Pak Urdu Installer

Friday, 18 April 2014

الف نون 4(حصہ اول)۔

0 آرا

نیکسٹ ایڈونچر


نون نیلے  خواب کا آخری ٹوٹا تیسری بار سلو موشن میں دیکھ رہا تھا ۔ جب الف  نے اس کی  خوابگاہ (بیٹھک)کا دروازہ  تقریباً  دھڑدھڑا یا  ۔پہلی  سے چھٹی  تک  تمام  حسوں  کی متفقہ  گواہی  سے  نون سمجھ گیا کہ الف  ہی ہوگا۔ اس لیے  کروٹ  بدلی ، تکیہ سر پہ  رکھااور   سلسلہ خواب وہیں سے جوڑنے کی کوشش کی، جہاں سے الف  نے رنگ میں بھنگ ڈالا تھا ۔ باہر کھڑاالف بھی نون کی رگ رگ سے واقف تھا کہ اب  نون سر پہ تکیہ رکھ چکا ہوگا ۔ اس لیے اگلے ہی لمحے جب  یہ گھر کا  بھیدی محاورے میں ترمیم  کی پیشگی اطلاع دئیے بغیر  لنکا کی بجائے  دروازہ ڈھانے  پہ تل گیا ۔تومجبوراً نون کو خواب  ملتوی  کر کے  دروازہ کھولنا ہی پڑا۔
رسمی  کلمات  کا تکلف  توہمیشہ  سے ان کے درمیان دو ملاؤں میں مرغی کی طرح  حرام تھا ۔  پھاڑ کھانے  والی نگاہوں  سے الف  کو گھورکرنون غرایا :۔ "سمجھ  نہیں آتا کہ  تو عادت سے مجبور ہے  یا  پھر  صرف  میرے  رنگ  میں بھنگ ڈالنے کو ثواب کا کام سمجھتا ہے؟"۔
الف  پر  نہ تو نون کی ملامتی  نظروں نے اثر کیا نہ ہی   طنزیہ  الفاظ نے ۔نہایت  ڈھٹائی سے دروازے کے بیچ  میں ایفل ٹاور کی طرح جمے  نون کو ایک  ہاتھ سے  ہٹا یا  اور دوسرے  ہاتھ سے  ماتھے پر آئی زلفیں سنوارتا ہوا اندر  گھس گیا ۔قارئین  میں  سے اکثر کنوارے ہیں اور جو نہیں ہیں وہ  کبھی نہ کبھی تو کنوارے  تھے ۔ اس لیے  نون کے کمرے کا نقشہ کھینچنا  محض  طوالت  کو زحمت دینا ہوگا ۔ کیونکہ  کنواروں کی خوابگاہوں  کے منظر چند جزوی  تبدیلیوں  کے علاوہ  تقریبا ً ایک  جیسے ہی ہوتے ہیں۔
نون وہیں  دروازے  میں کھڑے کھڑے پھر  غرایا :۔ "ذلت مآب  جناب  الف  (۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)صاحب کیا آپ اپنی اس یقینی  بے وقت آمد  کی شانِ نزول  بیان کریں  گے یا میں آپ کو دھکے  دے  کر  نکالنے کے  بعد  اپنا  سلسلہ خواب  دوبارہ  جوڑنے  کی سوچوں۔۔؟
الف  جوابھی تک  کمرے میں تشریف رکھنے  کے لائق  کوئی جگہ  ہی ڈھونڈ رہا تھا ۔  نون کی بات پر مڑا  اور  ایک  اچٹتی نگاہ  اس  کی مہاتما  بدھ  کی طرح باہر  کو نکلی ہوئی پسلیوں  پر  ڈالی  اوربولا:۔ " خواب  میں شاید  دبنگ 3  کی شوٹنگ ہو رہی تھی  ۔ لیکن  اب تو  کم از کم ان بے زبانوں کاپردہ رکھ لو ۔ اس سے پہلے  کہ   دیکھ کر کسی اور   کی  ہنسی نکل جائے بہتر یہی ہے  کہ قمیض پہن کر  شرافت سے میری بات سن لو "۔
نون  کچھ کھسیا سا گیا ، اور  قمیض   پہننے میں ہی عافیت جانی ۔مگر  ڈھونڈنے  کے باوجود  بھی قمیض  کہیں نہ ملی ۔  کافی تلاش  بسیار  کے بعد  جب  الف  کے نیچے سے  قمیض برآمد ہوئی تو پہننے لائق نہ رہ گئی تھی۔ مجبوراً نون نے ایک چادر احرام کی طرح اپنے اوپر  اوڑھ لی ، اور اطمینان  سے بیٹھ کر  کان کھجاتے ہوئے  بولا :۔ " اگر تو ناشتے  کی امید  دل میں  چھپائے بیٹھا ہے  تو  یہ حسرت دل سے نکال  دے ، کیونکہ  آج میں  خود بھوک ہڑتال پر ہوں ۔ "
الف  نے جیسے نون کی بات سنی ان سنی کر دی اور بولا :۔اچھا  یہ جو  خواب  تو  دیکھ رہا  تھا ۔۔۔وہی  خواب تھا ناں  ۔۔۔۔  وہ  ۔۔۔۔ وینا ملک کے غسلِ  صحت  والا۔۔۔۔؟؟؟
نون کے رونگٹے کھڑے ہو گئے :۔ "اوئے  یہ تو دماغ میں  کب سے جھانکنے لگا۔۔۔؟؟؟  سچ  بتا ۔۔۔؟؟ تمہیں  اور کیا کیا معلوم ہوا  ہے۔۔۔؟ میرے دماغ  کے نہاں  خانوں  میں تو بہت کچھ ناقابل  تحریر اور ناقابلِ  تقریر  خناس  چھپا ہے ۔ کہیں وہ سب کچھ  تم نے جان تو نہیں لیا "۔
الف نے  کالر  سے  نادیدہ مٹی جھاڑی  اور گردن اکڑا کے بولا:۔ "مجھ  میں بہت سی شکتیاں(ماورائی طاقتیں)پوشیدہ ہیں۔ اور عیاں  ہونے کو بے تاب ہیں ۔  مگر  مسئلہ  ریپوٹیشن کا ہے ۔ محلے میں تو خیر  میری پہلے بھی  عزت نہیں تھی ۔ لیکن  تیری  ناکام  عشقیہ  وارداتوں کی وجہ  سےلوگ اب مجھے بھی   مشکوک نظروں سے گھورنے لگے   ہیں۔۔۔ (کھنکھارتے ہوئے )البتہ  اگر تم  میرا ساتھ دو  تو ہم  محلے کی ساری  چاچیوں ماسیوں  کا اعتماد  نہ صرف جیت سکتے ہیں ، بلکہ محلے  کے سب سے باعزت  افراد کے درجے  پر  بھی  بیک قلم  فائز  ہوسکتے ہیں۔"
الف کی تقریر  کا ہمیشہ کی طرح نون پر خاطر خواہ  اثر ہوا ۔  تھوک نگلتے  ہوئے  بولا:۔"یار تو  سچ کہہ رہا ہے  ناں۔۔۔؟؟کہیں مجھ  حرماں  نصیب کا  مذاق تو نہیں بنانے  آیا ۔۔۔؟؟
الف  جو کنکھیوں سے  نون  کے رد عمل  کا  بغور  جائزہ  لے رہا تھا ۔  نو ن کو مائل  بہ آمادگی پا کر  ایک دم ٹون بدل لی :۔ "ٹھیک ہے یار اگر  تمہیں   بھی مجھ پر یقین نہیں ہے  تو کوئی بات نہیں۔ میں نےتو   بس اول خویش بعد  درویش   پر عمل  کرنے کا سوچا تھا  کیونکہ  علم بغیر  عمل کس کام کا۔ ویسے میری پوشیدہ صلاحیتوں کا ایک ہلکا سا  ثبوت تو تم نے دیکھ ہی لیا ہے ۔(ٹانگ  پہ ٹانگ رکھ کے ) انشاء اللہ اب دنیا بھی دیکھ ہی لے گی ۔ اگر  تم  ساتھ نہیں دینا  چاہتے تو کوئی بات نہیں، میں کسی اور کو اپنے ساتھ  شامل کر لیتا ہوں ۔"
نون نے لپک  کر الف کا گھٹنا پکڑ  لیا :۔ " انسان بن یار ۔۔۔۔ میں نے بھلا کب انکار کیا تمہارا ساتھ دینے سے ۔۔۔  خیر یہ باتیں تو ہوتی ہی رہیں گی  ، چل  ابھی ناشتہ  کرتے ہیں۔ "
الف  نےفرمانبرداری  سے  اثبات میں سر ہلا دیا   ۔مگر  چند لمحے بعد چونک کر  بولا :۔ "بی بی  جی  کی  سرائیکی  سروس  کی  اطلاع  کے  مطابق    خالہ اینڈ کمپنی تو  چشتیاں  گئے  ہوئے ہیں۔ اور تو  آج  گھر  میں اکیلا ہے ۔    اگر  ناشتے سے مراد  تیرے ہاتھ  کے پکے  ہوئےبنگلہ دیش  کے  نقشے  ہیں  جنہیں تم  نہایت  ڈھٹائی سے   پراٹھے کہا کرتے ہو ۔ تو  خدا  کے واسطے    میری  دوستی  کا اتنا کڑا امتحان مت لو۔  مجھے جان دینا  قبول ہے مگر تیرے  ہاتھ  کا بنا  ناشتہ  کرکے  میں اپنے  ایمان  میں  خلل  اندازی  پر  بالکل آمادہ  نہیں۔"
 نون  بے چارگی سے  دانت پیس کر رہ گیا ۔  جوابی حملے کیلئے ابھی اپنابھونپو نما    منہ کھولا ہی تھا کہ دروازے  پر  ہونے والی دستک  نے  اس  کی توجہ اپنی جانب کھنچ  لی ۔  پھاڑ  کھانے  والے انداز میں  چلایا  :۔ " کس  خبیث  کی شامت آئی ہے ۔۔۔؟ کون مردود ہے ۔۔۔؟؟
"میں ہوں ۔۔۔ زرینہ ۔۔۔۔" سریلی آواز  میں جواب  آیا ۔ نون کو  تو خیر  بوکھلا نے کی عادت  تھی  ۔اس  غیر  متوقع  جواب  پہ الف  بھی  حیران  رہ گیا۔
نون  نے  جلدی سے دیوار گیر  آئینے میں دیکھ کر  اپنا  ہئیر  سٹائل  درست کیا اور بوتھے  پہ  دنیا  جہان کی مسکینی  سجا کے دروازہ کھول دیا ۔  باہر  مس  محلہ  یعنی زرینہ  ہاتھ میں ٹرے  اٹھائے  کھڑی تھی ۔  چائے دانی اور مگ تو  نظر آ رہا تھا البتہ  بذریعہ خوشبو معلوم  پڑا  کہ ایک پلیٹ میں گاجر کا   حلوہ اورکڑھائی  شدہ  رومال  میں خستہ اور کرارے پراٹھے  رکھے  ہیں۔
نون  حیرت کے مارے  بے ہوش ہونے کو تھاکہ  آج اس  بلا نے  خانہ ِٔانوری کو اپنے نزول کیلئے کیسے منتخب کر لیا ۔  ہمسائی  ہونے کے ناطے  نون نے  پہلی لائن زرینہ  پر ہی ماری تھی ۔ لیکن مسلسل  انگوٹھا دیکھنے کے بعداس نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ان تلوں  میں تیل نہیں۔  لیکن حالات ِ حاضرہ شاہد تھے کہ ان تلوں میں اتنا تیل ہے  کہ سعودی عرب اور مصر  کا  ساراتیل دیکھتے ہی شرم سے سوکھ جائے ۔نون ابھی اسی حساب کتاب اور حیرت کے گرداب میں تھا  کہ  زرینہ  نے کھنکھار  کر  اسے  دنیائے حقیقت میں واپسی پر مجبور  کر دیا ۔  شرما  کے بولا :۔ "اوہ جی !اس تکلف کی کیا ضرورت تھی ۔ ویسے مجھے معلوم نہیں تھا کہ  آپ میرا اتنا خیال رکھتی ہیں۔"زرینہ  کا منہ کچھ اور بن گیا اور ابرو  چڑھا کے  بولی :۔ "آپ کی اطلاع  کیلئے عرض  ہے کہ  یہ سب تکلف آپ  جناب  کیلئے  نہیں ہے ۔راستے سے ہٹیے ! ہونہھ ۔"کھسیا کر  نون  نے دروازے سے ہٹ  کر زرینہ  کو راستہ دیا ،  اسے یقین تھا کہ اس عزت افزائی  پر  الف  غالب ؔ  کا کوئی  شعر  ضرور جھاڑے گا ،  شعر نہ سہی کم از کم  ایک  مصرعہ  بطور جگت  ضرور  نذر کرے گا ، مگر  الف بے چارہ  خود  حیرت کے بحر اوقیانوس میں غوطے کھا رہا تھا  ۔جسے  نون نے اوور ایکٹنگ قرار دیااور    دانت  کچکچا  کراس کے کان  میں  تقریباً سرگوشی کی :۔ " اوئے  کمینے !  ہم سے بالا  ہی بالا  ستاروں پہ کمند ڈال  دی ۔۔۔ "
الف کے فرشتوں کو بھی   اس کا  شانِ نزول اور   پسِ منظر  معلوم نہ   تھا کہ یہ ماجرا کیا ہے ،  وہ  بے چارہ  ٹُک ٹُک دیدم  ، دم نہ کشیدم کی تصویر  بنا  بیٹھا  تھا ۔
 اس پراسرارخاموشی  کو بالاخر  زرینہ  کی سریلی آواز نے توڑا :۔"آپ کیلئے ناشتہ  ۔۔۔ "درمیان سے الف نے بات اچک لی :۔ "جی  شکریہ  ۔۔۔ مگر  آپ  کو  کیسے معلوم ہے  کہ گاجر  کا  حلوہ میری پسندیدہ ڈش ہے ۔ ؟"
زرینہ  کے  چہرے پر  حیرت امڈ آئی :۔ "ارے ۔۔۔ کمال ہے ۔۔۔ مگر  آپ کو  کیسے پتا چل گیا  کہ میں گاجر  کا حلوہ ہی لائی ہوں ۔۔؟؟
الف دل  میں ہنسا  :۔  (عقل  کی اندھی ! تمہاری  نظر  میری  طوطے  جیسی  ناک  پہ پڑی  ہوتی  تو  یوں  حیرانی  سے  یہ  بچگانہ  سوال نہ کرتی ۔  خیر  اب  قدرت  نے مفت   ایڈورٹائزنگ  کا  موقع  دے دیا  ہے  تو الف باؤ  یہ ضائع  نہیں جانا چاہیے ۔)اپنے  انداز  میں مزید  بے نیازی  پیدا کر لی  اور گردن اکڑا کے بولا:۔ "محترمہ مجھے تو یہ بھی معلوم ہے کہ گاجر کے حلوے کے علاوہ آپ  کے ہاتھ کے  بنے لذیذ  پراٹھے اور سونف والی دودھ پتی بھی   اس  وقت آپ  کے ہاتھ میں موجود  ٹرے میں پوشیدہ ہیں۔قدرت  نے  آپ  کے  ہاتھ  میں جو ذائقہ دیا  ہے   وہ  مجھ  پرروزِ روشن  کی  طرح   عیاں ہے "
زرینہ  تو  اچھلتے اچھلتے رہ گئی ۔ جبکہ  نون ایک طرف کھڑا   پر سوچ  نظروں  سے حالات کا  بغور جائزہ  لے رہاتھا ۔ جیسے اس ڈرامے کی تہہ  تک پہنچنے  کی کوشش  میں ہو مگر  کوئی سرا ہاتھ نہ آ رہاہو۔
الف  کا  خطاب بدستور   جاری  تھا :۔ " صرف یہی نہیں میں تو  ہاتھ  دیکھ  کر   دل کا  حال  بھی بتا سکتا  ہوں ۔  ۔۔۔" اتنے  میں زرینہ  کی اماں  کی آواز  آئی :۔ اری  زرینہ  کہاں  گئی ۔  اپنے ابا  کو  ناشتا دے ۔۔۔" اور زرینہ  کو  نہ چاہتے  ہوئے  بھی جاناپڑا ورنہ  آثار  تو  ایسے  تھے  کہ خالی  برتن  ساتھ لے  کے ہی  ٹلے گی ۔ جاتے جاتے عقیدت  بھری    نظروں سے الف  کو  دیکھا  اورفریفتہ لہجے  میں بولی    :۔ " اچھا   الف  جی !! ابھی آپ  ناشتہ  کیجیئے  میں پھر  کبھی  اپنا ہاتھ دکھانے  آؤں
گی۔  (منہ  بنا کر )یہ میری  اماں بھی  گھڑی گھڑی  آسمان سر پہ اٹھا لیتی ہے" ۔

(جاری ہے)

ا الف اور نون کے کرتوت نما کارناموں کا اگلا حصہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

Thursday, 27 March 2014

احوالِ واقعی۔۔۔۔۔۔۔

0 آرا
ﻣَﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﺍﺫﯾّﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ
ﮐِﺴﯽ ﭘﺎﮔﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
ﻣُﺴﻠﺴﻞ ﮨﻨﺲ ﺭﮨﺎ ﮨُﻮﮞ
ﺁﺝ ﺻﺒﺢ ﻣَﯿﮟ ﻧﮯ
ﺭﻧﮕﯿﻦ ﭘﮭﻮﻟﺪﺍﺭ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﮩﻨﮯ
ﺍﭘﻨﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻏﺎﺯﮦ ﺗﮭﻮپے
ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺨﺮﮮ ﮐﯽ ﭘﺴﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺍﭘﻨﯽ ﺍُﻧﮕﻠﯽ ﭼﺒﮭﻮ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ
ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﻮ؟
ﺍُﺱ ﻧﮯ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﮭﭙﮍ ﺭﺳﯿﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ
ﺍُﺱ ﺗﮭﭙﮍ ﮐﯽ ﮔﻮﻧﺞ ﺳﮯ
ﭘﮭُﻮﭨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﮩﻘﮩﮯ
ﻣﯿﺮﺍ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﺴﺨﺮﺍ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ
ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﻧﮩﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ
ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺟﮭُﻮﻝ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ

Thursday, 20 March 2014

غالب نے کرکٹ میچ دیکھا

2 آرا


مرزا غالب نے کرکٹ میچ دیکھا


 مرزا غالبؔ اردو ہی نہیں بلکہ عالمی ادب کے بھی مرد ِ اول ہیں۔ ان کے دیوان کے ساتھ ساتھ ان کے خطوط بھی خاصے کی چیز ہیں لیکن یہ جو خط آپ پڑھیں گے، وہ غالبؔ نے تو نہیں لکھا۔ لیکن اگر وہ آج زندہ ہوتے اور کرکٹ کے میچ دیکھتے تو شاید اسی انداز میں لکھتے۔ یہ خط مرزا غالبؔ کے چہیتے شاگرد چھوٹے غالبؔ کےنام لکھا گیا

لو بھئی چھوٹے میاں!میں کل دلی واپس پہنچ گیا۔ تو اب تم میری غیر حاضری کی وجہ پوچھو۔ لاہور میں ایک شناسا ہیں، نام ہے ان کا مرزا افتخار افی۔ مرزا تو میں نے ان کو خطاب دیا ہے، وہ خود اپنے نام کے ساتھ مرزا نہیں لکھتے۔ بڑے بھلے انسان ہیں، میری مزاج پرسی کرتےرہتے ہیں۔ کل ہرکارہ آیا تو افتخار مرزا صاحب کا خط لایا۔ لکھتے ہیں کہ کچھ اصحاب میرے دیوان کو محفوظ کر رہے ہیں۔ کاروائی بڑی عجیب ہے، وہ یہ کہ میرا کلام ایک ڈبے میں کہ فرنگی کاریگروں نے نے نکالا ہےاور نام اس ڈبے کا کمپیوٹر رکھا ہے ، لکھ کر محفوظ کیا گیا ہے اور پھر میرا کلام دنیا کے کسی بھی حصہ میں ایسے ہی ڈبے کے ذریعے پڑھا جا سکے گا۔ یہاں آج کل سارے کام اسی سے ہوتے ہیں ۔ سبحان اللہ، نہ مشاعرے کی ضرورت اور نہ دیوان کی حاجت۔ ماشاء اللہ
اور سنو۔۔۔۔۔۔۔۔!!! افتخار مرزا نے فرمایا کہ یہاں آؤ اور خرچہ آمد و رفت کا پاؤ۔ خیر وہاں پہنچا تو قدم قدم پر عجائبات ِ قدرت۔۔
اب اصل قصہ سنو۔ افی میاں نے کہا کہ تم کو ایک تماشا دکھاؤں ۔ تمہیں تو پتا ہے، اس عمر میں طبیعت کھیل تماشوں کی طرف راغب نہیں ہوتی۔ اب کیونکر جاتامگر وہ مصر رہے، مجبوراً ساتھ ہو لیا۔ انہوں نے ایک عجیب سواری میں سوار کرایا۔ تانگے اور رتھ کے ساتھ کی کوئی سواری تھی لیکن چھت کے ساتھ۔۔ اگلے حصے کو دیکھا تو نہ بیل، نہ گھوڑا ، معلوم ہواکوئی معدنی سیال بھرواؤ اور سواری تیار ہے۔ پھر تیز رفتار ماشاءاللہ! "نے ہاتھ باگ پر ہے، نہ پا ہے رکاب میں"والا معاملہ لگتا تھا۔ بس یوں سمجھو اڑن کھٹولاہے۔ اب اس جگہ پہنچاجہاں تماشا ہوتا ہے۔ ایک بیضوی عمارت ہے، اونچائی دلی کے قلعے جتنی۔ اندر داخل ہوئے تو وہاں ایک عجیب سماں برپا ہے، رات کو دن بنادیا۔ دیکھا تو چاروں طرف اونچے ستونوں پر چراغ روشن ہیں ۔ یہ نہ معلوم ہو سکا کہ ان میں تیل کون ڈالتا ہے، کون روشن رکھتا ہے؟ اب جو نظر دوڑائی تو دیکھا کہ ایک میدان میں مخملی گھاس بچھی ہوئی ہے۔ اس سے زیادہ نہ دیکھ سکا، اس عمر میں بینائی کہاں تک ساتھ دےجب یہ مدعا افی مرزا کو سنایا تو انہوں نے دو عدد وزنی عدسے آنکھوں سے لگا دئیے۔ اب جو میدان میں دیکھتا ہوں تو دس بارہ نوجوان آپس میں بحث میں الجھےہوئے ہیں۔ ان کے لباس دیکھ کر یہ اندازہ نہ کر سکا کہ کون سا پہناوا ہے، غالباً پاجامے کے اوپر قمیص اور کرتے کی طرح کی کوئی چیز تھی جو پاجامے میں گھسی ہوئی تھی ۔ عجب نہیں کہ یہ نوجوان دلی کے شاہی خاندان سے ہوں لباس میں کئی رنگ برنگے پیوند تھے۔ "یا الٰہی !یہ ماجرا کیاہے؟ "خیراب دو نوجوان میدان میں ایک جانب سے داخل ہوئے۔ ان کے تیور بتارہے تھے کہ اس بحث میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ایک ہاتھ میں چھڑیاں تھیں ، لباس بھی ان کا وہی تھا، البتہ اضافہ یہ ہوا تھا کہ ہاتھ پیروں سمیت قریباً تمام جسم کی مرہم پٹی کی گئی تھی۔ ایسی حالت میں انہیں بستر سے اٹھنے کیوں دیا گیا؟ حکیم نے روکا کیوں نہیں؟۔۔۔۔
اب سنو۔ ! یہ دونوں میدان کے وسط میں پہنچ گئے۔ یہاں کچھ فاصلہ پر زمین میں تین بلیاں گڑی تھیں ۔ افی میاں نے کہاکہ اب سنبھل کے بیٹھو کہ تماشا شروع ہوا چاہتا ہے۔ میں حیران کہ یہ کیاکھیل تماشا ہے۔ اتنے میں دو فرنگی میدان میں وارد ہوئے۔ سوچا ، چلو معاملہ طے ہوا ۔ اب صاحب بہادر تصفیہ کرا دیں گے۔ حیران تو ہوا کیونکہ افی میاں نے بتایا تھا کہ عرصہ ہوا انگریز ہندوستان چھوڑ گئےاور ہندوستان کے کچھ حصوں پر مسلمان سلطنت قائم ہے۔سوچا کہ افی میاں سے پوچھوں کہ یہ فرنگی پھر یہاں کیوں ؟ مگر خاموش رہا۔ طرہ یہ کہ یہ دونوں اس جھگڑے میں شامل ہوگئے۔ اس کاروائی تک یہ نہ سمجھ سکا کہ معاملہ کیا ہے، کیوں یہ میلہ سجایا گیا ہے۔
خیر اب ایک نوجوان میدان کے سرے پر پہنچ گیا اور اس کے ساتھی میدان میں اردگرد پھیل گئےجیسے ان دونوں نوجوانوں کو ڈرانا دھمکانا مقصود ہو۔ اچانک اس نوجوان نے فرنگی کی جانب دوڑنا شروع کر دیا اور وہاں پہنچ کر اپنے جسم کو اس طرح موڑا کہ دونوں ٹانگیں زمین سے اوپر اور ہاتھ ہوا میں معلق رہے۔ دفعتاً اس نوجوان نے ایک لال رنگ کا گولا سا زخمی نوجوان کے دے مارا۔ میں نے کہا ، الٰہی خیر!۔ معلوم ہوا کہ زخمی نوجوان بھی بے خبر نہیں ۔ اس نے کمال ہوشیاری سے گولے کو چھڑی سے دور مار بھگایا ۔ میں نے اندازہ کیا کہ چلو معاملہ رفع دفع ہوا ۔ اب یہ نوجوان بھاگ کھڑے ہونگے اور اپنے گھر کی خبر لیں گےمگر مت پوچھو۔ میدان والے نوجوان تو اس گولے کے پیچھے بھاگے اور جس نے چھڑی سے گولے کو دور بھگایا تھا، وہ اور اس کا زخمی ساتھی بلیوں کے درمیان دوڑ لگاتے رہے۔ وہاں تو خیر جو ہوا سو ہوا ۔ میرے ساتھ جو اصحاب تماشا دیکھ رہےتھے۔ عجب بے ہودہ انداز میں اودھم مچانے لگے۔ مشاعروں میں ہم نے بھی داد پائی لیکن یہ کیا طریقہ کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دےاس شور میں مجھے اختلاج ہونے لگا۔ چاہا کہ واپس ہو لوں مگر افی نے روک لیا کہ یہ ہنگامہ ختم ہوا چاہتا ہے۔
جب یہ طوفانِ بدتمیزی تھما تو کیا دیکھتا ہوں کہ میدان میں پھر وہی نوجوان جھگڑنے کو تیار ہیں ، پھر وہی بھاگ دوڑ ، کچھ نہ پوچھو، شام سے رات گئے تک یہی ہوتا رہا۔ یہ بھی ہوا کہ گولے والے نوجوان نے گولا پھینکا تو وہ زخمی کی پٹیوں پر لگا ۔ اس ظالم سے یہ نہ ہوسکا کہ پوچھ لے ، بھائی کیسے ہو؟ مگر اس بیہودے نے فرنگی کی طرف رخ کر کےاس انداز میں صدا لگا ئی کہ میرا دل دہل گیا اور مجھے اس کی ذہنی حالت پر شبہ ہونے لگا اور ہاں ، یہ بھی ہوا کہ زخمی گولے سے بچ گیا اور گولا بلیوں سے جا لگا ۔ اس پر پھر وہی اودھم مچا ۔ وہ زخمی اپنی چھڑی ہاتھ میں پکڑے منہ لٹکائے، اللہ جانےمیدان سے نکل کر کدھر چلا گیا، اور اس کی جگہ ایک اور زخمی پٹیاں باندھے آ گیا ۔ بارے وہی تماشا پھر شروع ہوگیا۔ پھر تو زخمی آتے جاتے رہے۔۔۔
بھئی چھوٹے میاں ! میری تو عقل خبط ہوگئی ، بیٹھنا گناہ ہوگیاپر افی مرزا کی مروت میں واپس نہ آ سکا کہ مرا دم بھرتے ہیں ۔ جب یہ تماشا ختم ہوا تو واپسی ہوئی۔ افی میاں نے بتایا کہ تماشا یہاں بہت مقبول ہےاور نام اس تماشے کا کرکٹ بتاتے ہیں ۔ ہزار ہا روپیہ خرچ کیا جاتا ہے، بڑے بڑے انعامات و اکرامات دئیے جاتے ہیں ۔ سوچا کہ شاعری ترک کر کے یہی تماشا شروع کر دوں کہ ساہوکار کا بار تو ہٹے۔ پر افی میاں نے کہا کہ یہ نوجوان کا کھیل ہے۔ نہ جانے کیسا مارا ماری کا کھیل ہے۔ خیر، انہی کو مبارک ۔ وہ خوش رہیں ، ہم یہاں خوش ہیں
نجات کا طالب، غالبؔ

Friday, 21 February 2014

ڈبویا مجھ کو ہونے نے 21 (قسط بیست و یکم )۔

1 آرا

بلائے جاں ہے غالبؔ  ، اس کی ہر بات


شیطان کی آنت  کا پھر بھی کوئی نہ کوئی  اختتام ہو سکتا  ہے ، مگر  جوگی اور وسیم کی شرارت  ایجادی   بے لگام و بے اختتام  تھی ۔سونے پہ سہاگہ  ان  کی  دیدہ  دلیری  اور  ہاتھ  کی صفائی ۔ایسے کرتوت نما  کارناموں کے موجد  ہوئے  کہ  شیطان  بھی پناہ  مانگے ۔ شیطان سے گلو خلاصی  تو  بہت  سستی  ہے  مگر  ان   کے  ڈسے کو  نہ  لاحول   فائدہ  دیتا  نہ ہی آیت  الکرسی  کا  ورد  کام آتا  ۔
ببل  گم  (چیونگم ) چباتے چباتے  جب تھک جاتے  تو  بے دید  انسانوں  کی  طرح   حقارت سے پھینک دینے  کی بجائے ،  بصد  احترام  اسے سر   (آنکھوں) پر  جگہ دیتے ۔  البتہ  یہ الگ بات ہے  کہ وہ سر کسی  بدنصیب  غافل  طالب علم  کا  ہوتا ۔ بالوں  میں لگتے ہی  ببل  گم گوہ کی طرح چمٹ جاتی   ۔  جسے  نہ تو  کوئی  شیمپو نہ صابن   دھو سکتا  تھا  نہ  ہی پٹرول یا مٹی کے تیل  سے  الگ  کیا جا سکتا  تھا ۔  نتیجہ  متاثرین  کی ٹنڈ  کے طلوع  کی صورت  میں نکلتا ۔
( گوہ :۔ ایک خزندہ ( رینگنے والا جانور )ہے ، جو کہ گرگٹ سے بڑااور  مگرمچھ  سے چھوٹا ہوتا ہے ، مگر  اسی  خاندان  سے ہونے   کے باعث ان کا ہمشکل ہوتا ہے ۔ گوہ  کی پکڑ  بہت مشہور ہے ۔ ایک بار جہاں چمٹ جائے  پھر  اسے وہاں  سے چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے ۔ پرانے زمانے میں گوہ  کی اسی خصوصیت کے پیشِ نظر  چور  اسے سدھا  کر  اپنے ساتھ رکھتے ۔ بلند و بالا  عمارتوں پر چڑھنے  کیلئے ، اور فصیلیں پھلانگنے  کیلئے  یہی  قدیم ٹیکنالوجی  استعمال کی جاتی تھی) 
کئی بے چارے  صبح  نماز کے وقت  چاہنے کے باوجود  بھی  بستر  سے اٹھنے  سے  قاصر پائے  گئے   ۔ تحقیق  ِ حال  پر  معلوم  ہوا  کہ  گوند  سے چارپائی کے ساتھ    چپکے  پڑے ہیں۔اکثر   بے چاروں  کی  بیٹھتے ہی بے محابا  دھاڑیں  نکل جاتی تھیں۔  کئی بستر پر  لیٹتے ہی تڑپ  کر  اٹھ  کھڑے  ہوتے  اورٹاپتے  ،  جھاڑتے  ہلکان ہو تے رہ  جاتے   ۔ کیکر  کے کانٹوں  کی  وہاں  موجودگی  سب  کی سمجھ سے باہر تھی۔
تبت  ٹالکم پاؤڈر سے  قارئین میں سے بہت سے واقف ہونگے ۔ مگر  اس پاؤڈر کا  ایسا  استعمال  یقیناًکبھی  کسی نے نہ سنا ہوگانہ  دیکھا ہوگا ۔
 کلاس  کے  کمروں  میں تو قالین  بچھے تھے  مگر  ہوسٹل  کے کمروں  اور  برآمدوں  میں چپس  کا  فرش تھا ۔ صفائی کا  بہترین  انتظام ہونے  کی وجہ سے فرش ہمیشہ  چمکتے دمکتے رہتے تھے ۔  اور  پھر  ایک  دن  جوگی  کا  تبت ٹالکم پاؤڈر  کا ڈبہ  اچانک   خالی کیا ہوا ، کوئی قیامت  سی  قیامت  برپا  ہو  گئی  ۔یکے بعد  دیگرے  کئی   بے چارے برآمدوں   میں  پھسلے  اور  کمر پکڑے    ہائے ہائے کرتے پائے گئے ۔ حد  تو اس وقت  ہوئی جب ہوسٹل انچارج  صاحب عشا  ء کے بعد معمول  کے  راؤنڈ پرتھے ۔  جیسے ہی جوگی  کے کمرے میں داخلے کو  پہلا  قدم رکھا ۔ اچانک  تین چار فٹ  ہوا میں اچھلے اور دھڑام سے  زمین  پر  آرہے ۔  سارے تنتنے  اور  اکڑ فوں  ہوا ہو گئے  ، اور تین  دن صاحبِ فراش رہنے کے بعد انہوں نے ہوسٹل وارڈن کے عہدے سے استعفیٰ  دے دیا۔
اور پھر  ایک دن تو حدکی  بھی  حد   ہی ہو گئی ۔جو  بھی  باتھ  رومز  سے   باہر  آتا  ،  نہایت بے چین و  بے کل نظر   آتا۔گویا  بندے  نہ ہوئے مرغانِ بسمل   ہو گئے ،  اک  سی سی سی سی  ، سی صدا تھی جو   چاروں طرف سے گونج رہی  تھی ۔ بازار  میں"ونٹو  جینو"  اور "کمال  مرہم " کا کال پڑ گیا ۔  کسی  ظالم  نے  باتھ روم   کے  لوٹوں  میں لال مرچیں  گھول کے رکھ دی تھیں۔    

کیا خوب ! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور


فارسی کی  ایک  ضرب المثل بھی کیا خوب ہے :۔ ہر روز عید  نیست کہ حلوہ خورد کسے۔حالانکہ غالب نے تو تسلی دی تھی کہ " آہ  کو چاہیے  اک عمر  اثر ہونے تک "  مگر  ان مظلوم طلبہ کی  آہیں صرف تین  مہینے میں ہی اثر  کر گئیں ۔   جوگی  کو  ایک دن  ناشتے کے بعد میس سے واپسی پر کلاس میں ایک  ضروری کام پڑ گیا ۔ اسی  دوران  گھنٹی  بج گئی ،   جوگی    کلاس  سے نکلنے  ہی لگا  کہ  جناب  محترم  شبیر  احمد  صاحب کلاس روم  میں داخل  ہوئے ۔ جوگی کو  دیکھا  تو پوچھ لیاکہ تم   کون ہو ۔؟ نہ چاہتے  ہوئے  بھی جوگی  کے منہ سے  سچ  نکل  گیا  کہ  اسی  کلاس  کا  مانیٹر ہوں ۔  شبیر  صاحب  کے منہ  سے  ایک لمبی  سے  اوہ ہ ہ ہ ہ  اچھاااااااااا خارج ہوئی ۔" کافی عرصے سےبیمار تھے اب کیسی  طبیعت ہے ۔؟  " جوگی  نے  دنیا  جہان  کی مسکینی  اپنے  چہرے  پر  سجا  کر  جواب  دیا :۔"اب  تو ٹھیک  ہوں  ، اسی  لیے اب حاضر  ہو گیا ہوں۔" شبیر صاحب نے  اسی مسکینی  سے متاثر ہو کر  مزید عیادت کی :۔ "خیر تو ہے  کیا  ہوا تھا ۔۔۔؟؟ " اس  سے پہلے کہ  جوگی کوئی جواب گھڑتا ، "قبائلی علاقے " سے وسیم نے اپنی دانست  میں کمک اندازی  کی :۔"یرقان ہو گیا تھا ۔" یہ سن کر شبیر صاحب  کی رہی  سہی  ہمدردی  بھی امڈ پڑی :۔ "اوہ۔۔۔۔  آئی سی ۔۔۔۔  خیر  اب تو ٹھیک ہو نا ں ، بے فکر  رہو  جلد  ہی دوبارہ  ریکور کر لو گے ۔" اور جوگی نے دل  ہی  دل میں خود کو کوستے  ہوئے "جی سر " کہہ کر  مجبوراً  قبائلی علاقے کی راہ  لی ۔ شبیر  صاحب "بے چارے مانیٹر " کی  پڑھائی  میں ہوئے حرج  کے احساس  تلے دبے تھے ، اس لیے  کہا :۔ " تمہارے کلاس  فیلوز  نے بتایا تو ہوگا  کہ ہم اپنا سلیبس  سارا ختم  کر چکے ہیں۔ تمہیں مشکل  تو ہوگی ، لیکن  تمہارے دوست   مدد   کر دیں گے ، اور اگر  مزید  مدد  کی ضرورت  ہو تو  بلا جھجھک   مجھ سے پڑھ لینا۔ " اس  کا جواب  صرف  "جی بہت بہتر " کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا سو  یہی جواب  دے کر  باقی  سارا وقت جوگی نے  اپنی  نیند  کا ماتم کرتے  گزارا ۔

دیکھیے  لاتی ہے اس شوخ کی  نخوت کیا رنگ


بیالوجی کی تدریس  کیلئے  بھی ایک نئے استاد صاحب کا تقرر ہوا۔انہوں  نے  پہلےہی دن  رعب جمانے کیلئےاپنےتعارف  میں بہت سی لمبی لمبی چھوڑیں ،  اور  یہ  دعویٰ کیا کہ  ان کا تدریسی  تجربہ اتنا ہے جتنا کہ  کلاس میں بیٹھےطلبہ  کی کُل عمر ہے ۔ نیز  کلاس میں نظم و ضبط قائم رکھنے  کا انہیں  صرف شوق ہی نہیں خبط بھی  ہے ۔ مزید  یہ کہ  "میں نے بڑے بڑے شرارتی  طالب علموں  کو  سدھایا ہوا ہے ، اس لیے  بہتر یہی  ہے  کہ خود بخود ہی انسان بن جائیں ورنہ  میں کسی  رعایت کا قائل نہیں۔" یہ تعارف صرف زبانی کلامی ہی نہ تھا ، بلکہ تعارف کے دوران  انہوں  نے ظفر اقبال  کو کھڑا کر کے  ایک بارہ  نمبر  کا طمانچہ  جڑ دیا ۔ اس کا قصور یہ تھا کہ وہ ان  کی باتیں  مسکرا ، مسکرا کر  سن رہا تھا ۔ اس کے بعد  دو اور بے قصوروں کے حصے میں بھی ایسے  کرارے  کرارے طمانچے  آئے ۔  جوگی  کیلئے یہ  ایک کھلا چیلنج تھا  بلکہ در اندازی  تھی کہ  اس  کے مانیٹر ہوتے ہوئے  اس  کی رعایا  یعنی کلاس نہم کے طلبہ کو محض  اپنی انا کی تسکین  کیلئے تھپڑ جڑ دئیے جائیں۔  
اگلے دن  جب   استاد  صاحب نے   چاک نکالنے  کیلئےچاک  کے ڈبے  میں  ہاتھ  ڈالا  تو یکدم  گھبرا  کر  پیچھے ہٹ  گئے ۔  ڈبا نیچے  گرپڑا۔     ڈبے میں سے  ایک   بڑا سا  مینڈک   پھدک کر  باہر آیا  ، اور استاد  بہادر  کے اوسان  خطا ہو گئے ۔   باوجود  کوشش  کے  کوئی  بھی اپنی ہنسی  روکنے میں کامیاب  نہ ہو سکا ۔استاد ِ محترم اس قدر ضعیف  القلب  ثابت  ہوئے  کہ  کلاس نہم تو کیا  حزب الرحمن اسلامی اکادمی  میں تدریس  سے بھی   ہمیشہ  کیلئے تائب ہو گئے ۔

اک تماشا ہوا ، گلہ نہ ہوا


شعبان کا چاند نظر آتے ہی پاکستان  میں پٹاخے  ،  شرلیاں  بازار میں عام دستیاب ہو جاتے ہیں۔ اکادمی  کے  طلبہ کی تو بازار تک بھی  رسائی نہ تھی ۔  مگر  جوئندہ  ، پائندہ ۔شب ِ برات  تو ہمیشہ  سے آیا کرتی  تھی مگر  جس  دھوم دھام  سے اس بار آئی   تھی ،  شاید  ابھی تک کسی کو نہ بھولی ہو ۔ (بشرطیکہ وہ  اس رات وہاں موجود رہا ہو)۔ 
ڈنر  کے بعد میس سے واپسی  پر   جوگی نے وسیم کے ہاتھ میں ماچس دیکھی ۔ حیرانی تو بہت ہوئی ،  مگر پوچھنے کاموقع نہ ملا ۔  اس کے صرف دس  منٹ بعد جب جوگی اپنے کمرے سے  انگڑائی لیتا ہوا نکلا  تو ایک گڑبڑ کا احساس ہوا ۔  چاروں  طرف بھگدڑ سی مچی تھی ۔  جوگی  نے برآمدے میں ایک جانب سے رشید  صاحب کو غصے سے آگ بگولہ ، اور ہاتھ  میں ڈنڈا پکڑے آتے دیکھا تو  غڑاپ سے دوبارہ کمرے میں گھس گیا ۔ ناصر علی کی بدقسمتی کہ  عین اسی  وقت اسے کمرے سے نکلنے کی سوجھی  جبکہ   رشید صاحب  بلائے ناگہانی  کی طرح سر پہ پہنچ  چکے تھے ۔  بغیر  کسی وارننگ کے رشید صاحب نے اندھا  دھندڈنڈا بازی  شروع  کر دی ، بے چارے ناصر کے حصے میں بھاگتے بھاگتے بھی  دس  گیارہ  ڈنڈے تو آ ہی گئے ۔  حواس  بحال ہوئے تو معلوم  ہوا  کہ سب طلبہ کو نیچے صحن  میں فوارے کے پاس جمع ہونے کا  حکم ہے ۔  جوگی  نے  پتلی گلی  پکڑی اور باتھ  روم  کی طرف  بھاگا ۔  مگر   ادھر جانے والی  گیلری کا دروازہ بند تھا ۔  مجبوراً  سب کے ساتھ   ہجوم  کا حصہ بن  گیا ۔  کچھ دیر  بعد  چرواہے کی طرح  جب رشید  صاحب تمام طلبہ کو  نیچے ہانک لے آئے  تو   انگریزی  ، اردو مکس  زبان میں مرغا بن جانے کا  آرڈر دیا ۔ 
جیسا کہ آپ پچھلی اقساط میں پڑھ چکے ہیں ، اردو زبان  کا استعمال  ان کے بگڑے موڈ کی نشانی تھی ، لیکن یہ آج معلوم ہوا کہ اردو کے ساتھ جب انگریزی بولنے  لگیں تو  انتہائی  خراب موڈ کی نشانی ہے ۔ کسی  میں دم مارنے کی مجال نہ تھی ، حتیٰ کہ اساتذہ بھی  ایک طرف خائف کھڑے تھے ۔ مرغوں پر  جب ڈنڈوں  کی برسات  ہوئی  تو بانگیں دینے لگے۔ رشید صاحب کے  غصیلے  انگریزی  اردو مکسچر  سے   اتنا   ہی سمجھ آیا کہ  کسی شیطان کے  چیلے نے پٹاخہ  چھوڑا  تھا جوکہ برآمدے میں  آتے  رشید  صاحب کی ٹانگوں کے درمیان پھٹا  تھا۔بس اب رشید صاحب کو اسی  ناہنجار  کی  تلاش تھی ۔  تیس چالیس  بے چاروں کی پٹائی  کے بعد مجرم  کا سراغ تو ہاتھ نہ آیا  البتہ رشید صاحب ہانپنے لگے  ، مگر غیض  و غضب میں کمی  نہ آئی ۔  ڈنڈا اندازی چھوڑ کے  زبانی  کلامی لیکچر دینے لگے ۔  طلبہ بے چارے  سر جھکائے سننے کے علاوہ کر بھی  کیا سکتے  تھے۔     

Sunday, 2 February 2014

اللہ کی رحمت

5 آرا
 دیوانِ غالبؔ کو  صرف   سر سید  احمد  خان  ،  ڈاکٹر عبدالرحمن  بجنوری  ہی  الہامی   ماننےوالے  نہیں۔  انہی ہستیوں  کی  جوتیوں پر  یہ  فدوی  بھی  ان سے  متفق،  بیٹھا سر دھن رہا  ہے۔اگر  غالب ؔ کے اشعار میں آنے  والے  ہر لفظ کو  گنجینہ ِٔ معنیٰ سمجھیے ۔ تو  پھر  قرآن  مجید  میں بیان  ہوئے  ہر  لفظ کی  تہہ  میں چھپی  حکمتوں   کا کیا  عالم ہوگا ۔ دیوانِ غالب کو  میں ہمیشہ  ٹریژر  ہنٹ کہتا ہوں ۔ افسو س  میں قرآن  مجید  ایک حرف  کے  بدلے  دس  نیکی  کے  چکر  میں تو  بچپن  سے  ہل  ہل کر  پڑھتا آ رہا ہوں ۔  لیکن قرآن مجید کو ٹریژر ہنٹ  والی  نظر سے پڑھنے کا آئیڈیا  دیوان ِ غالب  سے ملا  ہے ۔  اب جو   دیوانِ غالب  کے  انداز  میں پڑھنا  شروع  کیاتو  لگتا ہے  مجھے جامِ جہاں  نما  ہاتھ  آ گیا  ہے  ۔
قرآن مجید  کی  ویسے تو  ہر سورۃ  کی  اپنی  اپنی  فضیلت  ہے  لیکن  سورۃ  فاتحہ  کو  ام  الکتاب  اور  قرآن  مجید کا مختصر خلاصہ   سمجھ لیجئے ۔ میں کوئی مفسر  نہیں اور اللہ  نہ کرے کہ میں ہوں ۔  لیکن ایک  بات پوری  ایمانداری  سے کہہ  سکتا  ہوں کہ اگر  ہم حرف بحرف  سورۃ  فاتحہ  پر  دلی  ایمانداری سے  عمل  کرنے  اور اس پر غور کرنے لگ جائیں تو  نہ کوئی مسلکی اختلاف  کی  گنجائش  باقی رہے گی  نہ  ہی کوئی فرقہ    واریت  کا بہانہ  رہے ۔   لیکن جن صاحبان  کی  دال روٹی  ہی اس   آگ کے دریا  سے  نکلتی  ہے  وہ یقیناً  حسبِ عادت  میری  مٹی  پلید  کرنے  میں نہایت خشوع و خضوع  سے  جٹ جائیں گے ۔  اور میری جانے  بلا۔۔۔۔۔
پٹڑی سے  اترنا میری  پرانی  عادت  ہے  ، خیر  چھوڑئیے   ہم دوبارہ  پٹڑی  پر آتے ہیں اور بات  سورۃ  فاتحہ سے  شروع کرتے  ہیں۔   سورۃ  فاتحہ  کو  نما ز  کی  ہر رکعت  میں ایک مرتبہ پڑھنا لازم قرار دینے  کی  حکمت پر  غور  کیجئے  اور پھر   سورۃ  فاتحہ  دل  میں پڑھیے ۔  جب آپ  اللہ  کی  حمد  اور  اس  کے مالک  ہونے  کے  اقرار سے  گزر کر عبادات  کے بیان اور اس سے  آگے  دعا پر  آئیں گے تو  یوں   پائیں گے ۔ " ہمیں سیدھا  راستہ  دکھا ۔"کیا  خیال ہے ۔۔؟؟ کیا  یہ  ایک  مکمل  دعا نہیں۔۔۔؟؟؟  بالکل یہ  ہماری نظر میں تو   مکمل دعا ہے کہ  یا اللہ  ہمیں سیدھا راستہ  دکھا ۔  لیکن اللہ  نے  ساتھ  ہی  سکھایا  ہے کہ  صرف یہی  نہیں  بلکہ  یہ  بھی کہو" ان لوگوں کا راستہ  جن پر تیرا انعام ہوا۔" ذرا  حکمتوں پر  غور تو کیجیے  ۔  اللہ کو اپنے  انعام یافتہ  بندوں کا ذکر  دعا کے ساتھ  پسند ہے ۔  کیونکہ  یہ  پروردگار  کی  ادا ہے  کہ جس سے  خوش ہو جائے  یا جس سے  محبت کرے اس کا ذکر  بلند کر دیتا ہے ۔ ایسا  بلند کرتا  ہے  کہ پھر  وہ  چاہتا  ہے  کہ  اے میرے بندو  جب 24  گھنٹے  کی 17  فرض  رکعتوں میں میری  حمد اور پاکی  بیان کرتےہوئے اپنی عبودیت  کے  اظہار  میں سیدھے  راستے  کی دعا مانگو تو ساتھ  میرے  انعام یافتہ بندوں کا حوالہ  ضرور  دینا۔  تاکہ یہ بار بار کی یاد دہانی  تمہیں باور کرواسکے  کہ سیدھا راستہ  وہی  ہے جس پر میرے  انعام  یافتہ  بندے  تم  سے پہلے چل کے گئے ہیں۔
اس  بات  میں بہت سے سوالوں  کے جواب ہیں۔  اور تقلید  کے  حامیوں  اور  مخالفوں  کیلئے  بہت سے  سوال  ہیں۔
اردو کے  بے شمار  شعرا  میں سے  اللہ  نے  جو  عزت  و مرتبہ  غالب  و اقبال  کودیا  اس سے کیا ان  کے  انعام  یافتہ  ہونے  میں کوئی  شک باقی ہے ۔؟ سوچنے والوں کی  اپنی ایمانداری ۔۔۔۔ہو سکتا ہے کوئی   مجھے  غالب  کا چیلا  کہہ کر  میری بات سے  انکار کرے ۔  

اللہ  کا  اشارہ  سمجھیں تو معلوم  ہوتا ہے  کہ  کسی  بھی معاملے  میں جب سیدھے راستے  کا تعین  کرنا ہو تو    یہ  دیکھو کہ اس معاملے میں میرے  انعام یافتہ بندوں  نے  کونسا   عمل کیا۔اس لیے اب مجھے  بھی جس معاملے  میں اصلی سیدھا راستہ  جاننا ہے اس  کیلئے  مجھے انعام یافتہ   بندوں کا  طرز  عمل دیکھنا  پڑے گا۔
  
معاملہ یہ  ہے  کہ اللہ  نے سورۃ آلِ عمران  میں مال اور  اولاد کو انسان کیلئے فتنہ قرار  دیا ہے ۔ ایک  اور  مقام پر  اولاد  کو انسان کیلئے آزمائش  قراردیا گیا ہے ۔   فدوی تو پہلے ہی فطرتاً  جوگی واقع ہوا ہے ۔ اللہ  کے سوا اگر  کسی  سے  ڈرتا ہے تو وہ ہے عورت ۔  مگر بحیثیتِ مسلمان  مجھے  خبردار کیا  گیا ہے  کہ  "نکاح میری سنت  ہے  اور جس نے اسے  ترک  کیا  وہ ہم میں سے  نہیں۔"(حدیث مبارکہ کا مفہوم )اس  لیے  مجبوراً  مجھے  اپنی  مسلمانی  بچانے  کیلئے  غالب  کی طرح 
تاب  لائے ہی بنے گی  غالب
واقعہ  سخت ہے اور جان عزیز 
کہتے ہوئے کبھی نہ کبھی تو کسی نیک بخت سے نکاح کرنا پڑے گا۔ صرف اسی  پر ہی  بس  نہیں اور  بھی  بہت سی  تنبیہات (وارننگز) ہیں جن پر عمل کے  نتیجے میں  صاحبِ فتنہ (صاحب ِ اولاد) ہونا یقینی  ہے ۔اولاد  میں عمومی طور پر لوگ بیٹے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ اکثر ابو جہل قسم کے لوگ تو  بیٹا نہ ہونے کا قصور وار بھی بے چاری  بیوی کو سمجھتے ہیں۔ (خیر وہ ایک الگ موضوع ہے اس پر  کسی اور تحریر  میں قلم بازی کروں گا)لیکن مجھے ان  سے کیا مجھے تو اس معاملے میں اللہ کےسکھائے گئے فارمولے کے مطابق  انعام یافتگان کا طرزِعمل دیکھنا ہے ۔   
اس  سلسلے میں اولیاء کرام کا ذکر  بھی  نہیں کرتا  کہیں لوگ  میری  بات  کو  پیر پرست ، مزار  پرست کہہ  کر  سننے  سے  انکار  نہ کردیں۔
چلیے قرآن مجید  سے  ہی  ایک مثال  عرض ہے ۔
میں نے قرآن مجید  میں ڈھونڈا کہ  جب انعام  یافتگان   فتنہ  و آزمائش  کی  لپیٹ  میں آ جاتے  تھے تو وہ  کیا کرتے تھے ۔آنجہانی  بڑے حکیم صاحب (دادا جان) کے بارے میں سنا ہے  کہ   سورۃ کہف  کی تلاوت بہت شوق سے  کیا کرتے تھے ۔ دادا جان کے تعاقب میں   سورۃ  کہف  پڑھنا  شروع کی تو انعام  یافتگان کا  سراغ  ہاتھ آگیا ۔   اللہ  کے  چند  مقرب بندے  ایک  گمراہ  قوم اور اس کےظالم بادشاہ  کے ظلم(فتنہ)سے جان  بچا کر  ایک  غار میں جا  چھپے ۔    بادشاہ  کے  آدمی  بھی  ڈھونڈتے  ڈھونڈتے اس غار  تک  آن   پہنچے ۔  قریب  تھا  کہ  وہ اس غار  کو دیکھ  لیتے(آزمائش  کا وقت  ہے ) کہ اس  وقت انہوں  نے  اللہ  سے  دعا  کی  (طرزِ عمل)۔ اور   کمال  یہ ہے  کہ اس   پکڑے  جانے  کے  خوف میں مبتلا  بندوں  نے یہ دعا  نہیں کی  کہ  یا اللہ  ہمیں ان سے  محفوظ رکھ ، نہ یہ دعا کی  کہ  یا اللہ  ان کو اندھا کر  دے  یا کسی  بھی طرح ان کو یہاں سے بھگا۔ نہ ہی وہ اوور سمارٹ   اور بڑبولے تھے  کہ  دعا مانگتے  یا اللہ ہم  نپٹ لیں گےاور   اس  آزمائش  میں ثابت  قدم  رہ کے دکھائیں گے ۔  یا پھر تو  ہمیں ثابت  قدم  رہنے کی  توفیق دے اور  ہمارا خوف دور کردے ۔
آیت  10:۔ (وہ وقت یاد کیجئے) جب چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے تو انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہمیں اپنی بارگاہ سے رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں راہ یابی (کے اسباب) مہیا فرماo 
آیت 11:۔ پس ہم نے اس غار میں گنتی کے چند سال ان کے کانوں پر تھپکی دے کر (انہیں سلا دیا)o 
کوئی دنیا دار  جانب دار  مؤرخ  نہیں بلکہ  خالقِ کائنات  بتاتا ہے  کہ  اس فتنہ  و آزمائش  کے  وقت انہوں  نے دعا  مانگی  کہ"یا  اللہ  ہمیں اپنی رحمت دے ۔"اور اس دعا کی قبولیت  ہوئی اور  اللہ  کی رحمت نے انہیں گھیر  لیا۔
یہ چھوٹی  سی  دعا  اپنے  اندر  حکمتوں  کا  بے کراں سمندر  چھپائے  ہوئے ہے ۔ میں تو جتنا  غور  کرتا گیا حیرانی  ہی  حیرانی  میں غرق ہوتا گیا۔ میں نے  اس  ایک  آیت  سے   سیکھا کہ  دعا  میں کیا  مانگنا منافع  بخش  ہے ۔مجھ پر رحمت  کے  نئے نئے مفہوم  واضح  ہوئے ۔ اور  مجھے  معلوم  ہوا  کہ  دعا کی فوری قبولیت  کیلئے کونسا فارمولا  ہے ۔ رحمت مانگ  کے  دراصل  انہوں  نےاس آزمائش  و فتنے  کے  سلسلے  میں اللہ  کے سامنے   اپنی  عاجزی  کا اظہار  کیا ۔ انہوں  نے  جزو مانگنے  کی بجائے کُل  مانگنے کو ترجیح دی ۔ آئیے ان مقرب بندوں  کے طرزِ عمل سے  کچھ  سبق سیکھیں۔  ہر  فتنے  ہر  آزمائش  میں ثابت  قدمی  نہیں رحمت مانگنا  سیکھیں۔ثابت قدمی  کی دعا حضرت ذکریا  علیہ السلام نے بھی کی تھی  اور  آرے  چل  گئے تھے ۔ وہ تو اللہ  کے  برگزیدہ  نبی  تھے اس لیے وہ ثابت  قدم رہے ۔  ہم  تو بے حد  گناہگار  و کمزور  بندے ہیں اگر   اپنی اوقات پر نظر ہو تو  یقیناً ہم  رحمت ہی مانگیں گے ۔ 
مجھ پر واضح ہو گیا  کہ  اصحابِ کہف  نے فتنہ  و آزمائش  کے  وقت  رحمت  مانگی  تو انہیں رحمت نے  آ کر  اپنی  پناہ میں لے  لیا۔  صرف  یہی  نہیں ان کا یہ  عاجزی  سے رحمت    مانگنا اللہ  کو اتنا پسند آیا  کہ  اس  نے حضرت  آدم سے حضرت محمد صلی اللہ  علیہ  وآلہِ وسلم کے  درمیانی (کم و بیش  ساڑھے سات ہزار سال) عرصے  کے  مثالی  واقعات  میں سے اس واقعے  کو  بھی اپنی آخری کتاب  میں بیان کر دیا  تاکہ  قیامت  تک  کیلئے بالواسطہ  ان بندوں کا ذکر  یونہی ہوتا  رہے ۔  اور  چونکہ  فتنے اور  آزمائشیں تو ہر زمانے  میں آنی ہیں۔ اس لیے عقلمند  لوگ  ان سے بچاؤ کیلئے اصحاب ِکہف والی  ترکیب  استعمال  کر کے محفوظ رہیں۔
میرا ڈر  خوف دور ہو گیا ہے  ۔ بے شک  مال  اور اولاد فتنہ  ہے  لیکن اللہ  کے  مقرب بندے فتنے  و آزمائش میں رحمت مانگ کے  اس کی  پناہ  میں آ جاتے تھے ۔    جیسے اصحابِ کہف  نے معاملہ  اللہ  کی رحمت کے سپرد  کر دیا  تھا  ۔  یعنی  جو اللہ  کی  رحمت دے  گی  وہی قبول ہے ۔
اب سورۃ فاتحہ کی آخری  آیت   کا ترجمہ  بھی   دہرا  لیں:۔ "نہ  کہ ان  لوگوں کا  راستہ  جن  پر تیرا غضب ہوا۔"
اب ذرا آئینہ  دیکھئے  کہ کون  لوگ ہیں جو اول  تو  فتنہ  مانگتے ہیں۔  پھر  اللہ  کی رضا  میں راضی  نہ رہتے ہوئے  بیوی کو طلاق دے دیتے ہیں۔  اور اللہ  کی رحمت کی آمد  پر  ناگواری  کا اظہار کرتے  ہیں۔بیٹی کی  پیدائش  پر  کون  لوگ  ناگواری  کا  اظہار کرتے تھے ۔ اور  ان کا  حشر  اللہ  نے  کیا  کیا ۔  ایسے  لوگوں  کو کون  عقلمند  سمجھے گا جو  انعام یافتگان  کا  راستہ  چھوڑ  کر  زمانہ  جاہلیت  کے بدبخت  شقی  القلب  کفار کے راستے  پر  چلتے  ہیں۔

لفظ رحمتہ اللعالمین پر  غور  فرمائیے ۔  اوردیکھیے  اللہ  نے    تمام جہانوں کیلئے جو رحمت  ہیں  ان کو  اولاد  کے ضمن  میں  کیا عطا فرمایا ۔
 رحمت +رحمت+رحمت+رحمت
اب ذرا  ان  کا  راستہ  بھی  ملاحظہ ہو ۔  جب    حضرت سیدہ  خاتونِ جنت  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  تشریف  لاتیں تو کائنات  کے  محبوب  ترین  اور  افضل ترین   استقبال   کیلئے کھڑے ہو جاتے ۔  تمام  جہانوں  کیلئے  جو رحمت ہیں وہ اپنی  "رحمت " کیلئے  اپنی چادر مبارک   بچھا دیتے ۔یہ ہے وہ  راستہ  جسے   خالق ِ کائنات  "اسوۂ حسنہ" کہتا ہے ۔  اللہ کے نزدیک زندگی  کی  راہ  پر چلنے  کیلئے یہ سب سے بہترین راستہ ہے ۔

اللہ  کا بے شمار شکر ہے  کہ  اس  نے مجھے  بھی رحمت سے نوازا  ہے ۔  سگے  رشتے اور منہ بولے  رشتے  کے چکر میں ، میں کبھی نہیں پڑا ۔ اس لیے  اس سے کوئی  فرق نہیں پڑتا  کہ  وہ کہاں پیدا  ہوئیں  ، میرے لیے  تو  ایسے  ہیں جیسے میری  اپنی  بیٹیاں  ۔۔۔۔
مومنہ  زینب   کے بعد  اگر کسی  نے مجھے اس حد تک متاثر کیا  تو  وہ  ہیں  محترمہ  عشبہ  بانو ۔۔۔۔۔
کہنے کو  تو  عشبہ  ذوالقرنین  کے گھر پیدا ہوئی  ، اور  میں آج تک اس سے ملا بھی  نہیں ، لیکن  دل کا حال اللہ  جانتا  ہے  ، ہو سکتا  ہے  یہ مجھے  ذوالقرنین  سے بھی  زیادہ پیاری ہو ۔

اے  نٹ کھٹ  چلبلی  شہزادی  عشبہ  بانو،   اے اللہ کی رحمت ، تم بے شک کہیں بھی رہو ،   کوئی غائبانہ  ہی تم سے پیار کرتا ہے، تمہاری آمد کا شکریہ 
سالگرہ مبارک  پریوں  کی شہزدی 

Friday, 31 January 2014

یارانِ نکتہ داں (قسط ششم) زبیر حسین

3 آرا
میری  دوستوں  والی  تسبیح  کے   چھٹے   موتی کو زبیر حسین کہتے ہیں جبکہ  یہ خود کو زندگی  سمجھتے ہیں۔الامارات ائیر لائن میں انجینئر  ہیں  ۔ انٹر  نیٹ  پر  ایک ویب سائٹ "اردو  جواب " کے بانی  و منتظم  ِ اعلیٰ ہیں۔ان سے فون پر  صرف  ایک بار  ہی  بات ہوئی ہے ۔ اس لیے  ان کے  بارے  میں ذاتی طور پر تو فدوی  اندھیرے میں ہے  البتہ فکری طور پر  نہایت  اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ  ارسل مبشر ، ملک  حبیب اور  افتخار افی صاحب والی   فہرست  میں ان کا  نمایاں مقام ان کے  خلوص و بلند اخلاق  کی سب سے بڑی دلیل ہے  ۔ہو سکتا ہے کچھ لوگ یہاں  مجھ سے اختلاف کریں کیونکہ بعض لوگ زیادہ بولنے کو صفت  نہیں عیب سمجھتے ہیں۔ لیکن  میں ٹھوس وجوہات کی  بنا پر  زیادہ  بولنے والوں  پر کم بولنے والوں کی نسبت زیادہ  اعتماد کرتا ہوں ۔   ہو سکتا ہے کوئی  یہاں  میرے سامنے اولیا ء کرام کے یا شیخ  سعدی  ؒکے  کم بولنے  کی فضیلت  میں اقوال  پیش کرے ۔  اس سے پہلے میں بتا دوں کہ بے شک  زبان  انسان  کا تالا ہے ۔  جب تک یہ تالا لگا رہے  اندر کا انسان  چھپا رہتا ہے ۔  لیکن چھپنا دو قسم کا ہوتا ہے ۔  ایک  ڈرپوک  لوگوں کا چھپنا کہ کہیں کوئی  ہمارے اندر چھپے منافقت کے گند کو دیکھ نہ لے ۔  اور ایک ہوتا ہے  حیا دار  لوگوں  کا چھپنا ۔  لیکن وہ  چھپنا بقول داغ  ایسا  ہوتا ہے  کہ :۔ 

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے  ہیں

صاف چھپتے  بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
یہ بات تو  سب کو معلوم ہے  کہ حیادار لوگ  لازماً حسین بھی ہوتے  ہیں(یہاں حسن  ہر  معنوں  میں کہا ہے۔ اس کے علاوہ  میں حسین  مانتا ہی  صرف حیادار وں کو ہوں  )۔  یعنی  حسین  لوگ  حیا  اور  حسن کا پانی پت ہوئے ۔  حسن  کی  فطرت  ہے  ظہور  کرنا ۔   اور  حیا  کی فطرت ہے  حجاب  کرنا ۔  حسن اور  حیا  کی  اس زور  آزمائی  سے  شخصیت  میں وہ  توازن  آ جاتا ہےجسے   داغ نے "صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں" قرار دیا ہے ۔  جیسے  زمین  مرکز مائل  قوت  اور  مرکز  گریز  قوت  کی  زور آزمائی کے  نتیجے میں ہی  اپنے  مدار  پر  قائم  حرکت  میں ہے۔ 
اب جبکہ چھپنے  والوں  کی  اقسام   واضح ہو گئیں تو مناسب ہے  کہ  زیادہ  بولنے  والوں  کی اقسام  بھی  بیان کر دوں  تاکہ  کوئی ابہام  کسی   غلط فہمی  کا  باپ  نہ بن جائے۔  زیادہ  بولنا بھی  چھپنے  کی طرح  دو قسم کا ہوتا ہے ۔ 
ایک :۔ زیادہ  بولنا اور  اس  شوق  میں  اناپ  شناپ  بکنا
دوم:۔  زیادہ   بولنا مگر  اندر   اتنا  خزانہ    ہونا (حسین ہونا)کہ  دونوں  ہاتھوں  سے لٹائیں تب بھی  ختم نہ ہو ۔  اور   زبان  کی فریکوئنسی  اس قدر  سیٹ  ہونا(حیا  کا تقاضا) کہ زبان   پٹڑی  سے  اترنے  کا کوئی  امکان  ہی  نہ ہو۔
اب ان دونوں وضاحتوں    کے بعد فدوی  جبکہ  ثابت کر چکا ہے  کہ  کچھ لوگ  مجبوراً  زیادہ  نہیں بولتے کیونکہ ان کے  اندر  بولنے لائق کچھ  ہوتا ہی نہیں۔  کچھ لوگ اپنی منافقت  اور  علاوہ  ازیں فطری  خباثتوں   کے  ظاہر  ہوجانے  کے  ڈر سے زیادہ  نہیں بولتے ۔   اس  لیے  کم  بولنا بھی  صفت  تو نہ ہوا۔  پھر جب سب  کا  کم بولنا صفت نہیں تو کچھ لوگوں کا  زیادہ  بولنا  بھی    صرف تحقیق  کے  آلس  کی وجہ  سے عیب کیوں قرار دیا جائے ۔ ؟؟؟ جبکہ  یہ زیادہ  بولنا  ان  پر  خوب  خوب  جچتا ہو۔
شیخ سعدی  کے  ایک شعر کے  ترجمہ ہے :۔ " جس کا  حساب پاک  ہے اسے  محاسبہ  کا  کیا  خوف۔" پس  جس کا  اندر پاک  صاف  ہو  وہ  بھلا کس خوف  کے تحت اپناتالا کھولتے  ہوئے   گھبراہٹ  کا شکار  ہو۔  ارسل  مبشر  ہو  ملک  حبیب  ہوافتحار افی  صاحب  ہوں  یا  زبیر حسین  ۔ ان کے  بولنے  اور بے حد  اچھا  بولنے سے  میں اس نتیجے پر  پہنچا کہ  ایسے لوگ  کم از کم  منافق  کبھی  نہیں ہو سکتے۔  یہ  صفت (زیادہ بولنا  اور اچھا بولنا)صرف ان میں پائی  جاتی ہے  جن کا اندر پاک صاف ہو۔  اور یہ  وہی  صفائی  ہے جس کی  تاکید  حضرت  بابا بھلے شاہ  سرکار  ؒنے اپنے  کلام میں بھی فرمائی  ہے ۔
نماز پڑھن  کم  زنانہ ، روزہ  صرفہ  روٹی
اُچیاں بانگاں  او دیندے  ، نیت جنہاں  دی کھوٹی 
مکے دے ول اوہی  جاندے ، جیہڑے  کم دے ٹوٹی
او بھلیا  جے  توں  رب نوں ملنا  ، صاف کر اندر دی  کوٹھی 
(نماز پڑھنا کوئی  ایسامشکل  کام تو نہیں وہ تو عورتیں بھی پڑھتی ہیں۔  اور  روزہ  رکھنا  بھی  تو دراصل اپنا  فائدہ  ہے ۔ اونچی اونچی اذانیں وہ دیتے  ہیں جن کی نیت کھوٹی  ہو  (مراد ریا کار لوگ) مکے  کی طرف حج کو بھی وہی  جاتے  ہیں جو کام کاج سے جان چھڑاتے ہیں۔  پس یہ سب کام کرنے والا مردِمجاہد کہلانے کا حقدار  نہیں۔اور  نہ  ان کاموں  سے رب ملتا ہے ۔ ہاں اگر مردانہ  کمال  دکھانا ہے یا رب سے ملنے کی آرزو ہے  تو اپنا اندر صاف کر لو ۔ یہی تو  حقیقی  تصوف  ہے)۔

میرے  اس پیارے سے دوست زبیر میں صرف  یہی ایک  ہی  صفت نہیں۔  ان کی دوسری صفت  جانچنی  ہو تو  "اردو جواب" ویب سائٹ  کے شانِ نزول پر  غور کریں۔ 
ایک زمانہ تھا  کہ انٹر  نیٹ پر  اردو محض  دیوانے  کا خواب  تھی ۔ پھر  یونیکوڈ  اردو کی آمد کے  ساتھ  ہی انٹرنیٹ پر اردو  فورمز  بننے شروع ہو گئے ۔  حتیٰ کہ 2010 کے بعد تو یہ حال ہو گیا کہ   بقول  پطرس  بخاری :۔"کچھ عرصے بعد خون کی خرابی کی وجہ سے ملک میں جا بجا جلسے نکل آئے جس کسی کو ایک میز، ایک کرسی اور گلدان میسر آیا اسی نے جلسے کا اعلان کر دیا۔"( مرید پور کا پیر) ایسے ایسے  لوگوں  نے بھی  اردو فورم  بنا لیے  جنہیں واجبی  حد تک  بھی  اردو کے تین جملے مسلسل درست  بولنا  نہ  آتے ہوں گے۔ دنیا ئے  ہست و بود  میں مذہب  ، فرقہ ، ذات برادری  ، زبان، علاقے  کے نام سے  لوگوں کو ورغلایا جاتا ہے  انٹرنیٹ پر لوگوں کو  اردو کے  نام پہ  اکٹھا  کرکے اندر کھاتے اپنے  مذموم عزائم اور کریہہ  نظریات  کا  پرچار   کرنے  والے  سرگرم ہو گئے ۔کہیں آزادی  تحریر  و اظہارِرائے  کے نام پر  اسلام اور  پاکستان کے خلاف بکواس  کی جاتی  ہے اور جواب دینے والوں کو کتے کی طرح دُر دُر  کہہ کر  بھگا دیا جاتا ہے ۔چند  مفاد پرستوں کے حسنِ کرشمہ ساز  نے خرد کا نام جنوں رکھ دیا اور  جنوں کا نام  خرد رکھ  کے بدتہذیبوں کو اردو  کا ہیرو  بنا دیاہے۔ ایک طرف اتنی  روشن  خیالی کہ ایک شخص قرآن  مجید  میں اللہ تعالیٰ کی  نحوی اور  لغوی  غلطیاں نکالنے کے نام پر   اپنی  خباثت دکھا رہا ہے  اور  حضرت کے کان  پر جوں  نہیں رینگتی(العیاذباللہ)۔ وہیں یزیدیت  اور مطلق  العنانیت  کا وہ  عالم کہ کسی  بے چارے نے  ایڈمن  کی  کمینگی  پر  انگلی اٹھائی  تو  اس" سنگین ترین جرم"  کی پاداش  میں  اسے  عاق  کر کے دفع دور ہونے کا حکم ہے ۔ 
 یعنی کوئی اللہ  کی شان میں بکواس کرے اظہارِ رائے  کی آزادی ۔  کوئی رحمۃ للعالمین  کی شان میں گستاخی  کرے تو اظہار ِ رائے کی  آزادی ۔  کوئی  اسلام پر  بکواس کرے یا  نظریہ  پاکستان کے بارے میں بک بک کرے  ۔  یہ اظہارِرائے  اور  تحریر کی آزادی  اور انسان کا  بنیادی حق ہوا۔ اس سب سے  کسی  کو فرق نہیں پڑتا ۔  لیکن محض ایک ویب  سائٹ کے  مدیر  سے  اگر  کسی  نے  جواب دہی کا مطالبہ کیا تو  شاید عرش  ہل  گیا اور  کعبہ کے مینار  ٹیڑھے ہو گئے ۔ اب بندہ پوچھے کیا   وہ  بے حقیقت  انسان ان  کی نظر  میں اللہ  اور  اللہ  کے رسول  کی  نسبت  زیادہ  عزت والا  تھا۔۔۔؟؟؟؟(نعوذ باللہ)۔
   ((کاش  !!!!یہی  بات  ذوالقرنین  سرور  ، محمود مغل   اور عاطف بٹ  نے بھی  پوچھی ہوتی ۔۔۔۔))۔
میں نے کہا کہ بزم ِ ناز چاہیے  غیر سے  تہی  
سن کے ستم  ظریف نے  مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں

ایسے میں زبیر  بھائی  کو  اللہ  تعالیٰ کثیر  کثیر  جزائے  خیر  عطا فرمائے   جو اس چل سو چل اور بھیڑ  چال کا  شکار  نہیں ہوئے۔   انہوں نے خالصتاً سیکھنے  سکھانے کی غرض سے  "اردو جواب " کی بنا رکھی ۔  انٹر نیٹ پر بے شک ہر موضوع پر  بہت کچھ مل جاتا ہے مگر  اس  کیلئے گھنٹوں  خاک  چھاننے کے بعد  پھر  گوہر  مقصود کی  نشانی ہاتھ   آتی ہے ۔ اور پھر  اس آرٹیکل کو شروع سے  آخر تک پڑھنا پڑتا ہے ۔ اسی  مسئلے کا حل "اردو جواب"کی صورت میں ہے ۔ یہاں سوال کا دوٹوک  اور ٹو دی پوائنٹ  قسم کے جواب  مل جاتا ہے۔  یہ ایسا اوپن  فورم ہے کہ  جہاں ہر  کوئی  کسی  بھی موضوع پر(اخلاقیات  کے  دائرے میں)سوال کر سکتاہے۔ اور اگر  اسے "اردو جواب " پر  کسی  اور کے پوچھے  گئے سوال کا تسلی بخش اور  درست  جواب معلوم ہے تو وہ بلا تکلف جواب بھی دے سکتا ہے ۔ یعنی  یہ  ایک  ایسا   گوشہ  ہے  اور اردو زبان  میں  انٹر نیٹ پر  ابھی  تک  وہ واحد  ویب  سائٹ  ہے جہاں ہر بندہ  نہ صرف کچھ سیکھ سکتا ہے  بلکہ  اللہ کے دئیے ہوئے  علم میں سے اپنی  استعداد  کے مطابق  جواب  دے کر  کسی  کو کچھ سکھا   کر بہت سوں  کی  دعائیں بھی پا سکتا  ہے۔

پہلی بار زبیر  بھائی  سے  میری  ملاقات  اردو محفل  فورم پر ہوئی ۔ وہاں سے میرا "اردو جواب "پر جانا ہوا ۔  مجھے یہ  ویب سائٹ پسند آئی اور  میں نے  رکنیت حاصل  کر لی ۔  مجھے  اردو جواب کا سواں   رکن  ہونے کا اعزاز  ملا ۔ یعنی مجھ سے پہلے اردو جواب  کے 99 اراکین  تھے ۔   وقت کے ساتھ  ساتھ  "اردو  جواب " کا خوب  سے  خوب تر کا سفر جاری رہا ۔اور  یہ  زبیر  بھائی کا  بڑا پن  ہے  کہ  انہوں  نے  مجھ جیسےہیچمداں  کو اپنا  نمبر  دیا  پھرجب  چھٹی پر پاکستان تشریف  لائے  تو  فدوی  کے  ساتھ  ایک گھنٹہ  خوب  گپ  شپ  کی ۔اب  بھی  ابو ظہبی سے اکثر کالز  اور  میسجز  کے ذریعے  یاد فرماتے  رہتے ہیں۔
جی خوش  ہوا  حالی  ؔ سے  مل کر
ابھی  کچھ لوگ  ہیں   جہاں  میں

اس  نفسا  نفسی  کے  زمانے  میں جبکہ  انسانوں  کی  اکثریت  صرف  اس فکر میں ہے کہ  مجھے زیادہ  سے  زیادہ  فائدہ  کس کام سے  مل سکتا  ہے ۔  اس  زمانے  میں ایسے  پر خلوص  اور  بے لوث لوگوں سے  ملاقات  ہونا اور ان سے دوستی  ہونا   یقیناً  اللہ  کی  خاص رحمت ہے ۔ آج  کل  زمانے  کی برائیاں  کرنا فیشن بن چکا ہے  لیکن    کسی  کی  ایسی   گفتگو  کے دوران  میں زبیر  حسین جیسے  بے لوث اور  خالصتاً  خدمت ِ خلق اور  انسانیت  کی  بھلائی  کے جذبے سے سرشار  لوگوں  کی مثال دے کر   ہمیشہ  کہتا ہوں  کہ برائی  اور  اچھائی  کا توازن ہمیشہ  قائم  رہتا ہے ۔  ایسا  بالکل نہیں کہ  صرف برائی  ہی برائی ہو۔ جس قدر  برے لوگ ہوتے ہیں۔ اتنی  تعداد میں اچھے  لوگ بھی موجود رہتے  ہیں۔ ہو سکتا  ہے  ایسے  صاحبانِ کمال  ہماری  نظر سے  دور ہوں  لیکن   ہمیں چاہیے  کہ  ایسے لوگوں کو ہمیشہ  اپنے دل  سے   قریب  رکھا  کریں۔ کیونکہ  انہی  جیسے لوگوں کے دم سے انسانیت  کا  توازن  قائم  ہے ۔ 

Tuesday, 28 January 2014

پیکرانِ اخلاص

4 آرا
اللہ  تعالیٰ کی  شاہکار  تخلیق  انسان ہے ۔
شاہکار  اس لیے قرار دے رہا ہوں  کہ  یہ اللہ کی  واحد  مخلوق ہے جو جبر  و قدر  کا مرقع  ہے ۔یہ  واحد مخلوق ہے جس  میں اللہ نے  بیک  وقت  دل  اور دماغ  لگا دئیے  ہیں۔   دماغ  پر  عقل و خرد  کی  حکومت ہے ۔  اس کی وسعت  لامحدود ہے  مگر  جہاں  عقل کے پر  جل  جاتے ہیں وہاں سے دل کی سلطنت  شروع ہوتی ہے جہاں یقین  کا سکہ  چلتا ہے ۔ بحث و دلیل سے بے نیاز اس  طلسم ہو شربا  میں عقل  کو  آج تک داخلے کا پروانہ  نصیب نہیں ہو سکا۔

یہ قصہ بھی دل و دماغ کا ہے ۔ تاریخی روایات کے انبار پہ بیٹھ  کر فدوی   اپنے  انداز  میں صرف   قصہ    سنائے گا ۔
سچ  ہے یا دروغ  ،  بر گردن ِ مورخین۔
واللہ اعلم

خلافتِ راشدہ  کے بعد  اقتدار بنو امیہ  میں آیا  پھر ان سے  بنو عباس  کو منتقل ہوا ۔ عباسی  خلافت کا ذکر آئے تو ذہن میں  خلیفہ ہارون  الرشید  کا نام  خود بخود آجاتا ہے ۔ خلیفہ ہارون الرشید  کی ایک   محبوب ملکہ   تھی جو تاریخ میں زبیدہ  خاتون کے نام سے مشہور ہے ۔
ایک دفعہ یہی ملکہ زبیدہ خاتون شام  کے وقت   سیر  و تفریح کی غرض سے شاہی باغ  کو  جا رہی تھی ۔  بغداد سے  باہر  ایک  ویرانے سے جب  سواری گزری تو ملکہ    ایک منظر دیکھ کر  حیران  رہ گئی ۔  پراگندہ بالوں ، بوسیدہ پیراہن  اور حیرت  زدہ چہرے  کے ساتھ ایک شخص پتھر کے ٹکڑوں  اور تنکوں کو  جمع  کر کے کچھ  بنا رہا تھا ۔ملکہ نے سواری  رکوائی  اور  خواصین کو وہیں  رکنے کا کہہ کر  ایک کنیز  کے ساتھ  ادھر کو چل پڑی  ۔ جہاں حضرت بہلول دانا ؒ پتھروں  اور تنکوں  سے گھروندہ  بنانے میں اس قدر منہمک تھے  کہ انہوں نے ملکہ کی  آمد  کی  طرف  کوئی توجہ نہ کی ۔
بادشاہِ وقت  کی ملکہ جس کے سامنے کھڑی تھی وہ خود ہفت اقلیم  کا  بادشاہ تھا  ۔  جس کی حکومت کا رقبہ اس جہانِ فانی سے عالمِ جاوید تک پھیلا ہوا تھا۔
ملکہ کچھ دیر  ان کے متوجہ ہونے کی امید میں کھڑی رہی ، آخر  ہمت کر کے سلام کیا۔ سلام کا   جواب ملا تو  ملکہ  نے ادب سے پوچھا :۔  "جناب ! یہ کیا بنا رہے ہیں۔؟" اسی  بے نیازی سے جواب آیا:۔ " جنت کا محل بنا رہا ہوں۔"

اور یہ وہ مقام ہے جہاں دل و دماغ  کاپانی پت سجتا ہے ۔  عقل  ماننے  کیلئے مشاہدہ  مانگتی ہے ، مگر  دل تو  آنکھیں بند  کر کے بے اختیار  "آمنا صدقنا " کہہ دیتا ہے ۔ پھر  ان  دونوں کے مان لینے میں بھی بہت بڑا فرق ہے ۔ عقل  مان  لینے کے بعد منکر ہو جاتی ہےلیکن دل منکر  نہیں ہوتا ۔  دانشوروں  کا قافلہ  ہمیشہ عقل کے مشورے پراپنی راہ بدل لیتا ہے ۔ لیکن میں نے آج تک کسی  دیوانے کو ہزار  افسوس کے باوجود بھی جادہ  ٔ حق  سے ہٹتے نہیں دیکھا۔

زبیدہ  خاتون کو  بھی اپنی آنکھ کے دیکھے سے زیادہ ایک عارف  کی  بات پر یقین تھا ۔ پس اسی یقین نے پوچھا  :۔  جنت کا  یہ  محل میرے ہاتھ پر  فروخت کریں گے۔؟" جواب ملا:۔ " ضرور فروخت کروں گا۔"

یہ ہے  نازِبندگی ۔۔۔۔۔  غور فرمائیے ۔۔۔۔  جنت کس کی  اور فروخت کون کر رہا ہے ۔۔۔۔  
ضروری ہے کہ اس مقام کی بھی مناسب تشریح کرتا چلوں تاکہ کوئی  ابہام  نہ رہے ۔  
حدیث شریف  کے مفہوم کے مطابق  ٭جو خدا کا ہوتا ہے خدا اس کا ہوتا ہے ۔٭پس  جس کا خدا ہو گیا تو  کائنات میں باقی رہ ہی کیا گیا ۔۔۔

ملکہ  نے  خوش ہو کر  قیمت دریافت کی  ۔  جواب ملا :۔  "ایک درہم۔"
جواب سنتے ہی زبیدہ خاتون نے فوراً قیمت پیش کر دی  ۔ اور  دنیا کا  سب سے انوکھا سودا  طے  ہو گیا ۔اشٹام پیپر  وغیرہ تو  اس زمانے  میں ہوتے نہیں تھےاور  پٹواری  ، تحصیلدار  بھی  نئے زمانے  کی بدعات  ہیں۔ اس  لیے    قیمت  ادا ہونے  کے بعد  حضرت بہلول داناؒ نے  ایک لکڑی اٹھائی اور  گھروندے  کے گرد  خط  کھینچتے ہوئے فرمایا :۔  میں  نے جنت کا یہ محل ایک درہم کے عوض زبیدہ  خاتون کے ہاتھ بیچ دیا ۔"یہ سنتے ہی زبیدہ خاتون  اس یقین کی خوشی  سے سرشار  ہو گئی کہ اسے جیتے جی جنت مل گئی ہے۔اور  واپس  اپنے محل میں آگئی ۔

رات ہوئی  اور ہمیشہ  کی  طرح گزرگئی ۔  لیکن جب صبح تہجد  کے وقت  خلیفہ  ہارون  الرشید  پریشانی  کے عالم  میں حرم سرا میں تشریف  لائے تو پہرے دار  کنیزیں اور ملکہ بھی خلیفہ کی خلاف ِ عادت اور بے وقت آمدپہ   حیران ہو گئیں۔   ملکہ  نے  خلیفہ سے پریشانی  اور تشریف  آوری کا سبب پوچھا تو خلیفہ نے بتایا :۔"میں نے  ایک عجیب و غریب  خواب دیکھا  ہے ۔کہ میں ایک نہایت حسین و دلکش چمن کی سیر کر رہا ہوں ۔ پھولوں کی رعنائی اور درختوں  کی زیبائی بیان سے باہر ہے ۔ہموار زمین اور شفاف نہریں  جن میں دودھ اور شہد  رواں ہے ۔خوش رنگ  و خوش گلو پرندوں کے نغمے جادو جگا  رہے ہیں۔رنگ و نور میں ڈوبے محلات تا حد نظر پھیلے ہیں۔ میں عالم  حیرت میں ڈوبا یہ سب دیکھ ہی رہا تھا کہ میرے  قریب سے جھلملاتا ہوا نور کا ایک پیکرِلطیف گزرا  ۔ میں نے اس سے دریافت کیا یہ کونسی جگہ ہے اس نے کہا "جنت الفردوس"۔اسی  حیرانی میں گھومتا  پھرتا،   میں  لعل و زمرد سے بنے ایک خوبصورت  محل کے سامنےجا پہنچا  اس  پر  بخطِ سبز  " زبیدہ خاتون " لکھا ہوا تھا ۔  اور پھر میری آنکھ کھل گئی ۔ بیدار ہونے کے بعد تعبیر کے تجسس نے مجھے اتنی مہلت نہیں دی کہ صبح ہونے کا انتظار کرتا ۔اگر  مناسب ہو تو  بتاؤ یہ کیا راز ہے ، جس نے جیتے جی تمہارا نام  جنت الفردوس میں پہنچا دیا ۔؟؟"ملکہ  نےکہا:۔  اپنے نامہ  اعمال  میں اور تو کوئی ایساعمل یاد نہیں ۔ البتہ گزشتہ شام مجذوب بہلول  داناؒ سے ملاقات ہوئی تھی ۔" اور سارا واقعہ  کہہ سنایا۔ خلیفہ کو بھی اس مجذوب سے ملاقات کا شوق پیدا ہوگیا۔  اس  نے کارندوں کو حضرت بہلول دانا ؒکی تلاش میں بھیجا ۔

   جذب و جنون والوں کا کوئی   مخصوص ٹھکانہ   نہیں ہوتا ۔ جہاں  بیٹھ گئے دنیا  بس گئی ، اٹھے تو شہر اجڑ گیا۔۔۔۔ہزاروں  کے بیچ بھی تنہا۔۔۔۔کہیں جو مل گئے تو عالم  ایسا کہ ملنا نہ ملنا دونوں برابر۔   نگاہوں سے اوجھل ہو گئے تو اب ڈھونڈ انہیں چراغِ رخِ زیبا لے کر  ۔۔۔۔۔۔

لگا تار کئی دن کی تلاش کے بعد  ایک ویرانے میں حضرت بہلول دانا ؒ مل  گئے ۔  آج بھی ان کا وہی عالم تھا۔  آنکھیں چڑھی ہوئی تھیں اور دونوں  جہان سے بے نیاز  پتھر  اور  تنکے جمع  کیے  گھروندہ  بنانے میں مشغول  تھے ۔خلیفہ کو  خبر کی گئی اور خلیفہ فوراً وہاں پہنچ گیا ۔

واہ ۔۔۔!!! کیا عجیب و غریب منظر تھا۔۔۔
سلطنت ِ اسلامیہ کا فرمانروا  خلیفہ  ہارون الرشید  جس  کے رعب و جلال سے دنیا کے تین حصے ہمیشہ متاثر رہے ۔ یورپ  و فارس کے  سلاطین جس کے باجگزار کہلاتے ہوئے  فخر محسوس کرتے تھے ۔ وہی ہارون الرشید  ایک فقیر  کے  سامنے مؤدب کھڑا تھا ۔

سلام کیا ۔۔۔۔ جواب ملا ۔۔۔۔
پوچھا :۔  حضور یہ کیا بنا رہے ہیں۔؟
جواب ملا:۔ جنت کا محل بنا رہا ہوں
پوچھا :۔ اسے فروخت کیجئے گا۔؟
جواب ملا:۔  ضرور
قیمت دریافت کی تو جواب  ملا:۔ تیری پوری سلطنت اس محل کی قیمت ہے ۔
یہ سن کر  خلیفہ  کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکلی یا نہیں، یہ تو اللہ جانے مگر کچھ دیر  اسے  جیسے سکتہ سا ہو گیا ۔کچھ وقفے کے بعد  پھر  عرض کیا :۔
 حضور ! ابھی چند دن پہلے آپ  نے زبیدہ خاتون کے  ہاتھ ایک درہم پر  جنت فروخت کی ہے ۔  یک بیک  سٹاک ایکسچینج  میں اتنی تیزی ۔۔۔۔ ؟؟؟ 
حضرت بہلول داناؒ نے جلال کے عالم میں خلیفہ کی طرف دیکھا اور فرمایا :۔ زبیدہ خاتون پر اپنا قیاس  مت کر  ۔  وہ جنت دیکھ کر نہیں آئی تھی  ۔ اس نے صرف میری زبان پر  ان دیکھی جنت کا یقین کر لیا ۔ تنکوں اور پتھروں  سے بنے گھروندے کو جنت کا محل سمجھنے کیلئے  اسے اپنے مشاہدے کا انکار کرنا پڑا  ۔ عقل کے فیصلے سے جنگ کرنا پڑی ،اور نظر کو جھٹلانا پڑا ۔ اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم جنت دیکھ کر  آ رہے ہو   ۔  جنت کے وہ سب نظارے اب تک  تمہاری نظر کے سامنے ہیں۔ اس لئے تمہارے ساتھ کوئی رعایت  نہیں کی جاسکتی ۔"

بقول  قرآن  مجید :۔  اس  میں عقل والوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں۔
اور بقول  چھوٹا غالب:۔  اس میں عقل کے اندھوں   کے لیے بہت سی خامیاں ہیں

قارئین اس قصے سے جو مرضی  نتیجہ  نکالیں لیکن فدوی  کا مقصد  صرف پیکران ِ اخلاص و یقین ،  اور مہر  ومحبت  کی  دیویوں  کو  ایک  چھوٹا سا  خراجِ تحسین  پیش کرنا تھا ۔اس  فقیر کی باتوں پہ واہ واہ کرنے والے تو بہت ہارون الرشید  بھی ہیں اور محمود الرشید  بھی ۔  دیکھا دیکھی اور شرما شرمی میں بہت سے لوگ فدوی کی  دوستی کا دم بھی بھرتے ہیں۔  مگر  جب  میں نے یقین کی پل صراط بچھائی  تو   سب  یار دوست  اپنی  عقل  کے دوزخ میں گرتے گئے ۔اور یہ پل پار کرنے والے    "کچھ  ہوئے  تو  رندانِ  قدح خوار  ہوئے۔" قصور ان بے چاروں کا بھی  نہیں کیونکہ  وہ بے چارے تو آنکھوں دیکھے  کے محتاج ہیں۔لیکن  ان  پیکرانِ یقین  کی  صدیقیت  کے صدقے  جنہوں نے  فدوی کو یقین  کے قابل  سمجھا۔
  یہ قصہ صرف زبیدہ خاتون کا نہ تھا ۔  بلکہ  یہ قصہ  ہر  خاتون  کا  ہے ۔ یہ قصہ عورت کا  ہے ۔  اس عورت کا ہے  جو حوا  کی  بیٹی ہے ۔  جنت سے نکلوانے والا موضوع  ایک  الگ داستان رکھتا ہے جس  کو غلط رنگ دینے والوں کو یہ یاد کرنا  چاہیے  کہ آدم  علیہ السلام کا  ساری  آراستہ  و پیراستہ  جنت میں دل  نہیں لگا تھا ۔ یعنی  حضرت حوا  کی  آمد سے پہلے جنت حضرت آدم علیہ السلام کی نظر میں جنت نہیں تھی ۔ تو  قارئین  یہ قصہ اسی  کا ہے جس  کے بغیر  جنت بھی جنت نہیں۔

 خوشبو صرف احسا س  ہے ۔۔۔ خوبصورتی بھی ایک احساس ہے ۔۔۔ خوشبو  کو فریگرینس  کہہ لیں یا مہک  یا کسی  بھی زبان  کا نام دے دیں، اس سے خوشبو  کے اصل پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ خوبصورتی کو بیوٹی کہنے سے کیا اس میں کوئی  فرق پڑتا ہے ۔۔۔؟؟؟ پس  پھر  اس جانِ احساس کو  بھی کوئی سا نام دے دیں،  کسی  بھی زبان  میں کہہ  کے دیکھ لیں۔۔۔  عورت کہیں، امراۃ کہیں، تریمت ، زنانی ،  استری کہیں یا وومن   ،کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔

ایسا کیوں۔۔۔۔؟؟؟

پھول فرق رکھتے ہیں۔  کیونکہ پھول  مجسم ہیں ۔۔۔ مگر  خوشبو مجسم نہیں بلکہ ایک احساس ہے ۔البتہ  ہر  خوشبو  کی  ایک انفرادیت ہے
خوبصورت وجود  فرق رکھتے ہیں ۔  کیونکہ وہ مجسم ہیں۔۔۔۔ مگر  خوبصورتی صرف ایک احساس ہے ۔البتہ  ہر  خوبصورتی کی  ایک انفرادیت ہے

بالکل اسی طرح عورت اپنی "اصل"کے لحاظ  سے  ایک ہے ۔  نام  اور رشتے بدلنے سے  اصل نہیں بدل جاتی ۔  وقت اور جسم  ہی بدلتے آ رہے ہیں۔  فطرت تو آج بھی وہی ہے ۔
اس لیے کوئی  فرق نہیں پڑتا کہ اگر   کسی زمانے میں اس  کا نام  زبیدہ  خاتون  تھا تو کسی زمانے میں مہ جبین۔
کسی علاقے  میں اس کا  نام عنبل وارثی ہو  ،  چاہے  غزل ناز غزل۔۔۔
بے شک  وہ  آئر لینڈ والی  ملکہ  ہو، یا انگلینڈ  کی  پرنسس  ہو۔
کوئی اسے مومنہ کہتا ہے ، کوئی اسے عشبہ  پکارتا ہے ، اور کوئی  یسریٰ۔۔۔۔
یہ توصرف  ناماگون  تھا۔  اب رشتے  بدل  کر دیکھ  لیں۔  رشتہ ہی بدلتا جائے  گا ، "اصل "تو  عورت ہی رہے گی ۔
ماں بھی عورت ، بیوی  بھی  عورت ۔  بہن کا رشتہ ہو یا بیٹی کا ۔  صرف دوست ہو چاہے محبوبہ ۔۔۔۔  اصل  تو اس کی عورت ہے ۔
    سلام ہو  اس  جانِ جنت پر 
سلام ہو اس  جانِ احساس پر

کرم فرما