Saturday, 12 October 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط نوزدہم)۔

3 آرا

چھوڑی اسدؔ! نہ ہم نے  گدائی  میں دل لگی


گوشۂ عافیت کا راز فاش ہونے  کے  چند  دن  بعد  وسیم  نے طلسمی  چارپائی دریافت  کر ڈالی ۔ اس  دریافت کا شانِ نزول کچھ یوں ہے  کہ ایک دن   بندروں کی  نقل کرتے ہوئے جوگی کی ایک الٹی قلابازی  پر  وسیم کی چارپائی کا رام نام  ستیہ  ہو گیا ۔اور  اسی بہانے  سیانوں کا وہ  قول سچ ثابت ہو گیا  کہ  "جو ہوتا  ہے بہتر ہی  ہوتا ہے "۔ چارپائی کا ٹوٹنا  بھی جوگی اور وسیم  کیلئے اس وقت نویدِعافیت  ثابت  ہوا  جب  وسیم  کو  اس ٹوٹی ہوئی چارپائی کے  بدلے  ایک صحیح سالم  چارپائی  الاٹ  ہوئی ۔ جو کہ نہ صرف دیکھنے میں عمروعیار کی ہم شکل تھی بلکہ اعمال  میں عمرو عیار کی  زنبیل  کی  چارپائیانہ صورت  تھی۔ اس کا کمال یہ تھا  کہ  اس پر بندہ  لیٹتے ہی  اندر  دھنس جاتا تھا ۔  اور  اس کے بعد  اگر  اوپر  سے بیڈ شیٹ  یا کوئی  کھیس ، چادر وغیرہ بچھا دی جاتی  تو  دور بین تو کیا خورد بین  سے دیکھنے پر  بھی کسی  کو  معلوم نہ ہو سکتا تھا  کہ  چادر  کے نیچے کوئی آلسی  آرام فرما  بھی ہے ۔اس  نعمتِ  غیر مترقبہ  کو  جوگی اور وسیم نے  تائیدِ غیبی  قرار  دے کر  بغلیں بجائیں اور  خداکا شکر ادا کیا۔یوں  نیند پوری کرنے کا مسئلہ  جزوی طور پر حل ہو گیا ۔طریقہ  واردات  یہ تھا  کہ  وسیم اور جوگی میں سے کوئی  ایک  اپنی باری پر خوابِ  خر گوش کے  مزے  لوٹتا  اور دوسرا  اس  کے اوپر  کھیس اور چادر بچھا کر   بھائی  چارہ نبھاتا۔وسیم  کی طرف  سے اس حیرت انگیز   چارپائی  کو  طلسمی  چارپائی  کا  خطاب عطا  کیاگیا۔

قضا سے  شکوہ ہمیں کس قدر ہے ، کیا کہیے


چند  اصلی  سیانوں کا قول ہے  کہ خوشی  ہو یا غم  دونوں  ہمیشہ  نہیں رہتے ۔  پس وسیم اور جوگی  کی  یہ  بے ضرر  سی خوشی  بھی آخر   ایکسپائر  ہو گئی ۔ بے  خودی  کی طرح یہ ایکسپائری  بھی  بے سبب  نہ تھی  غالب ؔ۔ کیونکہ  واقعی پردہ داری  میں  کچھ رنگے ہاتھوں  پکڑا گیا ۔ خلافِ  معمول  وقوعے کی رات  وسیم  کو عشاء  کی  اذان  سے پہلے  ہی نیند آگئی ۔ نماز کیلئے جاتے وقت  جوگی  نے  یارانہ  نبھایا اور وسیم کے اوپر  کھیس بچھونا برابر کر کے  چلا گیا ۔ کیونکہ طلباء  کے جانے کے بعد  بعض اوقات  بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اکثرہوسٹل  کی  تلاشی  بھی  لی جاتی تھی کہ کوئی  آلسی   مسجد جانے  کی بجائے  بستر پہ پڑا  اینڈ  نہ رہا ہو۔ وسیم  اور جوگی کی نیند  تو ویسے بھی ضرب المثل تھی ۔ نماز سے  واپسی  کے بعد  جیسا  کہ پہلے ذکر  ہو چکا ہے  ہوسٹل  انچارج  صاحب حاضری  چیک کرتے تھے  اور اس  کے علاوہ  جناب  محترم  رشید صاحب  (رائیسِ  ادارہ) بھی  چکر  لگایا کرتے تھے ۔  اور یہ وہ دن تھے  جب  وسیم  دوسری  اور جوگی  پہلی منزل  پر  رہتے  تھے ۔
  وسیم  بدستور  نیندمیں تھا جب  نماز کے بعد  کے معمولات  حسبِ معمول  شروع ہو گئے ۔  رشید  صاحب آئے تو  وسیم کی چارپائی  سونی سونی دیکھ کر  وسیم کی غیر موجودگی کا  سبب پوچھا ۔  اس کا  ایک سکہ بند جواب تھا کہ  نچلی منزل  پر  جوگی  کے ساتھ ہوگا ۔  یہاں تک تو سب  خیر گزری  مگر ہوسٹل  انچارج صاحب  جب حاضری  چیک کرنے  آئے  تو  نجانے کس خیال  میں وسیم کی خالی چارپائی  دیکھ کر  اس پر تشریف رکھ دی  اور پھر  جلدی  سے گھبرا کر کھڑے  ہو گئے ۔  حیران تھے  کہ یا الہی یہ ماجرا کیا ہے ؟؟ ۔  قصہ کوتاہ ،   جب اوپر سے کھیس ہٹایا  گیا تو  نیچے  سے وسیم  کسی  حنوط کی ہوئی  ممی  کی  طرح  نیند  میں ڈوبا  برآمد ہوا۔ 
اس کے بعد  وہی  ہوا جو  اکثر ہوتا ہے ۔ یعنی انکوائری  ہوئی ۔۔۔  چارپائی تبدیل  ہوئی ۔۔۔ اور  وسیم  کی  جوگی سمیت  چند پیشیاں  ہوئیں(قصور  چاہے کسی  ایک کا ہوتا  مگر  پیشی  دونوں  کی ہوتی تھی) ۔۔۔۔ ان پیشیوں  میں ہمیشہ کی  طرح  خشک  قسم کے لیکچر  سننے پڑے ۔۔۔۔ جن میں زیادہ سونے کے نقصانات  ، اور  جاگنے کے فوائد کے ساتھ ساتھ  تعلیم  میں دل لگانے  کے فوائد  اور  ذہانت کا  واسطہ دے کر  کسی پوزیشن  کے حصول کا  لالچ  بھی دیا  گیا ۔  مگر جوگی  اور وسیم نے ایک دوسرے  کی جانب  دیکھا اور آنکھوں  ہی آنکھوں  میں خوب ہنسے  کہ  میر ؔ بھی کیا  سادہ ہیں۔۔۔
سادہ و پُرکار  ہیں خوباں غالبؔ
ہم سے پیمانِ وفا  باندھتے ہیں

 
اس  فتنہ  خو کے در  سے  اب اٹھتے  نہیں اسدؔ


کسی  بھی پوزیشن  اور  اس کے بدلے  میں ملنے والی واہ وائی  کی نسبت   جوگی  اور وسیم  کو  اپنی  خوابوں کی دنیا  زیادہ  پیاری  تھی ۔  جہاں  ان کی  بلاشرکت غیرے  حکومت  تھی ۔اور  اس  خوابوں  کی دنیا  تک  جانے  والا  راستہ  جس  سرنگ  سے  ہو کر  گزرتا تھا  وہ  اب  قابل ِ استعمال  نہ رہی ۔لیکن  جیسا  کہ  استادِ محترم  کا  فرمانِ عالیشان  ہے :۔
لکھتے رہے جنوں کی حکایاتِ خونچکاں
ہر چند اس  میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
جوگی اور  وسیم  کی  افتادِ  طبع  نے بھی کولمبس  کی  طرح  آخر کار  ایک نیا امریکا  دریافت  کر ڈالا (حالانکہ یہ ایک تاریخی مغالطہ  ہے کہ امریکہ  کی دریافت  کولمبس  کا کارنامہ  ہے ، مگر  چونکہ محاورہ  یہی ہے اس لیے یہی لکھا گیا )۔  ضرورت ایجاد کی ماں ہے  ، پس  اس  ماں نے ایک  بچےکو  جنم دیا  ، جس کا  نام اس کے والدِ گرامی  (جوگی) اور چچا محترم (وسیم  اکرم) نے  "مورچہ" رکھا ۔ قطعہ  تاریخی  کے  ضمن  میں جوگی نے علامہ اقبال کے مشہور  شعر میں بھی ترمیم کر ڈالی 
پڑھائی  شڑھائی تو ہوتی ہی رہے  گی مگر
ضروری ہے آلسی  کیلئے کارِ مورچہ بندی
مورچہ بندی کیلئے جوگی نے اپنی چارپائی کو  پنکھے کے نیچے سے  ہٹا کر  کونے  میں دیوار کے  ساتھ رکھ دیا ۔(ویسے  بھی  اب تو  سردیوں  کی آمد  آمد تھی )اور چارپائی  کے  نیچے  فرش پر  وسیم  کے  گھر سے لایا گیا اضافی بستر  بچھایا  گیا ۔  نیچے کھیس  اور اس کے اوپر  رضائی بطور گدا  بچھائی گئی ۔ اس کے بعد  اوپر  چارپائی  کے  دو اطراف میں کھیس  اس طرح لٹکا دیا  دیا  گیا  کہ  دیکھنے میں محسوس ہوتا کہ کھیس سائز  میں بڑا ہونے کے سبب چارپائی سے نیچے کو ڈھلکا ہوا ہے ۔ لیکن در حقیقت  یہ مورچہ محل  کا  پردہ تھا ۔  چارپائی کے دو  طرف سے دیوار تھی ، اور  ایک  طرف سے مزید  چارپائیاں ۔۔۔  اور ایک  طرف چارپائیوں  کے درمیان آنے جانے کا راستہ ۔ ۔۔۔  ان دونوں  اطراف سے  کھیس لٹکا کر عوام کی نظروں سے مورچہ  غائب کر دیا  گیا ۔ اوپر چارپائی پر  ویسے  ہی  حسبِ معمول  بستر بچھا  ہوا  تھا ۔ جبکہ  نیچے  مورچہ  محل  میں  عمران سیریز ، فلمی رسالوں  کی  ورائٹی  کے  علاوہ  ایک  عدد  ریڈیو  بھی ہیڈ فون  کی  سہولت  سمیت  موجود تھا ۔اس قدر  پرسکون  اور آرام دہ ماحول  کہ  جنت  واقعی دل  کے  بہلانے کا  خیال لگنے لگی ۔اور سب بڑھ  کر  اس  کا  خفیہ  پن،  اول تو  کوئی سوچ  بھی  نہ  سکتا  کہ اس چارپائی  کے  نیچے  کیا  ہے۔ دوسرا    کوئی  نیچے  بیٹھ کر دیکھنے  کے باوجود  اندازہ  بھی  نہ کر سکتا  تھا   کہ بظاہر  اس لٹکے  کھیس  کے  پیچھے  آلسیوں  کی  جنت  بھی  آراستہ  ہو سکتی  ہے۔
ماضی  کی  غلطیوں سے سیکھا گیا  سبق  جوگی اور وسیم کو  ازبر تھا۔  اس لیے  مورچے کے راز کو انتہائی  خفیہ  رکھا  گیا ۔ حتیٰ کہ  کمرے  میں رہنے والے باقی  نو  طلباء میں سے  صرف  دو یا تین  طلبہ مورچے  کی موجودگی  سے  آگاہ تھے ۔  ان  سے  بھی  راز کو  راز  رکھنے  کا باقاعدہ  حلف لیا گیا ۔ صرف  یہی  نہیں مورچہ  بندی  کے  اگلے  ہی دن  جوگی  نے کلاس  میں طلبہ  سے  ایک تنبیہی  خطاب  کیا  جیسے  پاکستان کے  وزراءاعظم  اور مارشل لا ء والے جرنیل  قوم سے  خطاب کرتے ہیں۔ اس خطبہ  کا  خلاصہ یہ  تھا  کہ :۔اتفاق  میں برکت ہے ، اور دریا میں رہ  کر مگر مچھ سے  بیر  پالنے  والے  مگر مچھ کا تو  کچھ نہیں بگاڑ پاتے البتہ خود  نہ  بھی مریں تو  کم از کم  لولے لنگڑے ضرور ہو جاتے ہیں۔  ماشاءاللہ  ہماری  کلاس  میں پہلے بھی اتحاد  و اتفاق ہے امید  ہے یہ قائم رہے گا۔ اور  کسی  طالع  آزما  چغلخور نے  اگر    تخریب  کاری کی کوشش کی تو  انجام بہرحال اچھا نہ ہوگا۔

Sunday, 6 October 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط ہجدہم)۔

4 آرا

صد جلوہ روبرو ہے جو مژگاں اٹھائیے

Wednesday, 2 October 2013

لڑکیاں بے وفا ہوتی ہیں

5 آرا
وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی

وفا ہے ذات عورت کی

مگر جو مرد ہوتے ہیں

بہت بے درد ہوتے ہیں

کسی بھنورے کی صورت

گل کی خوشبو لوٹ لیتے ہیں

سنو!!!!

تم کو قسم میری

روایت کو توڑ دینا تم

نہ تنہا چھوڑ کے جانا

نہ ہی دل توڑ کے جانا


مگر پھر یوں ہوا


مجھے انجان رستے پر

اکیلا چھوڑ کر اس نے

میرا دل توڑ کر اس نے

محبت چھوڑ دی اس نے

وفاہے ذات عورت کی

روایت توڑ دی اس نے


تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما