Tuesday, 6 May 2014

الف نون 4 (حصہ دوم)۔

0 آرا
زرینہ کی رخصتی کے ساتھ  ہی کمرے میں جیسے بھونچال آ گیا ۔  الف  کا ہاتھ  ناشتے  میں آئے  مالِ غنیمت  پر حملہ آور ہونے  ہی  لگا کہ  ایک  تکیہ غوری میزائل  کی طرح پیچھے سے سر سے آن ٹکرایا۔ اور  ساتھ  ہی نون گرجتا چنگھاڑتا ہوا غریب پہ  چھا جانے والی  نحوست  کی طرح الف پر ٹوٹ پڑا ۔  زبان اور ہاتھوں  کے اندھا دھند اور بے دریغ استعمال  کے ذریعے  نون نے الف  کو سوچنے ، سمجھنے  اور  کچھ بولنے یا اپنا دفاع کرنے  کی مہلت ہی نہ دی۔لیکن جلد ہی کوک سے نکلنے والے  بلبلوں کی طرح  اس کا جوش  بھی کم ہو گیا اور الف پہ بیٹھے بیٹھے ہی ہانپنے لگا۔
اس وقفے کو  امداد غیبی سمجھ کر  الف نے  ہل جل کر  نون کے نیچے سے نکلنے کی  کوشش کی مگر  صرف  کراہ کر رہ گیا۔پھر نیچے  لیٹے لیٹے  ہی دہائی دی  ۔ کیوں ایک دم پاگل ہاتھی کی طرح  آپے سے باہر ہو گئے ہو  ۔مسئلہ کیا ہے ۔۔۔؟؟؟
نون ہانپتا ہوا غرایا :۔  تو یار نہیں ، یار مار ہے  ۔۔۔۔ تقریباً  واجب القتل  ہے ۔
الف ہنسا  :۔ شکر ہے "تقریباً" کی رعایت تو دی۔
نون کا پارہ ابھی بھی بلندی پر تھا:۔  اس طرح ہنہنانے سے اگر تمہارا خیال ہے کہ  میرا غصہ ٹھنڈا کرلو گے  تو محض خام خیالی ہے تمہاری ۔غضب خدا کا ۔ سات گھر تو ڈائن بھی چھوڑ دیتی ہے ۔ اور تو ہے  کہ عین میری ناک کے نیچے عشق پیچے  لڑا رہا ہے ۔ اور  مجھ معصوم  کو  اعتماد میں لینا تو دور تو نے ہوا تک نہیں  لگنے دی۔
الف نے بے چارگی سے دہائی دی:۔  مجھے صفائی کا موقع تو دو۔  رحم کھاؤ یار۔۔۔۔
کس لیے  رحم کھاؤں ؟  میں کوئی پاگل ہوں  جو رحم کھاؤں؟ واہ  رے تیری  ہیرا پھیری ۔۔۔ تو کھائے  میری حسین ہمسائی کے ہاتھ  کا  بنا لذیذ گاجر حلوہ ۔ اور میں صرف رحم کھاتا رہوں؟  رحم سے پیٹ نہیں بھرتا ۔ " یہ کہہ کر نون نے  ہاتھ بڑھا کر  میز پہ پڑا  گاجر  کا حلوہ اٹھا یا  اور الف  پہ بیٹھے  بیٹھے  مزے سے کھانے لگا۔ الف بہتیرا چلایا  ۔ دوستی کے واسطے دئیے ۔  مگر نون  جیسے بہرا ہو گیا تھا ۔ اس کے کان پہ کوئی جوں تک نہ رینگی ۔حلوہ ہڑپنے کے بعد  نون  نے چائے کا  مگ  اپنے حلق میں انڈیلا  اور ایک عدد  ڈکار خارج  کرکے بولا:۔ واہ بھئی  واہ ۔ ذائقہ ہے بہو کے ہاتھ میں"۔
