Pak Urdu Installer
Showing posts with label مغزل کہانی. Show all posts
Showing posts with label مغزل کہانی. Show all posts

Monday, 9 September 2013

عزم ِ کراچی و مشکلہا (مغزل کہانی تیسری قسط)۔

2 آرا
اب جبکہ یہ راز راز نہیں رہا کہ وہ نامراد جوگی دراصل میں ہی تھا ، جو مغ پلس غزل کی تلاش میں تھا۔
تو پھر تکلف ایک طرف رکھیے اور آگے کی کہانی مجھ سے سنیے۔۔۔

کچھ عرصہ مزید بیت گیا ، مگر جوگی کی تلاش  کو منزل نصیب نہ ہوئی ۔
واں وہ غرور عز و ناز ، یاں یہ حجاب پاس وضع
راہ میں ہم ملیں کہاں ، بزم میں وہ بلائے کیوں
  چونکہ اس مسئلے پر آنجہانی غالب مرزا پہلے ہی اچھی خاصی روشنی  ڈال چکے تھے ۔ اس لیےمیرے دل میں ان کیلئے کوئی شکوہ شکایت قسم کی خرافات کا کوئی گزر نہ تھا۔آپ شاید سوچ رہے ہوں کہ  جب بزرگ خواب میں اشارہ کر گئے تھے  کہ  وہ  ملک پاکستان کے شہر کراچی میں رہتے ہیں ، تو پھر "مانع وحشت خرامی ہائے لیلیٰ کون ہے۔؟؟" میں مانتا ہوں  کہ  "خانہ مجنونِ صحرا گرد    بے دروازہ تھا " مگر یہ کمبخت کراچی کا سفر "بے کرایہ نہ تھا" ۔ شکل پر بے شک اب بھی سٹوڈنٹی  برستی ہے  مگر زیادہ سے زیادہ رحیم  یار خان تک مفتہ ہو سکتا ہے  ، اگر تمام کنڈکٹر حاتم طائی کے ہاتھ پر بیعت بھی کر لیں  تب بھی تو منٹھار ، نیو خان وغیرہ  کی دوڑ    صادق آباد کی جامع مسجد تک ہی ہے۔اگر چندہ جمع کر کے بالفرض کراچی پہنچ بھی جاؤں تو کراچی کونسا چک نمبر 111/7ہے جہاں میں جاتے ہی انہیں ڈھونڈ لوں گا۔اللہ جھوٹ نہ بلوائے ایک بار تو زبیدہ آپا سے رجوع کرنے کا خیال بھی دماغ میں  کلبلایا ، مگر  بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آسان ہونا ۔۔۔۔

ایک دن جب میں   اسی فکر میں غرق تھا تو غیب سے مضامین خیال میں آنے لگے ۔ جن میں سے ایک اچھوتا اور نادر مضمون یہ تھا کہ کراچی پہنچ کر وہاں گلی گلی "بھانڈے قلعی کرالو" کی صدا لگانا شروع کر دو ۔پریوں کی شہزادی بھلا کب بھانڈے دھوتی ہوگی ، اس لیے جس گھر سے سب سے زیادہ کالے اور حال سے بے حال  برتن لائے جائیں ، سمجھو وہیں اپنی آپا جی  رہتی ہیں ، اگر خدا نخواستہ  سگھڑاپے میں بھی مس یونیورس کے ایوارڈ پر بھی قابض ہوئیں تو لوگوں  بھانڈے قلعی کرتے کرتے  یہ عزت ِ سادات بھی جاتی رہے گی ۔ نوشہ میاں کی بھی تو کوئی امید بر نہیں آئی  تھی ۔  مگر دل کو تسلی دی کہ
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آؤ نہ ہم بھی سیر کریں شہرِ فتور کی
  کسی نہ کسی گھر سے تو دودِ تیموریہ اٹھتا دکھائی دے گا ۔ ویسے بھی پریوں کی شہزادی ہوئیں تو کیا شادی کے بعد ہر لڑکی بیگم ہی بن جاتی ہے، شاید محمود میاں کہیں کسی  تھڑے پر پکا سگریٹ پھونکتے اور عشق کو کوستےنظر آ جائیں ۔ اتنی عمدہ ترکیب سوچنے پر دو تین الٹی چھلانگیں لگائیں ، اپنے آپ کو خراجِ تحسین پیش کیا ، اور آگے کا پلان سوچا کہ کرائے کا بست و بندکیونکر ہو ۔
نظر ِ انتخاب مسجد کیلئے چندہ کی صندوقچی پر جا پڑی ، مگر ہائے ری پھوٹی قسمت  اس خزانے پر مولوی صاحب پھن پھیلائے چوکس بیٹھے تھے ۔سمجھ دار آدمی تھے  مجھے دیکھ کر اور بھی چوکس ہو گئے ،چیں بجبیں ہو کر پوچھا :۔ خیر تو ہے آج فوجاں ادھر کدھر؟ کیسے راہ بھول پڑے کیونکہ آپ اور آپ استاد محترم کا مشترکہ ایجنڈا ہے کہ "طبیعت ادھر نہیں آتی۔"
جوابا ً میں نے زمانے بھر کا گھسا پٹا جملہ اچھال دیا :۔ مولوی صاحب ! سیانے کہتے صبح کا بھولا شام کو لوٹے تو بھولا کہہ کر اس کا دل نہ توڑو ۔ میں تو پھر بھی شام سے کئی گھنٹے پہلے دوپہر کو نازل ہوا ہوں ۔ "
مولانا صاحب بھی گرگِ باراں دیدہ تھے ، مجھے ایک طنزیہ مسکراہٹ سے نوازا ، اورمجھے کچھ ایسی شک بھری نظروں سے گھورا ، جیسی نظروں سے غالب نے اس ساقی کو گھورا تھا جس پر انہیں شک تھا کہ "ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں۔"اور فرمایا :۔ اور وہ صبح کتنے سال پہلے کی تھی؟
مسلسل طنزیہ حملوں پر میرے بخاری خون نے بھی ابال پکڑا، میں نے درجوابِ آن غزل کے طور پر گستاخانہ کہا :۔" مولوی صاحب آپ کے اسی دل شکن رویے سے مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا ہے ۔"
وہ بھی کچھ کم ڈھیٹ نہ تھے  ترکی بہ ترکی بولے :۔ " ارشاد ۔۔۔۔ ارشاد۔۔۔۔ ناچیز ہمہ تن گوش ہے۔"
اب تو مانو جوابی حملہ واجب ہو گیا تھا ،سو دانت پیس کے  بولا:۔ " ایک کسان کا گدھا رسا تڑا کر بھاگ نکلا ، اور شامت کا مارا مسجد میں پنا ہ لینے گھس گیا ۔ مولانا صاحب سخت چراغ پا  اور بدمزہ ہوئے ، ڈنڈا لے کرجہاد کی نیت سے گدھے پر  پل پڑے ، کچھ  دیر میں کسان بھی افتاں خیزاں وہاں پہنچ گیا اور گدھے کی درگت بنتے دیکھ کر بولا :۔ مولوی صاحب رحم کریں بے چارہ بے زبان جانور ہے ، کبھی مجھے بھی مسجد میں گھستے دیکھا ہےکیا۔؟"
اور ساتھ ہی ایک جناتی قسم کا قہقہہ بھی لگایا ، مولانا صاحب شاید لطیفے سے زیادہ میرے قہقہے کا برا مان گئے ، اس لیے ہمیشہ سے  کارآمد اکسیری نسخہ  یعنی باآوازِ بلند "لاحول ولاقوۃ ۔۔۔۔۔" کا ورد شروع کر دیا ۔ اس اسم اعظم کے سامنے تو شیطان ِ اعظم یعنی ابلیس بھی نہ ٹک سکے ، میری بھلا کیا مجال تھی۔اس لیے خدا سے دل ہی دل میں "بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے" کا شکوہ کرتے بھاگ نکلا۔
      
  جب ٹھنڈے دل اور ٹھنڈے پیٹ سے سوچا تو سمجھ آیا کہ مولانا صاحب پر غصہ بے جا ہے کہ بقول استاد جی "اس میں کچھ شائبہ خوبی تقدیر بھی تھا"۔لیکن  ہمت ہارنا سراسر بے عزتی تھی ۔ کچھ دیر بعد اس خیال سے پھر دو تین چکر لگائے کہ بندہ بشر ہے، شاید باتھ روم گیا ہو ۔ مگر مولوی صاحب شاید قبض کے مریض تھے ، یا پھر میرے دوسرے چکر پر معاملہ سمجھ گئے  تھے مزید چوکنے ہو بیٹھے ۔ خیر میں نے نماز کے وقت کا انتظار کیا ، اور گھات میں  بیٹھ گیا کہ جونہی اذان کیلئے اٹھیں تو صندوقچی لاپتہ کر دی جائے ۔ لیکن جب میں نے اذان کیلئے اٹھنے سے پہلے مولوی صاحب کو سرمایہ صندوقچی سے اپنے فتراک میں منتقل کرتے دیکھا ، توکھسیانی بلی کی طرح  بے اختیار عمران سیریز کو کوسا ،اور جی چاہا کہ مولوی صاحب "سےکوئی پوچھے تم نے کیا مزہ پایا"۔۔۔۔۔ ۔
پھر دل کو تسلی دی اور  ڈھٹائی سے سوچا  خیر ہے ۔۔۔۔!!استاد جی کے ساتھ ایسا ہوا ہوتا تو آج یہ شعر یوں ہوتا:۔
گر کیا مولانا نے سرمایہ غائب ، اچھا یوں ہی سہی
یہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا
ہونا تو یہی چاہیے تھا مگر احباب ہی نااہل تھے ، چارہ سازی وحشت نہ کر سکے ، اس لیے اٹھتے بیٹھتے  خیال ِ کراچی نورد تھا۔

محلے میں اور کوئی منہ لگاتا ہی نہ تھا کہ اسی سے ادھار ہی مانگ لیتا ،  اسی بہانے استاد جی کی سنت پر بھی عمل ہو جاتایعنی ایک پنتھ دو کاج ۔مگر کسی ڈیڑھ شانے نے سچ ہی کہا ہے :"اے بسا آرزو کہ خاک شد۔"لے دے کے ایک "نون" ہی تھا ، جو میرا دوست ، ہمدم ، رازداں بلکہ مختصر کہا جائے تو لنگوٹیا یار تھا ۔ طرفہ تماشا یہ کہ وہ بھی میری طرح کنگال شہنشاہ ۔ (تفصیلی تعارف کیلئے الف نون ملاحظہ ہو)
چونکہ کبھی کبھار اس کے منہ سے کام کے مشورے بھی خارج ہو جاتے تھے ، اسی امید پر میں نے نون کا کھرا اٹھایا اور اسے اللہ ڈتہ گرم حمام پر جا پکڑا ، موصوف کنگھی چوٹی میں مصروف تھے ،میرے سلام کا جواب بھی میڈم نور جہاں کی طرز میں آیا ۔ حیرانی تو مجھے بہت ہوئی لیکن میں پٹڑی سے اترکر اپنے مشن امپوسبل چندہ پروٹوکول کو پسِ پشت ڈالنا نہ چاہتا تھا ۔ اس لیے سیدھے کام کی بات پر آیا ۔
"یار میں کراچی جانا چاہتا ہوں "
"اچھا ۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے جاؤ" کہہ کر وہ اپنے کام میں مگن رہا ۔ یہ بے نیازی مجھے ہضم کرنا مشکل تھی ، پھر بھی اس معاملے کی تفتیش ملتوی کر کے  میں غرایا :۔" کمینے ! میں اجازت مانگنے نہیں ۔ مشورہ مانگنے آیا ہوں ۔" مگر اس کی محویت پھر بھی نہ ٹوٹی ۔ میں نے ایک سرد آہ بھر کر کہا:۔ حق ہاااااااااا۔۔۔۔
"تو اور آرائشِ خم کاکل
میں اور اندیشہ ہائے دوردراز"
حسبِ توقع غالب کے شعر پر نون بری طرح چڑ گیا ، کنگھی پٹخی اور جھنجھلا کے بولا :۔ " کراچی جانا ہے تو جاؤ مرو۔۔۔ میرا کیوں سر کھا رہے ہو ۔ ابھی تک وہ کلینک والی پٹائی سے ابھرنے والے  گومڑ ختم ہوئے نہیں  اور تو پھر کوئی نیا پنگا لے کر آ گیا ۔"
اس غیر متوقع عزت افزائی پر میرا منہ بن گیا :۔ "تو دوست کسی کا بھی ، ستم گر نہ ہوا تھا۔"اس لیے مزیدتپانے کیلئے پھر غالب کا مصرعہ گنگنایا ۔
نون مزید چڑ گیا :۔ "یار تو آخر کیوں میری جان کو آ گیا ہے؟"
میں نے مسکرا کے صدا لگائی :۔ "ایک مشورے کا سوال ہے بابا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
نون بھلا کیسے موقع ہاتھ سے جانے دیتا ، ہاتھ جوڑ کے بولا :۔ معاف کرو بابا ۔۔۔۔ جمعرات کو آنا۔۔۔"
میں نے کہا :۔ "اکڑنا بند کر خبیث ۔۔۔ تم سے تو میں بعد میں نپٹ لوں گا مگر ابھی شرافت سے کوئی اچھا سا مشورہ دے ، کوئی ترکیب سوچ ۔۔ ۔ کراچی جانے کا سب سے سستا ذریعہ سوچ ۔۔۔۔۔ کیونکہ عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب ہے سمجھ نہیں آتا دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک ۔"
نون شرارت سے بولا :۔ "چل میں تجھے دریائے سندھ میں دھکا دے آتا ہوں ، بہتے بہتے کراچی تو پہنچ ہی جاؤ گے۔"
"اپنی کمینگی کسی اور وقت تک کیلئے اٹھا رکھو اور سیدھا سیدھا مشورہ دو، میں واقعی سنجیدہ ہوں ۔" میری جھنجھلاہٹ عروج پر تھی
نون شاید مجھ سے کلینک پر پڑنے والی مار پر سوری سننا چاہتا تھا اس لیے بے نیازی سے دوبارہ محو آئینہ داری ہو گیا ۔ ظالم نے یہ بھی خیال نہ کیا کہ اسے "کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں " ۔ مجھ جیسے آزادہ و خود بیں کیلئے اب الٹے پھر آنے کے سوا کوئی چارہ  نہ تھا ۔
انگور کھٹے پا کر میں نے خود کو غیرت دلائی کہ "اپنی ہستی ہی سے ہو ، جو کچھ ہو " استاد جی کے اس ولولہ انگیز مصرعے پر کھوپڑی کو تاؤ آ یا اور ایک ترکیب چھپاک سے دماغ کے جوہڑ میں مینڈک کی طرح کودی اور میں بے اختیار اچھل پڑا ۔ جیسے پچھلی بار خواب میں الف چاچو سے ملاقات کی تھی اسی طرح پھر سے کوئی خواب دیکھا جائے ۔ نیک کام میں دیر کیسی ۔۔۔۔ نکما تو ہمیشہ سے تھا ۔۔۔۔ بس لیٹنے کی دیر تھی ۔ ۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔ کروٹیں بدل بدل کر بقول ملکہ جہنم میڈم نصیبو لال "کنڈ چھلی گئی سجناں " اور نیند تھی  کہ  جیسے عنقا کے پروں پہ بندھی تھی ۔۔۔۔۔برات ِ عاشقاں بر شاخِ آہو۔
ہزار حیف کہ اتنا نہیں کوئی غالبؔ
کہ جاگنے کو ملا دیوے آ کے خواب کے ساتھ
بہت سوں کا سلیپنگ پلز سے بھلا ہو جاتا ہے ، اسی امید پر میں نے بھی کچھ گولیاں گنے بغیر پھانک لیں ، مگر " درد منت کشِ دوا نہ ہو ا۔۔۔۔۔۔"

تنگ آ کر وقت گزاری کیلئے 1962 ء کا ایک رسالہ اٹھا لیا ۔ ورق گردانی کرتے کرتے نگاہیں ایک شعر سے دوچار ہوئیں ، اور چھوٹا غالب چاروں شانے چت ۔
خواجہ حیدر علی آتش ؔ کہہ رہے  تھے :۔
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہے
آؤ دیکھا نہ تاؤ ، اٹھ کے کمر باندھی ، اور مسافر راہ پر گر پڑا (راہ افتادن ) ۔ اس قدر نازک مزاج تو نہ تھا مگر پھر بھی تھا تو جنس آدم سے ، آہستہ آہستہ گوڈے گٹے جواب دینے لگے ۔بہاولپور تک کا سفر تو جیسے تیسے کٹ گیا مگر مجھے آٹے دال کا بھاؤ خوب خوب معلوم ہو گیا ، دل میں سوچا ایک ضلع پار کرنے پر یہ حشر ہوا ہے تو جوگی میاں حساب لگا لو ، بہاولپور ، رحیم یار خان کو پار کر کے سندھ کی سرحد آئے گی ، اور پورا سندھ پار کرکے سمندر کنارے مائی کلاچی کا کراچی بستا ہے، اچھا خاصا لمبا رستہ ہے ۔حساب کتاب سے تو جوگی کو غش پہ غش آنے لگے ، سارا جوگ اور جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ۔ بے اختیار جی چاہا کہ عورتوں کی طرح جھولی اٹھا اٹھا کے آتش ؔ کو بدعائیں دوں اور منہ بھر کے نہ صرف اسے بلکہ اس کے اگلے پچھلوں کو بھی ایسا کوسوں کہ وصی شاہ ، اور فرصت عباس شاہ سنیں تو  شاعری سے توبہ تائب ہو جائیں اور داتا دربار پر ملنگ بن کے بیٹھ جائیں ۔
واقعی قرآن مجید سچ کہتا ہے ، غالب کے علاوہ سارے (اکثر ) شاعر  جھوٹے ہیں ۔ آتش ؔ کو کبھی خود پیدل سفر کرنا پڑا ہوتا تو ایسا بے تکا شعر لکھنے  سے پہلے قلم توڑدیتا ۔ منہ پہ کالک مل لیتا مگر اتنی لمبی نہ چھوڑتا ۔ اور میں نے بدھو پنے میں نایاب کو بھی پیچھے چھوڑ دیا کہ اس کئی سو سال کے مرحوم شاعر کے جھانسے میں آ گیا ۔  ایک پٹرول پمپ پہ بیٹھا آتش ؔ اور اس کے دیوان کو کوس ہی رہا تھا کہ لانگ مارچ  سے واپس آنے والوں کا قافلہ وہاں آن پہنچا ۔ وہ وہاں کچھ دیر پانی پینے اور سستانے کیلئے رکے ، میں تو کافی دیر سے سستا ہی رہا تھا  اس لیے اس امدادِ غیبی پر شکر ادا کیا اور قافلے کی ایک بس میں گھس گیا ۔

جاری ہے

اس کہانی کی اگلی قسط ملاحظہ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

Monday, 2 September 2013

مغل سے مغزل تک (مغزل کہانی قسط 2)۔

0 آرا
گزشتہ سے پیوستہ


دو دفعہ کا ذکر ہے کسی دور دراز علاقےمیں  ایک جوگی  رہتا تھا ۔ایک دن نہ جانے اس کے جی میں آئی کہ اٹھا اور اپنے برقی گھوڑے پر بیٹھا اور کہیں نکل گیا،  پھرتا پھراتا ،  ایک خوبصورت وادی میں جا پہنچا، وہاں کے لوگ بہت ملنسار اور مہمان نواز تھے۔ جوگی کا وہاں دل لگ گیا ، وہ سارا دن وادی میں گھومتا پھرتا رہتا تھا ، اور رات کو الو کی طرح اپنی بولی میں اودھم مچاتا رہتاتھا۔ ایک دن وہ ایک خوبصورت جھیل کے  کنارے جا نکلا ، جھیل بے حد خوبصورت اور صاف ستھرے تازہ پانی سے بھری تھی ، کناروں پر رنگا رنگ پھول عجب بہار دکھلا رہے تھے ، اچانک اس کی نظر جھیل میں تیرتے ہنسوں کے جوڑے پر پڑی ،جھیل میں دو سفید سفید نہایت خوبصورت  راج ہنس  تیر رہے تھے  اور  اردگرد سے بے نیاز ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے۔ جوگی ان کی محبت سے بہت متاثر ہوا ، اور اسے ان دونوں سے انس سا ہو گیا ۔ اب وہ روزانہ وہاں آتا ، اور سارا دن بیٹھ کے ان کی خرمستیاں اور اٹکھیلیاں  دیکھتا ۔ کچھ عرصہ بعد راج ہنس بھی جوگی سے مانوس ہو گئے ، اور نر کی جوگی سے دوستی ہوگئی ، اور مادہ کو جوگی نے بہن بنا لیا ۔  جوگی نے ان کے نام رانجھا اور ہیر رکھ دئیے۔دن یونہی گزرتے رہے، ایک دن ایسا ہوا کہ راج ہنس جھیل میں تیرنے نہ آئے۔جوگی نے سوچا کوئی مصروفیت ہوگی، مگر رانجھا اور ہیر لوٹ کر نہ آئے ۔اس نے امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا ، لیکن وہ تو جیسے واپسی کا رستہ ہی بھول گئے ۔ اب جوگی کا وہاں پہ دل نہ لگتا تھا، وہ  اداس اداس سا رہنے لگا ، پھر ایک دن اس کے دماغ میں ایک خیال آیا کہ کیوں نہ رانجھا ور ہیر کو تلاش کیا جائے، کیا خبر وہ کس حال میں ہوں ۔ اللہ کا نام لے کر جوگی ان کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ مگرچونکہ   ان کا مقام اور پتہ  نہ جانتا تھا، اس لیے شہروں شہروں ان کی تلاش میں بھٹکتا پھرا ، ایک دفعہ جب وہ ایک گھنے جنگل سے گزرہا تھا  کہ  رات نے آ لیا ،اس نے رات گزارنے کیلئے کسی محفوظ جگہ کی  تلاش شروع کر دی ۔ اچانک اسے ایک طرف  روشنی دکھائی دی ، وہ اس سمت چل پڑا، چلتے چلتے ایک جھونپڑی کے سامنے پہنچ گیا ، یہ روشنی جھونپڑی میں جلتے دیے کی تھی ، اس نے  اطمینان کی سانس لی اور دروازے پہ آواز دی" کوئی ہے ؟"
اندر سے آواز آئی " اندھے ہو کیا ، نظر نہیں آتا  کہ دیا جل رہا ہے ، تو ظاہر ہے کوئی ہوگا ہی۔"
جوگی نے کہا :۔ "دیے کا جلنا کوئی ثبوت تو نہیں کسی کے زندہ موجود ہونے کا۔ دیے تو قبروں اور مزاروں پر بھی جل رہے ہوتے ہیں۔"
اندر سے آواز آئی :۔ "بکو مت، سیدھی طرح بتاؤ کون ہو تم اور کیا چاہتے ہو؟  نہیں  تو دفع ہو جاؤ،میں بہت مصروف ہوں۔"
جوگی:۔" میں ایک مسافر ہوں ، اس جنگل سے گزر رہا تھا کہ رات ہو گئی ، رات گزارنے کا ٹھکانہ ڈھونڈ رہا تھا"
اندر سے آواز آئی :۔ "اب اندر بھی آؤ گے یا باہر ہی کھڑے سر کھاتے رہو گے؟"
جوگی جھونپڑی کا دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہے کہ  ایک پونے 63 سال کے بزرگ موٹے موٹے عدسے آنکھوں پہ چڑھائے،  بیٹھے  دیوانِ غالبؔ  کی تلاوت کر رہے  ہیں ۔جوگی نے آگے بڑھ کے ادب سے سلام کیا ، اور دیوانِ غالبؔ کو ہاتھ لگا کر آنکھوں کو لگائے۔ یہ دیکھ کر بزرگ کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ دوڑ گئی ، اور ماتھے کی  تیوریوں میں  بھی کچھ کمی ہوئی ۔ 
بزرگ:۔ " کہاں سے آ رہے ہو بالک؟ اور کدھر کا  ارادہ ہے ۔"
جوگی:۔ " میں  ایک دور دراز ملک  اردو محفل سے آ رہا ہوں، اور منزل کا کوئی پتہ نہیں ، قسمت نے پاؤں میں راستے بچھا دیے ہیں اور میں چلتا جا رہا ہوں ۔نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں ۔آپ بتائیے یہ کونسا ملک ہے ؟"
بزرگ :۔ " میرا نام اعجاز عبید اخترؔ ہے، اور تم اس وقت سر زمین ہندوستان پر ہو،  اور یہ گھنا جنگل سندر بن کے نام سے مشہور ہے ۔ تم بتاؤ کہ تم کس کی تلاش میں نکلے ہو۔؟"
جواب میں  جوگی نے  رانجھے اور ہیر کے  ملنے سے لیکر ان سے بچھڑنے تک کا سارا قصہ تفصیل سے سنا دیا،  یہ سن کر بزرگ  بہت متاثرہوئے، اور کہا:۔ " ٹھیک ہے تم یہاں رات گزار سکتے ہو، مگر میری مانو تو تم اس لاحاصل تلاش کو ترک کر دو، یہ دنیا بہت بڑی ہے ، جو ایک بار کھو جائے وہ دوبارہ نہیں ملتا ۔"
جوگی:۔ " میں اس لاحاصل کی تلاش میں ہی مرنا پسند کروں گا ، تا آنکہ میں انہیں ڈھونڈ نہ لوں ، آپ نہیں جانتے کہ وہ دونوں میرے لیے کتنی اہمیت رکھتے ہیں ۔میں ایک تنہا اور اکیلا جوگی تھا، جس کا کوئی بھی دوست کوئی بھی رشتے دار، کوئی بھی ایسا نہیں تھا جسے میں اپنا کہہ سکتا ۔ خوش قسمتی سے مجھے بہن بھائی ملے ،  ابھی میں ان کے ملنے کا ٹھیک سے شکر بھی ادا نہیں کر پایا تھا کہ وہ بچھڑ گئے۔  اس رشتے کی قدروقیمت کوئی میرے جیسا ہی کر سکتا ہے جس کی ساری زندگی اکیلے ہی گزری ہو۔ میں نہ تو ان کی تلاش ترک کر سکتا ہوں ، نہ ہی انہیں بھولنے کا حوصلہ ہے مجھ میں ۔"
یہ کہتے کہتے جوگی کی آواز بھرا گئی، اور بزرگ کی بھی آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے ۔رندھی ہوئی آواز میں بولے:۔" بس کرو بیٹا ، مجھے یقین آ گیا ہے تمہاری لگن کی سچائی پر، میں  دعا کرتا ہوں، کہ تمہاری تلاش کامیاب رہے ، اور تمہیں تمہارے دوست مل جائیں۔لیکن مشکل یہ ہے کہ تم ان کا نام و مقام تک نہیں جانتے ، پھر انہیں  ڈھونڈو گے کیسے؟"
جوگی:۔ " نہیں جانتا، کیسے ڈھونڈوں گا، مگر پھر بھی دل میں ایک آس ہے کہ کبھی نہ کبھی ان سے ایک بار پھر ضرور مل پاؤں گا۔ آپ مجھے اللہ کے نیک بندے اور بزرگ لگتے ہیں ، خدا کیلئے آپ ہی میری کچھ مدد کیجئے۔"
بزرگ :۔ " ارے کیسی باتیں کرتے ہو  ،  میں نے تو ساری زندگی فاعلاتن ،فعلان،  فاعلات   کرتے گزاری ہے ، اس کے سوا کوئی کام نہیں کیا۔  میں تو خود اللہ سے امید لگائے جنگل میں بیٹھا ہوں۔میں بھلا کیسے نیک اور بزرگ ہو گیا ،"
جوگی:۔ " بزرگو!! کیا اب آپ منتیں کروانا چاہتے ہیں؟ ، اگر آپ بزرگ نہیں  ہیں تو یہ بال کیا دھوپ میں لیٹے لیٹے سفید کیے ہیں؟۔  میری کچھ مدد کریں۔"
بزرگ :۔ "نالائق ، بد اخلاق ، کسی نے بزرگوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں سکھائی کیا ،  پتا نہیں کہاں سے آ جاتے ہیں منہ اٹھا کے، چلو دفع ہو جاؤ ابھی اور اسی وقت یہاں سے ۔"
جوگی بزرگ کے پاؤں پر گر پڑا اور گھگھیا کے بولا:۔ "معاف کر دیں عالی جاہ! ، ساری زندگی انسانوں سے دور  ویرانوں میں گزری ہے ، اور کچھ زندگی کی صعوبتوں نے زبان تلخ کر دی ہے ، اس لیے نادانستگی میں غلطی ہو گئی ۔ آپ کو غالبؔ کا واسطہ مجھے معاف کر دیں اور میری  کچھ مدد کریں۔"
غالبؔ کا نام سنتے ہی بزرگ کچھ نرم پڑ گئے اور بولے:۔ "اچھا ٹھیک ہے ٹھیک ہے، اب تم آرام سے سو جاؤ، صبح اللہ کچھ نہ کچھ سبب بنا دے گا۔"
مگر نیند کیا خاک آنی تھی،  سونے کیلئے لیٹا تو بزرگ نے دوبارہ دیوانِ غالبؔ کھول کر اس کی تلاوت شروع کر دی ، نتیجتاً جوگی ساری رات بیٹھ کے سر دھنتا رہا۔
جب صبح کا اجالا پھیل گیا  اوربلبلیں سن کر یہ نالے غزل خواں ہو گئیں تو جوگی نے بزرگ کو ان کا وعدہ یاد دلایا ۔ بزرگ نے اثبات میں سر ہلایا ، جوگی کو خاموش رہنے کی ہدایت کر کے  سر جھکا کر مراقبے میں ڈبکیاں لگانے لگے ۔ کافی دیر بعد مراقبے سے سر اٹھا یا اور بولے:۔ " تمہارے لیے ایک عجیب و غریب خبر ہے "
جوگی بے تابی سے بولا :۔ "جی جناب  میں جانتا  ہوں غریب ہی ہوگی ، زرداری کی صدارت میں جہاں انسان ِ خطِ غربت سے نیچے  سسک رہے ہیں ، وہاں خبر کی کیا مجال کہ امیر ہوتی پھرے ، بہرحال عجیب ہو یا غریب ، جلدی بتائیے کیا خبر ہے؟"
بزرگ:۔ "وہ جنہیں تم ہنس راج سمجھتے رہے اور انہیں بہن بھائی بنا لیا ، وہ سچ مچ کےراج  ہنس  نہیں  تھے۔"
یہ سن کر جوگی ہنس پڑا اور بولا:۔ " بابا جی، مخول نہ کرو،  اگر وہ سچ مچ کے راج ہنس نہیں  تھے تو کیا پلاسٹک کے تھے؟ "
بزرگ:۔ " ناہنجار ! دھیان سے پہلے پوری بات تو سن لیا کرو، بیچ میں ٹانگ اڑا دیتے ہو۔ وہ جسے تم نے بہن بنایا تھا اور اس کا نام ہیر رکھا تھا ، وہ کوئی راج ہنسنی نہیں بلکہ پریوں کی شہزادی ہے ، اور وہ جو تمہارا دوست بنا تھا ، وہ راج ہنس نہیں بلکہ اصل میں  ایک انسان ہے۔"
جوگی:۔ " بابا جی ! میں  آپ سے آخری بار کہتا ہوں  ہوں ، کہ  یہ بچوں کی کہانیاں کسی اور کو سنائیے گا  ، مجھ سے ڈرامے بازی نہ کریں ، اور اصل بات بتائیں۔"
یہ سن کر بزرگ غصے سے لا ل نیلے پیلے اور زرد ہو گئے اور جلال میں آ کر جوگی کو دفع ہو جانے کا آرڈر دیا۔ مگر جوگی بھی اپنی صفت میں ایک ڈھیٹ تھا،  بھلا کہاں ماننے والا تھا۔
 آخر کار  تنگ آ کر بزرگ نے دیوانِ غالبؔ پر ہاتھ رکھ کے کہا ، کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں سچ کہہ رہا ہوں ، سچ کے سوا کچھ نہیں کہہ رہا ۔ تب جوگی کو یقین آیا ، مگر حیران ہو کر بولا:۔" اگر ہیر ایک پری ہے اور رانجھا انسان ، تو پھر وہ راج ہنس کیسے بنے ہوئے تھے؟؟اور ایک دوسرے کو ملے کیسے؟؟"
بزرگ اپنا ماتھا پیٹ کر بولے:۔ "نجانے کس الو کی دم سے پالا پڑ گیا ہے میرا بھی۔ ارے او عقل کے دشمن ! کانوں  کی بوہے باریاں  کھول کے سنو! اس پری کا نام ہیر نہیں ، بلکہ اس کا نام شہزادی بدر منیر ہے ۔ وہ پرستان کی شہزادی ہے ۔ اور رانجھے کا نام رانجھا نہیں بلکہ گلفام ہے ۔ اور وہ ایک عام انسان ہے ۔ دونوں ہی مرزا غالبؔ کے دیوانے اور مرید ہیں  ۔ تمہیں  تو پتا ہوگا کہ یومِ غالبؔ کے موقع پر ہر سال مشاعرہ  منعقد ہوتا ہے ۔ ایک بار ایسا ہوا کہ شہزادی بدر منیر انسانی صورت میں مشاعرے میں  شریک ہوئی ، اسی مشاعرے میں گلفام بھی موجود تھا ،اور مرزا غالبؔ بھی تیر کمان ہاتھ میں سنبھالے تاک میں بیٹھے تھے۔"
جوگی:۔ "خدا کا خوف کریں بابا جی ۔ سپہ گری مرزا غالبؔ کے آبا کا پیشہ تھا ، ان  کا نہیں ۔ ان کا پیشہ تو قرض لینا  تھا۔کیا وفات کے بعد انہیں اس خاندانی پیشے کا خیال آیا، جواب تیر کمان ہاتھ میں پکڑ کے بیٹھے رہتے ہیں؟"
بزرگ کا چہرہ اس بات پر فلیش لائٹ کی طرح پھر رنگ برنگ ہو گیا ۔ یہ دیکھ کر جوگی کی رگ  ِ خرافت پھر پھڑکی:۔
"بابا جی ! چھوٹی سی بات ہی تو پوچھی ہے ، کوئی دیپک راگ تو نہیں سنایا  جو آپ بار بار یوں دیے کی طرح جلنے بجھنے لگ جاتے ہیں  ۔ ویسے بھی میرا اعتراض کوئی غلط تو نہیں تھا۔آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے مرزا غالبؔ کے بارے میں ۔"
اب تو بزرگ کا غصہ جے ایف تھنڈر کی رفتار سے آسمان کو ہاتھ لگانے چل پڑا۔ آگ بگولہ ہو کر بولے :۔ "اچھا تو اب مجھے تم جیسے بچے آ کے غالبؔ  پڑھائیں گے۔؟ جب تم الف انار بے بکری والا قاعدہ پڑھتے تھے ، تب میں نے دیوانِ غالبؔ نسخہ اردو ویب  ترتیب دیا تھا۔ اور تم کیا ہو کہ غالبؔ  کے بارے میں میری  غلط فہمی درست    کرنے چلے ہو۔؟
جوگی:۔ " میں سوا سات جماعتیں پاس ہوں ،اور ڈائریکٹ قبلہ غالبؔ کا شاگرد ہوں، کوئی مذاق نہیں ہوں ۔"
یہ سن کر بزرگ  اٹھے  اور کونے میں پڑے ایک سالخوردہ  سے لکڑی کے صندوق کی طرف بڑھ گئے۔ جوگی ذرا گھبرا گیا کہ کہیں  AK47 نکال کر مجھ پر گولی ہی نہ چلا دیں، دل ہی دل میں جل تو جلال تو آئی بلا ٹال تو کا ورد کرنے لگا۔ مگر بزرگ صندوق کھول کر اس میں کچھ ڈھونڈنے لگے۔ پھر کچھ دیر بعد ایک پرانا سا کاغذ ہاتھ میں لیے آ گئے ، اور تپائی پر کاغذ کھول کے پھیلا دیا۔  بولے :۔ 
" یہ دیکھو ! یہ ہے میرا شجرہ نسب ،  اس میں میرے نام سے چار نام اوپر جو پانچواں نام ہے یہ میرے پڑدادا کے دادا تھے، اور یہ گلی قاسم جان سے اکثر گزرتے تھے، کئی بار گزرتے ہوئے مرزا غالبؔ سے سامنا ہوا تو سلام بھی کیا ، اور مرزا غالبؔ نے کمال مہربانی سے نہایت خندہ پیشانی سے وعلیکم السلام بھی کہا تھا۔  اب معلوم ہوا؟ کہ  کس طرح یہ روایات  مجھ تک سینہ بسینہ  پہنچی ہیں ، وہ کیا خوب کہا ہے ، مرزا غالبؔ  سرکار نے :۔
سلطنت دست بدست آئی ہے
جام ِ مے ، خاتم جمشید نہیں "
پھر دونوں ہی بے اختیاری کے عالم میں  اس شعر پر سر دھننے لگے۔ جب ذرا نشہ کم ہوا توجوگی کا پرنالہ ابھی تک وہیں تھا:۔  " دیوان غالبؔ  ترتیب دینے کا یہ مطلب تو نہیں  کہ آپ کا ہر مفروضہ   درست مان لیا جائے ، آپ کے پڑدادا نواب مصطفے خان شیفتہ اور پڑنانا  مولانا الطاف حسین حالی  بھی ہوتے تب بھی میں  تیر کمان کا مرزا غالبؔ کے ہاتھ میں ہونا   کیونکر مانوں ۔؟"
بزرگ :۔ (طنزیہ لہجے میں)"کبھی  یونانی دیومالا  پڑھنی نصیب ہوئی ہو تی تو تمہیں پتا ہوتا کہ اس میں ایک دیوتاہے  جس نے ایک چڈی پہنی ہوتی ہے اور ہاتھ میں تیر کمان لیے ہوتا ہے ۔"
جوگی:۔(بات کاٹ کر) " آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ نہ صرف یونانی  ، مصری اور ہندی دیومالا بلکہ کوہ قاف کی جن مالا سے بھی اچھی خاصی سلام دعا ہے خاکسار کی ، اور وہ جو دیوتا پیمپر باندھے اور تیر کمان  ہاتھ میں لیے ساری دنیا کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو خجل خوار کرتا پھرتا ہے ، اس کا نام کیو پڈ ہے اور وہ محبت کا  دیوتا کہلاتا ہے۔ مگر سوئی ابھی تک وہیں اٹکی ہے ۔ کہ اس تیر کمان کا مرزا غالبؔ  کے ہاتھ میں آنا کیا معاملہ ہے۔؟؟"
بزرگ:۔" افوہ ! میں بھی کس پاگل سے مغز ماری کر رہا ہوں۔ خیر سنو! یہ دلی شہر کی بات ہو رہی ہے ، خواجہ نظام الدین اولیا ؒ  کا دلی ،  جنہوں نے  ہندوستان کے بادشاہ محمد شاہ تغلق  کو بھی اس کے دارلحکومت میں"ہنوز دلی دور است" کہہ کر  نہیں گھسنے دیا تھا ، وہ کہاں اس کیوپڈ  شیوپڈ کو دلی کے پاس پھٹکنے دیتے ہیں بھلا ۔  اس لیے  دلی کیلئے اس تیر کمان کو سنبھالنے کی ذمہ داری انہوں نے مرزا غالبؔ کو سونپی  ہوئی ہے ،   نہ صرف دلی  بلکہ ساری دنیا میں جہاں جہاں بھی قتیلانِ غالبؔ ، دیوانگانِ غالبؔ، مریدانِ غالبؔ ، اور شاگردانِ غالبؔ بستے ہیں ، ان کے  دلی معاملات ، اور محبتوں کی دیکھ بھال بھی مرزا غالبؔ  بنفس ِ نفیس خود کرتے ہیں۔      "
یہ سن کر جوگی خوشی سے اچھل پڑا:۔ " اوہ ۔۔۔۔ اوہ۔۔۔ ۔ واقعی ۔۔۔۔ اب میں سمجھا ۔۔۔۔کہ قتیلانِ غالبؔ  کی محبتوں میں کامیابی کا تناسب اتنا زیادہ کیوں ہے ۔  واہ ۔۔۔۔واہ ۔۔۔۔۔ کیا بات ہے میرے استاد محترم کی ۔"
بزرگ:۔" کامیاب ہو یا  ناکام ، یہ بات تو اظہر من الشمس ہے  کہ قتیلانِ غالبؔ  ایک ہی محبت کرتے ہیں ، اور پھر تا زندگی اسےنبھاتے ہیں ،   شادی کے بعد اچھے زن مرید  ثابت ہوتے ہیں ، کوئی مانے یا نہ مانے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
جوگی نے بیچ میں بات کاٹ دی:۔ " اچھا اب یہ بات تو واضح ہو گئی، اب آگے  بتائیں۔"
بزرگ:۔ " ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ  مرزا غالبؔ بھی تیر کمان ہاتھ میں سنبھالے تاک میں بیٹھے تھے۔ جب شہزادی بدرمنیر کی غزل پڑھنے کی باری آئی تو گلفام کے دل پر جیسےپن، تھرمل، شمسی  اور  ایٹمی بجلی گھر  گر پڑے ، بدر منیر نے جیسے ہی کہا :۔" عرض کیا ہے" مرزا غالبؔ نے  اس کے کندھے پر کمان رکھ کے چلہ کھینچا اور گلفام کو تیر تاک مارا ۔  وہ خود بھی مغل شہزادہ تھا ، اور حسن ووجاہت  میں کسی سے کم نہیں تھا، اس نے زندگی میں ایک سےبڑھ کر  ایک حسین دیکھے تھے ، مگر کبھی کسی کو گھاس ڈالنے کے قابل نہ سمجھا تھا ، لیکن شہزادی بدر منیر کا ملکوتی حسن نظر انداز کرنا کسی دل گردے ، جگر ، پھیپھڑے، معدے ، مثانے والے کے بس کی بات نہ تھی ،یوں   یہ حور شمائل  پہلی نظر میں ہی گلفام کے دل پر قابض ہو گئی  ۔ جتنی دیر بدرمنیر غزل پڑھتی رہی ، گلفام کو دنیا و مافیہا کی خبر نہ تھی ۔ وہ غزل کیا سنتا وہ تو اس سراپا غزل کو پڑھنے اور دل میں اتارنے میں محو تھا ، جسے مرزا غالبؔ نے کبھی شائع ہی نہ کیا تھا ۔ غزل ختم ہوئی اور داد و تحسین کا غلغلہ اٹھا تو گلفام کو حقیقت کی دنیا میں ناچار لوٹنا پڑا ، اس کے دماغ میں شیطانی چرخے گھومنے لگے اور وہ بدرمنیر سے بات کرنے کیلئے  بہانے اور ترکیبیں سوچنے لگا۔ 
اتنا بتانے کے بعد بزرگ ذرا سانس لینے کو رکے ، تو جوگی سے رہا نہ گیا ۔ :۔ "با با جی ! آگے بھی تو بتائیں کہ پھر کیا ہوا ، جلدی بتائیں ۔"
بزرگ :۔ " اوہو ! بتاتا ہوں  بھئی  بتاتا ہوں  ذرا دم تو لینے دو۔"
جوگی :۔ "آپ کے دم لینے کے چکر میں میرا دم نکلا جا رہا ہے ۔ "
بزرگ نے ایک پیالہ عرق گلاب پیا ، ایک چمچ شہد چاٹا اور پھر گویا ہوئے:۔" آخر گلفام کے دماغ میں ایک ترکیب آئی ، اور اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ، اس پر عمل بھی کر ڈالا ۔ جانتے ہو اس نے کیا کیا؟"
پھر خود ہی بولے
"اس نے بدر منیر کی غزل پر تنقید کر دی ، اور اس میں سے دو چار امریکن سنڈیاں ، اور ایک دو گلابی سنڈیاں نکال کے رکھ دیں ۔"
جوگی ہڑبڑا گیا :۔ "یہ امریکن اور گلابی سنڈیاں کہاں سے نکل آئیں ؟ غزل تھی  یا کپاس کا کھیت؟"
بزرگ اس دخل در نامعقولات  پر چیں  بجبیں ہوئے ، اور بولے :۔ "میرا بھی کس عقل کے دشمن سے پالا پڑ گیا    ہے ،  دیوانِ غالبؔ کو تو ایسے ہاتھ  لگا رہے تھے جیسے  میر مہدی مجروح ؔ تم  ہو، مگر اتنی سی بات نہیں سمجھ پائے ۔ میرا مطلب تھا کہ گلفام نے بدرمنیر کی غزل میں کیڑے نکالے ۔"
جوگی (کھسیا کر):۔ "ہی ہی ہی  ۔اوہ اچھا ۔۔۔۔۔ اب سمجھا۔"
بزرگ:۔ ( کسی قدر چونک کر ) تمہاری یہ کھسیانی ہنسی سن کر مجھے مقدس بٹیا یاد آ گئی ، تم شاید جانتے ہو گے اسے؟ ، فرنگستان میں رہتی ہے ، بہت ہی نیک بخت  بچی ہے ،   بچپناتو اس کا  ابھی تک نہیں  گیا،  بچوں کے ساتھ مل کر چھلانگیں اور  کدکڑے لگاتی پھرتی ہے ،کل مجھے طلسمی الو نے خبر دی کہ امرود توڑنے کیلئے  درخت پہ چڑھ رہی تھی ،  پیر پھسلا اور نیچے آ گری ، ٹخنے نے اس کی حرکتوں سے تنگ آ کراپنی جگہ چھوڑ دی ، اب پیروں پر کرچز لگے ہیں ، مگر شیطان کی نانی  پھر بھی شرارتوں سے  باز نہیں آتی ۔"
جوگی :۔ (سر پکڑ کے) اوہو !! بابا جی آپ پٹری پر آئیں سیدھی طرح ، اور یہ مقدس نامہ پھر کبھی سہی ، ابھی مجھے  شہزادی بدرمنیر اور گلفام کا قصہ سنائیں ۔"
بزرگ:۔  ہاں تو میں کہہ  رہا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہرطرف سے اٹھتی واہ واہ کی دے دنا دن  میں اچانک جو ایک جانب سے یہ تنقید  کا ڈونگا آ لگا تو بدرمنیر کو بہت غصہ آیا ، جی میں آیا کہ اس کمبخت کو تو جلا کے راکھ کر دے یا مکھی بنا کے اڑا دے ، جو خوامخواہ مولانا حالی کا گدی نشین  بننے کی کوششوں میں ہے ، ا ُدھر مرزا غالبؔ  نے بھی کمان میں ایک تیر چڑھایا ، اور چلہ کھینچنے لگے۔ ۔۔۔ مگر پھر شاید یہ سوچ کر رک گئے کہ عورت ذات ہے ، اور  ہے بھی اپنی بیٹی جیسی اور خاص  مریدنی، اس لیے وہ کوئی اور طریقہ سوچنے لگے۔
اتنی دیر میں  بدر منیر  نے  جدھر سے تنقید نازل ہوئی تھی اس طرف جو سر کو گھمایا ، تو ایک خوبصورت گھبرو جوان پر نظر پڑی ،  دل نے فورا ً  مکھی بنانے کے ارادے کو کینسل کر دیا ، مگر دماغ ڈٹ گیا کہ اسے سبق سکھانا ضروری ہے۔بدر منیر نے اسےکچھ کھوٹی کھوٹی اور کچھ کھری کھری سنائیں ، مگر گلفام بھلا کہاں یہ ہمکلام ہونے کا نادر موقع ہاتھ سے جانے دیتا، اس نے بھی جی کڑا کر کے دو بدو جواب دیا۔مگر اس کی دفاعی   حیثیت شہزادی بدرمنیر کے سامنے ایسے تھی جیسے نادر شاہ درانی کے سامنے محمد شاہ رنگیلا کی افواج کی تھی ۔ ہر چند کہ گلفام کی  رگوں میں بھی  مغل خون دوڑتا پھرتا تھا ، مگر بد قسمتی سے بدرمنیر اس کی قائل نہ تھی ۔ اس لیے ناچار آنکھ سے دو چار قطرے بغیر "سر زیر بارِ منتِ ڈراپرکیے " ٹپکا نے پڑے ۔ یہ دیکھ کر شہزادی بدرمنیر بھی کچھ پسیج سی گئی ۔ چونکہ غالبؔ کی پیش گوئی کو 186 سال گزر چکے تھے اس لیے جدید زمانے کی تقاضوں کے مطابق حسن سادگی و پرکاری ، بے خودی و ہشیاری میں یکتا ہونے کے ساتھ ساتھ سب کچھ جانتے ہوئے جرات آزما تھا ۔بدرمنیر نے اب تک بدصورت  جن اور بے ڈھنگے دیو ہی دیکھے تھے ، گلفام کی مردانہ وجاہت  آسانی سے نظر انداز کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔اب معاملہ ایک طرف غرور عزو ناز ، اور دوسری طرف حجابِ پاس ِ وضع والا ہو چکا تھا۔
   مرزا غالب ؔ تیر ترکش میں رکھ کے کمان کندھے پر واپس لٹکا کے کوئی   اہنسائی  طریقہ سوچنے میں لگ گئے ۔کہ ان کو  بیٹی پر  تیر بھی نہ چلانا پڑے اور کام بھی تیر والا ہو جائے  ۔ 
 اب گلفام ہر جمعرات کو مزار غالبؔ پہنچ جاتا ، اور  بدرمنیربھی  اکثر مزار غالبؔ پر آتی جاتی رہتی  ،  گلفام کو  دیکھ کر یوں انجان بن جاتی گویا وہ لوح جہاں پہ حرفِ مکرر ہو،چار سال تک گلفام بے چارا جوتیاں چٹخاتا رہا ، اتنی تو اسے نوکری کی تلاش میں بھی جوتیاں نہیں چٹخانی پڑی تھیں ،اب بھلا دل کو دل سے کیسے راہ نہ ہوتی ، بدر منیر کے سینے میں چائینہ کا نہیں  بلکہ اصلی دل لگا ہوا تھا۔  محبت نفوذ کر ہی گئی ۔ اسی بات پر محترمہ شلپا سیٹھی اپنی کتاب "دھڑکن" میں کیا خوب فرماتی ہیں :۔ نہ ، نہ کرتے پیار، ہائے میں کر گئی ، کر گئی، کر گئی ۔ تو نے کیا اعتبار ررررر ہائے میں مر گئی مر گئی  مر گئی ۔
مرزا غالبؔ  نے بھی اطمینان  کا سانس لیا اور   اپنے داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے  بدرمنیر کے دل پر سرخ روشنائی  سے میم  لکھ دیا۔
 شہزادی بدرمنیر دل کے ہاتھوں ہار گئی ، اور اقرار کر ہی لیا ۔ پھر وہی ہوا جو اکثر ہوتا ہے ، یعنی نامہ و پیام ہونے لگے ،دونوں طرف یہ حال تھا کہ :۔
 قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں 
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں۔
اور میں کیا تمہیں ان کی نجی باتیں  بتاؤں،قصہ مختصر یہ کہ      2006  ء کا موسم خزاں تو جیسے تیسے گزر ہی گیا ، مگر دسمبر آتے ہی گلفام ابرار الحق بن گیا :۔ بھیگا بھیگا سا یہ دسمبر ہے ، بھیگی بھیگی سی تنہائی ہے ۔۔۔۔ ان کتابوں میں جی نہیں لگتا ، ہم کو سجنی کی یاد آئی ہے ۔ ایک دن رشید صاحب نے جو جوان بیٹے کو یوں گنگناتے سنا ، تو سمجھ گئے ۔ مگر  باپ والی وضع داری آڑے آتی تھی، اس لیے براہ راست کچھ نہ پوچھا کہ بیٹا سجنی کا پتہ ہی بتا دو تاکہ ہم سلسلہ جنبانی شروع کریں ۔ دسمبر بھی گزر گیا، اور 2007 ء آن پہنچا ، جنوری کے چھوٹے چھوٹے دن اور لمبی لمبی راتیں ، گلفام کا وضع احتیاط سے دم رکنے لگا کہ برسوں سے چاک گریباں نہ کیا تھا ۔ آخر جی کڑا کر کے ابا جان سے کہہ ہی دیا :۔ راتاں ہویاں وڈیاں ، سجن بن۔۔ برہوں تڑانواں گڈیاں  سجن بن۔ مگر باپ آخر باپ ہوتے ہیں ، اگر باپوں سے ہی کام چل جاتا تو بھلا اللہ تعالیٰ ماں جیسا اوتار زمین پر کیوں اتارتا۔ ادھر سے شہزادی صاحبہ کو بھی ہجرگراں تھا ، اور شبہائے فراق میں اکثر اپنی گہری سہیلی وزیر زادی کو مخاطب کر کے گنگنایا کرتیں :۔ "سہیلی رے سہیلی ، کیا ہے یہ پہیلی۔۔۔۔ ایسا ویسا کچھ کیوں ہوتا ہے سہیلی ۔ میری انگڑائیاں ، میری تنہائیاں ، کتنی اکیلی ۔۔۔۔ سہیلی ری سہیلی۔۔۔۔۔" سہیلی بھلا کونسا علامہ اقبال  تھی ، کیا جواب دیتی، البتہ  دونوں سر جوڑ کر اس بات پہ گھنٹوں کھی کھی کھی کھی کیا کرتیں ۔ اللہ جانے کیا ماجرا تھا۔
اسی شرما شرمی میں فروری اور مارچ بھی گزر گئے ،میں ہوتا تو  اتنے عرصے میں  کے ٹو ، ماؤنٹ ایورسٹ، اور کنچن چنگا  کو کئی بار سر کر چکا ہوتامگراس سے یہ  زلف نہ سر ہونی تھی  نہ ہوئی ، آخر گلفام میاں نے سپریم  کورٹ میں رٹ دائر کر ہی دی:۔ "مائے نی میں کنوں آکھاں، درد وچھوڑے دا حال  ۔"
 اماں جان نے کمال تمکنت سے فرمایا :۔ "دکھاں دی روٹی، سولاں داسالن آہیں دا بالن بال ۔"
گلفام :۔ " لو ہم مریض عشق کے بیمار دار ہیں
اچھا اگر نہ ہوتو مسیحا کا کیا علاج؟"
 اماں جان نے پوچھا :۔" بے تابیوں کا کیا سبب؟ کیا علاج؟"
 فریادی بولا :۔ "کہے حسین ؒ فقیر نمانڑا ۔۔۔۔ شوہ ملے تاں  تھیواں  نہال ۔"
چیف جسٹس صاحب نے اس بات کا فوری نوٹس لیا ، اور فرمایا :۔ "انصاف ہوگا، ضرور ہوگا۔"
اپریل جنبانیندن میں گزر گیا ۔ ظالم سماج کی مجال نہیں تھی کہ بیچ  میں ٹانگ اڑاتا، 17 مئی وصل ڈے  مقرر ہوا۔مئی کا مہینہ آتے ہی لڑکیوں ، بالیوں نے ڈھولک رکھ لی اور حلوائیوں نے مٹھائیاں تیار کرنا شروع کر دیں، ٹینٹ اور لائٹنگ والوں کو بھی آرڈر بک کرا دئیے گئے  ۔  17 مئی  2007ء   کا دن آن پہنچا اور یوں گلفام کا بھی بینڈ بج گیا ۔    
مگر جیسا کہ اب تک ہر کہانی میں ہوتا آیا ہے کہ کہانی کے آخر میں "ان کی دھوم دھام سے شادی ہو گئی اور وہ ہنسی خوشی  رہنے لگے"اس  کہانی کا اختتام یہاں نہیں ہوتا۔ بدرمنیر اور گلفام کی شادی ہو گئی، اور وہ ہنسی خوشی بھی رہنے لگے، ماشاءاللہ اب ان کے آنگن میں 2 ننھی پریوں کی چہکاریں ، اور قلقاریاں گونجتی ہیں ۔ (اللہ ان کی خوشیوں کو سدا قائم و دائم رکھے، اور ان کی آپسی محبت دن دوگنی رات چوگنی ہوتی رہے ، ان کے پیار کو کسی بد نظر کی نظر نہ لگے)۔ اب وہ جنت نظیر ملک پاکستان میں رہتے ہیں۔ 
بزرگ سناتے سناتے رک گئے ، مگر جوگی تو ویسے ہی منہ کھولے محویت سے بیٹھا تھا ، جیسے شہزادی بدرمنیر اور گلفام کے ولیمہ میں بریانی اڑانے میں  مصروف ہو۔ بزرگ نے جوگی کو جھنجھوڑا مگر جوگی کی محویت نہ ٹوٹی ،  ناچار بزرگ نے پانی سے بھرا لوٹا جوگی پر انڈیل دیا ۔
 مگر یہ کیا۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بجائے جوگی کی آنکھ کھلنے کے میری آنکھ کھل گئی۔۔۔۔
 اور میں نے اماں کو پانی کا خالی جگ لیے  اپنے سر پر کھڑا دیکھا ۔

ہاں تو میں کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ۔۔۔۔۔۔۔۔  مغل بچے عجیب ہوتے ہیں ، جس پہ مرتے ہیں ، اسے مار رکھتے ہیں      

مغل بچے عجیب ہوتے ہیں (مغزل کہانی قسط 1)۔

0 آرا
مغل بچے عجیب ہوتے ہیں 
جس پہ مرتے ہیں اسے مار رکھتے ہیں


شیخ سعدی ؒ گلستان سعدی میں فرماتے ہیں کہ "میں نے سنا کہ ہندوستان میں سومناتھ شہر میں ایک بت ہے ، جو حرکت کرتا ہے اور اپنے پجاریوں کے سامنے دعا کیلئے ہاتھ اٹھاتا ہے۔" سعدیؒ جیسی طبیعت اور مزاج رکھنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں کہ اس بات سے مہم جوئی اور سیاحت کی حس کیسے جاگ اٹھتی ہے اور پھر سلیپنگ پلز کھا کے بھی نہیں سوتی ، جیسے غالبؔ کا رقیب گالیاں کھا کے بے مزہ نہیں ہوتا۔ شیخ سعدیؒ کے مطابق، انہوں نے رخت سفر باندھ لیا، اور جا پہنچے ہندوستان میں سومناتھ ۔ (تفصیل گلستان سعدیؒ میں ملاحظہ ہو) مگر ہندوؤں کا متبرک ترین مقام ہو اور ایک مسلمان کو وہاں گھسنے دیا جائے، یہ ناممکن تھا ۔ لیکن یہ  کوئی اور نہ تھا شیخ سعدیؒ تھے، جنہوں نے ایک سنی سنائی بات پر یقین کرنے کی بجائے تحقیق کیلئے خود اتنا مشکلوں بھرا سفر کیا ۔ اب بھلا وہ کیسے لب ِ بام سے واپس جا سکتے تھے ۔شیخ سعدیؒ اگر پاکستان میں پیدا ہوئے ہوتے تو یقیناً حاجیوں کی طرح گھر سے حج کا کہہ کے نکلتے اور کراچی تک جا کر کسی نلکے سے آبِ زم زم  بھر تے ، 5 ، 7 کلو کھجوریں خریدتے ، دس ، بارہ تسبیح ، ایک ادھ درجن مصلے خریدتے اور کچھ عرصے بعد لال رومال کندھے پہ ڈالے حاجی صاحبوں والی میسنی شکل بنائے واپس آ جاتے ۔ اور پھر ساری زندگی اپنا نام حاجی شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی رحمتہ اللہ علیہ  کہلوانا اور سننا پسند کرتے ۔ مگر آفرین ہے اس عظیم درویش کی شانِ استغنا پر کہ 14 حج پیدل کیے ہوئے ہیں ، مگر حاجی شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی کبھی نہیں لکھا ،   خیر۔۔۔۔۔ بات ہو رہی تھی سعدیؒ اور سومناتھ کی    ۔ مختصر یہ کہ سعدی ؒ نے ٹنڈ کرائی اور گیروے رنگ کا لباس پہنا اور پنڈت کا بہروپ دھار کے مندر میں گھس گئے ، اور اپنی آنکھوں سے بت کو حرکت کرتے دیکھا، مگر نیا مشن اس وقت شروع ہو گیا جب شیخ سعدیؒ نے اس کا راز جاننے کی ٹھان لی، اور پھر وہ راز جان کر ہی دم لیا ۔اور میں مسکین چھوٹا غالبؔ  شیخ سعدیؒ کی ان درویشانہ اداؤں پر مر مٹا ہوں۔اور اب  یہی میرا سٹینڈرڈ ہے تحقیق میں۔

جب میں نے سنا کہ 
مغل بچے عجیب ہوتے ہیں 
جس پہ مرتے ہیں اسے مار رکھتے ہیں
میں سنتے ہی آمنا صدقنا نہیں کہہ دیا۔ اندھے کا دکھ ایک اندھا ہی سمجھ سکتا ہے ، میں نے سوچا کہ جس طرح میرے بارے میں بے بنیاد پراپیگنڈے اور افواہیں  اتنی کثرت سے کی گئیں کہ اب یونیورسل ٹروتھ درجہ پا چکی ہیں ، کہیں  اس شعر میں بھی کسی نے مغلوں سے مار کھاکے جلے دل کے پھپھولے نہ  پھوڑے ہوں  ۔ بھلا میں کیونکر مانوں ۔  اپنا سٹینڈرڈ یاد آیا کہ جب تک اس کے درست یا غلط ہونے کی تصدیق نہ کر لوں چین سے کیسے بیٹھ سکتا ہوں ۔
بس پھر دماغ کے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور تاریخ کے بحر ظلمات میں گھوڑا دوڑا دیا ، (  اسی بہانے اقبال ؒ کی روح کوبھی  خوش کر دیا۔) دن رات منزلوں پر منزلیں مارتا ہوا آخر میں میسو پوٹیمیا  کے  میدانوں میں جا پہنچا۔ سوچا کہ پہلے ایشیائے کوچک سے کُھرا اٹھاتے ہیں ۔یہ وہ وقت تھا جب حضرت نوح علیہ السلام کو وفات پائے کئی سو سال گزر چکے تھے ، ان کی اولاد میں جیسا کہ زمانے کا دستور ہے پھوٹ پڑ چکی تھی ، اور وہ اکٹھے آباد رہنے پر   مزید آمادہ نہ تھے ۔ ان گنہگار آنکھوں نے (تصور میں) یافث (نوح علیہ السلام  کا بیٹا)کی آل اولاد  میں سے ایک قبیلے کو شمال کی جانب ہجرت کرتے دیکھا۔پھر میں نے اس قبیلے کی اولاد کو روس ، کاکیشیا ، منگولیا   میں پھیلتے دیکھا ۔ اور جوں جوں آبادی بڑھتی گئی ، قبیلے بھی تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزرتے رہے اور دنیا میں پھیلتے رہے ۔ علمائے تاریخ اس بات پر متفق ہیں ، کہ اقوام و قبائل کی اس کثرت میں صرف دو علاقے ایسے ہیں جن سے انسانی سیلاب نکلے اور پھر پوری دنیا میں پھیلتے گئے اور فتح کرتے گئے ۔ (1) سرزمین حجاز (2) منگولیا کا شمال مشرقی علاقہ ۔مسلمان عرب سے نکلے اور پوری دنیا پر چھا گئے ، اور تاریخ میں روم و ایران کی عظیم فتوحات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا  ۔ اس کے بعد یہ منگولیا سے نکلنے والا سیلاب ، کہ اپنے سامنے آنے والی ہر سلطنت کو خس و خاشاک کی طرح روند کے رکھ دیا۔
منگولیا کے صحرائے گوبی میں بسنے والے یہ قبائل تاتار کہلاتے تھے، خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتے تھے ، اور آپس میں قتل و غارت بھی عام تھی، جنگل کا قانون تھا ، طاقتور قبیلہ ، کمزور قبیلوں کے جانور اور عورتیں ہانک کے لے جاتا ، پھر ان میں تموجن کی پیدائش ہوئی ،  بچپن میں ہی اس کے قبیلے کو کسی طاقتور قبیلے کی طالع آزمائی کا سامنا کرنا پڑا ،   تموجن بھی غلام بنا لیا گیا ۔ بالاخر اس نے نہ صرف آزادی پائی بلکہ اجڈ اور غیر مہذب ، قانون اور سلطنت سے ناواقف قبائل کو یکجا کر کے ایک سلطنت کی بنیاد رکھی ۔ اور چنگیز خان  لقب اختیار کیا۔ تموجن نے چین کی عظیم سلطنت اور اس کے بادشاہوں کی شان و شوکت ، اور عوام کی خوشحالی دیکھی تھی ۔ اس نے اپنی جانوروں کے سوکھے گوشت اور دودھ پر گزارہ کرتی قوم کو بھی یہ سب میسر کرنے کی ٹھان لی ۔ اور یوں دنیا میں تاتاریوں کی لوٹ مار اور فتوحات کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ آسائش پسند مہذب دنیا بھلا کب تک ان جفاکشوں کے سیلاب کے آگے بند باندھتی، جو کہ میدان جنگ میں گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر بیٹھے بیٹھے ، پیاس لگنے پر گھوڑے کی پیٹھ میں خنجر چبھو کر خون پی کر پیاس بجھا لیتے تھے۔ چنگیز خان نے فتوحات کا جو سلسلہ شروع کیا تھا اس کی موت کے بعد  اس کے پوتے ہلاکو خان نے عروج پر پہنچا دیا۔ عباسی سلطنت اور بغداد کا انجام اسی کے ہاتھوں ہوا۔ جب مسلمانوں کے ساتھ رہ کر ان کے دلوں میں ایمان کی  روشنی ہوئی تو اسلام پھیلنے لگا ۔اسی  طرح شاہی خاندان بھی  پھیلتا گیا  اور سلطنت کے بھی حصے بخرے ہوتے گئے ، جس کو جو ہاتھ آیا، وہ اس پہ قابض ہوتا گیا، کئی چھوٹی چھوٹی سلطنتیں وجود میں آئیں تو وہیں ، ایلخانی سلطنت ، اور سلجوقی سلطنت جیسی عظیم حکومتیں بھی ان میں موجود رہیں ، تقسیم در تقسیم سےالگ الگ نام ہوتے گئے ، کچھ نے صحرائے گوبی میں ہی طریقہ قدیم پر زندگی گزاری ، اور شہر آباد کرنے والے ، منگول ، اور پھر مغل ہوتے چلے گئے ۔
ایسی ہی ایک چھوٹی سی ریاست وادی فرغانہ  بھی تھی ، حکمران صاحب ایک دن کبوتر بازی کا شوق پورا کرتے  چھت سے گرے اور دوزخ کو پیارے ہو گئے ۔ ریاست کا واحد وارث ظہیر الدین، ابھی بمشکل 14 سال کا تھا جب حکمرانی کا بارِ گراں اس کے کندھوں پر آن پڑا ۔ اس پہ مستزاد یہ کہ  ہمسایہ ریاستوں کے حکمران حملہ آور ہو گئے ، ایک سگا ماموں تھا ، ایک سگا چچا ، دونوں نے ریاست کی آدھی آدھی تقسیم کے فارمولے پر اتفاق کر کے فرغانہ پر حملہ کر دیا ۔ 14 سالہ ظہیر الدین کے سر پر صرف نانی کا ہاتھ تھا ۔ مقابلہ بھی کیا مگر دو اتحادیوں کی بڑی فوج کے سامنے بھلا اس چھوٹی سی ریاست کی چھوٹی سی فوج کی کیا چلتی ۔ نتیجہ وہی ہوا جو ہونا تھا۔ ظہیر الدین کو نانی نے فرار کرادیا ، وہ پہاڑوں میں جا چھپا ، زندگی کے انتہائی مشکل دن گزارے اور کچھ قبائلیوں کی مدد سے اپنی باقی ماندہ فوج اکٹھی کی ، چچا اور ماموں کو 15 سال کی عمر میں عبرت ناک شکست دی، اور اپنی سلطنت واپس پائی ۔نانی نے نواسے کا لقب بابر  رکھا ، جس کا مطلب ہے نر ببر شیر۔ مہم جو بابر کو چھوٹی سی ریاست میں چین نہ آیا تو  اس نے ہندوستان پر حملے شروع کر دئیے ۔ اور آخر ابراہیم لودھی کوپانی پت کے میدان میں  شکست فاش دے کر  21 سال کے اس باہمت جوان نے ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی۔
جتنا باہمت اور لائق باپ تھا بیٹا اتنا ہی نکما ثابت ہوا ۔ نتیجے میں شیر شاہ سوری نے ہمایوں کو کھڈے لائن لگا دیا۔ شکست کھا کر ہمایوں ایران میں پناہ گزین ہوا ، اور شیر شاہ سوری کی وفات کے بعد اس کے بیٹے سلیم شاہ سوری کو ایران کے بادشاہ طہماسپ کی مدد سے شکست دے کر اپنی سلطنت واپس پائی ۔البتہ ہمایوں  کے بیٹے جلال الدین محمد اکبر نے خوب پر پرزے نکالے اور مغلیہ سلطنت کو بام عروج پر  پہنچادیا ، اور مغل اعظم کہلایا۔ اکبر کے بعد اس کا بیٹا نور الدین جہانگیر تخت آرا ہوا ، اور اسی کے دور میں پہلی بار انگریزوں نے انڈونیشیا میں  ولندیزیوں سے شکست کھا کر ہندوستان میں اپنے قدم رکھے ۔اور مغل شہزادی کا کامیاب علاج کرنے کے  انعام میں انگریز ڈاکٹر نے اپنی قوم کی تجارت کیلئے مراعات اور تجارتی کوٹھیاں قائم کرنے کی اجازت پائی ۔ اور پھر اورنگ زیب کے مرتے ہی مغلوں کا ہندوستان میں زوال شروع ہو گیا۔ حتیٰ کہ مغل بادشاہ سراج الدین بہادر شاہ ظفر  کی حکومت دلی کے لال قلعے تک محدود ہو کر رہ گئی ۔ بادشاہ کی حیثیت ایسٹ انڈیا کمپنی کے پنشن خوار  کی ہوگئی  ۔ 1857 ء کی جنگ آزادی اور پھر شکست کے بعد  ہمایوں کے مقبرےمیں پناہ گزین بادشاہ  گرفتار ہوا ، مقدمہ چلا ، غداری کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی اور جو بعد میں رعایت کر کے جلا وطنی میں تبدیل کر دی گئی ۔ مغلیہ سلطنت کا یہ آخری چراغ رنگون میں کسمپرسی کے دن گزار کے راہی عدم ہوا۔ہندوستان پر مغلیہ خاندان نے کم و بیش ایک ہزار سال تک حکومت کی تھی ۔ دلی کی تباہی سے جہاں سلطنت کے والی وارث اور شہزادے شہزادیاں در بدر ہو گئے اور غربت کے دن دیکھے ، وہیں کچھ ننگِ وطن غداران  بد نسل لوگ انگریزوں کی مدد کے صلے میں جاگیریں پا کر نواب اور خان بن بیٹھے۔ پھر پاکستان بن گیا اورتاریخ کے بحر ظلمات سے لوٹ کے بدھو گھر کو آئے ۔

 افففف بہت خوفناک اور تھکا دینے والا سفر تھا ، لگتا ہے آپ بھی بور ہو رہے ہیں ، چلیے آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں ۔۔۔۔۔

جاری ہے
اس کہانی کی اگلی قسط ملاھظہ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

Sunday, 5 May 2013

جزقیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار (مغزل کہانی قسط نمبر 7) -

3 آرا
گزشتہ سے پیوستہ

اچانک  ایک جھماکا سا ہوااور جھٹکے  سے  میری آنکھیں کھل گئیں   ۔
مگر یہ کیا۔۔۔۔؟؟؟
یہ تو کوئی  اور دنیا  ۔۔۔ کوئی اور  ہی عالم تھا ۔۔۔۔
شاید  نہیں  بلکہ یقیناً  میں  عالم موجودات کی بجائے عالم محسوسات  میں  تھا ۔ بے اختیار  اٹھنے کی کوشش کی  مگر صرف  سوچ کر رہ گیا ، کیونکہ میں پہلے ہی  اٹھا ہوا تھا ۔ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ چار  سیاہ  پوش ہیولوں نے مجھے ٹنگا لولی  (چار  طرف سے  یعنی دونوں بازو اور دونوں  ٹانگوں سے اٹھانا) کر رکھا  تھا اور ایک طرف کو  بھاگے جا رہے تھے ۔ یہاں  بھاگنا لفظ میں نے  ان کی تیز  رفتاری  کابیان کرنے کیلئے استعمال کیا ہے  جبکہ  حقیقت یہ تھی  کہ  وہ مجھے اٹھائے  ہوئے  ہوا میں  تیزی سے اڑے جا رہے تھے ۔ حیران ہو کر  سوچا "یا الٰہی !! یہ ماجرا کیا ہے " اور ہیولوں کو مخاطب کر کے پوچھا:۔ " کون  ہو بھائی ؟ کدھر لے جا رہے ہو  مجھے ؟ میں  نے   تمہارا  بگاڑا کیا ہے ۔۔؟؟ "میرے مخاطب کرنے پر  ایک ہیولے  نے میری جانب دیکھا اور میں لرز کر رہ گیا ۔ سرخ انگارہ آنکھیں کسی  بھی قسم کے  تاثرات  سے عاری تھیں۔  صد شکر کہ باقی  چہرہ  سیاہ  لبادے میں   ڈھکا ہوا تھا ورنہ  ۔۔۔ 
ایک  آواز میرے کانوں  سے ٹکرائی :۔ " پہچانا نہیں ہمیں۔۔؟؟ ہم موت کے فرشتے ہیں۔ اور  تمہاری روح کو تمہارے  ٹھکانے  یعنی سقر  مقر ہاویہ زاویہ  تک پہنچا  نا  ہماری ذمہ داری ہے  ۔" میری تو  سٹی گم ہو گئی ۔  کانپتے ہوئے بولا :۔ " کیوں مذاق کرتے ہو یار ۔۔۔ ویسے بھی میں اپنی  آپی  سے ملنے  آیا تھا  کوئی  ڈاکا  ڈالنے تونہیں آیا تھا  ۔۔۔تمہیں  کوئی غلط فہمی ہوئی ہے شاید ۔"
جواب ملا :۔ " ہم یہ سب نہیں جانتے ۔ اور نہ ہی جانناچاہتے ہیں۔ ہر بندہ  موت کو سامنے  دیکھ کر  ایسے ہی  اپنے آپ کو  معصوم ثابت کرنے  پر تل جاتا ہے ۔ یہ ڈرامے ہم روزانہ  دیکھتے ہیں۔ ویسے بھی  ہماری تمہاری  کوئی دشمنی نہیں۔ ہم تو بس اپنی ڈیوٹی نبھا رہے ہیں۔ ہمارے چیف  یعنی ملک الموت  روحوں کو جسم سے  جدا کرتے ہیں، اور روح کو  اس دنیا سے اس دنیا  میں اس کے ٹھکانے تک  پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے ۔اور  اب تم مر چکے ہو ۔"
میں نے کہا :۔ " مرنے کا مجھے  غم نہیں ۔  مگر  یہ شدادجیسا انجام میرے مقدر میں کیوں لکھا تھا ۔ اس نے بھی  جنت میں پہلا قدم رکھا تھا کہ  موت  نے آن دبوچا ، اورمیں بھی  ساری  زندگی کی تلاش کے بعد  جب  منزل پر  پہنچا  تو پہلے قدم پر  ہی ملک الموت کے ہتھے چڑھ گیا ۔"
کیا بیاں کرکے مرا روئیں گے یار
مگر "شگفتہ  بیانی "  میری 
اچانک  ایک خیال  آنے پر میں نے پھر پوچھا :۔ " میرے  اتنے دوست  تھے ۔ کسی نے مجھے بچانے  کی کوئی  کوشش نہ کی۔۔۔؟؟"  جواب ملا :۔ " موقع پر جو  موجود تھے  ان میں سے  مذکر  تو سر پکڑ  کے بیٹھ گیا  اور  جوشِ اشک سے  طوفاں  برپا کرنے پر تل گیا ۔  البتہ  خاتون نے ہمیں روکنے کی بہت کوشش کی ، اور دھمکایا بھی  بہت ۔ لیکن ہم   دو گرہوں میں بٹ کر اسے چکمہ دینے اور تمہیں لے کر نکل بھاگنے میں کامیاب ہو ہی گئے۔  باقی  دوستوں کا حال  نیچے خود دیکھ لو۔" یہ سن کر میں  سر گھماکر  نیچے دیکھنے لگا۔ اس وقت  ابھی ہم کراچی  کی فضاؤں میں ہی تھے ۔
 ایک جگہ یوسف ثانی  صاحب نظر آئے ۔  ہمیشہ مجھے چھوٹا بھائی سمجھ کر شفقت فرمایا کرتے  تھے ۔ سوچا  بندہ مومن ہیں  مدد نہ سہی  کوئی تسلی  تو دے ہی دیں گے ۔  آواز دی ۔ سن کر افسردہ  ہو گئے  اور فرمایا :۔" چھوٹے میاں اللہ کو یہی منظور تھا ۔ اس کے کاموں میں کون دخل دے سکتا ہے بھلا ۔  تم  اپنا راستہ ناپو اور  ہمیں تمہاری جواں مرگی  بلکہ پردیس  مرگی  پر  صبر کے  گھونٹ بھرنے دو۔  تمہاری بدقسمتی کہ  میں ایصال ِ ثواب  وغیرہ کا بالکل قائل  نہیں۔  کسی فاتحہ  شاتحہ کی امید نہ رکھنا۔"
ہوئی توقع  جن سے خستگی کی داد پانے کی۔۔۔
اس ٹکے سے جواب  کے بعد  کسی  اور سے "کس امید پہ کہیئے  کہ آرزو کیا ہے۔" ٹھنڈا سانس لے کر  مہ جبین آپی  کو یاد کیا اور ان کی تلاش  میں نظریں یہاں  وہاں  دوڑائیں ، مگر ان کا گھر  شاید کہیں پیچھے رہ گیا تھا ۔  صبر کے سوا چارہ ہی کیا تھا ۔ مومن  نے بھی کیا خوب کہا  تھا مگر  خوامخواہ  ہی کہا تھا؎
چارہ دل  سوائے صبر نہیں
سو تمہارے سوا نہیں ہوتا
اسی  اثنا میں جامشورو ، لاڑکانہ ، حیدرآباد ،  روہڑی  ، سکھر بھی  گزر گئے ۔  آگے  پنجاب  اور بلوچستان  کی سرحد آنے والی تھی ۔  مغرب کی جانب  سے  شاید  مستونگ  میں کوئی  رند  بیٹھا  گنگنا  رہا تھا ؎
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت  کو ملیں گے
کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
پنجاب کی سرحد  شروع ہوئی  کشمور سے گزرتے  ہوئے جونہی صادق آباد پہنچے  ایک ہنگامہ برپا تھا ۔ پہیہ  جام ہڑتالیں تو سنیں تھیں مگر ان مظاہرین  نے پہیہ سمیت سب کچھ جام کر رکھا  تھا حتیٰ  کہ دریائے  سندھ کا پانی بھی۔ بہت معرکے کا  احتجاجی مظاہرہ تھا ۔ جس کے روح رواں  کوئی گول مٹول  مگر نہایت ہینڈسم  صاحب(جیسے ہنڈا سوک  ، یا سوزوکی مارگلہ ) تھے گود میں ایک بہت ہی پالی پالی شی سویٹی  پری  کو اٹھایا ہوا تھا ۔احمد  علی ،  محسن وقار ،سید زبیر اور چند  نامعلوم  بہی خواہ  بھی  صف ِ اول  میں  نعرہ  زنی  میں مشغول  تھے۔  ان کے مطالبات  کا خلاصہ یہ  تھا  کہ  چھوٹا  غالب  کو نشانِ حیدر  دیا جائے ۔  اور حکومتی خرچ پر  ان کا شاندار  مزار تعمیر کروا کے ان کے خلیفہ  جناب ذوالقرنین  سرور صاحب  کو  سجادہ نشین کا منصب سرکاری طور پر سونپ دیا جائے ۔ ورنہ  اسلام آباد تک  ڈائیوو  میں بیٹھ کر لانگ مارچ تو  کیا لانگ ا پریل سے بھی دریغ نہیں  کریں گے۔
دل  کو بہت ڈھارس بندھی  اور ان  ہوا  خواہوں کیلئے تشکر  انہ  جذبات امڈ  امڈ آئے ۔
جز قیس اور  کوئی  نہ آیا بروئے کار 
  خیر ۔۔۔رحیم یار خان  پلک جھپکتے  گزر گیا ۔ بہاولپور  سے  آواز  آ رہی  تھی "خس کم جہاں پاک۔ مسخرہ کہیں کا " ملتان  خانیوال  بھی گزرگئے  چیچہ  وطنی سے   گزرے  تو ساہیوال   کی  جانب سے کوئی پکار نے والا پکار رہا تھا :۔ " احمد فراز کو میرا  سلام کہیو۔" راوی  پار کیا  تو  کمالیہ  شروع ہوا ، کوئی  لاہوری پٹھا  باقاعدہ  سلطان راہی  والے سٹائل  میں بازو لہرا لہرا کے  بڑھکیں مار تے  ہوئے  آپے سے  باہر  ہوا جا رہاتھا :۔" اوئے ساڈا  ڈنگیا تے پانی نئیں منگدا ۔۔ ۔ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔ ہااااااا۔۔۔ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔"ٹوبہ  ، رجانہ ، گوجرہ  سے  گزرتے ہوئے  جب  سمندری  پہنچے تو  فیصل آباد  کی جانب سے  ڈھول  کی ڈھما ڈھم  سنائی دے رہی تھی ۔ قریب  پہنچے  تو  دیکھا کہ  لوگ بغلیں بجا رہے تھے،  اور مٹھائیاں بانٹ رہے تھے ۔۔ اور وہ جو  قصور والوں سے اک موہوم   سی امید تھی  انہیں لاہوریوں  سمیت  وہاں بھنگڑے ڈالتے دیکھ کر  مر گئی ۔ حالانکہ  قصور والوں کو  تو  کم از کم سمجھا نا  چاہیے تھا ان نادانوں کو  کہ "  دشمن مرے تے خوشی نہ کرئیے۔۔۔  سجناں وی مر جانا۔" 
سرگودھا ، گوجرانوالہ  میں میرا تھا ہی کون ۔  میں نے فرشتوں سے  کہا  کہ میری آخری خواہش کے طور پر پلیز  موٹر وے  والا روٹ  پکڑو ۔  اور براستہ وزیرآباد ، سیالکوٹ چلو ۔  اس بے ضرر  سی خواہش میں ان کا کیا گھاٹا تھا۔ وہیں سے ہو لیے ۔ سیالکوٹ  سے گزرنے لگے توایک  جگہ سے دھوئیں کے   مرغولے اٹھتے  دیکھ کر  میں سمجھ  گیا  کہ    حضرت  یہیں رونق  افروز  ہیں  ۔ پکے  سگریٹ  کے  سوٹے لگا تے  ہوئےکوئی  عالم ِ بے کیفی  میں نعرے لگا رہا تھا "لگے دم ۔۔ مٹے غم ۔۔۔  پی پیالہ صبر دا ۔ ۔۔ کوئی نئیں ساتھی قبر دا   ۔۔۔ جھولے  لال ۔۔۔۔۔"مجھ سے  رہا نہ گیا ۔  میں نے بے اختیار  پکارا :۔ "  پیر بھائی ۔۔۔!!میں دنیا تیری چھوڑ چلا۔۔۔فرشتے  مجھے اغوا کر کے لے جا رہے ہیں " مست  ملنگ تھوڑا چونکا  اور پھر  اسی  ٹون میں بولا :۔ " اچھا دوست  میری تو دعا ہے جہاں رہو خوش رہو۔۔۔۔  مرشد  کو  سلام دیجو ۔ ۔۔(ایک   اور سُوٹا لگا  کر ) جھولے لال ل ل ۔۔۔۔"
میں ہوں فسردگی کی آرزو غالب کہ دل
دیکھ کر  طرزِ تپاک ِ اہل دنیا جل گیا
اسی  دوران پنڈی  بھی آ گیا ۔ اسلام  آباد  کی فضاؤں میں داخل ہوئے تو  چائے  کی  بہت ہی زبردست  خوشبو  کی  لپٹیں ناک سے ٹکرائیں ۔ البتہ یہ بتانے سے قاصر ہوں کہ لپٹن یلو لیبل  کی  خوشبو تھی یا سپریم   کی (کیا معلوم کھلی  پتی  ہو) بہر  حال جو بھی تھی خوشبو  بڑی  زبردست تھی   شاید الائچی  یا سونف   کا تڑکا  لگایا  گیا  تھا ۔ ناک  کو اس کے حال  پہ چھوڑ  کر کان لگائے تو   آواز آئی :۔
نہ ترے آنے کی خوشی نہ  جانے کا غم
کہ یہی ہے  قلندر کی متاعِ زندگی۔۔۔!!
قریب تھا  کہ ہم  کشمیر سے گزرتے ہوئے  گلگت  بلتستان کی حدود میں داخل ہوتے کہ کیا  دیکھتا ہوں خیبر پختونخواہ  کی جانب سے  کچھ ہر اہرا  سا غبار  اڑتا ہماری  طرف آتا  دکھائی  دیا ۔ فرشتوں کی رفتار میں تیزی آ گئی  کہ طوفان آنے والا ہے  جلدی یہاں سے نکل چلیں۔ مگر دیکھتے ہی دیکھتے ہرے  رنگ کا طوفان  قریب پہنچا اور ہمارے قافلے  کا  راستہ روک لیا ۔  اور  طوفان  میں  سے ایک نورانی پیکر  نمودارہوا ۔  یقیناً  میری طرح آپ کو حیرانی ہو گی  کہ ہمارا راستہ روکنے والا کوئی ٹارزن ، ہرکولیس ، تھور یا سپائیڈر مین نہ تھا ۔  نہ ہی ہلک  ، یا  دی میٹرکس  کا "نیو" تھا ۔ بلکہ  ایک  نرم و نازک سی خاتون تھیں۔ چہرہ  مہندی  کے بڑے بڑے پتوں میں چھپا ہوا ہونے کی وجہ سے میں پہچان نہ پایا۔ البتہ  ان  کے نہایت  خوبصورت  ، چمکیلے  بلکہ  نورانی  (اتنے خوبصورت کہ حوریں  بھی رشک کرتی اور  ان سے کریم مانگتی  ہونگی )مزید حیرانی یہ  کہ  ان خوبصورت ہاتھوں نے  مسکارا ، آئی  لائنر ، لپ سٹک نہیں بلکہ  پمپ ایکشن  رپیٹر  تھام رکھا تھا ۔ اچانک  سریلی آواز میں گرجیں:۔ "خبردار ۔۔۔!!  جو ایک قدم بھی آگے  بڑھایا تو ۔ میں فائر  کرنے  سے دریغ نہیں کروں گی  اور کسی  بھول میں مت  رہنا  میرا نشانہ  "وانٹڈ "  کی انجلینا جولی  سے  بھی  زیادہ پکا ہے ۔" فرشتوں نے ہینڈ بریکس  کھینچ  لیں اور  مذاکرات کا ڈول ڈالا :۔ "دیکھئے  معزز  خاتون !  ہم کوئی ہوائی مخلوق نہیں ۔  رب  کائنات کے فرشتے  ہیں۔  اور اسی کے  حکم سے  اس بدبخت  کی روح کو  یہاں سے  اگلے جہاں پہنچانے  جا رہے ہیں۔ "
محترمہ کی غصے بھری آواز  آئی (چہرے کی تاثرات  تو میں دیکھ نہیں پایا):۔ " سوچ سمجھ کے بولو  میاں فرشتے ۔  آدم  مسجود ملائک  ہے  ، اور  پھر  یہ  صرف  آدم  ہی نہیں بلکہ میرے پیارے  چھوٹےبھیا بھی ہیں۔اور  اگر ہاروت  ماروت  کا انجام  یاد ہو  تو پھر میرے غالب بھیا  کو بدبخت  کہنے کی جرات  نہ کرنا ۔ "
ایک فرشتہ بولا:۔ " معزز خاتون !  ہمیں آپ کے  خواہرانہ  جذبات  کی قدر ہے ۔  مگر  آپ کو شاید  یہ معلوم نہیں کہ  اس  بد۔۔۔۔ (کہتے کہتے  ایک دم زبان غوطہ  کھاگئی ) میرا مطلب ہے  کئی لوگوں کی طرف  اس  پر  بداخلاق ہونے  اور ناپاک جانور(شاید کتا  شاید سور۔ واللہ اعلم)  ہونے کے الزامات  عاید کیے گئے ہیں۔"اور  طوفان  میں جیسے بھونچال آ گیا ۔ گرج کر بولیں:۔ " لوگ کون ہوتے ہیں میرے  بھیا پر اس طرح کے الزام لگانے والے ۔  میں تو ۔۔۔۔۔ " ابھی وہ آگے  کہنے ہی والی تھیں کہ  ہمارے پیچھے کچھ دیکھ کر  چونکیں اور رک گئیں۔ انہیں  چپ ہوتا دیکھ کر فرشتوں  نے بھی غیر ارادی  طور پر  پیچھے مڑ کر دیکھا  ، (ظاہر ہے میں نے بھی)  اور ایک خوبصورت پری کو آتا دیکھ کر  مزید گھبرا گئے ۔  پری  کیا  تھیں بس یوں سمجھیے  کہ پرستان کی  شہزادی بنفس نفیس  تشریف لائی تھیں۔  (جنہوں  نے  فلم "ٹِنکر بیل اینڈ دی  لاسٹ ٹریژر"  میں  کوئین فیری کو  دیکھا  ہو۔ وہ سمجھ گئے ہونگے ) سنہری ستاروں میں ملبوس ۔ ہاتھ  میں  ستارے  والی چھڑی  لیے  وہ  شہزادی  قریب پہنچیں اور آتے  ہی  فرمایا:۔ " شاباش  حنا! بہت اچھا کیا ۔  اگر تم انہیں نہ روک لیتیں مجھے  ابھی  نجانے  اور کتنی بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ۔" اور یہ سن کر میں حیرانی  سے اچھل تو  نہ سکا  مگر بہت  حیران ضرورہوا۔ یعنی  کہ یہ  میری  سپر گریٹ  آپی  جی ہیں۔ مگر  منہ کیوں چھپا رکھا ہے  ، اور اسی  وقت مجھے  خیال آیا کہ  صرف  حنا آپی ہی  نہیں فیری  آپی نے  بھی چہرہ  بھی نقاب  میں   تھا ۔  میں تو بھیا  ہوں ان کا ۔۔ شاید  فرشتو ں سے پردہ کر رکھا ہو۔ میں ابھی  اسی  سوچ میں تھا کہ ایک فرشتے  کی آواز آئی :۔ " دیکھیں بی بی  آپ خدائی کاموں میں ٹانگ اڑا رہی ہیں ۔۔۔ اچھا نہیں کر رہی  ہیں۔ اس کا نتیجہ اچھا  نہیں ہوگا۔"
فیری  آپی  پھنکاریں:۔ "وہ سب بعد میں  دیکھی جائے  گی  ابھی تو  ہمیں چھوٹے  غالب کا بلیک  وارنٹ دکھاؤ۔ کراچی  سے توتم  مجھے چکمہ دے کے بھاگ نکلے ،  مگر اب  حنا اور  مجھ سے  بچ کے نکلنا  مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔ "(ڈون والے  سٹائل میں)
فرشتوں  نے بیک زبان کہا:۔" بلیک وارنٹ تو  ہمارے پاس نہیں ہے ۔وہ تو ملک الموت  کے پاس ہوتا ہے ۔"  آپی  کہاں  اس فریب میں آنے  والی تھیں۔  گرج کے بولیں:۔ " مجھے الو سمجھا ہے کیا؟  میں نے " دی فینٹم  ممی " اور "  پائریٹس  آف دی  کیربیئن۔ ایٹ  ورلڈز اینڈ"  نامی  فلمیں دیکھی  ہوئی ہیں۔ اور  اتنا تو مجھے  پتا ہے  کہ  روح کو لے جانے والے  فرشتوں کے پاس پروانہ راہداری  ضرور  ہوتا ہے ۔ ورنہ  روح اس عالم میں داخل نہیں ہو پاتی۔ چلو اب نکالو  جلدی ۔۔ شاباش۔"ناچار  فرشتے کو میرا بلیک وارنٹ اور  پروانہ  راہداری  نکال کے دکھانا ہی پڑا ۔ حنا آپی نے  دیکھ  کر فتویٰ دے  دیا کہ  یہ  پروانہ  جعلی ہے ۔  فرشتہ  چڑ کر بولا:۔ " بی بی ۔  پروانہ  راہداری   پروانہ  ہوتا ہے ، اصلی  ہو جعلی۔"
اتنے میں فیری آپی  حنا آپی  کے قریب ہوئیں  اور  اردو  میں کھسر پھسر کی ۔ فرشتوں  کے تو سر سے گزر گئی  مگر  چونکہ "اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتےہیں داغ"  اس لیے  میں نے سب سن بھی لیا اور ان کا پلان   بھی سمجھ گیا۔فیری  آپی  کہہ رہی تھیں:۔ "حنا !  جیسے  بھی  ہو ، ہمیں ان کو باتوں میں لگائے رکھنا ہوگا ۔ کیونکہ  مہ جبین آنٹی  مصلے  پر بیٹھی  دعاؤں میں مشغول ہیں۔ انہوں نے کہا ہے  تم فرشتوں  کو اُس دنیا  میں جانے  سے  جتنی دیر روک سکتی ہو روکے رکھو۔ اس  دنیا کا معاملہ اسی دنیا  میں ہی نپٹ جائے  تواچھا ہے ۔ " حنا  آپی  کی مسکراتی ہوئی آواز سنائی دی:۔ " ہرااااااا۔۔۔۔  میں بھی سوچ رہی تھی  کہ مہ جبین آنٹی کہاں غائب ہیں ۔  لگتا ہے  اب تووہ فیصلہ اپنے  حق میں کروا کے ہی دم لیں گی ۔  بہت  پہنچی  ہوئی بی بی ہیں ۔ مجھےان پہ یقین ہے۔"
میں بیان  نہیں کر سکتاکہ  مجھے  اس وقت  کتنی  خوشی  ہو رہی تھی ۔  آپ غلط سمجھے مجھے دوبارہ  زندگی  ملنے کی  خوشی نہیں بلکہ اتنی پیاری  اور دبنگ  بہنوں  کاچھوٹا  اور لاڈلا بھیا  ہونے  پر خوشی  اور فخر  سا ہو رہا تھا ۔  دنیا میں مجھ جیسا  خوش قسمت  اورکون ہو گا  بھلا ۔
اس دوران    فرشتے بھی  ڈائریکٹ  ایکشن کے  فیصلے  پر متفق ہو کر ڈو آر ڈائی   کے موڈ میں آ گئے   کہ اچانک   ایک اور فرشتہ  نازل ہوا ۔ مگر وہ  ان  موت کے فرشتوں جیسا  نہیں تھا ۔  بے حد وجیہہ  ، پاکیزہ  ، نورانی  صورت کہ دیکھ کر بے  اختیار  اللہ  کے  حضور جھک  جانے  کا خیال  آئے  جو اتنی مخلوقات  کا خالق  اور مالک ہے ۔

اس کہانی کی آخری قسط انشاءاللہ جلد ہی  پیش کر دی جائے گی

یہ نہ تھی ہماری قسمت (مغزل کہانی قسط نمبر 6) -

2 آرا


گزشتہ سے پیوستہ


کراچی میں جیسے  اکثر شبِ برات کا ہی سماں رہتا ہے ۔ شُرلیاں  پٹاخے (جاندار  شرلیاں پٹاخے منہ نہ بنائیں یہ ان کا  تذکرہ  نہیں) رونق بڑھائے رکھتے ہیں کہ  "نوحہ غم ہی  سہی نغمہ شادی  نہ سہی" ۔  شاید اس کی  ایک وجہ  بے تحاشا  بڑھتی ہوئی  شرح آبادی پر کنٹرول  کی کوشش بھی  ہو ۔ لیکن  موت کے فرشتے  اور میٹرنٹی ہومز ، دائیوں  وغیرہ  میں   کانٹے کا مقابلہ  ہے ۔ وہ  مارتے مارتے  تھکتا ہے  نہ  ثانی الذکر کو  زچگیوں  کی ہڑبونگ  سانس لینے کی فرصت دیتی ہے ۔  مگر جیساکہ   ہاتھیوں  کی لڑائی میں ہمیشہ  بے چارے مینڈک  ہی زیادہ رگڑیں چوٹیں کھا بیٹھتے ہیں وہی حال  بے چارے  ایدھی  کارکنان کا ہے ۔  وہ بھی آخر  انسان ہیں پیالہ و ساغر تو نہیں ،  اس گردش مدام اور جنازوں  کے اژدہام  سے  میرا دل  بھلا  کیوں نہ گھبرا جاتا ۔ میں بھی تو  میڈ بائی  مٹی ہوں  کوئی  سلی کون سے تو  نہیں بنا ہوا ۔  بقول شاعر؎
ختم ہوتا ہے کب کارِ جہاں
اک  نہ اک دردِ سری رہتی ہے
ایک  بار  لالو کھیت  میں  جب میں دیگر کارکنان  کے ساتھ جائے حادثہ  پر  امدادی  کاموں میں مصروف تھا کہ  ناگاہ    سریلی  سی زنانہ آواز میں کسی نے  میرا نام  پکارا :۔ "غالب صاحب ۔۔۔!!"ہرچند کہ  میں جوگی ہوں مگر دل تو  بچہ ہے جی ۔۔۔  کان  کھڑے کیسے نہ ہوتے ۔ دماغ نے  یاد دلایا  "ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد"اب  دل اور دماغ  میں جھگڑا  شروع  ہوگیا  اور "  ایماں مجھے روکے ہے  جو کھینچے ہے مجھے کفر"  والی  صورتِ حال پیدا ہو گئی ۔   میرے اندر  کا  فیلسوف  چلایا : بھلا  اس دیارِ غیر میں غالب خستہ کا واقف  کون نکل آیا وہ  بھی  کوئی صنفِ نزاکت سے ۔قریب  تھا کہ  میں  وہم سمجھ کر سر جھٹک  کے  اپنے کام میں مصروف ہو جاتا کہ  آواز دوبارہ  آئی  اور اس بار  آواز  کا مخرج  کہیں قریب  ہی محسوس ہوا ۔ آواز کی سمت  دیکھنے کو مڑنے ہی لگا تھا  کہ  ایک دم  جیسے  کوئی  مقناطیس کا  جنوبی قطب  مجھے شمالی قطب سمجھ کے مجھ  سے لپٹ گیا ۔  میں حیران  اور کچھ کچھ  پریشان ۔۔۔ اور  سچ کہوں  تو کچھ کچھ بے مزہ بھی ہوا ۔۔۔  کیونکہ  اچھا  خاصا  میں کسی  کے بلاوے  پر لبیک  کہنے ہی والا تھا  کہ  یہ کباب  میں ہڈی ٹپک پڑی ۔ ہڈی کو اپنے  حال پر چھوڑ کر میں نے  سریلی  خاتون  کی تلاش میں  ادھر ادھر  نظروں کے گھوڑے دوڑا ئے ۔  مگر گوہر مقصود ہاتھ  نہ آیا ۔ جھنجھلا  کے کباب  میں ہڈی  کی  جانب توجہ کا خیال  ۔  اچانک دماغ  میں کوندا لپکا  کہ کہیں لپٹنے کے بہانے  پیٹ میں خنجر نہ گھونپ دے  اور میرا خون  لپٹن یلو لیبل  کی چائے کی  مانند  لالوکے کھیت  کو سیراب  کرتا نظر آئے ۔ اور  بقول سعدی ؒ تریاق  کے عراق  سے آنے  تک کہیں  سانپ کا  کاٹا  پردیس  میں  جان نہ دے بیٹھے ۔ اس  لیے جس قدر جلد  ہو سکے  موصوف کا  چہرہ  دیکھ لیا جائے  تاکہ  سند رہے اور  بوقت وصیت کام آ سکے ۔ مگر  مصیبت  یہ تھی کہ  میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں کمبل مجھے  نہیں چھوڑتا ۔  اگر یہ معانقہ ہے تو  معانقے کی بھی کم از کم ایک  حد ہوتی ہے  ، یہ تو نہیں  کہ "چپکا لے سیّاں  فیوی کول سے " ۔
میں نے  ردعمل کے  طور پر اپنی  ٹارزنیت  کا مظاہرہ  فرمایا  اور جناب کی پسلیوں نے احتجاجی  نوٹس جاری کیا  تو انہیں الگ ہونے کا خیال آیا ۔ الگ ہوئے  اور پھر  مجھے پکارا :۔ "ارے غالب بھیا  ۔۔۔ آپ اور یہاں ۔۔"مردانہ  منہ سے  زنانہ  آواز  نکلتے دیکھ کر حیران رہ گیا اور  بے اختیار سوچا"اب سو چ میرے دوست خدا ہے کہ نہیں ۔"اور بے حد خوش بھی ہوا ۔ اس بار کھٹاک سے لپٹنے کی باری میری تھی ۔ 
تعارف بھی کرادیتا ہوں  ذرا دھنگ سے مل تو لینے دیں ۔ نہیں نہیں ۔۔۔ تعارف  کرانا ٹھیک نہیں ۔  البتہ کچھ اشارے (خبردار  اس سے  وہ والے  اشارے  مراد لے کر  خواتین مجھے لوفر لفنگے  کے خطاب نہ دینے بیٹھ جائیں )دیتا  ہوں تاکہ ذرا قارئین کی توجہ  کا بھی اندازہ ہو سکے کہ پڑھتے بھی ہیں یا بس سکرول  کر کے ۔۔۔۔۔  خیر  ۔۔۔ چھوڑئیے !!۔ 
ایک گورا چٹا  خوبصورت گھبرو  جوان ۔ ۔۔۔
چہرہ  سنجیدہ  مگر آنکھوں میں شرارت اور ذہانت کے لشکارے ۔۔۔۔
آواز سے  تو اچھا  خاصا  بندہ  بھی دھوکا کھا جائے ۔۔۔  
جیسے آشا بھوسلے  نغمہ سرا  ہوں ۔۔۔ 
کچھ کچھ ناہید اختر سے ملتی  جلتی آواز۔۔۔۔
گانا  شروع کر دیں توامید ہے لتا منگیشگر  کی روزی روٹی  بند ہو جائے ۔۔۔۔
المختصر یوں سمجھ لیں کہ  ببر شیر  کلین شیو  کروا کے  آ یا ہو  جیسے ۔۔۔۔
ابھی تک  مجھ سے چپکے ہوئے ہیں  ۔۔۔ پس ثابت ہوا کہ  میرے پیڈ سٹل فین  بھی واقع ہوئے  ہیں ۔ 
میں نے کان میں کہا :۔"  ۔۔۔۔ بھائی چھوڑ دیں اب تو  لوگ ہمیں مشکوک  نظروں  سے دیکھنا شروع ہو گئے ہیں ۔  "  
اس جگت نے پسلی خلاصی کروا دی  ورنہ یہ تو  شاید  ایک دو پسلیاں  کڑک کرنے  پر تلے ہوئے تھے ۔ چھوٹتے ہی بولے :۔ "  واہ صاحب واہ۔۔۔!!  نہ کوئی  پیام نہ خبر  ۔۔۔ اچانک کراچی میں آن ٹپکے ۔۔۔  اتنی کچی دوستی  تو ہماری نہ تھی  کہ  مجھے بتانا بھی مناسب نہ جانا آپ نے ۔" میں نے بولنے کیلئے منہ کھولا  مگر بولنے کی حسرت لیے کھلے کا کھلا ہی رہ گیا  کیونکہ وہ مجھے بولنے کا موقع دینے کو تیار نہ تھے ۔ ان کی آکاش وانی  سے نشریات بدستور جاری تھیں ۔۔۔:۔ "اور ایدھی میں کب سے جاب سٹارٹ کی ۔۔۔؟ لگتا ہے کافی دنوں سے کراچی میں ہیں  ۔۔۔۔ مگر اس قدر بے گانگی کہ ہم کو  بتایا بھی نہ ۔۔۔۔ (آگے بہت سا وغیرہ وغیرہ ) " ۔جیسے ہی سانس لینے کو رکے میں موقع غنیمت جان کر عرض حال پیش کیا کہ ؎
بنا کر رضاکاروں کا ہم بھیس چھوٹا غالب
نشانِ  مغل و  خانہ ءِ  غزل  ڈھونڈتے ہیں 
 نیز پوچھا کہ "آخر  اس درد کی دوا کیا ہے؟"  ۔ میری بات ان سنی کر کے  ایک بار  پھر اپنی  ہانکنے  لگے :۔ "اگر میں تماشا دیکھنے باہر  نہ آیا ہوتا تو  آپ سے ملاقات  سے محروم رہ گیا ہوتا ۔ اب قسمت  سے کراچی  آ ہی گئے ہیں تو ہمیں بھی مہمان  نوازی کا موقع دیں ۔  " میں نے کہا :۔ "آپ کا  خلوص و محبت سر آنکھوں پر۔ میں جس  کام کو گھر سے نکلا ہوں  وہ ہر بار بیچ میں رہ جاتا ہے۔ اس لیے پہلے میری مشکل کا کوئی  حل نکالیں ۔ "
بولے:۔ "اب فکر فاقے سے باہر تشریف لائیے ۔ غزالوں کے  ٹھکانے  کی سن گن بھی مل جاوے گی مگر پہلے ہمیں میزبانی کا  شرف بخشیں  ۔"  اب اس قدر محبت اور اصرار سے کوئی  بلائے تو کون کافر انکار  کی جرات کرے  ۔ ان کی تقریر  جاری تھی  ۔"قریب ہی میرا غریب خانہ ہے ۔"  دل کو"قریب" کا لفظ سن کر  خوشی ہوئی مگر پاپی پیٹ کو لفظ"غریب خانہ" پر مایوسی ہوئی ۔ اس نے سمجھاروح افزا کے  ایک گلاس  پر ٹرخا دیں گے یا زیادہ سے زیادہ  ٹینگ کا  ایک ساشے  گھول  کے لے آئیں گے ۔ مگر جب نام نہاد"غریب  خانے " پر میزبان  نے  میزبانی  شروع کی تو   پیٹ میاں    ہانپنے لگے۔۔۔ ہاتھ کھڑے کر دئیے ۔۔۔ میں نے  کہا اب ٹھونس نا خبیث کہیں کے ۔ اب گدھے کی طرح ہانپتا کیوں ہے ۔ مگر پیٹ  منہ تک  بھرا ہونے کی وجہ سے کوئی جواب نہ دے سکا ۔ آخر مجھے ہی رحم آگیا  اور میں نے ہاتھ روک لیے ۔ مگر میزبان کو رحم نہ آیا ۔ اٹھا اٹھا کے سامنے دھرتے  اور ایک دو چمچ چکھنے کا کہہ کر ساری  پلیٹ خالی کرا کے دم لیتے ۔  میں نے دہائی دی تو جا کر پھکی گولڑہ  شریف اور ہاجمولا  کینڈی کا  ایک پیکٹ لے آئے ۔ماشاءاللہ بھابھی جان کے  ہاتھ میں اللہ نے  خوب ذائقہ دیا  ہے ۔ اگر الٹیاں لگنے  کا ڈر نہ ہوتا تو رکنے والا میں بھی نہیں تھا۔اس  دعوت ِ شیراز  کے اختتام پر  فدوی  نے اس حج کا  ثواب ان کی نذر کیا جو  کبھی نہ کبھی ہم کریں گے۔ 
 ان کے صاحبزادے  سے ملاقات  کا شرف حاصل ہوا اور  ایسا لگا کہ چلبل پانڈے  کا  بچپن میرے سامنے ہے ۔  شکل ایسی معصوم ، سنجیدہ   اور  فلسفیانہ    جیسے ارسطو  دوبارہ  پیدا ہو گیا ہو ۔ حرکتیں  ایسی کہ  شیطان  ِ اعظم بھی پیٹ پکڑ کر  ہنستا ہنستا  گر پڑے (قدموں میں)  اور مریدی  کی  درخواست  پیش کرے ۔
ہاجمولا  چباتے  ہوئے  میں نے  یاد دلایا  کہ  آپ نے  کچھ وعدہ بھی کیا تھا ۔  بولے  :۔ " یاد ہے وعدہ  !  مگر اس سے پہلے  آپ کو ایک وعدہ دینا پڑے گا ۔"  
میں نے کہا:۔ " پردیسی کو بلیک  میل کرتے ہو میاں  ۔اللہ پوچھے آپ کو ۔۔" ناچار وعدہ کرتے ہی بنی۔بولے:۔ " غزالوں کا  پتہ میں  ڈھونڈ لاتا ہوں مگر  اس  سے پہلے آپ وعدہ کریں  کہ آپ  جتنے دن  کراچی میں ہیں ہمارے مہمان رہیں گے ۔  "  میں  سٹپٹا گیا:۔ "  کیوں میری زندگی کے درپے ہو کاکا شپاہی ۔۔۔؟ غزالہ  آپی  کو آپ جانتے  نہیں ۔ پٹھان خون  ہے  ۔ مجھے چھری پھیر دیں گی  مگر جیتے جی کسی اور کے ہاں مہمان ہونے  کی اجازت ہر گز نہیں دیں گی۔  البتہ اتنا  کہہ سکتا ہوں کہ واپسی  سے پہلے  ایک دو دن آپ کو میزبانی  کا موقع ضرور دوں گا۔ " کافی  دیر یہ یک نکاتی  مذاکرات  چلتے  رہے ۔ آخر اتفاق رائے ہو ہی  گیا۔ میزبان نے   ہاتف دستی  نکال کر  دو چار جگہ سے  سن گن لی اور  جلد ہی  خوشخبری سنائی۔  میرے  بھی اسد اللہ  خاں  بہادر  کی طرح  خوشی سے  ہاتھ پاؤں  پھول گئے ۔ بس  نہیں  چل رہا تھا کہ ابھی  انہیں  گھسیٹتا  ہوا  سوئے منزل لےچلوں۔ مگر میزبان  اگلے  دن سے پہلے  جان چھوڑنے پر  راضی  نہ ہوا۔ آدھی رات تک تو شکاریات  کے قصے چلتے رہے ۔ تھک گئے  تو خراٹوں سے ماحول  مترنم  کر دیا ۔  میں نے  دل ہی دل میں  مومن  خاں مومن کو یاد کیا ۔ 
شب جو مسجد میں  جا پھنسے مومن
رات کٹی خدا خدا کر کے۔۔۔!!
جیسے مومن کی رات کٹ گئی تھی  میری بھی  جیسے تیسے  کٹ ہی گئی ۔ صبح ہونے والی تھی کہ میں نے رولا ڈال دیا ۔۔۔ ایں ایں ایں ۔۔۔۔ مجھے آپی  پاش جانا ہے ےےےے ۔۔۔ ایں ایں ایں ۔۔۔۔۔  میزبان نے بہتیرا سمجھایا بھائی  دن تو نکلنے دو ۔ میں نے کہا صبح ہو گئی ہے  یار ۔  فرمایا  یہ  جھوٹی صبح (صبح کاذب )  ہے  ۔ مجبوراً چپ ہو گیا اور گھڑیاں گننے لگا ۔ عاشق تو تھا نہیں کہ ستارے  گنتا ۔ مگر  قسمت  دیکھئے  کہ گھڑی بھی ایک  ہی تھی(دیوار پر) اسی کو بار بار  گنتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد سچی صبح کے آثار  محسو س ہوئے تو میں  پھر مچل گیا ۔  میزبان نے تنگ آ کر  ہاتھ جوڑ دئیے ۔ پھر بھی مجھے افاقہ نہ ہوا تو چپل گھسیٹی  اور مجھے لے کر  باہر  نکلے  ۔ باہر تو جیسے ہو کا عالم تھا  انسان تو درکنار  کوئی کتا بلا  بھی  نظر نہ آیا ۔ میزبان نے کہا  :۔ "اب ایسے عالم میں کس سے  راستہ پوچھیں گے۔۔۔؟۔کم از کم صبح تو ہو لینے دو اللہ کے بندے ۔  یہ میرا گھر ہے کوئی  خرکار کیمپ تو  نہیں جو  تمہیں کسی  کل چین  نہیں پڑتا ۔  " خلاف  ِ توقع بات میری سمجھ میں آ گئی ۔  مجبوری کا  دوسرا نام صبر ہے  اور ایک  افواہ کے مطابق  اس کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔ میں نے بھی 9  بجے تک صبر کیا  مگر قسم لے لیں پھل تو  کیا گٹھلی بھی دیکھنے کو نہ  ملی ۔ ہاں البتہ تفصیلی قسم کا بھرپور ناشتہ  سارے دلدر  بھلانے  کو کافی تھا ۔  اگر  ناشتہ ہی صبر کا پھل تھا  تو پھر میٹھا نہیں بڑا کرارااور چٹپٹا تھا ۔  ا س  لیے  تمام  کتب اور ریکارڈز وغیرہ میں درستی  کی جائے اور آئندہ  بھی صبر کا پھل میٹھا لکھ کر  عوام کو بے وقوف  بنانے  کا  سلسلہ موقوف  کیا جاوے ۔ الداعی  الی الخیر :۔ فدوی چھوٹا غالبؔ

قصہ کوتاہ ! ایک دو مقامات سے کمک پا کر  آخر کار  یہ مختصر قافلہ  غزال آباد  جا پہنچا ۔ مگر سرائیکی کہاوت  "جلدی دے اگوں ٹوئے۔" کی طرح جب ہم  افتاں خیزاں  آشیانِ غزل پہنچے تو  دروازے پہ  لٹکا  تالہ  میرا منہ چڑا رہا تھا ۔ نہ جانے کہاں گئے ہونگے ۔ ایک خیال آیا    جیسے عمران سیریز  میں سیکرٹ سروس کے  دھاوا بولنے پر غیر ملکی ایجنٹ  زیر زمین چلے جاتے ہیں اور ایجنسی ہیڈ کوارٹر   کیمو فلاج  کر دئیے جاتے ہیں۔ اسی طرح شاید  میرے آنے کی بو پا کریہ بھی کہیں  کھسک لیے ہونگے ۔ 
قسمت  کی خوبی دیکھئے  ٹوٹی کہاں کمند
دو چار  ہاتھ  جب کہ لبِ بام رہ گیا
میرا اتر ا منہ دیکھ کر میزبان  کی خوئے دلنوازی  نے جوش مارا ۔ اور انہوں نے تسلی دی  :۔" اتنی  زیادہ پریشانی  کی بات نہیں ۔  مکان تو مل گیا ہے سمجھو آدھی پریشانی ختم  ۔ جہاں بھی ہونگے  لوٹ کر تو آخر  یہیں آئیں گے ناں ۔ آپ اس طرح منہ  نہ لٹکائیں مجھ سے ہنسی  روکنا مشکل  ہو جاتا ہے ۔"
ہم بے زار بیٹھے تھے  اور میزبان کو اٹکھیلیاں سوجھ رہی تھیں ۔ میں توانشا کی  طرح  ان سے  "چل راہ لگ اپنی "  بھی  نہ کہہ سکتا تھا کیونکہ ایک تو  شہر انہی کا  تھا دوسرے  میں  مہمان بھی انہی  کا تھا ۔  اس لیےایک ٹھنڈی سانس  لی اور مزید منہ بنا لیا۔میزبان کا دل پسیج گیا ۔ بولے:۔ غالب بھائی ! آپ تو دل پر لے گئے  میں تو آپ  کی پریشانی  کم کرنے  کیلئے  ذرا مذاق  کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔  خیر آئیے واپس چلتے ہیں۔" مرتا کیا نہ کرتا ۔ چل پڑا۔۔۔۔۔
میزبان کوئی  میری طرح نکمے بابو  تو نہ تھے ان کو ایک ضروری کام سے جانا پڑا  تو جاتے جاتے  مجھے کہیں نہ بھاگ  جانے  اورٹک کر بیٹھنے کی  ہزرا ہا تاکیدیں کر کے چلے گئے ۔ میری حالت  عجیب ہو رہی تھی۔۔۔ 
کھڑا تھا ۔۔۔۔ بیٹھ گیا۔۔۔۔
بیٹھ کر بھی چین نہ پایا تو ۔۔۔۔ لیٹ گیا ۔۔۔۔
لیٹ کے  بھی  بے چینی کم نہ ہوئی تو ۔۔۔۔ اٹھ کے ٹہلنے لگا۔۔۔۔۔
بار بار دل میں خیال آ رہا تھا کہ شاید اب واپس آ چکے ہو ں ۔ٹھکانہ تو ان کا دیکھ ہی لیا ہے کیوں نہ خود ہی جا کر دیکھ آؤں کہ  آئے یا نہیں۔ میزبان   کو اپنے ساتھ خجل خوار کرنے  کی کیا ضرورت ہے ۔ بے چارے  کوخلوص اور محبت کی اتنی سزا دینا  مناسب نہیں۔   یہ سوچتے سوچتے گھڑی دیکھی تو دو بجا رہی  تھی ۔ کچن سے آتی  ولولہ  انگیز  خوشبوئیں پیٹ کو ورغلانے کی بھرپور   کوشش کر رہی  تھیں  لنچ کے بعد چلے جانا۔کہ اچانک میرؔ  یاد آگئے۔
حوصلہ مند چٹانوں کو بھی ریزہ ریزہ کردیں
شوقِ منزل میں رکاوٹ نہیں دیکھا کرتے
اور غالب ایکسپریس کی  بریکیں فیل ہو گئیں۔ راستے میں خیال آیا کہ کم از کم  بتا کے تو آتا ۔ میزبان میرے اچانک  غائب ہونے  پر پریشان ہونگے ۔ لیکن  سوچا کہ شاید ابھی بھی  خانہِ غزل پر  تالہ ہو  ۔ واپس  تو ویسے  بھی  جانا پڑے گا کیوں  نہ چل کے تصدیق ہی   کر لی جائے ۔  اور  شاید  اس وقت آسمان کسی  اور کی  بدخوئی میں مصروف تھا یا واقعی  قدرت مہربان ہو گئی تھی ۔ کیونکہ وہاں پہنچ  کر دیکھا  خانہ غزل پر تالہ  موجود نہ تھا ۔  میری باچھوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی اور دل کنگرو کی طرح چھلانگیں مارنے لگا ۔  مجھ پہ شادی مرگ جیسی کیفیت طاری تھی ۔  سمجھ نہ آ رہا تھا کہ اب کیا کروں ۔
اسی ادھیڑ بن میں  قریب پہنچ گیا ۔ کچھ اٹھا پٹخ ، اور  برتن کھڑکنے   قبیل  کی کچھ  آوازیں کانوں میں آئیں ۔ اور بچاؤ بچا ؤ کی صدا  کے ساتھ ایک دو مردانہ  چیخیں  فضا میں گونجیں۔  حیرانی سے  اوپر دیکھا  کہ " یہ ہنگامہ  اے خدا کیا ہے ؟ " مگر نہ  میں کلیم اللہ تھا  نہ ہی  اس وقت   کوہِ  طور پر کھڑا تھا جو خدا مجھے  ریپلائی  کی  زحمت  گوارہ فرماتا ۔  اس لیے  خود ہی اٹکل پچو سے کام لینے کی  کوشش کی ۔ مگر کچھ سمجھ نہ آیا ۔  سوچا اچانک اندر  جا کر  سرپرائز دینا  چاہیے ۔  
میں جونہی دروازے میں داخل ہوا۔  کوئی کانوں  پہ ہاتھ رکھے بہت تیزی سے  باہر نکلا۔  میری بدقسمتی  کہ اس کے باہر نکلنے اور  میرے اندر گھسنے  کا  وقت ایک ہی تھا ۔ ۔۔۔ کوئی ڈوئی  نما  چیز (شاید  بیلن ہو،  مجھے  غور کرنے  کا موقع  اور وقت  ہی نہیں ملا  )  زناٹے  سے  میرے ماتھے پر آ لگی ۔ کچھ  قرمزی سے  ستارے ناچے  اورکچھ   سوچنے سمجھنے سے پہلے ہی  میرے چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔ ۔۔۔۔  میں کٹے ہوئے کیکر کی طرح  دھڑام  سےآ  گرا ۔
اسد اللہ  خاں تمام ہوا
دریغا !وہ رندِ شاہد باز

پینڈو بابا جی ؒ کے حضور (مغزل کہانی قسط نمبر 5) -

2 آرا
گزشتہ سے پیوستہ


کچھ عرصہ کراچی میں گزرا تو اجنبیت کی دیوار گر گئی ، کم از کم اتنا مانوس تو ہو ہی گیا کہ کسی کی مدد کے بغیر کہیں آ جا سکوں ۔ ایک دن فارغ بیٹھے بیٹھے اکتا گیا تو خیال آیا کہ کیوں نہ چل کے بابائے اعظم ؒ کے مزار پر حاضری دی جائے کہ اس عظیم قائدؒ کیلئے فاتحہ خوانی فرض اگر نہیں تو کم از کم ہر پاکستانی پر قرض ضرور ہے ۔
جیسے مسلمانوں پر زندگی میں کم   سے  کم ایک بار حج فرض ہے اسی طرح ہر پاکستانی (اگر وہ احسان فراموش نہیں ) پر جو کراچی آنے جانے کی استطاعت رکھتا ہے تو زندگی میں ایک بار مزارِ قائدؒ حاضری اور فاتحہ خوانی خود پر فرض سمجھے کہ یہ محبت و احسان کی شریعت کا پہلا رکن ہے ۔ 
ایک بار فون پر کسی کراچی کے دوست سے دوستی ہو گئی ۔ اس نے مجھے کراچی آنے کی دعوت دی تو جواب میں میں نے بتایا کہ کراچی دیکھنےکا تو مجھے بہت شوق ہے خاص طور پر قائد اعظم ؒ کے مزار پر حاضری تو میری زندگی کی چند حسرتوں میں سے ایک حسرت ہے ۔ میری اس بات پر وہ طنز سے ہنسا اور بولا :۔ "کراچی میں مز ارِ قائدؒ کے علاوہ  اور بھی کئی جگہیں ہیں دیکھنے کی ، وہاں تو صرف پینڈو لوگ جاتے ہیں ۔ تو آج میں ڈنکے کی چوٹ پر اپنے پینڈو ہونے کا فخریہ اعتراف کرتے ہوئے ہر ایسی سوچ رکھنے والےکی سوچ پر تھو تھو تھو کرتا ہوں ۔ میں جاہل اور پینڈو ضرور ہوں مگر احسان فراموش نہیں ۔
یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
اے قائد اعظم ؒ تیرا احسان ہے احسان
قصہ مختصر ۔۔۔۔!!! پینڈوبارگاہ جناح میں جا پہنچا  ۔میری خود بینی + و آزادہ روی جانے کہاں چھو منتر ہو گئی ، اور ساری شوریدہ سری جھاگ کی طرح بیٹھ گئی ۔ ایک 65 برس پہلے فوت ہو چکے بابے کا مجھ پہ ایسا رعب چھایا کہ بیان سے باہر ہے۔ میرا خیال ہے کہ لفظ "رعب" اس کیفیت کی پوری طرح عکاسی کرنے سےبھی  قاصر ہے اور کچھ غلط فہمیوں کا باعث بھی ۔ یہ تو دراصل ایک باکردار  جوان ِ رعنااور ایک باوقار بابا جی کی جلالت و عظمت کا سادہ سا اعتراف تھا ۔
سبحان اللہ !! جیسے وہ جناح کیپ سجائے وقار سے سر اٹھائے ایک سادہ سی شیروانی میں ملبوس گورنر جنرل آف پاکستان کے طور پر قوم سے مخاطب تھے ، اسی سادگی اور وقار کے ساتھ ان کا مزار شان و شوکت سے سر اٹھائے کھڑا اپنا پاکستان دیکھ رہا ہے ۔ گیٹ سے داخل ہوتے ہی شدتِ جذبات سے آنکھیں دھندلا گئیں اور میں میکا نیکی انداز میں سر جھکائے چلتا گیا ۔ سر جھکا رکھا تھا کہ کوئی دیکھ نہ لے یہ چھ فٹ کا ہٹا کٹا پینڈو رو رہا ہے ۔ مگر مزار کے اندر داخل ہوتے ہی ساری احتیاطیں ، ساری وضع داری جذبات کے ریلے میں آنسوؤں کے ساتھ بہہ گئی ۔ 
اب ایک یتیم بچہ اپنے باپ کی قبر سے لپٹا ہوا تھا جو اس کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اپنا سب کچھ اپنی اولاد کے نام کرکے دنیا سے جا چکا تھا ۔
فرشتوں نے زمین کی لگامیں کھینچ لیں ۔۔۔۔ سورج سکتے میں  آ گیا۔۔۔۔۔ اور وقت کو ہچکی لگ گئی ۔۔۔۔۔
مجھے تو اس وقت ہوش آیا جب چوبدار نے مجھے کندھے سے پکڑ کر ہلاتے ہوئے جیسے تصدیق چاہی :۔" بھائی صاحب ! آپ ٹھیک تو ہیں ناں ۔۔؟"
میں اسے کیسے بتاتا کہ آج ہی تو ٹھیک ہوا ہوں ۔ ۔۔۔ دل و دماغ کی ساری کثافتیں آج بابا جی ؒ کے کندھے پہ سر رکھ کے آنسوؤں میں بہا دی ہیں ۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔میں آج ہی تو ٹھیک ہوا ہوں ۔۔۔
اب جو ہوش آیا تو ادھر ادھر نظر دوڑائی ۔۔۔
بادشاہوں کے دربار سنے تھے ۔۔۔ پڑھے تھے۔۔۔۔
اولیا ءاللہ کے دربار آنکھوں سے دیکھے تھے ۔۔۔۔۔
لیکن ایسے بابائے اعظم ؒ کا دربار نہ کہیں دیکھا ، نہ سنا ، نہ پڑھا ۔۔۔۔۔۔
اس قدر سادگی کہ مثال ممکن نہیں ۔۔۔۔
اس سادگی سے ٹپکتا ایسا جاہ و جلال ، ایسی شوکت و حشمت کہ شہنشاہان ِ روم و فارس دیکھ لیں تو رشک کے مارے انگلیاں کاٹ لیں۔۔۔۔
نہ نوبت ، نہ نقارہ ۔۔۔۔ نہ ملنگ نہ مجاور ۔۔۔۔ اگر بتیاں ہیں نہ صدائے حق ہو کے غلغلے ۔۔۔۔۔
پھر بھی ایسا تقدس ۔۔۔۔ ایسی پاکیزگی ۔۔۔۔۔ کہ بے اختیار غالب ؔ کا شعر زبان پہ جاری ہو جائے ؎
اک کھیل ہے اورنگِ سلیماں میرے نزدیک
اک بات ہے اعجازِ مسیحا مرے آگے۔۔۔!!
پتا نہیں لوگ کیسے منقش دروازے ۔۔۔۔ چاندی کا کٹہرا۔۔۔۔ دیدہ زیب سنگ مر مر کا فرش ۔۔۔۔ اور چھت سے جھولتا وہ دلکش فانوس دیکھ لیتے ہیں ۔ مجھے تو یہ سب دیکھنے کی فرصت مل سکی نہ دیکھنے کی چاہت رہی ۔ بس اتنا یاد ہے کہ اک دست ِ پر شفقت میرے جھکے سر پر آیا اور آواز آئی :۔ "بی بریو مائی ڈئیر سن ۔"اور حواس گم ۔۔۔۔ قیاس گم ۔۔۔۔ نظر سے آس پاس گم ۔۔۔۔۔
ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتنا 
وہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں
ویسے تو میں مویشی پال بھائیوں کی طرح کوئی حسرت پال انسان نہیں ،پھر بھی بندہ بشر ہوں ۔۔۔ زیادہ نہیں  البتہ دو چار بے ضرر سی خواہشیں ضرور کہیں دل کے نہاں خانوں میں رکھی ہیں ۔ جیسے کہ چھوٹی امراؤ بیگم اور چھوٹا غالب جھیل سیف الملوک کے پانی میں پاؤں لٹکائے ، ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے چاند سے محو گفتگو ہوں ۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ مگر ایک خواہش بلکہ حسرت سمجھ لیں ، ایسی ہے کہ جس کے پورا ہونے کیلئے میں یہ دو چار خواہشیں تو کیا بقیہ ساری زندگی بھی قربان کرنے کو تیار ہوں ۔ بس مجھے صرف اتنا وقت مل جائے کہ میں ان کے سامنے کھڑا ہو کر ۔۔۔آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر۔۔۔۔ کہہ سکوں :۔
مائی لارڈ !  مسٹر قائد اعظم محمد علی جناح ۔۔۔! آئی لو یو ۔۔۔ سو مچ 
اور وہ مسکرا دیں ۔ (بے شک" می ٹو" نہ بھی کہیں ، پھر بھی چلے گا)
ہک ہااااااا۔۔۔۔۔۔ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں  اور جا بسیں
پینڈو شاداں و فرحاں دربارِ جناح سے باہر آیا ۔۔۔۔ ایک انگڑائی لی اور سوچا ذرا گھوم پھر کر باغِ جناح کا کراچیانہ ورژن بھی دیکھ لیا جائے ۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔ پینڈو کی تو ہو گئی ہائے ۔۔۔ ہائے ۔۔۔ ہائے ۔۔۔۔
زیادہ تفصیل میں کیا جاؤں ۔۔۔ عقلمند را اشارہ کافی ہے ۔۔۔ اس لیے مختصر اً عرض کیا ہے ؎
وہ سبزہ زار ہائے مطرا کہ ہے غضب
وہ نازنین بتانِ خود آرا کہ ہائے ہائے
صبر آزما وہ ان کی نگاہیں کہ حف نظر 
طاقت ربا وہ ان کا اشارا کہ ہائے ہائے
جن کو یہ اشارا سمجھ نہیں آیا۔۔۔ وہ جا کر کارٹون نیٹ ورک دیکھیں
خدا جانے ان بنات النعش  کے جی میں  کیا آئی  کہ اس  قدر  عیاں  ہو گئیں ۔ایک  سے بڑھ کر ایک  نو بہار ِ ناز  دیکھ  کے خدا کی صناعی   پہ  کئی بار  سبحان اللہ  منہ سے نکل گیا ۔سبحان  اللہ  کوئی تھیں   زلفِ سیاہ رخ پہ پریشاں  کیے ہوئے ۔۔۔۔سبحان اللہ یہ  ہیں کہ سرمے  سے تیز  دشنہ  مژگاں  کیے ہوئے ۔۔۔۔ اور  یہ  جو  مسکرا رہی ہیں چہرہ فروغ   ِ لپ سٹک  سے  گلستاں کیے ہوئے ۔۔۔۔  اور  بے چارہ  پینڈو  کہ اسے  مدت ہوئی  یار کو مہماں  کیے ہوئے۔۔۔۔۔جگر لخت  لخت سے  دعوت ِ مژگاں  کرتا آگے  بڑھ  گیا۔   
مجھے مہاتما بدھ کے مقابلے میں مہاتما منگل یا مہاتما جمعرات ہونے کا دعوی کبھی نہیں رہا ۔۔۔ نہ ہی میں کوئی برہم چاری پرش ہوں۔
پارسا کوئی نہیں مانتا بھاڑ میں جائے ، الحمد اللہ تاک جھانک بھی میری عادت کبھی نہیں رہی ۔
شاید کسی کو میری روشن خیالی میں تامل ہو  مگر مجھے تنگ نظر ملاں بھی نہیں کہا جا سکتا ۔
میں کسی بی بی ، خاتون کو پردے کے فضائل بھی نہیں گنوانا چاہتا نہ ہی میری برقعوں کی دکان ہے ۔
فیشن کرنا ، اور خود آراستگی خواتین کا ازلی فطری حق ہے ۔ یہ بات مجھے دل سے تسلیم ہے ۔
مگر میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بے شک بے شک حجاب  نہ اوڑھیں ، برقع پہنیں آپ کے دشمن ، کہیں آپ کا دم نہ گھٹ جائے ۔ مگر ڈھنگ کے کپڑے پہننے میں حرج ہی کیا ہے بھلا۔۔۔۔؟؟؟ خدا نے دوپٹہ آپ کو بطور ڈھال عطا فرمایا ہے ۔۔ ۔ اور ایک اچھا سپاہی اپنی ڈھال سائیڈ پہ لٹکا کر میدانِ جنگ میں  نہیں اترتا ۔۔۔۔ یہ آپ کے پیارے سے بابا جانی ؒ کا اپنی مایہ ناز پاکستانی  بیٹیوں کے نام ایک چھوٹا سا پیغام تھا جو فدوی نے پہنچا دیا ۔کسی کو برا لگا ہو تو ۔۔۔ ۔ قہرِ درویش ، بر جانِ درویش ۔۔۔۔
بات کچھ زیادہ ہی پٹڑی سے اتر چکی ہے ۔ اس لیے جو عجلت پسند سورمے  بذریعہ سکرولنگ  یہاں تک آن پہنچے ہیں ان سے اس خواہ مخواہ جذباتیت کیلئے معذرت چاہتا ہوں ۔۔۔ پاکستانی ہو اور جذباتی نہ ہو ۔۔۔ یہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔ جب تک جذباتی نہ ہو جائیں ہمیں کھانا ہضم نہیں ہوتا ۔۔۔۔ بس سمجھ لیں میں بھی ایک سچے اور پکے پاکستانی کی طرح اپنا کھانا ہضم کر رہا تھا ۔ 
پڑھنے کا بہت شکریہ ۔۔۔۔ اجر آپ کو اللہ دے گا

ملتے ہیں  اس سفر کے اگلے پڑاؤ میں
دعاؤں کا طالب :۔ فدوی چھوٹا غالب             

کرم فرما