Pak Urdu Installer

Monday, 2 September 2013

مغل بچے عجیب ہوتے ہیں (مغزل کہانی قسط 1)۔

0 آرا
مغل بچے عجیب ہوتے ہیں 
جس پہ مرتے ہیں اسے مار رکھتے ہیں


شیخ سعدی ؒ گلستان سعدی میں فرماتے ہیں کہ "میں نے سنا کہ ہندوستان میں سومناتھ شہر میں ایک بت ہے ، جو حرکت کرتا ہے اور اپنے پجاریوں کے سامنے دعا کیلئے ہاتھ اٹھاتا ہے۔" سعدیؒ جیسی طبیعت اور مزاج رکھنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں کہ اس بات سے مہم جوئی اور سیاحت کی حس کیسے جاگ اٹھتی ہے اور پھر سلیپنگ پلز کھا کے بھی نہیں سوتی ، جیسے غالبؔ کا رقیب گالیاں کھا کے بے مزہ نہیں ہوتا۔ شیخ سعدیؒ کے مطابق، انہوں نے رخت سفر باندھ لیا، اور جا پہنچے ہندوستان میں سومناتھ ۔ (تفصیل گلستان سعدیؒ میں ملاحظہ ہو) مگر ہندوؤں کا متبرک ترین مقام ہو اور ایک مسلمان کو وہاں گھسنے دیا جائے، یہ ناممکن تھا ۔ لیکن یہ  کوئی اور نہ تھا شیخ سعدیؒ تھے، جنہوں نے ایک سنی سنائی بات پر یقین کرنے کی بجائے تحقیق کیلئے خود اتنا مشکلوں بھرا سفر کیا ۔ اب بھلا وہ کیسے لب ِ بام سے واپس جا سکتے تھے ۔شیخ سعدیؒ اگر پاکستان میں پیدا ہوئے ہوتے تو یقیناً حاجیوں کی طرح گھر سے حج کا کہہ کے نکلتے اور کراچی تک جا کر کسی نلکے سے آبِ زم زم  بھر تے ، 5 ، 7 کلو کھجوریں خریدتے ، دس ، بارہ تسبیح ، ایک ادھ درجن مصلے خریدتے اور کچھ عرصے بعد لال رومال کندھے پہ ڈالے حاجی صاحبوں والی میسنی شکل بنائے واپس آ جاتے ۔ اور پھر ساری زندگی اپنا نام حاجی شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی رحمتہ اللہ علیہ  کہلوانا اور سننا پسند کرتے ۔ مگر آفرین ہے اس عظیم درویش کی شانِ استغنا پر کہ 14 حج پیدل کیے ہوئے ہیں ، مگر حاجی شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی کبھی نہیں لکھا ،   خیر۔۔۔۔۔ بات ہو رہی تھی سعدیؒ اور سومناتھ کی    ۔ مختصر یہ کہ سعدی ؒ نے ٹنڈ کرائی اور گیروے رنگ کا لباس پہنا اور پنڈت کا بہروپ دھار کے مندر میں گھس گئے ، اور اپنی آنکھوں سے بت کو حرکت کرتے دیکھا، مگر نیا مشن اس وقت شروع ہو گیا جب شیخ سعدیؒ نے اس کا راز جاننے کی ٹھان لی، اور پھر وہ راز جان کر ہی دم لیا ۔اور میں مسکین چھوٹا غالبؔ  شیخ سعدیؒ کی ان درویشانہ اداؤں پر مر مٹا ہوں۔اور اب  یہی میرا سٹینڈرڈ ہے تحقیق میں۔

جب میں نے سنا کہ 
مغل بچے عجیب ہوتے ہیں 
جس پہ مرتے ہیں اسے مار رکھتے ہیں
میں سنتے ہی آمنا صدقنا نہیں کہہ دیا۔ اندھے کا دکھ ایک اندھا ہی سمجھ سکتا ہے ، میں نے سوچا کہ جس طرح میرے بارے میں بے بنیاد پراپیگنڈے اور افواہیں  اتنی کثرت سے کی گئیں کہ اب یونیورسل ٹروتھ درجہ پا چکی ہیں ، کہیں  اس شعر میں بھی کسی نے مغلوں سے مار کھاکے جلے دل کے پھپھولے نہ  پھوڑے ہوں  ۔ بھلا میں کیونکر مانوں ۔  اپنا سٹینڈرڈ یاد آیا کہ جب تک اس کے درست یا غلط ہونے کی تصدیق نہ کر لوں چین سے کیسے بیٹھ سکتا ہوں ۔
بس پھر دماغ کے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور تاریخ کے بحر ظلمات میں گھوڑا دوڑا دیا ، (  اسی بہانے اقبال ؒ کی روح کوبھی  خوش کر دیا۔) دن رات منزلوں پر منزلیں مارتا ہوا آخر میں میسو پوٹیمیا  کے  میدانوں میں جا پہنچا۔ سوچا کہ پہلے ایشیائے کوچک سے کُھرا اٹھاتے ہیں ۔یہ وہ وقت تھا جب حضرت نوح علیہ السلام کو وفات پائے کئی سو سال گزر چکے تھے ، ان کی اولاد میں جیسا کہ زمانے کا دستور ہے پھوٹ پڑ چکی تھی ، اور وہ اکٹھے آباد رہنے پر   مزید آمادہ نہ تھے ۔ ان گنہگار آنکھوں نے (تصور میں) یافث (نوح علیہ السلام  کا بیٹا)کی آل اولاد  میں سے ایک قبیلے کو شمال کی جانب ہجرت کرتے دیکھا۔پھر میں نے اس قبیلے کی اولاد کو روس ، کاکیشیا ، منگولیا   میں پھیلتے دیکھا ۔ اور جوں جوں آبادی بڑھتی گئی ، قبیلے بھی تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزرتے رہے اور دنیا میں پھیلتے رہے ۔ علمائے تاریخ اس بات پر متفق ہیں ، کہ اقوام و قبائل کی اس کثرت میں صرف دو علاقے ایسے ہیں جن سے انسانی سیلاب نکلے اور پھر پوری دنیا میں پھیلتے گئے اور فتح کرتے گئے ۔ (1) سرزمین حجاز (2) منگولیا کا شمال مشرقی علاقہ ۔مسلمان عرب سے نکلے اور پوری دنیا پر چھا گئے ، اور تاریخ میں روم و ایران کی عظیم فتوحات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا  ۔ اس کے بعد یہ منگولیا سے نکلنے والا سیلاب ، کہ اپنے سامنے آنے والی ہر سلطنت کو خس و خاشاک کی طرح روند کے رکھ دیا۔
منگولیا کے صحرائے گوبی میں بسنے والے یہ قبائل تاتار کہلاتے تھے، خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتے تھے ، اور آپس میں قتل و غارت بھی عام تھی، جنگل کا قانون تھا ، طاقتور قبیلہ ، کمزور قبیلوں کے جانور اور عورتیں ہانک کے لے جاتا ، پھر ان میں تموجن کی پیدائش ہوئی ،  بچپن میں ہی اس کے قبیلے کو کسی طاقتور قبیلے کی طالع آزمائی کا سامنا کرنا پڑا ،   تموجن بھی غلام بنا لیا گیا ۔ بالاخر اس نے نہ صرف آزادی پائی بلکہ اجڈ اور غیر مہذب ، قانون اور سلطنت سے ناواقف قبائل کو یکجا کر کے ایک سلطنت کی بنیاد رکھی ۔ اور چنگیز خان  لقب اختیار کیا۔ تموجن نے چین کی عظیم سلطنت اور اس کے بادشاہوں کی شان و شوکت ، اور عوام کی خوشحالی دیکھی تھی ۔ اس نے اپنی جانوروں کے سوکھے گوشت اور دودھ پر گزارہ کرتی قوم کو بھی یہ سب میسر کرنے کی ٹھان لی ۔ اور یوں دنیا میں تاتاریوں کی لوٹ مار اور فتوحات کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ آسائش پسند مہذب دنیا بھلا کب تک ان جفاکشوں کے سیلاب کے آگے بند باندھتی، جو کہ میدان جنگ میں گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر بیٹھے بیٹھے ، پیاس لگنے پر گھوڑے کی پیٹھ میں خنجر چبھو کر خون پی کر پیاس بجھا لیتے تھے۔ چنگیز خان نے فتوحات کا جو سلسلہ شروع کیا تھا اس کی موت کے بعد  اس کے پوتے ہلاکو خان نے عروج پر پہنچا دیا۔ عباسی سلطنت اور بغداد کا انجام اسی کے ہاتھوں ہوا۔ جب مسلمانوں کے ساتھ رہ کر ان کے دلوں میں ایمان کی  روشنی ہوئی تو اسلام پھیلنے لگا ۔اسی  طرح شاہی خاندان بھی  پھیلتا گیا  اور سلطنت کے بھی حصے بخرے ہوتے گئے ، جس کو جو ہاتھ آیا، وہ اس پہ قابض ہوتا گیا، کئی چھوٹی چھوٹی سلطنتیں وجود میں آئیں تو وہیں ، ایلخانی سلطنت ، اور سلجوقی سلطنت جیسی عظیم حکومتیں بھی ان میں موجود رہیں ، تقسیم در تقسیم سےالگ الگ نام ہوتے گئے ، کچھ نے صحرائے گوبی میں ہی طریقہ قدیم پر زندگی گزاری ، اور شہر آباد کرنے والے ، منگول ، اور پھر مغل ہوتے چلے گئے ۔
ایسی ہی ایک چھوٹی سی ریاست وادی فرغانہ  بھی تھی ، حکمران صاحب ایک دن کبوتر بازی کا شوق پورا کرتے  چھت سے گرے اور دوزخ کو پیارے ہو گئے ۔ ریاست کا واحد وارث ظہیر الدین، ابھی بمشکل 14 سال کا تھا جب حکمرانی کا بارِ گراں اس کے کندھوں پر آن پڑا ۔ اس پہ مستزاد یہ کہ  ہمسایہ ریاستوں کے حکمران حملہ آور ہو گئے ، ایک سگا ماموں تھا ، ایک سگا چچا ، دونوں نے ریاست کی آدھی آدھی تقسیم کے فارمولے پر اتفاق کر کے فرغانہ پر حملہ کر دیا ۔ 14 سالہ ظہیر الدین کے سر پر صرف نانی کا ہاتھ تھا ۔ مقابلہ بھی کیا مگر دو اتحادیوں کی بڑی فوج کے سامنے بھلا اس چھوٹی سی ریاست کی چھوٹی سی فوج کی کیا چلتی ۔ نتیجہ وہی ہوا جو ہونا تھا۔ ظہیر الدین کو نانی نے فرار کرادیا ، وہ پہاڑوں میں جا چھپا ، زندگی کے انتہائی مشکل دن گزارے اور کچھ قبائلیوں کی مدد سے اپنی باقی ماندہ فوج اکٹھی کی ، چچا اور ماموں کو 15 سال کی عمر میں عبرت ناک شکست دی، اور اپنی سلطنت واپس پائی ۔نانی نے نواسے کا لقب بابر  رکھا ، جس کا مطلب ہے نر ببر شیر۔ مہم جو بابر کو چھوٹی سی ریاست میں چین نہ آیا تو  اس نے ہندوستان پر حملے شروع کر دئیے ۔ اور آخر ابراہیم لودھی کوپانی پت کے میدان میں  شکست فاش دے کر  21 سال کے اس باہمت جوان نے ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی۔
جتنا باہمت اور لائق باپ تھا بیٹا اتنا ہی نکما ثابت ہوا ۔ نتیجے میں شیر شاہ سوری نے ہمایوں کو کھڈے لائن لگا دیا۔ شکست کھا کر ہمایوں ایران میں پناہ گزین ہوا ، اور شیر شاہ سوری کی وفات کے بعد اس کے بیٹے سلیم شاہ سوری کو ایران کے بادشاہ طہماسپ کی مدد سے شکست دے کر اپنی سلطنت واپس پائی ۔البتہ ہمایوں  کے بیٹے جلال الدین محمد اکبر نے خوب پر پرزے نکالے اور مغلیہ سلطنت کو بام عروج پر  پہنچادیا ، اور مغل اعظم کہلایا۔ اکبر کے بعد اس کا بیٹا نور الدین جہانگیر تخت آرا ہوا ، اور اسی کے دور میں پہلی بار انگریزوں نے انڈونیشیا میں  ولندیزیوں سے شکست کھا کر ہندوستان میں اپنے قدم رکھے ۔اور مغل شہزادی کا کامیاب علاج کرنے کے  انعام میں انگریز ڈاکٹر نے اپنی قوم کی تجارت کیلئے مراعات اور تجارتی کوٹھیاں قائم کرنے کی اجازت پائی ۔ اور پھر اورنگ زیب کے مرتے ہی مغلوں کا ہندوستان میں زوال شروع ہو گیا۔ حتیٰ کہ مغل بادشاہ سراج الدین بہادر شاہ ظفر  کی حکومت دلی کے لال قلعے تک محدود ہو کر رہ گئی ۔ بادشاہ کی حیثیت ایسٹ انڈیا کمپنی کے پنشن خوار  کی ہوگئی  ۔ 1857 ء کی جنگ آزادی اور پھر شکست کے بعد  ہمایوں کے مقبرےمیں پناہ گزین بادشاہ  گرفتار ہوا ، مقدمہ چلا ، غداری کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی اور جو بعد میں رعایت کر کے جلا وطنی میں تبدیل کر دی گئی ۔ مغلیہ سلطنت کا یہ آخری چراغ رنگون میں کسمپرسی کے دن گزار کے راہی عدم ہوا۔ہندوستان پر مغلیہ خاندان نے کم و بیش ایک ہزار سال تک حکومت کی تھی ۔ دلی کی تباہی سے جہاں سلطنت کے والی وارث اور شہزادے شہزادیاں در بدر ہو گئے اور غربت کے دن دیکھے ، وہیں کچھ ننگِ وطن غداران  بد نسل لوگ انگریزوں کی مدد کے صلے میں جاگیریں پا کر نواب اور خان بن بیٹھے۔ پھر پاکستان بن گیا اورتاریخ کے بحر ظلمات سے لوٹ کے بدھو گھر کو آئے ۔

 افففف بہت خوفناک اور تھکا دینے والا سفر تھا ، لگتا ہے آپ بھی بور ہو رہے ہیں ، چلیے آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں ۔۔۔۔۔

جاری ہے
اس کہانی کی اگلی قسط ملاھظہ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

Saturday, 29 June 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط دوازدہم) ۔

3 آرا

کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں  مجھے


وقت  گزرتا رہا ۔  جوگی بڑھتا رہا۔  اب  آٹھویں  جماعت  میں  تھا ۔   درسِ  نظامی میں علم ِ فقہ  کی کتاب  "نور الایضاح"جہاں نئے مباحث  کا باعث  بنی    اور  گلستانِ  سعدی  نے  جوگی   کے  خلاق  ذہن کو  مہمیز  کر دیا۔وہیں اب  شعر  و شاعری سے دلچسپی  بھی بڑھ گئی ۔ کچھ  اساتذہ  جو ہمیشہ  حوصلہ افزائی فرماتے تھے  انہوں نے مشورہ دیا کہ  اچھے اچھے شاعروں کے کلام  کا مطالعہ  کرو  تاکہ    شاعری کی  روشوں  سے کماحقہ  واقفیت ہو سکے  ۔  شاعری کے مطالعہ  کا  یہ  فائدہ  یا نقصان  ہوا کہ بے شمار شعر ازبر ہو گئے ۔ اردو  کے سبجیکٹ  کا تو خیر شاعری سے چولی دامن کا ساتھ  ہے ہی  ،معاشرتی علوم  میں  بھی بر محل  اشعار کھپ  ہی جاتے ہیں  ۔ مگر  جوگی میاں  نے تو حد  ہی کر دی ۔ سائنس کے مضمون میں بھی اشعار  کی گنجائش  ڈھونڈ  نکالی ۔
 ٹیسٹ میں سوال آیا :۔ "عملِ  تعدیل  سے کیا مراد ہے ؟  وضاحت کیجیئے وغیرہ وغیرہ "
اور ذرا  اس کاجواب سن کر سر دھنیے :۔
 "عملِ تعدیل  سے مراد ایسا کیمیائی  عمل ہے  جس میں تیزاب  (ایسڈ)میں کیمیائی  تعامل کے باعث  نہ وہ  اساس رہتا ہے نہ الکلی ۔جیسا کہ بقول شاعر :۔ 
نہ خدا ملا نہ وصالِ صنم 
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے 
غضنفر  صاحب سائنس  کے  استاد تھے ۔ اور کٹر سائنسی آدمی تھے ۔ شاعری جیسی خرافات سے انہیں  الرجی ہے  ، اس بات  کا تو علم  تھا مگر یہ نہیں معلوم تھا کہ  اس ایک  شعر  کی پاداش  میں  تمام درست  جوابات کے بھی صفر نمبر دیں  گے ۔  اور یہ بات تو  اظہر من الشمس  ہے کہ صفر نمبر  لینے والے کے  مقدر میں ڈنڈے  جوتے ہی ہوتے ہیں۔  قسمت کا لکھا سمجھ کے چپ چاپ کھا لیے ۔


بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل 


ایک دن  میں 16  پیریڈز ہوتے تھے ۔ اور  ہر پیریڈ  تقریباً  35 منٹ کا  ہوتا تھا ۔  اس لیے  کلاس  کی حاضری  اسمبلی  ہال  میں  ہی لگائی جاتی تھی ۔  جو اسمبلی  میں حاضر نہیں۔ وہ  چاہے سارادن کلاس میں بیٹھا  رہے  رجسٹر پر اس کی  غیر حاضری ہی لگائی  جائے گی ۔  دن میں دو بار حاضری ہوگی ۔  اور ایک  وقت  کی غیر حاضری  کا  جرمانہ  25  روپے  ،سزا  الگ سے ۔  یعنی کہ ایک دن کی غیر حاضری کی صورت میں چھترول  کے علاوہ  50 روپے  جرمانہ  بھی  ادا کرنا ہوگا۔ 
حاضری  لگانا اور  پھر اسے حاضری  رجسٹر  پر منتقل کرنا کلاس  مانیٹر  کی سرد ردی  ہوتی تھی ۔ اور  مزے  تو اس  کلاس  کے تھے  جس کا مانیٹر  جوگی تھا ۔   ا س کلاس میں جب سے جوگی  نے مانیٹر  کا عہدہ  سنبھالا  ادارے کو ایک  روپیہ  بھی جرمانے کی  مد میں وصول  نہ ہوا۔  ایسا بھی نہیں کہ طلباء حاضر باش  ہو گئے ۔ اسمبلی  میں  حاضری لگتی  ۔  اور جو بندے غیر حاضر  ہوتے ان  کا رول  نمبر پکارا ہی نہ جاتا۔  اور نہ ہی  یہ  غیر حاضری رجسٹر پر منتقل ہوتی ۔ البتہ  غیر حاضر  طالب  علم  سے مبلغ  25 روپے  وصول کر کے  ساری  کلاس  قلفیاں کھاتی تھی ۔    پورے  ادارے  میں صرف اسی کلاس میں ائیر فریشر سپرے  کیا جاتا تھا  جو کہ اسی  فنڈ  سے خریدا گیا تھا ۔  نیز  عمران سیریز  اور  فلمی  رسالے  میں اسی فنڈ سے خریدے جاتے تھے ۔


بلائے جاں ہے غالب  اس کی ہر  بات



جوگی  اور وسیم کی  جوڑی  بے مثال تھی ۔ جناب  محمد حنیف  صاحب  اکثر کسی بات کی مثال میں یہی کہا کرتے تھے۔  کہ  دیکھو ایک روح   فیصل آباد سے  آئی  دوسری  لودھراں سے  اور ان  کی  شکلیں اور جسامت  تو کیا  حرکات  و  افعال سے  بھی  لگتا ہے  کہ  جڑواں  ہیں۔ 
اس  جوڑی  کی کاہلی  اور  سستی   ضرب المثل کے درجے پر تھی ۔ ان دونوں  کو نہائے  ہوئے بعض اوقات  مہینوں  گزر جاتے  تھے ۔  پانی  سے  اتنا تو کوئی  سگ گزیدہ (ہائیڈرو  فوبیا کا مریض)  بھی نہ ڈرتا ہوگا  جتنا کہ  یہ اللہ کے بندے  ڈرتے  تھے ۔   نماز  پڑھنے کیلئے  وضو  ضروری  تھا  مگر  یہ دونوں فقہ  کی  بڑی بڑی کتابوں  میں اس لیے  سر کھپایا  کرتے  شاید  کسی  امام  کے  نزدیک  تیمم  کیلئے  آسان شرائط ہوں ۔
جب  بھی  کوئی نئے استاد  صاحب آتے  تھے ۔ تو  ان  سے اس  جوڑی کے  تعارفی  کلمات  میں ان کی  کاہلی  کا  ذکر  ضرور  کیا جاتا  تھا ۔  ایک  بار رشید  صاحب حسبِ معمول  اپنے  دورے پر  آئے  تو اپنے  ساتھ آئے   مولانا حبیب  صاحب  سے  مخاطب ہو کر  بولے :۔(پنجابی سے اردو ترجمہ) "حبیب صاحب!  یہ بڑے ڈھیلے  مولوی ہیں۔  نہ نہانے  کی ان  لوگوں  نے قسم  کھا رکھی  ہے ۔"حتیٰ کہ جناب رشید صاحب  نے ان دونوں کو  روزانہ  نہانے  کا حکم دیا ۔ اور اس  کی باقاعدہ  چیکنگ  بھی ہوتی تھی ۔ رشید صاحب روزانہ اپنے  ہوسٹل کے دورے پر  ان  سے ضرور نہانے  کی بابت نہ صرف پوچھا کرتے بلکہ  ان کے قریب آکر   سونگھا کرتے کہ واقعی نہائے ہیں یا نہیں۔خیر  جوگی اور وسیم نے اس کا بھی حل نکال لیا ۔  عشا  ء کی نماز کے  بعد  تبت ٹالکم  پاؤڈر چھڑک لیا کرتے ۔  اور کسی اعتراض  کی  صورت میں ان کا جواب ہوتا  کہ  خوشبو کاا ستعمال سنت ِ رسول ﷺ  ہے ۔    
نہ نہانے کے علاوہ  اس  جوڑی  کی  ایک  اور نمایا ں  خصوصیت  بے ہوشی  کی نیند تھی ۔  ایک منٹ  بھی  فراغت  کا نصیب  ہواتو  یہ   فوراً  اپنے  گھوڑے گدھے  اونے پونے  بیچ  کر نندیا پور  کے   سفر  پر چل پڑتے ۔  جیسے کہ  غالب  نے فرمایا  کہ  :۔
جب میکدہ چھٹا پھر جگہ  کی کیا  قید
مسجد ہو  ، خانقاہ ہو  ، مدرسہ ہو
بالکل  ایسے ہی  ان  کا  قول تھا  کہ  
جب  بستر  چھٹا  تو  جگہ کی  کیا قید 
مسجد ہو، کلاس  ہو  ،  یا  چبوترہ ہو
نصابی  کتب  ان دونوں  کے پاس مکمل  صرف پہلے  سال  دیکھی گئیں ۔ دوسرے  سال  یعنی جب سے یہ دوست ہوئے  پھر  کتاب نام کا کوئی نخچیر  ان کے فتراک  میں  نہ پایا گیا ۔  کتابیں  خریدنے  کیلئے  ملنے والا  بجٹ  عمران سیریز  کو پیارا ہو جاتا ۔  اور  کتابوں  کی کمی کلاس میں  لیکچرکو  غور سے  سن کر پورا کیا جاتا تھا۔  حتی ٰ کہ آٹھویں  میں نوبت بہ اینجا رسید  کہ  اس جوڑی  کے پاس رف کاپی  تک نہ تھی ۔  اس مقصد  کیلئے  دوسروں  کی  کاپیوں رجسڑز  کا  اجاڑا کیا جاتا ۔ کسی  چوں  چراں کی صورت میں اول تو  ایثار  اور بھائی  چارے  کی تقریر  سے کام چل جاتا تھا  ۔ لیکن اگر  کوئی مائی کا  لال  زیادہ  ہی تنگ آیا ہوتا  اور اس ترکیب سے رام نہ ہوتا تو  پھر  اسے  حاضری  اور  کسی اور  معاملے  میں رگڑا دینے  کی دھمکی  دی جاتی ۔
قارئین  کے دل میں یقیناً  خیال  آ رہا ہوگا  کہ  جب ان کے پاس کتاب تو کیا رف کاپی  تک نہ پائی  جاتی تھی  تو  امتحان کیسے  پاس  کرتے تھے ۔؟  اچھا سوال  ہے  مگر  اس کا جواب  اس سے بھی زیادہ  اچھا اور نہایت سادہ ہے ۔  اپنی  خداداد ذہانت  اور تھوڑی سی سیاست  کے  ذریعے  نہ صرف پاس  بلکہ  بہت  بہت اچھے  نمبروں سے پاس ہوتے تھے ۔ سیاست  یہ تھی کہ عین امتحان  کے قریب  اچانک  فلمی رسائل  وبا کی طرح ان کی کلاس میں  پھوٹ پڑتے  ۔  اور  اگر  کوئی  للچاتے  سر ورق، اور توبہ شکن  ، ترکِ زہد تصاویر سے  بھرے رسالے  سے  آنکھیں  سینکنے  کا   طلب گار  سر ِ نیاز  ان کے آستانے پر رگڑتا  تو دنیا کے  قدیم ترین  اقتصادی اصول  یعنی بارٹر سسٹم کے  تحت  اس کے بدلے اسے  اپنی کتابیں اور نوٹس  ان کے  حوالے  کرنے پڑتے ۔  البتہ  زاہدانِ خشک  کو  باقاعدہ  پیپسی  پلا کر  مفت  میں یہ رسالے بانٹےجاتے ۔  کتابیں  ہاتھ نہیں آتیں نہ آئیں، مگر  ہم سے زیادہ  نمبر  لے کر  کوئی  اچھا بچہ  کا خطاب  تو  نہ پائے۔

خدا شرمائے  ہاتھوں کو کہ رکھتے ہیں کشاکش میں


ایک دن میں سولہ  پیریڈز  کیا کم تھے  کہ ایک اور کا بھی اضافہ ہو گیا ۔ مگر  یہ  اضافہ  بہت  خوشگوار  ٹھہرا ۔ جب   جوگی  میاں  کا تعارف  کمپیوٹر سے ہوا ۔ 
یہ اس زمانے  کی  بات ہے جب پاکستان میں کمپیوٹر کا  نام  بھی  بہت  کم لوگوں نے سنا تھا ۔
اکادمی   کے طلبا  ء کیلئے گیارہ  کمپیوٹر فراہم کیے گئے ۔  ایم  ایس ڈاس ، اور ونڈوز 95  آپریٹنگ  سسٹم ہوا کرتے تھے ۔ جی ڈبلیو بیسک  پڑھائی  جاتی تھی لیکن  ہمیں پینٹ  میں اپنا نام  لکھ کر  پھر  ڈیسک ٹاپ پر  بطور  وال پیپر  سجا نا اور پھر  دیکھ دیکھ  کرخوش  ہوتے رہنا زیادہ  مزے  دار لگتا تھا ۔
آفس 97  میں  ایم ایس ورڈ میں بار بار اپنا نام  لکھنا  اور ایم ایس پاور  پوائنٹ میں سلائیڈز بنا کر  اپنے نام کے حروف کو ناچتے  ہوئے حرکت کرتے ہوئے دیکھنا  ۔   
پھر  معلوم ہوا کہ ایک  نئی ونڈوز آئی  ہے ۔ بے حد خوبصورت ہے ۔  اس میں  کمپیوٹر چلانے  کا مزہ ہی کچھ اور ہے ۔ اور  تو اور اس میں گیمز  بھی کھیل  سکتے ہیں  اور نعتیں وغیرہ  بھی  سن سکتے ہیں۔ ونڈوز 95  کا تو اب نام  سننا ہی برا لگتا تھا ۔ کمپیوٹر  کے باقی پنگے  تو ایک طرف رہے سچ تو یہ ہے کہ ونڈوز 98  انسٹال  ہونے کے بعد  کمپیوٹر کا سٹارٹ ہونا  بھی  بہت  اچھا لگتا تھا ۔پھر  نیڈ فار سپیڈ میں کاروں  کی ریس  اور وی  کوپ  میں  چوروں  کا پیچھا کرنا۔ مولویوں کی  تو دنیا  ہی رنگین ہو گئی ۔
اس طرح کمپیوٹر سے  جڑنے والا وہ   رشتہ    اب  تک قائم ہے۔            

Friday, 21 June 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط یازدہم )۔

4 آرا

رکتی ہے  میری طبع تو ہوتی ہے  رواں اور

  
پیٹ داس  کچھ  عرصہ  تو  عیش کرتے  رہے ، رفتہ رفتہ  سب کی سمجھ  میں آ گیا  کہ  یہ  ایک سوچی سمجھی  سکیم  کے تحت  ان کی روٹیوں کا غاصبانہ استحصال  ہے ۔ چند ایک  دل جلوں کو  تو اس کے  پیچھے  یہودی لابی  اور  امریکا  کا ہاتھ بھی نظر  آگیا ۔اور  اب  ہمارے ساتھ بیٹھ کھانے  کو کوئی  راضی نہ  ہوتا ۔
ایک  دن  کے  اس  جزوی فاقے نے  دن  میں  تارے دکھائے  تو  ایک  اور  ترکیب نکال  لی گئی ۔ صبح  نو بجے  جب  کلاس  کے  حاضر  طلبا ء کی حاضری  میس کو  بھیجی جاتی  تو  ہم  اس میں پانچ طلباء  کا  اضافہ  کر دیتے ۔  مثلاً  اگر  ہماری  کلاس  کی حاضری  44  ہے  تو  میس میں ہماری کلاس کی  حاضری  49  بھیجی  جاتی ۔ابھی  کچھ ہفتے  پہلے  ہی  جوگی   کو  کلاس  کا مانیٹر  منتخب  کیا گیاتھا ۔اور اس  نشے میں   اختیارات  کا  اتنا سا  فائدہ اٹھانا  توکم از کم کسی بدعنوانی  کے زمرے  میں  نہیں آتا ۔یوں  یہ اضافی  10  روٹیاں  ہمارے ہی پیٹ میں  جانے لگیں ۔ اور راوی نے پھر سے چین لکھنا شروع کر دیا ۔ میس  سے نکلنے  والے  آخری غازی  ہمارے علاوہ  اور کون ہو سکتے تھے ۔  ایک دن اماں(صابر) نے دیکھا تو  ازراہِ مذاق کہہ ہی دیا  کہ کیا  کل کا کھانا  بھی آج  ہی کھا رہے ہو ۔؟
لیکن ایک اور مسئلہ  بھی  منہ پھاڑے  سامنے تھا ۔  سالن  کے اجاڑ  کو  بہانہ بنا کر  دوبارہ  سہ بارہ  سالن  لینے  کی  سہولت  بھی  ختم کر دی  گئی ۔ اور اس کا حل ہم  نے یوں نکالا  کہ  سالن کی تقسیم کے  وقت  دو تین کٹوریاں گھٹنے کی نیچے  بطور ریزرو فنڈ  غائب کر دیتے ۔  اور اطمینان  سے  کھاتے  رہتے کھاتے رہتے  کھاتے رہتے ۔  لیکن حاسدوں  کی بھی تو  کمی نہیں غالب ۔ ایک  کو  دباؤ  ہزار ابھرتے ہیں۔  کس کس  حاسد کا منہ بند کرتے ۔؟؟  یہ  راز بھی  تشت  از بام  ہو  گیا  کہ لاپتہ  کٹوریاں  ان  دو عمرو عیاروں کی زنبیل  میں غائب ہو جاتی  ہیں ۔   اور پھر  غریبوں  کی  روزی  روٹی  کو چشمِ حسود  نگل گئی ۔
فرمانِ غالب  کے عین مطابق "رو کی گئی  میری طبع تو ہو گئی رواں اور "  اب  جوگی  کی شاعری   کا موضوع  میس  اور ما فیہا  ہو گیا ۔  اس  زور  ِ بیاں کے نتیجے  میں  بہت  سی  مقبول  ترین پیروڈیاں اور بہترین  نظمیں  تخلیق ہوئیں ۔  جو  بھی  گانا  یا نعت  کانوں  میں اترتی  اس کی  فی البدیہہ  پیروڈی  جوگی  کا  قلم اگل دیتا ۔ بات  قلم سے نکلتی کوٹھے  چڑھتی اور زبانِ  زد عام ہو جاتی ۔


کچھ تو پڑھیے  کہ لوگ کہتے ہیں


بطور سویٹ  ڈش نمونہ کلام  حاضر ہے 
(اصل )
بادِ  صبا  سرکار  سے  کہنا۔ بے تاب  دل ہے  بے چین نیناں

(پیروڈی)
جا  کے ذرا ہیڈ  صاحب سے کہنا ۔  بے تاب ڈھڈ (پیٹ) ہے  بے چین نیناں
کہ کھائے  نہیں چاول  یہ پورا مہینہ 

خواجہ  غلام فرید  ؒ  کی مشہورِ زمانہ کافی  "پیلو پکیاں نیں          ۔ پکیاں  نیں ۔۔۔۔ آ چنوں  رل یار "جب جوگی  کے قلم سے نکلی  تو  صورت کچھ یوں تھی :۔
دالاں  پکیاں  نیں  ۔ پکیاں  نیں ۔۔۔۔ آ چکھوں  رل یار

دسو  منظور  اے  دعاواں کدوں  ہونیاں  (بتائیے یہ دعائیں کب منظور ہونگی )
کو جوگی  نے
دسو منسوخ  اے  دالاں کدوں  ہونیاں(بتائیے یہ دالیں  کب منسوخ  ہوں  گی)
کر دیا

بہت  سارا اردو  طبع  زاد کلام تو لوگ  پڑھنے لے گئے  اور  پھر مجھے دوبارہ  نصیب نہ ہوا۔  اس طرح کافی  سارا فی البدیہہ  کلام کچھ گم ہو گیا ۔ کچھ مجھے  یاد نہ رہا ۔ البتہ ایک  طنزیہ  نظم  قارئین کی  شادکامی کیلئے پیش ہے ۔جس کے بیشتر  اشعار  تو زمانہ برد ہو گئے  ، اور کچھ مصرعے  بھی آدھے یاد ہیں۔ اس لیے فی الحال اسی پر  قناعت کیجیئے  اور  داد  دیجیئے

کل پاؤں جو اتفاق سے میس  میں وڑ  گیا 
ناگاہ  کہ  ہڈیوں  کی پلیٹوں  میں گڑ گیا
بولے صدیق صاحب چل باہر  بے صبر
اک منٹ بھی  نہ ٹھہرا تھا کہ آ کے گھڑ گیا
رورو کے اوکھی سوکھی منت جو میں نے  کی
ان ڈٹھی  ڈِ گی  باتوں  سے  کچھ وہ بھی  ٹھر گیا 
حسرت  جو مرغ  کی دل میں لیے  بیٹھا کنیج  کے میں
"یار  آج دال  پکی ہے " یہ بتا مجھ کو خر گیا
گوڈے  وہ  جھوٹیوں  کے پکاتے ہیں بیشتر 
جس نے وہ  غالب چکھ لیے  ہو مادہ وہ  نر گیا 

جب  بچے بچے  کی  زبان پہ میرے اشعار  گونجے  تو  ظاہر  ہے بات کُو بکُو پھیل ہی گئی میس  کی رسوائی  کی ۔ ہوتے  ہوتے بات  اساتذہ  تک پہنچی ۔  اساتذہ  نے جب جوگی کا کلام  سنا تو  سندِ پسندیدگی کے ساتھ ایڈمن کونسل  تک بات پہنچا دی گئی ۔  جب میری شاعری اوپر تک پہنچی  تو میس کمیٹی میں چند مناسب تبدیلیاں  کی گئیں ۔ اور کچھ میس قوانین  میں بھی نرمی  کر دی گئی ۔ 

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور


اس  طرح جوگی کوباضابطہ طور پر  ادارے کا  دوسرا  شاعر  اور پہلا عوامی  شاعر   مان لیا گیا ۔دوسرا  اس  لیے  کہ   جوگی  سے پہلے شاعری کے گناہگار ایک کلاس سینئر  طالب علم  جناب  محمد جاوید  المتخلص بہ ساقی  تھے ۔  جوگی سے سینئر  ہونے  کے باوجود  ان  کو سوائے  ان کے  چند قریبی  دوست اور  ایک دو  خوش ذوق اساتذہ   کے علاوہ کوئی نہ جانتا تھا۔  جس کے اسباب میں  ایک  سبب تو یہ تھا  کہ حضرت سنجیدہ  شاعری  فرماتے  تھے ۔  اور  خاکم بدہن  آپ کی شاعری کا کل  اثاثہ  دوتین  پردہ  دار  مگر  ظالم اور مکار  خیالی محبوب ،  پچیس  چھبیس خیالی رقیب اور بارہ تیرہ انتہائی  خیالی  درد  و غم تھے ۔اس  کے مقابلے  میں جوگی  کی شاعری  بے شک ادبی  روح سے عاری سہی  مگر  حالاتِ حاضرہ  کی   بنیاد  پر  تھی ۔ حقیقت  نگاری  اور طنزو مزاح  کے بگھار  نے  مقبولیت  کے تمام اسباب فراہم کر دئیے ۔ 
شام کو مغرب کے کھانے کے بعد سبزہ زار میں محفلیں جمتی تھیں  اور سب سے بڑا مجمع  وہاں  ہوتا  تھا جہاں  جوگی اور وسیم پھلجھڑیاں چھوڑ رہے ہوتے ۔  شہرت اور مقبولیت کا نشہ ہی کچھ عجیب ہوتا  ہے ۔  طالب علم  تو خیر تھے ہی اساتذہ بھی  اکثر تازہ کلام کی فرمائشیں کرتے رہتے تھے ۔ بعض اوقات ایساہوتا کہ ٹیسٹ ٹالنے  کی غرض سے جوگی کے کلاس  فیلو  جوگی کے تازہ  ترین کلام کی آمد کا انکشاف کر دیتے ۔ اور استاد صاحب نہ چاہتے ہوئے بھی  ٹیسٹ ملتوی کر کے   بزم ِ سخن سجانے  کو ترجیح دیتے ۔  کسی کلاس کا اچھا رزلٹ آنے کی صورت میں جوگی کو  اس کلاس میں مدعو کیا جاتا تھا ۔ اور کلام ِ شاعر بزبانِ شاعر  ہی طلباء کا انعام ہوتا تھا۔

Tuesday, 18 June 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط دہم) ۔

4 آرا

بارے  میس  کے  کچھ بیاں ہو جائے 


  اب جب کہ میس  کا نام بیچ میں  ٹپک ہی پڑا ہے ۔ تو مناسب ہے  کہ بر سبیلِ تذکرہ میس اور  اس  کا  مینیو  بھی بتا دیا  جائے  ۔ تاکہ  کوئی یہ نہ  سمجھے کہ دوسرے   مدرسوں  کی طرح ہمارا بھی مانی  لسی پہ گزارا تھا ۔

میس  کا ہیڈ کک   صابر جسے  ہم سب  "اماں "  کہا کرتے  تھے۔اس  سے پہلے  وہ پاک فوج  میں کھانا  پکاتا تھا ۔ اپنے  کام میں  بے حد  ماہر تھا ۔اللہ  نے اس کے ہاتھ  بے حد ذائقہ  دیا تھا ۔ لیکن  اس  بات کا احساس  ہمیں  چار سال  بعد  اس  کے چھوڑ  جانے  کے بعد  ہوا جب  ہمارا پیٹ ایک    نئے  خانساماں کی تجربہ گاہ  بن گیا ۔     عام روٹین  کھانے کی یہ  تھی  کہ
ناشتہ:۔ (گرمیوں  میں)  صبح کو  ڈبل روٹی  کے ساتھ  میٹھی  لسی۔ اور (سر دیوں  میں )  رسک  اور  چائے  کا  ایک  ہیوی مگ
دوپہر  کا کھانا:۔   تین  دن  سبزی  ۔ دو دن  بڑا گوشت ۔  ایک  دن (منگل )  بکرے کا گوشت
رات  کا  کھانا:۔ ایک  دن    ماش کی  دال  ۔ اور  ایک  دن  چنے  کی دال ۔ اس  طرح چھ  دن  دال  چلتی  اور  ایک  دن  حلیم  پکتی  تھی ۔
اس کے علاوہ  ہر ہفتے  کے دن  دوپہر  کو   چاول  پکتے  تھے ۔  ایک  پلیٹ  نمکین پلاؤ   اور ایک  پلیٹ  زردہ  فی طالب علم

آلو  ، گاجر، اور پیٹھا  (حلوہ کدو)  سے  میری  ان بن  اسی زمانے کی یادگار  ہے ۔ جو رفتہ رفتہ  پختہ  نفرت  میں بدل گئی ۔

لیکن اتنا  بہترین کھانا  جب مفت  میں اور وافر  دستیاب ہو  تو  امتِ محمدیہ  کے  لوگوں  میں بھی بنی  اسرائیل  والی  صفت  پیدا  ہو جانا کب  بعید   ہے ۔ افراط  نے  اجاڑ  نے  کا بہانہ  فراہم کردیا ۔ میس کمیٹی کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ طالب علم روٹیوں کے ساتھ بے دردانہ سلوک کرتے ہیں ، اتنی کھاتے نہیں جتنی اجاڑتے ہیں ، کوئی روٹیوں کے اوپر والے چھلکے کھا کے  باقی  چھوڑ دیتا، تو کوئی روٹی میں سےزگ زیگ انداز میں لقمے توڑتا ، حتیٰ کہ روٹیاں کسی اور کے کھانے کے لائق نہ رہ جاتیں ۔میس  کمیٹی  نے  اس کے  حل کے  طور  پر  فیصلہ کیاکہ ہر طالب علم کو دو روٹیاں دی جائیں  گی ۔
مجھے  اعتراف  ہے  کہ  میس کے اتنے شاندار  مینیو  اور بہترین  کھانے  (جس  کا تصور  صرف آرمی  میس  میں ہی کیا جا سکتا ہے) کے  باوجود   بھی  ہماری  بھوک  کسی  طرح  ہار  نہ مانتی  تھی ۔ اس  کا  سبب جاننا  بھی قارئین کیلئے دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔

کیا مزہ ہوتا  ، اگر  پتھر میں  بھی ہوتا نمک


ایک مرتبہ  جوگی  نے کہیں کالا نمک  چکھ لیا ۔ بہت مزے دار لگا ۔  چونکہ اس کی شرح ِ قیمت   معلوم نہ تھی   اس لیے تجرباتی  طور پر  بذریعہ  چوکیدار بابا  ،پنساری   سے پانچ روپے  کا  کالا  نمک منگوایا  گیا ۔ یا تو  اس زمانے مہنگائی کا جن خواب ِ خرگوش  میں  تھا  یا   اس پنساری  کا شجرہ نسب  حاتم  طائی سے ملتا تھا  ۔ جس نے  تقریبا ً  تین  سیر سے زیادہ کالا نمک پارسل کر دیا ۔  بس پھر کیا تھا   اسدؔ  نیم جاں کی طرح جوگی  اور وسیم کےبھی"ہاتھ پاؤں  خوشی سے پھول گئے ۔"  شاید  ہمیں اتنا نمک  ملنے کی امید  نہیں  تھی  یا پھر  غالب  ؔ  مرحوم کی  روح ہم میں  حلول  کر گئی تھی ۔   موچی  کا ہتھوڑا ہتھیا  کر  اس تقریباً تین سیر  کالے نمک  کو مناسب  حجم کے چھوٹے  چھوٹے  ٹکڑوں میں  تقسیم کر دیا گیا۔ اور صبح ہوسٹل  چھوڑنے سے پہلے   ہماری  جیبوں میں کالے نمک  کی  ٹکڑیاں  لازماً  موجود ہوتی تھیں ۔  ایک  گولی  منہ  میں رکھ کے  چوستے رہتے اور  اس کے خاتمہ بالخیر  پر  ایک اور گولی  بذریعہ  دہانِ  ماراہ فنا پر  روانہ ہو جاتی ۔
نہ صرف خود  کھاتے  بلکہ  عادی سگریٹ  نوشوں  کی طرح دوسروں کو بھی  مفت  بانٹ  کر اس  کی لت لگانے  کی  بھرپور  کوشش  کرتے ۔ مگر بقول غالب (تحریف کے ساتھ)"منہ میں  رکھیں  کہاں ، طفلانِ بے پرواہ  نمک"۔ جبکہ ہمارا حال  حسبِ مصرعہ تھا  "کیا مزہ ہوتا  ، اگر  پتھر میں  بھی ہوتا نمک" (یاد رہے  کہ کلاس  رومز کے دیواروں  پرخوبصورت   کالا  سنگ مرمر  لگا  ہوا تھا ۔اگر  یہ سنگ ِ مر مر  بھی نمکین  ہوتا تو ہم یاجوج ماجوج کی طرح  اسے بھی چاٹ جاتے ۔)
نتیجہ  اس نمک  خوری  کا  عجیب برآمد ہوا۔
  پہلا نتیجہ تو  یہ ہوا  ہمارانظام ِ انہضام  انتہائی فعال  اور مستعد ہو گیا ۔شاید  اسی سبب  قبائلی  علاقے (کلاس  کی آخری رو) کی آبادی  اچانک  کم ہو کر  صرف دو رہ گئی ۔حیرانی  تو ہوئی  مگر   اس  کا  خوشگوار  اثر (صرف ہم پر) یہ  پڑا کہ خالی  پیریڈز  میں  ہمارے لیٹنے کیلئے وافر جگہ  میسر آگئی ۔ جبکہ ناخوشگوار  اثر  کی زد میں آنے  والے   بیچارے ٹھنس  ٹھنساکے   چار کی   جگہ  پہ چھ،    ناک پکڑ  کے بیٹھے رہتے  تھے ۔خیر ہم نے کونساکسی کو  روکا  تھا ۔
دوسرا نتیجہ نمک خوری  کا یہ ہوا کہ ہماری بھوک میں  پانچ  سو فیصد  اضافہ ہو گیا ۔  جتنا  کھاتے نمک کی دو گولیوں میں تحلیل ہو جاتا  اور پھر وہی ھل من مزید  کی  صدا دمادم  ۔چونکہ نحو میر ، پند نامہ  اور  انگلش  میں  ہمارا  سکہ چلتا تھا  ۔  چنانچہ  اس سکے  کو ہم  اپنی بھوک   مٹانے  کیلئے  استعمال کرنے  لگے ۔  ۔۔۔  اعلان کر دیا  گیا  کہ  ہم سے  نحو میر ، انگلش  اور علم الصیغہ  کی ٹیوشن پڑھنے  کے خواہشمند  مولانا  صاحبان  کو مطلع  کیا  جاتا  ہے کہ  پاپی پیٹ اور نالائق  طلبا ء  کے وسیع  تر مفاد  میں  اب  ہر قسم کا  مفتہ  منسوخ  کر  دیا گیا ہے ۔   تمام  نالائقوں پر  لازم ہے  کہ  گھر  سے لائی گئی سوغاتوں  میں  ہم بےچارے پردیسیوں کا   حصہ  کھلے دل اور کھلے  ہاتھ  سے  نکا لا جائے ۔  پنجیرے  ، ستو  ،   اورہمہ قسم  کے  حلوے    کے علاوہ  بیکری   کے بسکٹ  اور دودھ  سوڈا  بھی  قابل ِ قبول ہے ۔  (یہ آپشن  خاص طور پر  ان کیلئے  تھی  جنہیں خود بھی  حلوے  اور پنجیرے نصیب نہیں تھے )
اس طرح  ناشتہ   ، دوپہر  کے  کھانے  اور رات  کے کھانے  کا درمیانی  عرصہ  بھی  کھاتے پیتے  گزرنے لگا ۔

ہوئے تم دوست جس کے 


جب  تک میس میں کھانا وافر مقدار میں ملتا تھا ، تب تک کوئی ٹینشن نہیں تھی ، پھرحق سچ  بھی   تو یہی  تھا  کہ  صبح  کی ڈبل  روٹی  کے علاوہ  چار  روٹیاں  ایک  دن میں  ایک  طالب علم  کیلئے  بہت  تھیں ۔  مگر کیا  کیا  جائے  اس کالے نمک  کا  کہ  چھٹتا  نہیں ہے کافر منہ سے لگا ہوا۔
  غالب نے  بھی  کیا خوب  نکتہ  بیان فرمایا  ہے  :۔ "پاتے نہیں جب راہ ، تو چڑھ جاتے ہیں  نالے ۔"عین  یہی معاملہ ہمارے ساتھ بھی ہوا۔  ہم جیسے  بلا خوروں  کیلئے  تو چار  روٹیاں فی  دن  اونٹ  کے منہ میں  زیرہ  برابر تھیں ۔  بابو  پیٹ سنگھ  کی  فریادوں نے  جب زیادہ ہی کان  کھائے  تو  وسیم اور جوگی  نے  سر  کھجا کر  ایک عدد  ترکیب ڈھو  نڈ نکالی ۔  اب    یہ ہوتاتھا  کہ  میس میں  جاتے ہی  ہم  شد و مد  سے  مسلمان  مسلمان کا بھائی  ، اور مل جل کر  کھانے  میں برکت والی  احادیث  کی  تبلیغ  شروع کر دیتے ۔  اور سادہ لوح  جذباتی عوام  ہمارے  جھانسے میں آ کر  ہمارے  ساتھ  بیٹھ کر کھانا  کھانے  کو  عین  سعادت  اور  باعث ِ ثواب  سمجھنے  لگی ۔ اور  جب  پانچ  یا سات  طالب  علم  (جن کے حصے کی روٹیوں  کی تعداد  دس سے چودہ  تک  بنتی تھی ) مل جل  کر کھانے  کی  عملی صورت میں  روٹیاں  درمیان میں ڈھیر  کر کے  کھانا  شروع کرتے ۔ تو عین اسی وقت  اچانک  وسیم  اور جوگی  کو  غیب  سے  ایسے  ایسے مضامین  خیال  میں آنے لگتے ۔ جن  کا  تذکرہ  کسی  بھی سلیم  الطبع  اور  نفاست پسند کیلئے  کم از کم کھانا کھاتے  وقت  باعثِ  متلی  اور کراہت  ہوتا ہے ۔  مگر  ان کے   فی البدیہہ  بیان  میں  ہمیں  قطعاً  باک  نہ   تھا بلکہ  عین مفرح قلب  تھا۔لہذا  ہم چن چن  کر  ایسے لطیفے  ،  عربی  محاورے ،  اور  چٹکلے  چھوڑتے  کہ  بے چاروں  کے پیٹ میں  بمشکل  آدھی  روٹی  ہی پہنچ پاتی  ۔ ستائش  کی  تمنا اور پرواہ کس  کافر کو ہوتی تھی بھلا،  البتہ مالِ غنیمت  کے طور  پر  باقی  رہنے والی  کم از کم  بارہ  روٹیاں  ہم اپنے  حسنِ کلام اور مکروہ  بیانی   کا  صلہ  سمجھ کر  ان کے ساتھ پورا  پورا انصاف کرتے ۔ اس کا ایک فائدہ  کینٹین والے  کو  بھی ہوا۔  اس کے بسکٹ  اور  دودھ سوڈا  زیادہ  بکنے  لگا۔
پس ثابت ہوا کہ  ہماری یہ  حرکت   سراسر  مفادِ عامہ  میں  تھی۔        

Monday, 10 June 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط نہم) -

3 آرا

حق مغفرت کرے ، عجب آزاد  مرد تھا


ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ  جناب  عبدالرشید  صاحب جیسا کہ  پہلے ذکر آ چکا ہے  کہ نابغہ روزگار شخصیت تھے ۔پرنسپل  آف   ایچی  سن لاہور کے عہدے  سے ریٹائرڈ ہوئے  تو  پیر صاحبان کے پر زور اصرار پر  حزب الرحمن اسلامی اکادمی میں وائس  پرنسپل کا عہدہ  سنبھال لیا ۔  بے حد باغ و بہار قسم کی شخصیت تھے ۔  ریاضیات  اور طبیعات  میں اپنے مقابل کسی کو کچھ نہ مانتے تھے ۔ اور یہ سچ بھی تھا ۔ اریب قریب ستر  سال کی عمر میں بھی  "رشکِ جوانی  پیری"  کے  مالک تھے ۔  ہاکی  کے باقاعدہ  کھلاڑی  تھے ۔ اور  کبڈی  کے کھیل  میں  اچھے اچھے بھی  ان کے سامنےپانی بھرتے  تھے ۔ 
اکثر  اوقات  ان کا مزاج خوشگوار  ہی رہتا تھا ۔اور  خوشگوار  موڈ  میں ہمیشہ  ٹھیٹھ  پنجابی  میں  لن ترانیاں فرمایا کرتے تھے   مگر  جیسے  ہی اردو  یا انگلش  بولنا شروع  کرتے  ہم  سب سمجھ جاتے  تھے ، کہ  موسم  گرج چمک  والا  ہو گیا  ہے لہذا  پتلی گلی  پکڑنے  میں ہی عافیت    ہے ۔ جوگی  پر ہمیشہ خصوصی   شفقت فرماتے تھے ۔ انگلش  میں جوگی کی  تمام تر  مہارت  کا  کریڈٹ  انہی کو جاتا ہے ۔  سکول سے  چھٹی کے بعد  فارغ  وقت   میں آصف الرحمن (کلاس فیلو  اور ان  کا  رشتے دار ) اور  جوگی  کو اپنے پاس  بٹھا  کر  انگریزی  لکھائی  کی  مشق پہ مشق  کراتے  اور  انگلش گرائمر  کے رموز بھی  سمجھاتے ۔  مگر  یہ لطیفہ  بھی اپنی جگہ  سچ ہے کہ  آج  اگر  جوگی  علمِ ریاضی  میں  صفر  درجہ  رکھتا ہے  تو  اس کی وجہ بھی  جناب رشید  صاحب ہیں۔
 ان کا  معمول  تھا کہ  رات کو عشا  ء کی نماز کے بعد  وہ  ہوسٹل  کا چکر  لگاتے تھے ۔ لیکن یہ کوئی  دجال  کے جیسا چکرنہ ہوتا تھا ۔ بلکہ  وہ  ہر کمرے میں  جا کر  ہر ایک  طالب علم سے اس کا حال چال پوچھتے ۔ پڑھائی  کے بارے میں دریافت کرتے۔ اور کمال  بے  حد کمال  یہ تھا کہ وہ  ہر بچے کو  ذاتی طور پر  جانتے  تھے ۔ اس کی  پڑھائی  میں کیفیت ،  اس کی عادات  و افعال ، اس کی پسند ناپسند  سب انہیں معلوم تھی ۔اس معمول  میں کبھی  ناغہ نہ ہوا۔


سر جائے یا رہے نہ رہیں پر کہے بغیر


ساتویں جماعت میں اردو کا پیریڈ جاری تھا اور سبق تھا میلہ چراغاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ استاد صاحب نے لیکچر میں بتایا کہ ان بزرگ کا نام مادھو لال حسین تھا۔ سمجھ آ گیا نا سب کو ؟ کیا نام تھا اس بزرگ کا جن کے مزار پر میلہ لگتا ہے ۔قسمت کے مارے جوگی کے منہ سے نکل گیا   شاہ حسین ؒ ۔سلیم صاحب کا پارہ یکدم ہائی ہو گیا ۔ میں جانتا ہوں تمہیں ۔ تم اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہو؟ میں نے کیا غلط پڑھایا ہے مادھو لال حسین، جو تم شاہ حسین کہہ رہے ہو ؟ 
اورحسبِ  توقع  ڈنڈا اٹھا کر شروع ہو گئے ۔جب اچھی طرح اپنا غصہ نکال چکے ۔ تو مرغے سے انسانی صورت میں واپسی کا حکم ہوا۔ اور بولے اب ذرا اپنے ہم جماعتوں کو مادھو لال حسین کے بارے میں بتاؤ۔ تم وہی ہو نا ۔۔۔۔جو اساتذہ کو لقمے دیتا ہے ۔۔۔۔آج میں کرتا ہوں تمہیں سیدھا۔ ۔۔۔اب ہو جاؤ شروع ۔۔۔۔ اور غلطی کی صورت میں کسی رعایت کی امید نہ رکھنا ۔ جوگی نے حضرت شاہ   حسینؒ کی پیدائش سے لیکر وفات تک کے ان کے حالات ، اور مادھو لال حسین ؒ کی وجہ تسمیہ بیان کر دئیے  ۔۔۔بلکہ سویٹ ڈش کے طور پر ان کا کچھ کلام بھی سنا دیا۔  مگر جوگی کا گناہ پھر بھی  منت کشِ گلبانگ ِ تسلی نہ ہوا ۔


ہوئی مدت  کہ  غالب مر گیا ، پر یاد آتا ہے 



دوسرے سال جوگی کاتعارف وسیم اکرم سے ہوا۔ان  میں حیرت ناک حد تک مماثلت اور مشابہت تھی ۔نہ صرف قد ، جسامت میں بلکہ شکل و صورت میں بھی اٹھارہ ، بیس کا فرق تھا ۔  جوگی کی  طرح اس کا بھی کوئی دوست نہیں تھا۔ اس کے والدجناب  محمد اکرم   صاحب ائیر فورس میں آفیسر تھے ، وہ بھی انگلش میڈیم سے اچانک درس نظامی میں آیا تھا ۔ پڑھائی میں جتنا اچھا تھا ، ہوسٹل میں اتنا ہی للو اور بدھو تھا ۔ لڑکے اس کے گھر سے آئے ستو، پنجیرے ، اور حلوے ، کھا جاتے ، اور آنجناب  بے چارگی سے  دیکھتے رہتے  ۔جرمِ  ضعیفی  کی نہیں  یہاں  جرمِ شریفی  کی سزا  مرگِ مفاجات  تھی۔ وہ نہایت ہی کم آمیز ، اور تنہائی پسند تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک ان  دونوں میں  واجبی  سی بات چیت بھی نہیں تھی ۔پھر جو علیک سلیک ہوئی تو سلام دعا سے نکلی، دوستی کی دیوار پھاندی اور لنگوٹیانہ یاری  کے میدان میں  آزاد گھومنے لگی۔حتیٰ کہ  سکول ، مدرسے اور ہوسٹل میں ان دونوں کی دوستی کی مثالیں دی جانے لگیں ۔ ایک ، اکیلا  ایک ہوتا تھا اب ایک اور ایک مل کر گیارہ ہو گئے ۔للو سا وسیم پتا نہیں کہاں رہ گیا ، اب تو ایک نیا وسیم سب سے سامنے تھا ، جو ڈنکے کی چوٹ پر جوگی کو نہ صرف اپناپیر بلکہ گرو مانتا تھا ۔ اور بڑوں بڑوں کے کان کترتا تھا۔ کون سا میدان تھا ، جس میں ہم  پیچھے رہتے ہوں ۔ سب سے زیادہ پیریڈ مس کرنے کا اعزاز  ہمارے  پاس تھا ۔ اس کے باوجود پڑھائی میں سب سے آگے۔۔۔ سب سے زیادہ سونے والے ہم  ۔۔۔۔ کلاس میں ہمیشہ سب سے آخری رو میں بیٹھنے والے ہم  ۔۔۔۔ اس کے باوجود اساتذہ کے سب سے زیادہ چہیتے ۔۔۔۔ نہ صرف اپنی کلاس میں بلکہ تمام سکول اور مدرسے کی کلاسوں میں مقبول ترین۔ہر دلعزیز ترین طالب علم۔۔۔۔  اساتذہ نے  ہماری  رو  (یعنی  کلاس ڈیسکوں   کی  آخری قطار) کو"قبائلی  علاقہ"  کا خطاب  دیا ہوا تھا  ۔  قبائلی  علاقے  میں نصابی  کتب سے  زیادہ  عمران سیریز  ،  اور جاسوسی  ڈائجسٹ  پائے جاتے تھے  ۔ لیکن   جب پکڑ  دھکڑ  میں شدت آتی چلی گئی   تو ہم  نے مولانا  حبیب اللہ صاحب   کو عمران سیریز  کا چسکا لگایا اوریوں   اپنی  کلیکشن کو ہوسٹل  سپرنڈنٹ  ،  اور  دیگر  سخت گیر  اساتذہ  کی دست برد  سے محفوظ  کر لیا ۔


مرا معلم عشق تو شاعری آموخت 
 

اس الف لیلی ٰ کا آغاز اس تاریخی دن سےہوتا ہے  جب سردیوں کا موسم اور منگل کا دن تھا ۔ اتفاق سےپیریڈ بھی فری تھا۔ میس کی جانب  سے بکرے کے ممیانے کی آواز آ رہی تھی ۔ (منگل کو میس میں بکرے  ذبح کر کے پکائے جاتے تھے) وسیم  جو بسا اوقات  خاموش  ہی رہا کرتا  تھا  اس دن نجانے کس موڈ میں تھا ، جوگی سے بولا:۔ "ذرا محسوس کرو کہ بکرا کیا کہنا چاہتا ہے  ۔"پھر دونوں نے مل کر بکرے کی آواز بغور  سنی  ۔ایک دوسرے کو اپنے اپنے اندازے سنائے۔ اور پھر مل کر اپنی ان احمقانہ سوچوں پر خوب ہنسے ۔ اس  پہلی  بالمشافہ  بات چیت  سے  اجنبیت  کی  دیوار  کیا گری کہ  دونوں  غیر محسوس طریقے سے دوست بنتے چلے گئے ۔ دونوں کو  کو ئی اور منہ نہیں لگاتا تھا ، جو کہ سب سے بڑا سبب بنا ان دونوں کی  دوستی  اور  قریب آنے کا۔ وسیم نے جوگی سے کہا :۔"اگر بکرے کی فریاد کو علامہ اقبال کی نظم کی طرح ایک نظم کی شکل میں لایا جائے تو کمال ہو جائے گا۔ "اس نے نہ صرف جوگی کا حوصلہ بڑھایا بلکہ  ساتھ ہی انعام کے طور پر سوہن حلوہ کھلانے کا بھی وعدہ کیا ۔ اس طرح جوگی نے اپنی (مرحوم)شاعری کا آغاز ایک فی البدیہہ نظم " بکرے کی صدا" سے کیا ۔ جسے باقی ہم جماعتوں کی طرف سے جزوی طور پر اور وسیم کی طرف سے خصوصی اور کلی طور پر داد ملی ۔جلد ہی اس سلسلے کی دوسری نظم "مینڈکوں کی ٹر ٹر" منظر عام پر آئی ، اور پہلے کی نسبت زیادہ داد کی حقدار ٹھہری ۔ جوگی کا حوصلہ بڑھانے اور اسے مزید آگے بڑھتے رہنے میں صرف اور صرف وسیم کا ہاتھ تھا ۔ وہ نہ صرف ایک اچھا سامع تھا بلکہ بہت اچھا مشیر بھی تھا ۔جواب میں جوگی نے وسیم کے اندر اعتماد پیدا کرنے بلکہ اسے مضبوط کرنے میں مدد  بہم  پہنچائی ۔

Saturday, 8 June 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط ہشتم) -

8 آرا


کس نہ گفتہ ہمچو سعدےؒ


اس سب مارا ماری کے درمیان کریما سعدیؒ اور انگلش  کے پیریڈ ہی گوشہ عافیت ہوتے  تھے ۔
انگلش میں باقی سب ہم جماعتوں کی تو اے بی سی سے بھی واقفیت پہلی بار ہوئی  اوران  کیلئے  یہ  نئی چیز تھی ۔ اس لیے "جز اویس اور کوئی نہ آیا بروئے کار " کے مصداق جوگی ہی ان  اندھوں کے درمیان کانا راجہ تھا۔ انگلش ریڈنگ ہو یا رائیٹنگ ، جوگی سب سے آگے۔۔۔۔۔ لیکن جلد ہی   یہ  معلوم ہوگیا کہ "انگریختہ"کے تمہی استاد نہیں ہو غالبؔ ، کہتے ہیں اسی کلاس میں کوئی وسیم بھی ہوتا ہے ۔
 کریما سعدیؒ جناب غلام محمد صاحب پڑھاتے تھے ۔ نہ صرف  قتیلِ سعدیِ بلکہ  فنا فی السعدی ؒ تھے ۔ بہت اچھا پڑھاتے تھے ۔ مگر اس سے بھی اچھی بات یہ تھی ،کہ سعدیؒ کے مصرعے پڑھاتے پڑھاتے خود مست ہو جاتے تھے ۔ آنکھیں بند کر کے جھومنے لگتے، اور کلاس و مافیہا  سے  بے خبر ہو جاتے۔ اور لڑکوں کا تو معلوم نہیں ، مگر وسیم اور جوگی کو  بہت مزہ آتا تھا ۔ دورانِ   وجد غلام محمد صاحب کا تکیہ کلام ہوتا تھا :۔ " ارے تجھے کیا معلوم کہ سعدیؒ کیا ہے۔ارے سعدیؒ پڑھنے ، سننے  یا  دیکھنے  کی نہیں گھول کے پی جانے والی شکر ہے"۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ "کس نہ گفتہ ہمچو سعدےؒ" بھی بہت ورد کرتے تھے ۔ یوں غلام محمد صاحب کی دیکھا دیکھی ، جوگی کا بھی دل شیخ سعدی ؒ سے لگ گیا۔نتیجہ ظاہر ہے  وہی  ہوا ، کریما سعدیؒ جوگی کو زبانی یاد ہو گیا۔   

پھر جی میں  ہے کہ  در پہ کسی کے  پڑے رہیں


جناب منظور احمد  صاحب ہوسٹل سپرنڈنٹ تھے ۔  ہمہ  جہت شخصیت  تھے ۔ پڑھنے والوں  کو شاید یقین نہ  آئے مگر  حیرت انگیز سچ یہی  ہے  کہ وہ  بیک وقت   گورنمنٹ ہائی  سکول  قادر بخش شریف  کے ہیڈ ماسٹر   اور  ڈاکخانہ  قادربخش  شریف  کے  پوسٹ ماسٹر  اور ڈاکیا  بھی  تھے ۔  اور  رات کو عشا  ء کی نماز کے بعد  حزب الرحمن اسلامی  اکادمی  کے ہوسٹل وارڈن کی  ذمہ داری  بھی  آپ  کے سپرد تھی ۔ 
اس کے علاوہ  ان  کی  ایک خصوصیت  ان کے مزاج  کی سدا بہاری  تھی ۔  میں  نے تو کیا شاید کسی  نے انہیں کبھی ہنستے  ہوئے  نہیں دیکھا ۔  عید  کا دن  ہو  یا عاشورہ کا  ، ان  کے چہرے  پر سرد مہری  کے  بہتر  ہزار پردے پڑے رہتے  تھے ۔  حتی ٰ کہ بولتے وقت بھی ان کے  چہرے  کے تاثرات  کبھی  بدلتے  نہ دیکھے ۔  وہی  سرد مہری اور  وہی ماتھے کی تیوریاں ۔ بولتے اس  طرح تھے جیسے ہم کلامی  کا سننے والے پر احسان کر رہے ہوں  ۔  
ان کی اس  سخت  مزاجی  کا  ہی معجزہ تھا کہ عشاء کے بعد  ہوسٹل  میں سب  شیطان بندے دے پتر  بن  جاتے تھے ۔ 
ہوسٹل کے ہر کمرے  میں کم از کم دس طالب علم رہتے تھے ۔ ان میں  ایک مانیٹر ہوتا  جس کی  ذمہ داری  اپنے کمرے کی  حاضری اور  ڈسپلن  قائم  رکھنا  ہوتی تھی ۔ عشاء کی نماز سے واپسی کے دس منٹ  بعد  منظور صاحب ہر کمرے میں حاضری چیک کرتے تھے ۔ اس کے بعد  لان میں چارپائی پر  حقہ گڑگڑایا  کرتے ۔  اور  اپنی  موجودگی  کا اظہار  گاہےبگاہے  ایک  للکارتے  لفظ "اوئےےےے"  سے  کرتے  رہتے تھے ۔  یہ مبہم اور غیر معین  لفظ بہت باکرامت  لفظ ہے  اس  کا  اندازہ  ہوسٹل کی  زندگی  کے دوران  ہوا۔ جو جہاں  ہوتا اسے وہیں  سانپ سونگھ جاتا ۔  چور کی داڑھی میں تنکے کی  طرح  ہر طالب علم  خود کو  اس لفظ کا  مخاطب سمجھ  کر  شرافت  سے  رٹے  مارنے  میں مشغول رہتا۔  جبکہ جوگی  نے جلد  ہی  تاڑ  لیا کہ  منظور صاحب  دوسرا چکر نہیں لگاتے   ، اس  لیے  جونہی  وہ حاضری  چیک کر کےآگے جاتے  جوگی صاحب لمبی تان کے سو  جاتے ۔  البتہ  باقی  ڈرپوک عوام  اسی  ایک "اوئے"  کے زور پر مجبوراً  گیارہ  بارہ بجے تک  جاگتی  اور خواہی نخواہی  کتابوں  میں سر دئیے رہتی تھی  ۔

اب  کے سر گرانی  اور ہے


بکرے  کی ماں  بھی کب تک خیر منا سکتی تھی ۔ سو  دن چور کے تو  ایک دن کوتوال کا  آیا  ہی کرتا ہے ۔  لیکن جوگی  کے معاملے میں دھاندلی ہو گئی ۔  سو دن  بھی پورے  نہ ہوئے تھے کہ کوتوال کا دن آن پہنچا ۔پکڑے  جانے  کے آثار و  امکان  تو ہر گز نہ تھے اگر  میر صادق بے اولاد  مرا ہوتا۔
۔  جوگی  کے  ہم کمرہ  طلباء  میں سے ایک  محمد امین  ہوتا تھا ۔ بہت  ہی  اچھا مگر  حد  سے زیادہ ڈرپوک اور وہمی  تھا ۔  اس کی اسی  کمزوری کا فائدہ  اٹھا کر  اکثر اس کے  حلوے اور پنجیرہ جات ، اور مربہ جات    جوگی میاں  قوال  اور ہمنوا (ناصر  علی )پرہاتھ صاف  کیاکرتے  تھے ۔ اس  منحوس  رات  بھی کوئی  خلاف ِ معمول  بات تو نہ ہوئی  تھی ۔  امین اسی  دن گھر  سے تقریباً  ایک  اوسط حجم  کا پتیلا  سوہن حلوے سے  پُر شدہ لایا تھا ۔  خیر سگالی کے طور پر اس نے  سب ساتھیوں کو مناسب  مقدار  میں چکھا بھی دیا ۔  مگر  جوگی کا کہنا تھا  :۔" سمندر سے پیاسے کو ملے شبنم۔  بخیلی ہے یہ  رزاقی نہیں۔" اور اسی بخیلی  کے سدِ باب کیلئے  جوگی  اور ہمنوا  نے   جنوں بھوتوں کے قصے   سنا کر  اورآسیب کا ہواکھڑا کرکے  امین سے سوہن حلوے   کا آدھا پتیلا ہتھیا  لیا۔ جس کا حاسدین کو بے  حد قلق ہوا۔ نیز  جنوں بھوتوں کے باآوازِ بلند  بیان سے نیند  میں خلل نے  بھی جلتی  پر تیل کا کام کیا ۔ 
بے چارے  کسی حد  تک سچے تھے ۔ سارے دن کی خجل خواری کے بعد  کہیں آدھی رات       کو سونے کا موقع ملتا تھا  ۔ مانیٹر حافظ شاہد خلیل تصورؔ  صاحب  تو  جوگی اور ہمنوا سے  ذرا دب کے  رہتے تھے ، اس لیے زیادہ  ٹیں ٹیں  نہ کی  البتہ   عبدالشکور  آپے  سے باہر ہو گیا ۔  جب جوگی کا کچھ نہ بگاڑ پایا تو اگلی  رات منظور صاحب کے  آتے ہی استغاثہ دائر  کر دیا ۔  فردِ جرم یہ تھی  کہ یہ نہ خود پڑھتا ہے  اور نہ پڑھنے دیتا ہے ۔ نیز خود تو آپ کے جاتے  ہی سو جاتا ہے مگر  جب ہمارے سونے کا وقت  آتا ہے تو یہ دونوں آتنک وادی  قصے کہانیاں(بآوازِ بلند)شروع کر دیتے  ہیں۔
منظور صاحب کی ہر قسم کے  تاثرات سے  عاری کھرکھراتی ہوئی  مشینی آواز  آئی :۔ "جوگی اور ناصر باہر آ جائیں۔ " اور ملزمان"جان  جائے  پران نہ جائے "والی  کہاوت   سے دل کو تسلی  دیتے ہوئے باہر  نکل  آئے ۔ خیال تھا کہ زیادہ سے زیادہ پانچ چھ تھپڑوں  کے صدقے سے بلا ٹل جائے گی ۔ مگر منظور صاحب نے مرغا بننے  کا حکم صادر فرمادیا۔  کمال  اطمینان سے ملزمان  نے کان  پکڑ لیے ۔  منظور صاحب  کسی  فوجی  سارجنٹ  کی  طرح   حکم فرما ہوئے :۔ " جوانو! اسی طرح کان  پکڑے پکڑے  مارچ  پاسٹ   کرو۔"مارچ شروع ہوا اور  منظور صاحب اس رو کے آخری کمرے کی حاضری چیک کرنے آگے چلے  گئے ۔  ملزمان خوش تھے  کہ پچیس تیس میٹر کی  ککڑ  واک  سے  ہی  بلا ٹلتی ہے تو غنیمت ہے ۔ اگر عوام  دیکھ رہی ہے تو دیکھتی رہے ۔
  فیض احمد فیضؔ دیکھتے  تو ضرور "جس دھج سے  کوئی مقتل گیا " والا شعر  جوگی کے نام کر دیتے  مگر  منظور صاحب  ٹھہرے  ایک نمبر  کے بدذوق ۔  بجائے  داد دینے  کے جونہی ملزمان  برآمدے کے اختتام پر  خوشی خوشی انسانی  صورت میں لوٹے  پھر  سے  مرغا بننے کا حکم  جاری   کر دیا ۔  اور کہا  کہ  یہ ککڑ واک  طلبا کی  ضیافتِ طبع اور عبرت ِ  طبع  کیلئے  جاری رہنی چاہیے ۔ایک  ایکڑ  کے رقبے  پر  محیط  ہوسٹل    ریمپ  مقرر  ہوا ۔ اور  کُکڑ  واک  شروع ہو گئی ۔  طلباء کھڑکیوں اور دروازوں  سے چپکے  اس  قدر اشتیاق  سے   عزت کا   یہ جنازہ دیکھ  رہے تھے جیسے میلے  میں دیہاتی کتوں  کی کشتی  دیکھا کرتے  ہیں۔
خیر  بے چارے  ایک دوسرے  کی دیکھا دیکھی حوصلہ  مندی  سے مارچ  کرتے رہے ۔  کافی  دور آ کر  جب اس خیال  سے کہ  منظور صاحب شاید کہیں  حاضری چیک کر  رہے ہوں یا  کم از  کم دور کھڑے دیکھ رہے ہوں ، کان  چھوڑ  کر  مگر  بدستور  اسی پوزیشن میں تھوڑی  سی رفتار  بڑھائی   ہی تھی  کہ قریب  ہی سے منظور صاحب  کی غراہٹ ابھری ۔ اور حوصلہ دم توڑنے لگا۔ 
ابھی تہائی سفر تمام ہوا تھا  کہ  گوڈے  گٹے جواب  دینے لگے۔  سر گھٹنوں  میں  دبا دبا تنگ آیا  تو اس نے بھی  نوٹس  جاری کر دیا ۔  لیکن ہار بھی تو نہ مانی جا سکتی تھی ۔  لہذا  دانت پیستے  کسی نہ کسی  طرح  سفر  چیونٹی کی رفتار سے جاری رہا ۔ اور  منظور صاحب سخت گیر  ساس کی طرح   مسلسل  نظر  رکھے ہوئے تھے ۔  اور جیسے ہی ان کی نظر چوکی  جوگی  نے  موقع  ضائع  نہ جانے دیا  اور  دو چھلانگوں  میں کچھ آگے  بڑھ گیا ۔  ناصر چونکہ  حالات ِ حاضرہ سے ناواقف  تھا  اس لیے  وہ کچھوے کی رفتار سے   شرافت سے  چلتا رہا ۔  جبکہ  منظور صاحب کی نظر  بھی زیادہ  اسی پر تھی ۔ اس بات  کا  فائدہ  جوگی  نے خوب اٹھایا  اور باقی  ماندہ سفر  ایک  ہی جست میں تو نہیں البتہ   معدودے چند  جستوں  میں تمام کر لیا ۔  اور نقطہ  ءِ اختتام  کو چھوتے ہی  حواس  اور ہمت  ڈوب  گئے ۔  ناصر بے چارے پہ نجانے  کیا گزری ۔
دسمبر  کی  سرد  رات اور  پسینے   اور پسینے جوگی ۔ پہلے تو  وہیں بیٹھے  بیٹھے جرسی کا بوجھ  اتار پھینکا  ۔  پھر  جب ٹانگوں  میں جان آئی  تو سینہ پھلائے  اپنے کمرے میں  آئے ۔ اور ایک  قہقہہ اس زور سے لگایا  کہ حاسدوں کی جان جل گئی ۔  نیز  ناصر کے آتے ہی ایک عدد الٹی میٹم  بھی دیا گیا  کہ  اب تیار  رہنا  ہمارے وار کیلئے ۔       

سی پی سی (قسط 1) ۔

5 آرا

جمعہ کا  دن  ویسے  تو  ہمیشہ آیا کرتا  تھا ۔ مگر  گزشتہ  جمعہ  کا دن  جو آیا تو بہت  کچھ  ساتھ لایا۔  اور  جب گزرا  تو اتنی  یادوں کا ذخیرہ  سونپ کے گزرا  کہ  جی جانتا ہے۔

زیادہ  سسپنس  پھیلانا مناسب نہیں۔  سیدھی سی بات ہے  کہ  
جون  کا  مہینہ  اور اس کی گرمی  ہمیشہ کی طرح عروج پر تھی ۔  جب  عین سہ پہر  کے وقت کچھ سر پھروں کے  جی میں سمایا کہ بہاولپور  چلتے ہیں۔
اندازہ  قارئین خود فرما لیں کہ  جنوبی پنجاب  اور جون کی گرمی  اور پھر  سہ پہر کا وقت ۔ جب گرمی اپنے  عروج پر  ہوتی ہے ۔
کیا خوب فرمایا ہے میرؔ صاحب نے بھی :۔ 
حوصلہ مند چٹانوں  کو بھی ریزہ ریزہ  کر دیں
شوقِ منزل میں رکاوٹ  نہیں دیکھا کرتے
موج در موج بنا لیتے ہیں ساحل
چل پڑیں  میر ؔ تو مسافت نہیں دیکھا کرتے 
  میرؔ  تقی میر  میں اگر دو سو  سال پہلے اتنا حوصلہ  تھا  تو پھر  اس  ٹیکنالوجی کے زمانے میں ہم بھلا کیوں گرمی کے سامنے ہتھیار ڈالتے ۔  جبکہ میرؔ کے مقابلے میں ہمارے پاس  موٹر سائیکل  سواری  کیلئے  موجود  تھا ۔ بس کک لگانے کی دیر  تھی ۔
یاسر  میاں نے  ہیلمٹ  پہن کر  کک  لگائی اور  فدوی کو  مسافر  سیٹ  پر  بٹھائے  ہوا سے باتیں کرنے لگے ۔ مجھے ہوا  کی زبان  سمجھ نہیں آتی  ورنہ  ضرور  بتاتا کہ کیا باتیں کر رہے تھے ۔ قصہ کوتاہ ڈرائیور  بدلی  کے ایک  چھوٹے سے بے ضرر واقعہ  کے باوجود  آخر کار یہ  چھوٹا سا چار رکنی قافلہ  بہاولپور  پہنچ گیا۔
لکھنؤ  آنے کا باعث نہیں کھلتا یعنی
ہوسِ سیر و تماشا ، سو وہ کم ہے ہم کو 
شبیر  صاحب  کی رہنمائی  میں  سی پی سی  کے  دفتر  میں دندناتے  ہوئے گھس گئے ۔
لو  کے تھپیڑے  کھاتے کھاتے  دماغ کچھ کھسک گیا تھا  اس لیے مناسب یہی  جانا  کہ  پہلے ہاتھ منہ دھو کر  بھوتوں کے حلیے سے انسانی  حلیے  میں آ جانا چاہیے۔
جب ذرا دماغ  ٹھکانے آیا تو معلوم ہوا  ایک  بہت ہی  پر کشش  اور دلآویز  شخصیت کہ  دنیا انہیں ساجد سلیم  کے نام سے جانتی  ہے ، نہایت تپاک سے ہمیں  گلے مل رہے  ہیں۔  اللہ  انہیں  جزا دے  کہ  صرف معانقے  اور خالی خولی  رسمی قسم  کی  مزاج پرسی پر  ہی نہ ٹرخایا  بلکہ  سرائیکی  وسیب کی پہچان  پرخلوص مہمان نوازی  کے طور پر  سیب کا  جوس  بھی  پلایا ۔  شاید  کوئی سمجھے کہ سیب کا جوس  حلال کر رہا ہے ۔  واللہ  ایسی کوئی  بات نہیں۔
پھر  بھی اگر کسی  صاحب کو شک ہو تو انہیں دعوت ہے کہ  خود تشریف لا کر  معائنہ  فرما لیں  میرے بیان  میں کہاں  تک صداقت ہے  اور کہاں  تک گپ  ہے ۔بقول مرزا  غالب :۔ صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کیلئے 
تعارف  کے بعد جب  ساجد  صاحب کی پٹاری  کھلی تو معلوم پڑا کہ   ستاروں  سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔  سبحان اللہ ۔۔۔۔۔۔ صرف شخصیت ہی متاثر کن نہیں بلکہ  ان کا کام  اور ان کا ویژن بھی سراہے جانے کے لائق ہے ۔ حیرت  بھی ہوئی  کہ  یا اللہ  یہ کون لوگ ہیں جو عین قیامت کے نزدیک اس نفسا نفسی  اور  آپ تڑاپی  کے  زمانے  میں خدمتِ  خلق  اور فلاح ِ انسانیت  کیلئے  مصروفِ کار ہیں۔
یقین  تو اس لیے کرنا پڑا کہ میں سن نہیں بلکہ خود اپنی  آنکھوں سے دیکھ رہا  تھا ۔ آج جبکہ  این جی اوز  کی  وبا پھیلی ہے ، جس کو ایک میز  اور دو کرسیاں  میسر  آتی ہیں وہ  ایک این جی  او کی دوکان سجائے  بیٹھا ہے ۔ دعوے ہی دعوے  ہیں۔ کچھ کے ہاں خواتین کے حقوق کے نام  پر صرف  پراپیگنڈہ  ہی پراپیگنڈہ  ہے ۔  ایسے میں این جی  او کا  نام لینا  کوئی  چونکانے والی بات نہیں۔ لیکن چونکانے  والی بات تو ہے ۔۔۔۔۔
جی ہاں ۔۔۔۔۔!!!  ان  کے ہاں  دعوے  نہیں کارنامے ہیں۔ یہ باتوں  سے  کسی کا دل نہیں بہلاتے نہ اعدادو شمار  سے شیخ چلیوں کا پیٹ بھرتے ہیں۔
وطنِ عزیز کا  اور بالخصوص  جنوبی پنجاب یعنی  سرائیکی  وسیب کا  سب سے بڑا مسئلہ  بے روزگاری  ہے ۔ اور بے روزگاری کی ماں  ناخواندگی ہے ۔  لیکن یہ بھی اپنی جگہ سچ ہے کہ خالی خولی  خواندگی  بھی تو روزگار نہیں دیتی۔۔۔۔ میرے جیسے کتنے ہی  بے چارے اسناد  اور سرٹیفکیٹس کا  پلندہ اٹھائے پھرتے ہیں۔
پھرتے ہیں میرؔ خوار کوئی  پوچھتا نہیں
اس عاشقی میں عزتِ سادات بھی  گئی 
اس  مایوسی  کے عالم  میں سی پی  سی نے ایک امید کا چراغ  جلایا ہے ۔  اپنی مدد آپ کے تحت تعلیم اور  روزگار  دینے  کا ایک شاندار  منصوبہ لے کر میدان  میں اترے ہیں۔ یہ نہ تو آپ کو روزگار  کے  خواب دکھاتے  ہیں، نہ  ہی  تعلیم  کے نام  پر آپ کی جیبیں خالی کرتے  ہیں۔  نہ  ہی چندے اور  زکوٰۃ  کے پیسے  سے  آپ  کو برائے  نام تعلیم دے کر آپ کی  خودی  کو مجروح کرتے ہیں۔
خواجہ غلام  فرید رحمۃ اللہ علیہ کا شعر  حسبِ حال ہے :۔
 اپنی  نگری آپ وسا توں ۔۔۔۔  پٹ  انگریزی  تھانے "
 کے تحت یہ  ایک اپنی  مدد آپ  کے تحت  چلنے  والا ایک  خوبصورت پروگرام ہے ۔ جس میں انتہائی  مناسب بلکہ میں تو کہوں گا کہ  برائے نام  فیس  لے کر  آپ کو ہنر مندی  کی تعلیم  دیتے ہیں۔  پھر  تعلیم دینے کے بعد  یہ  آپ کو خدا حافظ نہیں کہتے بلکہ  یہ آپ کیلئے ایک  پلیٹ  فارم مہیا کرتے ہیں۔ ہنر مند وں کیلئے مواقع  ڈھونڈتے ہیں ، اور جیسی جس کی صلاحیت  اسے  ویسا  ہی موقع  دلانے میں مدد کرتے ہیں۔ 
سب سے زیادہ  مزے کی بات یہ کہ آپ کی دی ہوئی فیس  کے نام پر ادا کی گئی  رقم آپ کو  بہانے  بہانے  سے لوٹا دیتے ہیں۔ کبھی  دو ہزار  روپے  وظیفہ کے طور پر  کبھی موبائل  فون  کی صورت میں تحفے  کے  طور پر ،  اور اگر  آپ کی کارکردگی  بہترین  ہے تو سی پی سی اپنے وعدے  کے مطابق  نہ صرف آپ کو  لیپ ٹاپ ، موٹر بائک دے  گی  ، بلکہ  ایک  عدد  کار کی چابی  بھی آپ کے حوالے  کرے گی ۔

کیا آپ اب  بھی سوچ رہے ہیں۔۔۔۔۔؟؟؟
رہنے دیں  جناب ۔۔۔۔۔ سوچی پیا تے بندہ گیا۔۔۔۔۔           
     

کرم فرما