"اے سنگدل انسان  !  میرے بے زبان معدے  حق تو  تم نے مار ہی لیا ہے ۔ اب خدا کیلئے  میرے پھیپھڑوں  پر تو رحم کھاؤ"۔  الف  کے لہجے میں  وہ شکستگی اور درد  تھا   جو"کنگ لئیر"  کا بروٹس سے تیر کھانے کے بعد تھا۔نون کا موڈ چونکہ حلوہ خوری کے بعد  بحال ہو چکا تھا اس لیے  الف کے اوپر  سے  اٹھ گیا۔"ہٹلر  کے چیلے !! تم سے تو دوزخ کے فرشتے پوچھیں ۔۔۔اب بکو کیا مسئلہ ہے ، جو تم کچھ کہے سنے بغیر  میرا بھرتا بنانے  پہ تل گئے تھے ۔" الف کراہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔نون  دانت نکوس کر ڈھٹائی سے بولا :۔ " دفع کر ۔۔۔۔  میں تو بس گاجر کا ھلوہ ہڑپنا چاہتا تھا ۔ ویسے بھی  زرینہ کونسا میری منگیتر ہے؟"۔
الف کو تو پتنگے لگ گئے :۔ "تو میں کونسا اس کیلئے  مرا جا رہا ہوں ۔  مین تو بس ناشتے کے شکریے  میں خوش اخلاقی  بگھار رہا تھا ۔ لیکن تم پتہ نہیں  کیا کیا سمجھ بیٹھے  ۔ اور ہاں ۔۔۔۔!!! ایک پلیٹ حلوہ  ہڑپ کے زیادہ خوش نہ ہو ۔ تمہیں تو آج میری وجہ سے نصیب ہو گیا ۔  مگر میرے پاس جو پلان ہے  ۔ اس پہ عمل درآمد کے بعد  سارادن ایسے لذیذ کھانوں سے فرصت نہیں ملنی مجھے ۔  اور جس کمینگی کا  مظاہرہ ابھی تم نے کیا  ہے اس کے بعد  میں تو کسی صورت  تمہیں  اپنے  تازہ  منصوبہ برائے  خوشحالی  میں شامل نہیں کرنے والا"۔
منصوبے کا سن کر نون کو اپنی حماقت اور جلد بازی پر رونا آیا۔ لپک کر الف سے لپٹ گیا  اور بولا :۔ "چھوڑ نا یارمنصوبے کا سن کر نون کو اپنی حماقت اور جلد بازی پر رونا آیا۔ لپک کر الف سے لپٹ گیا  اور بولا :۔ "چھوڑ نا یار،ایک پلیٹ حلوے  کی وجہ سے تو  بچپن کی دوستی پر  نفرت کے پوچے پھیرنے پہ تُل گیا ہے "۔
الف کراہا:۔ " پہلے ہی  تیری لتاڑ پچھاڑ سے  میری بے چاری  پسلیاں دکھ رہی ہیں ۔ اب تو  بچی کھچی پسلی بھی ہلانا چاہتا ہے کیا ؟۔  چل دور ہٹ"۔نون کھسیا  کر  الگ ہوا اور بولا  :۔ دیکھ نا یار ،  میری ہمسائی نے تم پر لائن ماری ، میں نے تیرا حق مارا۔  حساب ہوا  برابر۔  بس اب صلح کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ " نون نے ہاتھ اتھا کر خود ہی فیصلہ  اور اعلان سنا دیا۔
لیکن الف کے تیور صلح والے  نہ تھے ۔ اس نے چپ چاپ  حملے کے دوران اتری جوتی  تلاش کر کے پاؤں میں گھسیٹی  اور  باہر جانے لگا۔ہر حربہ ناکام جاتا دیکھ کر  نون  کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے ۔ اسے اس احمق کی کہانی یاد آئی  جوسونے کا انڈہ دینے والی مرغی  ذبح کر کے پچھتایا تھا۔لپک کر آگے بڑھا اور  الف کو بازو سے پکڑ کر روک لیا:۔ "دیکھ یار  آج تک ہم نے جو کچھ کھایا ساتھ کھایا ۔  حتیٰ  کہ مار ، پھٹکار بھی ۔اب  اگر  قسمت کھلنے کے آثار نظر آئے ہی ہیں  تو تم اس طرح  بہانے بہانے رسے تڑانے لگے ہو ۔ اچھا یہ دیکھ میں  کان پکڑتا ہوں "۔  مگر الف کی بے نیازی سے  ہر گز دال گلتی نظر نہ آئی۔ اس نے اپنا بازو جھٹکے سے چھڑایا اور  بیٹھک کا دروازہ پار کر گیا ۔پیچھے سے نون نے آواز  دی:۔ "اچھا تو  پھر سن! اگر مجھے اس منصوبہ برائے خوشحالی میں شامل نہ کیا گیا تو  میں بھی کسی کو اکیلے  اکیلے یہ خوشحالی نصیب نہیں ہونے دوں گا۔"یہ بڑھک توقع سے زیادہ  کامیاب اور نتیجہ خیز  رہی ۔  جاتے ہوئے الف کے قدم ایک دم   رک گئے  مگر اس نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔نون سمجھ گیا کہ دھمکی  نے لوہا گرم کر دیا ہے اب بس  مسکے کی چوٹ لگانے کی دیر ہے ۔بھاگابھاگاآیا اور الف سے بولا :۔"یار میری بات کا غلط مطلب مت لینا۔ وہ تو میں غصے میں  اول فول بک ہی دیا کرتا ہوں اکثر ۔ چل اب تو بھی غصہ تھوک اور آجا مل کر ناشتہ کرتے ہیں"۔
الف نے حیرانی سے پوچھا:۔ " کونسا ناشتہ۔۔۔؟؟؟ حلوے اور چائے  کا کریا کرم  تو  میرے سامنے ہی تمہارے ہاتھوں ہو چکا ہے ۔ اب کونسے ناشتے کا جھانسا دینے کی کوشش میں ہو  تم؟"۔
نون  سینہ ٹھونک کر فخریہ لہجے میں بولا:۔ "ہم ہیں تو پھر کیا غم ہے۔  بس تم آؤ تو سہی  ۔۔۔۔  یار کو  فرسٹ کلاس دودھ پتی  پلاتا ہوں ۔" حیرت کے مارے الف کی  آنکھیں باہر ابل آئیں:۔" دودھ پتی۔۔۔؟؟؟   مگر کہاں سے آئے گا دودھ۔۔۔؟؟؟ میری  معلومات    کے مطابق تو تم  ممالیہ  جانوروں  کی صف میں شامل نہیں ہو۔ پھر ۔۔۔؟؟؟؟
نون  الف کو کھینچتا ہوا اندر لے گیا اور بولا:۔ ""حیران ہونے کیلئے بہت عرصہ پڑا ۔ ابھی بس میرا ساتھ دو اور کمال دیکھو۔" یہ کہہ کر نون  نے  اپنی چارپائی  کے نیچے سے ایک لمبی سی رسی برآمد کی  ۔اور ہمسایوں کے لان سے تھوڑا سا گھاس توڑ  کر رسی کے ایک سرے سے  باندھ دیا۔جس  سرے سے گھاس بندھی تھی  اسے نون نے گلی میں رکھ دیااور  رسی پکڑ کے بیٹھک کے دروازے میں  گھات لگاکے  بیٹھ گیا ۔ چند منٹ  انتظار کے  بعد  گلی میں دو تین بکریاں  نمودار ہوئیں ، جوکہ محلے کے کسی گھر کی تھیں شاید ۔  بڑی جسیم لائل پوری بکریاں تھیں ۔ جونہی وہ  رسی سے بندھے گھاس کو دیکھ کر  کھانے کو لپکیں ۔ نون نے کسی ماہر شکاری کی طرح  ہاتھ میں پکڑی رسی کو لپیٹنا شروع کر دیا ۔ بکریاں گھاس کے لالچ میں منہ اٹھائے  گھاس کے پیچھے پیچھے  کھنچی چلی آئیں ۔ حتیٰ کہ نون رسی کھینچتا ہوا الف سمیت  دروازے سے ہٹ کر  اندر چلا گیا ۔ بکریاں بھی  گھاس کے تعاقب میں  دروازے میں گھس آئیں ۔  دروازے کے پیچھے نون  تیار کھڑا تھا ۔ جونہی دونوں بکریاں اندر  داخل ہوئیں  نون نے جھٹ  سے دروازہ بند کر دیا ۔بکریاں اس سب واردات سے بے نیاز  جلدی سے گھاس پہ  لپکیں  ۔ جبکہ نون  الف کو اشارہ کر کے بکریوں پر لپکا اور گھاس کھاتی بے خبر بکریوں  کو دبوچ لیا ۔ اور اگلے چند لمحوں میں  دونوں رسی سے بندھ چکی تھیں  ۔ الف ابھی تک  حیرانی اورناسمجھی کے عالم میں تھا ۔   غصے سے   بولا :۔ "اب تو چوریاں بھی کرنے لگا ہے ؟ تف ہے تم پر ۔ مجھے بھی اپنے ساتھ  پکڑواؤ گے "۔ 
نون جیسے الف کی  سادہ لوحی پہ مسکریا  اور بولا:۔ " بھولے بادشاہ  !  کونسی چوری ؟  میں کونسا یہ بکریاں بیچنے کا  ارادہ رکھتا ہوں ۔؟بس چپ چاپ دیکھتا جا "۔ یہ  کہہ کر  نون اندر سےایک جگ  لے آیا اور  ایک بکری کے نیچے  بیٹھ کر  اس کے  تھن دھونے لگا جو دودھ سے بھرے  دور سے ہی نظر آ رہے تھے ۔  اب الف کو سمجھ آیا کہ نون  کیوں اسے دودھ پتی کی آفر کر رہا تھا ۔ اس دوران  نون نے ماہر  گوالے کی طرح بکری کا دودھ دوہنا شروع کر دیا ۔ ایک کے بعد دوسری کی باری آئی ۔ دونوں کا دودھ نکال کر  بکریوں کو باہر بھگا یا  اور الف سے بولا:۔ " کیا یاد کرو گے تم بھی ۔  انشاءاللہ ساری زندگی تم میرے ہاتھ کی چائے کا  ذائقہ نہ بھلا پاؤ گے"۔
الف منہ بنا کر بولا :۔ "میں نہیں پینے ولا چوری کے  دودھ سے بنی چائے "۔  اس پر نون نے  ایک فرمائشی سا قہقہہ  لگایا اور  آنکھیں گھما کے  بولا :۔ " حاجی صاحب!  اسے چوری نہیں شکار کہتے ہیں۔ اور شکار چور نہیں شیر کرکے کھاتا ہے ۔  گیدڑ ٹائپ لوگ  بس چائے کے کھوکھوں پہ  پانی ملے دودھ  کے کڑوے کسیلے ، بدرنگے  محلول کو چائے سمجھ کر پیتے ہیں۔  ہم تو شیر ہیں شیر ۔  اپنا شکار کر  کے  پیتے ہیں"۔ 
الف کو بھی ہنسی آگئی:۔ "اوہ میرے خدا !  کیا نیرنگی  ہے ۔  جب سے  نواز  شریف  کی پارٹی الیکشن جیتی ہے  پاکستان کا ہر گدھا بھی اپنے آپ کو  شیر سمجھ   بیٹھا ہے"۔
نون سنی ان سنی کر کے کچن میں جا گھسا  اور چند منٹ  بعد  تھرموس اور دو کپوں کے ساتھ  بیٹھک میں آیا۔اور  حاتم طائی والے لہجے میں  بولا :۔  "لے جگر  عیش کر اور  اب مزید کسی بک بک کے  بغیر  سیدھی طرح  نیا پلان اگل دے ۔ ورنہ ۔۔۔" الف  جواب دینے  کی بجائے پراٹھوں کو دیکھ کر گنگنایا:۔ " تیری دو ٹکیاں دی نوکری ۔۔۔وے میرا لاکھوں کا ساون جائے ۔" اور  ہاتھ بڑھا کر  پراٹھے اپنی  طرف کھسکا لیے۔نون جھنجھلا گیا  ۔ مگر الف کو  پراٹھے  اجاڑتے دیکھ کر  اس نے مزید  کچھ کہنے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے  پراٹھوں  پہ حملہ کرنا مناسب سمجھا۔
اسی اثنا میں چوڑیوں کی کھنکھناہٹ کے ساتھ ہی  دروازے میں زرینہ  کا چہرہ  طلوع ہوا۔  محترمہ ابا جی کو  ناشتہ دینے گئیں تو  لگے ہاتھوں سوٹ بھی  بدل لیا  اور ہونٹوں کی سرخی مزید گہری کر لی ۔ جسے دیکھ کر الف نے بمشکل اپنی ہنسی روکی  ۔جبکہ زرینہ  کے دل میں الف کو مسکراتا دیکھ کر جلترنگ سے بج اٹھے:۔"ہائے اللہ !!! آپ ابھی تک  ناشتہ کر رہے ہیں ۔ میں تو برتن  لینے آئی تھی  ۔" زرینہ نے   دل کا چور چھپانے کیلئے      اپنی   آمد کا جواز گھڑا۔اور نون کے  ماتھے پر شکنیں پڑ گئیں ۔ دل ہی دل میں زرینہ کا منہ چڑاکے سوچا:۔ " سب سمجھتا ہوں میسنی کہیں کی"۔ 
 جونہی ناشتہ ختم ہوا زرینہ نے جھٹ سے  ہتھیلی  الف کے سامنے کر دی ۔  الف نے برتن اٹھا کر  زرینہ کے پھیلے ہاتھ پہ دھر دئیے۔ نون کی ہنسی چھوٹ گئی اور  زرینہ بے چاری کھسیا کر رہ گئی۔ :۔ "برتن تو میں لے ہی جاؤں گی مگر الف جی! ذرا میرا ہاتھ تو دیکھئے ۔ اور میر ی قسمت کا حال تو بتائیے ۔ اتفاق سے آج آپ مل گئے ہیں ورنہ آپ تو عید کے چاند کی طرح  کبھی کبھار ہی نظر آتے ہیں۔"لفظوں کے ساتھ ساتھ  زرینہ نے قاتل اداؤں  کا جال پھینکا  تو الف کی  سانس اٹکنے لگی ۔  دل کو دھڑکنوں کی گنتی بھول گئی اور  حلق  جیسے صحرائے تھر  ہو گیا ہو۔نون کو لگا کہ آج الف برا پھنسا ہے ۔ کمک کے طور پر  اس نے پانی کا ایک گلاس  الف کی طرف بڑھایا  ۔ زرینہ کی آنکھوں کے بھنور میں ڈوبتے الف کو  یہ تنکے کا سہارا غنیمت لگا ۔ گلاس لے کر اس نے ایک ہی سانس میں پورا گلاس اندر  انڈیل لیا اور دو چار گہری سانسیں لے کر  حواس بحال کیے۔نون کا خیال تھا  کہ اب الف کوئی  بہانہ بنا کر اس چڑیل کو ٹالے گا ۔ مگر اس کی  حیرت کی  کوئی انتہا نہ رہی  جب الف  زرینہ  کی  حنائی ہتھیلی تھام کر  اسے  غور سے دیکھنے لگا۔ کچھ دیر گھورنے کے بعد  پر سوچ لہجے میں بولا  :۔ "مس !! آپ کی قسمت کی لکیر کافی گنجلک ہے "۔ زرینہ کے پلے کچھ نہ پڑا تو اس نے پوچھ ہی لیا ۔ :۔ "جی یہ  گنجلک کیا ہوتا ہے۔؟"اور تائید  طلب نظروں سے  نون  کی جانب دیکھا ۔ نون  جو پہلے  ہی الف کے ہاتھ میں  زرینہ کا ہاتھ دیکھ کر جلا بھنا بیٹھا تھا ۔ آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا:۔"یہ  کیا تم نے مرزا رجب علی سرور  والی اردو بولنا شروع کر دی ہے ۔ اور تمہارا کیا خیال ہے  کہ مس زرینہ  نے ایم اے اردو  کیا  ہوا ہے ۔  یا سب نے تمہاری طرح دیوان غالب گھول کر پیا ہوا ہے ؟۔ اردو اگر پاکستان  کی  قومی زبان ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں  کہ ہر پاکستانی کو اردو آتی بھی ہے ۔ میٹرک تو دور  ایف اے ، بی اے کے طالب علموں کو بھی بس اتنی اردو آتی ہے جتنی کے گائیڈ  بکس ، ٹیسٹ پیپرز  میں لکھی ہوتی ہے ۔  انگریزی  تو البتہ ہماری پادری زبان ہے  مگر  سٹار پلس کی مہربانی سے ان پڑھ  خواتین بھی ہندی سمجھ اور بول لیتی ہیں "۔
 نون سانس لینے کو رکا تو  الف نے ہاتھ جوڑ دئیے  اور زرینہ نے منہ بنا کر کاٹ کھانے والی نظروں سے نون کو  گھورا ۔ الف نے  زرینہ کی طرف متوجہ ہو کر کہا:۔"گنجلک کا مطلب ہوتا ہے  الجھا ہوا ، اور پیچیدہ۔ یعنی آپ کی قسمت کی لکیر کافی  الجھی ہوئی  ہے ۔  کبھی فرصت  سے ہاتھ دکھائیے گا"۔ زرینہ نے فدا ہو جانے والی نظریں الف کے چہرے پہ گاڑیں اور  بولی :۔ "کوئی بات نہیں آپ  اطمینان سے ہاتھ دیکھئے  ۔ مجھے کونسا جلدی ہے ۔ "۔ مرتا کیا نہ کرتا ۔ الف دوبارہ ہتھیلی کی لکیروں سے الجھنے لگا ۔  چند ثانیے بعد بولا  :۔"ہم،ہمم ممم۔۔۔۔ آپ  کے کافی خواب اور ارمان ہیں ۔  اور  ان  کے پورے ہونے کا بھی اشارہ ہے ۔"۔  زرینہ  کا منہ کھل گیا  مسرت سے بھرپور لہجے میں بولی :۔" ہائے اللہ۔۔۔۔!!! سچی۔۔۔۔؟؟؟"۔ الف نے  اپنی بات پوری کی :۔ " مگر اس لکیر کو ایک  اور لکیر کاٹ رہی ہے ۔ اس کا مطلب ہے  کہ  کچھ رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں آپ کے ارمانوں  کے راستے میں۔"زرینہ  نے  پھر بیچ میں بات کاٹ دی :۔ "رکاوت کیا ہے۔۔۔؟؟؟ بتائیں ناں الف جی۔۔۔ آپ تو چھپے رستم نکلے  الف جی ۔ بتائیں ناں  میرے دل کی مراد کب پوری ہو گی ۔ " الف بدستور لکیروں کھونے ایکٹنگ  کرتے ہوئے بولا :۔ غیر واضح لکیر ہے ۔ اس  کا مطلب ہے کہ  یہ  لکیر  کالے علم  کے عمل کا کرشمہ ہے۔ آپ کا کوئی بدخواہ ہے زرینہ جی جس نے  آپ  کے خلاف کوئی سفلی عمل کروایا ہے"۔ زرینہ ہکا بکا رہ گئی :۔ "بتائیں ناں  اس رکاوٹ کا کوئی تو حل ہوگا۔ کوئی تو توڑ ہوگا۔  میں آپ کو منہ مانگی فیس دوں گی۔  آپ بس یہ مسئلہ حل کریں پلیز"۔
نون جو ساتھ بیٹھ کافی دیر سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا ۔ اب اسے سمجھ آیا کہ الف کا منصوبہ برائے خوشحالی کونسا ہے ۔  منہ مانگی فیس والی بات پر تو  اس کی باچھیں کھل گئیں اور الف پر اسے  بے اختیار پیار آ گیا" واہ میرے یار  تو جینئس ہے ۔  بس نگوڑے زمانے کو ہماری قدر نہیں ۔ " نون  نے دل ہی دل میں الف کو داد دی تو خود کو بھی شامل کرنا نہ بھولا۔
الف نے انکساری  سے جواب دیا :۔ "شرمندہ نہ کریں  زرینہ جی ! ہمارے مرشد  پاک  روپے پیسے  سے سخت متنفر ہیں اور یہی نصیحت فرماتے ہیں۔  فیس  لینے کا تو میں سوچ بھی نہیں سکتا ۔  کیونکہ  آپ  نون کی ہمسائی ہیں تو میری بھی ہمسائی ہوئیں ۔  اس لیے فیس وغیرہ کا مجھے کوئی لالچ نہیں۔ آپ کا کام میں ویسے ہی کروا دوں گا"۔الف کے  آخری الفاظ پر  زرینہ چونکی تو ساتھ ساتھ نون کے بھی کان کھڑے ہو گئے 
زرینہ نے پوچھا:۔ "کس سے کروا دیں گے؟"۔
الف عقیدت بھرے لہجے میں بولا:۔ " اپنے پیر صاحب سے ۔  بہت پہنچے ہوئے بزرگ ہیں وہ ۔  ویسے بھی یہ کوئی  چھوٹی موٹی رکاوٹ  نہیں ہے ۔ ہو سکتا ہے مجھ سے کوئی گڑ بڑ ہو جائےاس لیے  جوگی بابا سے مدد کی درخواست کرنی پڑے گی ۔  مگر ایک مسئلہ ہے"۔ زرینہ جو  الف کی باتوں میں ڈوبتی جا رہی تھی پھر چونکی اور بے تابی سے پوچھا:۔"مگر اب کیا مسئلہ ہے؟"۔ الف نے چہرے پر تما تر بے چارگی کو جمع کیا اور بولا  :۔ مسئلہ یہ ہے کہ  بابا  جی  کوہ ہمالیہ کے غاروں میں چلہ کاٹنے  تشریف لے جا چکے ہیں۔  ویسے تو ان کی شفقت اور مہبانی سے یہ ناچیز  جوگی بابا کا چہیتا اور مقرب مرید ہے ۔ میری درخواست پروہ یہ کام تو دور،  چلہ چھوڑ کر یہاں  تشریف لانے  پر بھی  تیار ہو جائیں گے ۔  لیکن  انہیں بلانے کیسے جاؤں۔آپ کو تو پتا ہے  کہ  قسمت کے مارے بیروزگار کی کیا کیا مجبوریاں  ہوتی ہیں۔  بدقسمتی سے جیب بھی  پاکستان کے خزانے کی طرح خالی ہی رہتی ہے اکثر ۔ پرانا زمانہ  بھی نہیں کہ کسی گھوڑے خچر  پہ بیٹھ کر چلا جاتا ۔  "  الف کی تقریر کے دوران  نون بے چارے نے خود کو دھمال پذیر ہونے سے بمشکل روکا ہوا تھا ۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ  الف کو کندھوں  پہ  اٹھا کے  اتنا ناچے اتنا ناچے  کہ  کبھی انجمن ، صائمہ  اور ریما بھی مجموعی طور پر اتنا نہ ناچی ہوں ۔
زرینہ جلدی سے دوسری طرف گھومی ۔ اس کا ایک ہاتھ حرکت میں آیا اور  چند لمحوں بعد  جب وہ الف اور نون کی طرف مڑی  تو اس کے ہاتھ میں ایک ہزار کا کراراکرار ا نوٹ  موجود تھا ۔ وہ الف کی طرف بڑھا کر بولی  فی الحال  تو میرے پاس یہی موجود ہیں ۔  آج ہی ابا سے  کسی کام کیلئے لیے تھے ۔ "۔  الف نے ہاتھ بڑھا کر  نوٹ پکڑ لیا اور بولا:۔ ارے نہیں  نہیں ۔۔۔ رہنے دیں ۔ شرمندہ تو نہ کریں ۔ (اس دوران  نوٹ جیب میں  منتقل ہو گیا)آپ کو جیب خرچ ملا تھا اور آپ اپنے استعمال کی بجائے ہمیں دے رہی ہیں۔ویسے آپ تو جانتی ہیں کہ شیر کی حکومت میں  اب بندہ  ایک ہزار میں بہاولپور  سے  ملتان تک ہی  جا کر  واپس آ سکتا ہے ۔  کوہ ہمالیہ تک جانا  اور پھر واپس آنا تو  ایک طرف رہا "۔زرینہ صدقے واری  جاتے ہوئے بولی :۔  "ارے الف جی  !! آپ بھی کمال کرتے ہیں ۔ یہ تو صرف آپ کیلئے  ہاتھ دکھائی کے طور پر ایک حقیر سا نذرانہ تھا ۔ آپ بس جوگی بابا کے پاس جانے کی تیاری کریں ۔ سفر کا جملہ خرچ  اس بندی کے ذمے رہا ۔ بلکہ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ جوگی بابا  کو بھی ساتھ لے آئیں۔ اور ہاں آپ بس مجھے سفر خرچ بتا دیں ۔ اس کا جلد سے جلد انتظام ہو جائے گا"۔
نون  کو کافی دیر  ہو گئی تھی چپ بیٹھے بیٹھے  اس سے رہا  نہ گیا تو  خوشی  سے شرابور لہجے میں بولا :۔"میرا خیال ہے دس ہزار کافی رہیں گے"۔الف نے  کھاجانے والی نظروں  سے  نون کو گھورا اور اشارے سے  اپنی چونچ بند رکھنے کی  ہدایت کی ۔اور  زرینہ سے بولا:۔ " دیکھیں جی حالات کا کچھ پتہ نہیں ۔ معلوم نہیں جوگی بابا کو دھونڈنے میں ہمیں کتنے دن لگ جائیں ۔  اب ایسا تو نہیں کہ  جونہی ہم بس سے اتریں گے جوگی بابا ہمارے استقبال کیلئے  موجود ہوں گے۔  باقی آپ خود سمجھدار ہیں"۔سمجھداری کا سرٹیفیکیٹ ملتے ہی زرینہ تو جیسے ہواؤں میں اڑنے لگی ۔ اسے تو آج تک اماں  نے  کوڑھ مغز ،  کم عقل ، بے وقوف اور نجانے کن کن  کن خطابات سے نوازا تھا۔  الف نے سمجھدار کہہ  کر گویا اسے ملکہ پرستان کہہ دیا ۔ اور وہ جو پندرہ ہزار کا کہنے والی تھی فوراً  بیس ہزار کا بجٹ پیش کر دیا۔نون پہ شادی مرگ کی کیفیت طاری ہو گئی اور بے ہوش ہوتے ہوتے بچا۔ الف سے بھی باچھیں کنٹرول نہ ہو سکیں ۔ اس نے بھی خوشی کے مارے منظوری دے دی۔
زرینہ اٹھ کھڑی ہوئی  اور برتن اٹھاتے ہوئے  بولی:۔"اف اللہ ۔۔۔۔!! کافی دیر ہو گئی  ہے  آج تو اماں سے  اچھی خاصی صلواتیں سننا پڑیں گی ۔" پھر الف  کی طرف دیکھ کر  ایک قاتلانہ ادا سے بولی  :۔"اچھا الف جی!! میں اب چلتی ہوں آپ بھی سفر کی تیاری کیجئے ۔" دروازے تک  جا کر مڑی  ، ایک نظر  الف کو دیکھا پھر خود ہی شرما  ئی اوربھاگ کر  باہر نکل گئی۔

0 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما