Pak Urdu Installer
Showing posts with label خاکے. Show all posts
Showing posts with label خاکے. Show all posts

Thursday, 19 November 2015

یارانِ نکتہ داں (8)

0 آرا

★★★ان کے دیکھے سے .....★★★

سانس کی آمدورفت بحال ہوئی تو بے اختیار جوگی کے منہ سے نکلا...
اک بندے کو دیکھا تو ایسا لگا
جیسے کالا گلاب
جیسے چڑیلوں کا خواب
جیسے چلتا جلاب
جیسے قبر کا عذاب
جیسے.......

فہد جوکہ ڈرائیونگ کے فرائض سرانجام دے رہا تھا جوگی پر نظر پڑتے ہی بائک کو ایڑ لگاتا قریب آن پہنچا. اسے دیکھ کر جوگی نے خدا کی قدرت پر حمد پڑھی کہ واہ میرے مولا, تیری تخلیق کے کیا کہنے.....جاپانی پہلوانوں جیسے جسم پر پاکستانی چہرہ عجب بہار دکھلا رہا تھا. جوگی نے موصوف کے ڈیل ڈول سے ہی اندازہ لگا لیا کہ آپ پاکستان میں سومو کُشتی کے فروغ کیلئے تن , تن اور تن سے کوشاں ہیں. ان سے گلے ملنے کے بعد جوگی نے اپنی تمام تر دلیری اور حوصلہ مجتمع کر کے پیسنجر سیٹ پر بیٹھے منکر نکیر کے ہمشکل سے بغلگیر ہو کر حسنِ اخلاق کی انتہا کر دی.

چاند سا چہرہ گرہن لگا ہوا. (بلیک ہول بنتے ہوئے) ستاروں جیسی چنی منی آنکھیں , جن پہ مسٹر جیدی مارکہ عینک چڑھی ہوئی. عینک میں دور بین کے شیشے الٹے لگے ہوئے تاکہ آنکھیں اتنی بھی چنی نظر نہ آئیں. چہرے پہ بکھرا وہ نور جو چراغ بجھنے کے بعد پھیل جاتا ہے. اس پہ مستزاد رُخِ مدھم سے جھلکتی یہ سادگی ..... اگر میر تقی میر دیکھتے تو سادہ ہونے والے دعوے سے دستبردار ہو جاتے, مرزا غالب کہ عارفِ زماں تھے پیشگی چند شعر دیوانِ غالب میں درج فرما گئے....

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا کہ بھینس کے گوبر کو ساگ سمجھ کر بصد شوق تناول فرما لیتے ہیں. عرصہ دراز تک اس غلط فہمی پر قائم رہے.... برسوں پاکٹ منی جمع کر کے سونا یوریا کی چند بوریاں خرید لائے اور پھر ان میں سے سونا ڈھونڈنے کی ناکام کوشش کے بعد کمشنر آفس کے سامنے دھرنا دیا. لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی.

ڈھٹائی ایسی کہ شیطان پناہ مانگے....نہایت فخر سے بتاتے ہیں کہ میں اللہ کی منفرد تخلیق ہوں وجہ پوچھی گئی تو جواباً دور کی کوڑی لائے کہ باقی سب انسانوں کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا جبکہ مجھے کاربن سے پیدا کیا ہے. اپنی چمک دمک برقرار رکھنے کو باقاعدگی سے چیری بلاسم لگاتے ہیں. بزبان خود روایت کرتے ہیں ایک بار آئینہ دیکھ کر تراہ نکل گیا تھا. تب سے کبھی آئینہ نہیں دیکھا

اس نابغے کی اپنے شہر میں عزت  چاہے دھیلے کی نہیں , لیکن ہالی ووڈ کی فلم "Planet of the Apes" میں ولن کے کردار کیلئے آپ کو ہی چنا گیا. لڑکپن میں آپ کو شاعری کا شوق پیدا ہوا. اور آپ نے اپنا تخلص سوزاک رکھا. درجن بھر مشاعروں میں انڈوں اور ٹماٹروں سے عزت افزائی کروانے کے بعد شاعری سے توبہ تائب ہو گئے. اپنی بیاض کو طلاق دے دی. البتہ تخلص ترک کرنے کی بجائے اس کے آخری دو حرف حذف کر ڈالے.
کہنا تو نہیں چاہیے لیکن کہے بنا چارہ بھی نہیں کہ موصوف اول درجہ کے چول ہیں. معدہ بھی ماشاءاللہ  لکڑ پتھر ہضم پایا ہے. دال سے لے کر دلئے تک اور چائے سے لے کر پائے تک سب کو اللہ توکل نبیڑ جاتے ہیں.

جوگی نے کہا :- حضرت منہ ہی دھو لیا ہوتا, فرمایا ریگ مال سے رگڑ رگڑ کر دھویا تھا. تاکہ دیکھ کر تمہارا تراہ نہ نکل جائے. جوگی کی حیرت دوچند ہوگئی:- سفید شرٹ , اور نیم سیاہ جینز پہننے , اور چیری بلاسم کی وڈی ڈبی تھوپنے کے بعد بھی روپ نہیں چڑھا یہ کیا چکر ہے؟
اطمینان سے گویا ہوئے
تھا زندگی میں ہی مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
اڑنے سے پیشتر , مرا رنگ زرد تھا

غالب کے شعر پہ جوگی وجد میں آنے ہی والا تھا کہ فہد چِلایا:- مجھے کام بتاؤ میں کیا کروں , میں کس کو کھاؤں...؟ شیراز ہنسا چل یار , کہیں یہ زکوٹا جن بھوک کے مارے ہمیں ہی نہ کھا جائے. شیراز کو اس دریدہ دہنی کی سزا دینے کیلئے فہد نے جوگی کو اشارہ کیا کہ اسے درمیان میں بٹھانا ہے. یہ جو ہم دونوں کو ریچھ ریچھ کہتا پھرتا ہے آج اس کو خبر ہونی چاہیے کہ دو ریچھوں میں سینڈوچ بننا کیا ہوتا ہے. شیراز نے بچنے کی بہت کوشش کی لیکن جوگی نے گھسیٹ ہی لیا.

دونوں کے سوار ہوتے ہی فہد میں نیل آرمسٹرانگ کی روح حلول کر گئی. اور اس نے بائک کو چاند گاڑی سمجھ کر راکٹ کی رفتار سے چاند کی طرف اڑانا شروع کر دیا.  دو چار سپیڈ بریکر نما پار کرنے کے بعد شیراز نے اسے یقین دلانے کی کوشش کی کہ ہم خلا میں نہیں زمین پر ہیں. فہد نے سنی ان سنی کرکے بائک اور شیراز کی چیخیں نکلوانا جاری رکھا. ایک سوال کے جواب میں موصوف نے اقرار کیا کہ اگر وہ انجینئر نہ ہوتے تو نیوخان کے ڈرائیور ہوتے.

گھر پہنچ کر بھی شیراز سے سکون سے نہ بیٹھا گیا تو موصوف کو اڑھائی ایکڑ پہ پھیلے باتھ روم کی راہ دکھائی گئی. اور حیرت انگیز طور پر وہاں سے واپسی کے بعد موصوف سکون سے تشریف فرما رہے. شیراز حسین سوزاک صاحب تو ہمیشہ سے بے تکلف ہیں. اور اجنبیوں سے بے تکلف ہونے میں بھی دیر نہیں کرتے. البتہ فہد شیخ شاید جوگی کے ادبی امیج کے زیر اثر کچھ دیر آپ جناب تک محدود رہے. دونوں بے تکلفان نے کہا بھی کہ...
ہم سے کھل جاؤ بوقتِ گورمے پرستی ایک دن
ورنہ ہم چھیڑیں گے , رکھ کے عذرِ مستی ایک دن

ان کے کھلنے تک شیراز حسین چوہان کا چور سوئچ دبا دیا گیا. موصوف ارنے بھینسے کی طرح ایک بار جو ڈکرانا (سوری) بولنا شروع ہوئے تو اپنی زندگی کے گوشے بے نقاب کرتے چلے گئے. ان کی روایت کے مطابق جہاں بھی گئے وہاں دھماکہ ہوا. سخی سرور (ڈیرہ غازیخاں) گیا تو لگاتار پانچ دھماکے ہوئے. دھماکے کی شدت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب مجھے محسوس ہوا کہ زندگی کا پیمانہ بس چھلکنے ہی والا ہے تو فوراً اس میں سے دو چار چُسکیاں لے کر  چھلکنے سے بچا لیا. ثبوت میں اپنا ٹوٹا ہوا دانت دکھایا. پھر ملتان جیسے امن امان والے شہر میں تاریخ کا پہلا بم دھماکہ وہاڑی چوک میں ہوا. درپردہ شاید وہ اپنی اہمیت جتلا رہے تھے لیکن حاضرین نے اس سے ان کی ڈھٹائی کا اندازہ لگایا کہ چھ دھماکوں سے بچ نکلنے والا پتہ نہیں اور کتنوں کی جان لے گا.

فہد نے شاید ریچھ والے مذاق کا برا منایا تھا یا چار مکئی کے سٹے پیٹ پناہی کر رہے تھے. موصوف کچھ بھی کھانے یا پینے سے کھنچے رہے.
ڈرنک آئی تو بولے میں سادہ پانی پیوں گا. فروٹ آئے تو موصوف نے صرف ایک کیلا اور سیب کی ایک دو قاشیں لیں. کھانا آیا تو شیراز کو سیلفی یاد آ گئی. بولے سیلفی تک خبردار کوئی کھانے کو ہاتھ بھی نہ لگائے, ورنہ مجھ سے بھی زیادہ میری زبان کالی ہے. اس دھمکی کے بعد بھلا کس میں ہمت تھی کہ پیش دستی کرتا....

حکمِ ظالم مرگِ مفاجات... یہ قافلہ سیلفی لینے نکلا. سرسوں کے کھیت کنارے , مورنگا (سہانجڑاں) کے درخت کے نیچے سیلفی بازی ہوئی. موصوف نے سیلفی کے دو اینگل یاد کر رکھے ہیں. ان میں بوتھا چاہے جیسا آئے یہ کوئی نیا زاویہ آزمانے کو تیار نہیں. جوگی کا جی چاہا کہ فوٹو گرافی کی مبادیات پر ایک وسیع و فصیح لیکچر جھاڑے, لیکن اس بے زبان کھانے کا کیا قصور تھا جو ٹھنڈا ہو رہا تھا. پانچ سات الٹے سیدھے فوٹوز پر واہ وا کرکے دوبارہ طعام گاہ کی طرف دھکیل لایا.

کھانے کے دوران فہد کو پھر تکلف نے آلیا. موصوف ایک پلیٹ میں ذرا سے چاول نکال کر شروع ہو گئے. نتیجتاً یہ خلا پُر کرنے کو جوگی مہاراج بنفس نفیس میدان میں کودے اور کشتوں کے پشتے لگادئیے. ازاں بعد خاصی دیر ہانپا کیے. جوگی کو دُکھ تو اس وقت ہوا جب دونوں نے پوچھا استاد خیر تو ہے؟ اب ان کو کیا بتاتا....
ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پہ رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ  بیمار کا حال اچھا ہے

غروب ہوتے سورج کو دیکھ کر فہد نے واپسی کا رولا ڈال دیا. جوگی نے اسے چپ کرایا کہ اس غزل کا مقطع ابھی باقی ہے. مقطع یعنی چائے حاضر ہوئی, سڑپ سڑپ کرتے ہی دونوں نے جوتوں کے تسمے باندھے اور واپسی کی راہ لی...

ختم شد

نوٹ:- بیماری کے اتارچڑھاؤ اورکچھ نازک مزاج قارئین کے واویلے کی وجہ سے موصوف کا تذکرہ ختم کیا گیا. ورنہ بقول غالب "چاہیے کچھ اور وسعت مرے بیاں کیلئے..."

فرہنگ:-
سومو :- سومو ریسلنگ جاپان کا قومی کھیل ہے. گوشت کے تھل تھل کرتے پہاڑ کو سومع پہلوان کہتے ہیں.

بلیک ہول:- کسی ستارے کی زندگی کے آخری عرصے کو بلیک ہول کہتے ہیں. اس حالت میں ستارے کے مرکز میں کششِ ثقل اس قدر زیادہ ہوجاتی ہے کہ روشنی بھی باہر نہیں آپاتی. اور پھر ایک سپرنووا (عظیم دھماکے) کے بعد بلیک ہول ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے.

مسٹر جیدی :- مشہور مزاحیہ شاعر اطہر شاہ خان جیدی , ان کی مخصوص فریم اور موٹے عدسوں والی عینک کا اشارہ تھا.

Friday, 26 June 2015

بابا میٹنگ والی سرکار (دامت برکاتہم العالیہ) پہلی قسط

0 آرا

ﺷﺎﻥِ ﻧﺰﻭﻝ ﻭ ﻋﺮﺽ ِ ﻣﺼﻨﻒ ‏( ﺗﻤﮩﯿﺪﯼ ﺑﯿﺎﻥ ﺑﺎﺯﯼ ‏)

ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﮔﻨﺎ ﺑﮍﯼ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﻟﻮﺩﮬﯽ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﮐﻮ ﺷﮑﺴﺖ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻇﮩﯿﺮ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﺎﺑﺮ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺟﺐ ﺭﺍﺟﭙﻮﺗﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻟﻮﭨﮯ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺷﮑﺴﺖ ﺧﻮﺭﺩﮦ ﺗﮭﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ۔ ﻭﮦ ﻣﻐﻞ ﺟﻮ ﺍﺯﺑﮏ ﺷﯿﺒﺎﻧﯽ ﺧﺎﻥ ، ﺍﺳﻤﻌﯿﻞ ﺻﻔﻮﯼ ﮐﮯ ﻗﺰﻟﺒﺎﺷﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﺎﺋﻠﯽ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﮯ ﺁﻓﺮﯾﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﻟﺰﺍﮎ ﭘﭩﮭﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﻭ ﺑﺪﻭ ﻟﮍﮮ ، ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﻟﻮﺩﮬﯽ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮭﺎ ﺩﯾﺎ ۔ ﻭﮦ ﺭﺍﻧﺎ ﺳﺎﻧﮕﺎ ﮐﮯ ﺭﺍﺟﭙﻮﺕ ﻟﺸﮑﺮ ﺳﮯ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﺗﮭﮯ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺑﺎﺑﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﻗﺪﯾﻢ ﺭﻓﯿﻖ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﮐﻼﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﺑﺮ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﭘﺎﺅ ﻗﺴﻢ ﮐﺎﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﺎﺑﺮﺗﻮ ﺑﺎﺑﺎﺑﺮ ﺗﮭﺎ ﻟﮍﻧﮯ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﺑﺎﺑﺮ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﺎﺭ ﮐﺎ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﯾﻘﯿﻦ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺳﻨﺪ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻗﺖِ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮐﺎﻡ ﺁﺋﯿﮟ ۔ ﺍﺱ ﭘﮧ ﻣﺴﺘﺰﺍﺩ ﺍﯾﮏ ﻧﺠﻮﻣﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﺁﻥ ﭨﭙﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﯿﺶ ﮔﻮﺋﯽ ﮐﺮﺩﯼ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺁﭨﮫ ﻧﺤﺲ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺍﮐﭩﮭﮯ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﺎﺑﺮ ﮐﯽ ﮨﺎﺭ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺑﺎﺑﺮ ﮐﻮ ﺭﺍﺟﭙﻮﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺟﻨﮓ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﭼﮭﮍﺍﻟﯿﻨﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ﺩﮬﻦ ﮐﺎ ﭘﮑﺎ ﺑﺎﺑﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻧﮧ ﮨﭩﺎ ۔ ﺟﻨﮓ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺑﺮ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻓﺎﺗﺤﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﻣﻦ ﮐﮧ ﻣﺴﻤﯽ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻏﺎﻟﺐ ﺟﺲ ﮐﯽ ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺑﺮ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﮯ ، ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻣﺤﺘﺮﻡ ِ ﮐﮯ ﻓﺮﻣﺎﻥِ ﻋﺎﻟﯿﺸﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﻮﮔﯿﺎﻧﮧ ﻧﺼﺐ ﺍﻟﻌﯿﻦ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻟﮑﮭﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﺟﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﮑﺎﯾﺎﺕ ِ ﺧﻮﻧﭽﮑﺎﮞ
ﮨﺮ ﭼﻨﺪ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻗﻠﻢ ﮨﻮﺋﮯ
ﯾﮧ ﺳﯿﻒ ﺍﻟﻤﻠﻮﮎ ﮐﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮨﮯ ، ﻧﮧ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥِ ﺍﻣﯿﺮ ﺣﻤﺰﮦ ، ﯾﮧ ﻭﮦ ﺣﮑﺎﯾﺖ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺷﯿﺦ ﺳﻌﺪﯼ ﻧﮯ ﻧﻘﺺِ ﺍﻣﻦ ﮐﮯ ﺧﺪﺷﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﮔﻠﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﻟﮑﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﺒﺎﺩﺍ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﺩﯾﻨﮯ ﭘﮍ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﮐﺎ ﻗﺼﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﭼﮭﭩﮯ ﺭﺍﺟﭙﻮﺕ ﮐﺎ ﮐﭽﺎ ﭼﭩﮭﺎ ﮨﮯ ۔ ﺑﮯ ﺷﮏ ﯾﮧ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺻﺮﻑ ﺫﮨﻨﯽ ﺑﺎﻟﻐﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮨﮯ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺑﮯ ﺫﻭﻕ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺭ ﺫﻭﻕ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺍﺳﮯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﻧﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ۔


ﭘﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﻧﺴﯽ ﺩﻓﻌﮧ ﺷﺎﯾﺪ 302 ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺴﯽ ﮐﮯ ﭘﯿﺪﺍﺋﺸﯽ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﭽﮧ ﻧﻤﺎ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ۔ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺕ ﺗﻮ ﮨﻮﺋﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺩﻝ ﻭ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔ﺗﺎﮨﻢ ﺍﺱ ﺿﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮔﻮﻧﮕﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﻮﻣﻮﻟﻮﺩ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﯿﻨﮕﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﺮﯾﺎ ﮐﺮﻡ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺍ۔ﺍﻟﺒﺘﮧ ﯾﺎﺩِ ﺭﻓﺘﮕﺎﮞ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﮧ ﻧﺎﻡ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺗﺎﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻏﯿﺮ ﺭﺳﻤﯽ ﺳﻨﺪ ﺭﮨﮯ۔ ﻓﺪﻭﯼ ﮐﺎ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﮨﮯ " ﮔﺪﮬﮯ ﮐﮯ ﺳﺮ ﺳﯿﻨﮓ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮﻧﺎ " ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺤﺎﻭﺭﮮ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺗﺴﻤﯿﮧ ﭘﺮ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﺤﺎﻭﺭﮮ ﮐﺎ ﺳﻦِ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﯾﺪ ﻭﮨﯽ ﻧﮑﻠﮯ ﮔﺎ۔ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻣﺬﺍﻕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺳﻮﭼﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﺁﺩﻣﯽ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻗﻠﻤﮑﺎﺭ ﻗﻠﻢ ﺑﺎﺯﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﭘﮭﺮﯾﮟ ﮔﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ِ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﯾﺎ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺯﺣﻤﺖ ﻧﮧ ﮐﯽ ۔ ﻣﻮﺻﻮﻑ ﻧﮯﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﺩﻝ ﭘﺮﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ " ﺑﮍﺍ ﺁﺩﻣﯽ " ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﭨﮭﺎﻥ ﻟﯽ۔ ﮐﭽﮫ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻟﮕﺎﺗﺎﺭ ﮐﻮﺷﺸﯿﮟ ﺟﺐ ﺭﺍﺋﯿﮕﺎﮞ ﮔﺌﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﻮﺻﻮﻑ ﻧﮯ " ﻭﺍﻣﺎﻧﺪﮔﯽ ﺷﻮﻕ ﺗﺮﺍﺷﮯ ﮨﮯ ﭘﻨﺎﮨﯿﮟ " ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻠﯿﮯ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﮐﺎﻏﺬﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﻦِ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﺩﺭﺝ ﮐﺮﻭﺍ ﮐﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺑﮩﻼﻧﮯ ﮐﻮ ﻏﺎﻟﺐ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ ۔
ﺍﭘﻨﯽ ﺧﺪﺍﺩﺍ ﺩ ﻋﺼﺮﯼ ﺣﺴﯿﺖ ﮐﻮ ﮐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻻ ﮐﺮ ﺑﮍﮮ ﺭﺍﻧﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺳﻮ ﭘﺸﺖ ﺳﮯ ﭼﻠﮯ ﺁﺭﮨﮯ ﭘﯿﺸﮧﺀِ ﺁﺑﺎ ﯾﻌﻨﯽ ﺳﭙﮧ ﮔﺮﯼ ﮐﻮ ﺧﯿﺮﺑﺎﺩ ﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﻏﺎﻟﺐ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﻋﺰﺕ ِﻧﮧ ﮔﺮﺩﺍﻧﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺎﺷﺖ ﮐﺎﺭﯼ ﮐﻮ ﺷﺮﻑ ﺑﺨﺸﺎﺗﮭﺎ۔ﺗﺎﺁﻧﮑﮧ ﺟﺐ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﺩﺳﺖ ﺑﺪﺳﺖ ﻣﻮﺻﻮﻑ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﯽ ۔ ﻏﺎﻟﺐ ﺍﻣﮑﺎﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺁﻟﺴﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺳﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺳﮑﻮﻝ ﺟﺎﻧﺎ ﮔﻮﺍﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﻣﺒﺎﺩﺍ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﺎﺷﺖ ﮐﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﮐﻮﮦِ ﮔﺮﺍﮞ ﮐﮭﻮﺩﻧﺎ ﭘﮍﮮ ۔ ﭼﻨﺪ ﺣﺎﺳﺪﯾﻦ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﻠﯽٰ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﮑﺘﺐ ﻭﺍﻟﯽ ﻭﺍﺭﺩﺍﺕ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻢ ﮨﻮﻧﺎ ﮔﻮﺍﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺩﮨﺮﺍﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﮈ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻟﯿﻠﯽٰ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﻠﯽ ‏( ﻟﮯ + ﻟﯽ ‏) ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﻣﻠﯽ۔ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﻣﻨﮧ ﻟﭩﮑﺎﺋﮯﻟﭩﮑﺎﺋﮯ ﭘﮭﺮﮮ ۔۔۔
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﭨﻮﺍﭨﯽ ﮐﮭﭩﻮﺍﭨﯽ ﻟﯿﮯ ﻏﻮﺭ ﻭ ﻓﮑﺮ ﮐﮯ ﺟﻮﮨﮍ ﻣﯿﮟ ﺁﻟﺴﯽ ﺑﮭﯿﻨﺲ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮔﻮﮈﮮ ﮔﻮﮈﮮ ﮈﻭﺑﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺯﯾﺮ ِﻏﻮﺭ ﻣﺴﺌﻠﮧ " ﻭﺟﻮﮨﺎﺕِ ﻋﺪﻡ ﺩﺳﺘﯿﺎﺑﯽ ﻟﯿﻠﯽٰ " ﺗﮭﺎ۔ﺍﻭﺭﺑﻘﻮﻝ ﺷﺎﻋﺮ " ﺍﺩﮬﺮ ﮈﻭﺑﮯ ، ﺍﺩﮬﺮ ﻧﮑﻠﮯ " ﻭﺍﻻ ﺣﺎﻝ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﮈﺑﮑﯽ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﺱ ﻧﺘﯿﺠﮯ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﮐﮧ ﺁﺝ ﮐﻞ ﮐﯿﺪﻭ ﻭﺍﻻﮐﺮﺩﺍﺭ ﺿﯿﺎﺀﺍﻟﺤﻖ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺭﺍﺟﭙﻮﺕ ﺧﻮﻥ ﺗﮭﺎ ، ﮐﮭﻮﻝ ﺍﭨﮭﺎ۔ ﭘﺲ ﺍﺱ ﺩﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭨﮭﺘﮯ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﺻﺪﺭ ﮐﻮ ﺑﺪﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔ ﺧﻔﯿﮧ ﺍﯾﺠﻨﺴﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻃﻼﻉ ﺻﺪﺭ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯼ ۔ ﺻﺪﺭ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻣﺠﺬﻭﺏ ﮐﯽ ﺑﮍ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﭼﭩﮑﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺍﮌﺍ ﺩﯾﺎ ، ﺍﺱ ﺿﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺳﺐ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﺩﺭﺟﮧ ﺿﻌﯿﻒ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﺑﮯ ﻣﺤﺾ ﺍﻭﺭ ﻃﻮﺍﻟﺖ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺣﻘﺎﺋﻖ ﺻﺮﻑ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺻﺪﺭ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﺩﻭﺭﮮ ﮐﮯ ﺑﮩﺎﻧﮯ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺭﺍﺟﭙﻮﺕ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺳﻠﺠﮭﺎﻧﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ،ﺍﺩﮬﺮﭼﮭﻮﭨﮯ ﺭﺍﺟﭙﻮﺕ ﮐﯽ ﭼﮭﭩﯽ ﺣﺲ ﻧﮯ ﭼﻐﻠﯽ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ ۔ ﺍﻧﺘﻘﺎﻣﯽ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﻣﻐﻠﻮﺏ ﺍﻟﻐﻀﺐ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺭﺍﺟﭙﻮﺕ ﻧﮯ ﺁﺅ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻧﮧ ﺗﺎﺅ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻭﻟﯿﺎ ﺀ ﻭﺍﻻ ﻣﻨﺘﺮ ‏( ﮨﻨﻮﺯ ﺑﮩﺎﻭﻟﭙﻮﺭ ﺩﻭﺭ ﺍﺳﺖ ‏) ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺻﺪﺍﺭﺗﯽ ﺟﮩﺎﺯ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺁﮒ ﺁﮒ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺳﺘﻠﺞ ﮐﺎ ﮐﻨﺎﺭﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮﭘﺎﺋﻠﭧ ﮐﻮ ﺧﯿﺎﻝ ﺳﻮﺟﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﮩﺎﺯ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮈﺑﮑﯽ ﻟﮕﻮﺍﺋﯽ ﺟﺎﺋﮯ ۔ ﻣﮕﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﺗﻮ ﺳﻨﺪﮪ ﻃﺎﺱ ﻣﻌﺎﮨﺪﮮ ﮐﯽ ﺑﮭﯿﻨﭧ ﭼﮍﮪ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﺲ ﺭﯾﺖ ﮐﮯ ﻓﺮﺵ ﭘﮧ ﮔﺮﺗﮯ ﮨﯽ ﺍﻧﺎﻟﻠﮧ ﻭﺍﻧﺎ ﺍﻟﯿﮧ ﺭﺍﺟﻌﻮﻥ ۔ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻋﺠﯿﺐ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺩﻓﻦ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺩﻭ ﮔﺰ ﺯﻣﯿﻦ ﻧﮧ ﻣﻞ ﺳﮑﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮐﻮ ﭼﻠﻮ ﺑﮭﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮧ ﻣﻞ ﺳﮑﺎ۔
ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺑﺪﻟﯽ ﺍﻭﺭﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺭﺍﺟﭙﻮﺕ ﮐﻮ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﻭﻻﯾﺖ ﺳﮯ ﭘﮍﮪ ﮐﮯ ﺁﺋﯽ ﮨﯿﮟ ، ﻣﺨﻠﻮﻁ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﻭﺍﻻ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﺍﺏ ﺑﻨﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺑﻨﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ " ﺧﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﮐﮯ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﻣﻮﭨﮯ " ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺠﻮﺭﯾﺎﮞ ﺑﮭﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﺮﮮ ﻣﺤﻞ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﮯ ﭼﺎﺅ ﭼﻮﻧﭽﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺭﮨﮯ ۔ ﻇﺎﮨﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻏﻼﻡ ﺍﺳﺤٰﻖ ﺧﺎﻥ ﺳﺒﺐ ﺑﻨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﮏ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﯿﭙﻠﺰ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﺎ ﺑﻮﺭﯾﺎ ﺑﺴﺘﺮ ﮔﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺭﺍﺟﭙﻮﺕ ﮐﯽ ﺑﺪﻋﺎ ﮐﺎﺭﻓﺮﻣﺎ ﺗﮭﯽ۔ ﺗﯿﺮ ﮔﯿﺎ ،ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺁﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ " ﺍﺣﺒﺎﺏ ﭼﺎﺭﮦ ﺳﺎﺯﯼ ﻭﺣﺸﺖ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ " ﻧﺘﯿﺠﮧ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ۔۔۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺩﻭ ﺳﺎﻝ ﺍﮌﮬﺎﺋﯽ ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺣﮑﻮﻣﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺁﻧﺎ ﺟﺎﻧﺎ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺭﺍﻧﺎ ﺟﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﺘﺐ ﺳﮯ ﭘﺮﺍﺋﻤﺮﯼ ﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﻢ ﮐﯽ ﻣﻨﺰﻟﻮﮞ ﭘﮧ ﻣﻨﺰﻟﯿﮟ ﻣﺎﺭﺗﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﺿﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﺁﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ، ﺍﻧﺪﺭﻭﻧﯽ ﺳﺒﺐ ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﺗﺶ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﺍﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﮔﺎﻣﺰﻥ ﺗﮭﺎ۔
ﮔﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ ﺭﮨﯿﻦِ ﺳﺘﻢ ﮨﺎﺋﮯ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ
ﻟﯿﮑﻦ ﺗﯿﺮﮮ ﺧﯿﺎﻝ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ

(جاری ہے)

Monday, 26 May 2014

ایک تھے مرزا جی۔۔۔۔۔۔

10 آرا
بندہ جائے  تو جائے کہاں ۔۔۔۔؟؟؟؟
ذرا سی وضاحت سے لکھ دوں  تو  یار لوگ کہتے ہیں  :۔ "اپنی معلومات  کا رعب جھاڑ رہا ہے دیکھو۔"  اجمالی اجمالی  لکھوں توکچھ  دل جلے کہتے ہیں:۔"اردو کی ایک کتاب کیا  پڑھ لی خود کو  علامہ ہی  سمجھنے لگے ہیں"۔ 
مثال کے طور پر  اگر میں کہوں کہ :۔ "ایک  تھے  مرزا جی۔۔۔۔" تو کسے سمجھ آئی ؟؟؟  کون تھے مرزا جی۔۔۔؟
دیکھئے  ذرا جتنے منہ  اتنی باتیں۔۔۔۔۔
ایک یہ صاحب ہیں۔۔۔بے شک الف بے  بھی  پوری نہیں آتی لیکن اپنے تئیں  غالبیات  کا ماما  اور  خلیفہ مجاز  سمجھتے  ہیں۔ دیوان  غالب کو ان سے  اجازت لیے بغیر  پڑھ لیا جائے تو  مکروہ تحریمی  اور بعض صورتوں  میں گناہ کبیرہ  بھی ہوتا ہے۔  اس  پس منظر میں کوئی شک نہیں رہ جاتا  کہ  جیسے  ساون کے اندھے کو ہرا  ہی  سوجھتا ہے  اور  صحرا  میں پیاسے کو  ریت پہ بحرالکاہل  دکھائی دیتا ہے ۔ ویسے  ہی ان  کے نزدیک پوری دنیا میں لفظ  مرزا  سے مراد صرف اور صرف  مرزا اسد اللہ  خان غالب  ہی  ہوتے ہیں۔
اور  یہ جن  صاحب نے مرزا جی  سن کرنہ صرف منہ بنالیا بلکہ کچھ بڑبڑا بھی رہے ہیں۔حیران نہ ہوں  بلاوجہ منہ نہیں  بنایا ۔  اور پریشان بھی  نہ  ہوں کہ شاید  کوئی جنتر منتر  پڑھ رہے ہیں۔ دراصل "لاحول" کا ورد جاری ہے۔ حیرت ہے کہ  ان کی نمائشی  داڑھی  اور  ماتھے  پہ داغ سجدہ  دیکھ کربھی آپ کو وجہ سمجھ نہ آئی۔ان کے نزدیک  مرزا سے مراد  صرف  مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔
یہ چشمش  سے حضرت  تاریخ کے کیڑے ہیں ، لہذا مرزا سے مراد مرزا فخرو ہیں۔
یہ جو پڑھاکو سے  ادبی صاحب کے  چہرے پہ  مرزا جی سنتے ہی  مسکراہٹ دوڑ گئی ہے۔ میرے ہونق پن پہ نہیں  بلکہ  کسی اور وجہ سے مسکرا رہے ہیں۔ ہو نہ ہو  انہیں کرشن چندر کا دودھیا افسانہ "مرزا کُپی"  یاد آ گیا ہے ۔ ورنہ  بقول غالب :۔سبب کیا تبسم ہائے پنہاں کا۔۔۔۔؟
ارے نہیں نہیں نہیں۔۔۔۔ان صاحب سے پوچھنے کی زحمت نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔ یہ حضرت تو  نام کے ہی نہیں ذات کے بھی عاشق  ہیں،  مرزا جی سے مراد  اپنے 
پیرو مرشد  سائیں مرزا جٹ المعروف  تیر کمان والی سرکار  ہی مراد لیں گے۔


کر لی نہ تسلی۔۔۔۔؟؟؟ ہو گیا اطمینان۔۔۔؟؟؟


میری  بے چارگی کا  تھوڑا بہت  اندازہ تو ہو ہی گیا ہوگا کہ وضاحت کے بغیر  کوئی چارہ  نہیں فدوی  کے پاس ۔ حتیٰ  کہ بھائی چارہ بھی نہیں۔۔۔۔۔

جس طرح   ہیں اور بھی دنیا میں  سخن  ور بہت اچھے ، اسی طرح مذکورہ بالا تمام مرزاؤں کے  علاوہ  بھی  دنیا میں ایک قابل ذکرمرزا  پائے  جاتے ہیں۔  جلد باز حضرات پچھلا جملہ دوبارہ غور سے  پڑھیں ۔  قابل ذکر لکھا ہے  قابل فخر نہیں  ۔بعض زیادہ پڑھے لکھے شاید قابل ذکر سے  انہیں قابلی  چنے یا قابلی ڈیموں(بھڑ) قبیل کی  کوئی قابلی  چیز سمجھ لیں ، بروقت  یہ غلط فہمی بھی دور کر دوں تو بہتر رہے گا۔
مرزانہ صرف  ضعیف الاعتقاد ہیں بلکہ  سریع العناد  بھی  واقع  ہوئے ہیں۔  بے شک  سو فیصدی  مرزا  ہیں  لیکن  مزاج   شریف   امرتسر  والوں  کا  ساہے۔ کسی بات پہ  اڑ گئے  توپھر بے شک زمین  جنبد  مگر مجال ہے  جو گل محمد  بھی جنبش پذیر ہو۔۔۔
جنبش سے یاد آیا ایک  بار  قضائے  الٰہی سے انہوں  نے  غزل سن لی ۔  "زحال مستی مکن برنجش" بس پھر کیا تھا  "برنجش" کو "بجنبش" سمجھ بیٹھے ۔  سادہ دل آدمی تھے فوراً ایمان  لے آئے ۔  بہتیرا سمجھایا  کہ  آگے بھی  کچھ غزل ہے ۔ فریفتہ  لہجے میں بولے :۔ "ہونہہ جانے  دو میاں ! بھلا  گنوار  جوگی کیا جانے  ٹھرک  و  عاشقی  کی رمزیں۔ جب ایک جوان جہان  خوش آواز حسینہ  کہہ رہی ہے کہ "زحال مستی مکن  بجنبش" تو پھر کوئی پتھر دل  ،کور ذوق  ہی ہوگا  جو حکم نہ بجا لائے گا۔
ماتھا پیٹنے  کی شدید ترین  خواہش کو   ملتوی  کر کے  میں نےتفصیل  سے سمجھانے  کیلئے منہ کھولا تو  ہاتھ اٹھا کر  حتی الوسع  گرجدار  آواز میں بولے :۔"بس ایک بار کہہ دیا  سو کہہ دیا ۔  مزید کان کھانے  کی کوشش کی  تو  میری دوسری سوئی  بھی اٹک جائے گی۔"میں  نے  مجذوب کی بڑ سمجھ کر  فوراً  دوسرے کان سے اڑائی  اور جونہی منہ کھولا، تو  موصوف کی دوسری  اور تیسری سوئی  یکبارگی  اٹک گئیں ۔ ایک بار پھر دھاڑے :۔ نہیں باز  آئے نہ ۔ اب بھگتو۔ "مکن بجنبش" تو  پھر بھی کچھ دور ہے  ۔ اب میں "زحال"سے آگے  نہیں بڑھنے کا۔کر لو جو کرنا ہے۔"اور  بقول اکبر الٰہ  آبادی :۔  کر ہی کیا  سکتا تھا بندہ کھانس  لینے کے سوا۔۔۔۔
صرف اسی پر  بس نہیں فوراً اخبارات میں   اور انٹرنیٹ پر  ہر جگہ  اشتہار دے دیا کہ "والدین کی  غلط فہمی کی وجہ سے  میرا نام زبیر مرزا  ہو گیا تھا۔لیکن اب ایک خوش آواز  حسینہ کی مستند حوالوں سے دی گئی گواہی سے ثابت ہوا  کہ ہمارے لیے موزوں ترین نام  "زحال مرزا" ہے  ۔ آئندہ  مجھے اس نام سے لکھا اور پکارا جائے ۔ البتہ  ریکارڈ میں تااشتہارِ ثانی  درستگی مت کی جائے ۔"(اس پخ  کی خاکسار  کے  نیرنگ خیال  میں یہ وجہ ہو سکتی ہے  کہ کیا معلوم  کب  ان کی اٹکی سوئی  چل پڑے  اور بدھو کا  واپس گھر لوٹنے  کا پروگرام بن جائے  تو  ریکارڈ کا سہارا لیا جا سکے ۔)میں تو ٹھہرا  بونگا  سا بندہ مگر جب  چھوٹے غالب  نے مذکورہ اشتہار پڑھا تو ہنس ہنس کر دہرا ہو گیا۔ وجہ پوچھنے پر معلوم ہوا  کہ "زحال مرزا" کا  مطلب ہوا   "مرزا حال سے ہیں" کیا ہی اچھا ہوتا  اگر  مرزا اپنانام  "زامید مرزا"(مرزاامید سے ہیں) رکھتے ۔تو ہم بھی  جینیاتی سائنس  اور  ڈارون  چاچو کو  ٹھینگا دکھا سکتے ۔ "میں  نے لاحول  ولا  تو بہت پڑھا  پھر بھی  بے اختیار  امڈنے  والی ہنسی پر  قابو نہ پا سکا۔
مرزا  بھی کیا  سادہ ہیں، جس کے سبب  زحال ہوئے
اسی  لتاں  منگیشگر  کی  غزلیں اب بھی  سنا کرتے ہیں
پہلی  بار  ان کی تصویر دیکھ کر  نون بھڑک گیا:۔  جھوٹ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے یار۔  رہتے  صومالیہ میں ہیں اور رعب ڈالنے  کو مشہور کر رکھا ہے  کہ امریکہ  میں رہتا ہوں۔"
رقیق  الصحت تو ہیں مگر اتنے بھی نہیں کہ  انہیں سنگل پسلی    سمجھا جائے ۔  البتہ اس بارے چھوٹا  غالب کا شہرت یافتہ قول ہے  کہ:۔ "لوگ عقل سے پیدل ہوتے ہیں اور مرزا  صحت  سے پیدل ہیں۔" ۔۔۔۔ "بعض لوگوں کی  واجبی صحت  ہوتی ہے جبکہ مرزا  کی  فرضی صحت ہے۔"مرزا جی  نے یہ سنا تو متانت سے  تبسم  فرمایا اور بولے :۔"حاسدین  میری  سمارٹنیس  سے  جلتے ہیں۔ میں  بھلا کوئی  ذوالقرنین ہوں  کہ منوں  کے حساب  سے  چربی  اٹھائے  پھروں ۔ ویسے  بھی میں نے کونسا جاپان  جا کر  سو مو کشتی کی چیمپئن  شپ جیتنی  ہے۔ " مرزا جی  کہ اس حکمت بھری بات  سے جہاں خاکسار  کی غلط فہمی دور ہوئی  وہیں ذوالقرنین  کے مستقبل  میں پہلوانہ  ارادوں  سے  بھی آگاہی ہوئی۔

اخلاق   توان میں  کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے،کیا  دوست  کیا حاسد سبھی  ان کے حسن اخلاق  کے معترف ہیں لیکن  اس اعتراض کے ساتھ کہ مرزا  اس  معاملے میں  مساوات  کے قائل  نہیں ۔  ایسا لگتا ہے  کہ حسنِ  اخلاق  کے جملہ حقوق صنف نازک  کیلئے محفوظ ہیں۔ جب مرزا جی توجہ اس صنفی دھاندلی  کی جانب  دلائی گئی اور  اخلاقی عدم توازن  پر  انہیں  خوف خدا دلانے  کی  کوشش کی  گئی ۔  تو مرزا  جی نے یکسر تما م  الزامات کو مستند قرار  یا اور تاسف سے بولے :۔ "ارے میاں کیا  ہر بات پہ کائیں کائیں  شروع کر دیتے ہو۔ کسی   کج فہم  عقل کے اندھے  کو اتنی دور کی سوجھی اور تم حساب لینے آگئے ۔ہمارا  حسنِ اخلاق  سب کیلئے  یکساں ہے  البتہ  صنف وجاہت  کو اس سہولت سے  مستفید  ہونے کیلئے ٹوکن لینا پڑتا ہے۔"

 حاتم طائی کی کہانیوں  سے متاثر  ہو کر  لوگوں کو چائے  پہ مدعو  کرنے لگے، اور حاسدین کو غش پہ غش  آنے لگےکہ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے۔شر پسند ہومز اور جیمز باندرجیسے نامی گرامی  جاسوس ان کی ٹوہ بازی  پر مقرر  کیے گئے ۔کچھ عرصہ کی تاک جھانک اور  کن سوئیوں  سے  معلوم ہوا  کہ چائے  کا نام تو بس لوگوں کو  گھیرنے  کیلئے  استعمال  کیا گیا ہے ۔  لوگوں  کو چائے  کے نام پہ مدعو  کر لیتے ہیں  اور  پھر مجال ہے  جو کسی کو ایک  چسکی  بھی لینے دیں ۔  باتوں میں لگا کر  چائے  خود ہی پی جاتے ہیں۔ میرے دل میں خیال آیا  چلو پھر ہم  معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں۔ چہرے پہ شرافت کے تمام تر لوازمات  طلوع کیے فدوی نے بھی  درخواست کی کہ  کبھی تو  ہمیں بھی دعوت نامہ  دیا جائے ۔  گھاگ آدمی تھے فوراً تاڑ گئے  کہ "مدعا کیا  ہے" ارشاد  ہوا:۔" نہ میاں  تم بھاری  پڑو گے ہم  پر " تجاہل عارفانہ   سے میں نے  اس ارشاد کا شان نزول پوچھا تو جواب میں  ایک لطیفہ سنا دیا:۔
ایک شہر میں ایک  درزی سلائی کیلئے آئے ہوئے  کپڑے میں سے  کچھ کپڑا چوری کر نے کے حوالے سے  مشہور  تھا۔ایک  کوتوال صاحب  نے جو اس کی مشہوری سنی  کہ  اپنے فن میں اس قدر طاق  ہے کہ  چاہےبندہ  سامنے بیٹھ کر کٹائی  سلائی کروائے  پھر بھی  اسے کپڑا چراتے نہیں پکڑ سکتا۔ کوتوال صاحب  شیخی  میں آ گئے اور  دعویٰ کیا کہ میں دیکھتا ہوں کہ کیسے میرے سامنے     کپڑا  چراتا ہے۔  کوتوال صاحب  کپڑا  لے کر اس درزی کی دکان پہ جا پہنچے  اور  کہا  کہ شیروانی سلوانی ہے ۔  مگر ہم نے سنا ہے کہ  تم کپڑا  کاٹ لیتے  ہو،  اس لیے ہم اپنے سامنے  ہی کٹائی سلائی کروائیں گے۔  درزی نے  کہا  جیسے جناب  کی مرضی ۔ اور  اس کے سامنے ہی   ناپ کے مطابق  کٹائی شروع  کر دی۔  کچھ دیر بعد بولا  وقت گزاری کیلئے  کیوں نہ گپ شپ ہی کرتے رہیں ۔ کوتوال صاحب  نے خوشی  سے اجازت دے دی۔  درزی نے  ایک لطیفہ سنا دیا اور کوتوال صاحب  قہقہہ  لگا کر ہنس پڑے ۔ اسی  دوران  درزی نے عادت کے مطابق  کپڑے کا ایک  بڑا  سا ٹکڑا  کاٹ کر  گھٹنے  کے نیچے چھپا لیا۔  تھوڑی دیر  بعد کوتوال صاحب نے کہا میاں کوئی اور لطیفہ سناؤ۔ درزی نے لطیفہ سنایا اور جونہی  کوتوال صاحب ہنسے  درزی نے  ایک  اور ٹکڑا  بھی کاٹ لیا۔  کوتوال  صاحب کو مزہ آ گیا انہوں نے ایک اور لطیفے کی فرمائش کی  تو درزی نے  کہا:۔ "جناب مجھے  تو لطیفہ سنانے میں کوئی اعتراض نہیں  البتہ  ایک اور لطیفہ سننے  کے بعد  آپ کی  شیروانی  کیلئے کپڑا کم پڑ جائے گا۔"اس  کے  بعد  فرمایا۔اگر ہم نے تمہیں چائے پہ مدعو  کرلیا تو  بجائے اس کے ہم تمہیں باتوں میں الجھائیں  تم ہمیں کوئی  لطیفہ  سنا کر   چائے پہ ہاتھ صاف کر جاؤ  گے۔  تم  سے  تو بڑے  بڑے  پناہ مانگتے  ہیں۔" اگرچہ   بات خلاف مفاد تھی لیکن   چونکہ اپنی  تعریف میں تھی  اس    وجہ سے  خاکسار نے قطعاًبرا  نہ منایا۔

ڈراپ سین  کے طور پر  مناسب ہے  کہ فدوی  بچپن  کی یادوں میں  سے ایک  نظم سنا دے ۔ سمجھدار لوگوں کیلئے اشارہ ہی کافی  ہوتا ہے ۔  باقی  ماندہ  کیلئے  اللہ ہی  کافی ہے۔۔۔۔
بلبل  کا بچہ
کھاتا تھا  کھچڑی 
پیتا تھا چائے
میرے سرہانے
اک دن اکیلا
بیٹھا ہوا تھا
میں نے  اڑایا
واپس نہ آیا
مغل کابچہ
مغل کا بچہ

Friday, 31 January 2014

یارانِ نکتہ داں (قسط ششم) زبیر حسین

3 آرا
میری  دوستوں  والی  تسبیح  کے   چھٹے   موتی کو زبیر حسین کہتے ہیں جبکہ  یہ خود کو زندگی  سمجھتے ہیں۔الامارات ائیر لائن میں انجینئر  ہیں  ۔ انٹر  نیٹ  پر  ایک ویب سائٹ "اردو  جواب " کے بانی  و منتظم  ِ اعلیٰ ہیں۔ان سے فون پر  صرف  ایک بار  ہی  بات ہوئی ہے ۔ اس لیے  ان کے  بارے  میں ذاتی طور پر تو فدوی  اندھیرے میں ہے  البتہ فکری طور پر  نہایت  اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ  ارسل مبشر ، ملک  حبیب اور  افتخار افی صاحب والی   فہرست  میں ان کا  نمایاں مقام ان کے  خلوص و بلند اخلاق  کی سب سے بڑی دلیل ہے  ۔ہو سکتا ہے کچھ لوگ یہاں  مجھ سے اختلاف کریں کیونکہ بعض لوگ زیادہ بولنے کو صفت  نہیں عیب سمجھتے ہیں۔ لیکن  میں ٹھوس وجوہات کی  بنا پر  زیادہ  بولنے والوں  پر کم بولنے والوں کی نسبت زیادہ  اعتماد کرتا ہوں ۔   ہو سکتا ہے کوئی  یہاں  میرے سامنے اولیا ء کرام کے یا شیخ  سعدی  ؒکے  کم بولنے  کی فضیلت  میں اقوال  پیش کرے ۔  اس سے پہلے میں بتا دوں کہ بے شک  زبان  انسان  کا تالا ہے ۔  جب تک یہ تالا لگا رہے  اندر کا انسان  چھپا رہتا ہے ۔  لیکن چھپنا دو قسم کا ہوتا ہے ۔  ایک  ڈرپوک  لوگوں کا چھپنا کہ کہیں کوئی  ہمارے اندر چھپے منافقت کے گند کو دیکھ نہ لے ۔  اور ایک ہوتا ہے  حیا دار  لوگوں  کا چھپنا ۔  لیکن وہ  چھپنا بقول داغ  ایسا  ہوتا ہے  کہ :۔ 

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے  ہیں

صاف چھپتے  بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
یہ بات تو  سب کو معلوم ہے  کہ حیادار لوگ  لازماً حسین بھی ہوتے  ہیں(یہاں حسن  ہر  معنوں  میں کہا ہے۔ اس کے علاوہ  میں حسین  مانتا ہی  صرف حیادار وں کو ہوں  )۔  یعنی  حسین  لوگ  حیا  اور  حسن کا پانی پت ہوئے ۔  حسن  کی  فطرت  ہے  ظہور  کرنا ۔   اور  حیا  کی فطرت ہے  حجاب  کرنا ۔  حسن اور  حیا  کی  اس زور  آزمائی  سے  شخصیت  میں وہ  توازن  آ جاتا ہےجسے   داغ نے "صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں" قرار دیا ہے ۔  جیسے  زمین  مرکز مائل  قوت  اور  مرکز  گریز  قوت  کی  زور آزمائی کے  نتیجے میں ہی  اپنے  مدار  پر  قائم  حرکت  میں ہے۔ 
اب جبکہ چھپنے  والوں  کی  اقسام   واضح ہو گئیں تو مناسب ہے  کہ  زیادہ  بولنے  والوں  کی اقسام  بھی  بیان کر دوں  تاکہ  کوئی ابہام  کسی   غلط فہمی  کا  باپ  نہ بن جائے۔  زیادہ  بولنا بھی  چھپنے  کی طرح  دو قسم کا ہوتا ہے ۔ 
ایک :۔ زیادہ  بولنا اور  اس  شوق  میں  اناپ  شناپ  بکنا
دوم:۔  زیادہ   بولنا مگر  اندر   اتنا  خزانہ    ہونا (حسین ہونا)کہ  دونوں  ہاتھوں  سے لٹائیں تب بھی  ختم نہ ہو ۔  اور   زبان  کی فریکوئنسی  اس قدر  سیٹ  ہونا(حیا  کا تقاضا) کہ زبان   پٹڑی  سے  اترنے  کا کوئی  امکان  ہی  نہ ہو۔
اب ان دونوں وضاحتوں    کے بعد فدوی  جبکہ  ثابت کر چکا ہے  کہ  کچھ لوگ  مجبوراً  زیادہ  نہیں بولتے کیونکہ ان کے  اندر  بولنے لائق کچھ  ہوتا ہی نہیں۔  کچھ لوگ اپنی منافقت  اور  علاوہ  ازیں فطری  خباثتوں   کے  ظاہر  ہوجانے  کے  ڈر سے زیادہ  نہیں بولتے ۔   اس  لیے  کم  بولنا بھی  صفت  تو نہ ہوا۔  پھر جب سب  کا  کم بولنا صفت نہیں تو کچھ لوگوں کا  زیادہ  بولنا  بھی    صرف تحقیق  کے  آلس  کی وجہ  سے عیب کیوں قرار دیا جائے ۔ ؟؟؟ جبکہ  یہ زیادہ  بولنا  ان  پر  خوب  خوب  جچتا ہو۔
شیخ سعدی  کے  ایک شعر کے  ترجمہ ہے :۔ " جس کا  حساب پاک  ہے اسے  محاسبہ  کا  کیا  خوف۔" پس  جس کا  اندر پاک  صاف  ہو  وہ  بھلا کس خوف  کے تحت اپناتالا کھولتے  ہوئے   گھبراہٹ  کا شکار  ہو۔  ارسل  مبشر  ہو  ملک  حبیب  ہوافتحار افی  صاحب  ہوں  یا  زبیر حسین  ۔ ان کے  بولنے  اور بے حد  اچھا  بولنے سے  میں اس نتیجے پر  پہنچا کہ  ایسے لوگ  کم از کم  منافق  کبھی  نہیں ہو سکتے۔  یہ  صفت (زیادہ بولنا  اور اچھا بولنا)صرف ان میں پائی  جاتی ہے  جن کا اندر پاک صاف ہو۔  اور یہ  وہی  صفائی  ہے جس کی  تاکید  حضرت  بابا بھلے شاہ  سرکار  ؒنے اپنے  کلام میں بھی فرمائی  ہے ۔
نماز پڑھن  کم  زنانہ ، روزہ  صرفہ  روٹی
اُچیاں بانگاں  او دیندے  ، نیت جنہاں  دی کھوٹی 
مکے دے ول اوہی  جاندے ، جیہڑے  کم دے ٹوٹی
او بھلیا  جے  توں  رب نوں ملنا  ، صاف کر اندر دی  کوٹھی 
(نماز پڑھنا کوئی  ایسامشکل  کام تو نہیں وہ تو عورتیں بھی پڑھتی ہیں۔  اور  روزہ  رکھنا  بھی  تو دراصل اپنا  فائدہ  ہے ۔ اونچی اونچی اذانیں وہ دیتے  ہیں جن کی نیت کھوٹی  ہو  (مراد ریا کار لوگ) مکے  کی طرف حج کو بھی وہی  جاتے  ہیں جو کام کاج سے جان چھڑاتے ہیں۔  پس یہ سب کام کرنے والا مردِمجاہد کہلانے کا حقدار  نہیں۔اور  نہ  ان کاموں  سے رب ملتا ہے ۔ ہاں اگر مردانہ  کمال  دکھانا ہے یا رب سے ملنے کی آرزو ہے  تو اپنا اندر صاف کر لو ۔ یہی تو  حقیقی  تصوف  ہے)۔

میرے  اس پیارے سے دوست زبیر میں صرف  یہی ایک  ہی  صفت نہیں۔  ان کی دوسری صفت  جانچنی  ہو تو  "اردو جواب" ویب سائٹ  کے شانِ نزول پر  غور کریں۔ 
ایک زمانہ تھا  کہ انٹر  نیٹ پر  اردو محض  دیوانے  کا خواب  تھی ۔ پھر  یونیکوڈ  اردو کی آمد کے  ساتھ  ہی انٹرنیٹ پر اردو  فورمز  بننے شروع ہو گئے ۔  حتیٰ کہ 2010 کے بعد تو یہ حال ہو گیا کہ   بقول  پطرس  بخاری :۔"کچھ عرصے بعد خون کی خرابی کی وجہ سے ملک میں جا بجا جلسے نکل آئے جس کسی کو ایک میز، ایک کرسی اور گلدان میسر آیا اسی نے جلسے کا اعلان کر دیا۔"( مرید پور کا پیر) ایسے ایسے  لوگوں  نے بھی  اردو فورم  بنا لیے  جنہیں واجبی  حد تک  بھی  اردو کے تین جملے مسلسل درست  بولنا  نہ  آتے ہوں گے۔ دنیا ئے  ہست و بود  میں مذہب  ، فرقہ ، ذات برادری  ، زبان، علاقے  کے نام سے  لوگوں کو ورغلایا جاتا ہے  انٹرنیٹ پر لوگوں کو  اردو کے  نام پہ  اکٹھا  کرکے اندر کھاتے اپنے  مذموم عزائم اور کریہہ  نظریات  کا  پرچار   کرنے  والے  سرگرم ہو گئے ۔کہیں آزادی  تحریر  و اظہارِرائے  کے نام پر  اسلام اور  پاکستان کے خلاف بکواس  کی جاتی  ہے اور جواب دینے والوں کو کتے کی طرح دُر دُر  کہہ کر  بھگا دیا جاتا ہے ۔چند  مفاد پرستوں کے حسنِ کرشمہ ساز  نے خرد کا نام جنوں رکھ دیا اور  جنوں کا نام  خرد رکھ  کے بدتہذیبوں کو اردو  کا ہیرو  بنا دیاہے۔ ایک طرف اتنی  روشن  خیالی کہ ایک شخص قرآن  مجید  میں اللہ تعالیٰ کی  نحوی اور  لغوی  غلطیاں نکالنے کے نام پر   اپنی  خباثت دکھا رہا ہے  اور  حضرت کے کان  پر جوں  نہیں رینگتی(العیاذباللہ)۔ وہیں یزیدیت  اور مطلق  العنانیت  کا وہ  عالم کہ کسی  بے چارے نے  ایڈمن  کی  کمینگی  پر  انگلی اٹھائی  تو  اس" سنگین ترین جرم"  کی پاداش  میں  اسے  عاق  کر کے دفع دور ہونے کا حکم ہے ۔ 
 یعنی کوئی اللہ  کی شان میں بکواس کرے اظہارِ رائے  کی آزادی ۔  کوئی رحمۃ للعالمین  کی شان میں گستاخی  کرے تو اظہار ِ رائے کی  آزادی ۔  کوئی  اسلام پر  بکواس کرے یا  نظریہ  پاکستان کے بارے میں بک بک کرے  ۔  یہ اظہارِرائے  اور  تحریر کی آزادی  اور انسان کا  بنیادی حق ہوا۔ اس سب سے  کسی  کو فرق نہیں پڑتا ۔  لیکن محض ایک ویب  سائٹ کے  مدیر  سے  اگر  کسی  نے  جواب دہی کا مطالبہ کیا تو  شاید عرش  ہل  گیا اور  کعبہ کے مینار  ٹیڑھے ہو گئے ۔ اب بندہ پوچھے کیا   وہ  بے حقیقت  انسان ان  کی نظر  میں اللہ  اور  اللہ  کے رسول  کی  نسبت  زیادہ  عزت والا  تھا۔۔۔؟؟؟؟(نعوذ باللہ)۔
   ((کاش  !!!!یہی  بات  ذوالقرنین  سرور  ، محمود مغل   اور عاطف بٹ  نے بھی  پوچھی ہوتی ۔۔۔۔))۔
میں نے کہا کہ بزم ِ ناز چاہیے  غیر سے  تہی  
سن کے ستم  ظریف نے  مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں

ایسے میں زبیر  بھائی  کو  اللہ  تعالیٰ کثیر  کثیر  جزائے  خیر  عطا فرمائے   جو اس چل سو چل اور بھیڑ  چال کا  شکار  نہیں ہوئے۔   انہوں نے خالصتاً سیکھنے  سکھانے کی غرض سے  "اردو جواب " کی بنا رکھی ۔  انٹر نیٹ پر بے شک ہر موضوع پر  بہت کچھ مل جاتا ہے مگر  اس  کیلئے گھنٹوں  خاک  چھاننے کے بعد  پھر  گوہر  مقصود کی  نشانی ہاتھ   آتی ہے ۔ اور پھر  اس آرٹیکل کو شروع سے  آخر تک پڑھنا پڑتا ہے ۔ اسی  مسئلے کا حل "اردو جواب"کی صورت میں ہے ۔ یہاں سوال کا دوٹوک  اور ٹو دی پوائنٹ  قسم کے جواب  مل جاتا ہے۔  یہ ایسا اوپن  فورم ہے کہ  جہاں ہر  کوئی  کسی  بھی موضوع پر(اخلاقیات  کے  دائرے میں)سوال کر سکتاہے۔ اور اگر  اسے "اردو جواب " پر  کسی  اور کے پوچھے  گئے سوال کا تسلی بخش اور  درست  جواب معلوم ہے تو وہ بلا تکلف جواب بھی دے سکتا ہے ۔ یعنی  یہ  ایک  ایسا   گوشہ  ہے  اور اردو زبان  میں  انٹر نیٹ پر  ابھی  تک  وہ واحد  ویب  سائٹ  ہے جہاں ہر بندہ  نہ صرف کچھ سیکھ سکتا ہے  بلکہ  اللہ کے دئیے ہوئے  علم میں سے اپنی  استعداد  کے مطابق  جواب  دے کر  کسی  کو کچھ سکھا   کر بہت سوں  کی  دعائیں بھی پا سکتا  ہے۔

پہلی بار زبیر  بھائی  سے  میری  ملاقات  اردو محفل  فورم پر ہوئی ۔ وہاں سے میرا "اردو جواب "پر جانا ہوا ۔  مجھے یہ  ویب سائٹ پسند آئی اور  میں نے  رکنیت حاصل  کر لی ۔  مجھے  اردو جواب کا سواں   رکن  ہونے کا اعزاز  ملا ۔ یعنی مجھ سے پہلے اردو جواب  کے 99 اراکین  تھے ۔   وقت کے ساتھ  ساتھ  "اردو  جواب " کا خوب  سے  خوب تر کا سفر جاری رہا ۔اور  یہ  زبیر  بھائی کا  بڑا پن  ہے  کہ  انہوں  نے  مجھ جیسےہیچمداں  کو اپنا  نمبر  دیا  پھرجب  چھٹی پر پاکستان تشریف  لائے  تو  فدوی  کے  ساتھ  ایک گھنٹہ  خوب  گپ  شپ  کی ۔اب  بھی  ابو ظہبی سے اکثر کالز  اور  میسجز  کے ذریعے  یاد فرماتے  رہتے ہیں۔
جی خوش  ہوا  حالی  ؔ سے  مل کر
ابھی  کچھ لوگ  ہیں   جہاں  میں

اس  نفسا  نفسی  کے  زمانے  میں جبکہ  انسانوں  کی  اکثریت  صرف  اس فکر میں ہے کہ  مجھے زیادہ  سے  زیادہ  فائدہ  کس کام سے  مل سکتا  ہے ۔  اس  زمانے  میں ایسے  پر خلوص  اور  بے لوث لوگوں سے  ملاقات  ہونا اور ان سے دوستی  ہونا   یقیناً  اللہ  کی  خاص رحمت ہے ۔ آج  کل  زمانے  کی برائیاں  کرنا فیشن بن چکا ہے  لیکن    کسی  کی  ایسی   گفتگو  کے دوران  میں زبیر  حسین جیسے  بے لوث اور  خالصتاً  خدمت ِ خلق اور  انسانیت  کی  بھلائی  کے جذبے سے سرشار  لوگوں  کی مثال دے کر   ہمیشہ  کہتا ہوں  کہ برائی  اور  اچھائی  کا توازن ہمیشہ  قائم  رہتا ہے ۔  ایسا  بالکل نہیں کہ  صرف برائی  ہی برائی ہو۔ جس قدر  برے لوگ ہوتے ہیں۔ اتنی  تعداد میں اچھے  لوگ بھی موجود رہتے  ہیں۔ ہو سکتا  ہے  ایسے  صاحبانِ کمال  ہماری  نظر سے  دور ہوں  لیکن   ہمیں چاہیے  کہ  ایسے لوگوں کو ہمیشہ  اپنے دل  سے   قریب  رکھا  کریں۔ کیونکہ  انہی  جیسے لوگوں کے دم سے انسانیت  کا  توازن  قائم  ہے ۔ 

کرم فرما