Monday, 2 September 2013

مغل سے مغزل تک (مغزل کہانی قسط 2)۔

0 آرا
گزشتہ سے پیوستہ


دو دفعہ کا ذکر ہے کسی دور دراز علاقےمیں  ایک جوگی  رہتا تھا ۔ایک دن نہ جانے اس کے جی میں آئی کہ اٹھا اور اپنے برقی گھوڑے پر بیٹھا اور کہیں نکل گیا،  پھرتا پھراتا ،  ایک خوبصورت وادی میں جا پہنچا، وہاں کے لوگ بہت ملنسار اور مہمان نواز تھے۔ جوگی کا وہاں دل لگ گیا ، وہ سارا دن وادی میں گھومتا پھرتا رہتا تھا ، اور رات کو الو کی طرح اپنی بولی میں اودھم مچاتا رہتاتھا۔ ایک دن وہ ایک خوبصورت جھیل کے  کنارے جا نکلا ، جھیل بے حد خوبصورت اور صاف ستھرے تازہ پانی سے بھری تھی ، کناروں پر رنگا رنگ پھول عجب بہار دکھلا رہے تھے ، اچانک اس کی نظر جھیل میں تیرتے ہنسوں کے جوڑے پر پڑی ،جھیل میں دو سفید سفید نہایت خوبصورت  راج ہنس  تیر رہے تھے  اور  اردگرد سے بے نیاز ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے۔ جوگی ان کی محبت سے بہت متاثر ہوا ، اور اسے ان دونوں سے انس سا ہو گیا ۔ اب وہ روزانہ وہاں آتا ، اور سارا دن بیٹھ کے ان کی خرمستیاں اور اٹکھیلیاں  دیکھتا ۔ کچھ عرصہ بعد راج ہنس بھی جوگی سے مانوس ہو گئے ، اور نر کی جوگی سے دوستی ہوگئی ، اور مادہ کو جوگی نے بہن بنا لیا ۔  جوگی نے ان کے نام رانجھا اور ہیر رکھ دئیے۔دن یونہی گزرتے رہے، ایک دن ایسا ہوا کہ راج ہنس جھیل میں تیرنے نہ آئے۔جوگی نے سوچا کوئی مصروفیت ہوگی، مگر رانجھا اور ہیر لوٹ کر نہ آئے ۔اس نے امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا ، لیکن وہ تو جیسے واپسی کا رستہ ہی بھول گئے ۔ اب جوگی کا وہاں پہ دل نہ لگتا تھا، وہ  اداس اداس سا رہنے لگا ، پھر ایک دن اس کے دماغ میں ایک خیال آیا کہ کیوں نہ رانجھا ور ہیر کو تلاش کیا جائے، کیا خبر وہ کس حال میں ہوں ۔ اللہ کا نام لے کر جوگی ان کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ مگرچونکہ   ان کا مقام اور پتہ  نہ جانتا تھا، اس لیے شہروں شہروں ان کی تلاش میں بھٹکتا پھرا ، ایک دفعہ جب وہ ایک گھنے جنگل سے گزرہا تھا  کہ  رات نے آ لیا ،اس نے رات گزارنے کیلئے کسی محفوظ جگہ کی  تلاش شروع کر دی ۔ اچانک اسے ایک طرف  روشنی دکھائی دی ، وہ اس سمت چل پڑا، چلتے چلتے ایک جھونپڑی کے سامنے پہنچ گیا ، یہ روشنی جھونپڑی میں جلتے دیے کی تھی ، اس نے  اطمینان کی سانس لی اور دروازے پہ آواز دی" کوئی ہے ؟"
اندر سے آواز آئی " اندھے ہو کیا ، نظر نہیں آتا  کہ دیا جل رہا ہے ، تو ظاہر ہے کوئی ہوگا ہی۔"
جوگی نے کہا :۔ "دیے کا جلنا کوئی ثبوت تو نہیں کسی کے زندہ موجود ہونے کا۔ دیے تو قبروں اور مزاروں پر بھی جل رہے ہوتے ہیں۔"
اندر سے آواز آئی :۔ "بکو مت، سیدھی طرح بتاؤ کون ہو تم اور کیا چاہتے ہو؟  نہیں  تو دفع ہو جاؤ،میں بہت مصروف ہوں۔"
جوگی:۔" میں ایک مسافر ہوں ، اس جنگل سے گزر رہا تھا کہ رات ہو گئی ، رات گزارنے کا ٹھکانہ ڈھونڈ رہا تھا"
اندر سے آواز آئی :۔ "اب اندر بھی آؤ گے یا باہر ہی کھڑے سر کھاتے رہو گے؟"
جوگی جھونپڑی کا دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہے کہ  ایک پونے 63 سال کے بزرگ موٹے موٹے عدسے آنکھوں پہ چڑھائے،  بیٹھے  دیوانِ غالبؔ  کی تلاوت کر رہے  ہیں ۔جوگی نے آگے بڑھ کے ادب سے سلام کیا ، اور دیوانِ غالبؔ کو ہاتھ لگا کر آنکھوں کو لگائے۔ یہ دیکھ کر بزرگ کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ دوڑ گئی ، اور ماتھے کی  تیوریوں میں  بھی کچھ کمی ہوئی ۔ 
بزرگ:۔ " کہاں سے آ رہے ہو بالک؟ اور کدھر کا  ارادہ ہے ۔"
جوگی:۔ " میں  ایک دور دراز ملک  اردو محفل سے آ رہا ہوں، اور منزل کا کوئی پتہ نہیں ، قسمت نے پاؤں میں راستے بچھا دیے ہیں اور میں چلتا جا رہا ہوں ۔نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں ۔آپ بتائیے یہ کونسا ملک ہے ؟"
بزرگ :۔ " میرا نام اعجاز عبید اخترؔ ہے، اور تم اس وقت سر زمین ہندوستان پر ہو،  اور یہ گھنا جنگل سندر بن کے نام سے مشہور ہے ۔ تم بتاؤ کہ تم کس کی تلاش میں نکلے ہو۔؟"
جواب میں  جوگی نے  رانجھے اور ہیر کے  ملنے سے لیکر ان سے بچھڑنے تک کا سارا قصہ تفصیل سے سنا دیا،  یہ سن کر بزرگ  بہت متاثرہوئے، اور کہا:۔ " ٹھیک ہے تم یہاں رات گزار سکتے ہو، مگر میری مانو تو تم اس لاحاصل تلاش کو ترک کر دو، یہ دنیا بہت بڑی ہے ، جو ایک بار کھو جائے وہ دوبارہ نہیں ملتا ۔"
جوگی:۔ " میں اس لاحاصل کی تلاش میں ہی مرنا پسند کروں گا ، تا آنکہ میں انہیں ڈھونڈ نہ لوں ، آپ نہیں جانتے کہ وہ دونوں میرے لیے کتنی اہمیت رکھتے ہیں ۔میں ایک تنہا اور اکیلا جوگی تھا، جس کا کوئی بھی دوست کوئی بھی رشتے دار، کوئی بھی ایسا نہیں تھا جسے میں اپنا کہہ سکتا ۔ خوش قسمتی سے مجھے بہن بھائی ملے ،  ابھی میں ان کے ملنے کا ٹھیک سے شکر بھی ادا نہیں کر پایا تھا کہ وہ بچھڑ گئے۔  اس رشتے کی قدروقیمت کوئی میرے جیسا ہی کر سکتا ہے جس کی ساری زندگی اکیلے ہی گزری ہو۔ میں نہ تو ان کی تلاش ترک کر سکتا ہوں ، نہ ہی انہیں بھولنے کا حوصلہ ہے مجھ میں ۔"
یہ کہتے کہتے جوگی کی آواز بھرا گئی، اور بزرگ کی بھی آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے ۔رندھی ہوئی آواز میں بولے:۔" بس کرو بیٹا ، مجھے یقین آ گیا ہے تمہاری لگن کی سچائی پر، میں  دعا کرتا ہوں، کہ تمہاری تلاش کامیاب رہے ، اور تمہیں تمہارے دوست مل جائیں۔لیکن مشکل یہ ہے کہ تم ان کا نام و مقام تک نہیں جانتے ، پھر انہیں  ڈھونڈو گے کیسے؟"
جوگی:۔ " نہیں جانتا، کیسے ڈھونڈوں گا، مگر پھر بھی دل میں ایک آس ہے کہ کبھی نہ کبھی ان سے ایک بار پھر ضرور مل پاؤں گا۔ آپ مجھے اللہ کے نیک بندے اور بزرگ لگتے ہیں ، خدا کیلئے آپ ہی میری کچھ مدد کیجئے۔"
بزرگ :۔ " ارے کیسی باتیں کرتے ہو  ،  میں نے تو ساری زندگی فاعلاتن ،فعلان،  فاعلات   کرتے گزاری ہے ، اس کے سوا کوئی کام نہیں کیا۔  میں تو خود اللہ سے امید لگائے جنگل میں بیٹھا ہوں۔میں بھلا کیسے نیک اور بزرگ ہو گیا ،"
جوگی:۔ " بزرگو!! کیا اب آپ منتیں کروانا چاہتے ہیں؟ ، اگر آپ بزرگ نہیں  ہیں تو یہ بال کیا دھوپ میں لیٹے لیٹے سفید کیے ہیں؟۔  میری کچھ مدد کریں۔"
بزرگ :۔ "نالائق ، بد اخلاق ، کسی نے بزرگوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں سکھائی کیا ،  پتا نہیں کہاں سے آ جاتے ہیں منہ اٹھا کے، چلو دفع ہو جاؤ ابھی اور اسی وقت یہاں سے ۔"
جوگی بزرگ کے پاؤں پر گر پڑا اور گھگھیا کے بولا:۔ "معاف کر دیں عالی جاہ! ، ساری زندگی انسانوں سے دور  ویرانوں میں گزری ہے ، اور کچھ زندگی کی صعوبتوں نے زبان تلخ کر دی ہے ، اس لیے نادانستگی میں غلطی ہو گئی ۔ آپ کو غالبؔ کا واسطہ مجھے معاف کر دیں اور میری  کچھ مدد کریں۔"
غالبؔ کا نام سنتے ہی بزرگ کچھ نرم پڑ گئے اور بولے:۔ "اچھا ٹھیک ہے ٹھیک ہے، اب تم آرام سے سو جاؤ، صبح اللہ کچھ نہ کچھ سبب بنا دے گا۔"
مگر نیند کیا خاک آنی تھی،  سونے کیلئے لیٹا تو بزرگ نے دوبارہ دیوانِ غالبؔ کھول کر اس کی تلاوت شروع کر دی ، نتیجتاً جوگی ساری رات بیٹھ کے سر دھنتا رہا۔
جب صبح کا اجالا پھیل گیا  اوربلبلیں سن کر یہ نالے غزل خواں ہو گئیں تو جوگی نے بزرگ کو ان کا وعدہ یاد دلایا ۔ بزرگ نے اثبات میں سر ہلایا ، جوگی کو خاموش رہنے کی ہدایت کر کے  سر جھکا کر مراقبے میں ڈبکیاں لگانے لگے ۔ کافی دیر بعد مراقبے سے سر اٹھا یا اور بولے:۔ " تمہارے لیے ایک عجیب و غریب خبر ہے "
جوگی بے تابی سے بولا :۔ "جی جناب  میں جانتا  ہوں غریب ہی ہوگی ، زرداری کی صدارت میں جہاں انسان ِ خطِ غربت سے نیچے  سسک رہے ہیں ، وہاں خبر کی کیا مجال کہ امیر ہوتی پھرے ، بہرحال عجیب ہو یا غریب ، جلدی بتائیے کیا خبر ہے؟"
بزرگ:۔ "وہ جنہیں تم ہنس راج سمجھتے رہے اور انہیں بہن بھائی بنا لیا ، وہ سچ مچ کےراج  ہنس  نہیں  تھے۔"
یہ سن کر جوگی ہنس پڑا اور بولا:۔ " بابا جی، مخول نہ کرو،  اگر وہ سچ مچ کے راج ہنس نہیں  تھے تو کیا پلاسٹک کے تھے؟ "
بزرگ:۔ " ناہنجار ! دھیان سے پہلے پوری بات تو سن لیا کرو، بیچ میں ٹانگ اڑا دیتے ہو۔ وہ جسے تم نے بہن بنایا تھا اور اس کا نام ہیر رکھا تھا ، وہ کوئی راج ہنسنی نہیں بلکہ پریوں کی شہزادی ہے ، اور وہ جو تمہارا دوست بنا تھا ، وہ راج ہنس نہیں بلکہ اصل میں  ایک انسان ہے۔"
جوگی:۔ " بابا جی ! میں  آپ سے آخری بار کہتا ہوں  ہوں ، کہ  یہ بچوں کی کہانیاں کسی اور کو سنائیے گا  ، مجھ سے ڈرامے بازی نہ کریں ، اور اصل بات بتائیں۔"
یہ سن کر بزرگ غصے سے لا ل نیلے پیلے اور زرد ہو گئے اور جلال میں آ کر جوگی کو دفع ہو جانے کا آرڈر دیا۔ مگر جوگی بھی اپنی صفت میں ایک ڈھیٹ تھا،  بھلا کہاں ماننے والا تھا۔
 آخر کار  تنگ آ کر بزرگ نے دیوانِ غالبؔ پر ہاتھ رکھ کے کہا ، کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں سچ کہہ رہا ہوں ، سچ کے سوا کچھ نہیں کہہ رہا ۔ تب جوگی کو یقین آیا ، مگر حیران ہو کر بولا:۔" اگر ہیر ایک پری ہے اور رانجھا انسان ، تو پھر وہ راج ہنس کیسے بنے ہوئے تھے؟؟اور ایک دوسرے کو ملے کیسے؟؟"
بزرگ اپنا ماتھا پیٹ کر بولے:۔ "نجانے کس الو کی دم سے پالا پڑ گیا ہے میرا بھی۔ ارے او عقل کے دشمن ! کانوں  کی بوہے باریاں  کھول کے سنو! اس پری کا نام ہیر نہیں ، بلکہ اس کا نام شہزادی بدر منیر ہے ۔ وہ پرستان کی شہزادی ہے ۔ اور رانجھے کا نام رانجھا نہیں بلکہ گلفام ہے ۔ اور وہ ایک عام انسان ہے ۔ دونوں ہی مرزا غالبؔ کے دیوانے اور مرید ہیں  ۔ تمہیں  تو پتا ہوگا کہ یومِ غالبؔ کے موقع پر ہر سال مشاعرہ  منعقد ہوتا ہے ۔ ایک بار ایسا ہوا کہ شہزادی بدر منیر انسانی صورت میں مشاعرے میں  شریک ہوئی ، اسی مشاعرے میں گلفام بھی موجود تھا ،اور مرزا غالبؔ بھی تیر کمان ہاتھ میں سنبھالے تاک میں بیٹھے تھے۔"
جوگی:۔ "خدا کا خوف کریں بابا جی ۔ سپہ گری مرزا غالبؔ کے آبا کا پیشہ تھا ، ان  کا نہیں ۔ ان کا پیشہ تو قرض لینا  تھا۔کیا وفات کے بعد انہیں اس خاندانی پیشے کا خیال آیا، جواب تیر کمان ہاتھ میں پکڑ کے بیٹھے رہتے ہیں؟"
بزرگ کا چہرہ اس بات پر فلیش لائٹ کی طرح پھر رنگ برنگ ہو گیا ۔ یہ دیکھ کر جوگی کی رگ  ِ خرافت پھر پھڑکی:۔
"بابا جی ! چھوٹی سی بات ہی تو پوچھی ہے ، کوئی دیپک راگ تو نہیں سنایا  جو آپ بار بار یوں دیے کی طرح جلنے بجھنے لگ جاتے ہیں  ۔ ویسے بھی میرا اعتراض کوئی غلط تو نہیں تھا۔آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے مرزا غالبؔ کے بارے میں ۔"
اب تو بزرگ کا غصہ جے ایف تھنڈر کی رفتار سے آسمان کو ہاتھ لگانے چل پڑا۔ آگ بگولہ ہو کر بولے :۔ "اچھا تو اب مجھے تم جیسے بچے آ کے غالبؔ  پڑھائیں گے۔؟ جب تم الف انار بے بکری والا قاعدہ پڑھتے تھے ، تب میں نے دیوانِ غالبؔ نسخہ اردو ویب  ترتیب دیا تھا۔ اور تم کیا ہو کہ غالبؔ  کے بارے میں میری  غلط فہمی درست    کرنے چلے ہو۔؟
جوگی:۔ " میں سوا سات جماعتیں پاس ہوں ،اور ڈائریکٹ قبلہ غالبؔ کا شاگرد ہوں، کوئی مذاق نہیں ہوں ۔"
یہ سن کر بزرگ  اٹھے  اور کونے میں پڑے ایک سالخوردہ  سے لکڑی کے صندوق کی طرف بڑھ گئے۔ جوگی ذرا گھبرا گیا کہ کہیں  AK47 نکال کر مجھ پر گولی ہی نہ چلا دیں، دل ہی دل میں جل تو جلال تو آئی بلا ٹال تو کا ورد کرنے لگا۔ مگر بزرگ صندوق کھول کر اس میں کچھ ڈھونڈنے لگے۔ پھر کچھ دیر بعد ایک پرانا سا کاغذ ہاتھ میں لیے آ گئے ، اور تپائی پر کاغذ کھول کے پھیلا دیا۔  بولے :۔ 
" یہ دیکھو ! یہ ہے میرا شجرہ نسب ،  اس میں میرے نام سے چار نام اوپر جو پانچواں نام ہے یہ میرے پڑدادا کے دادا تھے، اور یہ گلی قاسم جان سے اکثر گزرتے تھے، کئی بار گزرتے ہوئے مرزا غالبؔ سے سامنا ہوا تو سلام بھی کیا ، اور مرزا غالبؔ نے کمال مہربانی سے نہایت خندہ پیشانی سے وعلیکم السلام بھی کہا تھا۔  اب معلوم ہوا؟ کہ  کس طرح یہ روایات  مجھ تک سینہ بسینہ  پہنچی ہیں ، وہ کیا خوب کہا ہے ، مرزا غالبؔ  سرکار نے :۔
سلطنت دست بدست آئی ہے
جام ِ مے ، خاتم جمشید نہیں "
پھر دونوں ہی بے اختیاری کے عالم میں  اس شعر پر سر دھننے لگے۔ جب ذرا نشہ کم ہوا توجوگی کا پرنالہ ابھی تک وہیں تھا:۔  " دیوان غالبؔ  ترتیب دینے کا یہ مطلب تو نہیں  کہ آپ کا ہر مفروضہ   درست مان لیا جائے ، آپ کے پڑدادا نواب مصطفے خان شیفتہ اور پڑنانا  مولانا الطاف حسین حالی  بھی ہوتے تب بھی میں  تیر کمان کا مرزا غالبؔ کے ہاتھ میں ہونا   کیونکر مانوں ۔؟"
بزرگ :۔ (طنزیہ لہجے میں)"کبھی  یونانی دیومالا  پڑھنی نصیب ہوئی ہو تی تو تمہیں پتا ہوتا کہ اس میں ایک دیوتاہے  جس نے ایک چڈی پہنی ہوتی ہے اور ہاتھ میں تیر کمان لیے ہوتا ہے ۔"
جوگی:۔(بات کاٹ کر) " آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ نہ صرف یونانی  ، مصری اور ہندی دیومالا بلکہ کوہ قاف کی جن مالا سے بھی اچھی خاصی سلام دعا ہے خاکسار کی ، اور وہ جو دیوتا پیمپر باندھے اور تیر کمان  ہاتھ میں لیے ساری دنیا کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو خجل خوار کرتا پھرتا ہے ، اس کا نام کیو پڈ ہے اور وہ محبت کا  دیوتا کہلاتا ہے۔ مگر سوئی ابھی تک وہیں اٹکی ہے ۔ کہ اس تیر کمان کا مرزا غالبؔ  کے ہاتھ میں آنا کیا معاملہ ہے۔؟؟"
بزرگ:۔" افوہ ! میں بھی کس پاگل سے مغز ماری کر رہا ہوں۔ خیر سنو! یہ دلی شہر کی بات ہو رہی ہے ، خواجہ نظام الدین اولیا ؒ  کا دلی ،  جنہوں نے  ہندوستان کے بادشاہ محمد شاہ تغلق  کو بھی اس کے دارلحکومت میں"ہنوز دلی دور است" کہہ کر  نہیں گھسنے دیا تھا ، وہ کہاں اس کیوپڈ  شیوپڈ کو دلی کے پاس پھٹکنے دیتے ہیں بھلا ۔  اس لیے  دلی کیلئے اس تیر کمان کو سنبھالنے کی ذمہ داری انہوں نے مرزا غالبؔ کو سونپی  ہوئی ہے ،   نہ صرف دلی  بلکہ ساری دنیا میں جہاں جہاں بھی قتیلانِ غالبؔ ، دیوانگانِ غالبؔ، مریدانِ غالبؔ ، اور شاگردانِ غالبؔ بستے ہیں ، ان کے  دلی معاملات ، اور محبتوں کی دیکھ بھال بھی مرزا غالبؔ  بنفس ِ نفیس خود کرتے ہیں۔      "
یہ سن کر جوگی خوشی سے اچھل پڑا:۔ " اوہ ۔۔۔۔ اوہ۔۔۔ ۔ واقعی ۔۔۔۔ اب میں سمجھا ۔۔۔۔کہ قتیلانِ غالبؔ  کی محبتوں میں کامیابی کا تناسب اتنا زیادہ کیوں ہے ۔  واہ ۔۔۔۔واہ ۔۔۔۔۔ کیا بات ہے میرے استاد محترم کی ۔"
بزرگ:۔" کامیاب ہو یا  ناکام ، یہ بات تو اظہر من الشمس ہے  کہ قتیلانِ غالبؔ  ایک ہی محبت کرتے ہیں ، اور پھر تا زندگی اسےنبھاتے ہیں ،   شادی کے بعد اچھے زن مرید  ثابت ہوتے ہیں ، کوئی مانے یا نہ مانے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
جوگی نے بیچ میں بات کاٹ دی:۔ " اچھا اب یہ بات تو واضح ہو گئی، اب آگے  بتائیں۔"
بزرگ:۔ " ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ  مرزا غالبؔ بھی تیر کمان ہاتھ میں سنبھالے تاک میں بیٹھے تھے۔ جب شہزادی بدرمنیر کی غزل پڑھنے کی باری آئی تو گلفام کے دل پر جیسےپن، تھرمل، شمسی  اور  ایٹمی بجلی گھر  گر پڑے ، بدر منیر نے جیسے ہی کہا :۔" عرض کیا ہے" مرزا غالبؔ نے  اس کے کندھے پر کمان رکھ کے چلہ کھینچا اور گلفام کو تیر تاک مارا ۔  وہ خود بھی مغل شہزادہ تھا ، اور حسن ووجاہت  میں کسی سے کم نہیں تھا، اس نے زندگی میں ایک سےبڑھ کر  ایک حسین دیکھے تھے ، مگر کبھی کسی کو گھاس ڈالنے کے قابل نہ سمجھا تھا ، لیکن شہزادی بدر منیر کا ملکوتی حسن نظر انداز کرنا کسی دل گردے ، جگر ، پھیپھڑے، معدے ، مثانے والے کے بس کی بات نہ تھی ،یوں   یہ حور شمائل  پہلی نظر میں ہی گلفام کے دل پر قابض ہو گئی  ۔ جتنی دیر بدرمنیر غزل پڑھتی رہی ، گلفام کو دنیا و مافیہا کی خبر نہ تھی ۔ وہ غزل کیا سنتا وہ تو اس سراپا غزل کو پڑھنے اور دل میں اتارنے میں محو تھا ، جسے مرزا غالبؔ نے کبھی شائع ہی نہ کیا تھا ۔ غزل ختم ہوئی اور داد و تحسین کا غلغلہ اٹھا تو گلفام کو حقیقت کی دنیا میں ناچار لوٹنا پڑا ، اس کے دماغ میں شیطانی چرخے گھومنے لگے اور وہ بدرمنیر سے بات کرنے کیلئے  بہانے اور ترکیبیں سوچنے لگا۔ 
اتنا بتانے کے بعد بزرگ ذرا سانس لینے کو رکے ، تو جوگی سے رہا نہ گیا ۔ :۔ "با با جی ! آگے بھی تو بتائیں کہ پھر کیا ہوا ، جلدی بتائیں ۔"
بزرگ :۔ " اوہو ! بتاتا ہوں  بھئی  بتاتا ہوں  ذرا دم تو لینے دو۔"
جوگی :۔ "آپ کے دم لینے کے چکر میں میرا دم نکلا جا رہا ہے ۔ "
بزرگ نے ایک پیالہ عرق گلاب پیا ، ایک چمچ شہد چاٹا اور پھر گویا ہوئے:۔" آخر گلفام کے دماغ میں ایک ترکیب آئی ، اور اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ، اس پر عمل بھی کر ڈالا ۔ جانتے ہو اس نے کیا کیا؟"
پھر خود ہی بولے
"اس نے بدر منیر کی غزل پر تنقید کر دی ، اور اس میں سے دو چار امریکن سنڈیاں ، اور ایک دو گلابی سنڈیاں نکال کے رکھ دیں ۔"
جوگی ہڑبڑا گیا :۔ "یہ امریکن اور گلابی سنڈیاں کہاں سے نکل آئیں ؟ غزل تھی  یا کپاس کا کھیت؟"
بزرگ اس دخل در نامعقولات  پر چیں  بجبیں ہوئے ، اور بولے :۔ "میرا بھی کس عقل کے دشمن سے پالا پڑ گیا    ہے ،  دیوانِ غالبؔ کو تو ایسے ہاتھ  لگا رہے تھے جیسے  میر مہدی مجروح ؔ تم  ہو، مگر اتنی سی بات نہیں سمجھ پائے ۔ میرا مطلب تھا کہ گلفام نے بدرمنیر کی غزل میں کیڑے نکالے ۔"
جوگی (کھسیا کر):۔ "ہی ہی ہی  ۔اوہ اچھا ۔۔۔۔۔ اب سمجھا۔"
بزرگ:۔ ( کسی قدر چونک کر ) تمہاری یہ کھسیانی ہنسی سن کر مجھے مقدس بٹیا یاد آ گئی ، تم شاید جانتے ہو گے اسے؟ ، فرنگستان میں رہتی ہے ، بہت ہی نیک بخت  بچی ہے ،   بچپناتو اس کا  ابھی تک نہیں  گیا،  بچوں کے ساتھ مل کر چھلانگیں اور  کدکڑے لگاتی پھرتی ہے ،کل مجھے طلسمی الو نے خبر دی کہ امرود توڑنے کیلئے  درخت پہ چڑھ رہی تھی ،  پیر پھسلا اور نیچے آ گری ، ٹخنے نے اس کی حرکتوں سے تنگ آ کراپنی جگہ چھوڑ دی ، اب پیروں پر کرچز لگے ہیں ، مگر شیطان کی نانی  پھر بھی شرارتوں سے  باز نہیں آتی ۔"
جوگی :۔ (سر پکڑ کے) اوہو !! بابا جی آپ پٹری پر آئیں سیدھی طرح ، اور یہ مقدس نامہ پھر کبھی سہی ، ابھی مجھے  شہزادی بدرمنیر اور گلفام کا قصہ سنائیں ۔"
بزرگ:۔  ہاں تو میں کہہ  رہا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہرطرف سے اٹھتی واہ واہ کی دے دنا دن  میں اچانک جو ایک جانب سے یہ تنقید  کا ڈونگا آ لگا تو بدرمنیر کو بہت غصہ آیا ، جی میں آیا کہ اس کمبخت کو تو جلا کے راکھ کر دے یا مکھی بنا کے اڑا دے ، جو خوامخواہ مولانا حالی کا گدی نشین  بننے کی کوششوں میں ہے ، ا ُدھر مرزا غالبؔ  نے بھی کمان میں ایک تیر چڑھایا ، اور چلہ کھینچنے لگے۔ ۔۔۔ مگر پھر شاید یہ سوچ کر رک گئے کہ عورت ذات ہے ، اور  ہے بھی اپنی بیٹی جیسی اور خاص  مریدنی، اس لیے وہ کوئی اور طریقہ سوچنے لگے۔
اتنی دیر میں  بدر منیر  نے  جدھر سے تنقید نازل ہوئی تھی اس طرف جو سر کو گھمایا ، تو ایک خوبصورت گھبرو جوان پر نظر پڑی ،  دل نے فورا ً  مکھی بنانے کے ارادے کو کینسل کر دیا ، مگر دماغ ڈٹ گیا کہ اسے سبق سکھانا ضروری ہے۔بدر منیر نے اسےکچھ کھوٹی کھوٹی اور کچھ کھری کھری سنائیں ، مگر گلفام بھلا کہاں یہ ہمکلام ہونے کا نادر موقع ہاتھ سے جانے دیتا، اس نے بھی جی کڑا کر کے دو بدو جواب دیا۔مگر اس کی دفاعی   حیثیت شہزادی بدرمنیر کے سامنے ایسے تھی جیسے نادر شاہ درانی کے سامنے محمد شاہ رنگیلا کی افواج کی تھی ۔ ہر چند کہ گلفام کی  رگوں میں بھی  مغل خون دوڑتا پھرتا تھا ، مگر بد قسمتی سے بدرمنیر اس کی قائل نہ تھی ۔ اس لیے ناچار آنکھ سے دو چار قطرے بغیر "سر زیر بارِ منتِ ڈراپرکیے " ٹپکا نے پڑے ۔ یہ دیکھ کر شہزادی بدرمنیر بھی کچھ پسیج سی گئی ۔ چونکہ غالبؔ کی پیش گوئی کو 186 سال گزر چکے تھے اس لیے جدید زمانے کی تقاضوں کے مطابق حسن سادگی و پرکاری ، بے خودی و ہشیاری میں یکتا ہونے کے ساتھ ساتھ سب کچھ جانتے ہوئے جرات آزما تھا ۔بدرمنیر نے اب تک بدصورت  جن اور بے ڈھنگے دیو ہی دیکھے تھے ، گلفام کی مردانہ وجاہت  آسانی سے نظر انداز کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔اب معاملہ ایک طرف غرور عزو ناز ، اور دوسری طرف حجابِ پاس ِ وضع والا ہو چکا تھا۔
   مرزا غالب ؔ تیر ترکش میں رکھ کے کمان کندھے پر واپس لٹکا کے کوئی   اہنسائی  طریقہ سوچنے میں لگ گئے ۔کہ ان کو  بیٹی پر  تیر بھی نہ چلانا پڑے اور کام بھی تیر والا ہو جائے  ۔ 
 اب گلفام ہر جمعرات کو مزار غالبؔ پہنچ جاتا ، اور  بدرمنیربھی  اکثر مزار غالبؔ پر آتی جاتی رہتی  ،  گلفام کو  دیکھ کر یوں انجان بن جاتی گویا وہ لوح جہاں پہ حرفِ مکرر ہو،چار سال تک گلفام بے چارا جوتیاں چٹخاتا رہا ، اتنی تو اسے نوکری کی تلاش میں بھی جوتیاں نہیں چٹخانی پڑی تھیں ،اب بھلا دل کو دل سے کیسے راہ نہ ہوتی ، بدر منیر کے سینے میں چائینہ کا نہیں  بلکہ اصلی دل لگا ہوا تھا۔  محبت نفوذ کر ہی گئی ۔ اسی بات پر محترمہ شلپا سیٹھی اپنی کتاب "دھڑکن" میں کیا خوب فرماتی ہیں :۔ نہ ، نہ کرتے پیار، ہائے میں کر گئی ، کر گئی، کر گئی ۔ تو نے کیا اعتبار ررررر ہائے میں مر گئی مر گئی  مر گئی ۔
مرزا غالبؔ  نے بھی اطمینان  کا سانس لیا اور   اپنے داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے  بدرمنیر کے دل پر سرخ روشنائی  سے میم  لکھ دیا۔
 شہزادی بدرمنیر دل کے ہاتھوں ہار گئی ، اور اقرار کر ہی لیا ۔ پھر وہی ہوا جو اکثر ہوتا ہے ، یعنی نامہ و پیام ہونے لگے ،دونوں طرف یہ حال تھا کہ :۔
 قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں 
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں۔
اور میں کیا تمہیں ان کی نجی باتیں  بتاؤں،قصہ مختصر یہ کہ      2006  ء کا موسم خزاں تو جیسے تیسے گزر ہی گیا ، مگر دسمبر آتے ہی گلفام ابرار الحق بن گیا :۔ بھیگا بھیگا سا یہ دسمبر ہے ، بھیگی بھیگی سی تنہائی ہے ۔۔۔۔ ان کتابوں میں جی نہیں لگتا ، ہم کو سجنی کی یاد آئی ہے ۔ ایک دن رشید صاحب نے جو جوان بیٹے کو یوں گنگناتے سنا ، تو سمجھ گئے ۔ مگر  باپ والی وضع داری آڑے آتی تھی، اس لیے براہ راست کچھ نہ پوچھا کہ بیٹا سجنی کا پتہ ہی بتا دو تاکہ ہم سلسلہ جنبانی شروع کریں ۔ دسمبر بھی گزر گیا، اور 2007 ء آن پہنچا ، جنوری کے چھوٹے چھوٹے دن اور لمبی لمبی راتیں ، گلفام کا وضع احتیاط سے دم رکنے لگا کہ برسوں سے چاک گریباں نہ کیا تھا ۔ آخر جی کڑا کر کے ابا جان سے کہہ ہی دیا :۔ راتاں ہویاں وڈیاں ، سجن بن۔۔ برہوں تڑانواں گڈیاں  سجن بن۔ مگر باپ آخر باپ ہوتے ہیں ، اگر باپوں سے ہی کام چل جاتا تو بھلا اللہ تعالیٰ ماں جیسا اوتار زمین پر کیوں اتارتا۔ ادھر سے شہزادی صاحبہ کو بھی ہجرگراں تھا ، اور شبہائے فراق میں اکثر اپنی گہری سہیلی وزیر زادی کو مخاطب کر کے گنگنایا کرتیں :۔ "سہیلی رے سہیلی ، کیا ہے یہ پہیلی۔۔۔۔ ایسا ویسا کچھ کیوں ہوتا ہے سہیلی ۔ میری انگڑائیاں ، میری تنہائیاں ، کتنی اکیلی ۔۔۔۔ سہیلی ری سہیلی۔۔۔۔۔" سہیلی بھلا کونسا علامہ اقبال  تھی ، کیا جواب دیتی، البتہ  دونوں سر جوڑ کر اس بات پہ گھنٹوں کھی کھی کھی کھی کیا کرتیں ۔ اللہ جانے کیا ماجرا تھا۔
اسی شرما شرمی میں فروری اور مارچ بھی گزر گئے ،میں ہوتا تو  اتنے عرصے میں  کے ٹو ، ماؤنٹ ایورسٹ، اور کنچن چنگا  کو کئی بار سر کر چکا ہوتامگراس سے یہ  زلف نہ سر ہونی تھی  نہ ہوئی ، آخر گلفام میاں نے سپریم  کورٹ میں رٹ دائر کر ہی دی:۔ "مائے نی میں کنوں آکھاں، درد وچھوڑے دا حال  ۔"
 اماں جان نے کمال تمکنت سے فرمایا :۔ "دکھاں دی روٹی، سولاں داسالن آہیں دا بالن بال ۔"
گلفام :۔ " لو ہم مریض عشق کے بیمار دار ہیں
اچھا اگر نہ ہوتو مسیحا کا کیا علاج؟"
 اماں جان نے پوچھا :۔" بے تابیوں کا کیا سبب؟ کیا علاج؟"
 فریادی بولا :۔ "کہے حسین ؒ فقیر نمانڑا ۔۔۔۔ شوہ ملے تاں  تھیواں  نہال ۔"
چیف جسٹس صاحب نے اس بات کا فوری نوٹس لیا ، اور فرمایا :۔ "انصاف ہوگا، ضرور ہوگا۔"
اپریل جنبانیندن میں گزر گیا ۔ ظالم سماج کی مجال نہیں تھی کہ بیچ  میں ٹانگ اڑاتا، 17 مئی وصل ڈے  مقرر ہوا۔مئی کا مہینہ آتے ہی لڑکیوں ، بالیوں نے ڈھولک رکھ لی اور حلوائیوں نے مٹھائیاں تیار کرنا شروع کر دیں، ٹینٹ اور لائٹنگ والوں کو بھی آرڈر بک کرا دئیے گئے  ۔  17 مئی  2007ء   کا دن آن پہنچا اور یوں گلفام کا بھی بینڈ بج گیا ۔    
مگر جیسا کہ اب تک ہر کہانی میں ہوتا آیا ہے کہ کہانی کے آخر میں "ان کی دھوم دھام سے شادی ہو گئی اور وہ ہنسی خوشی  رہنے لگے"اس  کہانی کا اختتام یہاں نہیں ہوتا۔ بدرمنیر اور گلفام کی شادی ہو گئی، اور وہ ہنسی خوشی بھی رہنے لگے، ماشاءاللہ اب ان کے آنگن میں 2 ننھی پریوں کی چہکاریں ، اور قلقاریاں گونجتی ہیں ۔ (اللہ ان کی خوشیوں کو سدا قائم و دائم رکھے، اور ان کی آپسی محبت دن دوگنی رات چوگنی ہوتی رہے ، ان کے پیار کو کسی بد نظر کی نظر نہ لگے)۔ اب وہ جنت نظیر ملک پاکستان میں رہتے ہیں۔ 
بزرگ سناتے سناتے رک گئے ، مگر جوگی تو ویسے ہی منہ کھولے محویت سے بیٹھا تھا ، جیسے شہزادی بدرمنیر اور گلفام کے ولیمہ میں بریانی اڑانے میں  مصروف ہو۔ بزرگ نے جوگی کو جھنجھوڑا مگر جوگی کی محویت نہ ٹوٹی ،  ناچار بزرگ نے پانی سے بھرا لوٹا جوگی پر انڈیل دیا ۔
 مگر یہ کیا۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بجائے جوگی کی آنکھ کھلنے کے میری آنکھ کھل گئی۔۔۔۔
 اور میں نے اماں کو پانی کا خالی جگ لیے  اپنے سر پر کھڑا دیکھا ۔

ہاں تو میں کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ۔۔۔۔۔۔۔۔  مغل بچے عجیب ہوتے ہیں ، جس پہ مرتے ہیں ، اسے مار رکھتے ہیں      

0 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما