جملہ  معترضہ  تھا۔ ناشتے  کے  بعد  یاجوج  ماجوج  پھر حرکت  میں آتے  اور  دوپہر  ہونے  سے  سے  گھنٹہ  بھر  پہلے  ایک مربع دھان  بوکر  ہاتھ  جھاڑتے  ٹیوب  ویل  میں گھس  جاتے ۔اور دوپہر  کا  کھانا    حسبِ معمول  میس   میں جا  کھاتے  تھے ۔ اسی  طرح  دو یا  تین  دن  کے اندر  دھان  کی بوائی  مکمل  ہو جاتی۔
علاوہ  ازیں  مکئی  کے موسم  میں جب مکئی پک جاتی  تو یاجوج ماجوج  ایک بار پھر  حرکت میں آتے  اور دیکھتے ہی دیکھتے  مکئی کے بھٹے  پودوں سے ٹرالیوں  میں اور ٹرالیوں  سے خشک  کرنے کے  میدان  میں منتقل ہو جاتیں۔
اکادمی  میں طلباء  کی  بڑھتی تعداد  کے پیشِ نظر  سارا  سال  تعمیرات  کا  کام  بھی  ساتھ ساتھ چلتا  رہتا ۔  اسی عرصے کے دوران  نیا  میس  ہال  ، باتھ رومز  اور ہوسٹل  کا  مشرقی  ضمیمہ  تعمیر  ہوئے ۔ ان  میں بھی طلباء  کا  پسینہ  شامل  ہے ۔ اینٹوں کی کئی کئی ٹرالیاں  (ٹریکٹر  والی ٹرالی ) آن کی آن  میں ادھر  سے ادھر کر دیتے ۔ جب  میس  ہال  کی  چھت  پہ  لینٹر  ڈالاجانا  تھا تو طلباء  نے اپنی  خدمات  پیش  کردیں۔  جو کام  تین چار دنوں میں ہونا  تھا  وہ مغرب  سے  عشاء  کے درمیانی  وقت  میں کر کے رکھ  دیا ۔   

Friday, 13 September 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط ششدہم) ۔

3 آرا

دھمکی میں  مر گیا  جو نہ بابِ نبرد تھا


معاملہ  کچھ اس طرح بگڑا کہ شکیل صاحب اور ان کے  ہم خیال مولانا  صاحبان اور  حلقہ  ملنگاں  کے درمیان خوب ٹھن گئی ۔  اور مولانا پارٹی    اس تاڑ میں رہنے لگی کب انہیں  جوگی  اور وسیم کو رگیدنے  کا موقع میسر ہو ۔  اور یہ عرصہ  جوگی  اور وسیم نے اس طرح گزارا جیسے سرکس  کا بازیگر  رسے پر  سائیکل چلاتے  وقت  ،  اور  گنہگار پل صراط  پر  گزارتے ہوں ۔اور مصیبت پہ مصیبت  یہ  کہ  کسی  بھی جوابی کاروائی کیلئے جوگی کمپنی  کو  بالواسطہ  طریقہ اپنا  نا  پڑتا تھا ۔اور قسمت  سے  اگر  کوئی موقع  ہاتھ آجاتا تو  چوکتے نہ تھے ۔ ایک بار شکیل احمد صاحب  نماز  کے فضائل پر اسمبلی ہال  میں درس دے رہے تھے  اور جب وہ  باجماعت نماز  کی  حکمت اور ثواب کا  خشوع  و خضوع  سے بیان فرمانے  لگے تو  وسیم نے  کھڑے ہو کر  کہا:۔ ایمان  کی  امان پاؤں تو کچھ عرض کروں ۔؟  شکیل صاحب اور ہمنوا چوکنے ہو گئے  کہ راکٹ فائر ہونے والا ہے مگر  تمام طلبا  ء اور  اساتذہ  کی موجودگی میں سوال کی  اجازت بھی (مارے باندھے) دینی ہی پڑی ۔ سوال تھا  کہ کیا  باجماعت نماز  کی حکمتیں اور ثواب سب  کیلئے ہے یا کچھ لوگوں کو استثنا  بھی حاصل ہے ۔؟ شکیل  صاحب سوال کے پس منظر کو سمجھے بغیر فوراً  کلف لگے لہجے  میں بولے :۔ ہاں  ! یہ  سب  کیلئے ہے اور اسلام  میں کسی  کو استثنا   ،یا تخصیص  حاصل نہیں۔    پھر وسیم کی طرف دیکھ کر  طنزیہ انداز میں واضح کیا  کہ :۔ "اعمال  اور ان کی جزا کا دارومدار  نیت  پر ہے ۔"اور وسیم نے اگلا  فائر  کیا :۔ "مگر  ایک  کنفیوژن  ہے ۔  تپتی  دوپہر  میں ظہر  کے وقت جب سب لوگ یہ  حکمتیں اور  ان کے ثواب سے جھولیاں  بھرنے مسجد میں جاتے ہیں تو   آپ اپنی  قیام  گاہ  میں ہی  جائے  نماز بچھا  لیتے ہیں ۔"شکیل صاحب حتی الامکان  شائستگی سے غرائے :۔ "کوڑھ مغز ! تمہیں کیا معلوم  ،  ہم چار  لوگ  وہیں  اپنے  کمرے میں ہی جماعت کا اہتمام  کر لیتے  ہیں۔ " وسیم کا منہ پھٹ ہونا سب  کو معلوم  تھا  مگر  اب جو غوطہ  وسیم نے دیا شکیل صاحب کو بھی پسینہ  آ گیا ۔"آپ  چند قدم  چل  کر مسجد  میں باجماعت نماز پڑھنے نہیں جاتے ۔ بلکہ اپنے کمرے میں  ہی جماعت کھڑی کر لیتے ہیں جس کی نفری  اکثر اوقات امام  صاحب کے  علاوہ  صرف ایک مقتدی  ہوتی ہے ۔ تو کوئی کیسے  نہ سمجھے کہ آپ  کو  غلام  محمد صاحب  کی اقتدا میں نماز پڑھنا گوارا نہیں یا    آپ  حسبِ  سابق  اسلام  میں تقسیم در تقسیم اور ڈیڑھ اینٹ کی ذاتی مسجد اورذاتی  فقہ  کی روایت  کے مقلد  ہیں۔؟" اس قدر  جارحانہ  حملے  پر جوگی  اور وسیم کے  علاوہ سب  سکتے میں رہ گئے  ۔  شیر محمد  صاحب نےاپنی پیٹی بھائی  کو   بر وقت کمک پہنچا ئی اور شکیل صاحب نے مولویوں والی روایتی تعلیل  بازی  کی پٹاری کھولی ۔ اورکسی قدر طنزیہ  لہجے میں  قرآن  مجید میں سے بدگمانی  سے بچنے اور حسنِ ظن  سے متعلقہ آیات کی تلاوت فرما کر  دو  نمازیوں  کی  جماعت کی تعلیل یہ پیش کی  :۔"چونکہ ہم  مسافر ہیں اور جماعت کے ساتھ مقیم والی  نماز پڑھائی  جاتی ہے ۔ اس لیے ہم  اپنے کمرے میں نمازِ قصر کی جماعت کھڑی کر لیتے ہیں ۔"مگر  وسیم  کی الجھن  بدستور قائم  تھی  کہ  فجر ،  عصر اور  مغرب  کی نمازیں  آپ مسجد  میں  سب کے ساتھ  جماعت میں ادا کرتے ہیں تو   کیاصرف  ظہر  اور عشا ء  کی  نماز کے وقت آپ  مسافر ہوتے ہیں۔۔؟؟؟؟   اس  کے جواب  میں وسیم کو زبردستی  بیٹھنے کا حکم دے کر  شکیل  صاحب نے فاتحانہ  نگاہ  سارے ہال پر ڈالی اور پوچھا کسی اور کی کوئی الجھن ہو تو وہ  سوال کر سکتا ہے  اور پورے ہال میں صرف ایک ہی ہاتھ کھڑا ہوا ۔  جو ظاہر ہے جوگی  کے علاوہ کس کا  ہو سکتا  تھا۔شکیل صاحب نے نہ چاہتے ہوئے بھی برا سا منہ بنا کر  جوگی کو سوال کی اجازت دی۔    جوگی کا سوال تھا  کہ  اگر  آپ کی تعلیل کو درست مانا جائے جو کہ  یقیناً درست ہے  تو اس ہال  میں بیٹھے ہوئے کم از کم دو تہائی طالب علم  بھی شرعاً  مسافر  ہی   ہیں ۔ لیکن حقیقت  یہ  ہے  کہ اگر کوئی  طالب  علم جماعت  کے ساتھ نماز پڑھنے سے رہ  جائے تو اسے صبح اسمبلی  میں  سب کے سامنے گدھے  کی طرح تشدد کا نشانہ  بنایا  جاتا ہے ۔اگر  اسلام میں کوئی  تخصیص اور استثنا  نہیں تو  یہ سب کیا کہلائے گا ۔۔۔؟؟  تانا شاہی  ۔۔۔؟؟  یا  ۔۔۔۔؟؟؟
شکیل صاحب  نے  تو لاجواب  ہو  کر  بولنے سے  انکار کر دیا  مگر  چونکہ عزت کا  سوال  تھا  اس لیے مولانا  شیر محمد نےپہلے تو اساتذہ  کے سامنے   اس طرح زبان چلانے  پر  ایک  ہجویہ وعید  بیان فرمائی  اور کہا کہ فقہ کی دو چار کتابیں  پڑھ لینے سے اپنے آپ کو علامہ سمجھ کر  محترم  اساتذہ کرام سے  بے مقصد بحث کرنے والے جان  لیں کہ  علم فقہ  کی رو سے  شرعاً  مسافر  بھی اگر  کسی  جگہ پندرہ دن قیام  کی نیت  کر کے مقیم ہو  تو  اس کیلئے  سارے  احکام  مقیم والے ہیں۔ لیکن اگر  شرعی مسافر کسی  جگہ  پندرہ دن قیام کی نیت کیے بغیر  چاہے سال بھر بھی  مقیم رہے تب بھی اس پر سب احکام مسافر  والے لاگو ہوں گے ۔ آپ لوگ چونکہ طالب  علم ہیں اور آپ کو  چھٹی بھی  دو  ہفتے بعد  ہوتی  ہے ۔ اس  کا مطلب ہے  تمام طلباء  پر  مقیم والے احکام  لاگو ہیں۔"لیکن  جوگی  کے ترکش  میں ابھی تیر  باقی تھے ۔  لہذا  مزے بولا:۔ "چھٹی تو واقعی  تمام  ادارے  کو دو ہفتے بعد ہوتی ہے ۔ ظاہر  ہے اساتذہ  کو  بھی ۔  اس کا مطلب ہوا کہ    چھٹی کا  شیڈول  معلوم  ہونے کے باوجود  بھی کچھ لوگ   محض دو رکعت نماز سے بچنے  کیلئےپندرہ    روزقیام کی نیت نہیں کرتے ۔یقیناً وہ لوگ قابلِ تحسین ہیں۔ اور ان  پر انگلی اٹھانا آخرت کی بربادی کا باعث ہوگا ۔"اس بات پر  ہال میں موجود  متاثرین کے علاوہ  تمام   اساتذہ  اور طلباء کھلکھلا کر ہنس پڑے ۔وسیم  نے  ٹکڑا لگایا :۔سمجھا کر  ناں یار "اعمال  اور ان کی جزا کا دارومدار  نیت  پر ہے ۔" اس پر  کسی  منچلے نے جوش میں آ کر    نعرہ ءِ  تکبیر   بلند کیا  اور ہال اللہ  اکبر  کی صدا سے گونج اٹھا ۔

جاتی ہے کشمکش  کوئی اندوہِ عشق کی ؟


اس غدر  کے بعد   متاثرہ پارٹی نے سختی سے  جوگی اور وسیم کی اثر پذیری  اور طلباء میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو کچل دینے کا فیصلہ کر لیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب  ہوسٹل  وارڈن منظور احمد صاحب استعفیٰ  دے کر  جا چکے تھے ۔  اور ہوسٹل  انچارج  کی ڈیوٹی  اساتذہ  کی ذمہ داری قرار پائی تھی ۔  ہوسٹل  کا چارج  ہاتھ آتے ہی سب  سے پہلا کام مولانا  صاحب نے  وسیم اور جوگی  کو  الگ کرنے کا کیا ۔  وسیم کا بوریا بستر  گول کروا کے  دوسری منزل پہ  بھیج   دیا گیا ۔  اور جوگی کو گراؤنڈ فلور  پر  رہنے کا پابند  کرکے سمجھ لیا گیا کہ  خطرہ  ٹل گیا ۔  لیکن  یہ صرف خام خیالی  تھی ۔
اہل ِ تدبیر  کی و ا ماندگیاں
آبلوں پر  حنا باندھتے ہیں
جوگی  نے ایک غیر سیاسی  اور غیر مذہبی  تنظیم"ڈان"(ڈی اے  ڈبلیو  این) کی داغ بیل ڈالی ۔  اس  کا  مقصد  اور منشور نظریات ہائے کہنہ  کی اندھا دھند تقلید  اور لکیر کی فقیری کی حوصلہ  شکنی اورجہانہائے نو  کی  تلاش  میں  پیش آمدہ  تجربات  پہ  تبادلہ  خیال اور ایک دوسرے کی  حوصلہ افزائی  تھا ۔ دو  اراکین  سے  اس  انجمن کا آغاز  ہوا لیکن   جوگی اور وسیم کو الگ  کرنے کی ہرکوشش اس  انجمن کے اراکین  میں اضافہ پر منتج ہوئی ۔    
پہلے  تو جوگی اور وسیم کی شر انگیزیاں صرف ایک کمرے  تک محدود  تھیں اب تو  یہ شر مزید  پھیلنے لگا ۔ جوں جوں کمرے تبدیل  ہوتے گئے  جوگی اور وسیم  کے  نظریات اور خیالات  عام ہوتے گئے ۔  سارا دن تو ساتھ ہوتے  ، عشاء کی نماز کے بعد    سے صبح کی نماز  تک کی جدائی جوگی اور وسیم کے حلقہ احباب میں وسعت کا باعث بنی ۔اور آخر کار  جب کسی  طرح کچھ ہاتھ نہ آیا تو ایک  بار پھر  جوگی اور وسیم کو ایک ہی کمرہ  الاٹ ہوا۔
عصر  سے  مغرب  کے درمیانی  وقت میں کھیل کے میدان سجتے تھے ۔  مگر  نہ تو جوگی کو  کسی کھیل میں دلچسپی تھی  نہ ہی وسیم کو  ۔ دو کلو مونگ  پھلیاں  سامنے رکھ کے  ان کی محفل  سجتی ۔ جہاں  دنیا جہان  کے موضوعات پر  سیر حاصل تبادلہ  خیال  کیا  جاتا  اور اتنے طالب علم کرکٹ میچ  دیکھنے والے نہ ہوتے جتنے جوگی اور وسیم کی  گپیں سننے والے ہوتے ۔مخالفین نے  اوپر  تک یہ اطلاع پہنچائی  کہ  یہ دونوں نہ توخود کھیلتے ہیں نہ ہی کسی  کو کھیلنے  دیتے ہیں۔ جبکہ  کھیل طلباء  کی ذہنی اور جسمانی  صحت کیلئے نہایت ضروری  ہیں۔لہذا اوپر سے حکم آیا  کہ تمام  طلبا کا کھیل کے میدان  میں  ہونا  لازمی  ہے۔گپ شپ  کیلئے  مغرب سے عشاء کا درمیانی وقت بہت ہے  ۔اس نئے  قاعدے  کے تحت عصر سے مغرب کے  درمیان ہوسٹل  کے اندر یا اندرونی  احاطے  میں نظر آنے والا ہرطالب  علم  سزا  کا مستوجب  قرار  دیا گیا۔  
 

Monday, 9 September 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط پانزدہم) ۔

1 آرا

اونٹ رے اونٹ ! تیری کونسی کل سیدھی


نہ معلوم  جوگی کا  خمیر  کس  مٹی سے اٹھایا  گیا تھا۔ دنیا جہان سے نرالی منطق  ، نرالے ہی  طور تھے ۔اور  وسیم  سے دوستی کے بعد  تو  مانو  سہاگہ  پھر گیا  ۔ہینگ لگی نہ پھٹکڑی  مگر  رنگ ایسا  چوکھا آیا  کہ  سب کی آنکھیں خیرہ ہو کے رہ گئیں ۔ کوئی  ایک ادھ معاملہ ہو تو  بندہ  بھی کہے  کہ کبھی کبھار  دماغی رو  الٹ  جاتی ہے  ، دو چار  ڈنڈے پڑے  تو  دماغ  ٹھکانے آجائے گاجبکہ  اس قدر  تسلسل  ، تواتر  اورثابت قدمی سے  روشِ عام سے الٹ چلنے والے  جس  کی  دماغی رو نہیں بلکہ ساری کی ساری  کھوپڑی ہی الٹ  ہوایسے کا پھر کیا علاج ۔۔۔؟؟
علم  ِ صرف اور اس کی  گردانات  اور  تعلیلات  سے  ہر ایک کی جان جاتی  تھی ۔ جوگی  اینڈ ہمنوا  نے  ایسی  سبیل نکالی  کہ  جس  نے بھی سنا  حیرت کے مارے عش عش  بھی نہ کر سکا ۔ سب  لوگ   جب "میزان  الصرف "  میں سر دئیے   "ماضی  مطلق   معروف  مزید فیہ  " کی  صرف ِ  کبیر  اور ان کے اوزان  کو رٹا مار مار  کے ہلکان ہو رہے ہوتے جوگی اینڈ کمپنی  مزے سے عمران اور پاکیشیا  سیکرٹ سروس کے کارنامے پڑھا کرتے اس کے باوجودجب   علم الصرف کے پیریڈ میں سب با جماعت مرغا بن کر حسد اور رشک کے ملے جلےجذبات سے جوگی اور وسیم کو جناب محمد امین صاحب سے  گپیں  ہانکتے دیکھتے تو ان  بے چاروں کا کلیجہ سڑ کے سُوا  ہو جاتا  ۔آخر  انہوں نے ڈیڑھ لیٹر پیپسی  اور دو کلو  بسکٹ کی  بھینٹ دے کر  یہ راز ِ نہاں  پالیا کہ ان دونوں  نے میزان الصرف کی گردانیں کبھی اپنے سر پہ سوار نہیں ہونے دیں بلکہ  یہ آتے جاتے  چلتے پھرتے  نظر آنے والی  کسی  بھی  چیز  کو گردان  میں قید  کر لیتے ہیں۔ مثلاً پنکھا  دیکھا  تو  شروع  ہو گئے ۔ ۔۔۔۔  پَنکھا، پنکھآ، پنکھو، پنکھت ، پنکھتا، پنکھنَ، پنکھتَ ، پنکھتما،  پنکھتم ۔۔۔۔۔۔الخ۔
ان چیرہ دستیوں کا  شکار  محض علم الصرف ہی نہیں بلکہ  عربی ادب  ، فارسی  ادب اور  پھر  منطق  اور اصولِ فقہ  بھی حصہ بقدرِ جثہ  پاتے رہے ۔ عربی زبان کی وسعت    ماشاء اللہ  بے حد و حساب  ہے  ،  اور  اس پہ مستزاد  وسیم اکرم  گردان کیلئے ایسے ایسے  مصادر  چُن چُن  کر  ڈھونڈ لاتا  کہ مولانا  نذر محمد  صاحب "بے شرم ، گدھے " کی گردان کرنے لگ جاتے ۔ اور  پھر  ہمیشہ  کیلئےجوگی  اور   وسیم  کیلئے عربی مصادر کی گردانیں   شجرِ ممنوعہ  قرار دے دی گئیں۔
فارسی  میں کبھی بے خیالی میں یا بھولے سے اگر  جناب محمد  حنیف صاحب  ان دونوں میں سے کسی کو گردان کا کہہ دیتے تو پھر  "ریدن" ،  "شاشیدن" ، "لیسیدن"، "چسپیدن" وغیرہ قسم  کے مصادرکی گردان  انہیں ان کی توبہ یاد دلادیتی  کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے ان  شیطانوں  سے گردان کا کبھی نہیں کہنا۔
گلستانِ سعدی  کا باب پنجم (در عشق و جوانی ) ان کا پسندیدہ ترین ہونے کے  باوجود  نہ معلوم کیا وجہ تھی  کہ ان دونوں کیلئے گلستان  کا سب سے  زیادہ  پیچیدہ اور  تشریح طلب باب تھا۔ غلام محمد صاحب پانچ سات بار تو اپنی سادہ دلی  سے  ان دونوں کو پڑھاتے  اور ناقابلِ گرفت حد تک تشریح بھی فرماتے  رہے ، لیکن تا بہ کے ۔۔۔۔؟؟؟آخر کار سمجھ ہی گئے  کہ  انہیں گلستان سعدی  ؒ اور خاص طور پر باب پنجم  حفظ ہے  ، بس  یہ  تشریح کے ضمن میں دوسرے شعرا کے شعر  سننے اور مزے سے نکتے بازی کرنے  کے چکر میں باب ِ پنجم  کے ادق ہونے  کی دہائی  دیتے ہیں۔

 جس  کو ہو دین  و دل  عزیز ، اس کی گلی  میں جائے کیوں


فقہ  اور  اصولِ فقہ  کے درس  میں  ان کی کھڑی  کی  گئیں مباحث بھی   اپنی  جگہ  ایک  تماشا  تھیں۔۔۔ سب سے پہلے پانی کی پاکی اور ناپاکی والے مسئلے   پر  ان  دونوں کی سوئی بارہ  پہ اٹک گئی ۔مولانا شکیل احمد  صاحب کا اس قسم کے طالب علموں سے پہلی بار واسطہ پڑا تھا ۔  لہذاپہلے پہل تو بوکھلا  گئے  اور دوسری  بار وضو  کے مسئلے پر  ڈٹ  گئے ۔ اس بحث کی وجہ  دراصل  عوام  میں رائج  یہ غلط تصور جسے  فقہ کا مسئلہ  سمجھ  لیا گیا  تھا کہ  وضو  ٹوٹنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے  کہ  انسان  کا  چاہے  کسی بھی وجہ سے  چاہے  چند  لمحے  کیلئے ہی سہی ستر ہٹ جائے ۔ یعنی اس غلط تصور کی رو سے  اگر  کوئی  باوضو  شخص  کپڑے تبدیل کرتا  ہے تو اس کا وضو  ٹوٹ گیا  اوراب اسے دوبارہ وضو کرنا پڑے گا ۔حلقہ  ملنگاں(جوگی اور وسیم )کا کہنا تھا کہ وضو نہیں ٹوٹتا  جبکہ  عوام کا تو کیا کہنا  شکیل صاحب نے  بھی حکومت کی رٹ قائم کرنے اور ان دونوں سے یرغمال نہ ہونے  کے چکر میں وضو کے ٹوٹنے اور تجدید ِ وضو  کے حق میں ووٹ  دیا  اور پھر  بحث اتنی بڑھی کہ سانپ کے گلے میں چھچھوندر ہو گئی ۔  شکیل  صاحب نے انا کا مسئلہ بنا لیا اور حلقہ  ملنگاں  کی تو فطرت  میں تھا  کہ سچ  پر  ڈٹ جاؤ اور پھر  رتی برابر  بھی پیچھے نہ ہٹو ۔
آخر کار  جب  فقہ کی کسی  مستند  کتاب  میں کسی  بھی امام ؒ  کے نزدیک  وضو  کا ٹوٹنا ثابت نہ ہوا تو  شکیل صاحب غیر پارلیمانی  ہتھکنڈوں پر  اتر آئے ۔اور  ان کی علمیت  کا ملمع جوگی  کے پھینکے پھندے میں پھنس کر اتر  گیا۔ کسی مسئلے  پر بات کے دوران مثال  کے طور جوگی نے غالب  ؔ کا مشہور ِ زمانہ مصرعہ  "کون جیتا ہے تیری زلف  کے سر ہونے تک"پڑھا تو حسبِ عادت شکیل صاحب نے مصرعے  کو  سراسر غلط قرار دیتے ہوئے ساری مثال کو ماننے سے  انکار کر دیا ۔  وجہ  کی کھوج میں  پتہ چلا  کہ شکیل صاحب  کا قول  ہےکہ  ایک  زلف  کبھی  سر  (جسے انگلش میں ہیڈ کہتے ہیں) ہو ہی  نہیں سکتی ۔  یعنی  شاعر نے ایک ناممکن  سی بات محض  بھرتی کا شعر  جڑنے کو کہہ دی ہے ۔  نہایت ہی بے تکا شعر ہے ۔جب ان  کی اطلاع کیلئے عرض کیا گیا کہ یہ   (بقول  آپ کے) بے تکا شعر  فخر ِ اردو  مرزا غالب ؔ  علیہ الرحمۃ  کا  ہے  تو انہوں نے ایک نثری ہجو  غالب  ؔ  کی  شان میں  کہہ  کر اسے  بے تکے شعر  سے  ترقی سے کر  لغو  ترین شعر  کے درجے پر فائز کر دیا ۔
جوگی  نے ایمان کی امان  پا  کر  عرض  کی کہ سر جی ! فدوی  کے ناقص  خیال  میں سر  ہونے  کا مطلب  فتح  ہونے کے  مطلب میں بیان ہوا ہے ۔ اور شکیل صاحب  کی شائستگی  کی پیمانہ  چھلک پڑا ۔  انہوں  نے جوگی کے  ماضی  قریب کے ریکارڈ  اور  حال  کے  وقوعے  کی  روشنی  میں مستقبل  کی  پیش گوئیاں  شروع کر دیں۔ یہاں تک تو سب خیر  گزری  اگلے دن  قائد  اعظم محمد علی جناح ؒ  کے ذکر  پر  جب انہوں  نے بابائے قوم  کی شان میں  نازیبا  کلمات پاس کیے  تو  حلقہ ملنگاں نے احتجاجاً شکیل  صاحب سے پڑھنے سے انکار کر دیا  اور  ان کی کلاسز کے  بائیکاٹ کا  اعلان کر دیا ۔  


حضرت ناصح گر آویں دیدہ و دل فرشِ راہ


فقہ  کے مدرس  تبدیل  ہو گئے مگر  حلقہ ملنگاں  کے اطوار تبدیل  نہ  ہوئے ۔  اب کی بار  بحث کا  باعث "قدوری" کی کتاب النکاح بن گئی ۔ طلاق  اور مہر  کے مسائل پر تو خیر  بے ضرر بحثیں اکثر رونق ِ کلاس ہوتی ہی تھیں۔  مگر  یہ بحث نہایت  عجب نوعیت کی  تھی ۔متنازعہ  مسئلہ   جنسیات  سے متعلق   ہونے کے سبب یہاں  صرف بحث کی مناسب تفصیل پر اکتفا کیا  جا رہا ہے ۔
عوام الناس میں  نیم ملا حضرات کی پھیلائی لغو محض افواہ  کے سچ  یا جھوٹ ہونے پر  بحث ہوئی ۔ نیم  ملا  اور مکتبی قسم کے مولانا حضرات  کا اس بارے میں قول تھا کہ مسئلہ  نا مذکور  فعلِ حرام ہے اور اس  کے وقوع کی صورت میں  نکاح فاسد ہو جاتا ہے ۔ اور تجدید ِ نکاح بھی صرف حلالہ  کے بعد  ہی  ہو گی ۔
اس فعل کے حلال یا حرام  ہونے  کی بحث اپنی جگہ  جوگی اور وسیم  کا  نکتہ  اعتراض یہ تھا  کہ اس فعل     کے وقوع  کی صورت میں  آئمہ  اربعہ  میں سے کسی  کے نزدیک  بھی نکاح کے فاسد ہونے کا  کوئی ثبوت نہیں۔نہ طلاق جبری واقع ہو  گی نہ ہی  نکاح ٹوٹے  گا۔کیونکہ  جھوٹ بولنا  اور شراب پینا قسم  کے گناہ نہ  صرف حرام  بلکہ کبیرہ گناہ  ہیں۔ لیکن ان کبیرہ گناہوں  کے  وقوع  کے بعد  بھی  نکاح نہیں ٹوٹتا۔
ہر طرف زلزلہ سا آ گیا اور نام  نہاد  علامہ  حضرات کے  قصرِ  علم  کے چند کنگرے  گر پڑے ۔  حسبِ عادت بات کفر  کے فتوے سے شروع ہوئی اور یہاں تک آن پہنچی  کہ ان دونوں  میں خود ابلیس  حلول کر گیا ہے ۔ اس  لیے یہ اس قسم کے مسئلوں  کو  بحث کا  اکھاڑہ  بنا لیتے ہیں۔ لیکن جب کسی طرح گلو خلاصی نہ  ہوئی اور جوگی  اینڈ ہمنوا  اپنے موقف  پر ڈٹے  رہے  کہ اول درجہ تو یہ ہے کہ امام ِ اعظم حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کا قول پیش کیا جائے جس سے ثابت ہو کہ نکاح ٹوٹ گیا ۔ درجہ دوم میں بقیہ  آئمہ ثلاثہ کے اقوال  سے بھی ثابت کیا جا سکتا ہے ۔  بس پھر کیا تھا ۔ ۔۔۔۔ لائبریری  میں رش  لگ گیا  ۔  بڑی بڑی کتابیں جو  ہم جیسے بچے جمہورے  صرف الماری  میں سجی دیکھ  کر  دل بہلا  سکتے تھے  ۔  وہ اپنی طباعت کے بعد  پہلی بار کھل گئیں۔لیکن نکاح ٹوٹنے کا  قول کسی کتاب میں نہ پایا جا سکا ۔  تین  دن اکھاڑہ سجا رہا جس  میں اساتذہ کے علاوہ  طلباء کی  دلچسپی  بھی دیدنی تھی ۔
آخر  جب  ہر  ممکن کوشش کے باوجود نکاح ٹوٹنے کا قول نہ  مل سکا  تو پھر  بات حلال حرام پر آ گئی ۔
نامذکور  فعل  کے حلال ، حرام  ہونے پر    نئی بحث کا آغاز ہو گیا ۔
اس بحث نے اس قدر طول کھینچا  کہ  شیطان کی آنت ہو گئی۔ جوگی  اور ہمنوا کا  نکتہ نہایت سادہ  تھا کہ  نکاح کامقصد ہی حرام کو حلال کرنا ہے ۔ نکاح سے پہلے  جو کچھ  کرناگناہ کبیرہ  ہے  نکاح کے ایجاب و قبول  کے بعد وہی  ثواب کا کام ہو جاتا ہے ۔ پس اگر  نکاح کے بعد بھی کچھ  حلال اور کچھ حرام  کا جھگڑا رہے تو نکاح کا مقصد  اور مطلب تو فوت ہو گیا ۔  ایسے ناقص نکاح کا کوئی کیا کرے ۔ نکاح میں  ایجاب  و قبول  کا اطلاق "کُل" پر  ہوگا نہ کہ "جزو"پر۔۔۔
بیع و شرا کے قواعد  ِ فقہ اس ضمن میں بہترین رہنمائی  فراہم کرتےہیں ۔ تفصیل میں جانا بے جا ہے ۔
اللہ تعالیٰ  نے جنرل طور پر  فرما دیا کہ نکاح کے بعد مرد پر عورت حلال ہے اور عورت  کیلئے مرد حلال ہے ۔  پس  اگر  اب ہم قیل و قال کریں تو ہم  میں اور بنی اسرائیل  میں کونسافرق باقی رہ گیا ۔  سورۃ بقرہ  اللہ نے مسلمانوں کی ضیافتِ طبع  کیلئے نازل نہیں فرمائی  بلکہ اس کا مقصد بنی اسرائیل  کا قصہ سنا کر  عبرت دلانا تھا کہ کہیں کل کو مسلمان بھی یہی قیل و قال نہ شروع کر دیں۔ (واقعہ  بقرہ کا خلاصہ ) موسیٰ  علیہ السلام  کے سوال  پر اللہ  تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ ایک گائے ذبح کر  کےاس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مقتول  کی لاش پر رکھو ۔ مقتول  خود اٹھ کر بتا دے گا کہ اس کا نامعلوم قاتل کون  ہے ۔  غور فرمائیے ۔۔۔۔ اللہ  نے ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا ۔۔۔ کوئی بھی ہو۔۔۔ کیسی بھی ہو ۔۔۔  نہ رنگ کی تخصیص ۔۔۔۔  نہ عمر  کی قید ۔۔۔۔  بات نہایت سادہ تھی ۔  لیکن  بنی اسرائیل اپنی عادت سے مجبور تھے ۔ سوال پہ سوال کرتے گئے اور خود کو خود  پھنساتے گئے ۔ رنگ پوچھا تو اللہ تعالی  ٰ  نے فرمایا "تسر الناظرین       "،  پھر  بھی شامت نے ستایا تو پوچھ لیا کہ عمر  کتنی ہو ۔۔۔الخ ۔  سوال پوچھتے گئے اور ایک سادہ سی بات کو پیچیدہ کرتے گئے ۔ کوئی  بھی گائے سے بات اب ایک مخصوص گائے تک آن پہنچی ۔  جس کا ملنا  ناممکن تو نہیں مگر مشکل ضرور ہو گیا ۔اور اس وقت ہم مسلمان بھی وہی تماشا  کر رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ  نے جب جنرل طور پر  مرد و  عورت کو نکاح کے بعد ایک دوسرے پر حلال  کر دیا تو ہمیں پاگل کتے نے کیوں کاٹ لیا ہے کہ ہم پوچھتے پھر رہے ہیں کہ کہاں  کہاں تک چھونے کی اجازت ہے ۔ اور کیا کیا کرنے کی اجازت ہے ۔"میاں بیوی ایک  دوسرے کا لباس ہیں۔" کیا اتنے واضح حکم کے بعدیہ  پوچھنے کا  کوئی جواز رہ جاتا ہے کہ یہ لباس ہم  جسم کے کونسے کونسے  حصے پر پہنیں۔۔۔؟؟؟  جب واضح حکم آ گیا تو اس کے بعد تفصیل پوچھ پوچھ کے چسکے لینا چہ معنیٰ دارد۔۔۔؟؟؟

قائل ہونا نہ ہونا ایک طرف ۔۔۔۔ جوگی اور وسیم کی ذہانت کی دھاک ہر طرف بیٹھ گئی ۔

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط چہاردہم) ۔

5 آرا

میں نہ اچھا ہوا ، برا نہ ہوا


ان ہنگامہ  خیزیوں   کے  درمیان تین  سال  بیت  گئے ۔  اور جو  کلاس  باسٹھ طلبا ء سے شروع ہوئی تھی ۔ تین سال گزرتے گزرتے اڑتیس  طلبا  ء کی کلاس رہ گئی ۔  کچھ گردش ِ مدام سے گھبرا کے چھوڑ گئے ۔ کچھ سختیاں جھیلنے کے عادی  نہ ہو پائے  اس لیے  چھوڑ گئے ۔مگر جوگی اور وسیم  نے غالب ؔ کا وضع  کردہ کلیہ گھول کر  پی  لیا تھا  کہ  "رنج سے  خو گر  ہوانسان  تو مٹ جاتا ہے  رنج"  اس لیے "مشکلیں ان پر پڑیں  جتنی آساں ہو گئیں۔"
جوگی  نے زندگی کو اس کی سختیوں  سمیت ہنس کے گزارنے کا  ڈھنگ سیکھ  لیا ۔    اپنے کام اپنے ہاتھ  سے کرنے کی ایسی عادت پڑی کہ الحمد اللہ آج تک کسی  کی محتاجی محسوس نہ ہو  ئی ۔  اپنے کپڑے آپ دھویا  کرتے  تھے ۔  حتیٰ کہ چھٹی  والے دن جب سب طلباء گھر چلے جاتے ، تو جوگی میاں  میس میں اماں (صابر) کے  ساتھ کھانا پکانے کے رموز  سیکھتے ۔  سبزی  کاٹنےاور پکانے میں  ایسی  مہارت  آئی  کہ اب تو اکثر خواتین  جوگی کو یہ کام اس صفائی اور چابکدستی   سے کرتا دیکھ  کر  منہ میں  انگلی نہ  بھی دبائیں تو  کم از کم ناک پہ انگلی ضرور رکھ لیتی ہیں۔
(ناک پہ انگلی  رکھنا انتہائی  حیرت کا اظہار ہے ۔ اور یہ خالصتاً ایک خاتونی ادا  ہے ۔)
دو ہفتے  بعد  ایک چھٹی ہوتی ۔سب طلباء  چھٹی کے دن گھر چلے جاتے مگر  جوگی تو شاید بھول  ہی گیا  تھا کہ اس کا بھی کوئی  گھر ہے ۔جمعہ کے دن اکثر طلباء سے ان کے  والد  ین ملنے آتے  تھے ، مگر  اس  جیل میں ایک قیدی ایسابھی تھا جس کی  کبھی کوئی ملاقات نہیں آئی ۔  یومِ والدین کے علاوہ  اکثر  طلباء کے پدران  کی طلبی ہو تی تھی ۔ مگر جوگی اس  معاملے میں آزاد اور اپنے معاملات کا خود جواب دہ تھا ۔اپنی دنیا  کا آپ بادشاہ  تھا ۔

اپنا  سا منہ لے  کے رہ گئے


وسیم اور جوگی  کی بے مثال  جوڑی  کو  توڑنے کی ہر کوشش  اور سازش  جب  ناکام ہوئی  تو  کھسیاکر کھمبا  نوچنے  کیلئے  وسیم اکرم  کے  والد صاحب کو  خط لکھ مارا گیا ۔ کہ  جوگی سے دوستی  آپ کے بیٹے  کی تعلیم اور بہترین ذہنی صلاحیتوں کے  حق میں سخت مضر ہے ۔جوگی کو  غیر نصابی  کتابیں اور ناول  وغیرہ پڑھنے کی گندی عادت  ہے ۔ اس سے  یہ  چھوت  کی بیماری  وسیم کو لگی اور نتیجہ  یہ کہ  اب  یہ  دونوں ہوسٹل  میں عمران سیریز  سے  فلمی رسالوں  تک  ہر  الا بلا کے  ڈسٹری  بیوٹر ہیں۔ لیکن سر توڑ کوششوں کے باوجود  آج  تک کوئی چھاپہ کامیاب نہیں ہوا۔ اور وسیم  اکرم کو فلمیں دیکھنے کا جوچسکا  ہے،  ڈر ہے  وہ جوگی  کو  بھی  نہ لگ جائے ۔  اس لیے جیسے ممکن ہو   دور اندیشی  کا ثبوت دیتے ہوئے اس  خطرے کا بروقت  سد باب  کیا جائے ۔
اور پھر وسیم کے والدمحمد اکرم صاحب جو کہ  پاکستان  ائیر فورس  میں آفیسر  تھے ، بنفس نفیس  جوگی سے ملنے تشریف  لائے ۔مگر  جیسا  کہ  میر تقی  میرؔ کے ساتھ  ہوا تھا  وہی ہوا، یعنی :۔ الٹی ہوگئیں سب تدبیریں  ، کچھ نہ دوا  نہ کام کیا۔"جناب محمد اکرم صاحب   جوگی سے مل کر    بہت خوش ہوئے اور دو  گھنٹے کی ملاقات  کا نتیجہ یہ  نکلا  کہ جوگی کو چھٹیوں  میں اپنے ہاں آنے کی دعوت دے گئے  ۔مخالفین اور بدخواہوں میں صفِ ماتم  بچھ گئی اور  وہ شام  "شامِ غریباں "کے طور پر منائی گئی ۔

کلکتے کا جو ذکر  کیا  تو  نے ہم نشیں


گرمی  کی چھٹیوں میں فیصل آباد  یعنی  وسیم اکرم کے گھر جانا ہوا ۔
اس کی بستی کا نام "بھٹہ نواب  والا"  تھا جو کہ  نیا لاہور  نامی  چھوٹے سے قصبے  کے بالکل  ہی نزدیک ہے ۔  جھنگ سے فیصل آباد جانے والے  روڈ پر  واقع ہے ۔ اس کے علاوہ گوجرہ  سے فیصل  آباد جاتے  ہوئے پینسرہ  سے کچھ پہلے ان  کا گاؤں آتا ہے ۔
وسیم  کی  والدہ صاحبہ جوگی سے مل کر  اتنی خوش ہوئیں  کہ بیان  سے باہر  ہے ۔   بے حد  پیار اور شفقت سے ملیں اور دیکھتے ہی اپنا بیٹا بنا لیا ۔  انہوں  نے کہا میرا اب تک صرف ایک بیٹا تھا اور  ماشاءاللہ اب میرے دو بیٹے ہیں۔ حیرت کی بات یہ کہ  دونوں میں  حیرت انگیز  مماثلت  اور مشابہت ۔یوں  جوگی  کو  ایک ماں اور ایک بڑی  بہن مل  گئیں ۔
زندگی میں بہت کچھ  دیکھا ، بہت سے لوگوں  سے ملنے کا موقع ملا ۔  بہت  سے نادر روزگار لوگوں  سے دوستی رہی ۔ مگر  وسیم اکرم  سے دوستی اللہ کی سب سے بڑی نعمت تھی ۔  وہ  میرا سب سے  پیارا  دوست تھا ۔  جس کی یاداس دل  سے  یقیناً موت کی تلخی  بھی نہ مٹا پائے گی۔
اگر کوئی  وسیم  اکرم   سے واقف  قاری  یہ کہانی  پڑھے یا خود وسیم پڑھے  تو  مجھے اس  کا  سراغ دے کر احسان مند ضرور کرے ۔

 

پوچھتے ہیں وہ کہ غالب ؔکون ہے


وسیم اکرم  جوئیہ ۔  ایک ہمہ جہت  شخصیت ۔   ہر پہلو لا جواب  ،  ہر جہت میں بے مثال ۔
بے انتہا  بذلہ  سنج ،  بے  حد  ذہین  اور حاضر جواب ۔ اور( جوگی سے دوستی ہونے کے بعد  )سفاکی  کی حد تک منہ پھٹ  بھی ۔
  سلمان  خان  اس وقت  اس کا پسندیدہ  ہیرو تھا جب اس سوکھی  بوتھی والے کی فلمیں کم کم لوگ ہی دیکھنا پسند  کرتے تھے ۔ نہ صرف خود خوبصورت  تھا بلکہ اس  کی طرح اس آواز  بھی بہت خوبصورت اور بے حد  سریلی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ سکول اسمبلی  میں ہماری کلا س  کی طرف سے نعت  شریف  سنانے کی ذمہ داری  اس کے  دوش  پر تھی ۔ 
ہمارے استاد اور دربار شریف  کی  جامع  مسجد  کے امام  جناب مولانا غلام  محمد صاحب کا نواسا ہماری کلاس میں شامل ہوا۔  وہ  لاہور  سے آیا تھا  اس لیے  کسی  کو  کچھ  نہ سمجھتا تھا ۔  ایک دن اس کی  جو شامت  آئی  تو وسیم  کے سامنے  اپنے دکھڑے  روتے ہوئے  بولا :۔ "یار میں تو یہاں  آ کر پچھتا رہا ہوں ۔  یہاں  تو سارے جاہل گنوار بھرے  پڑے ہیں۔ ایسا  لگتا ہے یہ ایک چڑیا گھر ہے ۔"  وسیم نے برجستہ  کہا :۔ "ایساتو نہ کہو یار !اس چڑیا  گھر میں ایک لنگور کی کمی تھی   اب تمہارے آنے سےاچھی خاصی  رونق لگ گئی ہے ۔"
ایک مرتبہ  شکیل  احمد سعیدی  صاحب نے وسیم  پہ اعتراض اٹھایا  کہ تم جوگی کو  استاد، استاد  کیوں  کہتے  ہو ؟ ۔ وہ تمہارا استاد نہیں بلکہ کلاس فیلو ہے۔استاد تو ہم  ہیں  تمہارے ۔  اس پر وسیم  نے اپنی مخصوص دل جلانے  والی مسکراہٹ کے  ساتھ ایسامنہ توڑ  جواب  دیا  جو کہ  لکھنے کے تو قابل نہیں ۔البتہ اتنا  سمجھ لیجیئے  کہ شکیل  صاحب  نے لاجواب ہو کر  وسیم کو کلاس سے نکال دیا۔
ایک  بار سائنس  کے استاد جناب مجید احمد  صاحب نے  وسیم  کو  مرغا بنا  کر  دو  تین  ڈنڈے جڑ  دئیے ۔ لیکن  وسیم  نے چوں  تک نہ کی ۔  انہوں نے ہنس کے کہا اوئے تم  بندے ہو یا کھوتے ۔؟وسیم نے کہا :۔ " سر آپ نے جو تین ڈنڈے مارے ہیں  کھوتا سمجھ کے  ہی مارے ہیں۔ اب بندہ  آپ کے سمجھنے کی لاج نہ رکھے تو کیا  دوزخ میں جائے۔ " مجید صاحب بہت  ہنسے  اور پھر اس کے بعد    انہوں  نے  کبھی وسیم پر  ہاتھ نہ اٹھایا ۔
ایک بار عشا ء کے بعد  جب سب طلباء ہال میں بیٹھے رٹے  بازی میں مصروف تھے۔اور  وسیم  اکرم صاحب  نیند کی جھپکیوں سے لطف اندوز ہونے میں مصروف تھے ۔  کہ استاد صاحب نے دیکھ لیا ۔نیند  بھگاؤ  نعرے کے  تحت  منہ دھونے کا حکم صادر کیا ، مگر  منہ دھونے کے باوجود بھی نیند نہ ٹلی تو مرغا بنا  دیا ۔  اور جب چند منٹ بعد  وسیم مرغابنا  بنا  اچا نک ورلڈ ٹریڈ  سنٹر  کی طرح زمین بوس  ہو گیا ۔تو  استاد صاحب کی حیرانی  بجا تھی ،  پوچھا:۔  اوئے ڈھیٹ کہیں  کے، تم  مرغا  بن کے بھی نیند  کر رہے تھے  ۔ تو اس  فخر  الکہلاء  نے  جماہی لیتے ہوئے  اک ادائے  بے نیازی سے کہا :۔ "سر جی  نیند تو سولی پر بھی آ جاتی ہے ۔۔۔۔۔"طلباء نے تو  کھی کھی کھی کی ہی  استاد صاحب بھی اپنی ہنسی روکنے میں ناکام ہو گئے ۔
جیسا کہ  پہلے بھی ذکر  ہو  چکا ہے   اپنی  خوش الحانی  اور  خوبصورت آواز کے باعث  اسمبلی میں  ہماری کلاس  کی طرف سے  نعت شریف  پڑھنے  کی ذمہ داری وسیم اکرم  کے سپرد تھی ۔  ہر ہفتے  ایک  نئی نعت سنانے  کے چکر میں ایک بار  اس نے  نعت پڑھی   جو  کہ حدیقہ کیانی  کے مشہور  گانے "بوہے  باریا ں  " کی  طرز پر  تھی ۔ نعت کے مصرعے تھے :۔ "  سوچاں میریاں  مدینے ول جاندیاں ، دروداں دی صدا بن کے ۔" وسیم  نے بہت  اچھی  نعت پڑھی  مگر  روانی میں پڑھتے پڑھتے نعت سے گانے کی ٹون میں  آ گیا ۔۔۔۔
سوچاں میریاں مدینے ول  جاندیاں ۔۔۔۔۔ دروداں دی صدا بن کے۔۔۔۔ ہائے ۔۔۔  بوہے باریاں۔۔۔۔۔
طلباء تو  خیر  کھی  کھی  کرنے  کے  لیے ہمیشہ کمر بستہ رہتے ہیں۔  مگر  اس  لطیفے  پہ  تو  سخت سے  سخت  مولانا صاحبان  اور اساتذہ  کرام  بھی تمام تر  احتیاط  اور مصلحت  کو بالائے  طاق  رکھ کے   بے ساختہ قہقہنے پہ  مجبور  ہو گئے  ۔

Monday, 2 September 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط سیزدہم)

0 آرا

کیا غمخوار  نے رسوا، لگے آگ اس محبت کو


نشیب و فراز تو زندگی کا حصہ ہیں۔  اور  ہر عروج کو  زوال ہے ۔  اس  میں کسی کی شعوری یا لاشعوری کوشش کو چنداں دخل نہیں۔اپنے آپ  پہ اترانے  والا  انسان تو محض ایک کٹھ پتلی ہے ۔ کیا خوب فرمایا ہے مرزا غالب ؔ علیہ  الرحمۃ  نے :۔ 
نقل کرتا  ہوں  اسے  نامہ اعمال میں مَیں 
کچھ نہ کچھ  روزِ ازل  تم نے لکھا ہے تو سہی
آٹھویں  جماعت کے سالانہ امتحان  بورڈ آف ایجوکیشن فیصل آباد  کے زیر اہتمام ہونے  قرار  پائے  تھے ۔ اور گورنمنٹ ہائی  سکول  نمبر  ایک  ،  نزد پریم ستی  ٹرسٹ  کالج   امتحان گاہ مقرر ہوئی ۔ مولانا حضرات سر پہ ٹوپیاں  سجائے امتحان دینے پہنچ  گئے ۔  پہلا پرچہ  نہایت  ہی اچھا ہو ا۔   اور وہ  جو ایک ہوّا سوار  تھا وہ  بھی  اتر گیا ۔  نگران  بھی آلسی  تھے ۔ اور کوئی خاص سختی بھی نہیں تھی ۔  باقی سب پرچے  تو بغیر  بیرونی  ذرائع  کی مدد  سے  بہترین ہو تے رہے  ۔ مگر  ایک کمبخت ریاضی  سے جوگی  کی کبھی نہ بنی تھی ۔  اس لیےجس  دن  ریاضی کا پرچہ درپیش  تھا     وقتِ روانگی  "امام ضامن  "طور پر ٹیسٹ پیپر (جسے  طلباء  کی زبان میں "خلاصہ" کہا جاتا ہے ) ساتھ رکھ لیا ،تاکہ حوصلہ  رہے اور  یہ ریزرو  بوقتِ  ضرورت کام آئے ۔ اور کمرہ امتحان میں  داخل ہونے سے پہلے وہ ٹیسٹ  پیپر  مبینہ طور پر  امتحانی  فائل  کے اندر گھات لگا کے بیٹھ گیا ۔
پرچہ شروع  ہوا۔  سوالیہ پیپر  ہاتھ آیا تو ٹیسٹ  پیپر  ساتھ لے آنے پر افسوس  ہوا۔ کیونکہ آدھا پرچہ تو خالصتاً  اپنے  زورِ بازو  پہ حل کیا جا سکتا تھا ۔  لیکن اب خلاصہ   ساتھ آ ہی گیا  ہے  تو خیر  ہے ۔  اور  یہی تو خام خیالی تھی  کیونکہ   آج قطعاً خیر نہ تھی ۔تقدیر  حسبِ عادت  بندے  کی تدبیر  پر کھی کھی کھی  کیے    جا رہی تھی ۔
آدھا پرچہ  تو لگے ہاتھوں"ایمانداری بہترین حکمتِ عملی ہے " والے  مقولے  کو   مدنظر رکھ  کے  حل کر ڈالا   گیا ۔  اس  کے بعد  سپریم کورٹ  کی  طرح  نظریہ ضرورت کو  جواز  بنا کر  اپنی پوزیشن مستحکم رکھنے کیلئے ٹیسٹ  پیپر  سے  مدد  لینے  کا  "اصولی "فیصلہ  کیا گیا ۔  دیدہ  دلیری  ملاحظہ ہو  کہ  جوابی پرچے  کے  نیچے ٹیسٹ پیپر  پڑا  ہے ۔  جیسا کہ کسی  کن ٹُٹے عاشق  کا قول  ہے کہ "دل میں سجا رکھی ہے تصویر یار ۔   ذرا  سر جھکا کے  دیکھ  لیا " اسی  طرح نگران  صاحب کے گھومتے  ہی پرچہ اٹھا  کے نیچے سے  جواب دیکھ لیا ۔  زندگی  میں  پہلی بار نقل لگائی  تھی ۔  اور  خوشی بھی بہت  تھی  کہ ریاضی  نہیں سمجھ میں آتی تو نہ آئے ، ٹیسٹ پیپر زندہ  باد ۔ 
اسی  اثنا میں سنٹر  سپرنڈنٹ  صاحب حسبِ معمول رسمِ دستخطی  ادا کرنے کو اس  کمرے میں  داخل ہوئے  اور  ہمیشہ کی طرح ہر  ایک طالب علم  کے جوابی پرچے کے ماتھے پر دستخط کے نام  پر  لکیریں گھسیٹنے  میں مصروف ہو گئے ۔  دماغ  نے جوگی سے کہا  :۔ حالات اور احتیاط کا تقاضا ہے  کہ ٹیسٹ پیپر کا  تبادلہ  کر دیا  جائے  اور اس  کو عارضی  طور پر  گھٹنے  کے نیچے  پناہ گاہ میں بھیج دیا جائے ۔ یہ رائے مناسب بھی تھی ۔ مگر  ایک  کمبخت  دل بھی تو  انسان میں ہوتا  ہے جس  کے بارے میں مرزا  غالب ؔ علیہ  الرحمۃ  کا قول ِ فیصل ہے کہ :۔"  دوستدار  دشمن ہے  ، اعتمادِ دل معلوم"
اس منحوس  دوستدار  دشمن نے  دماغ پر  ڈرپوک  ہونے کی پھبتی  کسی  اور کہا کہ پہلے کبھی کسی نے اتنی  تلاشی  لی ہے جو آج  لے گا ۔ زیادہ  ہی خوف ہے  تو ٹیسٹ پیپر کو  پرچے کے  نیچے سے نکال  کر فائل کے اندر رکھ لو۔  اول تو  وہ کسی کی فائل کھول کے اندر دیکھ  ہی نہیں رہا ۔ دوم یہ سپرنڈنٹ کو ئی  مرزا  غلام احمد قادیانی تو نہیں کہ اسے الہام ہو جائے گاکہ جوگی کی فائل میں   ٹیسٹ پیپر پڑا ہے ۔ کمبخت کے  دلائل اتنے  زوردار تھے کہ جوگی  نہ چاہتے  ہوئے بھی دل  سے  متفق ہو گیا ۔  جونہی سپرنڈنٹ پہلی رو سے دوسری  رو میں مڑا  ،چشم  زدن  میں خلاصہ پرچے کے نیچے  سے  فائل کے اندر منتقل ہو گیا ۔  اور جوگی  دنیا  جہان  کی شرافت اور مسکینی  چہرے پر سجائے   پرچہ حل کرنے  کی  اداکاری  میں  مصروف  ہو گیا۔  آخر  کار  وہ منحوس  گھڑی آن پہنچی ۔ سپرنڈنٹ  نے  فائل  لے کر  پرچے پہ دستخط گھسیٹے  اور آگے بڑھ گیا ۔  جوگی  کا  رکا ہوا سانس  بحال ہوا اور ابھی کلمہ  شکر  منہ سے نکلا بھی نہ تھا  کہ سپرنڈنٹ واپس مڑا  اور  جوگی سے فائل کھولنے کو کہا ۔ 
اُس وقت  کی  کیفیات  کو حوالہ الفاظ کرنا بے حد مشکل ہے ۔ بس اتنا معلوم  ہے ، فائل کھلی ، اندر خلاصہ پڑا منہ چڑا رہا تھا ۔  سپرنڈنٹ  نے نام  پوچھا  اور کہا  یہ کیا حرکت ہے ۔؟؟  جواب  نہ ملنے پر  پیپر  چھین لیا اور کمرے سے دفع ہو جانے کا آرڈر دیا۔  یہ تو غالب کا حوصلہ  تھا  کہ فرمایا   :۔ "دے وہ   جس قدر ذلت ہم ہنسی میں  ٹالیں  گے" کیونکہ  "ان" کا پاسباں  غالب ؔ کا آشنا  نکل آیا تھا ۔ لیکن جوگی کیسے ہنسی میں ٹال دیتا جبکہ پاسبان تو کیا نگران بھی  آشنا نہ تھا اپنا ۔ منہ  بنائے  ، فائل بغل میں دبائے  ، بہت بے آبرو ہو کر  اس کمرے سے  ہم نکلے ۔ نجانے جنت سے  نکلتے وقت  حضرت  آدم علیہ السلام کی کیا کیفیا ت ہوں گی ۔
  باہر  اس سکول کے  ہیڈ  ماسٹرصاحب ٹہل رہے  تھے ۔ جوگی کو جو یوں  عربی اونٹ  کی  طرح  گردن اٹھائے باہر جاتے دیکھا تو وقت پوچھا ۔ معلوم ہوا  کہ  ابھی  آدھا وقت  بھی نہیں گزرا ۔  پھر تم کیوں جا رہے ہو ۔؟  چلو واپس جاؤ  ۔۔۔۔قاعدے کے مطابق آدھا وقت تو بیٹھو ۔ جوگی نے وضاحت کی  کہ جناب مجھےتو بیٹھے رہنے میں کوئی  اعتراض نہیں البتہ سپرنڈنٹ صاحب  کو ضرور  ہے ۔ ہیڈ ماسٹر صاحب ہنس پڑے اور جوگی کو ساتھ لیا  اور  خود کمرے میں دوبارہ بٹھا گئے ۔ نگران صاحب کی جو بے عزتی ہونی تھی وہ  تو سپرنڈنٹ  صاحب پہلے ہی  کر چکے تھے ۔ اس لیے  اب نگران صاحب جوگی کے سر پہ سوار رہے ۔ مگر  ملنگ کو کیا پرواہ  کیونکہ وہ  تو 80 نمبر  کا پرچہ حل کر  کے پُر باش تھا ۔  اب چاہے سر پہ بیٹھے  یا گود میں، میری جانے بلا ۔۔۔۔۔


ایک مرگِ ناگہانی اور  ہے 


نگران صاحب سے  جب کسی طرح بے عزتی ہضم نہ ہوئی(کاش کوئی  اسے  پروفیسر  حکیم سلیمان  کی پھکی  کھا نے کا صائب مشورہ  ہی دے دیتا )تو موٹر سائیکل پہ سوار ہو کے آ گئے۔ اور دو  گھنٹے  رشید صاحب کے آگے رونے روتے رہے  ۔  ان کے جانے  کے بعد جوگی کو  سمن جاری ہوئے  اور      مغرب  کے کھانے  کے بعدرشید صاحب کی عدالت  میں جوگی کی پیشی  ہوئی ۔اور انہوں نے دو اور  دو ملا کر چار گھنٹے(بزعمِ خودتو)خوب بے عزتی   کی ۔ مگر مردِ ناداں پہ اس کلام ِ نرم و نازک  کابھلا  کیا اثر ہونا تھا ۔ البتہ  افسو س  اس بات کا تھا  کہ رشید صاحب  کی زبانی  بے عزت ہونا پڑا ۔ اور شاید رشید صاحب کو بھی زیادہ  دکھ یہی تھا کیونکہ انہوں نے جوگی  کو کبھی اپنی اولاد سے کم نہ سمجھا تھا ۔  
اب کیا ہو سکتا تھا ۔ ہونی ہو چکی  تھی ۔ پرنس آف پرشیا والا خنجر  بھی ہاتھ میں  نہ تھا کہ وقت میں واپس جا کر  سب کچھ ٹھیک کر دیتا اور  پرانی کہانیوں کی طرح سب ہنسی خوشی  رہنے لگ جاتے ۔ بنی بنائی ساری عزت کا جنازہ  نکل چکا تھا ۔  لائق فائق  طلبا ء والی  فہرست  سے خارج کیے جا چکے تھے ۔   ساری شہرت اور مقبولیت کو دھبا  لگنا  تھاسو   لگ چکا تھا۔


اپنا نہیں وہ شیوہ  کہ آرام سے بیٹھیں


انتقامی  کاروائی  کے طور پر   بقیہ سارے پرچوں میں جوگی اور  وسیم  نے  ایک"اندازِتخریب کاری اور"کا  مظاہرہ  کیا۔  عربی  ، سائنس  اور انگلش  کے پرچوں  میں تو  سارے کمرے کے مددگار ہوئے ہی  مگر  معاشرتی علوم کے مضمون میں تو کوئی  شریکِ غالب نہ تھا ۔  اس  لیے پہلے آدھے گھنٹے  میں  اپنا پرچہ حل کر کے  فارورڈ کر دیا ۔قائد اعظمؒ کے چودہ نکات  والا سوال  طلبا ء  کے نزدیک  بہت دہشت ناک  ہوتا تھا ۔  رٹا مارنا چونکہ اپنی  فطرت میں بھی نہ تھا اس لیے قائداعظم  ؒ    کے چودہ نکات باریک باریک  لکھائی میں پیمانے پر لکھ کے  لےگئے اور نہایت اطمینان  سے پرچے میں لکھ دئیے ۔
جونہی نگران  مڑتا  ، پرچوں کا تبادلہ ہو جاتا ۔   اپنا پرچہ  لکھنے کے بعد  جوگی نے وسیم کا  پیپر  حل کیا ۔  اس کے بعد  ان  دونوں کے پرچے کمرے میں گردش کرنے لگے ۔ ہمارے پرچے کسی  کے پاس کسی  اور کے ہمارے پاس ۔  اور  یہ پہلا موقع تھا جب  جوگی کسی  پیپر  میں پورے تین گھنٹے ٹک کر بیٹھا ہو ۔  اس دن بلا مبالغہ  بارہ  نالائق طلبا ء کے پرچے  نگران  کے  ناک کے  نیچے بیٹھ  کر جوگی نے خود لکھے ۔ 

Saturday, 29 June 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط دوازدہم) ۔

3 آرا

کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں  مجھے


وقت  گزرتا رہا ۔  جوگی بڑھتا رہا۔  اب  آٹھویں  جماعت  میں  تھا ۔   درسِ  نظامی میں علم ِ فقہ  کی کتاب  "نور الایضاح"جہاں نئے مباحث  کا باعث  بنی    اور  گلستانِ  سعدی  نے  جوگی   کے  خلاق  ذہن کو  مہمیز  کر دیا۔وہیں اب  شعر  و شاعری سے دلچسپی  بھی بڑھ گئی ۔ کچھ  اساتذہ  جو ہمیشہ  حوصلہ افزائی فرماتے تھے  انہوں نے مشورہ دیا کہ  اچھے اچھے شاعروں کے کلام  کا مطالعہ  کرو  تاکہ    شاعری کی  روشوں  سے کماحقہ  واقفیت ہو سکے  ۔  شاعری کے مطالعہ  کا  یہ  فائدہ  یا نقصان  ہوا کہ بے شمار شعر ازبر ہو گئے ۔ اردو  کے سبجیکٹ  کا تو خیر شاعری سے چولی دامن کا ساتھ  ہے ہی  ،معاشرتی علوم  میں  بھی بر محل  اشعار کھپ  ہی جاتے ہیں  ۔ مگر  جوگی میاں  نے تو حد  ہی کر دی ۔ سائنس کے مضمون میں بھی اشعار  کی گنجائش  ڈھونڈ  نکالی ۔
 ٹیسٹ میں سوال آیا :۔ "عملِ  تعدیل  سے کیا مراد ہے ؟  وضاحت کیجیئے وغیرہ وغیرہ "
اور ذرا  اس کاجواب سن کر سر دھنیے :۔
 "عملِ تعدیل  سے مراد ایسا کیمیائی  عمل ہے  جس میں تیزاب  (ایسڈ)میں کیمیائی  تعامل کے باعث  نہ وہ  اساس رہتا ہے نہ الکلی ۔جیسا کہ بقول شاعر :۔ 
نہ خدا ملا نہ وصالِ صنم 
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے 
غضنفر  صاحب سائنس  کے  استاد تھے ۔ اور کٹر سائنسی آدمی تھے ۔ شاعری جیسی خرافات سے انہیں  الرجی ہے  ، اس بات  کا تو علم  تھا مگر یہ نہیں معلوم تھا کہ  اس ایک  شعر  کی پاداش  میں  تمام درست  جوابات کے بھی صفر نمبر دیں  گے ۔  اور یہ بات تو  اظہر من الشمس  ہے کہ صفر نمبر  لینے والے کے  مقدر میں ڈنڈے  جوتے ہی ہوتے ہیں۔  قسمت کا لکھا سمجھ کے چپ چاپ کھا لیے ۔


بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل 


ایک دن  میں 16  پیریڈز ہوتے تھے ۔ اور  ہر پیریڈ  تقریباً  35 منٹ کا  ہوتا تھا ۔  اس لیے  کلاس  کی حاضری  اسمبلی  ہال  میں  ہی لگائی جاتی تھی ۔  جو اسمبلی  میں حاضر نہیں۔ وہ  چاہے سارادن کلاس میں بیٹھا  رہے  رجسٹر پر اس کی  غیر حاضری ہی لگائی  جائے گی ۔  دن میں دو بار حاضری ہوگی ۔  اور ایک  وقت  کی غیر حاضری  کا  جرمانہ  25  روپے  ،سزا  الگ سے ۔  یعنی کہ ایک دن کی غیر حاضری کی صورت میں چھترول  کے علاوہ  50 روپے  جرمانہ  بھی  ادا کرنا ہوگا۔ 
حاضری  لگانا اور  پھر اسے حاضری  رجسٹر  پر منتقل کرنا کلاس  مانیٹر  کی سرد ردی  ہوتی تھی ۔ اور  مزے  تو اس  کلاس  کے تھے  جس کا مانیٹر  جوگی تھا ۔   ا س کلاس میں جب سے جوگی  نے مانیٹر  کا عہدہ  سنبھالا  ادارے کو ایک  روپیہ  بھی جرمانے کی  مد میں وصول  نہ ہوا۔  ایسا بھی نہیں کہ طلباء حاضر باش  ہو گئے ۔ اسمبلی  میں  حاضری لگتی  ۔  اور جو بندے غیر حاضر  ہوتے ان  کا رول  نمبر پکارا ہی نہ جاتا۔  اور نہ ہی  یہ  غیر حاضری رجسٹر پر منتقل ہوتی ۔ البتہ  غیر حاضر  طالب  علم  سے مبلغ  25 روپے  وصول کر کے  ساری  کلاس  قلفیاں کھاتی تھی ۔    پورے  ادارے  میں صرف اسی کلاس میں ائیر فریشر سپرے  کیا جاتا تھا  جو کہ اسی  فنڈ  سے خریدا گیا تھا ۔  نیز  عمران سیریز  اور  فلمی  رسالے  میں اسی فنڈ سے خریدے جاتے تھے ۔


بلائے جاں ہے غالب  اس کی ہر  بات



جوگی  اور وسیم کی  جوڑی  بے مثال تھی ۔ جناب  محمد حنیف  صاحب  اکثر کسی بات کی مثال میں یہی کہا کرتے تھے۔  کہ  دیکھو ایک روح   فیصل آباد سے  آئی  دوسری  لودھراں سے  اور ان  کی  شکلیں اور جسامت  تو کیا  حرکات  و  افعال سے  بھی  لگتا ہے  کہ  جڑواں  ہیں۔ 
اس  جوڑی  کی کاہلی  اور  سستی   ضرب المثل کے درجے پر تھی ۔ ان دونوں  کو نہائے  ہوئے بعض اوقات  مہینوں  گزر جاتے  تھے ۔  پانی  سے  اتنا تو کوئی  سگ گزیدہ (ہائیڈرو  فوبیا کا مریض)  بھی نہ ڈرتا ہوگا  جتنا کہ  یہ اللہ کے بندے  ڈرتے  تھے ۔   نماز  پڑھنے کیلئے  وضو  ضروری  تھا  مگر  یہ دونوں فقہ  کی  بڑی بڑی کتابوں  میں اس لیے  سر کھپایا  کرتے  شاید  کسی  امام  کے  نزدیک  تیمم  کیلئے  آسان شرائط ہوں ۔
جب  بھی  کوئی نئے استاد  صاحب آتے  تھے ۔ تو  ان  سے اس  جوڑی کے  تعارفی  کلمات  میں ان کی  کاہلی  کا  ذکر  ضرور  کیا جاتا  تھا ۔  ایک  بار رشید  صاحب حسبِ معمول  اپنے  دورے پر  آئے  تو اپنے  ساتھ آئے   مولانا حبیب  صاحب  سے  مخاطب ہو کر  بولے :۔(پنجابی سے اردو ترجمہ) "حبیب صاحب!  یہ بڑے ڈھیلے  مولوی ہیں۔  نہ نہانے  کی ان  لوگوں  نے قسم  کھا رکھی  ہے ۔"حتیٰ کہ جناب رشید صاحب  نے ان دونوں کو  روزانہ  نہانے  کا حکم دیا ۔ اور اس  کی باقاعدہ  چیکنگ  بھی ہوتی تھی ۔ رشید صاحب روزانہ اپنے  ہوسٹل کے دورے پر  ان  سے ضرور نہانے  کی بابت نہ صرف پوچھا کرتے بلکہ  ان کے قریب آکر   سونگھا کرتے کہ واقعی نہائے ہیں یا نہیں۔خیر  جوگی اور وسیم نے اس کا بھی حل نکال لیا ۔  عشا  ء کی نماز کے  بعد  تبت ٹالکم  پاؤڈر چھڑک لیا کرتے ۔  اور کسی اعتراض  کی  صورت میں ان کا جواب ہوتا  کہ  خوشبو کاا ستعمال سنت ِ رسول ﷺ  ہے ۔    
نہ نہانے کے علاوہ  اس  جوڑی  کی  ایک  اور نمایا ں  خصوصیت  بے ہوشی  کی نیند تھی ۔  ایک منٹ  بھی  فراغت  کا نصیب  ہواتو  یہ   فوراً  اپنے  گھوڑے گدھے  اونے پونے  بیچ  کر نندیا پور  کے   سفر  پر چل پڑتے ۔  جیسے کہ  غالب  نے فرمایا  کہ  :۔
جب میکدہ چھٹا پھر جگہ  کی کیا  قید
مسجد ہو  ، خانقاہ ہو  ، مدرسہ ہو
بالکل  ایسے ہی  ان  کا  قول تھا  کہ  
جب  بستر  چھٹا  تو  جگہ کی  کیا قید 
مسجد ہو، کلاس  ہو  ،  یا  چبوترہ ہو
نصابی  کتب  ان دونوں  کے پاس مکمل  صرف پہلے  سال  دیکھی گئیں ۔ دوسرے  سال  یعنی جب سے یہ دوست ہوئے  پھر  کتاب نام کا کوئی نخچیر  ان کے فتراک  میں  نہ پایا گیا ۔  کتابیں  خریدنے  کیلئے  ملنے والا  بجٹ  عمران سیریز  کو پیارا ہو جاتا ۔  اور  کتابوں  کی کمی کلاس میں  لیکچرکو  غور سے  سن کر پورا کیا جاتا تھا۔  حتی ٰ کہ آٹھویں  میں نوبت بہ اینجا رسید  کہ  اس جوڑی  کے پاس رف کاپی  تک نہ تھی ۔  اس مقصد  کیلئے  دوسروں  کی  کاپیوں رجسڑز  کا  اجاڑا کیا جاتا ۔ کسی  چوں  چراں کی صورت میں اول تو  ایثار  اور بھائی  چارے  کی تقریر  سے کام چل جاتا تھا  ۔ لیکن اگر  کوئی مائی کا  لال  زیادہ  ہی تنگ آیا ہوتا  اور اس ترکیب سے رام نہ ہوتا تو  پھر  اسے  حاضری  اور  کسی اور  معاملے  میں رگڑا دینے  کی دھمکی  دی جاتی ۔
قارئین  کے دل میں یقیناً  خیال  آ رہا ہوگا  کہ  جب ان کے پاس کتاب تو کیا رف کاپی  تک نہ پائی  جاتی تھی  تو  امتحان کیسے  پاس  کرتے تھے ۔؟  اچھا سوال  ہے  مگر  اس کا جواب  اس سے بھی زیادہ  اچھا اور نہایت سادہ ہے ۔  اپنی  خداداد ذہانت  اور تھوڑی سی سیاست  کے  ذریعے  نہ صرف پاس  بلکہ  بہت  بہت اچھے  نمبروں سے پاس ہوتے تھے ۔ سیاست  یہ تھی کہ عین امتحان  کے قریب  اچانک  فلمی رسائل  وبا کی طرح ان کی کلاس میں  پھوٹ پڑتے  ۔  اور  اگر  کوئی  للچاتے  سر ورق، اور توبہ شکن  ، ترکِ زہد تصاویر سے  بھرے رسالے  سے  آنکھیں  سینکنے  کا   طلب گار  سر ِ نیاز  ان کے آستانے پر رگڑتا  تو دنیا کے  قدیم ترین  اقتصادی اصول  یعنی بارٹر سسٹم کے  تحت  اس کے بدلے اسے  اپنی کتابیں اور نوٹس  ان کے  حوالے  کرنے پڑتے ۔  البتہ  زاہدانِ خشک  کو  باقاعدہ  پیپسی  پلا کر  مفت  میں یہ رسالے بانٹےجاتے ۔  کتابیں  ہاتھ نہیں آتیں نہ آئیں، مگر  ہم سے زیادہ  نمبر  لے کر  کوئی  اچھا بچہ  کا خطاب  تو  نہ پائے۔

خدا شرمائے  ہاتھوں کو کہ رکھتے ہیں کشاکش میں


ایک دن میں سولہ  پیریڈز  کیا کم تھے  کہ ایک اور کا بھی اضافہ ہو گیا ۔ مگر  یہ  اضافہ  بہت  خوشگوار  ٹھہرا ۔ جب   جوگی  میاں  کا تعارف  کمپیوٹر سے ہوا ۔ 
یہ اس زمانے  کی  بات ہے جب پاکستان میں کمپیوٹر کا  نام  بھی  بہت  کم لوگوں نے سنا تھا ۔
اکادمی   کے طلبا  ء کیلئے گیارہ  کمپیوٹر فراہم کیے گئے ۔  ایم  ایس ڈاس ، اور ونڈوز 95  آپریٹنگ  سسٹم ہوا کرتے تھے ۔ جی ڈبلیو بیسک  پڑھائی  جاتی تھی لیکن  ہمیں پینٹ  میں اپنا نام  لکھ کر  پھر  ڈیسک ٹاپ پر  بطور  وال پیپر  سجا نا اور پھر  دیکھ دیکھ  کرخوش  ہوتے رہنا زیادہ  مزے  دار لگتا تھا ۔
آفس 97  میں  ایم ایس ورڈ میں بار بار اپنا نام  لکھنا  اور ایم ایس پاور  پوائنٹ میں سلائیڈز بنا کر  اپنے نام کے حروف کو ناچتے  ہوئے حرکت کرتے ہوئے دیکھنا  ۔   
پھر  معلوم ہوا کہ ایک  نئی ونڈوز آئی  ہے ۔ بے حد خوبصورت ہے ۔  اس میں  کمپیوٹر چلانے  کا مزہ ہی کچھ اور ہے ۔ اور  تو اور اس میں گیمز  بھی کھیل  سکتے ہیں  اور نعتیں وغیرہ  بھی  سن سکتے ہیں۔ ونڈوز 95  کا تو اب نام  سننا ہی برا لگتا تھا ۔ کمپیوٹر  کے باقی پنگے  تو ایک طرف رہے سچ تو یہ ہے کہ ونڈوز 98  انسٹال  ہونے کے بعد  کمپیوٹر کا سٹارٹ ہونا  بھی  بہت  اچھا لگتا تھا ۔پھر  نیڈ فار سپیڈ میں کاروں  کی ریس  اور وی  کوپ  میں  چوروں  کا پیچھا کرنا۔ مولویوں کی  تو دنیا  ہی رنگین ہو گئی ۔
اس طرح کمپیوٹر سے  جڑنے والا وہ   رشتہ    اب  تک قائم ہے۔            

کرم فرما