Saturday, 8 June 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط ہشتم) -

8 آرا


کس نہ گفتہ ہمچو سعدےؒ


اس سب مارا ماری کے درمیان کریما سعدیؒ اور انگلش  کے پیریڈ ہی گوشہ عافیت ہوتے  تھے ۔
انگلش میں باقی سب ہم جماعتوں کی تو اے بی سی سے بھی واقفیت پہلی بار ہوئی  اوران  کیلئے  یہ  نئی چیز تھی ۔ اس لیے "جز اویس اور کوئی نہ آیا بروئے کار " کے مصداق جوگی ہی ان  اندھوں کے درمیان کانا راجہ تھا۔ انگلش ریڈنگ ہو یا رائیٹنگ ، جوگی سب سے آگے۔۔۔۔۔ لیکن جلد ہی   یہ  معلوم ہوگیا کہ "انگریختہ"کے تمہی استاد نہیں ہو غالبؔ ، کہتے ہیں اسی کلاس میں کوئی وسیم بھی ہوتا ہے ۔
 کریما سعدیؒ جناب غلام محمد صاحب پڑھاتے تھے ۔ نہ صرف  قتیلِ سعدیِ بلکہ  فنا فی السعدی ؒ تھے ۔ بہت اچھا پڑھاتے تھے ۔ مگر اس سے بھی اچھی بات یہ تھی ،کہ سعدیؒ کے مصرعے پڑھاتے پڑھاتے خود مست ہو جاتے تھے ۔ آنکھیں بند کر کے جھومنے لگتے، اور کلاس و مافیہا  سے  بے خبر ہو جاتے۔ اور لڑکوں کا تو معلوم نہیں ، مگر وسیم اور جوگی کو  بہت مزہ آتا تھا ۔ دورانِ   وجد غلام محمد صاحب کا تکیہ کلام ہوتا تھا :۔ " ارے تجھے کیا معلوم کہ سعدیؒ کیا ہے۔ارے سعدیؒ پڑھنے ، سننے  یا  دیکھنے  کی نہیں گھول کے پی جانے والی شکر ہے"۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ "کس نہ گفتہ ہمچو سعدےؒ" بھی بہت ورد کرتے تھے ۔ یوں غلام محمد صاحب کی دیکھا دیکھی ، جوگی کا بھی دل شیخ سعدی ؒ سے لگ گیا۔نتیجہ ظاہر ہے  وہی  ہوا ، کریما سعدیؒ جوگی کو زبانی یاد ہو گیا۔   

پھر جی میں  ہے کہ  در پہ کسی کے  پڑے رہیں


جناب منظور احمد  صاحب ہوسٹل سپرنڈنٹ تھے ۔  ہمہ  جہت شخصیت  تھے ۔ پڑھنے والوں  کو شاید یقین نہ  آئے مگر  حیرت انگیز سچ یہی  ہے  کہ وہ  بیک وقت   گورنمنٹ ہائی  سکول  قادر بخش شریف  کے ہیڈ ماسٹر   اور  ڈاکخانہ  قادربخش  شریف  کے  پوسٹ ماسٹر  اور ڈاکیا  بھی  تھے ۔  اور  رات کو عشا  ء کی نماز کے بعد  حزب الرحمن اسلامی  اکادمی  کے ہوسٹل وارڈن کی  ذمہ داری  بھی  آپ  کے سپرد تھی ۔ 
اس کے علاوہ  ان  کی  ایک خصوصیت  ان کے مزاج  کی سدا بہاری  تھی ۔  میں  نے تو کیا شاید کسی  نے انہیں کبھی ہنستے  ہوئے  نہیں دیکھا ۔  عید  کا دن  ہو  یا عاشورہ کا  ، ان  کے چہرے  پر سرد مہری  کے  بہتر  ہزار پردے پڑے رہتے  تھے ۔  حتی ٰ کہ بولتے وقت بھی ان کے  چہرے  کے تاثرات  کبھی  بدلتے  نہ دیکھے ۔  وہی  سرد مہری اور  وہی ماتھے کی تیوریاں ۔ بولتے اس  طرح تھے جیسے ہم کلامی  کا سننے والے پر احسان کر رہے ہوں  ۔  
ان کی اس  سخت  مزاجی  کا  ہی معجزہ تھا کہ عشاء کے بعد  ہوسٹل  میں سب  شیطان بندے دے پتر  بن  جاتے تھے ۔ 
ہوسٹل کے ہر کمرے  میں کم از کم دس طالب علم رہتے تھے ۔ ان میں  ایک مانیٹر ہوتا  جس کی  ذمہ داری  اپنے کمرے کی  حاضری اور  ڈسپلن  قائم  رکھنا  ہوتی تھی ۔ عشاء کی نماز سے واپسی کے دس منٹ  بعد  منظور صاحب ہر کمرے میں حاضری چیک کرتے تھے ۔ اس کے بعد  لان میں چارپائی پر  حقہ گڑگڑایا  کرتے ۔  اور  اپنی  موجودگی  کا اظہار  گاہےبگاہے  ایک  للکارتے  لفظ "اوئےےےے"  سے  کرتے  رہتے تھے ۔  یہ مبہم اور غیر معین  لفظ بہت باکرامت  لفظ ہے  اس  کا  اندازہ  ہوسٹل کی  زندگی  کے دوران  ہوا۔ جو جہاں  ہوتا اسے وہیں  سانپ سونگھ جاتا ۔  چور کی داڑھی میں تنکے کی  طرح  ہر طالب علم  خود کو  اس لفظ کا  مخاطب سمجھ  کر  شرافت  سے  رٹے  مارنے  میں مشغول رہتا۔  جبکہ جوگی  نے جلد  ہی  تاڑ  لیا کہ  منظور صاحب  دوسرا چکر نہیں لگاتے   ، اس  لیے  جونہی  وہ حاضری  چیک کر کےآگے جاتے  جوگی صاحب لمبی تان کے سو  جاتے ۔  البتہ  باقی  ڈرپوک عوام  اسی  ایک "اوئے"  کے زور پر مجبوراً  گیارہ  بارہ بجے تک  جاگتی  اور خواہی نخواہی  کتابوں  میں سر دئیے رہتی تھی  ۔

اب  کے سر گرانی  اور ہے


بکرے  کی ماں  بھی کب تک خیر منا سکتی تھی ۔ سو  دن چور کے تو  ایک دن کوتوال کا  آیا  ہی کرتا ہے ۔  لیکن جوگی  کے معاملے میں دھاندلی ہو گئی ۔  سو دن  بھی پورے  نہ ہوئے تھے کہ کوتوال کا دن آن پہنچا ۔پکڑے  جانے  کے آثار و  امکان  تو ہر گز نہ تھے اگر  میر صادق بے اولاد  مرا ہوتا۔
۔  جوگی  کے  ہم کمرہ  طلباء  میں سے ایک  محمد امین  ہوتا تھا ۔ بہت  ہی  اچھا مگر  حد  سے زیادہ ڈرپوک اور وہمی  تھا ۔  اس کی اسی  کمزوری کا فائدہ  اٹھا کر  اکثر اس کے  حلوے اور پنجیرہ جات ، اور مربہ جات    جوگی میاں  قوال  اور ہمنوا (ناصر  علی )پرہاتھ صاف  کیاکرتے  تھے ۔ اس  منحوس  رات  بھی کوئی  خلاف ِ معمول  بات تو نہ ہوئی  تھی ۔  امین اسی  دن گھر  سے تقریباً  ایک  اوسط حجم  کا پتیلا  سوہن حلوے سے  پُر شدہ لایا تھا ۔  خیر سگالی کے طور پر اس نے  سب ساتھیوں کو مناسب  مقدار  میں چکھا بھی دیا ۔  مگر  جوگی کا کہنا تھا  :۔" سمندر سے پیاسے کو ملے شبنم۔  بخیلی ہے یہ  رزاقی نہیں۔" اور اسی بخیلی  کے سدِ باب کیلئے  جوگی  اور ہمنوا  نے   جنوں بھوتوں کے قصے   سنا کر  اورآسیب کا ہواکھڑا کرکے  امین سے سوہن حلوے   کا آدھا پتیلا ہتھیا  لیا۔ جس کا حاسدین کو بے  حد قلق ہوا۔ نیز  جنوں بھوتوں کے باآوازِ بلند  بیان سے نیند  میں خلل نے  بھی جلتی  پر تیل کا کام کیا ۔ 
بے چارے  کسی حد  تک سچے تھے ۔ سارے دن کی خجل خواری کے بعد  کہیں آدھی رات       کو سونے کا موقع ملتا تھا  ۔ مانیٹر حافظ شاہد خلیل تصورؔ  صاحب  تو  جوگی اور ہمنوا سے  ذرا دب کے  رہتے تھے ، اس لیے زیادہ  ٹیں ٹیں  نہ کی  البتہ   عبدالشکور  آپے  سے باہر ہو گیا ۔  جب جوگی کا کچھ نہ بگاڑ پایا تو اگلی  رات منظور صاحب کے  آتے ہی استغاثہ دائر  کر دیا ۔  فردِ جرم یہ تھی  کہ یہ نہ خود پڑھتا ہے  اور نہ پڑھنے دیتا ہے ۔ نیز خود تو آپ کے جاتے  ہی سو جاتا ہے مگر  جب ہمارے سونے کا وقت  آتا ہے تو یہ دونوں آتنک وادی  قصے کہانیاں(بآوازِ بلند)شروع کر دیتے  ہیں۔
منظور صاحب کی ہر قسم کے  تاثرات سے  عاری کھرکھراتی ہوئی  مشینی آواز  آئی :۔ "جوگی اور ناصر باہر آ جائیں۔ " اور ملزمان"جان  جائے  پران نہ جائے "والی  کہاوت   سے دل کو تسلی  دیتے ہوئے باہر  نکل  آئے ۔ خیال تھا کہ زیادہ سے زیادہ پانچ چھ تھپڑوں  کے صدقے سے بلا ٹل جائے گی ۔ مگر منظور صاحب نے مرغا بننے  کا حکم صادر فرمادیا۔  کمال  اطمینان سے ملزمان  نے کان  پکڑ لیے ۔  منظور صاحب  کسی  فوجی  سارجنٹ  کی  طرح   حکم فرما ہوئے :۔ " جوانو! اسی طرح کان  پکڑے پکڑے  مارچ  پاسٹ   کرو۔"مارچ شروع ہوا اور  منظور صاحب اس رو کے آخری کمرے کی حاضری چیک کرنے آگے چلے  گئے ۔  ملزمان خوش تھے  کہ پچیس تیس میٹر کی  ککڑ  واک  سے  ہی  بلا ٹلتی ہے تو غنیمت ہے ۔ اگر عوام  دیکھ رہی ہے تو دیکھتی رہے ۔
  فیض احمد فیضؔ دیکھتے  تو ضرور "جس دھج سے  کوئی مقتل گیا " والا شعر  جوگی کے نام کر دیتے  مگر  منظور صاحب  ٹھہرے  ایک نمبر  کے بدذوق ۔  بجائے  داد دینے  کے جونہی ملزمان  برآمدے کے اختتام پر  خوشی خوشی انسانی  صورت میں لوٹے  پھر  سے  مرغا بننے کا حکم  جاری   کر دیا ۔  اور کہا  کہ  یہ ککڑ واک  طلبا کی  ضیافتِ طبع اور عبرت ِ  طبع  کیلئے  جاری رہنی چاہیے ۔ایک  ایکڑ  کے رقبے  پر  محیط  ہوسٹل    ریمپ  مقرر  ہوا ۔ اور  کُکڑ  واک  شروع ہو گئی ۔  طلباء کھڑکیوں اور دروازوں  سے چپکے  اس  قدر اشتیاق  سے   عزت کا   یہ جنازہ دیکھ  رہے تھے جیسے میلے  میں دیہاتی کتوں  کی کشتی  دیکھا کرتے  ہیں۔
خیر  بے چارے  ایک دوسرے  کی دیکھا دیکھی حوصلہ  مندی  سے مارچ  کرتے رہے ۔  کافی  دور آ کر  جب اس خیال  سے کہ  منظور صاحب شاید کہیں  حاضری چیک کر  رہے ہوں یا  کم از  کم دور کھڑے دیکھ رہے ہوں ، کان  چھوڑ  کر  مگر  بدستور  اسی پوزیشن میں تھوڑی  سی رفتار  بڑھائی   ہی تھی  کہ قریب  ہی سے منظور صاحب  کی غراہٹ ابھری ۔ اور حوصلہ دم توڑنے لگا۔ 
ابھی تہائی سفر تمام ہوا تھا  کہ  گوڈے  گٹے جواب  دینے لگے۔  سر گھٹنوں  میں  دبا دبا تنگ آیا  تو اس نے بھی  نوٹس  جاری کر دیا ۔  لیکن ہار بھی تو نہ مانی جا سکتی تھی ۔  لہذا  دانت پیستے  کسی نہ کسی  طرح  سفر  چیونٹی کی رفتار سے جاری رہا ۔ اور  منظور صاحب سخت گیر  ساس کی طرح   مسلسل  نظر  رکھے ہوئے تھے ۔  اور جیسے ہی ان کی نظر چوکی  جوگی  نے  موقع  ضائع  نہ جانے دیا  اور  دو چھلانگوں  میں کچھ آگے  بڑھ گیا ۔  ناصر چونکہ  حالات ِ حاضرہ سے ناواقف  تھا  اس لیے  وہ کچھوے کی رفتار سے   شرافت سے  چلتا رہا ۔  جبکہ  منظور صاحب کی نظر  بھی زیادہ  اسی پر تھی ۔ اس بات  کا  فائدہ  جوگی  نے خوب اٹھایا  اور باقی  ماندہ سفر  ایک  ہی جست میں تو نہیں البتہ   معدودے چند  جستوں  میں تمام کر لیا ۔  اور نقطہ  ءِ اختتام  کو چھوتے ہی  حواس  اور ہمت  ڈوب  گئے ۔  ناصر بے چارے پہ نجانے  کیا گزری ۔
دسمبر  کی  سرد  رات اور  پسینے   اور پسینے جوگی ۔ پہلے تو  وہیں بیٹھے  بیٹھے جرسی کا بوجھ  اتار پھینکا  ۔  پھر  جب ٹانگوں  میں جان آئی  تو سینہ پھلائے  اپنے کمرے میں  آئے ۔ اور ایک  قہقہہ اس زور سے لگایا  کہ حاسدوں کی جان جل گئی ۔  نیز  ناصر کے آتے ہی ایک عدد الٹی میٹم  بھی دیا گیا  کہ  اب تیار  رہنا  ہمارے وار کیلئے ۔       

8 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما