Pak Urdu Installer

Thursday, 26 September 2013

ہے خبر گرم ان کے آنے کی

11 آرا
الف۔۔۔۔
انسان  ہے  تو  خسارے میں ہے ۔۔۔
خوشی ہو یا غمی  آپے سے  باہر ہونے میں دیر نہیں  لگاتا۔۔۔
خوشی  ملے تو  کہنا  کہ  "میں نے کر دکھایا۔"
غم ملے تو "میری تو قسمت ہی خراب ہے ۔ " یا  "قدرت  کو تو مجھ سے خدا واسطے کا بیر ہے۔"
ویسے  تو بہت عقلمند  اور  بحر علم کا  شناور ہے  ۔  سائنس  تو اس کی انگلیوں  پہ دھری ہے ۔  
نیوٹن کا  حرکت کا  تیسرا قانون  "ہر عمل کا ایک رد عمل  ہوتا  ہے " تو بچے بچے  کو بھی یاد ہے ۔  مگر  آزمائش  کے وقت  نجانے  کیوں  یہ  قانون  اکثر  بھول جاتا ہے ۔
شاید اعمال نامے  پہ نظر ڈالتے دل دہلتا  ہو۔۔۔!!

الف۔۔۔۔
اللہ  ہے  تو  اپنی  شان  کے مطابق  عظمتوں  کا مالک ہے ۔
اپنی مخلوق سے اتنا  پیار کرتا ہے  کہ ستر ماؤں  کا پیار  یکجا ہوجائے تب بھی  اس کے  پیار  کے  برابر  نہیں۔
مومن  ہو یا گناہگار ۔۔۔۔  اس  کے پیار  میں کمی  نہیں آتی ۔۔۔اس کی رحمت  کے سامنے سب برابر ہیں۔
توبہ  کا دروازہ  کھول کے  بیٹھاہے ۔ کہ  کب  بندے  کو میری  یاد آ جائے ۔۔۔۔
سب کے عیب  دیکھ رہا  ہے ۔۔۔ اور  پردے  ڈالے جاتا  ہے ۔

سیانے کہتے ہیں دنیا میں  پیدا ہونے  والے  پر بچے  کی  پیدائش  دراصل  اس بات کا اعلان  ہے کہ  اللہ تعالیٰ  ابھی  انسان  سے  مایوس نہیں  ہوا۔ 
چہ خوب ۔۔۔!! حضرت انسان  نے  حد کر دی ہے اپنی  حد پار کرنے میں۔۔۔۔ اپنی اوقات  بھول  جانے میں۔۔۔۔ مگر  اللہ  کی رحمت  کے قربان جائیے  کہ انسان  سے ناامید نہیں ۔۔۔ دنیا  میں آج  کیا کچھ نہیں  ہو رہا ۔۔۔اس کے  باوجود  اللہ  کی رحمت  بدستور  اس  صبح کے  بھولے  کی  شام  سے پہلے  واپسی  کیلئے  پُر امید ہے 
۔
گویا  غالب ؔ  کے بقول :۔ "وہ اپنی خو نہ چھوڑیں  گے ہم اپنی وضع کیوں  بدلیں۔"

میں  ہر روز  کی  طرح سورج  کے  مغرب سے طلوع ہونے  کا خوف دل میں لیے صبح  جاگا  تو  پیغام ملا  کہ  اللہ  کی طرف  سے  صلح  صفائی  کا  ایک  اور موقع  ملا  ہے ۔  اللہ  کی  انسان  سے  خوش امیدی  کی  ایک  اور علامت  دنیا  میں وارد ہوئی  ہے ۔۔۔مجھ سے  سیاہ  کار  کیلئے  یہ  خبر کتنی  خوشی  کا  باعث ہوئی  اس  کا  اندازہ  کرنے  کیلئے ذرا  حضرت  یعقوب  علیہ  السلام کا  واقعہ  قرآن مجید  کی زبانی  ملاحظہ  فرمائیں ۔۔۔۔  جب انہیں حضرت یوسف علیہ السلام  کی  کنعان  آمد  کی خوشخبری  سنائی  گئی  تھی ۔
میری  خوشی  کا اندازہ  صرف  وہ  پھانسی  کا  مجرم  ہی لگا سکتا ہے  کہ  جسے عین  پھانسی  سے  کچھ دیر پہلے  معافی  نامے  کی خوشخبری  مل جائے ۔۔۔

میں نے  سنا  ہے  جب  ابو لہب  کو  ثوبیہ  نے  آمد  سرکارﷺ کی  خبر سنائی  تھی تو  اس  نے  خوشی  کے مارے  خبرلانے  والی  لونڈی  کو  آزاد  کردیا ۔  اور  اس  کے اعمال  نامے کی تمام  تر  سیاہ کاریوں  کے باوجود وہ  آج  بھی  اس  ایک  عمل  کی  جزا پا رہا ہے ۔۔۔ میرے دل میں خیال  آیا کہ  نام  نہاد  جوگی  میاں  ابو لہب اور  آپ  کے اعمال نامے  میں کم از کم  انیس بیس کا ہی فرق  ہوگا ۔  پس  اگر امید  کی ایک کرن  ۔۔۔ تسکین کا  ایک  لمحہ ۔۔۔ عذاب سے  ایک  لمحے کا  چھٹکارہ ۔۔۔اسے مل سکتا  ہے  تو  یقیناً تمہیں  بھی مل سکتا  ہے ۔ غلام ، لونڈیوں  کا  تو زمانہ  لد گیا تو کیا ہوااپنے  انداز میں خوشی  کا  اظہار تو  کیا  جا سکتا ہے ۔  اللہ  کو  اپنے  محبوب  ﷺ سے  اتنا  پیار  ہے تو  یقیناً  محبوب  ﷺ کی امت  سے  بھی پیار ہوگا۔  پس  اگر  ایک  پیارےنبی  ﷺ کے  ایک  پیارے امتی کی  آمد پر خوشی  کے اظہار  کا  موقع ہے  تو  ہاتھ سے جانے نہ پائے ۔ڈوبتے  کو تنکے کا سہارا بھی  بہت  بڑا  سہارا  لگتا  ہے ۔۔۔میری  اس بات  کی حقیقت  صرف وہی  سمجھ  سکتے  ہیں جو  سیاہ کاری  اور  کمینگی میں میرے ہم پلہ  ہوں۔ اگر  خوش قسمتی  سے  آپ  میری  بات نہیں سمجھ  پا رہے تو  اللہ کا شکر ادا کیجئے ۔

اللہ  تعالیٰ نے اپنے  پیارے  رسول ﷺ اور ان  کی  امت  پر بے شمار  نعمتوں  کی بارش  کی ہے ۔  ان  بے شمار  نعمتوں  میں سے  اس نے  صرف  "کوثر" عطا  کیے جانے  کا ذکر فرما کر  خوشخبری  دی "بے شک  آپ کا دشمن  ہی  بے نام و نشان  ہوگا۔" اس  سے اندازہ  لگایا جا سکتا ہے کہ  نام  و نشان  ہونا  کس قدر  بڑی نعمت  ہے ۔  کفار اور منافقین  نے مذاق بنا لیا  تھا  کہ  آپ ﷺ کو  اللہ تعالیٰ نے  اولادِ نرینہ  عطا نہیں فرمائی ۔  اس  کی تردید  میں اللہ  نے  خاص طور پر  سورۃ  نازل فرما کر  آپ  ﷺ کے دشمنوں  کے بے نام  و نشان  ہونے  کی خبر  دی ۔ اب  کوئی  کہہ سکتا ہے  کہ  نعمتوں  کا ذکر تو  اللہ  نے تقریباً سارے  قرآن مجید  میں فرمایا  ہے ۔  سورۃ  الرحمن  کا  تو  موضوع  ہی یہی  ہے کہ  "پس تم اپنے رب کی  کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔" لیکن  اندازِ بیاں  پر  غور فرمائیے ۔ اور سورۃ  کوثر  کی  آیات کی تعداد  سے  اندازہ  لگائیے کہ اس  سورۃ  میں اللہ تعالیٰ  نے  اپنی خاص الخاص نعمت  کا ذکر  کر کے ظاہر  کیا  ہے کہ  نام و نشان  ہونا  دراصل  اس دنیا  کی سب سے بڑی اور  ہمیشہ رہنے والی نعمت ہے ۔ پس مبارک  باد کا مستحق ہے ہر  وہ  اللہ  کا بندہ  جسے اللہ  نے یہ نعمت  عطا فرمائی  ہے ۔

 ڈارون  سے  ہر چند کہ  میں متفق نہیں مگر  نظریہ  ارتقا  کا جزوی  طور پر  قائل ضرور ہوں۔حضرت آدم علیہ  السلام  کی وفات  کے وقت  ان کی  اولاد  کی تعداد  کیا تھی ۔ ان میں سے کتنے  ہی  قدرتی آفات  کی  زد میں آ کر  مر گئے  ہوں  گے ۔ کچھ آپسی  جھگڑوں  کی بھینٹ چڑھ گئے ہوں  گے۔ ان  میں سے زندہ وہی رہے  جو  قدرت کی نظر  میں بہترین  تھے ۔ ان کی اولادیں  ہوئیں، اور  قدرت کا  چھانٹی  والا فارمولا  ہر زمانے  میں لاگو ہوتا  رہا۔ دنیا  میں کتنی ہی جنگیں ہوئیں ۔ کتنے ہی زلزلے آئے ، کتنے  ہی انسان  سیلابوں  ، طوفانوں کی نظر ہوگئے ۔ مگر  دنیا  انسان  سے خالی  نہیں ہوئی ۔ ہر  لیول  سے  سروائیو کر کےآگے  آنے  والےیقیناً بہترین  تھے اور قدرت  کی نظر  میں خاص  تھے ۔ اب  حال  پر نظر دوڑائیں  تو  ثابت ہوگا  کہ حضرت آدم  کی  اولاد  کی چھانٹی  میں سے  قضا و  قدرت  نے  موجوہ انسانوں  کو  ہی چنا ۔کیا  یہ  بات  حکمت  سے خالی  ہو  سکتی ہے  کہ  اتنے زمانوں میں آنے والی  بے شمار  آفات  اور  جنگوں  کا  شکار  ذوالقرنین سرور  کے  آباو اجداد  نہ تھے ۔ اور  اب  جبکہ  بقول غالبؔ:۔ 
سلطنت دست بدست  آئی  ہے 
جامِ مے  ، خاتمِ جمشید نہیں
حضرت آدم  علیہ السلام  سے  ہوتے  ہوتے یہ  سلطنت  اب  محمد  زین  العابدین تک  آن پہنچی ہے ۔تو ماننا ہی  پڑے گا  کہ  قدرت  نے  انہیں بے مقصد  نہیں چُنا۔ یہ  یقیناً  بہت  ہی خاص الخاص  ہیں۔
بڑے غالب ؔ  نے  اپنے سات  بچے  دے کر  قدرت  سے زین العابدین خان عارفؔ کو  پایا  تھا ۔  اور چھوٹے  غالب ؔ پر  بھی  اللہ  کا کرم ہو گیاہے ۔

خوش آمدید  محمد  زین العابدین۔۔۔۔

ختم کرتا ہوں اب  دعا پہ کلام
شاعری سے نہیں مجھے  سروکار
تم سلامت رہو  ہزار  برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار   

Saturday, 21 September 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط ہفدہم)۔

2 آرا

گر کیا  ناصح نے  ہم کو قید، اچھا!یوں سہی


نئے  قانون کے نفاذ کابھی جوگی اور وسیم  کے معمولات پر کچھ خاص اثر نہ ہوا۔ یعنی جو محفل  ہوسٹل کے گراسی  پلاٹوں  پہ سجتی تھی ۔وہ  اب    کھیل کے میدان کے مشرقی  سرے  پر واقع  ٹیوب ویل کے  حوض پر سجنے لگی  ۔ عجیب بات یہ کہ محفل کے شرکاء کی تعداد بجائے کم ہونے کے بڑھتی گئی  ۔ اور مزے  کی بات یہ  کہ  باقاعدگی  سے کرکٹ  کھیلنے  کے عادی طلباء  بھی اب کرکٹ  بھول بھال  کر  اس محفل کا  حصہ  نظر آتے ۔سب قاعدے قانون  دھرے کے دھرے رہ گئے ۔  مدعی  لاکھ  برا چاہے تو کیا ہوتا  ہے ۔۔۔۔
اس  پر  قانون میں  ایک ترمیمی  بل کے ذریعے  اضافہ عمل میں لایا گیا  کہ تمام طلباء پر یہ بھی  لازم ہے کہ وہ کسی نہ کسی کھیل  میں حصہ لیا کریں ۔

کھیل کے میدان  تقریباًتین ایکڑ کے رقبے پر پھیلے ہوئے تھے ۔ایک حصے  پر  فٹ بال کھیلنے والوں کا قبضہ تھا ۔ اور اسی کے  کچھ حصے میں کبڈی کھیلنے والوں کا میدان سجتا تھا ۔ بقیہ دونوں حصوں  میں کرکٹ  کے نشئی  اپنا نشہ  پورا کیا کرتے  تھے ۔جوگی  کے پسندیدہ ترین استاد جناب محمد  حنیف صاحب فٹ بال  کھیلنے والوں میں شامل  تھے اس لیے جوگی  اور وسیم  نے فٹ بال  ٹیم میں شمولیت اختیار  کی ۔مزے کی بات  یہ  دونوں  کا  تجربہ  صرف  دیکھنے  کی  حد تک تھا۔  پہلے ہی دن  شاید  لمبے قد  اور دیو  جیسے بازوؤں  کی  وجہ  سے  جوگی کو گول کیپر  کھڑا  کر دیا گیا ۔وسیم  کو  تو شاید  میدان  میں فٹ بال  کو کک  لگانے کا  موقع  میسر  نہ آیا  مگر  گول کیپر  کی حیثیت  سے کھڑے جوگی  کی طرف فٹ بال  بھاگ بھاگ  کے آتا ۔گول   کی  دو کوششیں ناکام  کرنے بعد  تیسری  بار  فٹ  بال  جب  گول  کی طرف آیا تو جوگی صاحب  نے جو ش میں آ کر   زندگی  میں پہلی بارجو کک  ماری اس کا  فٹ بال  پر  تو  کوئی خاص  اثر  نہ  ہوا  سوائے اس  کے  کہ  دس بارہ  فٹ  دور  جا گرا البتہ  جوگی  میاں پر   اچھا خاصا اثر ہوا۔ اس وقت تو  گول پوسٹ  چھوڑ  کے  پاؤں  سہلانے میدان کے   کنارے جا بیٹھے  ۔  مغرب ہوتے ہوتے پاؤں  اچھا  خاصا سوج گیا۔ اور  عشاء  ہونے تک حالات مزید  بگڑچکے تھے  ۔  اور صبح  جوگی  صاحب چلنے پھرنے سے بھی عاجز تھے ۔
کچھ  دن  کی مالش  رنگ لائی اور پیر  ٹھیک  ہوگیا  مگر  جوگی  اور وسیم نے پھر کبھی فٹ بال  کا نام نہ لیا۔ چونکہ قاعدے کی رو سے کسی نہ کسی  کھیل میں حصہ لینا  ضروری تھا ۔اور ویسے  بھی بقول  جناب  مرزا  غالب ؔ علیہ الرحمۃ
اپنا  نہیں وہ شیوہ  کہ آرام  سے بیٹھیں
اس در پہ نہیں بار تو کعبے  ہی کو ہو  آئے
 اس لیے جوگی  نے میس  میں تنور جلانے  کیلئے  آنے والی لکڑیوں میں سے ایک  اچھا  سا ڈنڈا  منتخب کیا  اور میس  کی کلہاڑی سے دو  عدد بہترین  گُلیاں  تخلیق  کیں ۔ اور اگلے دن  کرکٹ گراؤنڈ کے  ایک طرف جوگی  اینڈ کمپنی  نے   گلی ڈنڈے کا میدان سجا لیا ۔ اکثر طلبا  ء کیلئے  یہ نیا  کھیل تھا ، اور کچھ اس کھیل  کے کھلاڑی  نکل آئے ۔ اب جو  انہوں نے جوگی اور وسیم  کو گلی ڈنڈا کھیلتے  دیکھا تو ان  کو بھی کھیلنے کا شوق چرایا ۔ یوں چند دن بعد  گلی ڈنڈا کھیلنے والی دو ٹیمیں معرض وجود میں آگئیں ۔ اور بڑے  معرکے  کا کھیل ہونے لگا ۔ لیکن  چونکہ  اسی میدان میں کرکٹ کھیلنے والے بھی  ہوتے  ا س لیے  گلی ڈنڈا  کھیلنے  والے  کھلاڑیوں  کی مہارت اکثر ان بیچاروں کے ماتھے اور کبھی سر کیلئے  عذاب بننے لگی ۔ ایک  بار جب  جوگی  کی شاٹ  پر  گلی  ایک  کرکٹر  کے منہ سے ٹکرا  کر  اس کے ثنایا  علیا(سامنے  کے  دو اوپری دانت) کی شہادت  کا باعث بنی  تو گلی ڈنڈے  کے  کھیل پر پابندی  لگ  گئی ۔
 

عشق نبرد پیشہ  طلبگارِ مرد تھا


علم الصرف  کے مدرس  جناب محمد امین صاحب  کی  زبانی  جب یہ معلوم ہوا کہ  آنجناب  کراٹے ماسٹر بھی ہیں تو  جوگی  وسیم اور ناصر وغیرہ کے پیہم اصرار پر  انہوں  نے  عصر سے مغرب کے درمیان  کراٹے  کلاس  کی حامی بھر لی ۔شدہ شدہ  یہ  خبر  پھیل گئی  کہ  اب اکادمی میں کراٹے کلاس بھی ہوا کرے  گی ۔  پہلے  دن تقریباً ڈیڑھ سو  طلباء کراٹے سیکھنے  کیلئے  میدان  میں تھے ۔  دوسرے دن یہ  تعداد دگنی  ہو چکی تھی ۔ اور  جب  امین  صاحب نے  آٹھ فٹ اونچی   فلائنگ کک  کا  مظاہرہ  فرمایا  تو  تیسرے  دن نہ صرف  ہوسٹل  کا صحن  کراٹے سیکھنے  کے شوقین  طلباء سے بھر گیا  بلکہ  چاروں  طرف برآمدوں  میں بھی  دو دو قطاریں  بن چکی  تھیں۔ سب کا خیال  تھا  کہ  بس  ہفتے دو ہفتے  میں ہم بھی جیکی چن  بن جائیں گے ۔  مگر  جب  پہلے چار  دن صرف  جسمانی  ورزشیں  ہی  ہوتی رہیں۔ تو  وہی  ہوا جو کوفے  میں حضرت مسلم بن عقیل کے ساتھ ہوا تھا ۔پانچویں دن  صرف  22  طلباء  کراٹے  کلاس میں تھے اور چھٹے دن  یہ تعداد مزید  کم ہو کر  بارہ  رہ  گئی ۔ اور ساتویں  دن  یہ نفری  سات  کے ہندسے  پر  تھی ۔ سات  کا عدد  کچھ  ایسا سعد  واقع  ہوا کہ  کراٹے کلاس  کی  تعداد  پھر سات  پر ہی قائم  رہی ۔

لکھتے رہے  جنوں کی حکایاتِ خونچکاں


وقت  گزرتا  رہا لیکن  ایسے  محسوس  ہوتا  تھا  کہ گزرنے  کی  بجائے  بے چارے  طلباء پر  تنگ  ہوتا  جا رہا  ہے ۔ دن رات وہی چوبیس  گھنٹے  والے  ہی تھے ۔  ایک گھنٹے  میں بھی پہلے کی طرح ساٹھ منٹ تھے ۔ مگر اساتذہ  شاید  سمجھتے  تھے  کہ  طلباء کے  پاس چوبیس  کی بجائے  چونتیس گھنٹے  کا وقت  ہوتا  ہے  ۔ ایک دن میں سولہ  اساتذہ  کو  بھگتنے  کے علاوہ  ہفتے میں ایک  بار  لنگر  خانے  میں  لگا  لکڑیوں  کا ڈھیر  بھی  میس  میں ڈھونا  ہوتا تھا۔  سال  بھر  جتنے  چاول  کھاتے تھے  سال میں ایک بار وہ  بونے کی ذمہ داری  بھی  انہیں ناتوانوں پر  تھی ۔  وہ  منظر  بھی دیکھنے سے تعلق  رکھتا تھا ۔  کسان  زمین  تیار کر کے پانی لگا دیتے  تھے  اور صبح  کی نماز  کے بعد  طلباء  شلواریں گھٹنوں  تک  چڑھا  کے  یاجوج  ماجوج  کی طرح کھیت  میں ایک  طرف سے گھستے  اور دوسرے  سرے پر جا نکلتے ۔اسی  رفتار سے ایکڑوں پہ ایکڑ  دھان  بوتے  بوتے  نو بجنے  تک سب  کوہ قاف  کے  جنوں  کے  ہم شکل بن چکے ہوتے ۔ پھر  وہیں برگد  یا پیپل کی  گھنی  چھاؤں  میں  لسی  اچار  کے ساتھ  لنگر  خانے آئی  روٹی  سے ناشتہ  کرتے ۔  روٹی  شاید  اس  کیلئے  چھوٹا لفظ  ہے ،"روٹا "کہنا  زیادہ  مناسب ہوگا۔حجم  میں وہ تین روٹیوں  کے برابر  ہوتی  ،   بے حد  عمدگی  اور مہارت  سے  پکائی  گئی ۔  اتنے  محیط  کے باوجود  کیا  مجال  کہ  کہیں سے گولائی یا  موٹائی  میں  فرق  آ جائے ۔جوگی  ہمیشہ  اس روٹی  کے  حجم پر  حیران  ہی  رہا  تاآنکہ  جب تک  اس نے گولڑہ  شریف  کے  لنگر  خانے  میں  اس  سے بھی  بڑی  روٹی  نہیں دیکھ  لی۔ خیر  یہ تو  ایک  جملہ  معترضہ  تھا۔ ناشتے  کے  بعد  یاجوج  ماجوج  پھر حرکت  میں آتے  اور  دوپہر  ہونے  سے  سے  گھنٹہ  بھر  پہلے  ایک مربع دھان  بوکر  ہاتھ  جھاڑتے  ٹیوب  ویل  میں گھس  جاتے ۔اور دوپہر  کا  کھانا    حسبِ معمول  میس   میں جا  کھاتے  تھے ۔ اسی  طرح  دو یا  تین  دن  کے اندر  دھان  کی بوائی  مکمل  ہو جاتی۔
علاوہ  ازیں  مکئی  کے موسم  میں جب مکئی پک جاتی  تو یاجوج ماجوج  ایک بار پھر  حرکت میں آتے  اور دیکھتے ہی دیکھتے  مکئی کے بھٹے  پودوں سے ٹرالیوں  میں اور ٹرالیوں  سے خشک  کرنے کے  میدان  میں منتقل ہو جاتیں۔
اکادمی  میں طلباء  کی  بڑھتی تعداد  کے پیشِ نظر  سارا  سال  تعمیرات  کا  کام  بھی  ساتھ ساتھ چلتا  رہتا ۔  اسی عرصے کے دوران  نیا  میس  ہال  ، باتھ رومز  اور ہوسٹل  کا  مشرقی  ضمیمہ  تعمیر  ہوئے ۔ ان  میں بھی طلباء  کا  پسینہ  شامل  ہے ۔ اینٹوں کی کئی کئی ٹرالیاں  (ٹریکٹر  والی ٹرالی ) آن کی آن  میں ادھر  سے ادھر کر دیتے ۔ جب  میس  ہال  کی  چھت  پہ  لینٹر  ڈالاجانا  تھا تو طلباء  نے اپنی  خدمات  پیش  کردیں۔  جو کام  تین چار دنوں میں ہونا  تھا  وہ مغرب  سے  عشاء  کے درمیانی  وقت  میں کر کے رکھ  دیا ۔   

Saturday, 14 September 2013

دل کے داغ

2 آرا

انتساب


کچھ سابقہ "عزیز" دوستوں کے نام


شام کے سرمئی  اندھیروں میں
یوں میرے دل کے داغ جلتے ہیں

جیسے پربت کے سبز پیڑوں پر
برف کے بعد دھوپ پڑتی  ہے

جیسے صحرا کی ریت اٹھ  اٹھ کر
اجنبی کا طواف کرتی ہے

کسی کی معصوم تمنا کو 
لوگ یوں توڑ جاتے ہیں

جیسے دم توڑتے مسافر  کو
قافلے والے چھوڑ جاتے ہیں

Friday, 13 September 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط ششدہم) ۔

3 آرا

دھمکی میں  مر گیا  جو نہ بابِ نبرد تھا


معاملہ  کچھ اس طرح بگڑا کہ شکیل صاحب اور ان کے  ہم خیال مولانا  صاحبان اور  حلقہ  ملنگاں  کے درمیان خوب ٹھن گئی ۔  اور مولانا پارٹی    اس تاڑ میں رہنے لگی کب انہیں  جوگی  اور وسیم کو رگیدنے  کا موقع میسر ہو ۔  اور یہ عرصہ  جوگی  اور وسیم نے اس طرح گزارا جیسے سرکس  کا بازیگر  رسے پر  سائیکل چلاتے  وقت  ،  اور  گنہگار پل صراط  پر  گزارتے ہوں ۔اور مصیبت پہ مصیبت  یہ  کہ  کسی  بھی جوابی کاروائی کیلئے جوگی کمپنی  کو  بالواسطہ  طریقہ اپنا  نا  پڑتا تھا ۔اور قسمت  سے  اگر  کوئی موقع  ہاتھ آجاتا تو  چوکتے نہ تھے ۔ ایک بار شکیل احمد صاحب  نماز  کے فضائل پر اسمبلی ہال  میں درس دے رہے تھے  اور جب وہ  باجماعت نماز  کی  حکمت اور ثواب کا  خشوع  و خضوع  سے بیان فرمانے  لگے تو  وسیم نے  کھڑے ہو کر  کہا:۔ ایمان  کی  امان پاؤں تو کچھ عرض کروں ۔؟  شکیل صاحب اور ہمنوا چوکنے ہو گئے  کہ راکٹ فائر ہونے والا ہے مگر  تمام طلبا  ء اور  اساتذہ  کی موجودگی میں سوال کی  اجازت بھی (مارے باندھے) دینی ہی پڑی ۔ سوال تھا  کہ کیا  باجماعت نماز  کی حکمتیں اور ثواب سب  کیلئے ہے یا کچھ لوگوں کو استثنا  بھی حاصل ہے ۔؟ شکیل  صاحب سوال کے پس منظر کو سمجھے بغیر فوراً  کلف لگے لہجے  میں بولے :۔ ہاں  ! یہ  سب  کیلئے ہے اور اسلام  میں کسی  کو استثنا   ،یا تخصیص  حاصل نہیں۔    پھر وسیم کی طرف دیکھ کر  طنزیہ انداز میں واضح کیا  کہ :۔ "اعمال  اور ان کی جزا کا دارومدار  نیت  پر ہے ۔"اور وسیم نے اگلا  فائر  کیا :۔ "مگر  ایک  کنفیوژن  ہے ۔  تپتی  دوپہر  میں ظہر  کے وقت جب سب لوگ یہ  حکمتیں اور  ان کے ثواب سے جھولیاں  بھرنے مسجد میں جاتے ہیں تو   آپ اپنی  قیام  گاہ  میں ہی  جائے  نماز بچھا  لیتے ہیں ۔"شکیل صاحب حتی الامکان  شائستگی سے غرائے :۔ "کوڑھ مغز ! تمہیں کیا معلوم  ،  ہم چار  لوگ  وہیں  اپنے  کمرے میں ہی جماعت کا اہتمام  کر لیتے  ہیں۔ " وسیم کا منہ پھٹ ہونا سب  کو معلوم  تھا  مگر  اب جو غوطہ  وسیم نے دیا شکیل صاحب کو بھی پسینہ  آ گیا ۔"آپ  چند قدم  چل  کر مسجد  میں باجماعت نماز پڑھنے نہیں جاتے ۔ بلکہ اپنے کمرے میں  ہی جماعت کھڑی کر لیتے ہیں جس کی نفری  اکثر اوقات امام  صاحب کے  علاوہ  صرف ایک مقتدی  ہوتی ہے ۔ تو کوئی کیسے  نہ سمجھے کہ آپ  کو  غلام  محمد صاحب  کی اقتدا میں نماز پڑھنا گوارا نہیں یا    آپ  حسبِ  سابق  اسلام  میں تقسیم در تقسیم اور ڈیڑھ اینٹ کی ذاتی مسجد اورذاتی  فقہ  کی روایت  کے مقلد  ہیں۔؟" اس قدر  جارحانہ  حملے  پر جوگی  اور وسیم کے  علاوہ سب  سکتے میں رہ گئے  ۔  شیر محمد  صاحب نےاپنی پیٹی بھائی  کو   بر وقت کمک پہنچا ئی اور شکیل صاحب نے مولویوں والی روایتی تعلیل  بازی  کی پٹاری کھولی ۔ اورکسی قدر طنزیہ  لہجے میں  قرآن  مجید میں سے بدگمانی  سے بچنے اور حسنِ ظن  سے متعلقہ آیات کی تلاوت فرما کر  دو  نمازیوں  کی  جماعت کی تعلیل یہ پیش کی  :۔"چونکہ ہم  مسافر ہیں اور جماعت کے ساتھ مقیم والی  نماز پڑھائی  جاتی ہے ۔ اس لیے ہم  اپنے کمرے میں نمازِ قصر کی جماعت کھڑی کر لیتے ہیں ۔"مگر  وسیم  کی الجھن  بدستور قائم  تھی  کہ  فجر ،  عصر اور  مغرب  کی نمازیں  آپ مسجد  میں  سب کے ساتھ  جماعت میں ادا کرتے ہیں تو   کیاصرف  ظہر  اور عشا ء  کی  نماز کے وقت آپ  مسافر ہوتے ہیں۔۔؟؟؟؟   اس  کے جواب  میں وسیم کو زبردستی  بیٹھنے کا حکم دے کر  شکیل  صاحب نے فاتحانہ  نگاہ  سارے ہال پر ڈالی اور پوچھا کسی اور کی کوئی الجھن ہو تو وہ  سوال کر سکتا ہے  اور پورے ہال میں صرف ایک ہی ہاتھ کھڑا ہوا ۔  جو ظاہر ہے جوگی  کے علاوہ کس کا  ہو سکتا  تھا۔شکیل صاحب نے نہ چاہتے ہوئے بھی برا سا منہ بنا کر  جوگی کو سوال کی اجازت دی۔    جوگی کا سوال تھا  کہ  اگر  آپ کی تعلیل کو درست مانا جائے جو کہ  یقیناً درست ہے  تو اس ہال  میں بیٹھے ہوئے کم از کم دو تہائی طالب علم  بھی شرعاً  مسافر  ہی   ہیں ۔ لیکن حقیقت  یہ  ہے  کہ اگر کوئی  طالب  علم جماعت  کے ساتھ نماز پڑھنے سے رہ  جائے تو اسے صبح اسمبلی  میں  سب کے سامنے گدھے  کی طرح تشدد کا نشانہ  بنایا  جاتا ہے ۔اگر  اسلام میں کوئی  تخصیص اور استثنا  نہیں تو  یہ سب کیا کہلائے گا ۔۔۔؟؟  تانا شاہی  ۔۔۔؟؟  یا  ۔۔۔۔؟؟؟
شکیل صاحب  نے  تو لاجواب  ہو  کر  بولنے سے  انکار کر دیا  مگر  چونکہ عزت کا  سوال  تھا  اس لیے مولانا  شیر محمد نےپہلے تو اساتذہ  کے سامنے   اس طرح زبان چلانے  پر  ایک  ہجویہ وعید  بیان فرمائی  اور کہا کہ فقہ کی دو چار کتابیں  پڑھ لینے سے اپنے آپ کو علامہ سمجھ کر  محترم  اساتذہ کرام سے  بے مقصد بحث کرنے والے جان  لیں کہ  علم فقہ  کی رو سے  شرعاً  مسافر  بھی اگر  کسی  جگہ پندرہ دن قیام  کی نیت  کر کے مقیم ہو  تو  اس کیلئے  سارے  احکام  مقیم والے ہیں۔ لیکن اگر  شرعی مسافر کسی  جگہ  پندرہ دن قیام کی نیت کیے بغیر  چاہے سال بھر بھی  مقیم رہے تب بھی اس پر سب احکام مسافر  والے لاگو ہوں گے ۔ آپ لوگ چونکہ طالب  علم ہیں اور آپ کو  چھٹی بھی  دو  ہفتے بعد  ہوتی  ہے ۔ اس  کا مطلب ہے  تمام طلباء  پر  مقیم والے احکام  لاگو ہیں۔"لیکن  جوگی  کے ترکش  میں ابھی تیر  باقی تھے ۔  لہذا  مزے بولا:۔ "چھٹی تو واقعی  تمام  ادارے  کو دو ہفتے بعد ہوتی ہے ۔ ظاہر  ہے اساتذہ  کو  بھی ۔  اس کا مطلب ہوا کہ    چھٹی کا  شیڈول  معلوم  ہونے کے باوجود  بھی کچھ لوگ   محض دو رکعت نماز سے بچنے  کیلئےپندرہ    روزقیام کی نیت نہیں کرتے ۔یقیناً وہ لوگ قابلِ تحسین ہیں۔ اور ان  پر انگلی اٹھانا آخرت کی بربادی کا باعث ہوگا ۔"اس بات پر  ہال میں موجود  متاثرین کے علاوہ  تمام   اساتذہ  اور طلباء کھلکھلا کر ہنس پڑے ۔وسیم  نے  ٹکڑا لگایا :۔سمجھا کر  ناں یار "اعمال  اور ان کی جزا کا دارومدار  نیت  پر ہے ۔" اس پر  کسی  منچلے نے جوش میں آ کر    نعرہ ءِ  تکبیر   بلند کیا  اور ہال اللہ  اکبر  کی صدا سے گونج اٹھا ۔

جاتی ہے کشمکش  کوئی اندوہِ عشق کی ؟


اس غدر  کے بعد   متاثرہ پارٹی نے سختی سے  جوگی اور وسیم کی اثر پذیری  اور طلباء میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو کچل دینے کا فیصلہ کر لیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب  ہوسٹل  وارڈن منظور احمد صاحب استعفیٰ  دے کر  جا چکے تھے ۔  اور ہوسٹل  انچارج  کی ڈیوٹی  اساتذہ  کی ذمہ داری قرار پائی تھی ۔  ہوسٹل  کا چارج  ہاتھ آتے ہی سب  سے پہلا کام مولانا  صاحب نے  وسیم اور جوگی  کو  الگ کرنے کا کیا ۔  وسیم کا بوریا بستر  گول کروا کے  دوسری منزل پہ  بھیج   دیا گیا ۔  اور جوگی کو گراؤنڈ فلور  پر  رہنے کا پابند  کرکے سمجھ لیا گیا کہ  خطرہ  ٹل گیا ۔  لیکن  یہ صرف خام خیالی  تھی ۔
اہل ِ تدبیر  کی و ا ماندگیاں
آبلوں پر  حنا باندھتے ہیں
جوگی  نے ایک غیر سیاسی  اور غیر مذہبی  تنظیم"ڈان"(ڈی اے  ڈبلیو  این) کی داغ بیل ڈالی ۔  اس  کا  مقصد  اور منشور نظریات ہائے کہنہ  کی اندھا دھند تقلید  اور لکیر کی فقیری کی حوصلہ  شکنی اورجہانہائے نو  کی  تلاش  میں  پیش آمدہ  تجربات  پہ  تبادلہ  خیال اور ایک دوسرے کی  حوصلہ افزائی  تھا ۔ دو  اراکین  سے  اس  انجمن کا آغاز  ہوا لیکن   جوگی اور وسیم کو الگ  کرنے کی ہرکوشش اس  انجمن کے اراکین  میں اضافہ پر منتج ہوئی ۔    
پہلے  تو جوگی اور وسیم کی شر انگیزیاں صرف ایک کمرے  تک محدود  تھیں اب تو  یہ شر مزید  پھیلنے لگا ۔ جوں جوں کمرے تبدیل  ہوتے گئے  جوگی اور وسیم  کے  نظریات اور خیالات  عام ہوتے گئے ۔  سارا دن تو ساتھ ہوتے  ، عشاء کی نماز کے بعد    سے صبح کی نماز  تک کی جدائی جوگی اور وسیم کے حلقہ احباب میں وسعت کا باعث بنی ۔اور آخر کار  جب کسی  طرح کچھ ہاتھ نہ آیا تو ایک  بار پھر  جوگی اور وسیم کو ایک ہی کمرہ  الاٹ ہوا۔
عصر  سے  مغرب  کے درمیانی  وقت میں کھیل کے میدان سجتے تھے ۔  مگر  نہ تو جوگی کو  کسی کھیل میں دلچسپی تھی  نہ ہی وسیم کو  ۔ دو کلو مونگ  پھلیاں  سامنے رکھ کے  ان کی محفل  سجتی ۔ جہاں  دنیا جہان  کے موضوعات پر  سیر حاصل تبادلہ  خیال  کیا  جاتا  اور اتنے طالب علم کرکٹ میچ  دیکھنے والے نہ ہوتے جتنے جوگی اور وسیم کی  گپیں سننے والے ہوتے ۔مخالفین نے  اوپر  تک یہ اطلاع پہنچائی  کہ  یہ دونوں نہ توخود کھیلتے ہیں نہ ہی کسی  کو کھیلنے  دیتے ہیں۔ جبکہ  کھیل طلباء  کی ذہنی اور جسمانی  صحت کیلئے نہایت ضروری  ہیں۔لہذا اوپر سے حکم آیا  کہ تمام  طلبا کا کھیل کے میدان  میں  ہونا  لازمی  ہے۔گپ شپ  کیلئے  مغرب سے عشاء کا درمیانی وقت بہت ہے  ۔اس نئے  قاعدے  کے تحت عصر سے مغرب کے  درمیان ہوسٹل  کے اندر یا اندرونی  احاطے  میں نظر آنے والا ہرطالب  علم  سزا  کا مستوجب  قرار  دیا گیا۔  
 

Monday, 9 September 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط پانزدہم) ۔

1 آرا

اونٹ رے اونٹ ! تیری کونسی کل سیدھی


نہ معلوم  جوگی کا  خمیر  کس  مٹی سے اٹھایا  گیا تھا۔ دنیا جہان سے نرالی منطق  ، نرالے ہی  طور تھے ۔اور  وسیم  سے دوستی کے بعد  تو  مانو  سہاگہ  پھر گیا  ۔ہینگ لگی نہ پھٹکڑی  مگر  رنگ ایسا  چوکھا آیا  کہ  سب کی آنکھیں خیرہ ہو کے رہ گئیں ۔ کوئی  ایک ادھ معاملہ ہو تو  بندہ  بھی کہے  کہ کبھی کبھار  دماغی رو  الٹ  جاتی ہے  ، دو چار  ڈنڈے پڑے  تو  دماغ  ٹھکانے آجائے گاجبکہ  اس قدر  تسلسل  ، تواتر  اورثابت قدمی سے  روشِ عام سے الٹ چلنے والے  جس  کی  دماغی رو نہیں بلکہ ساری کی ساری  کھوپڑی ہی الٹ  ہوایسے کا پھر کیا علاج ۔۔۔؟؟
علم  ِ صرف اور اس کی  گردانات  اور  تعلیلات  سے  ہر ایک کی جان جاتی  تھی ۔ جوگی  اینڈ ہمنوا  نے  ایسی  سبیل نکالی  کہ  جس  نے بھی سنا  حیرت کے مارے عش عش  بھی نہ کر سکا ۔ سب  لوگ   جب "میزان  الصرف "  میں سر دئیے   "ماضی  مطلق   معروف  مزید فیہ  " کی  صرف ِ  کبیر  اور ان کے اوزان  کو رٹا مار مار  کے ہلکان ہو رہے ہوتے جوگی اینڈ کمپنی  مزے سے عمران اور پاکیشیا  سیکرٹ سروس کے کارنامے پڑھا کرتے اس کے باوجودجب   علم الصرف کے پیریڈ میں سب با جماعت مرغا بن کر حسد اور رشک کے ملے جلےجذبات سے جوگی اور وسیم کو جناب محمد امین صاحب سے  گپیں  ہانکتے دیکھتے تو ان  بے چاروں کا کلیجہ سڑ کے سُوا  ہو جاتا  ۔آخر  انہوں نے ڈیڑھ لیٹر پیپسی  اور دو کلو  بسکٹ کی  بھینٹ دے کر  یہ راز ِ نہاں  پالیا کہ ان دونوں  نے میزان الصرف کی گردانیں کبھی اپنے سر پہ سوار نہیں ہونے دیں بلکہ  یہ آتے جاتے  چلتے پھرتے  نظر آنے والی  کسی  بھی  چیز  کو گردان  میں قید  کر لیتے ہیں۔ مثلاً پنکھا  دیکھا  تو  شروع  ہو گئے ۔ ۔۔۔۔  پَنکھا، پنکھآ، پنکھو، پنکھت ، پنکھتا، پنکھنَ، پنکھتَ ، پنکھتما،  پنکھتم ۔۔۔۔۔۔الخ۔
ان چیرہ دستیوں کا  شکار  محض علم الصرف ہی نہیں بلکہ  عربی ادب  ، فارسی  ادب اور  پھر  منطق  اور اصولِ فقہ  بھی حصہ بقدرِ جثہ  پاتے رہے ۔ عربی زبان کی وسعت    ماشاء اللہ  بے حد و حساب  ہے  ،  اور  اس پہ مستزاد  وسیم اکرم  گردان کیلئے ایسے ایسے  مصادر  چُن چُن  کر  ڈھونڈ لاتا  کہ مولانا  نذر محمد  صاحب "بے شرم ، گدھے " کی گردان کرنے لگ جاتے ۔ اور  پھر  ہمیشہ  کیلئےجوگی  اور   وسیم  کیلئے عربی مصادر کی گردانیں   شجرِ ممنوعہ  قرار دے دی گئیں۔
فارسی  میں کبھی بے خیالی میں یا بھولے سے اگر  جناب محمد  حنیف صاحب  ان دونوں میں سے کسی کو گردان کا کہہ دیتے تو پھر  "ریدن" ،  "شاشیدن" ، "لیسیدن"، "چسپیدن" وغیرہ قسم  کے مصادرکی گردان  انہیں ان کی توبہ یاد دلادیتی  کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے ان  شیطانوں  سے گردان کا کبھی نہیں کہنا۔
گلستانِ سعدی  کا باب پنجم (در عشق و جوانی ) ان کا پسندیدہ ترین ہونے کے  باوجود  نہ معلوم کیا وجہ تھی  کہ ان دونوں کیلئے گلستان  کا سب سے  زیادہ  پیچیدہ اور  تشریح طلب باب تھا۔ غلام محمد صاحب پانچ سات بار تو اپنی سادہ دلی  سے  ان دونوں کو پڑھاتے  اور ناقابلِ گرفت حد تک تشریح بھی فرماتے  رہے ، لیکن تا بہ کے ۔۔۔۔؟؟؟آخر کار سمجھ ہی گئے  کہ  انہیں گلستان سعدی  ؒ اور خاص طور پر باب پنجم  حفظ ہے  ، بس  یہ  تشریح کے ضمن میں دوسرے شعرا کے شعر  سننے اور مزے سے نکتے بازی کرنے  کے چکر میں باب ِ پنجم  کے ادق ہونے  کی دہائی  دیتے ہیں۔

 جس  کو ہو دین  و دل  عزیز ، اس کی گلی  میں جائے کیوں


فقہ  اور  اصولِ فقہ  کے درس  میں  ان کی کھڑی  کی  گئیں مباحث بھی   اپنی  جگہ  ایک  تماشا  تھیں۔۔۔ سب سے پہلے پانی کی پاکی اور ناپاکی والے مسئلے   پر  ان  دونوں کی سوئی بارہ  پہ اٹک گئی ۔مولانا شکیل احمد  صاحب کا اس قسم کے طالب علموں سے پہلی بار واسطہ پڑا تھا ۔  لہذاپہلے پہل تو بوکھلا  گئے  اور دوسری  بار وضو  کے مسئلے پر  ڈٹ  گئے ۔ اس بحث کی وجہ  دراصل  عوام  میں رائج  یہ غلط تصور جسے  فقہ کا مسئلہ  سمجھ  لیا گیا  تھا کہ  وضو  ٹوٹنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے  کہ  انسان  کا  چاہے  کسی بھی وجہ سے  چاہے  چند  لمحے  کیلئے ہی سہی ستر ہٹ جائے ۔ یعنی اس غلط تصور کی رو سے  اگر  کوئی  باوضو  شخص  کپڑے تبدیل کرتا  ہے تو اس کا وضو  ٹوٹ گیا  اوراب اسے دوبارہ وضو کرنا پڑے گا ۔حلقہ  ملنگاں(جوگی اور وسیم )کا کہنا تھا کہ وضو نہیں ٹوٹتا  جبکہ  عوام کا تو کیا کہنا  شکیل صاحب نے  بھی حکومت کی رٹ قائم کرنے اور ان دونوں سے یرغمال نہ ہونے  کے چکر میں وضو کے ٹوٹنے اور تجدید ِ وضو  کے حق میں ووٹ  دیا  اور پھر  بحث اتنی بڑھی کہ سانپ کے گلے میں چھچھوندر ہو گئی ۔  شکیل  صاحب نے انا کا مسئلہ بنا لیا اور حلقہ  ملنگاں  کی تو فطرت  میں تھا  کہ سچ  پر  ڈٹ جاؤ اور پھر  رتی برابر  بھی پیچھے نہ ہٹو ۔
آخر کار  جب  فقہ کی کسی  مستند  کتاب  میں کسی  بھی امام ؒ  کے نزدیک  وضو  کا ٹوٹنا ثابت نہ ہوا تو  شکیل صاحب غیر پارلیمانی  ہتھکنڈوں پر  اتر آئے ۔اور  ان کی علمیت  کا ملمع جوگی  کے پھینکے پھندے میں پھنس کر اتر  گیا۔ کسی مسئلے  پر بات کے دوران مثال  کے طور جوگی نے غالب  ؔ کا مشہور ِ زمانہ مصرعہ  "کون جیتا ہے تیری زلف  کے سر ہونے تک"پڑھا تو حسبِ عادت شکیل صاحب نے مصرعے  کو  سراسر غلط قرار دیتے ہوئے ساری مثال کو ماننے سے  انکار کر دیا ۔  وجہ  کی کھوج میں  پتہ چلا  کہ شکیل صاحب  کا قول  ہےکہ  ایک  زلف  کبھی  سر  (جسے انگلش میں ہیڈ کہتے ہیں) ہو ہی  نہیں سکتی ۔  یعنی  شاعر نے ایک ناممکن  سی بات محض  بھرتی کا شعر  جڑنے کو کہہ دی ہے ۔  نہایت ہی بے تکا شعر ہے ۔جب ان  کی اطلاع کیلئے عرض کیا گیا کہ یہ   (بقول  آپ کے) بے تکا شعر  فخر ِ اردو  مرزا غالب ؔ  علیہ الرحمۃ  کا  ہے  تو انہوں نے ایک نثری ہجو  غالب  ؔ  کی  شان میں  کہہ  کر اسے  بے تکے شعر  سے  ترقی سے کر  لغو  ترین شعر  کے درجے پر فائز کر دیا ۔
جوگی  نے ایمان کی امان  پا  کر  عرض  کی کہ سر جی ! فدوی  کے ناقص  خیال  میں سر  ہونے  کا مطلب  فتح  ہونے کے  مطلب میں بیان ہوا ہے ۔ اور شکیل صاحب  کی شائستگی  کی پیمانہ  چھلک پڑا ۔  انہوں  نے جوگی کے  ماضی  قریب کے ریکارڈ  اور  حال  کے  وقوعے  کی  روشنی  میں مستقبل  کی  پیش گوئیاں  شروع کر دیں۔ یہاں تک تو سب خیر  گزری  اگلے دن  قائد  اعظم محمد علی جناح ؒ  کے ذکر  پر  جب انہوں  نے بابائے قوم  کی شان میں  نازیبا  کلمات پاس کیے  تو  حلقہ ملنگاں نے احتجاجاً شکیل  صاحب سے پڑھنے سے انکار کر دیا  اور  ان کی کلاسز کے  بائیکاٹ کا  اعلان کر دیا ۔  


حضرت ناصح گر آویں دیدہ و دل فرشِ راہ


فقہ  کے مدرس  تبدیل  ہو گئے مگر  حلقہ ملنگاں  کے اطوار تبدیل  نہ  ہوئے ۔  اب کی بار  بحث کا  باعث "قدوری" کی کتاب النکاح بن گئی ۔ طلاق  اور مہر  کے مسائل پر تو خیر  بے ضرر بحثیں اکثر رونق ِ کلاس ہوتی ہی تھیں۔  مگر  یہ بحث نہایت  عجب نوعیت کی  تھی ۔متنازعہ  مسئلہ   جنسیات  سے متعلق   ہونے کے سبب یہاں  صرف بحث کی مناسب تفصیل پر اکتفا کیا  جا رہا ہے ۔
عوام الناس میں  نیم ملا حضرات کی پھیلائی لغو محض افواہ  کے سچ  یا جھوٹ ہونے پر  بحث ہوئی ۔ نیم  ملا  اور مکتبی قسم کے مولانا حضرات  کا اس بارے میں قول تھا کہ مسئلہ  نا مذکور  فعلِ حرام ہے اور اس  کے وقوع کی صورت میں  نکاح فاسد ہو جاتا ہے ۔ اور تجدید ِ نکاح بھی صرف حلالہ  کے بعد  ہی  ہو گی ۔
اس فعل کے حلال یا حرام  ہونے  کی بحث اپنی جگہ  جوگی اور وسیم  کا  نکتہ  اعتراض یہ تھا  کہ اس فعل     کے وقوع  کی صورت میں  آئمہ  اربعہ  میں سے کسی  کے نزدیک  بھی نکاح کے فاسد ہونے کا  کوئی ثبوت نہیں۔نہ طلاق جبری واقع ہو  گی نہ ہی  نکاح ٹوٹے  گا۔کیونکہ  جھوٹ بولنا  اور شراب پینا قسم  کے گناہ نہ  صرف حرام  بلکہ کبیرہ گناہ  ہیں۔ لیکن ان کبیرہ گناہوں  کے  وقوع  کے بعد  بھی  نکاح نہیں ٹوٹتا۔
ہر طرف زلزلہ سا آ گیا اور نام  نہاد  علامہ  حضرات کے  قصرِ  علم  کے چند کنگرے  گر پڑے ۔  حسبِ عادت بات کفر  کے فتوے سے شروع ہوئی اور یہاں تک آن پہنچی  کہ ان دونوں  میں خود ابلیس  حلول کر گیا ہے ۔ اس  لیے یہ اس قسم کے مسئلوں  کو  بحث کا  اکھاڑہ  بنا لیتے ہیں۔ لیکن جب کسی طرح گلو خلاصی نہ  ہوئی اور جوگی  اینڈ ہمنوا  اپنے موقف  پر ڈٹے  رہے  کہ اول درجہ تو یہ ہے کہ امام ِ اعظم حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کا قول پیش کیا جائے جس سے ثابت ہو کہ نکاح ٹوٹ گیا ۔ درجہ دوم میں بقیہ  آئمہ ثلاثہ کے اقوال  سے بھی ثابت کیا جا سکتا ہے ۔  بس پھر کیا تھا ۔ ۔۔۔۔ لائبریری  میں رش  لگ گیا  ۔  بڑی بڑی کتابیں جو  ہم جیسے بچے جمہورے  صرف الماری  میں سجی دیکھ  کر  دل بہلا  سکتے تھے  ۔  وہ اپنی طباعت کے بعد  پہلی بار کھل گئیں۔لیکن نکاح ٹوٹنے کا  قول کسی کتاب میں نہ پایا جا سکا ۔  تین  دن اکھاڑہ سجا رہا جس  میں اساتذہ کے علاوہ  طلباء کی  دلچسپی  بھی دیدنی تھی ۔
آخر  جب  ہر  ممکن کوشش کے باوجود نکاح ٹوٹنے کا قول نہ  مل سکا  تو پھر  بات حلال حرام پر آ گئی ۔
نامذکور  فعل  کے حلال ، حرام  ہونے پر    نئی بحث کا آغاز ہو گیا ۔
اس بحث نے اس قدر طول کھینچا  کہ  شیطان کی آنت ہو گئی۔ جوگی  اور ہمنوا کا  نکتہ نہایت سادہ  تھا کہ  نکاح کامقصد ہی حرام کو حلال کرنا ہے ۔ نکاح سے پہلے  جو کچھ  کرناگناہ کبیرہ  ہے  نکاح کے ایجاب و قبول  کے بعد وہی  ثواب کا کام ہو جاتا ہے ۔ پس اگر  نکاح کے بعد بھی کچھ  حلال اور کچھ حرام  کا جھگڑا رہے تو نکاح کا مقصد  اور مطلب تو فوت ہو گیا ۔  ایسے ناقص نکاح کا کوئی کیا کرے ۔ نکاح میں  ایجاب  و قبول  کا اطلاق "کُل" پر  ہوگا نہ کہ "جزو"پر۔۔۔
بیع و شرا کے قواعد  ِ فقہ اس ضمن میں بہترین رہنمائی  فراہم کرتےہیں ۔ تفصیل میں جانا بے جا ہے ۔
اللہ تعالیٰ  نے جنرل طور پر  فرما دیا کہ نکاح کے بعد مرد پر عورت حلال ہے اور عورت  کیلئے مرد حلال ہے ۔  پس  اگر  اب ہم قیل و قال کریں تو ہم  میں اور بنی اسرائیل  میں کونسافرق باقی رہ گیا ۔  سورۃ بقرہ  اللہ نے مسلمانوں کی ضیافتِ طبع  کیلئے نازل نہیں فرمائی  بلکہ اس کا مقصد بنی اسرائیل  کا قصہ سنا کر  عبرت دلانا تھا کہ کہیں کل کو مسلمان بھی یہی قیل و قال نہ شروع کر دیں۔ (واقعہ  بقرہ کا خلاصہ ) موسیٰ  علیہ السلام  کے سوال  پر اللہ  تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ ایک گائے ذبح کر  کےاس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مقتول  کی لاش پر رکھو ۔ مقتول  خود اٹھ کر بتا دے گا کہ اس کا نامعلوم قاتل کون  ہے ۔  غور فرمائیے ۔۔۔۔ اللہ  نے ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا ۔۔۔ کوئی بھی ہو۔۔۔ کیسی بھی ہو ۔۔۔  نہ رنگ کی تخصیص ۔۔۔۔  نہ عمر  کی قید ۔۔۔۔  بات نہایت سادہ تھی ۔  لیکن  بنی اسرائیل اپنی عادت سے مجبور تھے ۔ سوال پہ سوال کرتے گئے اور خود کو خود  پھنساتے گئے ۔ رنگ پوچھا تو اللہ تعالی  ٰ  نے فرمایا "تسر الناظرین       "،  پھر  بھی شامت نے ستایا تو پوچھ لیا کہ عمر  کتنی ہو ۔۔۔الخ ۔  سوال پوچھتے گئے اور ایک سادہ سی بات کو پیچیدہ کرتے گئے ۔ کوئی  بھی گائے سے بات اب ایک مخصوص گائے تک آن پہنچی ۔  جس کا ملنا  ناممکن تو نہیں مگر مشکل ضرور ہو گیا ۔اور اس وقت ہم مسلمان بھی وہی تماشا  کر رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ  نے جب جنرل طور پر  مرد و  عورت کو نکاح کے بعد ایک دوسرے پر حلال  کر دیا تو ہمیں پاگل کتے نے کیوں کاٹ لیا ہے کہ ہم پوچھتے پھر رہے ہیں کہ کہاں  کہاں تک چھونے کی اجازت ہے ۔ اور کیا کیا کرنے کی اجازت ہے ۔"میاں بیوی ایک  دوسرے کا لباس ہیں۔" کیا اتنے واضح حکم کے بعدیہ  پوچھنے کا  کوئی جواز رہ جاتا ہے کہ یہ لباس ہم  جسم کے کونسے کونسے  حصے پر پہنیں۔۔۔؟؟؟  جب واضح حکم آ گیا تو اس کے بعد تفصیل پوچھ پوچھ کے چسکے لینا چہ معنیٰ دارد۔۔۔؟؟؟

قائل ہونا نہ ہونا ایک طرف ۔۔۔۔ جوگی اور وسیم کی ذہانت کی دھاک ہر طرف بیٹھ گئی ۔

عزم ِ کراچی و مشکلہا (مغزل کہانی تیسری قسط)۔

2 آرا
اب جبکہ یہ راز راز نہیں رہا کہ وہ نامراد جوگی دراصل میں ہی تھا ، جو مغ پلس غزل کی تلاش میں تھا۔
تو پھر تکلف ایک طرف رکھیے اور آگے کی کہانی مجھ سے سنیے۔۔۔

کچھ عرصہ مزید بیت گیا ، مگر جوگی کی تلاش  کو منزل نصیب نہ ہوئی ۔
واں وہ غرور عز و ناز ، یاں یہ حجاب پاس وضع
راہ میں ہم ملیں کہاں ، بزم میں وہ بلائے کیوں
  چونکہ اس مسئلے پر آنجہانی غالب مرزا پہلے ہی اچھی خاصی روشنی  ڈال چکے تھے ۔ اس لیےمیرے دل میں ان کیلئے کوئی شکوہ شکایت قسم کی خرافات کا کوئی گزر نہ تھا۔آپ شاید سوچ رہے ہوں کہ  جب بزرگ خواب میں اشارہ کر گئے تھے  کہ  وہ  ملک پاکستان کے شہر کراچی میں رہتے ہیں ، تو پھر "مانع وحشت خرامی ہائے لیلیٰ کون ہے۔؟؟" میں مانتا ہوں  کہ  "خانہ مجنونِ صحرا گرد    بے دروازہ تھا " مگر یہ کمبخت کراچی کا سفر "بے کرایہ نہ تھا" ۔ شکل پر بے شک اب بھی سٹوڈنٹی  برستی ہے  مگر زیادہ سے زیادہ رحیم  یار خان تک مفتہ ہو سکتا ہے  ، اگر تمام کنڈکٹر حاتم طائی کے ہاتھ پر بیعت بھی کر لیں  تب بھی تو منٹھار ، نیو خان وغیرہ  کی دوڑ    صادق آباد کی جامع مسجد تک ہی ہے۔اگر چندہ جمع کر کے بالفرض کراچی پہنچ بھی جاؤں تو کراچی کونسا چک نمبر 111/7ہے جہاں میں جاتے ہی انہیں ڈھونڈ لوں گا۔اللہ جھوٹ نہ بلوائے ایک بار تو زبیدہ آپا سے رجوع کرنے کا خیال بھی دماغ میں  کلبلایا ، مگر  بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آسان ہونا ۔۔۔۔

ایک دن جب میں   اسی فکر میں غرق تھا تو غیب سے مضامین خیال میں آنے لگے ۔ جن میں سے ایک اچھوتا اور نادر مضمون یہ تھا کہ کراچی پہنچ کر وہاں گلی گلی "بھانڈے قلعی کرالو" کی صدا لگانا شروع کر دو ۔پریوں کی شہزادی بھلا کب بھانڈے دھوتی ہوگی ، اس لیے جس گھر سے سب سے زیادہ کالے اور حال سے بے حال  برتن لائے جائیں ، سمجھو وہیں اپنی آپا جی  رہتی ہیں ، اگر خدا نخواستہ  سگھڑاپے میں بھی مس یونیورس کے ایوارڈ پر بھی قابض ہوئیں تو لوگوں  بھانڈے قلعی کرتے کرتے  یہ عزت ِ سادات بھی جاتی رہے گی ۔ نوشہ میاں کی بھی تو کوئی امید بر نہیں آئی  تھی ۔  مگر دل کو تسلی دی کہ
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آؤ نہ ہم بھی سیر کریں شہرِ فتور کی
  کسی نہ کسی گھر سے تو دودِ تیموریہ اٹھتا دکھائی دے گا ۔ ویسے بھی پریوں کی شہزادی ہوئیں تو کیا شادی کے بعد ہر لڑکی بیگم ہی بن جاتی ہے، شاید محمود میاں کہیں کسی  تھڑے پر پکا سگریٹ پھونکتے اور عشق کو کوستےنظر آ جائیں ۔ اتنی عمدہ ترکیب سوچنے پر دو تین الٹی چھلانگیں لگائیں ، اپنے آپ کو خراجِ تحسین پیش کیا ، اور آگے کا پلان سوچا کہ کرائے کا بست و بندکیونکر ہو ۔
نظر ِ انتخاب مسجد کیلئے چندہ کی صندوقچی پر جا پڑی ، مگر ہائے ری پھوٹی قسمت  اس خزانے پر مولوی صاحب پھن پھیلائے چوکس بیٹھے تھے ۔سمجھ دار آدمی تھے  مجھے دیکھ کر اور بھی چوکس ہو گئے ،چیں بجبیں ہو کر پوچھا :۔ خیر تو ہے آج فوجاں ادھر کدھر؟ کیسے راہ بھول پڑے کیونکہ آپ اور آپ استاد محترم کا مشترکہ ایجنڈا ہے کہ "طبیعت ادھر نہیں آتی۔"
جوابا ً میں نے زمانے بھر کا گھسا پٹا جملہ اچھال دیا :۔ مولوی صاحب ! سیانے کہتے صبح کا بھولا شام کو لوٹے تو بھولا کہہ کر اس کا دل نہ توڑو ۔ میں تو پھر بھی شام سے کئی گھنٹے پہلے دوپہر کو نازل ہوا ہوں ۔ "
مولانا صاحب بھی گرگِ باراں دیدہ تھے ، مجھے ایک طنزیہ مسکراہٹ سے نوازا ، اورمجھے کچھ ایسی شک بھری نظروں سے گھورا ، جیسی نظروں سے غالب نے اس ساقی کو گھورا تھا جس پر انہیں شک تھا کہ "ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں۔"اور فرمایا :۔ اور وہ صبح کتنے سال پہلے کی تھی؟
مسلسل طنزیہ حملوں پر میرے بخاری خون نے بھی ابال پکڑا، میں نے درجوابِ آن غزل کے طور پر گستاخانہ کہا :۔" مولوی صاحب آپ کے اسی دل شکن رویے سے مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا ہے ۔"
وہ بھی کچھ کم ڈھیٹ نہ تھے  ترکی بہ ترکی بولے :۔ " ارشاد ۔۔۔۔ ارشاد۔۔۔۔ ناچیز ہمہ تن گوش ہے۔"
اب تو مانو جوابی حملہ واجب ہو گیا تھا ،سو دانت پیس کے  بولا:۔ " ایک کسان کا گدھا رسا تڑا کر بھاگ نکلا ، اور شامت کا مارا مسجد میں پنا ہ لینے گھس گیا ۔ مولانا صاحب سخت چراغ پا  اور بدمزہ ہوئے ، ڈنڈا لے کرجہاد کی نیت سے گدھے پر  پل پڑے ، کچھ  دیر میں کسان بھی افتاں خیزاں وہاں پہنچ گیا اور گدھے کی درگت بنتے دیکھ کر بولا :۔ مولوی صاحب رحم کریں بے چارہ بے زبان جانور ہے ، کبھی مجھے بھی مسجد میں گھستے دیکھا ہےکیا۔؟"
اور ساتھ ہی ایک جناتی قسم کا قہقہہ بھی لگایا ، مولانا صاحب شاید لطیفے سے زیادہ میرے قہقہے کا برا مان گئے ، اس لیے ہمیشہ سے  کارآمد اکسیری نسخہ  یعنی باآوازِ بلند "لاحول ولاقوۃ ۔۔۔۔۔" کا ورد شروع کر دیا ۔ اس اسم اعظم کے سامنے تو شیطان ِ اعظم یعنی ابلیس بھی نہ ٹک سکے ، میری بھلا کیا مجال تھی۔اس لیے خدا سے دل ہی دل میں "بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے" کا شکوہ کرتے بھاگ نکلا۔
      
  جب ٹھنڈے دل اور ٹھنڈے پیٹ سے سوچا تو سمجھ آیا کہ مولانا صاحب پر غصہ بے جا ہے کہ بقول استاد جی "اس میں کچھ شائبہ خوبی تقدیر بھی تھا"۔لیکن  ہمت ہارنا سراسر بے عزتی تھی ۔ کچھ دیر بعد اس خیال سے پھر دو تین چکر لگائے کہ بندہ بشر ہے، شاید باتھ روم گیا ہو ۔ مگر مولوی صاحب شاید قبض کے مریض تھے ، یا پھر میرے دوسرے چکر پر معاملہ سمجھ گئے  تھے مزید چوکنے ہو بیٹھے ۔ خیر میں نے نماز کے وقت کا انتظار کیا ، اور گھات میں  بیٹھ گیا کہ جونہی اذان کیلئے اٹھیں تو صندوقچی لاپتہ کر دی جائے ۔ لیکن جب میں نے اذان کیلئے اٹھنے سے پہلے مولوی صاحب کو سرمایہ صندوقچی سے اپنے فتراک میں منتقل کرتے دیکھا ، توکھسیانی بلی کی طرح  بے اختیار عمران سیریز کو کوسا ،اور جی چاہا کہ مولوی صاحب "سےکوئی پوچھے تم نے کیا مزہ پایا"۔۔۔۔۔ ۔
پھر دل کو تسلی دی اور  ڈھٹائی سے سوچا  خیر ہے ۔۔۔۔!!استاد جی کے ساتھ ایسا ہوا ہوتا تو آج یہ شعر یوں ہوتا:۔
گر کیا مولانا نے سرمایہ غائب ، اچھا یوں ہی سہی
یہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا
ہونا تو یہی چاہیے تھا مگر احباب ہی نااہل تھے ، چارہ سازی وحشت نہ کر سکے ، اس لیے اٹھتے بیٹھتے  خیال ِ کراچی نورد تھا۔

محلے میں اور کوئی منہ لگاتا ہی نہ تھا کہ اسی سے ادھار ہی مانگ لیتا ،  اسی بہانے استاد جی کی سنت پر بھی عمل ہو جاتایعنی ایک پنتھ دو کاج ۔مگر کسی ڈیڑھ شانے نے سچ ہی کہا ہے :"اے بسا آرزو کہ خاک شد۔"لے دے کے ایک "نون" ہی تھا ، جو میرا دوست ، ہمدم ، رازداں بلکہ مختصر کہا جائے تو لنگوٹیا یار تھا ۔ طرفہ تماشا یہ کہ وہ بھی میری طرح کنگال شہنشاہ ۔ (تفصیلی تعارف کیلئے الف نون ملاحظہ ہو)
چونکہ کبھی کبھار اس کے منہ سے کام کے مشورے بھی خارج ہو جاتے تھے ، اسی امید پر میں نے نون کا کھرا اٹھایا اور اسے اللہ ڈتہ گرم حمام پر جا پکڑا ، موصوف کنگھی چوٹی میں مصروف تھے ،میرے سلام کا جواب بھی میڈم نور جہاں کی طرز میں آیا ۔ حیرانی تو مجھے بہت ہوئی لیکن میں پٹڑی سے اترکر اپنے مشن امپوسبل چندہ پروٹوکول کو پسِ پشت ڈالنا نہ چاہتا تھا ۔ اس لیے سیدھے کام کی بات پر آیا ۔
"یار میں کراچی جانا چاہتا ہوں "
"اچھا ۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے جاؤ" کہہ کر وہ اپنے کام میں مگن رہا ۔ یہ بے نیازی مجھے ہضم کرنا مشکل تھی ، پھر بھی اس معاملے کی تفتیش ملتوی کر کے  میں غرایا :۔" کمینے ! میں اجازت مانگنے نہیں ۔ مشورہ مانگنے آیا ہوں ۔" مگر اس کی محویت پھر بھی نہ ٹوٹی ۔ میں نے ایک سرد آہ بھر کر کہا:۔ حق ہاااااااااا۔۔۔۔
"تو اور آرائشِ خم کاکل
میں اور اندیشہ ہائے دوردراز"
حسبِ توقع غالب کے شعر پر نون بری طرح چڑ گیا ، کنگھی پٹخی اور جھنجھلا کے بولا :۔ " کراچی جانا ہے تو جاؤ مرو۔۔۔ میرا کیوں سر کھا رہے ہو ۔ ابھی تک وہ کلینک والی پٹائی سے ابھرنے والے  گومڑ ختم ہوئے نہیں  اور تو پھر کوئی نیا پنگا لے کر آ گیا ۔"
اس غیر متوقع عزت افزائی پر میرا منہ بن گیا :۔ "تو دوست کسی کا بھی ، ستم گر نہ ہوا تھا۔"اس لیے مزیدتپانے کیلئے پھر غالب کا مصرعہ گنگنایا ۔
نون مزید چڑ گیا :۔ "یار تو آخر کیوں میری جان کو آ گیا ہے؟"
میں نے مسکرا کے صدا لگائی :۔ "ایک مشورے کا سوال ہے بابا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
نون بھلا کیسے موقع ہاتھ سے جانے دیتا ، ہاتھ جوڑ کے بولا :۔ معاف کرو بابا ۔۔۔۔ جمعرات کو آنا۔۔۔"
میں نے کہا :۔ "اکڑنا بند کر خبیث ۔۔۔ تم سے تو میں بعد میں نپٹ لوں گا مگر ابھی شرافت سے کوئی اچھا سا مشورہ دے ، کوئی ترکیب سوچ ۔۔ ۔ کراچی جانے کا سب سے سستا ذریعہ سوچ ۔۔۔۔۔ کیونکہ عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب ہے سمجھ نہیں آتا دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک ۔"
نون شرارت سے بولا :۔ "چل میں تجھے دریائے سندھ میں دھکا دے آتا ہوں ، بہتے بہتے کراچی تو پہنچ ہی جاؤ گے۔"
"اپنی کمینگی کسی اور وقت تک کیلئے اٹھا رکھو اور سیدھا سیدھا مشورہ دو، میں واقعی سنجیدہ ہوں ۔" میری جھنجھلاہٹ عروج پر تھی
نون شاید مجھ سے کلینک پر پڑنے والی مار پر سوری سننا چاہتا تھا اس لیے بے نیازی سے دوبارہ محو آئینہ داری ہو گیا ۔ ظالم نے یہ بھی خیال نہ کیا کہ اسے "کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں " ۔ مجھ جیسے آزادہ و خود بیں کیلئے اب الٹے پھر آنے کے سوا کوئی چارہ  نہ تھا ۔
انگور کھٹے پا کر میں نے خود کو غیرت دلائی کہ "اپنی ہستی ہی سے ہو ، جو کچھ ہو " استاد جی کے اس ولولہ انگیز مصرعے پر کھوپڑی کو تاؤ آ یا اور ایک ترکیب چھپاک سے دماغ کے جوہڑ میں مینڈک کی طرح کودی اور میں بے اختیار اچھل پڑا ۔ جیسے پچھلی بار خواب میں الف چاچو سے ملاقات کی تھی اسی طرح پھر سے کوئی خواب دیکھا جائے ۔ نیک کام میں دیر کیسی ۔۔۔۔ نکما تو ہمیشہ سے تھا ۔۔۔۔ بس لیٹنے کی دیر تھی ۔ ۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔ کروٹیں بدل بدل کر بقول ملکہ جہنم میڈم نصیبو لال "کنڈ چھلی گئی سجناں " اور نیند تھی  کہ  جیسے عنقا کے پروں پہ بندھی تھی ۔۔۔۔۔برات ِ عاشقاں بر شاخِ آہو۔
ہزار حیف کہ اتنا نہیں کوئی غالبؔ
کہ جاگنے کو ملا دیوے آ کے خواب کے ساتھ
بہت سوں کا سلیپنگ پلز سے بھلا ہو جاتا ہے ، اسی امید پر میں نے بھی کچھ گولیاں گنے بغیر پھانک لیں ، مگر " درد منت کشِ دوا نہ ہو ا۔۔۔۔۔۔"

تنگ آ کر وقت گزاری کیلئے 1962 ء کا ایک رسالہ اٹھا لیا ۔ ورق گردانی کرتے کرتے نگاہیں ایک شعر سے دوچار ہوئیں ، اور چھوٹا غالب چاروں شانے چت ۔
خواجہ حیدر علی آتش ؔ کہہ رہے  تھے :۔
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہے
آؤ دیکھا نہ تاؤ ، اٹھ کے کمر باندھی ، اور مسافر راہ پر گر پڑا (راہ افتادن ) ۔ اس قدر نازک مزاج تو نہ تھا مگر پھر بھی تھا تو جنس آدم سے ، آہستہ آہستہ گوڈے گٹے جواب دینے لگے ۔بہاولپور تک کا سفر تو جیسے تیسے کٹ گیا مگر مجھے آٹے دال کا بھاؤ خوب خوب معلوم ہو گیا ، دل میں سوچا ایک ضلع پار کرنے پر یہ حشر ہوا ہے تو جوگی میاں حساب لگا لو ، بہاولپور ، رحیم یار خان کو پار کر کے سندھ کی سرحد آئے گی ، اور پورا سندھ پار کرکے سمندر کنارے مائی کلاچی کا کراچی بستا ہے، اچھا خاصا لمبا رستہ ہے ۔حساب کتاب سے تو جوگی کو غش پہ غش آنے لگے ، سارا جوگ اور جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ۔ بے اختیار جی چاہا کہ عورتوں کی طرح جھولی اٹھا اٹھا کے آتش ؔ کو بدعائیں دوں اور منہ بھر کے نہ صرف اسے بلکہ اس کے اگلے پچھلوں کو بھی ایسا کوسوں کہ وصی شاہ ، اور فرصت عباس شاہ سنیں تو  شاعری سے توبہ تائب ہو جائیں اور داتا دربار پر ملنگ بن کے بیٹھ جائیں ۔
واقعی قرآن مجید سچ کہتا ہے ، غالب کے علاوہ سارے (اکثر ) شاعر  جھوٹے ہیں ۔ آتش ؔ کو کبھی خود پیدل سفر کرنا پڑا ہوتا تو ایسا بے تکا شعر لکھنے  سے پہلے قلم توڑدیتا ۔ منہ پہ کالک مل لیتا مگر اتنی لمبی نہ چھوڑتا ۔ اور میں نے بدھو پنے میں نایاب کو بھی پیچھے چھوڑ دیا کہ اس کئی سو سال کے مرحوم شاعر کے جھانسے میں آ گیا ۔  ایک پٹرول پمپ پہ بیٹھا آتش ؔ اور اس کے دیوان کو کوس ہی رہا تھا کہ لانگ مارچ  سے واپس آنے والوں کا قافلہ وہاں آن پہنچا ۔ وہ وہاں کچھ دیر پانی پینے اور سستانے کیلئے رکے ، میں تو کافی دیر سے سستا ہی رہا تھا  اس لیے اس امدادِ غیبی پر شکر ادا کیا اور قافلے کی ایک بس میں گھس گیا ۔

جاری ہے

اس کہانی کی اگلی قسط ملاحظہ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط چہاردہم) ۔

5 آرا

میں نہ اچھا ہوا ، برا نہ ہوا


ان ہنگامہ  خیزیوں   کے  درمیان تین  سال  بیت  گئے ۔  اور جو  کلاس  باسٹھ طلبا ء سے شروع ہوئی تھی ۔ تین سال گزرتے گزرتے اڑتیس  طلبا  ء کی کلاس رہ گئی ۔  کچھ گردش ِ مدام سے گھبرا کے چھوڑ گئے ۔ کچھ سختیاں جھیلنے کے عادی  نہ ہو پائے  اس لیے  چھوڑ گئے ۔مگر جوگی اور وسیم  نے غالب ؔ کا وضع  کردہ کلیہ گھول کر  پی  لیا تھا  کہ  "رنج سے  خو گر  ہوانسان  تو مٹ جاتا ہے  رنج"  اس لیے "مشکلیں ان پر پڑیں  جتنی آساں ہو گئیں۔"
جوگی  نے زندگی کو اس کی سختیوں  سمیت ہنس کے گزارنے کا  ڈھنگ سیکھ  لیا ۔    اپنے کام اپنے ہاتھ  سے کرنے کی ایسی عادت پڑی کہ الحمد اللہ آج تک کسی  کی محتاجی محسوس نہ ہو  ئی ۔  اپنے کپڑے آپ دھویا  کرتے  تھے ۔  حتیٰ کہ چھٹی  والے دن جب سب طلباء گھر چلے جاتے ، تو جوگی میاں  میس میں اماں (صابر) کے  ساتھ کھانا پکانے کے رموز  سیکھتے ۔  سبزی  کاٹنےاور پکانے میں  ایسی  مہارت  آئی  کہ اب تو اکثر خواتین  جوگی کو یہ کام اس صفائی اور چابکدستی   سے کرتا دیکھ  کر  منہ میں  انگلی نہ  بھی دبائیں تو  کم از کم ناک پہ انگلی ضرور رکھ لیتی ہیں۔
(ناک پہ انگلی  رکھنا انتہائی  حیرت کا اظہار ہے ۔ اور یہ خالصتاً ایک خاتونی ادا  ہے ۔)
دو ہفتے  بعد  ایک چھٹی ہوتی ۔سب طلباء  چھٹی کے دن گھر چلے جاتے مگر  جوگی تو شاید بھول  ہی گیا  تھا کہ اس کا بھی کوئی  گھر ہے ۔جمعہ کے دن اکثر طلباء سے ان کے  والد  ین ملنے آتے  تھے ، مگر  اس  جیل میں ایک قیدی ایسابھی تھا جس کی  کبھی کوئی ملاقات نہیں آئی ۔  یومِ والدین کے علاوہ  اکثر  طلباء کے پدران  کی طلبی ہو تی تھی ۔ مگر جوگی اس  معاملے میں آزاد اور اپنے معاملات کا خود جواب دہ تھا ۔اپنی دنیا  کا آپ بادشاہ  تھا ۔

اپنا  سا منہ لے  کے رہ گئے


وسیم اور جوگی  کی بے مثال  جوڑی  کو  توڑنے کی ہر کوشش  اور سازش  جب  ناکام ہوئی  تو  کھسیاکر کھمبا  نوچنے  کیلئے  وسیم اکرم  کے  والد صاحب کو  خط لکھ مارا گیا ۔ کہ  جوگی سے دوستی  آپ کے بیٹے  کی تعلیم اور بہترین ذہنی صلاحیتوں کے  حق میں سخت مضر ہے ۔جوگی کو  غیر نصابی  کتابیں اور ناول  وغیرہ پڑھنے کی گندی عادت  ہے ۔ اس سے  یہ  چھوت  کی بیماری  وسیم کو لگی اور نتیجہ  یہ کہ  اب  یہ  دونوں ہوسٹل  میں عمران سیریز  سے  فلمی رسالوں  تک  ہر  الا بلا کے  ڈسٹری  بیوٹر ہیں۔ لیکن سر توڑ کوششوں کے باوجود  آج  تک کوئی چھاپہ کامیاب نہیں ہوا۔ اور وسیم  اکرم کو فلمیں دیکھنے کا جوچسکا  ہے،  ڈر ہے  وہ جوگی  کو  بھی  نہ لگ جائے ۔  اس لیے جیسے ممکن ہو   دور اندیشی  کا ثبوت دیتے ہوئے اس  خطرے کا بروقت  سد باب  کیا جائے ۔
اور پھر وسیم کے والدمحمد اکرم صاحب جو کہ  پاکستان  ائیر فورس  میں آفیسر  تھے ، بنفس نفیس  جوگی سے ملنے تشریف  لائے ۔مگر  جیسا  کہ  میر تقی  میرؔ کے ساتھ  ہوا تھا  وہی ہوا، یعنی :۔ الٹی ہوگئیں سب تدبیریں  ، کچھ نہ دوا  نہ کام کیا۔"جناب محمد اکرم صاحب   جوگی سے مل کر    بہت خوش ہوئے اور دو  گھنٹے کی ملاقات  کا نتیجہ یہ  نکلا  کہ جوگی کو چھٹیوں  میں اپنے ہاں آنے کی دعوت دے گئے  ۔مخالفین اور بدخواہوں میں صفِ ماتم  بچھ گئی اور  وہ شام  "شامِ غریباں "کے طور پر منائی گئی ۔

کلکتے کا جو ذکر  کیا  تو  نے ہم نشیں


گرمی  کی چھٹیوں میں فیصل آباد  یعنی  وسیم اکرم کے گھر جانا ہوا ۔
اس کی بستی کا نام "بھٹہ نواب  والا"  تھا جو کہ  نیا لاہور  نامی  چھوٹے سے قصبے  کے بالکل  ہی نزدیک ہے ۔  جھنگ سے فیصل آباد جانے والے  روڈ پر  واقع ہے ۔ اس کے علاوہ گوجرہ  سے فیصل  آباد جاتے  ہوئے پینسرہ  سے کچھ پہلے ان  کا گاؤں آتا ہے ۔
وسیم  کی  والدہ صاحبہ جوگی سے مل کر  اتنی خوش ہوئیں  کہ بیان  سے باہر  ہے ۔   بے حد  پیار اور شفقت سے ملیں اور دیکھتے ہی اپنا بیٹا بنا لیا ۔  انہوں  نے کہا میرا اب تک صرف ایک بیٹا تھا اور  ماشاءاللہ اب میرے دو بیٹے ہیں۔ حیرت کی بات یہ کہ  دونوں میں  حیرت انگیز  مماثلت  اور مشابہت ۔یوں  جوگی  کو  ایک ماں اور ایک بڑی  بہن مل  گئیں ۔
زندگی میں بہت کچھ  دیکھا ، بہت سے لوگوں  سے ملنے کا موقع ملا ۔  بہت  سے نادر روزگار لوگوں  سے دوستی رہی ۔ مگر  وسیم اکرم  سے دوستی اللہ کی سب سے بڑی نعمت تھی ۔  وہ  میرا سب سے  پیارا  دوست تھا ۔  جس کی یاداس دل  سے  یقیناً موت کی تلخی  بھی نہ مٹا پائے گی۔
اگر کوئی  وسیم  اکرم   سے واقف  قاری  یہ کہانی  پڑھے یا خود وسیم پڑھے  تو  مجھے اس  کا  سراغ دے کر احسان مند ضرور کرے ۔

 

پوچھتے ہیں وہ کہ غالب ؔکون ہے


وسیم اکرم  جوئیہ ۔  ایک ہمہ جہت  شخصیت ۔   ہر پہلو لا جواب  ،  ہر جہت میں بے مثال ۔
بے انتہا  بذلہ  سنج ،  بے  حد  ذہین  اور حاضر جواب ۔ اور( جوگی سے دوستی ہونے کے بعد  )سفاکی  کی حد تک منہ پھٹ  بھی ۔
  سلمان  خان  اس وقت  اس کا پسندیدہ  ہیرو تھا جب اس سوکھی  بوتھی والے کی فلمیں کم کم لوگ ہی دیکھنا پسند  کرتے تھے ۔ نہ صرف خود خوبصورت  تھا بلکہ اس  کی طرح اس آواز  بھی بہت خوبصورت اور بے حد  سریلی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ سکول اسمبلی  میں ہماری کلا س  کی طرف سے نعت  شریف  سنانے کی ذمہ داری  اس کے  دوش  پر تھی ۔ 
ہمارے استاد اور دربار شریف  کی  جامع  مسجد  کے امام  جناب مولانا غلام  محمد صاحب کا نواسا ہماری کلاس میں شامل ہوا۔  وہ  لاہور  سے آیا تھا  اس لیے  کسی  کو  کچھ  نہ سمجھتا تھا ۔  ایک دن اس کی  جو شامت  آئی  تو وسیم  کے سامنے  اپنے دکھڑے  روتے ہوئے  بولا :۔ "یار میں تو یہاں  آ کر پچھتا رہا ہوں ۔  یہاں  تو سارے جاہل گنوار بھرے  پڑے ہیں۔ ایسا  لگتا ہے یہ ایک چڑیا گھر ہے ۔"  وسیم نے برجستہ  کہا :۔ "ایساتو نہ کہو یار !اس چڑیا  گھر میں ایک لنگور کی کمی تھی   اب تمہارے آنے سےاچھی خاصی  رونق لگ گئی ہے ۔"
ایک مرتبہ  شکیل  احمد سعیدی  صاحب نے وسیم  پہ اعتراض اٹھایا  کہ تم جوگی کو  استاد، استاد  کیوں  کہتے  ہو ؟ ۔ وہ تمہارا استاد نہیں بلکہ کلاس فیلو ہے۔استاد تو ہم  ہیں  تمہارے ۔  اس پر وسیم  نے اپنی مخصوص دل جلانے  والی مسکراہٹ کے  ساتھ ایسامنہ توڑ  جواب  دیا  جو کہ  لکھنے کے تو قابل نہیں ۔البتہ اتنا  سمجھ لیجیئے  کہ شکیل  صاحب  نے لاجواب ہو کر  وسیم کو کلاس سے نکال دیا۔
ایک  بار سائنس  کے استاد جناب مجید احمد  صاحب نے  وسیم  کو  مرغا بنا  کر  دو  تین  ڈنڈے جڑ  دئیے ۔ لیکن  وسیم  نے چوں  تک نہ کی ۔  انہوں نے ہنس کے کہا اوئے تم  بندے ہو یا کھوتے ۔؟وسیم نے کہا :۔ " سر آپ نے جو تین ڈنڈے مارے ہیں  کھوتا سمجھ کے  ہی مارے ہیں۔ اب بندہ  آپ کے سمجھنے کی لاج نہ رکھے تو کیا  دوزخ میں جائے۔ " مجید صاحب بہت  ہنسے  اور پھر اس کے بعد    انہوں  نے  کبھی وسیم پر  ہاتھ نہ اٹھایا ۔
ایک بار عشا ء کے بعد  جب سب طلباء ہال میں بیٹھے رٹے  بازی میں مصروف تھے۔اور  وسیم  اکرم صاحب  نیند کی جھپکیوں سے لطف اندوز ہونے میں مصروف تھے ۔  کہ استاد صاحب نے دیکھ لیا ۔نیند  بھگاؤ  نعرے کے  تحت  منہ دھونے کا حکم صادر کیا ، مگر  منہ دھونے کے باوجود بھی نیند نہ ٹلی تو مرغا بنا  دیا ۔  اور جب چند منٹ بعد  وسیم مرغابنا  بنا  اچا نک ورلڈ ٹریڈ  سنٹر  کی طرح زمین بوس  ہو گیا ۔تو  استاد صاحب کی حیرانی  بجا تھی ،  پوچھا:۔  اوئے ڈھیٹ کہیں  کے، تم  مرغا  بن کے بھی نیند  کر رہے تھے  ۔ تو اس  فخر  الکہلاء  نے  جماہی لیتے ہوئے  اک ادائے  بے نیازی سے کہا :۔ "سر جی  نیند تو سولی پر بھی آ جاتی ہے ۔۔۔۔۔"طلباء نے تو  کھی کھی کھی کی ہی  استاد صاحب بھی اپنی ہنسی روکنے میں ناکام ہو گئے ۔
جیسا کہ  پہلے بھی ذکر  ہو  چکا ہے   اپنی  خوش الحانی  اور  خوبصورت آواز کے باعث  اسمبلی میں  ہماری کلاس  کی طرف سے  نعت شریف  پڑھنے  کی ذمہ داری وسیم اکرم  کے سپرد تھی ۔  ہر ہفتے  ایک  نئی نعت سنانے  کے چکر میں ایک بار  اس نے  نعت پڑھی   جو  کہ حدیقہ کیانی  کے مشہور  گانے "بوہے  باریا ں  " کی  طرز پر  تھی ۔ نعت کے مصرعے تھے :۔ "  سوچاں میریاں  مدینے ول جاندیاں ، دروداں دی صدا بن کے ۔" وسیم  نے بہت  اچھی  نعت پڑھی  مگر  روانی میں پڑھتے پڑھتے نعت سے گانے کی ٹون میں  آ گیا ۔۔۔۔
سوچاں میریاں مدینے ول  جاندیاں ۔۔۔۔۔ دروداں دی صدا بن کے۔۔۔۔ ہائے ۔۔۔  بوہے باریاں۔۔۔۔۔
طلباء تو  خیر  کھی  کھی  کرنے  کے  لیے ہمیشہ کمر بستہ رہتے ہیں۔  مگر  اس  لطیفے  پہ  تو  سخت سے  سخت  مولانا صاحبان  اور اساتذہ  کرام  بھی تمام تر  احتیاط  اور مصلحت  کو بالائے  طاق  رکھ کے   بے ساختہ قہقہنے پہ  مجبور  ہو گئے  ۔

کرم فرما