Monday, 15 December 2014

چلتے ہو تو لاہور کو چلیے (قسط چہارم)۔

2 آرا
بورے والا کے بعد چیچہ وطنی کے باہر سےیوں گزرےجیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک جاتے ہوئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو وادی ثمود میں سے گزرنے کا حکم فرمایا تھا ۔ میں منزل بہ منزل ارسل اور افی صاحب کو برابر خبر دیتا رہا، مبادا یہ نہ کہیں کہ بے خبری میں آ لیا ہے ۔ بورے والا سے لاہور تک کوئی قابل ذکر واقعہ پیش نہ آیا ، سوائے اس کےکہ موٹر وے پر بس کے سامنے جاتے ٹرک کو اچانک بریک لگی تو بس اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔ کمزور دل مسافروں نے کلمے پڑھے جبکہ میں نے غالب کا شعر :۔
ہم تھے تیار مرنے کو ، پاس نہ آیا نہ سہی
آخر اس شوخے ٹرک میں کوئی بریک بھی تھا​
جیسے باقی شہر گزر گئے تھے ویسے ہی ساہیوال اور اوکاڑہ بھی یکے بعد دیگرے گزرتے گئے ، یہاں تک کہ لاہور کا بیرونی بس ٹرمینل ٹھوکر نیاز بیگ آ گیا ۔ اس وقت سہ پہر کے تین بجے تھے ۔ کھڑکی سے باہر دیکھا تو ہر طرف جماعتِ اسلامی کے بینر اور پینا فلیکس لگے نظر آئے ، جن میں بنفس ِ نفیس محترم سراج الحق صاحب کھلے بازو میرا ستقبال کرتے اور خوش آمدید کہتے صاف نظر آ رہے تھے ۔ 
مجھ پر تو شادی مرگ کی کیفیت طاری ہو گئی ۔ واہ میرے مولا ، سبحان تیری قدرت ۔ جس نمانے کو اپنے علاقے میں بندہ بھی کوئی نہیں سمجھتا ، اس کا لاہور میں داخلے پر اس قدر پر شکوہ استقبال ۔۔۔۔آخر ان لوگوں کو خبر کیسے ہوئی کہ چھوٹے غالب کی آج لاہور تشریف آوری ہے۔ ۔۔۔اس کا مطلب ہے کہ مجھ ناچیز پر بھی ایجنسیزکی گہری نظر ہے ۔ 
اس قدر پذیرائی پر پھولا نہ سمایا ، اور آنکھیں بھیگ گئیں ۔ چشمہ اتار کے آنکھیں صاف کیں اور چوڑا ہو کے بیٹھ گیا۔ بس ٹرمینل میں داخل ہوئی تو ایک اور روح افزا منظر دیکھا۔ایک طرف استبالیہ کیمپ لگا ہوا تھا ، جہاں لوگوں کا ہجوم تھا۔ اتنے سار ےلوگ اپنے گھر بار ، کام دھندے چھوڑ کر بیرونِ شہر خاکسار کا استبال کرنے کو اکٹھے ہوئے ہیں ، یہ خیال مجھے مجبور کر رہا تھا اس پاکستانی ہیروئن کی طرح جنہوں نے ایک فلم میں سرسوں کا کھیت روندتے ہوئے رقص کے نام پہ چند قلابازیاں لگا کر سہیلیوں سے فرمایا :۔ 
من میں اٹھی نئی ترنگ
ناچے مورا انگ انگ
پنچھی تیرے سنگ سنگ
من چاہے اڑ جاؤں
کسی کے ہاتھ نہ آؤں ​
اور ساتھ کھڑا خوشامدی سہیلیوں کا ٹولہ بیک آواز چلایا :۔ 
اے سکھی ناں ، ناں ، ناں ۔۔۔۔۔​
پس سہیلیوں کی اس عدم موجودگی کو جواز بنا کر مابدولت نے اس نیم بے ہودہ خیال کو سنگلی ڈالنے کی کوشش کی تو خیال نے مینڈک کی طرح زقند لگائی اور "مرید پور" کے ریلوے سٹیشن پر جا پہنچا ، جہاں میرے آنجہانی کزن محترم پطرس بخاری کے ساتھ کوفیوں والا سلوک کیا گیا تھا ۔ اس عبرت انگیز خیال نے الٹا فدوی کو سنگلی ڈال دی اورمیں نے ایک جھرجھری لے کر اب کے بغور باہر کا جائزہ لیا ، جس کے نتیجے میں باقی ماندہ خوش فہمی بھی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ کیونکہ یہ سارا تام جھام اور استقبال تو جماعت اسلامی کے اجتماع میں شریک ہونے والوں کیلئے تھا ، جبکہ میرا تو دور دور تک جماعتِ اسلامی سے کوئی تعلق کجا کسی رکن سے علیک سلیک تک نہ تھی ۔ پس خاکسار جی بھر کے کھسیانا ہوا اور نوچنے کیلئے کوئی کھمبا میسر نہ آنے کی وجہ سے چپکا ہی بیٹھا رہا ۔تاآنکہ بس ٹرمینل سے نکلی اور آگے چل پڑی۔

وہ تو بھلا ہو ارسل مبشر کا جس کا عین اسی وقت فون آ گیااور مجھے حالیہ خفت مٹانے اور غم غلط کرنے کا غنیمت موقع ہاتھ لگ گیا۔ اب صورت ِ حال یہ تھی کہ کال ملتے ہی میں السلام علیکم کیے جا رہا ہوں اورجواب میں شاں شاں سن رہا ہوں۔ اپنی آواز بلند کی اور پوچھا کہ کہاں پہنچے ہو ؟ جواباً کی بورڈ پہ ٹائپنگ جیسی آواز سنائی دی۔ تنگ آمد بہ بند آمد(نظریہ ضرورت کے تحت محاورے میں تحریف کی گئی ،لہذا اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں)۔ چند ثانیے بعد پھر موبائل بجا ، گھورنے پہ معلوم ہوا کہ پھر ارسل کی کال ہے ۔ کال ملنے پر وہی سوال دہرایا کہ کہاں پہنچے ہو ؟ کتنی دیر ہے لاہور پہنچنے میں؟ اور اس اللہ کے بندے نے سنی ان سنی کر کے میرا سوال مجھی پوچھ لیا ۔ دوسرے لفظوں میری آنتیں میرے گلے ڈال دیں۔
شرافت سے بتایا کہ حضور ! ابھی 3 منٹ پہلے باقاعدہ ایک تفصیلی پیغام بھیج چکا ہوں کہ میں ٹھوکر ٹرمینل تک پہنچ چکا ہوں ۔ اگر وہ سمجھ نہیں آیا تو اب بزبانِ خود آپ کے گوش گزارکرتا ہوں کہ بس ٹھوکر ٹرمینل سے نکل آئی ہے اور ساڑھے تین بجے تک انشاءاللہ لاہور پہنچنے والا ہوں۔ اب اگر طبع نازک پہ گراں بار نہ ہو تو مطلع فرمائیے کہ جناب کب لاہور میں قدم رنجہ فرمانے والے ہیں۔؟
جواب ملا کہ یار چھوٹے آفس میں اتنا بزی تھا کہ بلا ۔۔ بلا۔۔ ۔ بلا ۔۔ ۔ بلا۔ الغرض اس طویل تقریر کا لُبِ لباب صرف اتنا تھا کہ میں ابھی فیصل آباد سے نکلنے لگا ہوں ۔ چھ بجے تک پہنچ جاؤں گا۔
دل کے جلنے کا ایک اور سبب میسر آیا تو دل خوب بھڑ بھڑ جلنے لگا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پھٹکار زدہ چہرے پہ مزید بارانِ پھٹکار ہوئی ، اور ایسا اندھیر چھایا کہ مجھ میں آئینہ دیکھنے جوگا حوصلہ بھی باقی نہ رہا۔ گویا بقول ِ غالب :۔
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا ، جل گیا​
بس میری نفسیاتی اکھاڑ پچھاڑ اور اندرونی خلفشار سے بے نیاز دوڑی دوڑی لاہور میں داخل ہو گئی ، اور سیدھی جا کے سٹی ٹرمینل پہ فرو کش ہو ئی ۔ میں نے جیکٹ اٹھائی ، سست روی سے بس سے خارج ہوا۔ ابھی میں ٹرمینل کے ویٹنگ روم کی طرف بڑھا ہی تھا کہ ایکا ایکی خود کودو تین کنڈکٹرحضرات کے نرغے میں پایا ۔ دل کو تسلی دی کہ نیوز چینلز کے رپورٹرز اور کیمرے نہ سہی کم از کنڈکٹرز نے تو ہمارے گرد گھیرا ڈالاہے۔ میں اپنے خیالوں میں گم تھا اور ان میں سے ہر ایک کا اصرار تھا کہ میں ان کی کمپنی کی بس میں سفر کروں ۔ کوئی مجھے بہاولپور لے جانے کیلئے کھینچ رہا تھا اور کوئی مجھے ملتان دکھانے پر تُلا تھا۔کوئی اور موقع ہوتا تو یقیناً میں اچھا خاصا شغل لگاتا ان کے ساتھ بھاؤ تاؤ کرتا ، ناک بھوں چڑھاتا ، اور بعد میں بتاتا کہ لاہور جانا ہے ۔ مگر چونکہ اس وقت سات گھنٹے کے طویل سفر سے آیا تھا اور کچھ گزشتہ واقعات پہ دل جلا ہوا تھا اس لیے میں نے ہاتھ اٹھا کر سب کا شکریہ ادا کیا اور معذرت کی کہ ابھی ابھی توبس سے اترا ہوں ،اور میری یہ گھنی زلفیں اصلی ہیں کوئی امپورٹڈ وگ نہیں ۔ پس یہ حقائق ثابت کرتے ہیں کہ میں" گنجا "نہیں اور نہ ہی یہ پرویز مشرف کی حکومت ہے کہ ائیر پورٹ پر اترتے ہی ڈی پورٹ کر دیا جاؤں ۔جہاں آپ کی بس جانے والی ہےمیں وہاں سے ہی ابھی آیا ہوں۔ اس لیے مجھ پر وقت ضائع کرنے کی بجائے کوئی اور سواری ڈھونڈ لو۔یہ سنتےہی سب تتر بتر ہو گئے اور میں اطمینان سےانتظار گاہ میں جا کر بیٹھ گیا۔ 

Saturday, 13 December 2014

چلتے ہو تو لاہور کو چلیے (قسط سوم)۔

0 آرا
ڈرائیور نے وہاڑی شہر کو بائی پاس کیا ، اور بس کو سوئے لاہور رواں دواں رکھا۔ اب مجھے خیال آیا کہ یہ واقعی ڈائیوو ہے یا محض مونو گرام  چپکا کر شیر کی کھال میں گدھے والا معاملہ کیا ہوا ہے۔ اگرواقعی ڈائیوو ہےتو اب تک اس غیرتِ ِناہید کے درشن کیوں نہیں ہوئے جسے عرفِ عام میں بس ہوسٹس کہا جاتا ہے۔ اصولاً تو میرے سوار ہوتے وقت انہیں استقبال کیلئےکھڑا ہونا چاہیے تھا ،بے شک اہلاً و سہلاً مرحبا نہ بھی کہتی۔   مانا کہ ہماری نظراچھی خاصی کمزور ہے مگر چشمے پہ خواہ مخواہ تو پیسے خرچ نہیں کیے ناں......چشمے کا خیال آتے ہی فوراً چشمہ اتارا  اور بس کے لہراتے پردے سے صاف کیا، مبادا مطلوبہ منظر گردو غبارکی دھندلاہٹ کی بھینٹ چڑھ گیا ہو۔

نصف ایمان کے حصول کے بعد بھی ہنوزدلی دور بود۔ رہا نہ گیا توشتر مرغ کی طرح اچک اچک کے  ادھر ادھر نظر دوڑائی، لیکن گُل بکاؤلی نظر نہ آیا۔ بھلا ہودربان(گارڈ )کاجو "مجھے گدا سمجھ کے  چپ" نہ رہا۔ بلکہ پیاسا سمجھ کے اس بھلے مانس نے "مطلوب و مقصودِ مومن" کو بذریعہ کانا پھوسی اطلا ع بہم پہنچائی۔ حالانکہ ماضی بعید  میں اسی کے ایک  پیٹی  بھائی نے بڑے غالب کے ساتھ اس کے الٹ سلوک کیا تھا۔ پس نیوٹن  کے  تیسرے قانونِ حرکت کی پیروی میں اک پیرِمغاں  بلکہ "لیرِ مغاں" کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا، کی آمد ہوئی۔

نیم مردانہ نیم زنانہ صفات کی حامل ایک ہستی  ڈرائیور کے عین پچھلی سیٹ سے طلوع ہوئی۔ صورت گری تو بے شک اللہ تعالیٰ کی ہے مگراسے بگاڑنے کا کریڈٹ انسان کوجاتا ہے۔ ہرچندکہ محترمہ میک اپ کی بھرپور مدد سے 60 فیصد  خاتون نظر آ نے میں کامیاب تھیں اور زیرو نمبر کا چشمہ لگا کر اپنے تئیں پروفیسربھی سمجھ رہی تھیں۔ نسوانیت کااس قدر فقدان تھا کہ غالب کےمصرعہ "ہر چند کہیں کہ ہے ، نہیں ہے" کی ہوبہو تصویر تھیں۔ دوپٹے جیسی کوئی چیز آدھے سر پہ تھی توسہی لیکن اتنی مہین کہ"صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں" کی عملی تشریح سمجھ لیں۔ بادی النظر میں محسوس کیا جا سکتا تھا کہ مجبوراً دوپٹہ گوارہ کیاہوا ہے۔ جونہی ہاتھ میں ایکوافینا اور گلاس پکڑے آگے بڑھیں تو یکایک مجھ سے آگے 25 سیٹوں پر بیٹھے ہوئے نفوسِ ٹھرکیہ کو احساس ہوا کہ انہیں تو بہت پیاس لگی ہوئی ہے۔

اورمجھے اس وقت سمجھ آئی کہ غالب کے اس مصرعے "جی کس قدر افسردگی دل پہ جلا ہے"  میں کیا سائنس  ہے۔ جی جلنا ، دل جلنا ، رونگٹے کھڑے ہونا قبیل کے محاوروں سے اردو زبان کا دامن لبریز ہے البتہ ایک ضروری محاورے "رونگٹے  بیٹھ جانا" سے عاری ہے۔ فدوی  نے فی البدیہہ یہ محاورہ گھڑ کے اردو کو دان کیا۔ دل جلنے کا اثر یہ ہواکہ صبیح چہرہ دھواں دھواں ہو گیا ، اور  شکل پہ پھٹکار برسنے لگی۔ میر تقی میر سےاس وقت بے حسد محسوس ہوا ، کہ سارے "پنکھڑی  اک گلاب کی سی" نازکی کے حامل اور "چراغوں میں روشنی" دھندلا دینے والےحسین انہی کے زمانے میں کیوں تھے۔۔۔؟؟؟

میری یہ جھنجھلاہٹ بے وجہ نہ تھی۔ ایسا میرے ساتھ پہلی بار نہیں ہو رہا۔ اس کے پیچھے ایک پوری تاریخ ہے۔
اکثر بس ٹرمینل پہ بڑے بڑے سائن بورڈز  پہ تابڑتوڑ خوبصورت حسینہ کے فوٹو کے ساتھ، آپ کی ہمسفر لکھا دیکھ کر  ہمارا کنوارا دل مچل  مچل کر جوگ سے مرتد ہو جاتا۔ عاجز آ کر جب پوچھتا کہ 
دلِ ناداں تجھے  ہوا کیا ہے؟ 
جانتا ہے جیب میں پڑا کیا ہے؟

روٹھا روٹھا جواب آتا

 مانا  کہ ایکسٹرا  ہے ان کا کرایہ  غالب
دو ، تین سو زیادہ دینے میں برا کیا ہے؟

       اور یوں جب بھی دل کے کہنے میں آ کر   فیصل موورز یا ڈائیوو  پہ سفر کیا ، تو سارے  سفر کے دوران لالچی کتے والی کہانی پر سر دھنتا رہااور ہاتھ مسلتا رہا۔ اور انہی سفروں کے دوران ہی "قیامت ہے کہ ہووے مدعی کا ہمسفر  غالب" سمجھ میں آیا۔ سند باد جہازی کی طرح ہر سفر سے بخیر  واپسی کے بعد میں بھی سچے دل سے توبہ کرتا کہ اب فیصل موورز اور ڈائیوو کے  جھانسے میں نہیں آؤں گا۔ مگر اگلی باراسی امید  پہ کہ شاید اس بار............

اس اثنا میں بس بان محترمہ ہم تک پہنچ آئیں۔ چند شرارتی زلفیں دوپٹے کی آنکھ بچا کر پف کی صورت میں ماتھے پہ لہرا لہرا کر "لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم " گنگنا رہی تھیں۔ لیکن "میں نہ لگاؤں گا ہاتھ رے" پر ڈٹا رہا۔خواتین میں شاید  بندہ تاڑنےکی حس ہوتی ہے ، ایک نظر میں جان لیتی ہیں کہ کنوارہ ہے یا  بیوی زدہ.....لہذا  محترمہ نے فدوی کو قابلِ التفات سمجھا ، اور سیٹ کے ساتھ کمر ٹکا کےکھڑی ہو گئیں۔ حالیہ ساقی گری کے دوران یہ ان کا واحد وقوف تھا  حالانکہ میں عرفات نہ تھا۔ مگر میں تو ایسے انجان بن گیاجیسے مجھے ڈاکٹر نے پانی سے پرہیز  تجویز کیا ہو۔ آخر انہوں نے باقاعدہ پانی  آفرکیا۔ جسے میں نے شائستگی سے ٹھکرا دیا۔  میک اپ زدہ چہرے پہ حیرت کے تاثرات ابھر ے اوراپنا سا منہ لے کے آگے بڑھ گئیں۔ جلد ہی واپس آ گئیں، ایک بار پھر مجھے سےپانی  کیلئے پوچھا ، اور اس بار بھی میں نے پینے سے انکار کر دیا۔ شاید خاتون نے مجھے کوئی وہمی قسم کا بندہ سمجھا کہ جا کے دوسرا  گلاس لے آئیں ، پھر بھی میری ناں ہاں میں نہ بدلی۔

میری بے نیازی کو محترمہ نے ناک کا مسئلہ بنا لیا  یا پھر کوئی اور چکر تھا ، وہ جو پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے سیٹ سے اٹھنے کا نام نہ لے رہی تھی اب 15 منٹ میں ان کا تیسرا چکر  لگا اورمجھ سے پھر پوچھا ، میری تو جیسے پیاس ہی مر گئی  جیسے پطرس کی موسیقیت لالہ جی کی بات سنتے ہی مر گئی تھی۔ بس بورے والا پہنچ کر   رکی، اور سب مسافروں کو آدھے گھنٹے کی چھٹی دی گئی، کہ کھایا پیا ٹھکانے لگا سکیں ، اور اکڑی ہوئی ٹانگیں سیدھی کر سکیں۔
   
 اسی وقت ذوالقرنین کو بھی لمحاتِ فرصت میسر آئے اور اس کاجوابی ایس ایم ایس آیا ۔  تازہ ترین واردات کا دکھڑا اسے سنا کر میں نے دل کا بوجھ ہلکا کیا، اور ساتھ ہی داستاں سرائے میں ڈنر کی اطلاع دے کر جلانے کی کوشش کی، مگر  وہ چکنا گھڑا نکلا۔ اور میری کوشش بے کار گئی. وقت گزرتے پتا ہی نہ چلا۔ بس بورے والا سے بھی چل پڑی۔ مسافروں کی وقت گزاری کیلئے فلم باغبان چلا دی گئی۔ جبکہ میں ہیما مالنی والے مناظر کے علاوہ  باقی فلم دیکھنےکی بجائے کھڑکی سے باہر دیکھتا رہا۔ 

(جاری ہے)    

Friday, 12 December 2014

چلتے ہو تو لاہور کو چلیے (قسط دوم)۔

0 آرا
گھر سے نکلتے وقت ارادہ تھا کہ بہاولپورسےجا کے بس پکڑتا ہوں، مگر راستے میں خیال آیا کہ  بس گزرنی تو یہیں سے ہے ، اس لیے فون کر کے  سیٹ بک کروا لی ، معلوم ہواکہ پونے نوبجے ڈائیوو دھنوٹ سے گزرے گی ۔

مانعِ وحشت خرامی ہائے جوگی کوئی نہ تھا، اس لیے آٹھ بجے دھنوٹ شہر پہنچ کرانتظارکو "وخت" میں ڈال دیا۔ ساڑھے آٹھ بجے تک غالب  کی غزل "زِ من گرت بود باور نہ انتظار بیا" کے پنجابی ورژن "میرے شوق دا نئیں اتبار تینوں ، آ جا ویکھ میرا انتظار، آجا" کا زیر لب ریاض کرتا  رہا۔ اور داد کےطور پہ خندہ پیشانی سے غبارِراہ پھانکتا رہا۔ اور جو بس پونے نو بجے پہنچنی تھی ، ساڑھےآٹھ بجےہی میرا انتظاردیکھنے آ گئی۔ بس کو خلافِ توقع وقت سے 15 منٹ پہلے آتا دیکھ  کر دل میں خیال آیا تھا کہ :۔
یہ فیضانِ غزل تھا، یا چھوٹے غالب کی کرامت
سکھائےکس نے ڈرائیور کو، انداز ِ برق رفتاری

دروازہ کھلا اور بس میں داخل ہوتے ہی کنڈکٹرصاحب نے مجھے 28 نمبر سیٹ کا راستہ دکھا دیا۔ سیٹ پر بیٹھ کرجب اطمینان میسر آیا  تو دوبارہ اسی نکتے پرغورو فکر میں ڈوب گیا کہ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے۔ کئی ممکنہ وجوہات سوچنے اور رد کرنے کے بعد  فدوی اس نتیجے پر پہنچاکہ اگرتان سین کا دیپک راگ گا کردئیے  جلانےاور اس کی بیٹی کاراگ ملہارگا کربارش  برسانےوالاواقعہ سچ ہے، تو پھریہ بھی کوئی نظر بندی یا شعبدہ نہیں۔ جیسے مہدی حسن صاحب  راگ گا کر شیشے کا گلاس چکنا چور کر دیتے  تھے، ویسے ہی چھوٹے غالب نے (اتفاقی طور پر ہی سہی) ایک نیا راگ ایجادکر کےنہ صرف موسیقی  پہ احسان کیابلکہ اس راگ کی بدولت بس کو  بہاولپور سے دھنوٹ 15منٹ پہلے بلانے کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ ہر چند کہ حاسدین میرے لحنِ داؤدی کو پھٹے بانس کی آواز قرار دینے سے نہیں چوکتے۔ مگر حقیقت تو اپنی جگہ حقیقت ہے۔  پس اپنی اس باکرامت ایجاد پر فدوی پھولانہ سمایااور فوراً سے پیشتر  نومولود راگ کو "راگ انتظاری"  کا نام  دے کر اس کے جملہ حقوق بحق  ِ خود محفوظ کر لیے ۔

اسی اثنا میں بس کہروڑپکا پارکرچکی تھی۔ فارغ بیٹھے بیٹھے جب کچھ اور نہ سوجھاتوموبائل نکال کر افی صاحب اور ارسل کو بذریعہ ایس ایم ایس اطلاع پہنچائی۔ پھرذوالقرنین کا نیرنگِ خیال آیامگرساتھ ہی یہ بھی یاد آیا کہ گزشتہ رات میری کال کے جواب میں ٹیلی نار کی ناری  نےکس رکھائی سے کہا تھا "آپ کے مطلوبہ نمبر سے فی الحال جواب موصول نہیں ہو رہا "۔ اسی  ادھیڑ  بن میں میلسی آ گیا۔  یہ شہردیکھنے کا اتفاق تو کبھی نہیں ہوا البتہ اس کا نام ہمیشہ  سے فدوی کی ضیافتِ طبع کا باعث رہا۔ نجانے اس پر وہ کون سی "میل ۔ سی" چپکی ہے جس کی وجہ سے اس کا نام میلسی پڑ گیا۔

میلسی میں بس دو منٹ کے نام پرپانچ منٹ رکی رہی۔ میں نے پردہ ہٹاکر کھڑکی سےباہر دیکھا تو  نظرملا کی دوڑ کی طرح سیدھی گیریژن  سینماپرجا پہنچی۔ گیٹ پر موجود بڑے سے بورڈ پر ایک ٹکٹ میں تین مزے کا مژدہ جلی حروف میں درج تھا۔ شان کی فلم  "غنڈہ ٹیکس" کے علاوہ بھارتی فلم "کِل دِل" کے پوسٹرز کے ساتھ "ہمراہ گیت مالا" کی نویدِ ٹھرک بھی نظر آئی۔

بھارتی فلموں میں تو مجھے کبھی دلچسپی نہیں رہی، البتہ پاکستانی فلمیں میری کمزوری رہی ہیں ۔  ایک زمانہ تھا جب میں فلاپ ترین اور فضول ترین فلم  بھی بڑے انہماک سے سینما پر دیکھا  کرتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ڈسپرین ٹیبلٹس کا ایک  پتہ جیب میں رکھ کےجاتاتھا۔ اسی زمانے میں "غنڈہ ٹیکس" نیو پیلس سینماکمالیہ میں پہلی بار دیکھی اور پھریہ تب سے میری پسندیدہ فلم ہو گئی۔ اس فلم کے اکثر مکالمے برسوں تک میرا  تکیہ کلام رہے۔ بس نجانے کب میلسی سے نکلی  اور وہاڑی پہنچ  گئی جبکہ میں اس دوران  ماضی کا موئنجوداڑو کھودتا رہا

Tuesday, 9 December 2014

چلتے ہو تو لاہور کو چلیے (قسط اول)۔

2 آرا
حسب سابق یہ قصہ بھی غالب  سے شروع ہوتا ہے۔
جذبہ ویلفیئر  فاؤنڈیشن  کی  تقریبِ  حلف برداری  میں        میری  مسلسل  جملہ بازیوں سے تنگ آکر  ایک دوست  نے   "کَسِنور مغلوب علی الکلب" کے مصداق  مجھے  غالب کا طعنہ دے مارا ۔  جس  کا  خلاصہ  یہ  تھا "غالب  سے تمہیں  آج تک ملا ہی کیا  ہے ؟  " جواب میں  کہنے کوتو   بہت کچھ تھا ، لیکن وہ سب باطنی تھا۔   دنیاوی  دستور  اور دنیاوی  معیارات  کی  کسوٹی  پر  پورا اترنے  کیلئے میرے  پاس کوئی ظاہری   ثبوت نہیں  تھا۔ 
علامہ اقبال  کی طرح میری بھی شدید خواہش رہی ہے  کہ  "دیکھا ہے جو   میں نے اوروں کو بھی دکھا دے" مگر افسوس کہ زمانے کے انداز ہی نہیں معیار بھی  بدلے گئے۔ افسوس  کہ ظاہر پرست زمانے کو مرعوب  کرنے کیلئے  میرے پاس کوئی  ید بیضا نہیں  تھا۔  

جیسے تیسے  دن گزرا  اور وہ  رات  اسی پیچ و تاب میں گزری  کہ  میرا استاد  بھی کامل ۔  میری اپنے  عظیم   استاد سے محبت بھی سچی ۔ میرا غالب کی غالبیت  اور ان کے فضل و کمال  پہ  آنکھوں دیکھا یقین ۔ مگر ہائے یہ  بے بسی ۔۔۔۔کاش ۔۔۔!!!  میرے بس میں  ہو تو  ہر  انسان کی  وہ آنکھ میں وہ نور بھر دوں  جس سے وہ جہل کے  اندھیرے  چیر کر   عظمتِ  غالب کا اپنی  آنکھوں سے مشاہدہ   کرے اور  کہے  کہ "فبای  آلا ربکما تکذبن"۔

غالب کی غیرت تیموریہ جوش میں  آئی ۔۔۔
اور پھر کمال  ہو گیا۔۔۔۔
الحمد اللہ  اب میرے  پاس  واضح  ثبوت ہے  کہ  غالب سے مجھے نہ صرف  باطنی  بلکہ ظاہری طور بھی  بہت کچھ ملا ہے۔

افتخار افی  صاحب  کے اس  جملے کی  گونج تازندگی  میرے کانوں سےنہ جائے گی  جب انہوں نے کہا  کہ کل  ڈنر  داستان  سرائے  میں  کرنا ۔  اب اتنا بتاؤ کہ  لاہور  آ رہے ہو یا نہیں؟میرا  دل تو چاہا  کہ  چھلانگیں  لگاؤں  ، مگر  اس خیال  سے  باز رہا کہ کہیں  ڈارون  کی تھیوری کو  لوگ سچ نہ سمجھنے لگیں۔
اویس قرنی  ہمیشہ سے  اشفاق احمد صاحب  اور عالی جنابہ  محترمہ  آپا  بانو قدسیہ  صاحب   کا  مداح و پرستار تھا ،  مگر  اس جیسے  بے شمار گمنام   مداحین تصور میں  ہی   ان عظیم ہستیوں    کے سامنے  زانوئے  ادب تہہ  کر کے  دلِ ناداں  کو  بہلا لیتے ہیں جیسے ایک غربت  کی ماری مجبور ماں    ہنڈیا میں پانی ڈال کر بھوکے بچوں کو  بہلا رہی تھی۔اور  بانو  آپا  جی  کی خدمت میں حاضری کا موقع  نصیب ہوا تو  "چھوٹے غالب " کو۔

سمجھدار  وں کیلئے  یقیناً یہ اشارہ کافی تھا۔   جن کو سمجھ نہیں آئی  ان کیلئے مزید وضاحت کر دوں  کہ  نہ تو چھوٹا  غالب  ایک دو ہفتے  پہلے    بانو قدسیہ آپا  جی  کا پرستار ہوا  تھا اور  نہ ہی  افتخار  افی صاحب  سے نئی نئی دوستی ہوئی تھی۔  لیکن ذرا  ٹائمنگ دیکھئے ۔۔۔۔

جمعہ  21  نومبر  2014  کو 5 بجے لاہور پہنچنا تھا ۔ اور  جمعرات تھی  کہ گزرنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔  فیصل آباد  سے ارسل کے فون پہ فون آنے لگے۔  شانی ابو ظہبی میں  ہاتھ مل رہا تھا ،  اور  چھوٹا غالب  گھڑیاں گن رہا تھا۔
 سوچا  ذوالقرنین  کوبھی اطلاع دے دوں  ، اور اسے بھی  لاہور آنے کی دعوت دوں ۔  فون کیا تو  "جواب موصول نہیں ہو رہا " سن کے اپنا سا منہ لے کے رہ گیا۔ 

ساری رات  انہی سوچوں میں گزری کہ کیسا منظر ہو گا جب  یہ آنکھیں اس  ہستی کی  زیارت  سے مشرف ہو ں  گی جنہیں  ہمیشہ سے  آئیڈلائز  کرتا رہا۔   کیسے  انہوں بتاؤں  گا کہ کتنی عقیدت ہے مجھے  آپ سے۔ بہت سارے سوال  سوچے کہ  پوچھوں گا  یہ پوچھوں گا ،  یہ پوچھوں گا۔۔۔۔  اور صبح کی اذانیں ہونے لگیں ۔غسل  کے بعد  پتا چلا  کہ واقعی سردیاں  آ چکی ہیں ۔ ٹھٹھرتے کانپتے  رخت سفر باندھا۔  اماں کی دعائیں لیں اور  چل پڑا۔ 
ویسی ہی   صبح ہےجیسی کہ روز ہوتی تھی ۔ وہی مناظر ہیں جو  ہمیشہ  سے دیکھتا چلا آیا  ہوں ۔  مگر آج ان کے رنگ کچھ اور ہی ہیں ۔  مشرق سے ابھرتا سورج  آج کچھ زیادہ ہی چمکدار  اور خوبصورت لگ رہا ہے۔یہی کھیت   یہی سبزہ  چوبیس گھنٹے  پیش نظر رہتا ہے ، لیکن  آج ان کی ہریالی ہی نرالی  ہے۔  طبیعت  پہ عجب خمار سا چھایا  ہوا  ہے۔  جی چاہتا ہے  عادی  شرابیوں کی طرح  غل  غپاڑہ  کرنے لگوں ،  اتنا  ۔۔۔۔۔کہ  سب  کو خبر ہو جائے  کہ  آج  چھوٹا  غالب  بانو  آپا کے  حضور جا رہا ہے۔
  میں تیز چل رہا ہوں   یا میرے شوقِ  ملاقات  کے احترام میں زمین سمٹی جا رہی ہے  ،  پگڈنڈی  پہ اترا  تو  ارد گرد  پودے قطار باندھے  جیسے مجھے گارڈ آف آنر دے رہے  ہیں ۔  شبنم کے  قطرے  میرے  پیروں پہ نچھاور  ہو رہے ہیں،  میرے  غلیظ پاؤں  دھو رہے  ہیں کہ  آج چھوٹا  غالب  بانو آپا کے  
حضور  جا رہا ہے ۔

(جاری ہے)

Sunday, 7 December 2014

منکہ مسمی چھوٹا غالب

5 آرا


مرزا نوشہ اسد اللہ بیگ غالب کے نادر خطوط جو انہوں نے اپنی وفات تک اپنے شاگردوں ، دوستوں کو لکھے ، اور انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنے خطوط کے مجموعے کتابی صورت میں شائع کیے۔
 کیا کہنے غالب کی عالم گیر شہرت  و مقبولیت کے، زمین پر تو چرچا تھا ہی عالم بالا اور عالمِ ارواح میں بھی جناب قبلہ غالب کےڈنکے بجتے تھے، یہ تب کی بات ہے جب میں ابھی پیدا ہی نہیں ہوا تھا، اور عالمِ ارواح میں رہتا تھا، مجھے جنابِ غالب سے ایک گونہ عقیدت اور اس سے بڑھ کر محبت سی ہو گئی،مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے  3 جنوری  1869 ء  کو   شاگرد ہونے کی درخواست بھیجی ، جو کہ صد شکر غالب نےقبول فرما لی، اور مجھے اپنی شاگردی میں لے لیا، یوں خاکسار کو بھی غالب سے روحانی خط و کتابت کا شرف حاصل ہوا۔ لیکن اس وقت تک چونکہ  (بقول غالب)ان کی عالمِ خاکی سے رہائی کا وقت قریب تھا، اس لیے وہ جلد ہی عالمِ بالا تشریف لے آئے، اور مجھے قدموں میں رہنے کا موقع ملا۔ 
پھر 1984 ء  کا سال شروع ہوا۔ معلوم ہوا کہ اب کے جنت سے بے آبرو ہو کر نکلنے کی میری باری ہے، بس صاحبو!! حکمِ حاکم مرگِ مفاجات، داغِ جدائی دل پر لیے، روتا ہوا عالمِ خاکی میں آن وارد ہوا، آتے ہی میں نے  صدا لگائی  کہ"ایک کاغذ قلم کا سوال ہے بابا "تاکہ میں ایک خیریت سے پہنچنے کی اطلاع کا خط ہی لکھ کر بھیج سکوں، مگربجائے کہ کوئی ہماری بات پر کان دھرتا  ایک  صاحب نے ہمیں اٹھایا اور اپنا منہ میرے کان کے پاس لائے۔
 میں سمجھا کہ  "کن کُرررررررر" کرنے والے ہیں ، لیکن اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدا سن کر دل کو تسلی ہوئی کہ شکر ہے مسلمانوں والی بیرک میں ڈالا گیا ہوں ،اذان کے بعد میرا منہ میٹھا کرایا گیا، مگر میری بات پر کسی کی توجہ نہ تھی میں نے پھر ہاتھ پیر چلا چلا کر اپنے غصے کا اظہار کیا کہ اللہ کے بندو کوئی تو مجھے موبائل دے دے یا اگر ابھی موبائل فون کا رواج نہیں ہو ا تو  کم از کم ایک قلم اور سادہ کاغذ ہی دے دے۔  
اللہ بخشے ایک نورانی صورت بی بی ، ہمیں دیکھ دیکھ کر مسکراتیں اور فرماتیں کہ حرکتیں تو دیکھو، یہ تو بڑا ہو کر شیطان کے بھی کان کاٹے گا، بعد میں معلوم پڑا کہ موصوفہ ہماری والدہ محترمہ ہیں ۔ ناچار تھک ہار کر کسی کو اپنا ہم زباں نہ پا کر صبر کے کڑوے گھونٹ پی کر رہ گیا۔ اور آخرکار وہ وقت آ ہی گیا کہ جب فدوی نے قلم پکڑنا سیکھ ہی لیا، میں ناصر کاظمی کی طرح یہ تو ہر گز نہیں کہوں گا کہ  "میں نےجب لکھنا سیکھا تھا، تیراہی نام  لکھا تھا" مگر یہ سچ ہے کہ جب میں پہلی بار کسی شعر پر وجد میں آیا تھا وہ قبلہ استادِ محترم کا ہی شعر تھا، یوں  میں نے عالمِ خاکی میں دیوانے دل کو بہلانے کی سبیل نکالی ،  غالب  کوپڑھ پڑھ کر میں آدمی سے انسان بنا، میں نے زندگی کا مطلب غالب سے سیکھا، اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ مجھے میری ہر الجھن کا جواب دیوانِ غالب سے ملا ، اگر میں چھوٹا غالب نہ ہوتا تو یقیناً کچھ نہ ہوتا، سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے، کہ اس نے میرے دل میں غالب کی محبت ڈالی ، ورنہ ایسے کتنے ہی نام نہاد پڑھے لکھے ، ڈاکٹرز ، پروفیسرز کو جانتا ہوں جو  غالب کے غین میں گم ہو کر رہ جاتے ہیں ، اور سارا کا سارا علم دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کا کروڑ ہا شکر ہے کہ اس نے مجھ ناچیز کو غالب کو سمجھنے کی ہمت اور توفیق دی، ورنہ  بقول کسے "غالب ادب کے سمندر کا برمودا ٹرائی اینگل ہیں ، جس میں علم کے جہاز صرف محبت کے قطب نما کی مدد سے منزل تک پہنچتے پاتے ہیں ، ورنہ استاد ذوق  سے لیکر قیامت تک نجانے کتنےادب کے "جہاز" ڈوب مرتے رہیں  گے" اور اس عمر  میں جب کہ لڑکے لڑکیوں کو پرفیوم وغیرہ لگا کر خون سے خط  لکھتے ہیں میں نے پہلا خط قبلہ استادِ محترم کو لکھا، اور وہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے، اور انشاء اللہ میری عالمِ ارواح کو واپسی تک جاری رہے گا
میں جانتا بس تم کو ہوں ٭٭ میں مانتا بس تم کو ہوں
تم ہی میرا گیان ہو٭٭٭تم ہی میرا دھیان ہو
کیسے بتاؤں میں تمہیں ٭٭ تم ہی تو میری جان ہو
اسی سلسلے میں غالب کے وہ خطوط جو اب تک کہیں نہ شائع ہوئے، نہ کسی نے پڑھے، عوام الناس کی بھلائی کیلئےپیش خدمت ہیں
گر قبول افتد زہے عزو شرف

Thursday, 4 December 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔ (تدفین)۔ (11)

2 آرا

گزشتہ سے پیوستہ


زمین  سے تقریباً    پانچ فٹ  نیچے   قبر  کے اندر  داخلے  کیلئے ایک  فٹ چوڑا  اور دو فٹ لمبا روشن دان  نما راستہ تھا۔   اس  سے قبر  کے فرش تک  مزید پانچ  فٹ گہرائی تھی۔  قبر  کے فرش  پہ   ابا  جی کی ہدایت کے  مطابق  ریت بچھائی گئی تھی ۔   اندر  سے  قبر تقریباً سات فٹ  لمبی   اور  اڑھائی  فٹ چوڑی  تھی۔  حالانکہ  اس  وقت  ہم سطح  زمین  سے   تقریباً دس فٹ  نیچے  بیٹھے  تھے اور قبر  صرف ایک  دو فٹ  کے روشن دان  جو کہ قبر کی چھت کے قریب  یعنی زمین کی سطح سے پانچ فٹ نیچے تھا، کے علاوہ  چاروں طرف سے مکمل طور پر بند تھی ۔ اس  کے باوجود  اس  خاکسار  نے  حیرت انگیز  طور پر  قبر  کو  آخری کونے تک   یکساں طور پر  روشن پایا ۔  باہر  چار بجے  کا  مغرب کی طرف ڈھلتا سورج اپنی  گرمی کا زور دکھا رہا تھا ۔  لیکن اندر اترتے  ہی حیرت انگیز  طور پر  ایک ٹھنڈک کا احساس ہوا اور پسینہ خشک ہو گیا۔ 
اس  سب خوشنمائی کے باجود  فدوی  کو اعتراف  ہے  کہ  قبر  کی ہیبت    نے میری فطری  بےخوفی  اور  نڈر   پن کو  ایسا  پچھاڑا کہ بیان سے باہر  ہے۔  ظاہر میں نہ کوئی  کپکپاہٹ تھی ، نہ ہی  میں ڈرا ہوا لگ رہا تھا۔ لیکن  اندر سے  یوں محسوس  ہو رہا تھا کہ  دل جیسے جکڑن  کے  مارے  پسلیوں سے  سر ٹکرا  رہا  ہے۔ اور     جب  سرہانے  والی سائیڈ سے  مٹھی بھر  ریت اٹھا کر   سورۃ  القدر  کی تلاوت شروع کی ۔     انا انزلنا فی لیلۃ  القدر  ۔  لیلۃ  القدر  خیرمن  الف  شہر۔تک  پہنچتے  پہنچتے  سانس پھول گیا۔   اور  ایسا محسوس  ہوا کہ  گلے  تک  ریت  ہی ریت بھر گئی ہو۔  سورۃ  القدر جو  بچپن سے  ہی حفظ تھی  آج یہ  چھوٹی سی سورۃ  پڑھنا  جوئے  شیر ثابت  ہو رہا تھا ۔  میں زور  لگا کے پڑھنا  چاہتا ہوں  لیکن الفاظ جیسے  گلے سے  اوپر آنے  سے  انکاری ہیں۔  ذہن  کی سلیٹیں  خالی خالی  نظر آ رہی  ہیں۔  جلدی  سے  دوبارہ  پہلی آیت  سے پڑھنا  شروع کی   ۔   اور  حیرت  انگیز  طور  پر    دوسری  آیت  پہ پھر اٹک گیا۔  
تھوڑا اوپر  ہو کر  ہاتھ باہر  نکالا ۔ قریب  ہی جنید کھڑا  تھا۔  میرے ہاتھ میں اس کا پائنچہ  آیا ۔ میں نے کھینچ  کے اسے متوجہ کیا  اور کہا  کہ سورۃ القدر  کی تلاوت کرنا ۔  اس نے حیرانی سے  جھک کر  میری طرف دیکھا  اور  پوچھا تمہیں نہیں آتی کیا۔؟ میں اب کیا کہتا کہ  قبر کی ہیبت  سے  سب  پڑھا پڑھایا  بھول  بھال گیا ہے ۔  میں نے کہا  کہ  آپ پڑھ  دیں ایک بار   اندر میں بھی پڑھتا جاتا ہوں۔  خیر اس نے  سورۃ  القدر  پڑھنی شروع  کی اور میں ساتھ ساتھ  دہراتا  گیا۔  تلاوت  کے بعد  مٹھی  میں بھری  ریت پر  پھونک مار کے  قبر کے  فرش پر  سرہانے کی طرف  بکھیر دی۔    پائنتی  کی جانب  بیٹھا  کزن   جس کی عمر  تقریباً 47  سال تو ہو گی ۔ مجھ سے بولا  کہ   :۔ "آج  73ویں بار قبر میں اترا ہوں  میت اتارنے  کیلئے  لیکن   قبر کی  ہیبت   آج بھی دل دہلا دیتی  ہے۔ تم  تو  سرہانے   کی جانب سے  بیٹھے ہو  ،  لیکن یہاں سے  قبر   (اس نے اشارہ  کر کے بتایا) ہلتی ہوئی   اور بھیانک  محسوس  ہوتی ہے۔   میں نے آج  تک اتنی  سپیشل  قبر نہیں دیکھی۔  واقعی  ایسی  قبر چاچاجی (میرے والد مرحوم) کی ہی ہو سکتی ہے  اور  دیکھنے سے صاف معلوم ہو رہا  ہے کہ انہی  کی ہدایات  میں ایسی قبر بن سکتی ہے۔  بعض قبریں  تو ایسی  بھی دیکھی ہیں کہ  میت  لٹانے کیلئے  جگہ  تنگ پڑ جاتی ہے۔" شاید  ہم دونوں ہی اپنے  دلوں پہ چھائی  ہیبت  کم کرنے  کیلئے  باتوں  کا سہارا  لے رہے  تھے۔  اچانک  میرے ذہن میں اس یادگار موقع  کی تصویر لینے کا خیال  کوندا۔  میں نے  جیب میں ہاتھ  ڈالا  تو  جیب خالی تھی ۔   باہر  گرمی سے بے حال  ہوتے  بھائی کہہ رہے  تھے  کہ اب ہم  اتارنے  لگے  ہیں۔  میں نے جلدی  سے باہر  کھڑے  جنید سے  موبائل مانگا۔  اس نے  وجہ پوچھی  اور موبائل نکال کے دے دیا۔ میں نے  جلدی سے دو تصویریں بنا کے موبائل  باہر دے دیا۔

 اب  قبر کے باہر  کھڑے دونوں  بھائیوں نے  اباجی  کو  اندر  اتارنا شروع  کر دیا۔ سب  سے پہلے  پاؤں  اندر آئے  اور  میں نے پیر والا  بند تھام کے  ہاتھ بڑھایا  اور دوسرا  بند بھی تھام لیا۔   
بہت ہی عجیب اور      ناقابل بیان منظر تھا۔   اندر  باہر  سے ایک ہی آواز  آ رہی  تھی کہ  دھیرے ، دھیرے ۔۔۔  لیکن اندر اور  باہر والوں  کو یکساں  محسوس  ہو رہا تھا  کہ  جتنا  ہم   دھیرے  دھیرے  اتار رہے ہیں اس سے  کئی گنا زیادہ تیزی سے      ابا جی  اندر  آ رہے تھے ۔  باہر  والے  بھائی مجھے  بلند آواز میں نہ کھینچو ، نہ کھینچو   کہہ رہے تھے  اور میں اندر سے  انہیں "دھیرے دھیرے  ارے بھئی آہستہ آہستہ" کہہ رہا تھا۔  
اسی  افراتفری میں ابا جی  اندر اتر آئے ۔  اور  ایک اور حیرت  انگیز       منظر سامنے آیا۔  وہ  ابا جی  جنہیں فدوی اپنے  ہٹے کٹے جثے کے باوجود   اکیلا اٹھا  کے بٹھا بھی نہ سکتا تھا  آج  سارے کے سارے  ابا جی کو  اپنے  دونوں بازوؤں میں اٹھا کے  بیٹھا تھا ۔ اس سے بھی زیادہ  حیرت انگیز بات یہ  کہ  ابا جی  کا  وزن  ایک تولہ بھی  محسوس  نہ ہو رہا  تھا ۔ یوں لگ رہا  تھا کہ  میں نے صرف  بازوؤں کا اشارہ  کیا ہوا  ہو ، جبکہ اٹھا  کسی اور نے رکھا  ہو۔   پاؤں  میں کزن کی جانب بڑھائے اور ابا جی  اب ہم دونوں کے ہاتھوں  پر لیٹے تھے۔  آہستہ  آہستہ  ہم نے  بیٹھے  بیٹھے  ایک ٹانگ   سائیڈ پہ کی  اور انہیں نیچے  لٹاتے  ہوئے   دوسری  ٹانگ  بھی  دھیرے سے نکال  لی۔ 
اب ابا جی  فرش پر لیٹے تھے ۔  میں نے  تھوڑ ا ساآ گے بڑھ  کے  کفن  کے سرہانے  بندھی ہوئی پٹی کھول  دی۔  اور پھر کفن کا  پہلا بند کھول  کر  ابا  جی کا چہر ہ دیکھا۔  یہ ایک  اور حیرت  ناک ترین منظر تھا ۔  کل  وفات کے  وقت سے  آج  چار  بجے تک  میں نے بلا شبہ  لاتعداد مرتبہ  یہ  چہرہ دیکھا  تھا۔  لیکن  اب  جو میں قبر کے اندر  دیکھ  رہا  تھا  یہ منظر کچھ اور تھا۔   صرف میں ہی نہیں کزن  نے بھی  آگے جھک  کر چہرہ  دیکھا  اور  بے اختیار سبحان  اللہ کہہ اٹھا ۔ ایسی  پیاری  مسکراہٹ  بالکل  واضح  تھی  کہ   سچ  مچ رشک آ گیا۔   یہ مسکراہٹ ابھی  تقریباً آدھا گھنٹہ  پہلے  جب مسجد  کے سامنے  آخری دیدار  ہو رہا  تھا  ، تب چہرے پر نہیں تھی۔ اور  نہ ہی یہ  میری نظر کا دھوکا تھا ۔   مسکراہٹ  اتنی صاف اور  واضح تھی   کہ  کزن دیکھ کر بولا:۔" واہ او یار  واہ ۔  ساری زندگی  ٹُھک  نال گزاری اے ۔ اج  وی اوہا ٹُھک  اے"ترجمہ( واہ رے  یار واہ۔  ساری زندگی جس  دبدبے  سے گزاری  آج  بھی وہی دبدبہ  ہے)۔  یہ وہ اطمینان بھری مسکراہٹ  تھی  جو ماں  کی گود میں سوتے بچے  کے لبوں  پر ہوتی ہے ۔ اور  آج ابا  جی بھی  اپنی اماں  جان  کے عین پہلو میں  ہمیشہ  کیلئے  آ کر  بہت  خوش لگ رہے تھے ۔   چہرہ ایسا  پر نور  اور نورانی  کہ  کفن  تک  روشن روشن لگ رہا تھا۔ میں نے چادر سے چہر ڈھانپ دیا۔
اب  ابا جی کے  دونوں سائیڈوں سے  ہاتھ رکھ  کے دیکھا  تو  آدھا آدھا  ہاتھ  قبر  دونوں طرف سے  کھلی تھی ۔  اور سرہانے  کی  طر ف  سے  پورا  ایک ہاتھ کھلی تھی ۔ پائنتی  کی جانب  سے  کزن نے  بھی تصدیق  کیا کہ  یہاں  سے  بھی قبر  کی دیوار  ایک ہاتھ  دور  ہے۔ 
اب  ہم نے  اپنے  قدموں کے نشان مٹا کر  نکلنا  تھا۔ سب سے آگے میں بیٹھا  تھا  سو میں جھکے  جھکے  اٹھا  اور   ایک  پیر  دوسری  طرف  خالی  جگہ  احتیاط  سے رکھا  اور  آہستہ  آہستہ  کھسکتا  قبر  کے داخلی سوراخ  تک پہنچ گیا۔  وہاں  ہاتھوں  کے  زور  سے  اوپر  چڑھا  اور  باہر  نکل گیا۔  میرے  بعد  کزن بھی  اسی طرح  5 منٹ   بعد  کھسکتا  کھسکتا  نکل آیا۔  باہر لوگ دم بخود کھڑے تھے۔ 
اب  مستری  محمد رمضان صاحب نے  دو فٹ کا  روشن دان  کچی  اینٹوں  سے  بند کرنا شروع کر دیا۔ اور  میں نے  کھجور  کی ایک  لمبی سی ہری  چھڑی  سرہانے  کی جگہ  کے  تعین کے  طور پر  وہاں  گاڑ  دی۔   اب  سب بھائی اور ماموں وغیرہ  آگے بڑھے  اور کلہ شہادت  با آوازِ بلند  پڑھتے ہوئے  مٹی ڈالی جانے لگی ۔  سب تھوڑی  تھوڑی  ڈال کر  ایک طرف ہٹ گئے اور پھر  حافظ محمد  رشید اور  فدوی نے  قبر  پر  مٹی ڈال کے اسے  کو زمین سے  بلند کر دیا۔  تعویز کا نشان  بنانے کے  بعد  پیلو  کے درخت  کی  ہری  ٹہنیاں  قبر پہ بکھیر دی گئیں۔
اس  کے بعد  ابا  جی  کی  زندگی کی  آخری  گیارہویں شریف  ان  کی آخری  آرام گاہ  پر  منعقد  کی گئی اور ابا جی کے پسندیدہ  نعت خوان  اور  ان کے عقیدت  مند  جناب  حاجی  عطا محمد صاحب آگے  بڑھے  اور قبر کے  سرہانے  کھڑے  ہو کر  ایک نعت  شریف اور  ایک منقبت  حضرت غوث الاعظم  سرکار  ؒ کی سنائی ۔  اس  کے بعد جنید  حسنین بخاری  نے  ختم  پڑھا ۔ دعا  مانگی گئی۔اور حاضرین میں برفی بانٹی گئی۔   اسی دوران  روشن پاکستان  پبلک سکول  کے پرنسپل  میاں محمد شریف کے استفسار  پر   حسنین  بھائی   نے انہیں ابا جی  کا ذکر  کرنے کا  مخصوص طریقہ   اور اس کا  راز بتایا۔ بہت سے لوگوں  نے  کہا کہ سبحان اللہ  یہ بہت ہی دلچسپ  حقیقت  معلوم ہوئی  ہے آج۔  حافظ محمد ذیشان بخاری  اور حافظ محمد  رشید  قبر  کے پاس بیٹھ کر تلاوت  قرآن مجید میں مصروف ہو گئے ۔ اور  آہستہ آہستہ  لوگ واپس  ہونے لگے۔  سب  سے آخر میں فدوی بھی  آنے لگا تو  قبر کی پائنتی  سے لپٹ  کر زارو قطار روتا  محمد اسلم  نظر آیا ۔  مجھے  ایسا  محسوس ہوا کہ  جیسے  ابا جی کہہ  رہے ہوں  کہ اسے لے جاؤ یہاں سے۔  میں واپس  آیا اور اسلم  کو دلاسادے کر اٹھا  یا اور  کہا کہ   اس  طرح روؤ گے تو  انہیں تکلیف ہو گی ۔  بس یہ  یقین رکھو  کہ ہم نے ان کا  ظاہری  جسم دفنایا ہے  ہے ۔  ہمارے دلوں  میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور پھر  عرفان کے ساتھ موٹر  سائیکل  پہ بیٹھ کے چل پڑا۔     

Tuesday, 2 December 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔۔ (10)۔

0 آرا

گزشتہ سے پیوستہ



ہجوم میں ہلچل مچ گئی ۔  اس ہلچل میں ایک شناسا نے مجھے  دیکھا تو میرے گلے  لگ گئے اور اظہارِ افسوس کیا۔ بس اس کا گلے لگنا تھا کہ لوگ مکھیوں  کی طرح مجھ پر ٹوٹ پڑے ۔ اس  سے پہلے بھی انہی لوگوں  کے درمیان کھڑا تھا ، لیکن مجھے  شکل سے کوئی نہ جانتاتھا۔ اب  سب  کی کامن سینس  نے بتا دیا شاید  کہ  یہ  ضرور پیر صاحب کے  صاحبزادوں  میں سے چھوٹا ہے ۔  اور پھر ایک کے بعد  ایک  کا سلسلہ  شروع ہو گیا۔  لوگ  بے تابی سے  مجھے  گلے ملنے اور اظہارِ افسوس کیلئے ٹوٹے پڑ رہے تھے ۔   کئی  بڑے بوڑھے بزرگ میرے گلے لگ کے دھاڑیں مار مار کے روتے رہے ۔ اور کئی بے چارے مجھے  بتا تے رہے کہ  ہم آپ کے مرید  ہیں ۔  اب پیر صاحب کے بعد آپ ہی  ہمارے لیے ہیں۔ سب کو صبر کی تلقین کرتے  اور "اللہ دی مرضی دے کم" کے جواب میں "ہاں جی ،  اس کی رضا میں ہم راضی" کہتے کہتے میرا  گلا  سوکھ گیا۔  مگر لوگ تھے کہ  تینوں  اطراف سے  امڈے پڑتے تھے ۔  میں نے  بازو کھول کر ایک ساتھ دو دو  کو  گلے ملنا شروع کر دیا۔ اور  لوگ بجائے ہمیں دلاسا  دینے کے میرے کندھے پہ سر رکھ کے روتے رہے۔   اچانک  عرفان  میرے قریب آیا  اور کہا  کہ  جنازہ  تو گیا۔  اب کیا کوٹ  والا  نہیں جانا کیا۔  یہیں  کھڑے رہے تو  یہ ہجوم نہیں کم ہونے والا۔  اس وقت مجھے  یاد آیا  ارے  ہاں۔  ہمیں تو حسب  الحکم  جنازہ اٹھا  کے جانا  تھا۔  بڑی مشکل سے منت  ترلہ کر کے  جان چھڑائی کہ اب مجھے دربار  شریف جانا  ہے تدفین کیلئے ۔
جونہی  نماز کے بعد جنازہ  اٹھایا  گیا۔  ابا  جی کے ارشاد  کے مطابق  ایک بکرے  کو  ذبح کر دیا  گیا تھا۔    اور اب جو دیکھا  تو اس کا گوشت  بھی کاٹا جا رہا تھا ۔   دریاں  بچھا دی گئیں تھیں اور لنگر جاری ہو چکا تھا۔ یہ سب  دیکھ کے اطمینان  کا سانس  لیتا  اندر  گیا تاکہ اماں جی کو بتا دوں  ۔ اندر جاتے ہی  خواتین مجھ سے  اظہار ِ افسوس  کیلئے امڈ پڑیں ۔ میں نے ہاتھ جوڑ کر  معذرت کی کہ  ابھی مجھے تدفین کیلئے جانا ہے ۔ یہ سب ہوتا رہے گا، ابھی مجھے اجازت دیجئے ۔  
 اماں  جی   نے کہا  کہ  عہد  نامہ  لیتے جاؤ  اور ان کے ہاتھوں  میں تھما کے رکھ دینا۔  اور  حسنین  سے کہنا کہ  تدفین کے بعد   کوئی  چیز منگوا کے بانٹ دے۔  یہ تاکید پلے باندھتا ،  باہر لپکا ، عرفان  موٹر سائیکل  پر تیار کھڑا  تھا۔  میں بیٹھا اور یہ جا وہ جا۔ ہمارا خیال  تھا کہ  ہم راستے میں  ہی جنازے  کے ساتھ  شامل ہو جائیں گے۔  لیکن حیرت انگیز طور  پر  ہم موٹر سائیکل  پر  بھی پیدل جانے والوں  کے قریب نہ  پہنچ پائے ۔  یہاں تک  کہ  جنازہ  کوٹ والا  گاؤں  میں ہماری  قدیمی آبائی مسجد کے  سامنے پہنچ کے رک چکا تھا۔ 
اس قدر  تیز رفتاری  پر  صرف مجھے ہی حیرت نہیں ہوئی ۔ بلکہ  کئی عینی شاہدین جنہوں نے  جنازہ  جاتے ہوئے دیکھا  تھا ان کے بیان کے مطابق  جنازہ  ایسا  محسوس  ہو رہا تھا  کہ  ہوا میں دوڑتا ہوا جا رہا ہو۔  اس  قدر تیز رفتاری  کے  ساتھ کہ   حیرت  ہوتی ہے۔
مسجد  کے سامنے  رکنے  کی ایک  وجہ تو یہ تھی  کہ  ہمارے ایک رشتہ دار  جو کہ شوگر  کے مریض ہیں انہوں  نے درخواست  بھجوائی تھی  کہ  مجھے آخری دیدار  سے محروم  نہ رکھا جائے ۔ دوسری وجہ یہ  تھی  کہ  جیسا کہ ابا جی  کا حکم تھا کہ  میرا جنازہ  میرے بیٹے اٹھا کے لے جائیں۔  اب یہاں  سے آگے  چند  میٹر  کے فاصلے  پر دربار  شریف تک   ہم بیٹے ہی لے جاتے ۔
سید ظفر  شاہ صاحب کو ان کا بڑا بیٹا  اٹھا  کر  لایا اور  انہیں آخری  دیدار کروایا  گیا۔   اس کے بعد   سرہانے  سید  حسنین بخاری  اور جنید بخاری  اور پائنتی کی جانب سے  فدوی  اور سید  شاہد  حسنین  نے  جنازہ اٹھایا  اور باآواز بلند  کلمہ شہادت  پڑھتے  دربار شریف کی جانب لے چلے ۔  دربار عالیہ کوٹ  والا  کے سامنے پہنچ کر    کچھ صاحبان  نے جنازہ  ہمارے کندھوں سے اپنے کندھوں پر لے لیا  اور  عین  دربار عالیہ کے سامنے  رکھ دیا۔     
دربار کے بائیں جانب  اپنی والدہ   کے پہلو  میں ان کی آخری آرامگاہ ان کی  زندگی میں ہی تیار ہو  چکی تھی ۔  ہم جس وقت پہنچے  اس وقت  حافظ صاحبان  اندر بیٹھے  تلاوت میں مصروف تھے ، اور سورۃ  دہر کی تلاوت   ہو رہی  تھی۔ (یعنی پارہ  29 کی ایک سورۃ اور تیسواں پارہ باقی  تھا ) کچھ ہی دیر میں قرآن مجید کا  ختم کر کے  حافظ رشید اور   حافظ سید ذیشان بخاری  باہر نکلے ۔
اس  کے بعد  یہ سوال  کھڑا ہوا کہ ابا  جی کو قبر میں کون اتارے  گا۔  سب سے پہلےبڑے بھائی  صاحب قبر میں اترے ،  لیکن  کچھ ہی دیر بعد  پسینہ پسینہ ہو کر باہر نکل آئے ۔  ان کا چہر ہ دیکھ کر  میں نے  جنید کے کان میں سرگوشی کی  کہ  حضرت  قبر دیکھ کر  حوصلہ  ہار بیٹھے  ہیں۔  حسنین بھائی قبر  سے نکل کر  پاس کھڑے بھی نہ ہوئے  ۔ بلکہ وہاں سے  دور جا کے  بیٹھ گئے۔  ہمارے  ایک چچا زاد  بھائی   جن کا  قبر میں میت اتارنے کا  وسیع تجربہ  ہے ۔ آگے بڑھے ۔  ہمیں ان کا  نام لے کر ابا  جی روکا تھا  کہ  اسے  میری قبر میں نہ اترنے دینا۔ (کیونکہ ہمارے خاندان  میں بزرگوں  کے  زمانے سے ہر قسم کی منشیات  اور تمباکو نوشی  سختی سے منع  ہے۔  جبکہ یہ صاحب عادی سگریٹ نوش تھے) جنید  نے روکا  تو  داڑھی  کو چھو کر منت  کرنے لگے کہ  میرے بھی چچا لگتے  ہیں،  خدا کا واسطہ  وغیرہ وغیرہ ، میں  نے پیچھے سے  بازو  پکڑ  کے  روک  لیا اور حسب عادت  سختی سے  کچھ کہنے ہی والا  تھا کہ  بڑے بھائی (جو کہ میری  عادت سے خوب واقف تھے) لپک کر آگے آئے  اور مجھے خاموش رہنے کا  اشارہ کیا ۔   قبر  کا داخلی  راستہ  جنید  کے  قوی ہیکل  جثے کے مقابلے میں بہت چھوٹا تھا۔  اس لیے  کزن صاحب قبر میں اترے  اور ان  کے بعد میں اترا۔ 

زمین  سے تقریباً    پانچ فٹ  نیچے   قبر  کے اندر  داخلے  کیلئے ایک  فٹ چوڑا  اور دو فٹ لمبا روشن دان  نما راستہ تھا۔   اس  سے قبر  کے فرش تک  مزید پانچ  فٹ گہرائی تھی۔ 

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما