Pak Urdu Installer

Sunday, 7 December 2014

منکہ مسمی چھوٹا غالب

5 آرا


مرزا نوشہ اسد اللہ بیگ غالب کے نادر خطوط جو انہوں نے اپنی وفات تک اپنے شاگردوں ، دوستوں کو لکھے ، اور انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنے خطوط کے مجموعے کتابی صورت میں شائع کیے۔
 کیا کہنے غالب کی عالم گیر شہرت  و مقبولیت کے، زمین پر تو چرچا تھا ہی عالم بالا اور عالمِ ارواح میں بھی جناب قبلہ غالب کےڈنکے بجتے تھے، یہ تب کی بات ہے جب میں ابھی پیدا ہی نہیں ہوا تھا، اور عالمِ ارواح میں رہتا تھا، مجھے جنابِ غالب سے ایک گونہ عقیدت اور اس سے بڑھ کر محبت سی ہو گئی،مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے  3 جنوری  1869 ء  کو   شاگرد ہونے کی درخواست بھیجی ، جو کہ صد شکر غالب نےقبول فرما لی، اور مجھے اپنی شاگردی میں لے لیا، یوں خاکسار کو بھی غالب سے روحانی خط و کتابت کا شرف حاصل ہوا۔ لیکن اس وقت تک چونکہ  (بقول غالب)ان کی عالمِ خاکی سے رہائی کا وقت قریب تھا، اس لیے وہ جلد ہی عالمِ بالا تشریف لے آئے، اور مجھے قدموں میں رہنے کا موقع ملا۔ 
پھر 1984 ء  کا سال شروع ہوا۔ معلوم ہوا کہ اب کے جنت سے بے آبرو ہو کر نکلنے کی میری باری ہے، بس صاحبو!! حکمِ حاکم مرگِ مفاجات، داغِ جدائی دل پر لیے، روتا ہوا عالمِ خاکی میں آن وارد ہوا، آتے ہی میں نے  صدا لگائی  کہ"ایک کاغذ قلم کا سوال ہے بابا "تاکہ میں ایک خیریت سے پہنچنے کی اطلاع کا خط ہی لکھ کر بھیج سکوں، مگربجائے کہ کوئی ہماری بات پر کان دھرتا  ایک  صاحب نے ہمیں اٹھایا اور اپنا منہ میرے کان کے پاس لائے۔
 میں سمجھا کہ  "کن کُرررررررر" کرنے والے ہیں ، لیکن اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدا سن کر دل کو تسلی ہوئی کہ شکر ہے مسلمانوں والی بیرک میں ڈالا گیا ہوں ،اذان کے بعد میرا منہ میٹھا کرایا گیا، مگر میری بات پر کسی کی توجہ نہ تھی میں نے پھر ہاتھ پیر چلا چلا کر اپنے غصے کا اظہار کیا کہ اللہ کے بندو کوئی تو مجھے موبائل دے دے یا اگر ابھی موبائل فون کا رواج نہیں ہو ا تو  کم از کم ایک قلم اور سادہ کاغذ ہی دے دے۔  
اللہ بخشے ایک نورانی صورت بی بی ، ہمیں دیکھ دیکھ کر مسکراتیں اور فرماتیں کہ حرکتیں تو دیکھو، یہ تو بڑا ہو کر شیطان کے بھی کان کاٹے گا، بعد میں معلوم پڑا کہ موصوفہ ہماری والدہ محترمہ ہیں ۔ ناچار تھک ہار کر کسی کو اپنا ہم زباں نہ پا کر صبر کے کڑوے گھونٹ پی کر رہ گیا۔ اور آخرکار وہ وقت آ ہی گیا کہ جب فدوی نے قلم پکڑنا سیکھ ہی لیا، میں ناصر کاظمی کی طرح یہ تو ہر گز نہیں کہوں گا کہ  "میں نےجب لکھنا سیکھا تھا، تیراہی نام  لکھا تھا" مگر یہ سچ ہے کہ جب میں پہلی بار کسی شعر پر وجد میں آیا تھا وہ قبلہ استادِ محترم کا ہی شعر تھا، یوں  میں نے عالمِ خاکی میں دیوانے دل کو بہلانے کی سبیل نکالی ،  غالب  کوپڑھ پڑھ کر میں آدمی سے انسان بنا، میں نے زندگی کا مطلب غالب سے سیکھا، اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ مجھے میری ہر الجھن کا جواب دیوانِ غالب سے ملا ، اگر میں چھوٹا غالب نہ ہوتا تو یقیناً کچھ نہ ہوتا، سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے، کہ اس نے میرے دل میں غالب کی محبت ڈالی ، ورنہ ایسے کتنے ہی نام نہاد پڑھے لکھے ، ڈاکٹرز ، پروفیسرز کو جانتا ہوں جو  غالب کے غین میں گم ہو کر رہ جاتے ہیں ، اور سارا کا سارا علم دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کا کروڑ ہا شکر ہے کہ اس نے مجھ ناچیز کو غالب کو سمجھنے کی ہمت اور توفیق دی، ورنہ  بقول کسے "غالب ادب کے سمندر کا برمودا ٹرائی اینگل ہیں ، جس میں علم کے جہاز صرف محبت کے قطب نما کی مدد سے منزل تک پہنچتے پاتے ہیں ، ورنہ استاد ذوق  سے لیکر قیامت تک نجانے کتنےادب کے "جہاز" ڈوب مرتے رہیں  گے" اور اس عمر  میں جب کہ لڑکے لڑکیوں کو پرفیوم وغیرہ لگا کر خون سے خط  لکھتے ہیں میں نے پہلا خط قبلہ استادِ محترم کو لکھا، اور وہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے، اور انشاء اللہ میری عالمِ ارواح کو واپسی تک جاری رہے گا
میں جانتا بس تم کو ہوں ٭٭ میں مانتا بس تم کو ہوں
تم ہی میرا گیان ہو٭٭٭تم ہی میرا دھیان ہو
کیسے بتاؤں میں تمہیں ٭٭ تم ہی تو میری جان ہو
اسی سلسلے میں غالب کے وہ خطوط جو اب تک کہیں نہ شائع ہوئے، نہ کسی نے پڑھے، عوام الناس کی بھلائی کیلئےپیش خدمت ہیں
گر قبول افتد زہے عزو شرف

Thursday, 4 December 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔ (تدفین)۔ (11)

2 آرا

گزشتہ سے پیوستہ


زمین  سے تقریباً    پانچ فٹ  نیچے   قبر  کے اندر  داخلے  کیلئے ایک  فٹ چوڑا  اور دو فٹ لمبا روشن دان  نما راستہ تھا۔   اس  سے قبر  کے فرش تک  مزید پانچ  فٹ گہرائی تھی۔  قبر  کے فرش  پہ   ابا  جی کی ہدایت کے  مطابق  ریت بچھائی گئی تھی ۔   اندر  سے  قبر تقریباً سات فٹ  لمبی   اور  اڑھائی  فٹ چوڑی  تھی۔  حالانکہ  اس  وقت  ہم سطح  زمین  سے   تقریباً دس فٹ  نیچے  بیٹھے  تھے اور قبر  صرف ایک  دو فٹ  کے روشن دان  جو کہ قبر کی چھت کے قریب  یعنی زمین کی سطح سے پانچ فٹ نیچے تھا، کے علاوہ  چاروں طرف سے مکمل طور پر بند تھی ۔ اس  کے باوجود  اس  خاکسار  نے  حیرت انگیز  طور پر  قبر  کو  آخری کونے تک   یکساں طور پر  روشن پایا ۔  باہر  چار بجے  کا  مغرب کی طرف ڈھلتا سورج اپنی  گرمی کا زور دکھا رہا تھا ۔  لیکن اندر اترتے  ہی حیرت انگیز  طور پر  ایک ٹھنڈک کا احساس ہوا اور پسینہ خشک ہو گیا۔ 
اس  سب خوشنمائی کے باجود  فدوی  کو اعتراف  ہے  کہ  قبر  کی ہیبت    نے میری فطری  بےخوفی  اور  نڈر   پن کو  ایسا  پچھاڑا کہ بیان سے باہر  ہے۔  ظاہر میں نہ کوئی  کپکپاہٹ تھی ، نہ ہی  میں ڈرا ہوا لگ رہا تھا۔ لیکن  اندر سے  یوں محسوس  ہو رہا تھا کہ  دل جیسے جکڑن  کے  مارے  پسلیوں سے  سر ٹکرا  رہا  ہے۔ اور     جب  سرہانے  والی سائیڈ سے  مٹھی بھر  ریت اٹھا کر   سورۃ  القدر  کی تلاوت شروع کی ۔     انا انزلنا فی لیلۃ  القدر  ۔  لیلۃ  القدر  خیرمن  الف  شہر۔تک  پہنچتے  پہنچتے  سانس پھول گیا۔   اور  ایسا محسوس  ہوا کہ  گلے  تک  ریت  ہی ریت بھر گئی ہو۔  سورۃ  القدر جو  بچپن سے  ہی حفظ تھی  آج یہ  چھوٹی سی سورۃ  پڑھنا  جوئے  شیر ثابت  ہو رہا تھا ۔  میں زور  لگا کے پڑھنا  چاہتا ہوں  لیکن الفاظ جیسے  گلے سے  اوپر آنے  سے  انکاری ہیں۔  ذہن  کی سلیٹیں  خالی خالی  نظر آ رہی  ہیں۔  جلدی  سے  دوبارہ  پہلی آیت  سے پڑھنا  شروع کی   ۔   اور  حیرت  انگیز  طور  پر    دوسری  آیت  پہ پھر اٹک گیا۔  
تھوڑا اوپر  ہو کر  ہاتھ باہر  نکالا ۔ قریب  ہی جنید کھڑا  تھا۔  میرے ہاتھ میں اس کا پائنچہ  آیا ۔ میں نے کھینچ  کے اسے متوجہ کیا  اور کہا  کہ سورۃ القدر  کی تلاوت کرنا ۔  اس نے حیرانی سے  جھک کر  میری طرف دیکھا  اور  پوچھا تمہیں نہیں آتی کیا۔؟ میں اب کیا کہتا کہ  قبر کی ہیبت  سے  سب  پڑھا پڑھایا  بھول  بھال گیا ہے ۔  میں نے کہا  کہ  آپ پڑھ  دیں ایک بار   اندر میں بھی پڑھتا جاتا ہوں۔  خیر اس نے  سورۃ  القدر  پڑھنی شروع  کی اور میں ساتھ ساتھ  دہراتا  گیا۔  تلاوت  کے بعد  مٹھی  میں بھری  ریت پر  پھونک مار کے  قبر کے  فرش پر  سرہانے کی طرف  بکھیر دی۔    پائنتی  کی جانب  بیٹھا  کزن   جس کی عمر  تقریباً 47  سال تو ہو گی ۔ مجھ سے بولا  کہ   :۔ "آج  73ویں بار قبر میں اترا ہوں  میت اتارنے  کیلئے  لیکن   قبر کی  ہیبت   آج بھی دل دہلا دیتی  ہے۔ تم  تو  سرہانے   کی جانب سے  بیٹھے ہو  ،  لیکن یہاں سے  قبر   (اس نے اشارہ  کر کے بتایا) ہلتی ہوئی   اور بھیانک  محسوس  ہوتی ہے۔   میں نے آج  تک اتنی  سپیشل  قبر نہیں دیکھی۔  واقعی  ایسی  قبر چاچاجی (میرے والد مرحوم) کی ہی ہو سکتی ہے  اور  دیکھنے سے صاف معلوم ہو رہا  ہے کہ انہی  کی ہدایات  میں ایسی قبر بن سکتی ہے۔  بعض قبریں  تو ایسی  بھی دیکھی ہیں کہ  میت  لٹانے کیلئے  جگہ  تنگ پڑ جاتی ہے۔" شاید  ہم دونوں ہی اپنے  دلوں پہ چھائی  ہیبت  کم کرنے  کیلئے  باتوں  کا سہارا  لے رہے  تھے۔  اچانک  میرے ذہن میں اس یادگار موقع  کی تصویر لینے کا خیال  کوندا۔  میں نے  جیب میں ہاتھ  ڈالا  تو  جیب خالی تھی ۔   باہر  گرمی سے بے حال  ہوتے  بھائی کہہ رہے  تھے  کہ اب ہم  اتارنے  لگے  ہیں۔  میں نے جلدی  سے باہر  کھڑے  جنید سے  موبائل مانگا۔  اس نے  وجہ پوچھی  اور موبائل نکال کے دے دیا۔ میں نے  جلدی سے دو تصویریں بنا کے موبائل  باہر دے دیا۔

 اب  قبر کے باہر  کھڑے دونوں  بھائیوں نے  اباجی  کو  اندر  اتارنا شروع  کر دیا۔ سب  سے پہلے  پاؤں  اندر آئے  اور  میں نے پیر والا  بند تھام کے  ہاتھ بڑھایا  اور دوسرا  بند بھی تھام لیا۔   
بہت ہی عجیب اور      ناقابل بیان منظر تھا۔   اندر  باہر  سے ایک ہی آواز  آ رہی  تھی کہ  دھیرے ، دھیرے ۔۔۔  لیکن اندر اور  باہر والوں  کو یکساں  محسوس  ہو رہا تھا  کہ  جتنا  ہم   دھیرے  دھیرے  اتار رہے ہیں اس سے  کئی گنا زیادہ تیزی سے      ابا جی  اندر  آ رہے تھے ۔  باہر  والے  بھائی مجھے  بلند آواز میں نہ کھینچو ، نہ کھینچو   کہہ رہے تھے  اور میں اندر سے  انہیں "دھیرے دھیرے  ارے بھئی آہستہ آہستہ" کہہ رہا تھا۔  
اسی  افراتفری میں ابا جی  اندر اتر آئے ۔  اور  ایک اور حیرت  انگیز       منظر سامنے آیا۔  وہ  ابا جی  جنہیں فدوی اپنے  ہٹے کٹے جثے کے باوجود   اکیلا اٹھا  کے بٹھا بھی نہ سکتا تھا  آج  سارے کے سارے  ابا جی کو  اپنے  دونوں بازوؤں میں اٹھا کے  بیٹھا تھا ۔ اس سے بھی زیادہ  حیرت انگیز بات یہ  کہ  ابا جی  کا  وزن  ایک تولہ بھی  محسوس  نہ ہو رہا  تھا ۔ یوں لگ رہا  تھا کہ  میں نے صرف  بازوؤں کا اشارہ  کیا ہوا  ہو ، جبکہ اٹھا  کسی اور نے رکھا  ہو۔   پاؤں  میں کزن کی جانب بڑھائے اور ابا جی  اب ہم دونوں کے ہاتھوں  پر لیٹے تھے۔  آہستہ  آہستہ  ہم نے  بیٹھے  بیٹھے  ایک ٹانگ   سائیڈ پہ کی  اور انہیں نیچے  لٹاتے  ہوئے   دوسری  ٹانگ  بھی  دھیرے سے نکال  لی۔ 
اب ابا جی  فرش پر لیٹے تھے ۔  میں نے  تھوڑ ا ساآ گے بڑھ  کے  کفن  کے سرہانے  بندھی ہوئی پٹی کھول  دی۔  اور پھر کفن کا  پہلا بند کھول  کر  ابا  جی کا چہر ہ دیکھا۔  یہ ایک  اور حیرت  ناک ترین منظر تھا ۔  کل  وفات کے  وقت سے  آج  چار  بجے تک  میں نے بلا شبہ  لاتعداد مرتبہ  یہ  چہرہ دیکھا  تھا۔  لیکن  اب  جو میں قبر کے اندر  دیکھ  رہا  تھا  یہ منظر کچھ اور تھا۔   صرف میں ہی نہیں کزن  نے بھی  آگے جھک  کر چہرہ  دیکھا  اور  بے اختیار سبحان  اللہ کہہ اٹھا ۔ ایسی  پیاری  مسکراہٹ  بالکل  واضح  تھی  کہ   سچ  مچ رشک آ گیا۔   یہ مسکراہٹ ابھی  تقریباً آدھا گھنٹہ  پہلے  جب مسجد  کے سامنے  آخری دیدار  ہو رہا  تھا  ، تب چہرے پر نہیں تھی۔ اور  نہ ہی یہ  میری نظر کا دھوکا تھا ۔   مسکراہٹ  اتنی صاف اور  واضح تھی   کہ  کزن دیکھ کر بولا:۔" واہ او یار  واہ ۔  ساری زندگی  ٹُھک  نال گزاری اے ۔ اج  وی اوہا ٹُھک  اے"ترجمہ( واہ رے  یار واہ۔  ساری زندگی جس  دبدبے  سے گزاری  آج  بھی وہی دبدبہ  ہے)۔  یہ وہ اطمینان بھری مسکراہٹ  تھی  جو ماں  کی گود میں سوتے بچے  کے لبوں  پر ہوتی ہے ۔ اور  آج ابا  جی بھی  اپنی اماں  جان  کے عین پہلو میں  ہمیشہ  کیلئے  آ کر  بہت  خوش لگ رہے تھے ۔   چہرہ ایسا  پر نور  اور نورانی  کہ  کفن  تک  روشن روشن لگ رہا تھا۔ میں نے چادر سے چہر ڈھانپ دیا۔
اب  ابا جی کے  دونوں سائیڈوں سے  ہاتھ رکھ  کے دیکھا  تو  آدھا آدھا  ہاتھ  قبر  دونوں طرف سے  کھلی تھی ۔  اور سرہانے  کی  طر ف  سے  پورا  ایک ہاتھ کھلی تھی ۔ پائنتی  کی جانب  سے  کزن نے  بھی تصدیق  کیا کہ  یہاں  سے  بھی قبر  کی دیوار  ایک ہاتھ  دور  ہے۔ 
اب  ہم نے  اپنے  قدموں کے نشان مٹا کر  نکلنا  تھا۔ سب سے آگے میں بیٹھا  تھا  سو میں جھکے  جھکے  اٹھا  اور   ایک  پیر  دوسری  طرف  خالی  جگہ  احتیاط  سے رکھا  اور  آہستہ  آہستہ  کھسکتا  قبر  کے داخلی سوراخ  تک پہنچ گیا۔  وہاں  ہاتھوں  کے  زور  سے  اوپر  چڑھا  اور  باہر  نکل گیا۔  میرے  بعد  کزن بھی  اسی طرح  5 منٹ   بعد  کھسکتا  کھسکتا  نکل آیا۔  باہر لوگ دم بخود کھڑے تھے۔ 
اب  مستری  محمد رمضان صاحب نے  دو فٹ کا  روشن دان  کچی  اینٹوں  سے  بند کرنا شروع کر دیا۔ اور  میں نے  کھجور  کی ایک  لمبی سی ہری  چھڑی  سرہانے  کی جگہ  کے  تعین کے  طور پر  وہاں  گاڑ  دی۔   اب  سب بھائی اور ماموں وغیرہ  آگے بڑھے  اور کلہ شہادت  با آوازِ بلند  پڑھتے ہوئے  مٹی ڈالی جانے لگی ۔  سب تھوڑی  تھوڑی  ڈال کر  ایک طرف ہٹ گئے اور پھر  حافظ محمد  رشید اور  فدوی نے  قبر  پر  مٹی ڈال کے اسے  کو زمین سے  بلند کر دیا۔  تعویز کا نشان  بنانے کے  بعد  پیلو  کے درخت  کی  ہری  ٹہنیاں  قبر پہ بکھیر دی گئیں۔
اس  کے بعد  ابا  جی  کی  زندگی کی  آخری  گیارہویں شریف  ان  کی آخری  آرام گاہ  پر  منعقد  کی گئی اور ابا جی کے پسندیدہ  نعت خوان  اور  ان کے عقیدت  مند  جناب  حاجی  عطا محمد صاحب آگے  بڑھے  اور قبر کے  سرہانے  کھڑے  ہو کر  ایک نعت  شریف اور  ایک منقبت  حضرت غوث الاعظم  سرکار  ؒ کی سنائی ۔  اس  کے بعد جنید  حسنین بخاری  نے  ختم  پڑھا ۔ دعا  مانگی گئی۔اور حاضرین میں برفی بانٹی گئی۔   اسی دوران  روشن پاکستان  پبلک سکول  کے پرنسپل  میاں محمد شریف کے استفسار  پر   حسنین  بھائی   نے انہیں ابا جی  کا ذکر  کرنے کا  مخصوص طریقہ   اور اس کا  راز بتایا۔ بہت سے لوگوں  نے  کہا کہ سبحان اللہ  یہ بہت ہی دلچسپ  حقیقت  معلوم ہوئی  ہے آج۔  حافظ محمد ذیشان بخاری  اور حافظ محمد  رشید  قبر  کے پاس بیٹھ کر تلاوت  قرآن مجید میں مصروف ہو گئے ۔ اور  آہستہ آہستہ  لوگ واپس  ہونے لگے۔  سب  سے آخر میں فدوی بھی  آنے لگا تو  قبر کی پائنتی  سے لپٹ  کر زارو قطار روتا  محمد اسلم  نظر آیا ۔  مجھے  ایسا  محسوس ہوا کہ  جیسے  ابا جی کہہ  رہے ہوں  کہ اسے لے جاؤ یہاں سے۔  میں واپس  آیا اور اسلم  کو دلاسادے کر اٹھا  یا اور  کہا کہ   اس  طرح روؤ گے تو  انہیں تکلیف ہو گی ۔  بس یہ  یقین رکھو  کہ ہم نے ان کا  ظاہری  جسم دفنایا ہے  ہے ۔  ہمارے دلوں  میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور پھر  عرفان کے ساتھ موٹر  سائیکل  پہ بیٹھ کے چل پڑا۔     

Tuesday, 2 December 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔۔ (10)۔

0 آرا

گزشتہ سے پیوستہ



ہجوم میں ہلچل مچ گئی ۔  اس ہلچل میں ایک شناسا نے مجھے  دیکھا تو میرے گلے  لگ گئے اور اظہارِ افسوس کیا۔ بس اس کا گلے لگنا تھا کہ لوگ مکھیوں  کی طرح مجھ پر ٹوٹ پڑے ۔ اس  سے پہلے بھی انہی لوگوں  کے درمیان کھڑا تھا ، لیکن مجھے  شکل سے کوئی نہ جانتاتھا۔ اب  سب  کی کامن سینس  نے بتا دیا شاید  کہ  یہ  ضرور پیر صاحب کے  صاحبزادوں  میں سے چھوٹا ہے ۔  اور پھر ایک کے بعد  ایک  کا سلسلہ  شروع ہو گیا۔  لوگ  بے تابی سے  مجھے  گلے ملنے اور اظہارِ افسوس کیلئے ٹوٹے پڑ رہے تھے ۔   کئی  بڑے بوڑھے بزرگ میرے گلے لگ کے دھاڑیں مار مار کے روتے رہے ۔ اور کئی بے چارے مجھے  بتا تے رہے کہ  ہم آپ کے مرید  ہیں ۔  اب پیر صاحب کے بعد آپ ہی  ہمارے لیے ہیں۔ سب کو صبر کی تلقین کرتے  اور "اللہ دی مرضی دے کم" کے جواب میں "ہاں جی ،  اس کی رضا میں ہم راضی" کہتے کہتے میرا  گلا  سوکھ گیا۔  مگر لوگ تھے کہ  تینوں  اطراف سے  امڈے پڑتے تھے ۔  میں نے  بازو کھول کر ایک ساتھ دو دو  کو  گلے ملنا شروع کر دیا۔ اور  لوگ بجائے ہمیں دلاسا  دینے کے میرے کندھے پہ سر رکھ کے روتے رہے۔   اچانک  عرفان  میرے قریب آیا  اور کہا  کہ  جنازہ  تو گیا۔  اب کیا کوٹ  والا  نہیں جانا کیا۔  یہیں  کھڑے رہے تو  یہ ہجوم نہیں کم ہونے والا۔  اس وقت مجھے  یاد آیا  ارے  ہاں۔  ہمیں تو حسب  الحکم  جنازہ اٹھا  کے جانا  تھا۔  بڑی مشکل سے منت  ترلہ کر کے  جان چھڑائی کہ اب مجھے دربار  شریف جانا  ہے تدفین کیلئے ۔
جونہی  نماز کے بعد جنازہ  اٹھایا  گیا۔  ابا  جی کے ارشاد  کے مطابق  ایک بکرے  کو  ذبح کر دیا  گیا تھا۔    اور اب جو دیکھا  تو اس کا گوشت  بھی کاٹا جا رہا تھا ۔   دریاں  بچھا دی گئیں تھیں اور لنگر جاری ہو چکا تھا۔ یہ سب  دیکھ کے اطمینان  کا سانس  لیتا  اندر  گیا تاکہ اماں جی کو بتا دوں  ۔ اندر جاتے ہی  خواتین مجھ سے  اظہار ِ افسوس  کیلئے امڈ پڑیں ۔ میں نے ہاتھ جوڑ کر  معذرت کی کہ  ابھی مجھے تدفین کیلئے جانا ہے ۔ یہ سب ہوتا رہے گا، ابھی مجھے اجازت دیجئے ۔  
 اماں  جی   نے کہا  کہ  عہد  نامہ  لیتے جاؤ  اور ان کے ہاتھوں  میں تھما کے رکھ دینا۔  اور  حسنین  سے کہنا کہ  تدفین کے بعد   کوئی  چیز منگوا کے بانٹ دے۔  یہ تاکید پلے باندھتا ،  باہر لپکا ، عرفان  موٹر سائیکل  پر تیار کھڑا  تھا۔  میں بیٹھا اور یہ جا وہ جا۔ ہمارا خیال  تھا کہ  ہم راستے میں  ہی جنازے  کے ساتھ  شامل ہو جائیں گے۔  لیکن حیرت انگیز طور  پر  ہم موٹر سائیکل  پر  بھی پیدل جانے والوں  کے قریب نہ  پہنچ پائے ۔  یہاں تک  کہ  جنازہ  کوٹ والا  گاؤں  میں ہماری  قدیمی آبائی مسجد کے  سامنے پہنچ کے رک چکا تھا۔ 
اس قدر  تیز رفتاری  پر  صرف مجھے ہی حیرت نہیں ہوئی ۔ بلکہ  کئی عینی شاہدین جنہوں نے  جنازہ  جاتے ہوئے دیکھا  تھا ان کے بیان کے مطابق  جنازہ  ایسا  محسوس  ہو رہا تھا  کہ  ہوا میں دوڑتا ہوا جا رہا ہو۔  اس  قدر تیز رفتاری  کے  ساتھ کہ   حیرت  ہوتی ہے۔
مسجد  کے سامنے  رکنے  کی ایک  وجہ تو یہ تھی  کہ  ہمارے ایک رشتہ دار  جو کہ شوگر  کے مریض ہیں انہوں  نے درخواست  بھجوائی تھی  کہ  مجھے آخری دیدار  سے محروم  نہ رکھا جائے ۔ دوسری وجہ یہ  تھی  کہ  جیسا کہ ابا جی  کا حکم تھا کہ  میرا جنازہ  میرے بیٹے اٹھا کے لے جائیں۔  اب یہاں  سے آگے  چند  میٹر  کے فاصلے  پر دربار  شریف تک   ہم بیٹے ہی لے جاتے ۔
سید ظفر  شاہ صاحب کو ان کا بڑا بیٹا  اٹھا  کر  لایا اور  انہیں آخری  دیدار کروایا  گیا۔   اس کے بعد   سرہانے  سید  حسنین بخاری  اور جنید بخاری  اور پائنتی کی جانب سے  فدوی  اور سید  شاہد  حسنین  نے  جنازہ اٹھایا  اور باآواز بلند  کلمہ شہادت  پڑھتے  دربار شریف کی جانب لے چلے ۔  دربار عالیہ کوٹ  والا  کے سامنے پہنچ کر    کچھ صاحبان  نے جنازہ  ہمارے کندھوں سے اپنے کندھوں پر لے لیا  اور  عین  دربار عالیہ کے سامنے  رکھ دیا۔     
دربار کے بائیں جانب  اپنی والدہ   کے پہلو  میں ان کی آخری آرامگاہ ان کی  زندگی میں ہی تیار ہو  چکی تھی ۔  ہم جس وقت پہنچے  اس وقت  حافظ صاحبان  اندر بیٹھے  تلاوت میں مصروف تھے ، اور سورۃ  دہر کی تلاوت   ہو رہی  تھی۔ (یعنی پارہ  29 کی ایک سورۃ اور تیسواں پارہ باقی  تھا ) کچھ ہی دیر میں قرآن مجید کا  ختم کر کے  حافظ رشید اور   حافظ سید ذیشان بخاری  باہر نکلے ۔
اس  کے بعد  یہ سوال  کھڑا ہوا کہ ابا  جی کو قبر میں کون اتارے  گا۔  سب سے پہلےبڑے بھائی  صاحب قبر میں اترے ،  لیکن  کچھ ہی دیر بعد  پسینہ پسینہ ہو کر باہر نکل آئے ۔  ان کا چہر ہ دیکھ کر  میں نے  جنید کے کان میں سرگوشی کی  کہ  حضرت  قبر دیکھ کر  حوصلہ  ہار بیٹھے  ہیں۔  حسنین بھائی قبر  سے نکل کر  پاس کھڑے بھی نہ ہوئے  ۔ بلکہ وہاں سے  دور جا کے  بیٹھ گئے۔  ہمارے  ایک چچا زاد  بھائی   جن کا  قبر میں میت اتارنے کا  وسیع تجربہ  ہے ۔ آگے بڑھے ۔  ہمیں ان کا  نام لے کر ابا  جی روکا تھا  کہ  اسے  میری قبر میں نہ اترنے دینا۔ (کیونکہ ہمارے خاندان  میں بزرگوں  کے  زمانے سے ہر قسم کی منشیات  اور تمباکو نوشی  سختی سے منع  ہے۔  جبکہ یہ صاحب عادی سگریٹ نوش تھے) جنید  نے روکا  تو  داڑھی  کو چھو کر منت  کرنے لگے کہ  میرے بھی چچا لگتے  ہیں،  خدا کا واسطہ  وغیرہ وغیرہ ، میں  نے پیچھے سے  بازو  پکڑ  کے  روک  لیا اور حسب عادت  سختی سے  کچھ کہنے ہی والا  تھا کہ  بڑے بھائی (جو کہ میری  عادت سے خوب واقف تھے) لپک کر آگے آئے  اور مجھے خاموش رہنے کا  اشارہ کیا ۔   قبر  کا داخلی  راستہ  جنید  کے  قوی ہیکل  جثے کے مقابلے میں بہت چھوٹا تھا۔  اس لیے  کزن صاحب قبر میں اترے  اور ان  کے بعد میں اترا۔ 

زمین  سے تقریباً    پانچ فٹ  نیچے   قبر  کے اندر  داخلے  کیلئے ایک  فٹ چوڑا  اور دو فٹ لمبا روشن دان  نما راستہ تھا۔   اس  سے قبر  کے فرش تک  مزید پانچ  فٹ گہرائی تھی۔ 

Friday, 28 November 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔ (جنازہ) ۔(9)۔

2 آرا

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارہ


۔71  سال  پہلے جو جسم اس دنیا میں آیا تھا ،  آج  وہ  اس دنیا سے جا رہا تھا۔  71  سال کا  یہ عرصہ  بہت ہنگامہ خیز گزرا۔ بچپن  اور جوانی کا ابتدائی  حصہ  آبائی گاؤں  کوٹ والا میں گزرا ۔ اس کے بعد  دادا جی  اپنی اولاد کو  ادھر لے آئے اور اپنی زمینوں  پر ہی گھر بنا لیا۔  تقریباً ایک ایکڑ  کے رقبے پر  ہمارا سادہ سا دیہاتی طرز کا گھر  پھیلا ہوا تھا۔ ہوش  سنبھالنے سے  لے کر  تیس سال کے  اس عرصے کے دوران   ابا جی کے شوقِ تعمیر  کے سبب   میں نے اس گھر کو کئی شکلیں بدلتے دیکھا۔ اس  ایک ایکڑ  کی حویلی  کو دور اندیش ابا جی  نے کبھی  ایک  مرکزی  حویلی نہیں بنایا ۔ بلکہ  جیسے  جیسے  بیٹوں کی شادیاں کرتے آئے  سب کا دو دو کنال کا  الگ الگ   پورشن بنتا  گیا۔اور اب یہ میرا  پورشن زیر تعمیر تھا کہ ان کا وقت پورا ہو گیا۔ کم از کم  45 سال سے  وہ  جس گھر  کی تعمیر  در تعمیر میں لگے رہے  ۔ آج اسی گھر سے  ان کی رخصتی کا وقت آ گیا  تھا۔ 
اور پھر وہ  وقت بھی  آیا  کہ جن بیٹوں کو انہوں نے  اپنے کندھوں پہ بٹھا کے  ایمانیات  اور کلمے سکھائے تھے  وہی بیٹے  انہیں اپنے کندھوں  پر اٹھا کے  اس  گھر سے  رخصت  کرنے  کیلئے   چاروں طرف سے  تیار  کھڑے تھے۔  آخری دیدار  ہو گیا۔  اور کلمہ شہادت  کی گونج  میں چار بیٹوں  نے  ان کا جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔  سرہانے  کی طرف سے  حسنین  بھائی  اور ماموں  تھے۔ پائنتی  کی طرف  جنید حسنین  اور  اویس  تھے۔  جنازہ  کو  کندھا دینے  والوں (رشتہ داروں) کی اس قدر کثرت تھی  کہ  جنازے کے نیچے  بندے  سے بندہ جڑا تھا۔  میرے لیے  اگلا قدم  اٹھانا مشکل ہوتا تھا  کیوں کہ  آگے پیر رکھنے  کی  جگہ سامنے والے کے پیر ہوتے تھے ۔  کلمہ شہادت  کے ورد  کے ساتھ جنازہ  آہستہ آہستہ  آگے بڑھتے بڑھتے  ڈیوڑھی تک آن پہنچا۔ اس دوران  کئی بیچارے  بھیڑ  کے سبب  گرے  ، کچھ لتاڑے  گئے ، لیکن  چارپائی  کے دونوں  طرف سے  یہی عالم رہا  کہ  حقیقتاً تل دھرنے کو  بھی جگہ نہ تھی۔

جونہی  ہم نے مین گیٹ پار کیا۔  اس  کے بعد  تو حد ہی ہو گئی۔  باہر  عوام کا اس قدر ہجوم تھا  ، اور سب اسی کوشش میں کہ کسی طرح جنازے کو کندھا دے سکیں۔  جتنے  بھی سید برادران  اب تک جنازہ اٹھا کے اندر سے آئے تھے  ، ان بے چاروں  کو  مکھن میں سے بال کی طرح الگ کر لیا گیا۔  اس کے بعد  جنازہ  جیسے  انسانی  ہاتھوں پہ تیرتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔  سڑک پہ  پارک کیے  موٹر سائیکلز  ایک طرف اور دوسری طرف  کھال۔دیوانگی  کا یہ عالم  تھا کہ    لوگ ہیں  پاؤں  کچلے جا نے کی  ، موٹر سائیکلز  کے ہینڈلز پیٹ میں لگنے ،  فٹ پیڈ  پنڈلیوں ، گٹوں پہ لگنے  کی پرواہ کیے بغیر    بس جنازہ  کو کندھا  دینے کے شوق چوٹیں  کھاتے جا رہے پھر بھی چلے جا رہے ہیں۔   یقین کیجئے  کہ  جب کھال کو پار کرنے لگے  تو  اس وقت یہ حال  تھا کہ  میرے ہاتھ چارپائی پر تھے  اور میرے دونوں  پیر ہوا  میں۔  لوگ تھے کہ بس اٹھا کے کوئی  جھٹکا لگے بغیر چند سیکنڈ میں کھال پار کر کے جنازہ  کیلئے مختص  کیے گئے  خالی ایکڑ  میں داخل ہو گئے ۔ 
میں تھا کہ گلا پھاڑ پھاڑ  کے سب کو  جنازہ کو راستہ دینے کا کہتا جا رہا تھا  ، اور لوگ تھے  کہ نہ  انہیں جوتوں  کی پرواہ تھی  ، نہ  ہی  دھول مٹی  کی۔  کئی بے چارے  اسی  دھکم پیل میں بری طرح گرے لیکن فوراً اٹھ کر  دیوانہ  وار جنازے کو ہاتھ لگانے کیلئے آگے بڑھے ۔ایسے مناظر  صرف سنے تھے ، پڑھے تھے  ۔ لیکن اپنی آنکھوں  سے دیکھنے کا  پہلی بار اتفاق ہوا  تھا۔  
آخر کار  جا کے جنازہ رکھ دیا گیا ۔   اور  رکھنے کے بعد معلوم ہوا  کہ باقی  تین بھائی  ، کزن  اور ماموں  وغیرہ  اس دھکم پیل میں کہیں پیچھے ہی رہ گئے ہیں۔  صرف میں اکیلا تھا  اور  دھاڑیں مار مار  کے بے قابو ہوتا ہجوم ۔   سابق وفاقی  پالیمانی سیکرٹری  نواب  امان اللہ  خان، نواب احسان  اللہ خان ، نواب سیف  اللہ خان ، نواب انعام  اللہ  خان  ،  اور  سید رضا شاہ گیلانی جیسی  سیاسی شخصیات  اور دبنگ  وڈیرے  کہ عام حالات  میں لوگ جن کے سامنے  سر نہیں اٹھاتے ، آج  انہی کو عام لوگوں کی طرح دھکے کھاتے دیکھا۔ لوگوں کو جیسے  آج  صرف  جنازے کو   ہاتھ لگانے  اور ابا جی کے  آخری دیدار  کے علاوہ  کسی چیز کی پرواہ نہیں۔  میرا گلا بیٹھ  گیا  چلاتے چلاتے ۔ ارے خدا کے بندو  ! دھکے  کھانے کی بجائے  ایک قطار میں سب لوگ  دیکھتے جائیں اور گزرتے جائیں۔  لیکن  کچھ  سمجھ دار لوگوں  کے علاوہ  کسی نے  اس التجا کی پرواہ نہ کی۔ حتیٰ کہ جب ایک صاحب کو جب میں نے کہا کہ دھکم پیل کی بجائے  قطار میں شامل ہو جاؤ  تو وہ مجھ سے ہاتھا پائی پر اتر آیا  کہ  تم کون ہوتے ہو ہمیں اپنے پیر کے  قریب آنے سے روکنے والے ۔  کوئی عام موقع ہوتا  تو یقیناً میں اس کا سر کھول دیتا ، لیکن   اس وقت  سب کی ایک ہی حالت تھی ۔  سبھی جذبات سے مغلوب ہو  چکے تھے ۔  اسی وقت کسی نے اسے  شاید میرا تعارف کرا دیا کہ  یہی  ان کا چھوٹا  بیٹا  ہے ، تو  وہ بھلا مانس  مارے شرمندگی کے   منہ لپیٹ کر  ہجوم میں غائب ہو گیا۔  بعد میں   مجھے سمجھ  آیا کہ  اس کا مقصد  صرف آخری دیدار ہی نہ تھا ، بلکہ  وہ چارپائی کی  اس پوزیشن پر آکر  جنازے کو کندھا دینا کا موقع  ڈھونڈ رہا تھا۔

پورا  ایک ایکڑ جسے لیزر لیولر  کے ذریعے  دو دن پہلے ابا جی کے کہنے پر جنازے کیلئے  خالی  چھوڑ  دیا گیا تھا۔  اب یہ سارا رقبہ  ایک سر ے سے دوسرے سرے تک  کندھے سے کندھا ملا کر  کھڑے  غمزدگان کی  15  صفوں   سے  بھر چکا تھا۔   سید سجاد  سعید  کاظمی شاہ  صاحب جتوئی سے دھنوٹ پہنچ چکے تھے ، اور ان  کے دھنوٹ  سے   یہاں پہنچنے میں بمشکل  پانچ منٹ  ہی لگے ہوں  گے۔  اور  ان پانچ منٹ سے پہلے جو فدوی نے خود  پہلی صف میں کھڑے ہو کر  15  صفیں گنی تھیں،  اب  امام صاحب کی آمد  تک  پیچھے دو  اور ہمارے آگے  ایک اور  صف  کا  اضافہ  ہو گیا تھا۔  پیچھے سر گھما کے دیکھا  ، تو سید رضا شاہ گیلانی  سابقہ  ایم پی اے (مستقل) کو   چوتھی  صف میں کھڑے دیکھا      ۔ نواب میرے والی صف یعنی دوسری صف میں تھے  ۔   اور  پیچھے  جہاں تک نظر جاتی  تھی سر ہی سر  تھے ۔ساڑھے  اٹھارہ  صفیں ،  اور کندھے سے  کندھا  ملا کر  کھڑے لوگ۔  ہجوم کا یہ عالم تھا  کہ بڑے بھائی  سید حسنین بخاری کو  بمشکل پہلی صف میں جگہ نصیب  ہوئی۔اگر  کم از کم    ، اور محتاط  ترین اندازے  سے  ایک صف میں700  بندے فرض کریں  تو کل تعداد  کا تخمینہ 13000 تک جا پہنچتا ہے ۔
دھنوٹ کی تاریخ  میں کئی پر ہجوم  جنازے  ہوئے ہوں گے۔ میں نے اپنی  زندگی میں دو  پر ہجوم جنازے دیکھے  جن کے بارے میں میرا خیال تھا کہ یہ  سب  سے  زیادہ پر ہجوم ہیں۔ ایک  تب  جب 2005 میں میری  نانی  اماں  کا انتقال ہوا اور سارا دھنوٹ  جنازے میں امڈ  آیا۔  دوسرا  جنازہ  بڑے ماموں جان کا دیکھا  تھا  کہ  جگہ  کی  کمی کے باعث جنازہ ہائی سکول  کے  گراؤنڈ  میں لایا  گیا۔  تب    تقریبا  ً  12 صفیں  ہوئی تھیں ، اور  جنازے  سے  تدفین  تک  دھنوٹ کا  مین روڈ   کئی گھنٹے  ٹریفک  گزرنے کے قابل نہیں رہا۔  پولیس نے    شہر کے باہر  ہی ٹریفک  روک رکھا تھا  ، تا وقتیکہ  تدفین  نہ ہوگئی۔ اور اب یہ تیسرا  بڑا  اور سب سے  بڑا جنازہ تھا۔  یہ  صرف میرا  ہی نہیں کہنا ، بلکہ  اسی دن اور  بعد  میں  کئی دنوں تک نہ صرف  دھنوٹ اور نواحات   میں یہی موضوع سخن  رہا کہ  پیر صاحب نے تو  بڑے  پیر صاحب کا بھی ریکارڈ توڑ دیا۔
13  مارچ  2014  کا  سہ پہر 3 بجے  کا سورج ، عین سامنے ، تپتی  زمین پر  پسینہ  پسینہ لوگ جنہیں  اپنا بھی ہوش  نہ تھاپتھرائی  آنکھوں سے  دم سادھے  کھڑے تھے  ۔  امام صاحب نے جنازے کی نیت اور تکبیروں کی ترتیب کی وضاحت  کی اور  سب  نے امام صاحب کے تکبیر کہتے ہی  اقتدا میں ہاتھ باندھ لیے۔ سلام  پھیرتے ہی  صفیں  توڑ دی  گئیں  اور دعا مانگی  گئی۔   اس کے بعد  امام   صاحب  نے کپڑا ہٹا کر  ابا جی  کا چہرہ دیکھا ۔   اپنا  ہاتھ ان کے ماتھے پر رکھ کر  آنکھ بند کر کے کچھ پڑھتے رہے ۔ اور کچھ دیر  بعد  ویسے ہی کپڑے سے ڈھانک دیا۔  بڑے بھائی  آگے بڑھے  اور  دست بوسی کے  بعد  صاحبزادہ  صاحب کے ہاتھ میں آمد کے شکریے کے طور  پر  ہزار  والے  کچھ نوٹ  دینے لگے  تو انہوں نے   ہاتھ سے روک دیا۔  اور فرمایا:۔ "ارے نہیں بھئی! مجھے  تو شاہ  صاحب کے جنازے میں شریک ہونے کی  سعادت نصیب ہوئی ہے " (اللہ  اللہ  اللہ۔۔۔۔  یہ غزالی  زماں رازی دوراں  حضرت  علامہ  سید احمد سعید کاظمی شاہ  رحمۃ اللہ  علیہ  کے صاحبزادے  کا  اپنے والد محترم  کے مرید  کے بارے  میں کہنا۔۔۔ ہم پر  اپنے  ابا جی  کے   نئے نئے  کمالات  منکشف ہو رہے تھے ) اس کے بعد  اپنی  جیب سے  کچھ نوٹ نکال کر  بڑے بھائی  کے ہاتھ میں تھما دئیے ۔ اور پھر وہ اپنی گاڑی  میں سوار  کر  تشریف لے گئے  ، اور  ہجوم میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ۔ 

Monday, 24 November 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔۔ (8)۔

2 آرا
سات بجے  بجلی  آئی  تو  صحن میں بڑے بھائی نے چھڑکاؤکر دیا۔  باہر  شامیانے  اور دریاں  آ چکی تھیں۔ وہ  اندر لگوا دئیے اور دریاں خود بچھاتے رہے ۔  اس کے بعد  اباجی    کو  باہر صحن میں  لایا گیا۔  اماں جی نے کہا  کہ   14  مرتبہ سورۃ  بقرہ  کی  تلاوت کرنی  ہے۔ مدرسے سے حفاظ بلا لیتے  ، میں نے کہا  ابا جی نے ہمیں کیا اس لیے پڑھایا تھا  کہ جب وقت آئے تو ہم ان کیلئے  اتنی سی تلاوت بھی نہ کر سکیں۔  ہم خود بھی تو  انہی کے شاگرد  ہیں ، لہذا ہم سب بھائی  خود پڑھیں گے۔    اور  وضو کرکے  میں اور بڑے بھائی اباجی کے دائیں طرف کھڑے ہو کر سورۃ بقرہ کی  تلاوت کرنے لگے۔  آہستہ آہستہ  دوسرے  شاگرد   سید احسن عطا  ، سید توقیر مصطفےٰ ، سید محمد  عرفان  ، سید  ذیشان  ، سید عدنان  شاہ وغیرہ  بھی آتے گئے اور قطار لمبی ہوتی گئی ۔   یہاں تک کہ  گیارہ  مرتبہ سورۃ بقرہ  پڑھ لی گئی ۔ سوا دوپاروں پر مشتمل ہونے  کے سبب   سب  ایک ہی بار  پڑھ کے تھک گئے ۔ اور باقی  تین مرتبہ میں  نے اور ذیشان  نے  اپنے ذمے  لے لی۔   
اندر خواتین اور  باہر مرد حضرات  کی آمد  جاری ہو چکی تھی۔   ایک  عجیب سا  رواج  ہو گیا ہے  تعزیت کا   کہ خواتین آتے  ہی   خاتون خانہ  کے گلے لگ کر  چند  مصنوعی  قسم کی کوکیں مار  کے  افسوس کا اظہار کرتی  ہیں۔   ہمارے خاندان میں الحمد اللہ  بین  کرنے کا رواج نہیں ، لیکن  یہ کوکیں مارنا  بزرگوں کے  بعد  سے  جاری رہا۔  
مجھے بے حد غصہ آیا کہ  ایک تو ہماری  تلاوت میں خلل پڑ رہا تھا ۔  دوسرا یہ کہ  خواتین کی مسلسل  آمد جاری تھی اور ہر ایک  بنفس نفیس  اماں جی  کے گلے لگ کے  خود تو بے شک  مصنوعی  کوکیں ماری رہی تھی  ،  لیکن اماں جی کی صحت اور عمر  ایسی  نہیں کہ  چار پانچ سو  خواتین کا  ساتھ دینے کو سہی  رو  سکیں۔  میں نے سختی سے منع کر دیا کہ خبردار  !میری اماں کو  کسی نے اس عجیب سی حرکت سے  افسوس کے بہانے رلایا تو  میں بے عز ت کر کے  نکال دوں گا۔  وفات ہمارے ابا جی کی ہوئی ہے ۔ ہم صبر کر کے بیٹھے ہیں اور آپ سب  جو ان کی زندگی میں ان سے خائف رہے ، آج اپنا غم دکھانے  آ گئے ۔  غم ہمیں بھی ہوا  ہے ،  لیکن صبر افضل ہے۔  آپ سب کے رونے دھونے  سے اباجی کو نہ کوئی فرق پڑنے والا  ہے نہ ہی انہیں کوئی فائدہ ہونے والا ہے ۔ جنہیں ان کی خیر خواہی  مقصود ہے  یہ قرآن مجید پڑے ہیں، اور سورۃ یٰسین وغیرہ بھی کافی تعداد میں موجود ہے، بیٹھ کے تلاوت کریں ۔  جس کیلئے  ہم آپ کے شکر گزار ہوں گے۔  تلاوت کی توفیق نہیں تو کم از کم ہم پڑھنے والوں کی  تلاوت میں اپنی مصنوعی کوکوں سے  خلل اندازی نہ کریں۔
اس بات پر  خالہ جی  سمیت کچھ  خواتین نے کھا جانے  والی  نظروں سے گھورا۔  اور  مجھے اپنی  بڑائی جتانے کی کوشش کی مگر میرے  تیور  دیکھ کے کچھ کہنے کی ہمت نہ کر سکیں ۔   البتہ  ایک غالب اکثریت  جن میں ہماری آپی محترمہ بھی شامل تھیں ، نے  میری اس بات کو سراہا ۔  اور  دوسروں کو بھی تلاوت کی تلقین کی۔  
کل سے  میں جتنا ضبط کر کے   بیٹھا تھا اب اس ضبط میں دراڑیں پڑنے لگیں تھیں۔   اباجی  نے  اپنی زندگی میں  ہی میرے متعلق  فرمایا تھا کہ یہ  جتنا بھی سخت دل سہی  میری چارپائی کا پایہ پکڑ کے روئے گا ضرور۔  جس بات کو سن کے میں نے چٹکی میں اڑا دیا تھا آج  وہی بات سچ ہوگئی ۔  میں ضبط کرنے کیلئے  اور ساری توجہ تلاوت پر رکھنے  کی پوری کوشش  کرتے کرتے  اباجی کی چارپائی کا پایہ  پکڑ    کے  اپنے آپ کو کنٹرول کرنے  لگا۔  اس  وقت کی منظر نگاری میرے لیے مشکل ہے ۔  دل میں تہیہ  کیا ہوا تھا  کہ  میں بالکل نہیں روؤں گا۔ لیکن چار پانچ  سو  خواتین کے مجمعے میں  ان کی ہلکی ہلکی رونے آواز اور  اماں  جی کو  دیکھ کر  ضبط مشکل سا ہو گیا۔   اسی کوشش میں چار پائی  کا  پایہ پکڑ لیا ۔ یہ دیکھ کر  باجی اور  دیگر  واقفان حال  کی چیخیں نکل گئیں۔   جنہوں نے وہ پیش گوئی خود  سنی تھی اور  اب خود دیکھ لیا ۔ یہ  میں جانتا ہوں یا میرا خدا  کہ اس وقت  میں کس قدر مشکل میں تھا۔  میں اپنا رونا  روکنے کی بھرپور کوشش  میں  دھندلائی آنکھوں سے  سورۃ بقرہ کا آخری   رکوع  کی  بلند آواز  میں تلاوت کرنے لگا تو حاضرین سے بھی ضبط مشکل ہو گیا۔ یہ آخری رکوع تین بار  تلاوت کیا  ۔  ابا جی کا کفن کھولا  اور ان کے سینے پر  پھونک  مار کے  اماں جی کی  گود میں سر رکھ دیا۔  اور  ایسا محسوس ہوا  کہ ایک دم سے  سارا  غم کنٹرول  ہو گیا۔  ساری شدت تھم سی گئی ۔  
خواتین کی مسلسل آمد جاری تھی ، ہم نے اپنے  اندازے سے  کچھ فاضل  دریاں بھی بچھائی تھیں ، لیکن تعداد اتنی زیادہ ہو گئی  کہ وہ دریاں بھی کم پڑ گئیں۔  باہر  مردوں کی نشست کیلئے  بچھائی گئی  دریوں سے چھ دریاں اندر لا کر بچھا دیں۔               اماں جی نے  زبردستی مجھے نہانے کیلئے  بھیجا  کہ  باہر  جو پرسے کیلئے آ رہے  ہیں وہ  چھوٹے  بیٹے کا بھی پوچھ رہے تھے ۔ غسل کے بعد  باہر مردوں میں  آن بیٹھا۔ یہاں  بھی وہی تماشا  تھا۔
کہنے کو  سب تعزیت کیلئے  آئے بیٹھے تھے ۔ اپنے درمیان سے ایک انسان کا  دنیا  سے  چلے جانا  بھی ان  کو غفلت سے  جگانے کیلئے کافی نہ تھا۔ درود شریف کیلئے  سامنے شمارپڑے تھے  لیکن حضرات  غیبتوں اور  حالاتِ حاضرہ  پہ سیر حاصل تبصروں میں مصروف تھے۔  سوائے چند گنے چنے  حضرات کے سب اسی مشغلے میں مصروف تھے۔  اس  کے علاوہ ہر نیا آنے والا   ایک  سکہ بند  جملہ دہراتا "پیر سائیں! اللہ دی مرضی دے کم"(اللہ کی مرضی)،  آنے والے اکثر  مجھے شکل سے نہیں جانتے تھے ۔   اس لیے  میری تو کافی حد تک  بچت رہی لیکن باقی  بھائیوں کے تو  کان پک گئے ہوں گے۔  ویسے تعزیت  کیلئے اتنا ہی کافی ہے  ، لیکن یہ کیا  کہ  ایک ایک بندے کو مخاطب کر کے  وہی گھسا پٹا سکہ بند جملہ کہا جائے ۔  پیر سائیں! اللہ دی مرضی دے کم، جنید  سائیں اللہ دی مرضی دےکم، شاہد  شاہ صاحب اللہ  دی مرضی دے کم ۔  ایک ہی سانس میں تین چار بندوں سے  تعزیت کا فرض ادا ہو گیا۔  

دریاں کم پڑتی جا رہی تھیں۔  اور دریاں منگوا کے  میں نے   وہاں سے  ہٹ کے جنازے  کیلئے  خالی  رکھی گئی جگہ پر پندرہ بیس  دریاں بچھا دیں۔ اور خود  وہاں آ کے  بیٹھ گیا۔  دھیرے دھیرے   بزرگوں کے ستائے  اکثر  وہیں آ کے  بیٹھنے لگے ۔  اور  وہاں پہ  باقاعدہ درود شریف  پڑھا جانے لگا۔ جب کہ بزرگ حضرات  کی وہی بدگوئیاں جاری رہیں۔ 
قبرستان سے  مستری  صاحب نے  کچھ کچی اینٹیں  منگوائی تھیں، وہ  ریڑھی پر لوڈ  کروا  کے بھیجیں۔ اور اب  ذیشان  کو  سید مظہر  شاہ صاحب  کے ساتھ قبرستان  روانہ کیا ۔ کہ  جو حفاظ صبح سے قبر کے اندر  تلاوت  قرآن مجید میں مصروف ہیں ، ان کی جگہ لے لیں۔ اور انہیں آرام کا کہیں۔  نیز  ان کیلئے دوپہر کا  کھانا بھی بھجوا دیا۔     
اندر  آیا  تو  اندر  محفل  میلاد  سی  جاری تھی ۔    سب  خوش  آواز  خواتین کورس میں نعتیہ کلام پڑھنے میں مصروف  تھیں۔  رونا دھونا  الحمد اللہ   نہ ہونے  کے برابر تھا۔  ایک  بجے کے  قریب   باجی نے کہا کہ چار مرتبہ  میت پر  سورۃ ملک پڑھنی ہے ۔ فدوی  ، جنید ، عرفان  اور اس  کی اہلیہ نے  چارپائی کے چاروں کونوں پر کھڑے ہو کر  ایک ایک بار  سورۃ ملک  کی تلاوت کی ۔  محفل نعت  پھر جاری ہو گئی ۔ اور قصیدہ بردہ شریف پڑھا جانے  لگا۔

بڑے  بھائی کو  یہ پریشانی تھی کہ  کل سے  رات سے  صاحبزادہ سید سجاد سعید کاظمی  شاہ صاحب قدس سرہ سے رابطہ  کیا گیا تو  انہوں نے فرمایا  کہ  میرا تو   جتوئی  مظفر گڑھ  میں ایک قل خوانی  کا پروگرام فکس ہے۔   انہوں  نے اپنے بڑے بھائی مرکزی امیر  اہلسنت  پروفیسر  سید مظہر سعید  کاظمی شاہ صاحب قدس  سرہ العزیز   کو  جنازہ  پڑھانے کیلئے بلانے کا مشورہ دیا۔   لیکن  جناب پی ٹی ممتاز  صاحب (جن کے ذمہ جنازے  کیلئے  صاحبزادہ صاحب کو  بلانا  تھا) نے  انہیں بتایا کہ مرحوم کی وصیت نما فرمائش تھی کہ میرا جنازہ سید  سجاد  سعید  کاظمی شاہ صاحب پڑھائیں ۔  تو انہوں نے تین بجے پہنچنے کا  عندیہ دے دیا تھا۔  اب جتوئی سے دھنوٹ کا  سفر  کم از کم  بھی  5  گھنٹوں کا تو  ضرور ہے۔  جنازہ کیسے وقت پہ پڑھایا  جا سکے گا۔ 
دو بجے کے بعد  میں اندر آیا اور سب کو اطلاع دی کہ  جنازے  کاوقت قریب ہے ۔ جنہوں  نے آخری  زیارت کرنی کر لیں ۔ تاکہ یہ نہ ہو کہ  جب ہم اٹھانے کیلئے  آئیں تو  سب کو آخری دیدار یاد آ جائے ۔    تین بجنے میں  ابھی بیس  منٹ باقی تھے  اور میں وضو کر کے  نکلا  تو سب  رشتہ دار مرد حضرات  آخری دیدار  کیلئے اندر   آگئے ۔                 

Friday, 21 November 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔۔ (7)۔

6 آرا
ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے

آدھی رات  ہوتے ہوتے  میں نے کمرہ خواتین سے خالی  کرا لیا کہ اب ہم خود تلاوت کریں گے۔اماں  نے کہا  بھی کہ بیٹا  دو  دن اور دو راتوں سے مسلسل  جا گ رہے ہو۔  تھوڑا سا آرام کر لو ، کیونکہ کل سے  قل خوانی تک  سب انتظامات آپ نے ہی  تو سنبھالنے ہیں۔  لیکن میں نے کہاکہ اماں  قرآن مجید  ساری اولاد کو ابا  جی نے  خود  پڑھایا تھا۔  اب اتنا تو ان کا  حق بنتا ہے کہ  ہم بھی  ان کیلئے تلاوت  کر لیں جبکہ ہمارے ساتھ ان کی یہ آخری رات  ہے۔  ہم تو پھر بھی سوہی لیں گے ۔  
وضو کر کے میں آیا  تو  میرے سوتیلے بھائی  (سید شاہد حسنین) تلاوت میں مصروف تھے ۔ میں نے بھی تلاوت شروع کر دی۔  جنید بھائی بھی تشریف لے آئے  اور رضائی اوڑھ کے زبانی ہی  تلاوت کرنے لگے۔کچھ دیر  بعد  سید  محمد  رضا بھی   آ گیا۔  اور ایک بجے تک تلاوت میں مصروف رہا۔پھر وہ بھی چلا گیا،  اور جنید  بھائی بھی تلاوت کرتے کرتے دیوار سے ٹیک لگائے سو گئے۔ اڑھائی  بجنے تک  شاہد بھائی کی  ہمت بھی جواب دے گئی ۔  دس پاروں کی تلاوت کے بعد بولے یار میری تو آنکھیں دھندلا رہی ہیں۔  میں نے کہا ذرا دیر  آرام کر لیں،  اور وہ کمبل میں گھستے ہی فراٹے  سے خراٹے مارنے لگے۔
اب میں تھا اور ابا  جی۔۔۔۔
گھڑی  کی سوئیاں  چلتی رہیں اور  میری تلاوت جاری رہی۔  تین بجے کے قریب مجھے عجیب  سا  محسوس  ہونے لگا۔  دروازہ  حالانکہ  بند تھا پھر بھی  دروازے سے  ایک کے بعد ایک  ٹھنڈے  جھونکے  آتے ہوئے محسوس ہوئے ۔  اور چند منٹ بعد  ایسا محسوس  ہوا  کہ  کمرہ لوگوں سے بھر گیا ہے ۔ حالانکہ  کمرے میں ہم چار  اجسام کے سوا کوئی نہ تھا۔ جن میں سے اباجی سمیت دونوں بھائی سوئے تھے، اور چوتھا میں۔  خالی  کمرہ جس میں صرف ایک  چارپائی پر ابا جی  لیٹے تھے کے سوا کوئی سامان  نہ تھا۔  فرشی نشست  تھی بیٹھنے کیلئے ۔ اور  کمرہ ایسے محسوس  ہو رہا تھا  کہ کافی تعداد میں لوگ اندر بیٹھے ہوں۔  پہلے تو مجھے اپنا وہم لگا،  لیکن جب  واضح طور پر  محسوس  ہونے لگا کہ ہمارے علاوہ بھی  اس کمرے میں کافی لوگ موجود ہیں، تو  سردی  کے  باوجود  بھی  مجھے پسینہ آ  گیا۔ پہنی ہوئی جرسی اتار  دی۔   حلق  میں   خشکی محسوس  ہوئی  تو گلاس  کی طرف  ہاتھ بڑھایا ۔  گلاس  کے علاوہ ڈیڑھ  لیٹر  کی پانی سے بھری بوتل  جو ساتھ  ر     کھ کے تلاوت کرنے بیٹھا  ،   خالی  تھی۔  
میں تلاوت  روک کے اٹھا  اور  ایک نظر ابا جی  کی طرف ڈالی ،  ان پہ رضائی  اور چہرے  پر  سفید کفن کی چادر  پڑی تھی ۔  میں باہر نکلا   کہ ایک چھوٹا  سا  وقفہ ہو جائے  اور اسی دوران خیال  بھی بدل جائے  گا۔  لیکن  باہرآکر  تو  یہ احساس  اور بھی قوی ہو گیا۔ ساڑھے تین کا وقت  تھا  ، چاروں طرف خاموشی کا عالم تھا ، سارا  صحن  خالی  تھا ، لیکن اس کے باوجود ایسا محسوس ہوا  کہ صحن لوگوں  سے بھرا ہوا  ہے۔  واش روم کی  طرف جانے کو قدم بڑھایا  تو  ایسا  لگا جیسے بہت بڑے ہجوم میں سے گزرنا پڑ رہا  ہو۔ دونوں کندھوں  سے  کچھ ٹکراتا  محسوس ہوتا  رہا۔   
دوبارہ  وضو کے  بعد  جب میں واپس آنے لگا تو  اس احساس  میں اور بھی اضافہ  ہو گیا۔  نہایت واضح  طور پر    کچھ لوگوں  کی نہ صرف  موجودگی  محسوس ہوئی  بلکہ  ہلکی ہلکی  سرگوشی نما آوازیں   بھی  محسوس ہوئیں۔  کمرے میں واپس آیا تو  کمرے کے  ماحول  میں ایک غیر محسوس  سی تبدیلی محسوس ہوئی ۔  آنکھیں دیکھنے سے قاصر تھیں لیکن چھٹی حس کا   مسلسل  بجتا الارم  کہہ رہا تھا کہ  یہ محض ایک وہم نہیں۔   دوبارہ  تلاوت کرنے کیلئے آلتی پالتی  مار کے بیٹھا تو  محسوس  ہوا  کہ بیٹھنے کو  جگہ تنگ  ہے۔  دونوں گھٹنوں اور کندھوں پہ  انتہائی  واضح طور پر  لمس  محسوس  ہونے لگا۔   جو لوگ  مجھ سے  ذاتی  طور پر  واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ  میں نہ تو اعصابی کمزوری کا مریض  ہوں  ، نہ  ہی کوئی  ڈرپوک  ۔  الحمد اللہ  بے خوفی  اور نڈر ہونے  میں فدوی  اپنے  والد صاحب  پر گیا ہے ،  لیکن  مجھے یہ اقرار  کرنے میں کوئی باک نہیں کہ  اس  وقت میں سچ مچ ڈر گیا تھا۔یہ اس قسم کا ڈر نہیں تھا، جیسا کہ  عمومی طور  پر لوگوں کو محسوس ہوتا ہے۔ اتنا  تو مجھے معلوم تھا  کہ کچھ  لوگ آئے  ہیں،  اور جس اعلیٰ مقام و مرتبے  کے لوگ تشریف لائے ہیں ،  یہ  اسی  دبدبے  کا  اثر تھا  ۔  نہ معلوم میں کن کن ہستیوں  کے ساتھ بیٹھا تھا۔  مزید  شدت سے میں نے  اپنی توجہ تلاوت کی طرف کر دی۔  چار بجے بجلی  چلی گئی اور اندھیرا ہوا  تو  معلوم ہوا  کہ  سارا کمرہ اندھیرا ہے سوائے  اباجی چار پائی  سے چھت تک کہ ایک  واضح سفید روشنی تھی ، اتنی واضح  کہ کفن کی چادر کے نیچے  سے پھوٹتی صاف  دکھائی دیتی تھی۔     میں نے سر جھٹکا  اور  ساتھ  پڑی ٹارچ روشن کر کے  تلاوت کا  سلسلہ  جاری رکھا۔  
تقریبا ً آدھے گھنٹےبعد باہر  سے آتی  آوازوں سے محسوس  ہوا کہ  اماں  جی وغیرہ اٹھ گئے  ہیں۔  اور کچھ دیر بعد  اماں  جی ، باجی ،  خالہ جی    وغیرہ   کی آمد ہوئی اور  کمرہ  پہلے کی طرح خالی  ہوگیا۔ اب وہ  احساس بھی  ختم ہو گیا۔لیکن  ابا جی  کی چارپائی  کو گھیرے ہوئے  روشنی کو سب نے دیکھا  ، اور  دم سادھ کے بیٹھ گئے۔ پھر آہستہ آہستہ  اور لوگ بھی اٹھ کے آنے لگے ، اور بجلی نہ ہونے کی وجہ  سے بیٹھے درود شریف کا  ورد کرتے رہے ۔ اور کچھ صرف میری تلاوت  ہی سنتے رہے۔  باجی اور اماں  نے  بہت کہا کہ  اب تم کچھ دیر وقفہ کر لو  اور اتنی دیر تک  آگےہم  پڑھ  لیتے ہیں ۔  لیکن  میں نے تلاوت جاری رکھی۔ چھ بجے حافظ ذیشان بھی  آگیا   اس نے  کہا ماموں  اب آگے  میں پڑھتا ہوں ۔  میں نے کہا  سورۃ یوسف تک پڑھ کے  میں اٹھتا ہوں۔  سوا  چھ بجے  میں نے  قرآن مجید  اور ٹارچ  ذیشان کے حوالے کیا  اور   پیچھے ہٹ کے دیوار سے  ٹیک لگا کے کمبل اوڑھ لیا۔ اتنی دیر میں سوئے ہوئے دونوں بھائی بھی جاگ گئے  ، اٹھے اور جا کے اپنے اپنے  گھر سو گئے۔ کچھ دیر بعد  خیال آیا  کہ  یہاں  آرام کرتا رہا تو                باہر  کے کام کون دیکھے گا۔ 
باہر نکلا  تو دانی آیا ہوا  تھا ، چاچو  چاول   بھگونے  کیلئے رکھ دیں ۔ دیگوں کے حساب سے  12 ، 12 سیر  چاول  بوریوں  میں ڈال کے ٹیوب ویل کے حوض میں جا کے رکھ دئیے  ۔ ابا جی  کاشاگرد  حافظ محمد رشید ،  اور کچھ اور حفاظ  کو بھیجا  کہ  وہ  ابا جی کی قبر کے  اندر  بیٹھ کر تلاوت  کرتے رہیں۔  

مشرق  سے  سورج طلوع ہو رہا  تھا ۔  اور ہماری یتیمی کی پہلی رات گزر چکی تھی۔ 

Monday, 17 November 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے ۔۔۔ (6)

2 آرا
جو آتا  ہے
وہ جاتا ہے
دنیا  آنی جانی ہے
فقط ایک  کہانی ہے
جانے  والے  کو  کوئی کب روک سکا ہے ۔ وعدہ  پورا ہوا اور کم و بیش  71  سال  اس  دار ِ فانی میں گزار کر  ابا  جی  بھی    دارالقرار  کو چلے گئے ۔ میں کمرے  سے نکلا تو  دیکھا کہ رات کا ندھیرا  پھیل رہا تھا ،  اور  ایسا  ہی اندھیرا  ہم سب پسماندگان  کی   زندگی میں بھی پھیل چکا تھا۔سرائیکی محاورہ "کنڈ خالی تھی  گئی" اپنے اصل مطلب  کے ساتھ  اس  وقت مجھ پر واضح ہوا۔  لکھنے کو یہاں  بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے ، حزن بیانی  کے جوہر دکھائے جا سکتے ہیں۔ لیکن بقول غالب  "کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ  کی عادت نہیں مجھے"حقیقت  یہ ہے کہ  ایک  عجیب سی بے حسی  نے گھیر  لیا۔  صحن خلاف ِ توقع  رشتہ داروں سے بھر چکا تھا۔  ایک  تو چشمہ نہیں تھا ، اور پھر عشاء  کے وقت  کا اندھیرا، کچھ اندازہ  نہ ہوا  کہ  کون کہاں ہے۔  سب کے رونے کی آوازیں  آ رہی تھیں  ۔ لیکن نجانے  کیوں میری آنکھیں خشک تھیں ۔ اماں کی تلاش میں آگے بڑھا  تو حاضرین  مجھ سے بغلگیر ہو ہو کر اظہار افسوس کرنے لگے ۔ کچھ  بڑے بھائی کے گلے لگ کے رو رہے تھے ، کچھ میرے گلے لگ گئے ۔  اور عجیب بات یہ کہ  بجائے اس کے کہ کوئی ہمیں صبر کا کہتا الٹا  ہم ہی دوسروں کو صبر صبر کہہ رہے تھے ۔حسنین  بھائی  بھرائی آواز میں سب کو  اونچی آواز میں رونے سے  منع کر رہے  تھے۔  میں کھسکتا  کھسکتا  اماں تک پہنچنے میں کامیاب ہو ہی گیا۔  اماں  میرے  گلے لگ گئیں ، اور  کہا"پتر آپاں  رُل گیوسے" میں نے  کہا" اماں  موت  تو سب کو آنی ہے ، اور  جس نے  ہمیں پیدا کیا  وہ  تو ازل سے  زندہ و جاوید ہے ۔  وہ  حی و قیوم ہے۔  جب اللہ  ہے تو پھر کاہے کا غم ؟" اس بات پہ اماں نے مجھے  ماتھے پہ بوسہ دیا اور  "شیر پتر" کا خطاب دیا۔ 
بے شک خوشی  ہو یا غم اللہ کی  طرف سے  ہے۔  میں  خاندان میں دوسروں  کے  ماں باپ کی وفات پر انہیں روتے کرلاتے  دیکھ کر ہمیشہ یہ سوچتا تھا کہ  ایک نہ ایک دن یہ وقت مجھے بھی  دیکھنا ہے۔  اور جب مجھ پر ایسا  وقت آیا تو  اس وقت میرا  کیا رد عمل ہو گا۔  اور  پاک ہے وہ ذات  جس نے  یہ وقت آنے پر  مجھےصبر کی  توفیق دی۔یقیناً یہ اس  کی دی ہوئی توفیق ہی تھی  کہ  نہ صرف میں اور  حسنین بھائی  بلکہ  اماں اور باجی  نے  بھی  صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ دیا۔
 رشتے دار  تو  مہمانوں  کی طرح  آ گئے ، اب یہ ہماری ذمہ داری  تھی کہ  ان  سب کیلئے بیٹھنے  اور سونے کے انتظامات کے ساتھ  ساتھ ابا جی کے غسل اور  تکفین کا بھی  انتظام کریں۔  گھر  چونکہ  ابھی زیر تعمیر  ہی تھا  اور ابا جی کے آپریشن اور  پھر وفات  کی وجہ سے  تعمیر  ابھی نامکمل تھی ۔ اس وجہ سے  جن کمروں میں ابھی تک  وائرنگ  نہیں ہوئی تھی وہاں  عارضی طور پر تاریں  لگا کر بلب لگا دئیے ، اور  باہر جو  مرد  حضرات  آ رہے تھے ان کی نشست کیلئے   دریاں بچھادیں ، تایا  جی وہاں بیٹھ کے سب کے سامنے  اپنے رونے رونا  شروع ہو گئے ، اور میری غیبتیں ہوتی رہیں۔ساڑھے  آٹھ بجے  تک  حسنین  بھائی نے  جنازے  کے وقت  کا بتا دیا کہ  کل  بروز جمعرات  سہ پہر تین بجے  نماز ِ جنازہ ہو گی ۔ اب  ہم دونوں بھائیوں نے موبائل کے ذریعے  فرداً فرداً  سب  رشتہ داروں اور ابا جی کے مریدین تک  ابا جی کی  وفات اور  جنازے  کے وقت کی اطلاع پہنچائی ۔ 
غسل  کیلئے  پانی   میں بیری کے پتے  بھی  ابالے  جاتے ہیں۔  رات کے اندھیرے میں بیری کے درخت  سے پتے توڑ  لایا ۔اور  پانی ابلنے کیلئے تنور  پر رکھ دیا۔  جنید  حسنین(منجھلے بھائی ) نے میرے  مشورے سے  غسل   دینے کی جگہ کا تعین کر کے  گڑھا کھودنا شروع کر دیا۔ اور  میں ان کا   تیار کروایا  ہوا سرخ رنگ کا تختہ  غسل  اٹھا لایا۔ رشتہ دار  شاید اس امید میں تھے  اور جیسا کہ اکثر ہوتا  ہے کہ  آل اولاد تو رونے پیٹنے اور  غم کا بہانہ بنا کر چارپائی  کی پٹی سے چپک کر بیٹھ جاتی ہے ۔  لیکن یہاں تو صورت  ہی نئی تھی۔  ہم نے نہ تو کسی سے کوئی کام کہا اور نہ کسی  کو کرنے دیا۔  سب کام اپنے ہاتھوں سے انجام دئیے۔ساڑھے  نو بجے  کے قریب  جب کہ پانی  اور  غسل  کیلئے گڑھا تیار  ہو گیا تو  میں پہلے سے تیار شدہ کفن لے آیا ۔ ابا جی اور  اماں  جی کے چچا زاد  بھائی جنہیں  ہم ماموں  کہتے ہیں،  اس موقعے پر آگے بڑھے اور  بولے کہ یہ کام  بچوں کا نہیں ،  میں  نے کہا لیجئے  آپ ہی مجھے سکھا  دیں کہ کفن کیسے پہنایا جاتا ہے ۔   اور  انہوں نے   کفن کو ترتیب سے  چارپائی پر بچھا دیا۔
اس کفن کی بھی ایک کہانی ہے۔  یہ  کفن  اور اماں جی کا کفن  انہوں نے  اپنی وفات سے تقریباً  11  سال پہلے  ہی  تیار  کر کے رکھا ہوا تھا۔  اماں  جی نے اپنے ہاتھوں سے  دونوں کفن سیے تھے ۔ پھر یہ  دونوں کفن  عرب  بھجوائے  گئے جہاں  سے یہ  آبِ زم زم  میں بھگو کر  اور کعبہ کا طواف کر واکے  واپس لائے گئے۔   بجلی  تو حسب معمول اس موقع پر تھی ہی  نہیں، موبائلز اور ٹارچ کی روشنی میں دیکھا کہ  ابا  جی نے بدست خود بیری  کے پتوں کے رس سے  سینے  والی  جگہ پر کلمہ طیبہ ، کلمہ شہادت  اور  درود  تاج مکمل  لکھا  تھا۔  اور  اس کے حصار  کے طور پر مستطیل  شکل میں آیت الکرسی  لکھی ہوئی تھی۔
چاند  نکل آیا تھا اور چاندنی خوب چٹکی ہوئی تھی۔  اندر سے  ابا جی کو  ہم سب بھائی  غسل کیلئے   مقررہ مقام پر لے آئے ۔  اورتختے پر لٹا دیا۔  موقع پرموجود بزرگوں  نےجنہیں اس بات کا یقیناً بہت غصہ تھا کہ ہم کسی کام میں مدد مانگنا تو درکنار  کسی بات پہ مشورہ  بھی نہیں مانگ رہے تھے ۔پھر بھی وقتاً فوقتاً اپنی بزرگی  کے ذکر کے ساتھ  مشوروں سے نوازنا   جاری رکھا ۔  ایک بولے  کہ اب قمیض  اتارنا مشکل ہوگا۔  بہتر ہے کہ  قینچی  سے کاٹ  کر علیحدہ  کی جائے ۔  حسنین بھائی  نے   با آوازِ بلند دیگر بزرگوں  کو بھی پاس بلایا  اور کہا  میں آپ کی غلط فہمی آپ  کی آنکھوں کے سامنے ہی دور کر دوں ، کہیں کوئی  یہ کہے کہ  باپ کی کرامات گھڑلی ہیں۔  اور  اس  کے ساتھ ہی   ان کی قمیض اتارنا  شروع کر دی۔  اور گردن و بازو تک پہنچے تو  دونوں  بازو  کھڑے ہی نہیں پیچھے کر  اتنے آرام سے  قمیض اتار کے  دونوں  بازو  چھوڑے تو  ایسا محسوس ہوا  کہ جیسے ابا جی فوت نہیں ہوئے بلکہ بے ہوش پڑے ہیں۔بازو  آرام سے خود بخود  اپنی جگہ  پر واپس آ گئے۔ وفات کے تین گھنٹے بعد بھی  جسم اس طرح تازہ اور نرم  تھا  کہ لگتا ہی نہ  تھا کہ میت  ہے۔ موقع  پر موجود  جن جن لوگوں نے یہ منظر دیکھا  انہیں بے اختیار خدا یاد  آ گیا۔ ماموں نے  رشک  کے مارے آگے بڑھ کر بازو  اٹھا کے  دیکھا  اور  اللہ اکبر اللہ اکبر  کہنے لگے۔ایک چادر  ابا جی  کے  جسم پر گردن تک  ڈال دی گئی اور  ہم انہیں غسل دینے لگے۔   غسل کے بعد  انہیں کافور  اور عطر  لگایا  گیا ۔ 
اس موقع  پر  ماموں کے مشوروں  میں شدت آئی تو حسنین بھائی  نے  کہا آئیے  آپ ہی پہنا ئیے۔ آپ آگے بڑھے اور کفنی  پہنا کر   کفن کی پہلی چادر باندھنے ہی لگے  کہ  جنید  حسنین  نے  کہا مجھے لگتا ہے  کہ آپ نے کفنی الٹی پہنائی ہے ۔ سخت چراغ پا ہوئے  اور حاضرین کو مطلع  فرمایا کہ  جتنی ان کی عمر ہے اتنا میرا تجربہ ہے تجہیز و تکفین میں۔   یہ  ہے وہ ہے ۔۔۔۔میں نے ماما جی حوصلہ  رکھیں! ایک بار دیکھ لینے سے آپ کی بزرگی میں کوئی فرق نہیں آ جائے  گا۔ موبائل ٹارچ آگے کی تو واضح ہوا  کہ کفنی واقعی  الٹی پہنائی تھی ۔  ماما جی  کو ان کی بزرگی نے قطعاً شرمندہ نہ ہونے دیا ، خیر کفنی  میں کلمے اور درود شریف  والی سائیڈ  سیدھی کر کے  دوبارہ پہنائی گئی ۔ دونوں  چادریں  پہنا  کہ  کفن کے بند باندھ  دئیے  گئے ۔  اور  اباجی  کو اندر  کمرے میں لٹا دیا گیا۔اس دوران دس بج گئے اور  بجلی بھی تشریف لے آئی ۔  اندر موجود  بہوئیں  اور دیگر خواتین  تلاوت کرنے لگیں۔
اس کے  بعد ایک اور لطیفہ سامنے آیا ماما جی  کہ مطابق غسل  کا پانی جس گڑھے  میں جاتا ہے ، پلیتے (کپڑے کے بنے دستانے) اور بیری کے ابلے ہوئے ہتے وغیرہ  بھی اسی گڑھے میں دفن کیے جانے  ضروری ہیں۔ چونکہ کھودا جنید  نے تھا اس لیے اب  گڑھا  دوبارہ پر  کرنے کیلئے میں آگے بڑھا  تو ماما  جی نے ایک اور شگوفہ چھوڑا کہ  یہ  غلط ہے ۔ لازم ہے کہ  جس نے گڑھا کھودا  ہو پر بھی  وہی کرے۔  غصہ تو مجھے  بہت  آیا کہ فقہ  کی کسی کتاب  میں مجھے تو  یہ اہم مسئلہ کبھی نظر نہ آیا تھا اور  آج یہ  اہم اسلامی  مسئلہ  سننے  کو مل رہا تھا۔ سنی ان سنی کر کے  میں نے ہی آدھا گڑھا  بھرا اور مزید  آدھا   بھرنے کیلئے جنید نے میرے ہاتھ سے  کسی  لے لی۔

رات گیارہ ساڑھے گیارہ  تک  دھنوٹ شہر  اور آس پاس کے گاؤں  سے  آئے رشتہ دار واپس چلے گئے اور  جو دور سے آئے تھے  ان کےلیے آرام  کا انتظام  کر دیا  گیا۔          

کرم فرما