Wednesday, 28 May 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔۔۔(وفات)۔۔۔(5)۔

6 آرا
گزشتہ سے پیوستہ


ظہر کا وقت  ہو چکا تھا ۔  کچھ نماز کے بہانے کھسک گئے  اور کوئی کسی بہانے ۔   مہمانوں کی آمد  ہنوز جاری تھی ۔   لیکن   گھر کی  خواتین کے  علاوہ کسی کو    اندر آنے کی اجازت نہیں تھی۔ اور جو بھی اندر آتے انہیں   ایک منٹ سے زیادہ میں بیٹھنے نہیں دے رہا تھا ۔ اسی وجہ سے اس دن  کئی خواتین اور کئی حضرات  مجھ سے اچھے خاصے    ناراض ہو گئے (اپنے دل میں) منہ سے کہنے کی کسی کو جرات نہ ہوئی۔اماں باہر خواتین کو  بھی حال احوال سنا رہی تھیں ، اور  ساتھ  ہی آنے والے وقت  کیلئے  انتظامات کروا رہی تھیں ۔  چاول  پکا کر  بانٹے  گئے لیکن ہم گھر والوں  میں سے شاید کسی کے منہ میں ایک چمچ چاول بھی نہیں گئے۔ 
بہوؤں نے میدان خالی  دیکھا تو  اندر  آ کے بیٹھ گئیں ۔  اسی وقت  طٰہ  بلال (میرا بھتیجا  ۔ جنید بخاری کا  بیٹا) سکول سے  واپس آیا تو  سیدھا  ابا جی  کے پاس آ گیا ۔  ابا جی نے  خوش ہو کر اسے  اپنے پاس بٹھا لیا  ۔ یہ دیکھ کر  باقی  بہوؤں کو  بھی اپنی اپنی اولاد یاد آ گئی ۔  ایک نے  عمیر کو بلا  لیا  کہ دادا  ابو کا حال کیوں  نہیں پوچھا ۔ دوسری نے  عزیر کو  بلا لیا کہ  آؤ ادھر دادا ابو کو دباؤ۔ 
ابا جی  نے انتہائی تکلیف  کے باوجود  بھی پوتوں کو  خود سے لپٹا کر پیار کیا اور  ان کا حال چال پوچھا ۔ عمیر سے  کہا کہ  اب بھی تمہارا  ابو تمہیں مارتا تو  نہیں ۔؟  عزیر  سے پوچھا کہ  تمہارے پیپر  کیسے ہو رہے ہیں ۔ یہ  ان کی  انتہائی محبت تھی ، ورنہ جو ان کی حالت تھی اس میں  انہیں  کمرے میں  بھیڑ بھاڑ  سے بھی  بے چینی  ہورہی تھی ۔  اور انہی کی اسی حالت کے پیش نظر  میں اندر تو کیا باہر  بھی کسی کھانسنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا ۔ لیکن اس کے باوجود  وہ اپنے پوتوں کو  آخری بار خود سے لپٹا کر پیار کرتے رہے ۔
آخر میں نے  بھابھیوں سے  سے بھی باہر جانے کو کہا ۔  ایک تو بجلی نہیں  تھی ۔ دوپہر کا وقت ، اور  اس پہ ان کی روح کی بے چینی ۔  ایک  بھانجے کو  ان کے سرہانے کھڑا  کے  ہاتھ والے پنکھے سے ہوا کرنے پہ لگا دیا۔ لیکن  اس کے باوجود  ان کے چہرے  پہ پسینہ ہی پسینہ تھا ۔ ماتھے پہ ہاتھ رکھنے سے یوں محسوس ہوتا تھا  جیسے برف کی سل پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔
دوبجے کے  قریب  مجھ سے فرمایا  کہ مستری  کا  نمبر  ملاؤ ۔ میں  نے کہا  کہ آپ بڑی مشکل  سے بول رہے ہیں  ، اس لیے فون پر شاید ٹھیک سے بات نہ کر سکیں ۔  فرمایا نہیں میں خود اس سے بات کرنا چاہتا ہوں ابھی۔  میں نے ان  کے موبائل  کی کنٹیکٹ  لسٹ میں دیکھا  مستری  حاجی محمد رمضان صاحب کا نمبر نہیں ملا ۔  میں نے  اس خیال سے کہ بڑے بھائی خود قبرستان میں  موجود ہیں  ان کا نمبر ملایا اور  کہا کہ ابا جی حاجی صاحب سے بات کرنا چاہتے  ہیں ۔انہوں نے  کہا میں اس وقت  ہوٹل سے  مزدوروں کیلئے دوپہر کا کھانا لینے آیا  ہوا ہوں ۔ ابھی کچھ دیر میں  وہاں پہنچ کر بات کرواتا ہوں ۔ابا  جی کا اصرار جاری تھا کہ  ابھی بات کرائی جائے ۔   میں  نے   ان کی جیبی ڈائری جس پر  نمبر زمحفوظ تھے  حاجی صاحب کا نمبر ڈھونڈا ، مگر نہیں ملا ۔ میں نے جنید  بھائی سے کہا کہ مستری کا نمبر ڈھونڈیں ، ان کے موبائل میں حاجی صاحب کا نمبر محفوظ تھا ۔ نمبر ملایا تو  ابا جی نے موبائل اپنے کان سے لگانے کو کہا ۔  سلام دعا کے بعد  اباجی نے کہا  کہ  حاجی  صاحب آپ غلطی کر رہے ہیں۔  ایک قبر زنانہ  ہے اور ایک مردانہ ۔ آپ درمیانی قبر(میری اماں جان کی ) کیلئے  شگاف   پائنتی کی جانب  سے رکھیے  اور  دوسری قبر کا ویسے ہی ٹھیک ہے  جیسے آپ نے  رکھ لیا ہے ۔ 
(تدفین کے وقت  عورت کی میت  کو پائنتی کی جانب سے قبر میں اتارا جاتا ہے  اور مرد کی میت کو  سرہانے کی جانب سے ۔ حاجی  صاحب کو معلوم نہیں تھا کہ ایک قبر  اماں جان کیلئے اور ایک اباجی کی اپنی  ہے ۔  اس وقت  وہ قبر تعمیر کرتے کرتے  شگاف  کی جگہ مختص کرنے ہی والے تھے ۔ اگر ایسا ہو جاتا  تو اماں جی کی قبر  دوبار ہ تعمیر  کرنی پڑتی ۔)۔
کچھ دیر بعد  جب بڑے بھائی کھانا لے کر قبرستان پہنچے  تو انہوں نے  مجھے فون کیا ۔ میں نے بتایا  کہ ابا جی بات کر چکے ہیں مستری صاحب سے اور  جو سمجھانا تھا وہ سمجھا دیا ہے ۔وہاں بڑے بھائی اور مستری مزدور حیران یہاں میں اور  دیگر حاضرین حیران۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد  طبیعت  پھر سے بگڑنے لگی ۔ اور  اب تک  صرف  دائیں   ٹانگ میں شدید ترین درد ہوتا تھا اب بائیں کندھے میں بھی درد  شروع ہو گیا ۔  سورۃ یسین  کی تلاوت صبح سے ہنوز جاری تھی ۔  ایک بھائی  اور بھانجا (حافظ محمد ذیشان ) مسلسل  تلاوت میں مصروف تھے ۔ جبکہ میں ادھر ادھر سے فارغ ہوتے ہی  پھر کھڑے کھڑے تلاوت کرنے لگتا ۔ 
چچا  اور آل اولاد  کو  نہ تو تلاوت کی توفیق ہوئی  اور نہ کندھا یا ٹانگ دبانے  کی ۔  وہ جیسے صرف کچر کچر  باتیں کرنے اور طنزیہ جملے کسنے کیلئے بیٹھے تھے ۔ ابا جی  نے منگل کے دن ہی کہہ دیا تھا  کہ جب میرا وقت آئے  اس فیملی میں  سے تو  کیا کوشش کرنا کوئی  بھی موجود نہ ہو ۔ نہیں معلوم میرا  وہ وقت کیسا ہو ،  اور  ان کی عادت ہے  بعد میں  نقلیں کرنے اور مذاق بنانے  کی ۔ 
اب  جب کہ  تلاوت کرنے  کرنے والوں کیلئے بیٹھنے کی  خاطر خواہ جگہ نہ تھی ۔   چار لوگ بے چارے  ایک ہی چارپائی  پر دبکے بیٹھے  پڑھ رہے تھے  ، جبکہ یہ  حضرات  بائیں  طرف  سے  اپنی سٹھیائی  ہوئی بزرگی کا پھن پھیلائے  تماشائی  تھے ۔  ابا  جی   بائیں طرف کو کروٹ  بدلوانے کا کہتے لیکن جلد ہی دائیں طرف بدلنے کو  کہتے ۔  آخر  انہوں نے  ایک بازو اوپر کیا  اور   شہادت کی  انگلی  سے میری طرف اشارہ کیا ۔  میں ان کی چارپائی  کی پائنتی کی طرف  تھوڑا سا فاصلے پر  کھڑا سورۃ یسین پڑھ رہا تھا ۔  سب نے حیرانی سے نہ سمجھنے والے انداز میں  میری طرف دیکھا ۔ میں شہادت  کی انگلی کے اشارے  سے سمجھا کہ  کلمہ پڑھنے  کا کہہ رہے ہیں ۔ میں نے کہا کہ کلمہ طیبہ کا ورد شروع کیجئے ۔ لیکن ابا جی نے اس بار  اسی انگلی سے ایک بار نیچے  اور ایک بار  میری طرف سے گھما کر اپنی دائیں طرف اشارہ کیا ۔ عطاحسین شاہ صاحب   (میرے سب سے بڑے چچا زاد بھائی) نے  پوچھا کہ آپ نے کیا کہا ہے  ہمیں سمجھ نہیں آیا ۔لیکن ابا جی نے پھر وہی اشارہ کیا ۔  اب میں سمجھ گیا ۔ ان کا کہنا تھا  کہ سورۃ یسین  رکھ دو اور میری  بائیں طرف سے آ جاؤ ۔  میں  اس وقت  ابھی سورۃ کے درمیان میں تھا ، اشارہ پاتے ہی میں سورۃ میزپر  رکھی  اور  چچا اینڈ  آل اولاد سے مطلع صاف  کرنے کو کہا۔   انہوں نے برا سا منہ تو بنایا لیکن مجھ سے کچھ کہنے کی  ہمت نہ پڑی ۔ اسی وقت  کمرے سے  فریج بھی اٹھوا کر  ایک اور کمرے میں رکھوا دیا ۔ اور اس کی جگہ ایک اور چارپائی رکھوا دی ۔  اب دائیں طرف سے صرف میں کھڑا تھا ۔  تین بجے کے قریب  بڑے بھائی قبرستان  سے  گھر  میں دیکھنے کیلئے آئے تو  ابا جی  نے ان  سے پوچھا کہ"اب  کتنی دیر  ہے۔۔۔؟؟؟" انہوں نے کہا  :۔ "سائیں ڈاٹ  مریندی پئی  اے" (محراب بنائی جا رہی ہے )۔  ابا جی نے  کہا  آپ لوگ دیر کر رہے  ہیں ۔ جتنی جلدی ہو سکے  اب کام نمٹانے کی کوشش کی جائے ۔ یہ تاکید کر کے  انہیں دوبارہ قبرستان بھیج دیا ۔  اس کے بعد اماں جان کو بلوایا ۔   میں نے سہارا دے کر  بٹھایا ۔  اماں نے کان قریب کیا ۔ بولے :۔" کفن اور متعلقات  تیار ہیں  ناں۔۔۔؟؟" اماں نے اثبات میں جواب دیا  تو پھر  پوچھا :۔  "پلیتے بنائے نی یا  کوئینہ ۔۔۔۔ ہر چیز سنبھل گھن ۔ اوں ویلے تھتھوی نہ تھی ونجیں ۔"(پلیتے بنالیے گئے یا نہیں ؟ ہر چیز  سنبھال لیں ، اس وقت  بدحواس نہ ہو جانا)(وضاحت :۔  پلیتا  دراصل  کپڑے کا ایک سادہ سا  دستانہ ہوتا ہے ۔  اسے ہاتھوں پر چڑھا کر  میت کا  استنجا وغیرہ  کروایا جاتا ہے ۔  کفن  تو جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے  کہ سالوں پہلے سیے  جا چکے تھے   ۔ لیکن  پلیتے  نہیں بنے تھے ۔ یہ اسی بارے استفسار کیا گیا تھا)۔
آواز  آہستہ آہستہ  دھیمی سے دھیمی ہوتی جا رہی  تھی ۔  مجھے ٹائم  کی فکر تھی کہ  ان کا تو وقت بالکل قریب آ چکا ہے  جبکہ میں نے تو سب کو مغرب تک  کی گارنٹی دی تھی ۔  آواز  آہستہ آہستہ  دھیمی  سے بالکل بند ہوتی گئی ۔  چار بجے کے قریب  مجھ  سے فرمایا  کہ میری یہ ٹوپی بدلواؤ ۔ میں  نے  وضاحت سے پوچھا  تو آہستہ سے بولے  :۔" یہ اتار لو  اورنئی ٹوپی لے آؤ  ۔ جلدی ۔" میں باہر لپکا  اور اماں سے نئی ٹوپی دینے کو کہا ۔  نئی ٹوپی لا کر پہنا دی گئی ۔  اس  کے بعد    اٹھا کے بٹھانے کا اشارہ  کیا ۔  میں نے سب کو  دروازے کے سامنے سے  ہٹ جانے  کا اشارہ کیا ۔  اور انہیں اٹھا کے بٹھا دیا ۔  حسب معمول  ہاتھ باندھ  کے سر جھا کے بیٹھ  گئے ۔ اس بار معمول سے زیادہ دیر تک بیٹھے رہے ۔  چار  بجے  تک  ان کی  آواز بالکل بند ہو گئی ۔ اب میری  آنکھیں ان کی  کی آنکھوں پر جمی  تھیں ۔ کیونکہ  اب وہ آنکھ کا اشارہ  ہی کرتے  تھے  کہ کروٹ ادھر بدلنی ہے ، ادھر بدلنی ہے  یا  اٹھا کے بٹھانا ہے ۔  اور  یہ زندگی  میں پہلی بار تھا  جب  خاکسار نے اپنے والد صاحب کی آنکھوں کا رنگ دیکھا ۔ پہلی بار ان کی آنکھوں میں جھانکنے کا موقع ملا ۔  اتنی مقناطیسیت  تھی ، اتنی کشش تھی ۔کہ  الفاظ  میں بیان نہیں ہو سکتی ۔  ہلکے نیلے  رنگ کی شفاف آنکھیں ، جیسے اندر تک اتری جا رہی ہوں۔  تین بجے سے  پانچ  بجے تک  مجھے  کمر سیدھی کرنے  یا سر اٹھا کے ادھر ادھر دیکھنے  کا ہوش نہیں تھا۔  کمر ایسا  لگتا تھا کہ اکڑ گئی  ہو  اور اب کبھی سیدھی نہ  ہو سکے گی۔  پانچ بجے تک کروٹیں   بدلنے  میں کمی آئی ، اور اب  بالکل سیدھے لیٹے  تھے ۔  میں  پیروں کے بل  ان کی چارپائی  کی سائیڈ  پر بیٹھ گیا اور  ان کے ماتھے سے پسینہ پونچھا ۔   پانی کا  اشارہ  کیا تو  میں نے آب زم زم والی بوتل اٹھا کے  منہ سے لگا ئی  اور اتنا پانی  اندر گیا کہ  صرف حلق ہی تر ہوا  ہوگا۔  دوسری طرف سرہانے  حافظ  محمد ذیشان  سورۃ یسین  کی تلاوت کر رہا تھا ۔   اس کی طرف دیکھا  اور   ہاتھ اٹھا کے    لکیر کھینچنے  کی طرح  کا اشارہ کیا ۔ اسے سمجھ نہ آئی تو  انگلی اٹھا کہ  پہلے ہوا  میں علامتی  مد  بنائی  اور پھر اسی انگلی کے اشارے سے  سیدھا کھینچنے جیسا  اشارہ کیا ۔   وہ دراصل  ایک مد کو کھینچنا  بھول گیا تھا ۔ اس کی درستگی کی  کہ درست طور پر  مد کو کھینچ کے پڑھو۔(خو د قرآن مجید کے حافظ نہیں تھے  لیکن ساری زندگی قرآن مجید پڑھتے اور پڑھاتے گزری ۔ ہم سب بھائی  بھی انہی کے شاگرد ہیں۔ اور ہمارے علاوہ  کم و بیش  دو سو  ان کے شاگرد  اسے قرآن مجید ناظرہ پڑھ چکے ہیں۔  منزل اس قدر پختہ تھی  کہ  اچھے اچھے حفاظ کی بھی غلطیاں پکڑ  لیتے تھے ۔  تراویح  میں   بہت کم حافظ  ان کے سامنے پڑھنے کی جرات کر پاتے تھے )۔

آہستہ آہستہ  یہ ہاتھوں کی حرکت  بھی تھمتی گئی ۔  سواپانچ  بجے کے قریب  ان کے ہونٹ  ہلے ۔ میں نے  جھک کر کان قریب کیے  تو  انتہائی مدہم سی آواز آئی :۔"کلمے"۔۔۔۔
میں نے  کلمہ پڑھنا شروع کر دیا ۔  آہستہ آہستہ ۔۔۔۔  لاالہ  ۔۔۔ الا  اللہ ۔۔۔ محمد الرسول  اللہ ۔۔۔۔ ان کے ہونٹ میرے  بعد ویسے ہی  ہلتے گئے ۔جب میں  اسم مبارک "محمد " پڑھتا تو  ابا جی  دونوں ہاتھ اٹھا کے  انگوٹھے چومنے  کی کوشش  کرتے ، کانپتے ہاتھ  بمشکل  ہونتوں تک لا پاتے ،   میں نے  ان کے ہاتھ جوڑ کر انگوٹھے  دونوں ہاتھوں سے تھام لیے  اور جب ہم دونوں اسم مبارک "محمد " پڑھتے تو  میں ان کو  ہاتھ ہونٹوں تک لے جا کر چومنے اور پھر آنکھوں پر پھیر نے میں  مدد دیتا رہا ۔چند منٹ تک کلمہ طیبہ کا ورد  کرنے  کے بعد میں نے دوسرا کلمہ پڑھنا شروع کیا ۔ وہ بھی میرے ساتھ ساتھ  پڑھتے گئے ۔  اسی طرح بالترتیب چھ کلمے  اور پھر ایمانیات  میں  نے پڑھے اور وہ ساتھ ساتھ دہراتے گئے ۔
اس دوران  کلمے پڑھے جانے آواز سن کر باہر بھی ہلچل  سی مچ گئی ۔ اور  چچا جان اپنی آل اولاد کے ساتھ  اور ان کے علاوہ  میرے ماموں سید بشیر احمد شاہ بخاری  اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ  اندر داخل ہوئے ۔   اس  کے بعد  جونہی یہ  خبر پھیلی  تو رشتے داروں کی آمد  شروع ہو گئی ۔ بہاولپور  سے خالہ اپنے بیٹے کے ساتھ   اور ملتان والی  خالہ خالو  بھی مغرب سے پہلے پہلے پہنچ  آئے ۔کلموں کا ورد  مسلسل  جاری تھا ۔   مجھے کلمے پڑھتا دیکھ کر  تایا جی  جی نے ایسی نظروں سے مجھے دیکھا جیسے انہیں میری دماغی توازن پر شک ہو ۔  ماموں  جی آتے ہی دوسروں کو سورۃ یسین پڑھتا دیکھ کرخود  بھی   پڑھنے بیٹھ گئے ۔  کچھ دیر بعد  ان کے موبائل کی رنگ ٹون بجی ۔ قصیدہ بردہ شریف   پڑھا جا رہا تھا ۔ ابا جی    سن کراتنے  مزے سے  جھومنے لگے کہ ماموں جی کال اٹینڈ ہی نہیں کی اور بیل بجنے دی ۔  اس کے بعد  میں نے  کلمے پڑھنا روک کر  ذیشان کو  کہا کہ ابا جی کو  نعت شریف سناؤ ۔ ذیشان نے نعت شریف پڑھنا  شروع کر دی۔  ابا جی کی آنکھوں کے دونوں گوشے بھیگے  اور دونوں  طر ف سے ایک ایک آنسو  یاد رسول  اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم میں لڑھک گیا۔    
چھ  سے  سات بجے کے دوران مجھے کوئی ہوش نہیں  تھا ۔   میں چاہ کر بھی اپنی آنکھیں ان کی آنکھوں سے ہٹا نہیں پا رہا تھا ۔  اس ایک گھنٹے کے دوران  مجھے نہیں معلوم کون اندر آیا کون باہر گیا ۔ میں  بس   ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے  بلند آواز میں  کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت کا  مسلسل ورد کیے جا رہا  تھا ۔   حاضرین بھی آہستہ آہستہ شامل ہوتے گئے ۔ اور پورا کمرہ  کلمہ طیبہ سے  گونجنے لگا ۔  مغرب  کی  نماز  ادا کر کے  اماں جان بھی آ گئیں اور ان  کے بائیں طرف چارپائی پر بیٹھ گئیں ۔  دائیں طرف  جنید حسنین بخاری  اور دائیں طرف سرہانے  سے ہماری  محترم  بہنا  (مومنہ کی امی )ان کا ہاتھ پکڑ کے بیٹھ  گئیں ۔ اماں جان والی سائیڈ پر  ابا جی کے سرہانے میں    بیٹھا تھا ۔ کلمہ طیبہ کا  ورد جاری تھا  کہ  بڑے بھائی  بھی قبرستان سے  کام ختم کر کے  لوٹ آئے ۔ ابھی تک انہوں نے ہاتھ منہ بھی نہیں دھوئے تھے ، سیدھا ادھر ہی آ گئے ۔  
اباجی نے ایک نظر ہم سب کی طرف دیکھا ۔    ایک ہچکی آئی ۔ جسم نے ایک ہلکا سا جھٹکا کھایا  ۔  اور آنکھیں  سیدھا  آسمان کی جانب  دیکھنے لگیں۔ تایا جی   لپک  کرسرہانے  آئے  اور آتے ہی  کمرے میں موجود خواتین (صرف میری  بہن اور اماں جان ہی  تھیں) کو باہر جانے کو کہا ۔ (اس کی  ایک مجہول  سی وجہ انہوں نے یہ گھڑ رکھی تھی  کہ عورتوں کی موجودگی میں  رحمت کے فرشتے نہیں آتے )۔  آپا جی  نے باہر جانے سے سختی سے انکار کر دیا ۔میرا بھی  پارہ ہائی ہو گیا۔    اب کی بار  تایا  صاحب  نے بازو آگے کر کے  سختی  سے  کچھ کہنا ہی چاہا  کہ   میں نے  ان کا آگے بڑھا ہوا بازو  نہایت سختی  سے پکڑ  لیا ۔  اور  ایک زور دار جھٹکے سے  دور دھکیل دیا۔  تایا جی نے ایک کھا جانے  والی  نظر سے مجھے گھورا  اور خفت مٹانے کو  ابا کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ  دیا۔  میرا  دماغ مسلسل  دو دن  دو راتوں سے  جاگتے  اور  4 گھنٹے  مسلسل  ایک ہی پوزیشن کھڑے  رہ رہ کر  گھوماہوا تھا  اب بالکل ہی  پھر گیا۔   اول تو ابھی روح قبض نہیں ہوئی تھی ۔ دوم  یہ کہ  جب آنکھ  کا تار بندھا ہو تو  اس وقت روح  کو اس کا مقام دکھایا جاتا ہے ۔  اور یہ حضرت اپنی  بدحواس بزرگی کے زعم میں  جہالت کا مظاہرہ فرما رہے تھے۔  سوم یہ کہ  ہاتھ میں تسبیح بھی تھام رکھی تھی ۔  جو کہ ابا جی آنکھوں میں چبھی ہوگی ۔  میں نے  ہاتھ پکڑ  کر جھٹکا اور انتہائی ضبط  سے دانت پیس کرصرف اتنا  کہا:۔ "ساری زندگی  کی منافقت سے  دل نہیں بھرا ؟ اب کیا  مارنے کی بھی آپ کو جلدی ہے ۔" تایا جی  جن کی بدزبانی مشہور ہے ، اور ان کی عمر کی وجہ سے  بھی کوئی  ان کے سامنے نہیں بولتا ۔  لیکن  کم مشہور میں بھی نہیں تھا ۔  اس لیے میرے سامنے  ان کی زبان تو نہ ہل سکی ۔ البتہ منہ بنا کر باہر  کو چل دئیے ۔
پیچھے سے ماموں اور خالو  کی آوازیں  آئیں  انہیں روکنے کی کوشش کی  جا رہی تھی ۔  میں نے بلند آواز سے کہا  اب اگر یہ شخص میرے سامنے  اپنی بزرگی دکھانے آیا  تو اس کے ساتھ ساتھ  اس کے ہمدردوں کی بھی  عزت کی دھجیاں بکھیر دوں گا۔  سب کو سانپ سونگھ گیا۔میری موجودگی  میں کسی کو قریب آنے کی  ہمت نہ ہوئی ۔  اماں نے کہا  کہ چہرہ  قبلہ رخ کر دو۔   میں نے ابا جی کا چہرہ قبلہ رخ کر دیا            ۔ اور  کلمہ طیبہ کا ورد جاری ہو گیا ۔ سب پڑھنے لگے ۔  اتنی دیر میں ایک اور ہچکی آئی ۔  ہونٹ ہلے ۔ الا اللہ ۔۔۔۔۔آخری  سانس نکلا۔  اور  آنکھیں بے نور   گئیں ۔

انا للہ  و انا الیہ راجعون 

اب  ایک پٹی دی گئی  کہ ابا  جی کا منہ باندھ دیں ۔  اماں نے  ماموں سے کہا ، لیکن تازہ  ترین واقعہ  کے پیش نظر انہوں نے کہا پہلے اویس کو  سرہانے سے  ہٹا لیں  ۔  اماں نے مجھے کہا بیٹا  آپ پائنتی کی طرف ہو جاؤ ، اور اب تجربہ کار لوگوں کا کام ہے ۔ میں  کلمہ پڑھتے ہوئے ہٹ گیا ۔اور ماموں  نے آگے بڑھ کر  سر اور  منہ پر پٹی باندھ دی ۔  اس دوران بلند آواز سے کلمہ شہادت کا ورد جاری رہا ۔

(جاری ہے)

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔۔۔(4)۔

2 آرا

گزشتہ سے پیوستہ


اس  کے بعد بھائی  سے پوچھا کہ قبر کی تعمیر  کا کام   چل رہا ہے ۔۔۔؟؟؟ مزدوروں  اور  مستری  صاحب  کو کھانا کھلا دیا گیا ہے۔۔۔؟؟ بھائی  نے بتایا کہ  جی انہیں ناشتا  بھی کروا دیا گیا ہے ۔ اور انہوں نے چائے کی فرمائش کی تھی ۔  شہر سے ایک بندہ تھرموس  میں ان کیلئے چائے بھی بنوا لایا ہے ۔ یہ سن کر اطمینان  کا اظہار فرمایا اور  دوپہر کے کھانے کیلئے تاکید کی  کہ اچھا  کھانا کھلایا جائے مزدوروں کو۔ بھائی نے بتایا  کہ شہر کے سب سے اچھے ہوٹل سے  ان کیلئے چکن کڑاہی   منگوانے  کا آرڈر دے دیا گیا ہے ۔ وقت پر انہیں کھانا کھلا دیا جائے گا۔اس کے بعد  پوچھا کہ جنازے  کیلئے  زمین   تیار ہے ۔؟
(ہماری  زمین جو کہ  مستاجری دی ہوئی  ہے ۔  اس کیلئے  منیر احمد (کسان) سے  ابا جی نے کہلوایا تھا کہ ابھی دو دن تک کاشت نہ کریں ۔ )
بتایا گیا  کہ ہاں جی  !  ہل  مارے ہوئے تھے ، کل  ہی لیزر  لیولر  بلوا کر ایک ایکڑ  زمین  جنازے  اور قل خوانی  کے  لیے تیار کروا دی گئی ہے ۔ اس  کے بعد بڑے بھائی کو قبرستان بھیج دیا کہ خود  موجود  رہیں  اور  اپنی نگرانی میں سارا کام کروائیں ۔
(اس دوران میں نے  گھر میں سب کو الٹی میٹم دے دیا  کہ ابا جی  آج مغرب تک  ہمارے ساتھ ہیں۔مغرب سے پہلے پہلے ساری مصروفیات  نمٹا لیں ۔ کچھ نے حیرانی سے پوچھا کہ تمہیں کیسے پتا اور کچھ محض حقارت سے   مسکرا  دئیے۔ جیسے  کہتے ہوں تم بڑے بزرگ آ گئے موت کا وقت  بتانے  والے)
ٹھیک  گیارہ بجے ابا  جی نے پوچھا :۔ "کیا وقت ہوا ہے"۔  میں نے دیوار گیر  گھڑی دیکھ کر بتایا  کہ گیارہ بج گئے ہیں۔  فرمایا  کہ  میرے  دانت  صاف  کروائے  جائیں ۔  ایک بھائی  برش پر ٹوتھ  پیسٹ  لگا کر لائے ، انہیں برش کرایا گیا ۔ بمشکل کلی  کی ۔ اس کے بعد  ان کی منہ دھلانے  کی فرمائش  پر تولیہ بھگو کر  ان کے منہ پر پھیر  دیا گیا۔  اس کے بعد  اپنی  کنگھی  منگوائی ۔(ان کی ایک جیبی  کنگھی تھی ۔ جو  وہ داڑھی میں پھیرتے  تھے ) تلاش کر کے لائی گئی ۔  لیٹے لیٹے  خود اپنے ہاتھوں سے اپنی  داڑھی میں کنگھی کی۔  کنگھی کرنے  کے بعد   داڑھی پر دو بار  ہاتھ پھیرا  اور  مسکرا کے بولے :۔ "الحمد اللہ"۔۔۔

تکلیف کی شدت میں جوں جوں اضافہ ہی ہوتا جا رہا تھا ۔  سیکنڈوں  کے حساب سے کروٹیں  بدلوائی جاتیں  اور  اٹھاکے بٹھایا جاتا اور لٹایا جاتا۔  آفرین ہے  ابا جی  پہ کہ  "میڈے اللہ  سائیں  رحم کر" کے علاوہ  کوئی  اور تکلیف کے  اظہار کا لفظ نہ نکلا۔ پیر  انتہائی ٹھنڈے پڑ گئے ،  جیسے بالکل بے جان ہوں ۔ ہاتھ بھی  بالکل ٹھنڈے  ہوتے جا رہے تھے ۔  بے چینی  کی شدت میں اضافہ ہوا تو  میں نے  سب کو باری باری وضو کر کے  آنے کو کہا ۔ اور خود بھی  سورۃ  یسین  کی تلاوت  شروع کر دی۔

سورۃ یسین  کی تلاوت  ہوئی تو  کچھ سکون  محسوس کرنے لگے۔  اسی دوران  بہاولپور  سے ان کے  ماموں  زاد بھائی  سید  محمد عباس شاہ بخاری صاحب  اپنے داماد کے ساتھ تشریف لائے ۔  انہیں دیکھ کر خوشی کا اظہار فرمایا اور  فرمایا کہ  میں بس آپ ہی کا انتظار کر رہا تھا۔  انہوں  نے پوچھا کیا حال ہے ؟۔  فرمایا :۔ "الحمد اللہ  ۔" تھوڑی دیر  بعد فرمایا :۔ "کچھ سنائیے ۔" آواز دھیمی  تھی اس لیے کسی کو  ٹھیک سے سنائی نہ دیا۔
(چونکہ  گزشتہ روز سے ہر آنے جانے والے  سے کلمے سن اور سنا رہے تھے۔ اس لیے میں نے  سمجھا شاید  ان سے  بھی کلمے سننے سنانے کی فرمائش کر رہے ہیں۔) میں نے کہا کہ  ان کا کہنا ہے کلمے سنیے اور سنائیے۔ لیکن  اسی اثنا میں  وہ  پوچھ چکے تھے کہ کیا  فرمایا۔؟
اب کی بار ابا جی ذرا  وضاحت سے وہی بات دہرائی :۔"  مجھے  رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم  کی شان اور تعریف  سنائیے ۔ " چچا جی کچھ دیر خاموش رہے اور  پھر ایک  حدیث مبارکہ  ترجمہ اور تشریح  کے ساتھ سنائی ۔ 
(مفہوم کچھ ایسا تھا) اللہ تعالیٰ  نے حضرت عزرائیل  علیہ السلام کو رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم   کی بارگاہ بے کس پناہ  میں  بھیجا ۔ ان سے جا کے پوچھیں کہ  کیا آپ  اس دنیا کی  زندگی کو  خیر باد کہہ کر  اللہ تعالیٰ کے پاس  تشریف لانا پسند کریں گے۔  جب وہ منظوری دے دیں تو  ان  کی  مبارک روح  کو قبض کیا جائے ۔ حسب ارشاد  حضرت عزرائیل  علیہ السلام  نے  عرض کی ۔رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم    نے اجازت مرحمت فرما دی ۔  جب  روح قبض کی جانے  لگی  تو  آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم نے  کچھ تکلیف محسوس فرمائی ۔  اور ملک الموت سے پوچھا کہ  کیا  سب کو موت کے وقت  ایسی ہی تکلیف کا  سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ملک الموت  نے مودبانہ عرض  کیا :۔ "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم      اس دنیا میں جان قبض کرتے  وقت  سب سے  زیادہ نرمی آپ  سے اختیار کی گئی ہے ۔ تو پیارے  آقا صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم      نے ارشاد فرمایا :۔ "میں چاہتا ہوں  کہ موت کے وقت  جو تکلیف میری امت  کو  دی جانی ہے  وہ  مجھے دے دی جائے ، اور میرے لیے جو نرمی روا رکھی گئی  ہے وہ میری  امت کیلئے  ہو  ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے  حضرت جبرئیل  علیہ السلام پیغام لے کر حاضر ہوئے  اور بشارت  سنائی  کہ  اللہ تعالی ٰ نے  آپ  پر ایمان رکھنے والے اور آپ کی محبت دل میں رکھنے والے  ہر امتی کیلئے  موت کی سختی آسان فرما دی ہے۔
یہ  سن کرابا  جی  بہت خوش ہوئے۔  اور  مسکراہٹ  کے ساتھ ساتھ چہرے پر بشاشت  پھیل گئی۔  کچھ دیر مسکراتے رہے ، اور پھر  درود شریف پڑھا  ، اور (جیسے مزے لیتے ہوئے ) بولے :۔ "کچھ  اور بھی سنائیے ۔" اب کی بار  چچا جی  نے  ایک  اور حدیث مبارکہ  تشریح کے ساتھ سنائی ۔  جس میں  ان لوگوں کیلئے بشارت سنائی  گئی تھی  جو حج  بیت اللہ کی  خواہش رکھتے تھے ، مگر  یہ خواہش دل میں ہی لیے مر گئے ۔ (یہ سن کر  ایک بار پھر مسکرائے )
اماں جان کو بلوایا ۔  ان سے کہا کہ ان  کی جو امانت رکھی ہے  وہ  لا دیں ۔ اماں جان نے دس ہزار روپے لا کر دئیے ۔  ابا جی نے  وہ چچا  عباس صاحب کے حوالے کر دئیے۔ (یہ آخری قرضہ  تھا جو انہوں نے اپنے ہاتھ سے ادا  کر دیا)۔اس کے بعد ابا  جی حسب معمول  انہیں چھ کلمے اور ایمانیات سنا کر   انہیں گواہ بنا لیا ۔یہ حال  دیکھ کر  چچا صاحب سمجھے کہ "بیمار کا حال اچھا ہے"انہیں  ذرا بھی اندازہ  نہ ہو سکا کہ  یہ اب محض کچھ ہی گھنٹوں کے مہمان ہیں۔  اور وہ تشریف لے گئے۔
ان  کے جانے کے بعد میرے حقیقی  چچا  (جو کہ میرے والد صاحب سے  بیس سال عمر میں بڑے ہیں) اور ان کی  اولاد  جن کے خیال میں ہم سب (میں اور میرے بھائی) عقل سے پیدل اور وغیرہ وغیرہ  ہیں۔  نیز اپنے باپ کے دشمن بھی ہیں۔  اس کی ایک وجہ یہ  بھی تھی کہ  زندہ باپ  کی قبر تعمیر کروائی جا رہی ہے ۔(ان کے خیال میں  ہم اپنے شوق کے مارے ایسا کر رہے ہیں)اور اسی پراپیگنڈے کا زور و شور سے پرچار وہ ہر آتے جاتے کے سامنے کر بھی رہے تھے۔ جیسا کہ  ابھی کچھ دیر پہلے انہوں نے  چچا عباس صاحب کے سامنے رونا رویا کہ "ڈاکٹر نے تو کہا کہ کمزوری کی وجہ سے انہیں ڈرپ لگا دی جائے ۔ مگر یہ بڑے ڈاکٹر(یہ طنزیہ اشارہ میری اور میرے بھائی کی طرف تھا) کچھ زیادہ ہی سیانے ہیں۔ ڈرپ وہ سامنے ریفریجریٹر  میں  پڑی ہے۔"بڑی  مشکل سے میں نے خود پر کنٹرول کیا ۔ اور دل میں کہا کہ اب کسی سے یہ جملہ کہہ کے دیکھو اور پھر میں بتاتا ہوں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
چچا عباس صاحب کے جاتے ہی ان دونوں نے با ر بار یہی جملہ دہرانا شروع کر دیا کہ "ہمارے ذمے کوئی کام ہو تو بتائیں۔" "ہم حاضر خدمت ہیں ، کوئی ہمارے لائق ہو تو بتائیں۔" ابا جی سنی ان سنی کرتے رہے ۔  مگر جب میرے چچا زاد بھائی نے زور دے کر ان سے پھر یہی بات پوچھی تو  ابا جی نے ناگواری سے منہ پھیر لیا اور  فرمایا:۔" الحمد اللہ  میرا کوئی کام باقی نہیں رہتا ۔  اور ویسے بھی میرے بیٹے  موجود ہیں۔"۔۔۔

ایسے سے جو داغ  نے نباہی
سچ ہے  کہ یہ کام تھا اسی کا

(جاری ہے)

Monday, 26 May 2014

ایک تھے مرزا جی۔۔۔۔۔۔

10 آرا
بندہ جائے  تو جائے کہاں ۔۔۔۔؟؟؟؟
ذرا سی وضاحت سے لکھ دوں  تو  یار لوگ کہتے ہیں  :۔ "اپنی معلومات  کا رعب جھاڑ رہا ہے دیکھو۔"  اجمالی اجمالی  لکھوں توکچھ  دل جلے کہتے ہیں:۔"اردو کی ایک کتاب کیا  پڑھ لی خود کو  علامہ ہی  سمجھنے لگے ہیں"۔ 
مثال کے طور پر  اگر میں کہوں کہ :۔ "ایک  تھے  مرزا جی۔۔۔۔" تو کسے سمجھ آئی ؟؟؟  کون تھے مرزا جی۔۔۔؟
دیکھئے  ذرا جتنے منہ  اتنی باتیں۔۔۔۔۔
ایک یہ صاحب ہیں۔۔۔بے شک الف بے  بھی  پوری نہیں آتی لیکن اپنے تئیں  غالبیات  کا ماما  اور  خلیفہ مجاز  سمجھتے  ہیں۔ دیوان  غالب کو ان سے  اجازت لیے بغیر  پڑھ لیا جائے تو  مکروہ تحریمی  اور بعض صورتوں  میں گناہ کبیرہ  بھی ہوتا ہے۔  اس  پس منظر میں کوئی شک نہیں رہ جاتا  کہ  جیسے  ساون کے اندھے کو ہرا  ہی  سوجھتا ہے  اور  صحرا  میں پیاسے کو  ریت پہ بحرالکاہل  دکھائی دیتا ہے ۔ ویسے  ہی ان  کے نزدیک پوری دنیا میں لفظ  مرزا  سے مراد صرف اور صرف  مرزا اسد اللہ  خان غالب  ہی  ہوتے ہیں۔
اور  یہ جن  صاحب نے مرزا جی  سن کرنہ صرف منہ بنالیا بلکہ کچھ بڑبڑا بھی رہے ہیں۔حیران نہ ہوں  بلاوجہ منہ نہیں  بنایا ۔  اور پریشان بھی  نہ  ہوں کہ شاید  کوئی جنتر منتر  پڑھ رہے ہیں۔ دراصل "لاحول" کا ورد جاری ہے۔ حیرت ہے کہ  ان کی نمائشی  داڑھی  اور  ماتھے  پہ داغ سجدہ  دیکھ کربھی آپ کو وجہ سمجھ نہ آئی۔ان کے نزدیک  مرزا سے مراد  صرف  مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔
یہ چشمش  سے حضرت  تاریخ کے کیڑے ہیں ، لہذا مرزا سے مراد مرزا فخرو ہیں۔
یہ جو پڑھاکو سے  ادبی صاحب کے  چہرے پہ  مرزا جی سنتے ہی  مسکراہٹ دوڑ گئی ہے۔ میرے ہونق پن پہ نہیں  بلکہ  کسی اور وجہ سے مسکرا رہے ہیں۔ ہو نہ ہو  انہیں کرشن چندر کا دودھیا افسانہ "مرزا کُپی"  یاد آ گیا ہے ۔ ورنہ  بقول غالب :۔سبب کیا تبسم ہائے پنہاں کا۔۔۔۔؟
ارے نہیں نہیں نہیں۔۔۔۔ان صاحب سے پوچھنے کی زحمت نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔ یہ حضرت تو  نام کے ہی نہیں ذات کے بھی عاشق  ہیں،  مرزا جی سے مراد  اپنے 
پیرو مرشد  سائیں مرزا جٹ المعروف  تیر کمان والی سرکار  ہی مراد لیں گے۔


کر لی نہ تسلی۔۔۔۔؟؟؟ ہو گیا اطمینان۔۔۔؟؟؟


میری  بے چارگی کا  تھوڑا بہت  اندازہ تو ہو ہی گیا ہوگا کہ وضاحت کے بغیر  کوئی چارہ  نہیں فدوی  کے پاس ۔ حتیٰ  کہ بھائی چارہ بھی نہیں۔۔۔۔۔

جس طرح   ہیں اور بھی دنیا میں  سخن  ور بہت اچھے ، اسی طرح مذکورہ بالا تمام مرزاؤں کے  علاوہ  بھی  دنیا میں ایک قابل ذکرمرزا  پائے  جاتے ہیں۔  جلد باز حضرات پچھلا جملہ دوبارہ غور سے  پڑھیں ۔  قابل ذکر لکھا ہے  قابل فخر نہیں  ۔بعض زیادہ پڑھے لکھے شاید قابل ذکر سے  انہیں قابلی  چنے یا قابلی ڈیموں(بھڑ) قبیل کی  کوئی قابلی  چیز سمجھ لیں ، بروقت  یہ غلط فہمی بھی دور کر دوں تو بہتر رہے گا۔
مرزانہ صرف  ضعیف الاعتقاد ہیں بلکہ  سریع العناد  بھی  واقع  ہوئے ہیں۔  بے شک  سو فیصدی  مرزا  ہیں  لیکن  مزاج   شریف   امرتسر  والوں  کا  ساہے۔ کسی بات پہ  اڑ گئے  توپھر بے شک زمین  جنبد  مگر مجال ہے  جو گل محمد  بھی جنبش پذیر ہو۔۔۔
جنبش سے یاد آیا ایک  بار  قضائے  الٰہی سے انہوں  نے  غزل سن لی ۔  "زحال مستی مکن برنجش" بس پھر کیا تھا  "برنجش" کو "بجنبش" سمجھ بیٹھے ۔  سادہ دل آدمی تھے فوراً ایمان  لے آئے ۔  بہتیرا سمجھایا  کہ  آگے بھی  کچھ غزل ہے ۔ فریفتہ  لہجے میں بولے :۔ "ہونہہ جانے  دو میاں ! بھلا  گنوار  جوگی کیا جانے  ٹھرک  و  عاشقی  کی رمزیں۔ جب ایک جوان جہان  خوش آواز حسینہ  کہہ رہی ہے کہ "زحال مستی مکن  بجنبش" تو پھر کوئی پتھر دل  ،کور ذوق  ہی ہوگا  جو حکم نہ بجا لائے گا۔
ماتھا پیٹنے  کی شدید ترین  خواہش کو   ملتوی  کر کے  میں نےتفصیل  سے سمجھانے  کیلئے منہ کھولا تو  ہاتھ اٹھا کر  حتی الوسع  گرجدار  آواز میں بولے :۔"بس ایک بار کہہ دیا  سو کہہ دیا ۔  مزید کان کھانے  کی کوشش کی  تو  میری دوسری سوئی  بھی اٹک جائے گی۔"میں  نے  مجذوب کی بڑ سمجھ کر  فوراً  دوسرے کان سے اڑائی  اور جونہی منہ کھولا، تو  موصوف کی دوسری  اور تیسری سوئی  یکبارگی  اٹک گئیں ۔ ایک بار پھر دھاڑے :۔ نہیں باز  آئے نہ ۔ اب بھگتو۔ "مکن بجنبش" تو  پھر بھی کچھ دور ہے  ۔ اب میں "زحال"سے آگے  نہیں بڑھنے کا۔کر لو جو کرنا ہے۔"اور  بقول اکبر الٰہ  آبادی :۔  کر ہی کیا  سکتا تھا بندہ کھانس  لینے کے سوا۔۔۔۔
صرف اسی پر  بس نہیں فوراً اخبارات میں   اور انٹرنیٹ پر  ہر جگہ  اشتہار دے دیا کہ "والدین کی  غلط فہمی کی وجہ سے  میرا نام زبیر مرزا  ہو گیا تھا۔لیکن اب ایک خوش آواز  حسینہ کی مستند حوالوں سے دی گئی گواہی سے ثابت ہوا  کہ ہمارے لیے موزوں ترین نام  "زحال مرزا" ہے  ۔ آئندہ  مجھے اس نام سے لکھا اور پکارا جائے ۔ البتہ  ریکارڈ میں تااشتہارِ ثانی  درستگی مت کی جائے ۔"(اس پخ  کی خاکسار  کے  نیرنگ خیال  میں یہ وجہ ہو سکتی ہے  کہ کیا معلوم  کب  ان کی اٹکی سوئی  چل پڑے  اور بدھو کا  واپس گھر لوٹنے  کا پروگرام بن جائے  تو  ریکارڈ کا سہارا لیا جا سکے ۔)میں تو ٹھہرا  بونگا  سا بندہ مگر جب  چھوٹے غالب  نے مذکورہ اشتہار پڑھا تو ہنس ہنس کر دہرا ہو گیا۔ وجہ پوچھنے پر معلوم ہوا  کہ "زحال مرزا" کا  مطلب ہوا   "مرزا حال سے ہیں" کیا ہی اچھا ہوتا  اگر  مرزا اپنانام  "زامید مرزا"(مرزاامید سے ہیں) رکھتے ۔تو ہم بھی  جینیاتی سائنس  اور  ڈارون  چاچو کو  ٹھینگا دکھا سکتے ۔ "میں  نے لاحول  ولا  تو بہت پڑھا  پھر بھی  بے اختیار  امڈنے  والی ہنسی پر  قابو نہ پا سکا۔
مرزا  بھی کیا  سادہ ہیں، جس کے سبب  زحال ہوئے
اسی  لتاں  منگیشگر  کی  غزلیں اب بھی  سنا کرتے ہیں
پہلی  بار  ان کی تصویر دیکھ کر  نون بھڑک گیا:۔  جھوٹ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے یار۔  رہتے  صومالیہ میں ہیں اور رعب ڈالنے  کو مشہور کر رکھا ہے  کہ امریکہ  میں رہتا ہوں۔"
رقیق  الصحت تو ہیں مگر اتنے بھی نہیں کہ  انہیں سنگل پسلی    سمجھا جائے ۔  البتہ اس بارے چھوٹا  غالب کا شہرت یافتہ قول ہے  کہ:۔ "لوگ عقل سے پیدل ہوتے ہیں اور مرزا  صحت  سے پیدل ہیں۔" ۔۔۔۔ "بعض لوگوں کی  واجبی صحت  ہوتی ہے جبکہ مرزا  کی  فرضی صحت ہے۔"مرزا جی  نے یہ سنا تو متانت سے  تبسم  فرمایا اور بولے :۔"حاسدین  میری  سمارٹنیس  سے  جلتے ہیں۔ میں  بھلا کوئی  ذوالقرنین ہوں  کہ منوں  کے حساب  سے  چربی  اٹھائے  پھروں ۔ ویسے  بھی میں نے کونسا جاپان  جا کر  سو مو کشتی کی چیمپئن  شپ جیتنی  ہے۔ " مرزا جی  کہ اس حکمت بھری بات  سے جہاں خاکسار  کی غلط فہمی دور ہوئی  وہیں ذوالقرنین  کے مستقبل  میں پہلوانہ  ارادوں  سے  بھی آگاہی ہوئی۔

اخلاق   توان میں  کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے،کیا  دوست  کیا حاسد سبھی  ان کے حسن اخلاق  کے معترف ہیں لیکن  اس اعتراض کے ساتھ کہ مرزا  اس  معاملے میں  مساوات  کے قائل  نہیں ۔  ایسا لگتا ہے  کہ حسنِ  اخلاق  کے جملہ حقوق صنف نازک  کیلئے محفوظ ہیں۔ جب مرزا جی توجہ اس صنفی دھاندلی  کی جانب  دلائی گئی اور  اخلاقی عدم توازن  پر  انہیں  خوف خدا دلانے  کی  کوشش کی  گئی ۔  تو مرزا  جی نے یکسر تما م  الزامات کو مستند قرار  یا اور تاسف سے بولے :۔ "ارے میاں کیا  ہر بات پہ کائیں کائیں  شروع کر دیتے ہو۔ کسی   کج فہم  عقل کے اندھے  کو اتنی دور کی سوجھی اور تم حساب لینے آگئے ۔ہمارا  حسنِ اخلاق  سب کیلئے  یکساں ہے  البتہ  صنف وجاہت  کو اس سہولت سے  مستفید  ہونے کیلئے ٹوکن لینا پڑتا ہے۔"

 حاتم طائی کی کہانیوں  سے متاثر  ہو کر  لوگوں کو چائے  پہ مدعو  کرنے لگے، اور حاسدین کو غش پہ غش  آنے لگےکہ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے۔شر پسند ہومز اور جیمز باندرجیسے نامی گرامی  جاسوس ان کی ٹوہ بازی  پر مقرر  کیے گئے ۔کچھ عرصہ کی تاک جھانک اور  کن سوئیوں  سے  معلوم ہوا  کہ چائے  کا نام تو بس لوگوں کو  گھیرنے  کیلئے  استعمال  کیا گیا ہے ۔  لوگوں  کو چائے  کے نام پہ مدعو  کر لیتے ہیں  اور  پھر مجال ہے  جو کسی کو ایک  چسکی  بھی لینے دیں ۔  باتوں میں لگا کر  چائے  خود ہی پی جاتے ہیں۔ میرے دل میں خیال آیا  چلو پھر ہم  معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں۔ چہرے پہ شرافت کے تمام تر لوازمات  طلوع کیے فدوی نے بھی  درخواست کی کہ  کبھی تو  ہمیں بھی دعوت نامہ  دیا جائے ۔  گھاگ آدمی تھے فوراً تاڑ گئے  کہ "مدعا کیا  ہے" ارشاد  ہوا:۔" نہ میاں  تم بھاری  پڑو گے ہم  پر " تجاہل عارفانہ   سے میں نے  اس ارشاد کا شان نزول پوچھا تو جواب میں  ایک لطیفہ سنا دیا:۔
ایک شہر میں ایک  درزی سلائی کیلئے آئے ہوئے  کپڑے میں سے  کچھ کپڑا چوری کر نے کے حوالے سے  مشہور  تھا۔ایک  کوتوال صاحب  نے جو اس کی مشہوری سنی  کہ  اپنے فن میں اس قدر طاق  ہے کہ  چاہےبندہ  سامنے بیٹھ کر کٹائی  سلائی کروائے  پھر بھی  اسے کپڑا چراتے نہیں پکڑ سکتا۔ کوتوال صاحب  شیخی  میں آ گئے اور  دعویٰ کیا کہ میں دیکھتا ہوں کہ کیسے میرے سامنے     کپڑا  چراتا ہے۔  کوتوال صاحب  کپڑا  لے کر اس درزی کی دکان پہ جا پہنچے  اور  کہا  کہ شیروانی سلوانی ہے ۔  مگر ہم نے سنا ہے کہ  تم کپڑا  کاٹ لیتے  ہو،  اس لیے ہم اپنے سامنے  ہی کٹائی سلائی کروائیں گے۔  درزی نے  کہا  جیسے جناب  کی مرضی ۔ اور  اس کے سامنے ہی   ناپ کے مطابق  کٹائی شروع  کر دی۔  کچھ دیر بعد بولا  وقت گزاری کیلئے  کیوں نہ گپ شپ ہی کرتے رہیں ۔ کوتوال صاحب  نے خوشی  سے اجازت دے دی۔  درزی نے  ایک لطیفہ سنا دیا اور کوتوال صاحب  قہقہہ  لگا کر ہنس پڑے ۔ اسی  دوران  درزی نے عادت کے مطابق  کپڑے کا ایک  بڑا  سا ٹکڑا  کاٹ کر  گھٹنے  کے نیچے چھپا لیا۔  تھوڑی دیر  بعد کوتوال صاحب نے کہا میاں کوئی اور لطیفہ سناؤ۔ درزی نے لطیفہ سنایا اور جونہی  کوتوال صاحب ہنسے  درزی نے  ایک  اور ٹکڑا  بھی کاٹ لیا۔  کوتوال  صاحب کو مزہ آ گیا انہوں نے ایک اور لطیفے کی فرمائش کی  تو درزی نے  کہا:۔ "جناب مجھے  تو لطیفہ سنانے میں کوئی اعتراض نہیں  البتہ  ایک اور لطیفہ سننے  کے بعد  آپ کی  شیروانی  کیلئے کپڑا کم پڑ جائے گا۔"اس  کے  بعد  فرمایا۔اگر ہم نے تمہیں چائے پہ مدعو  کرلیا تو  بجائے اس کے ہم تمہیں باتوں میں الجھائیں  تم ہمیں کوئی  لطیفہ  سنا کر   چائے پہ ہاتھ صاف کر جاؤ  گے۔  تم  سے  تو بڑے  بڑے  پناہ مانگتے  ہیں۔" اگرچہ   بات خلاف مفاد تھی لیکن   چونکہ اپنی  تعریف میں تھی  اس    وجہ سے  خاکسار نے قطعاًبرا  نہ منایا۔

ڈراپ سین  کے طور پر  مناسب ہے  کہ فدوی  بچپن  کی یادوں میں  سے ایک  نظم سنا دے ۔ سمجھدار لوگوں کیلئے اشارہ ہی کافی  ہوتا ہے ۔  باقی  ماندہ  کیلئے  اللہ ہی  کافی ہے۔۔۔۔
بلبل  کا بچہ
کھاتا تھا  کھچڑی 
پیتا تھا چائے
میرے سرہانے
اک دن اکیلا
بیٹھا ہوا تھا
میں نے  اڑایا
واپس نہ آیا
مغل کابچہ
مغل کا بچہ

Wednesday, 21 May 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔۔۔(3)۔

4 آرا

(گزشتہ سے پیوستہ)



ہمیشہ  کی طرح دن طلوع ہوا ۔ بدھ کا دن تھا ۔  11  جمادی الاول اور 12 مارچ 2014  تاریخ تھی۔  صبح  بھائی  آئے تو  ان سے پوچھا  آج کیا دن ہے؟ انہوں نے جواب دیا آج بدھ ہے۔
اطمینان سے بولے :۔"الحمد اللہ  اج میڈے ڈُکھ مُک گئے"(الحمد اللہ آج میرے دکھ ختم ہو گئے)
اتنے  اشارے ہمارے لیے کافی تھے ۔
آج کے دن اہتمام یہ تھا  کہ انہوں نے روک دیا کہ کوئی میری  چارپائی پہ نہ بیٹھے ۔ اور کوئی دروازے کے سامنے  بھی کھڑا نہ ہوا۔ اور  وہی وقفے وقفے سے ہاتھ باندھ کے اٹھ بیٹھنے والا معمول بھی جاری تھا۔
(چچا  اور ان کی آل اولاد کو  معلوم نہیں تھا کہ کینسر  کے مریض ہیں، اس لیے ان کا مسلسل اصرار  جاری تھا کہ فلاں ہسپتال میں چلتے ہیں یا پھر فلاں ڈاکٹر کو گھر بلا لیتے ہیں۔)
بدھ کے دن صبح  ناشتے کے فوراً بعد چچا اور چچا زاد بھائی  آئے توہنس کر انہیں فرمایا آپ بھی اپنا شوق پوار کر لیں ۔ بلا لیں ڈاکٹر کو ۔ڈاکٹرکو بلا لایا گیا۔  اس نے آتے ہی  پیٹ پہ ہاتھ رکھا  اور بتایا کہ  جگراپنی جگہ پہ محسوس  ہی نہیں ہو رہا ۔ اس کے بعد اس  نے ابا جی  کو تسلی دی تو  ابا  جی ہنس پڑے ، اور بولے  ڈاکٹرز  کی تو عادت ہوتی ہے۔
اسی دوران  باہر  سے اباجان کے پیر بھائی  اور  ریٹائرڈ پی ٹی ماسٹر(جو اباجان کے ہم نام بھی ہیں مگر پورے علاقے میں استاد پی ٹی صاحب کے نام سے مشہور ہیں) کے آنے کی اطلاع ملی۔ ابا جان نے مجھے باہر بھیجا  کہ  پردہ کروایا جائے  اور انہیں اندر بلایا  جائے میرے پاس ۔  ناشتے کا وقت تھا۔ اس لیے پردہ  ہونے میں کچھ دیر تھی ۔ میں باہر انہیں  بتانے  گیا تو انہوں نے  مجھے ایک واقعہ سنایا۔
پی ٹی صاحب  کے مطابق:۔  تقریباًڈیڑھ  دو ماہ قبل  ایک ملاقات میں آپ  کے  ابا جی نے  مجھ سے فرمایا:۔ "پی ٹی صاحب  مجھ سے ایک وعدہ  کریں۔" میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ کیسا وعدہ۔؟ تو بولے:۔ "میرا وقت اب قریب آ گیا ہے ، اور  میں چاہتا ہوں  کہ میرا جنازہ  میرے  پیر صاحب  (غزالی زماں  رازی دوراں  حضرت  علامہ احمد  سعید کاظمی  شاہ صاحب  رحمۃ اللہ علیہ) کے صاحبزادگان  میں سے  کوئی پڑھائے ۔ " میں نے  از راہ مذاق  کہا  کہ  وقت کا کیا بھروسہ ، ہو سکتا ہے  آپ سے پہلے میرا وقت آ جائے تو  فرمایا کہ  یہی وعدہ  پھر آپ  کے حق میں ہم پورا کر یں گے۔اور  پھر فرمایا کہ  میرا جنازہ  سید سجاد سعید  کاظمی شاہ صاحب  پڑھائیں  گے۔ "اب ہم  ان سے رابطے  کی کوشش میں  ہیں۔ لیکن  انہوں  نے  اس سلسلے  میں معذرت  کی ہے  کہ  کل  اور پرسوں کا دن  انہیں فرصت نہیں۔  سجادہ نشین  پروفیسر  سید مظہر سعید کاظمی  شاہ صاحب  یا سید  ارشد سعید  کاظمی شاہ صاحب  سے درخواست کی جا سکتی ہے اور  وہ  ٹائم دے دیں گے۔
اسی اثنا میں اندر پردہ بھی ہو گیا ، اور پی ٹی صاحب  آخری ملاقات  کےلئے اندر تشریف لائے ۔ اباجی  سیدھے  لیٹے ہوئے تھے ، پی ٹی صاحب  معانقے  کی صورت میں  ان کے سینے سے لگے اور  کافی دیر تک پر جھکے رہے۔  ابا جی نے پہلی بات  یہی  کی کہ "سائیں اج  یارھاں  طریق  اے، وعدہ یاد ہے ناں"(سائیں آج گیارہ تاریخ ہے ۔ آپ کو اپنا وعدہ  یاد ہے ناں؟) پی ٹی صاحب نے  تسلی دی اور کہا کہ جی بہت اچھی طرح یاد ہے ۔اور  اس کے بعد وہ چند منٹ بیٹھے ، پھر  چلے گئے۔

ان  کے جانے کے  بعد ابا جی نے کہا کہ   مجھے  رفع حاجت کیلئے سہارا دیا جائے۔ ہم سب حیران کہ  پورے ایک  ہفتے  سے آپ کی  خوراک  سوائے  آب زم زم   کے چند قطروں  کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس کے باوجود آپ  نے کل جلاب لینے پر اصرار کیا تھا ۔ بولے  میں  چاہتا ہوں کہ معدہ اچھی طرح صاف ہو جائے ۔ کرسی اور کموڈ لا کر  رکھ دیا گیا۔ اماں جان کے علاوہ سب کمرے سے نکل گئے ۔ لیکن دو منٹ بعد اماں  جی باہر آئیں  اور کہا کہ  مجھ اکیلی سے سہارا دینا مشکل ہے۔ فدوی  کو اپنے  ہٹے کٹے  گھبرو جوان ہونے کا زعم تھا۔  میں نے  کہا  کہ آپ جائیں  میں سہارا دیتا ہوں۔ اور  خاکسار  جو کہ  ایک  ڈیڑھ من کی  بوری  آرام سے  اٹھا  کے کندھے پہ رکھ لیتا ہے ، 71 سال  کے نحیف  و نزار  ابا جی جو کہ صرف ہڈیوں  کا  ڈھانچہ  لگتے تھے ،  اکیلے اٹھانا  تو دور سہار دے کر بٹھانا  دو بھر ہو گیا۔  میں  نے اپنے  بڑے بھائی  سید جنید حسنین بخاری کو مدد کیلئے بلایا ۔ اور  ہم دونوں بھائیوں  نے بمشکل  سنبھال کر  انہیں کرسی پر  بٹھایا ۔ 
فراغت کے بعد   انہوں نے فرمائش کی  کہ  میرا لباس تبدیل کر وایا جائے ۔   ان کیلئے  نیا  سفید  تہمد  اور  نیلے رنگ کی قمیض  لائی گئی ۔  لباس کی تبدیلی کے بعد   ہمیں باہر بھیج دیا گیا۔  کچھ دیر  بعد اماں  جان نے ایک  بھائی کو اندر بلایا ۔  اس کے بعد  جب وہ باہر آئے  تو  میرا بلاوا  آیا۔  میں  اندر گیا  تو ابا  جی نے سہارا دے کر بٹھانے کو  کہا ۔ جب بیٹھ گئے  تو  مجھ  سے  وہ باتیں کیں  جو شاید  ہم باپ بیٹا   صرف  دل میں  سوچا کرتے تھے ۔  مجھے  دنیا کی بے ثباتی  اور  رشتوں  کی نزاکت  کے بارے میں بات کرتے رہے ۔ اور فرمایا  کہ   تمہاری  شادی  کا فرض میں  پورا نہیں کر سکا ۔  ایک تو  حج یا عمرہ  اور دوسرا تمہاری شادی ،  یہ دو کام میں ادھورے چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ اس کے بعد  مجھے  دعائیں دیں اور فرمایا  "ٹور  ، ٹوریں  ، اللہ سائیں رنگ لیسی"۔ میرے منہ سے بمشکل اتنا نکلا  کہ  اللہ برکت دے تو  یہ کم نہیں۔(اس کے علاوہ  کچھ باتیں  ایسی ہیں  جو کہ  صرف ہم باپ بیٹا  کے  درمیان  کی باتیں ہیں، اور اس وقت صرف اماں جان موجود تھیں ) 
اس کے بعد  سب  کو  ایک ساتھ بلایا  اور  سب کو  نصیحت  کی  جو کہ  وہ  پہلے بھی  اکثر و بیشتر  کرتے رہے تھے ۔  آپس میں اتفاق سے رہنا ۔ میرے بعد اماں کا خیال رکھنا ۔  اویس  تم سب میں سے  چھوٹا  ہے ۔  اس کا خیال رکھنا ۔  امید کرتا ہوں  کہ ہمت اور حوصلے سے رہو گے ،  رونا پیٹنا اور  جاہلوں والی حرکات  نہیں کرو گے۔  مجھے غسل  میرے  اپنے بیٹے  دیں۔  میرا جنازہ  بھی  میرے چاروں  بیٹے  اٹھائیں ۔ (پانچویں کا نام  نجانے انہوں  نے  کیوں نہیں لیا) کوشش کرنا  کہ میرے  تمام  مریدوں  تک اطلاع پہنچ جائے  اور  جنازے کا وقت  ایسا  رکھنا  کہ دور  والے بھی آسانی سے شامل  ہو جائیں۔انشاءاللہ میرا جنازہ سید  سجاد  سعید  کاظمی  شاہ صاحب  پڑھانے تشریف لائیں گے۔
(چپ ہو گئے)
سب  چپ چاپ  آنسو پیتے سن رہے تھے ،  جو برداشت نہ کر پائے  وہ باہر  نکل گئے ۔ایک  شاید فدوی ہی  سخت  دل   والا  واقع ہوا  ہے یا اللہ  کی مہربانی  سے بر وقت خیال  آ گیا۔  میں نے  اس وقت  پائنتی  کی طرف کھڑا تھا ۔ میں نے  کہا کہ  دعا فرما دیجیئے۔اونچا سنتے تھے  اس لیے دوبارہ پوچھا  کہ کیا  کہا؟۔  اماں  نے کہا  کہ دعا  کیلئے  درخواست کی ہے ۔  ابا  جی  نے جھٹ  سے ہاتھ اٹھا دئیے۔  اس  کے بعد  مجھ سے شروع ہوئے  پھر ہر ایک بیٹے  بیٹی  ان کی اولادوں کا نام لے لے کر دعا کی۔  اس کے بعد  مریدین  کیلئے دعا فرمائی ۔  حتیٰ کہ  ان کیلئے  بھی  جو  جنازے  میں شریک ہوں ۔
(بعد میں  باہر آ کر  سب نے میرا شکریہ  ادا کیا  کہ تمہیں  بروقت دعا کا خیال آ گیا ۔ ورنہ  ہم تو  گنگ کھڑے تھے۔)
پھر بڑے  بھائی  کو  قریب بلایا ۔ سید حسنین بخاری  قریب گئے ۔  مجھے  کہا کہ  اٹھا کر بٹھاؤ۔ میں نے سہارا دے کر بٹھا یا۔  ابا جی  بھائی سے   کہا  تم  بڑے ہو ،میری پگ(پگڑی)  تمہارے  سر پہ آئے گی ، اس کی لاج رکھنا ، تم بڑے ہو  ، یہ سب چھوٹے  ہیں ، ان سے محبت اور  حسن سلوک  سے پیش آنا ، امید کرتا ہوں  کہ یہ  بھی  تمہیں  بڑا سمجھیں گے۔  قل خوانی  اور دیگر  رسومات  میں  دکھاوا  ہر گز نہ کرنا ۔  قرض  لے کر  نہ کرنا ۔  جو کچھ موجود  ہو بس اسی  سے  کام چلا لینا۔ "ٹوٹ پُنے"(جاہلوں  والی حرکات) نہ کرنا ۔  میری  قل خوانی کا اہتمام  کھلے  ماحول (اوپن ائیر) میں کرنا ۔ کسی کو کوئی روک ٹوک نہ ہو۔ اور اویس کا فرض  میں نہیں اتار سکا ،  اس کی ذمہ داری اب  تمہارے سر  پہ ڈالتا ہوں ۔ 
(اس کے بعد  لیٹنے کیلئے  اشارہ کیا۔ میں نے لٹا دیا۔  )  


(جاری ہے)

Wednesday, 14 May 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔۔۔(2)۔

6 آرا
(گزشتہ سے پیوستہ)

حالت جوں جوں خراب سے خراب تر ہوتی چلی گئی۔لیکن شاید انہیں  جس تاریخ کا انتظار تھا وہ ابھی دور تھی۔ حالت یہاں تک آ پہنچی  کہ  ایک  کھجور  اگر کھلا دی تو  قے ہوتی اور وہ باہر آ جاتی ۔قبر کی تعمیر  جو کہ اس لیے ملتوی ہو رہی تھی کہ  میری طبیعت  سنبھلی تو خود اپنے سامنے تعمیر کرواؤں  گا۔  اس کیلئے بڑے بھائی کو ہدایات دے دیں  اور  کہا  کہ اب مزید دیر نہ کی جائے ۔قبر کیلئے  اینٹیں  ذاتی ملکیتی  زمین  میں اپنے سامنے  تیار کروائی تھیں ۔  محراب کیلئے  اینٹیں  گھڑنی پڑتی ہیں، مگر  ان کی فرمائش تھی کہ  فلاں گاؤں میں ایک کاریگر رہتا ہے ۔  اس کی تیار کردہ اینٹیں  خاص طور پر محراب  کیلئے  ہوتی ہیں۔  اسے  کہا جائے ۔ مگر ہدایات تھیں کہ   بھاؤ تاؤ نہ کرنا ، جتنے پیسے وہ مانگے دینا۔  اور  اس سے پہلے جس  کی زمین میں اینٹیں تیار کی جائیں اس سے مٹی بخشوائی جائے ۔ اینٹیں  تیار کرنے والے کاریگر  کامعاوضہ  چھ  روپے فی اینٹ تھا، مگر اس نے پیسے لینے سے انکار کر دیا۔ آخر تین روپے  فی اینٹ لینے پر بھی زبردستی منایا گیا۔

اس کے بعد میت نہلانے  کیلئے تختہ  جو کہ پہلے ہی اپنے  درختوں سے حاصل شدہ  لکڑی سے اپنے سامنے  تیار کروا چکے تھے ۔ فرمائش  کی کہ  اسے رندہ پھیرا جائے ، تاکہ جب مجھے نہانے کیلئے  اس پر لٹایا جائے تو  مجھے چبھے  نہیں۔  کاریگر نے جب رندہ پھیر دیا تو  مجھے کہا کہ ہاتھ پھیر کر چیک کرو۔ ،میں نے  اوکے کا سگنل دیا تو  فرمایا  کہ سرخ رنگ کیا جائے ۔ہم سب حیران  کہ یہ کیا منطق ہے ۔۔۔؟؟؟استفسار پر مسکرائے  اور اُچ  شریف کی طرف اشارہ کر کے  فرمایا  کہ حضرت سید جلال الدین  بخاری  سر خ پوش کا رنگ ہے یہ۔ الغرض کہ  تختے پہ سرخ رنگ ہو گیا۔ شام کا وقت تھا  ، مجھ سے کہا کہ  اٹھا لاؤ اور مجھے دکھاؤ۔میں نے حکم کی تعمیل کی اور  تختہ دیکھ کر  خوش ہوئے اور  سب سے پوچھا کہ اچھا لگ رہا ہے نا۔۔۔؟؟    
اس  کے بعد  چارپائی کا نمبر آیا۔ اس  کا پس منظر یہ ہے کہ جب میں چھوٹا ہوتا تھا  تب ہمارے صحن  میں کیکر  کا ایک بہت بڑا درخت تھا ۔ اس درخت کو جب کٹوایا گیا تو اس  کی لکڑی سے  چارپائی کیلئے  پائے  اور بازو  نکلوا کے کاریگر گھر بلا کے  چارپائی  بنوا کے رکھ دی گئی تھی۔  ہم ہمیشہ سوچتے تھے  کہ اس چارپائی کو بُنوایا  کیوں نہیں جاتا۔ اب اس   کی  بُنائی کا وقت بھی آ گیا ۔  
بڑے بھائی کو  پیسے دئیے  اور فرمایا کہ بان خرید لاؤ ، اچھے سے اچھا خریدنا ، پیسے بچانے کا لالچ نہ کرنا ، جتنے مانگیں  وہی دینا ۔ بان آ گیا ، اسے دیکھ کر پسند کیا  ، پھر کاریگر بلوا کر چارپائی جسے کہ  بھورا رنگ کیا گیا تھا ، اسے بُنوایا گیا۔  اس  کے بعد بڑے بھائی  اٹھا کے دکھا نے لائے کہ تیار ہو گئی ہے ۔ دیکھ کر پسند کی اور  حسبِ عادت ہم سب سے بھی پوچھا۔
جمعہ کے بعد ہم سب ہر دن  ذہنی  طور پر تیار رہنے لگے۔ لیکن  مطلوبہ تاریخ  ابھی دور تھی۔منگل  کے دن سے  ان پہ وقفے وقفے  سے غشی طاری ہو جاتی تھی ۔اکثر  بے خبری کے عالم میں باتیں کرتے ، کوئی پوچھ لیتا تو برا مناتے اور کہتے مجھے نہ چونکایا کرو، آپ سب کو نہیں معلوم میں کہاں کہاں سے ہو آتا ہوں۔ منگل کے دن سے  ان  کی رہی  سہی طاقت جواب دے گئی ۔ اب انہیں اٹھا کے بٹھانے اور کروٹ بدلوانے  کیلئے  ہمیں ہی سہارا دینا پڑتا ۔ ذرا ذرا دیر کے وقفے سے  فرماتے اٹھا کے بٹھاؤ۔ اور دروازے کی طرف دیکھ کر سر جھکا کے ہاتھ گود میں باندھ  کے بیٹھ جاتے ،  چند سیکنڈ بعد پھر لٹانے کا کہتے ۔  جتنی دیر ہوش میں رہتے یہی معمول رہتا ۔
حتیٰ کہ  منگل  کے دن   صبح  نو بجے جب  میں  انار کے درختوں کو پانی لگا رہاتھا ، تو  اماں  کے کلمے  پڑھنے کی آواز آئی ۔اماں  نے  چھ کلمے اور ایمانیات  سنائے  پھر ابا جی  نے  خود  سنائے ۔  ٍپھر سارا دن یہی معمول  رہا۔ہر  آنے جانے والے  کو  فرماتے مجھ سے  چھ کلمے اور  ایمانیات  سنو۔  سنا کے فرماتے میرے  لیے گواہ ہو  جاؤ۔  منگل  کے دن ظہر  کے بعد  میرے ماموں سید بشیر احمد  شاہ بخاری  آئے تو  انہیں چھ کلمے اور ایمانیات  سنا کر فرمایا آپ گواہ رہیں۔  ان کے آنسو نکل آئے  اور  بمشکل اتنا کہا:۔"بے شک آپ  ہمیشہ بزرگوں کے رستے پہ رہے ۔" مزید ان سے  کچھ نہ کہا جا سکا تو وہ آنسو  پیتے باہر چلے گئے ۔
منگل کے دن مغرب سے تھوڑی دیر پہلے  طبیعت بہت زیادہ  خراب ہو گئی ۔  میں نے سب کو کہا  کہ چل کے وضو کریں  اور ہم دو بھائی  ، اماں اور بھابھی وغیرہ  نے سورۃ یسین  کی تلاوت شروع کر دی۔  تھوڑی ہی دیر میں بڑے چچا(میرے والد صاحب سے بیس سال بڑے ہیں) اور چچا زاد بھائی ، بہن اور ان کے پوتے  بھی آ گئے ۔  وہ بھی سورۃ یسین کی تلاوت کرنے لگے۔  اتنے میں ابا جی نے  فرمایا  کہ "مبین" کے حساب سے پڑھیں۔
(اس طریقے میں سورۃ یسین شروع سے پڑھتے پڑھتے جب لفظ مبین پر پہنچیں تو پھر دوبارہ بسم اللہ  سے  اور جب  اس مبین سے اگلے  مبین پر پہنچیں تو پھر دوبارہ بسم اللہ سے شروع کریں۔ اسی طرح سات بار  ہوتا ہے  کیونکہ  سورۃ یسین  میں مبین لفظ سات بار ہے)۔
مغرب سے  تھوڑی دیر بعد  پاس کے گاؤں سے  ہماری دو رکی شتہ دار خواتین تشریف لائیں۔  ابا جی رشتے  میں ان کے دور کے ماموں لگتے تھے لیکن سلوک ہمیشہ اپنی بیٹیوں کی طرح کرتے تھے ۔ پس سورۃ یسین کی  تلاوت ہوتے دیکھ کر ان سے کنٹرول نہ ہو سکا  اور وہ ماماجی کہتے ہی رونے لگیں۔  ابا جی نے آنکھیں کھولیں  اور ہنس کے بولے :۔"اڑی مائی ، خیر تاں ہے ، جیندے کوں روندی بیٹھی ایں۔"(ارے بی بی خیر تو ہے ؟ زندہ کو ہی رونے  بیٹھ گئی ہو) اس مذاق پہ ان  کو اور زیادہ رونا آ گیا۔  تو  بڑی مشکل سے انہیں چپ کراکے ہٹا یا گیا۔
عشا ء سے پہلے طبیعت سنبھل گئی ۔ اور  ہم سب کی طرف دیکھا، مسکرائے اور مجھ سے پوچھا کیا پڑھ رہے ہو؟؟؟ میں نے کہا سورۃ یسین۔  ہنس پڑے اور پوچھا :۔کس لیے؟" میں لاجواب ہو کر کھسیا گیا اور کوئی جواب نہ بن پڑا۔
 عشا  ء  کے وقت ہم سب کو زبردستی سونے بھیج دیا ۔ہمیں  نیند کہاں تھی،  اب ہوتا یہ  کہ میں ایک بار چپکے سے  دروازے کے باہر سے جھانک آتا، میں کھڑا ہوتا کہ  بڑے بھائی آ جاتے  ، اور ہم اشاروں میں بات کر لیتے  کہ ابھی تو  سکون سے لیٹے ہیں۔

بڑے بھائی  کا بیان ہے  کہ رات دو بجے  کے قریب  (یہ وقت ان کی تہجد اور ذکر  اللہ کا ہوتا تھا) اس وقت میں  کمرے میں موجود تھا۔  مجھے  کہا کہ سہارا دے کر بٹھاؤ ۔  پھر ہاتھ باندھ کے بیٹھ گئے اور پوچھا  کہ ہمارے  جد امجد(صاحب ِ دربار کوٹ والا) کا نام کیا ہے ۔ بھائی نے بتایا ۔ تو ابا جی نے  ان کا نام باآواز بلند نعرہ لگانے والے  انداز میں پکارا۔  یا سید محمد باغ علی شاہ  بخاری رحمۃ  اللہ علیہ ، اسی طرح بالترتیب  سید محمد  نواز شاہ بخاری رحمۃ  اللہ علیہ  اور پھر اپنے دادا  جان سید محمد  عبدالقادر شاہ  بخاری رحمۃ اللہ علیہ  پھر اپنے والد  محترم سید شرف حسین شاہ بخاری رحمۃ  اللہ علیہ   کا نام لے کر پکارااور اپنی والدہ محترمہ کو  آواز دے  کر  بولے  :۔(ترجمہ)"مجھے بشارت دیجئے ، کیا آپ سب مجھے لینے آئے ہیں۔؟ "اس کے بعد  پھر لیٹ گئے۔ 

(جاری ہے)

Monday, 12 May 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔۔۔(1)۔

13 آرا
مجلسِ  نبوی  میں حضرت سیدنا  ابوبکر صدیق  رضی اللہ  تعالی  عنہ ،  حضرت  سیدنا عمر  فاروق  رضی اللہ  تعالی  عنہ ، حضرت  سیدنا  علی  المرتضی  کرم اللہ  وجہ  الکریم ، حضرت  عبدالرحمن  بن عوف  اور  حضرت عبداللہ  بن مسعود رضی اللہ  تعالی  عنہ جیسے  جلیل القدر  صحابہ  کرام  اور  اکابر  حاضر  ہیں ۔ چشم ِ فلک  نے  نہ تو کبھی ایسا  میر ِ مجلس  دیکھا نہ ایسے پاکیزہ  و مقدس  شرکاء ِ  مجلس ۔
اس مجلس میں  ایک انصاری  نوجوان  داخل ہوا  اور سلام کرکے  ایک گوشے میں بیٹھ گیا ۔ اور تھوڑی  دیر بعد  سوال کیا :۔  یا رسول اللہ صلی  اللہ علیہ وآلہ ٖ  وسلم سب  سے بہتر  مسلمان کون ہے ۔؟ارشاد ہوا :۔  جس کے اخلاق  بہتر ہوں۔عرض  کیا:۔ سب سے زیادہ  دانشمند  اور ذہین کون ہے ۔؟حضور   صلی  اللہ علیہ وآلہ ٖ  وسلم نے  ارشاد فرمایا :۔ سب  سے زیادہ سمجھدار  وہ شخص ہے جو  سب سے زیادہ  موت کو یاد کرنے والا  اور موت کی تیاری  کرنے والا  ہو ۔
حضورصلی اللہ علیہ وآلہ ٖ  وسلم کا جواب سن کر  انصاری  نوجوان خاموش ہو گیا ۔

اور یہ  تذکرہ  بھی  اللہ  کے پسندیدہ  بندوں  اور بہترین  مسلمانوں  میں سے  ایک ، اور  حضور  صلی  اللہ  علیہ وآلہٖ  وسلم  کے ارشاد مبارک  کے مطابق سب  سے سمجھدار  اور  ذہین شخصیت کاہے۔ سنی  سنائی  باتوں  کی بجائے فدوی  صرف  وہی  لکھے  گا  جن کا  عینی  شاہد  ہے۔
خانوادہ ءِ  سادات کے  بنیادی  طوردو  رنگ ہیں۔ جمالی  اور جلالی ۔حسنی  سادات  کرام  میں جمالی  رنگ  غالب  ہے  اور  حسینی سادات کرام  میں جلالی  رنگ  غالب  ہے۔لیکن  سادات  کا  بخاری  خاندان   جلال  و جمال منفرد  امتزاج  ہے۔ بخاریوں  میں جلال  و جمال یکجا  ہیں۔ پانی  کو  آگ  لگنا  ناممکن  سمجھا  جاتا ہے ۔ لیکن کسی  کو  یہ عجوبہ  روزگار  نظارہ  دیکھنا ہو  تو بخاری  خاندان  کی اس شاخ کا  کوئی  بھی سید  دیکھ  لے ،  تسلی ہو جائے گی ۔
جنوری  1943  کو  فخر الحکماء سید  شرف  حسین  بخاری  کے  گھر  پیدا  ہونے  والے  تیسرے  اور سب سے چھوٹے  بیٹے  کا نام  سید  ممتاز  حسین  بخاری  رکھا  گیا۔ ہمہ خانہ آفتاب  تھا ، ایک  سے بڑھ کر ایک  فقیر  ، بزرگ  اس خاندان کا نام روشن کر چکے تھے ۔ نانا  سید  شاہ  خدا بخش  شاہ بخاری  پیدائشی  مجذوب تھے ۔ دادا  جان  حضرت  عبدالقادر  شاہ بخاری  دیوار  چلانے والے  بزرگ  کے نام سے مشہور  تھے ۔ والد محترم  حضرت حکیم سید  شرف حسین  بخاری  اور  سسر ِ محترم حضرت  سید  باغ علی  شاہ  بخاری (سوم)کسی  تعارف کے محتاج  نہیں۔13 مارچ  2014  کو 3 بجے  سہ پہر  جنازہ  میں جم ِ غفیر  یہ  ثابت  کرنے کیلئے  کافی  تھا  کہ  موصوف  کا  حسنِ  اخلاق  کس درجے کا تھا۔ اور  باقی  رہی  ان کی ذہانت  اور سمجھداری ۔۔۔۔۔تو  اپنی وفات سے  تقریباً سات یا آٹھ  سال پہلے اپنی  اور  اپنی  زوجہ  محترمہ  کی  قبر کی  تعمیر کیلئے  اینٹیں  اپنی  ذاتی  ملکیتی  زمین  سے  بنوا کے رکھ دی تھیں۔  اپنا  اور  اپنی  بیگم صاحبہ  کا  کفن  سی کر  درود  تاج  اور آیت الکرسی  لکھ کر  کعبۃ  اللہ  کا  طواف  کرنے اور  آبِ  زم زم  سے  بھگونے  کیلئے  وفات  سے کئی  سالوں پہلے  ہی  بھیج دیا تھا۔
خاندان میں  ہونے  والی  تقریباً  90 ٪ تجہیز و تکفین  اور  قبر کی تعمیر  اور  میت  کو  قبر میں اتارنے  کے سلسلے  میں آپ کا ہونا  سب  کے اطمینان  کا  باعث تھا۔ قبر  اپنی  نگرانی  میں کھدواتے  اور  تعمیر کرواتے تھے ۔اپنی  قبر  بھی  اپنی نگرانی  میں  کروانے  کا ارادہ  رکھتے  تھے ۔ لیکن  پے در پے  بیماریوں  نے  سنبھلنے  کی مہلت نہ  تھی ۔  دو بار ہرنیا  کا آپریشن  پہلے  بھی  ہو چکا تھا ۔  اس کے بعد  سال  2013  کے  آخر میں تیسری  بار  پھر  ہرنیا  کا آپریشن  ہوا۔ آپریشن  کے  بعد ابھی  طبیعت  سنبھلی نہ تھی  کہ  بخار  نے  گھیر لیا ۔ اور  پھر صحت  مسلسل  گرتی ہی چلی گئی ۔ یوں  ان کا  اپنی قبر تعمیر  کروانے  کا ارادہ  ملتوی ہوتا  رہا۔ اس کے علاوہ   عمرے کی  شدید ترین  خواہش میں پاسپورٹ  بھی  بنوا لیا  اور عین  تیسرے آپریشن  سے  کچھ دن پہلے عمرہ  کیلئے  اپلائی  بھی  کرنے والے تھے ۔
زبردستی انہیں چیک اپ کیلئے بہاول وکٹوریہ ہسپتال  لے جایا گیا تو انکشاف ہوا  کہ جگر  کا کینسر  اپنی  انتہائی آخری سٹیج پر ہے  اور پھٹنے کے بالکل قریب ہے ۔ صرف ایک یا دو دن۔۔۔۔
لیکن یہاں  علامہ اقبال  والا فارمولا  لاگو ہوا تو  میڈیکل سائنس  منہ تکتی رہ گئی ۔خودی کو کر بلند اتنا کہ  ہر تقدیر سے پہلےخدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہےہم سب نے اپنے تئیں ان سے یہ بات چھپائی ہوئی تھی ۔ لیکن  عین وفات والے دن(وفات سے 6 گھنٹے پہلے)  کسی  قابل اعتماد گواہ  کے بیان کے مطابق  وہ نہ صرف اپنی  وفات کے دن  بلکہ اپنے  جنازے  کے  امام کی  پیش گوئی بھی کر چکے تھے۔
جگر بالکل ختم ہو گیا ،  دوران ِ خون  نہ ہونے کے برابر  تھا۔  معدہ  کوئی بھی چیز قبول  کرنے سے مکمل انکاری تھا۔ ایک  مالٹے یا ایک  امرود  سے گھٹتے گھٹتے  خوراک انار کے  چند قطرے جوس  تک آ پہنچی ۔ اور وفات سے تین دن پہلے وہ بھی بند ہو گئی۔ حتیٰ کہ انہیں  پینے کیلئے عام پانی کی جگہ جو آب زم زم کے چند گھونٹ پلائے جاتے تھے ، وہ بھی  بوجھل کرنے  لگے۔تکلیف  کا اندازہ  تو کینسر کے مریض ہی لگا سکتے ہیں۔ یہ حالت تھی کہ  لیٹے لیٹے تھک جاتے تو  چند سیکنڈ بیٹھنا بھی  دائیں ٹانگ میں شدید ترین درد کا باعث بن جاتا تھا۔لیکن  ایک کمال  یہ دیکھا کہ  آخری وقت  تک انہوں نے کسی کا سہارا  لینا گوارا نہیں  کیا۔تین  تین  گھبرو جوان  بیٹے سامنے ہیں۔ مگر انہیں  اتنا بھی گوارہ نہ تھا  کہ ہم میں سے کوئی  اٹھا کر صحن  میں لٹا دے۔  نہ ہی انہیں یہ پسند تھا کہ چلتے وقت  انہیں پکڑ کر سہارا دے کر چلایا جائے ۔ زیادہ سے زیادہ  کسی بیٹے  کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے چلنا پسند کرتے تھے ۔
وفات  سے پہلے جمعہ کے  دن جب انہیں زندگی کا آخری  غسل کروایا گیا ۔ تو اس دن  میرے چچا زاد بھائی  سید ضمیر حسین شاہ صاحب اپنے اہل خانہ کے ساتھ عیادت کو آئے ہوئے تھے ۔ غسل کیلئے پانی  کا انتظام کر کے صحن میں چارپائے بچھا کے میں نے اطلاع  دی کہ غسل کے لوازمات تیار ہیں۔ اب بس آپ کا انتظار ہے ۔ ضمیر بھائی نے  کہا اس حالت میں وہ کیسے چلیں گے ۔ انہیں اٹھا کے وہاں تک لے چلیں ۔ مگر  ابا جی نے سختی سے منع کر دیا۔  ضمیر بھائی  حیرت سے گنگ ،  جب اٹھ کر بیٹھنے لگے تو کمزوری کو دیکھ کر ضمیر بھائی نے سہارا دینا چاہا لیکن ابا جی نے روک دیا۔  ضمیر بھائی مزید حیران۔۔۔۔۔ پھر سب نے دیکھا کہ  وہ کوشش کر کے خود اٹھ بیٹھے اور پھر اٹھ کھڑے ہوئے ۔ پھر میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کے چلتے ہوئے صحن  میں بچھی چارپائی  تک آئے اور  لیٹ گئے ۔ اماں  نے قمیض اتارنے میں مدد دی ۔  میں  نے کہا  کہ ننگی چارپائی  چبھے گی  نیچے تولیہ بچھا دیتا  ہوں مگر روک دیا۔

              (جاری ہے) 

Tuesday, 6 May 2014

الف نون 4 (حصہ دوم)۔

0 آرا
زرینہ کی رخصتی کے ساتھ  ہی کمرے میں جیسے بھونچال آ گیا ۔  الف  کا ہاتھ  ناشتے  میں آئے  مالِ غنیمت  پر حملہ آور ہونے  ہی  لگا کہ  ایک  تکیہ غوری میزائل  کی طرح پیچھے سے سر سے آن ٹکرایا۔ اور  ساتھ  ہی نون گرجتا چنگھاڑتا ہوا غریب پہ  چھا جانے والی  نحوست  کی طرح الف پر ٹوٹ پڑا ۔  زبان اور ہاتھوں  کے اندھا دھند اور بے دریغ استعمال  کے ذریعے  نون نے الف  کو سوچنے ، سمجھنے  اور  کچھ بولنے یا اپنا دفاع کرنے  کی مہلت ہی نہ دی۔لیکن جلد ہی کوک سے نکلنے والے  بلبلوں کی طرح  اس کا جوش  بھی کم ہو گیا اور الف پہ بیٹھے بیٹھے ہی ہانپنے لگا۔
اس وقفے کو  امداد غیبی سمجھ کر  الف نے  ہل جل کر  نون کے نیچے سے نکلنے کی  کوشش کی مگر  صرف  کراہ کر رہ گیا۔پھر نیچے  لیٹے لیٹے  ہی دہائی دی  ۔ کیوں ایک دم پاگل ہاتھی کی طرح  آپے سے باہر ہو گئے ہو  ۔مسئلہ کیا ہے ۔۔۔؟؟؟
نون ہانپتا ہوا غرایا :۔  تو یار نہیں ، یار مار ہے  ۔۔۔۔ تقریباً  واجب القتل  ہے ۔
الف ہنسا  :۔ شکر ہے "تقریباً" کی رعایت تو دی۔
نون کا پارہ ابھی بھی بلندی پر تھا:۔  اس طرح ہنہنانے سے اگر تمہارا خیال ہے کہ  میرا غصہ ٹھنڈا کرلو گے  تو محض خام خیالی ہے تمہاری ۔غضب خدا کا ۔ سات گھر تو ڈائن بھی چھوڑ دیتی ہے ۔ اور تو ہے  کہ عین میری ناک کے نیچے عشق پیچے  لڑا رہا ہے ۔ اور  مجھ معصوم  کو  اعتماد میں لینا تو دور تو نے ہوا تک نہیں  لگنے دی۔
الف نے بے چارگی سے دہائی دی:۔  مجھے صفائی کا موقع تو دو۔  رحم کھاؤ یار۔۔۔۔
کس لیے  رحم کھاؤں ؟  میں کوئی پاگل ہوں  جو رحم کھاؤں؟ واہ  رے تیری  ہیرا پھیری ۔۔۔ تو کھائے  میری حسین ہمسائی کے ہاتھ  کا  بنا لذیذ گاجر حلوہ ۔ اور میں صرف رحم کھاتا رہوں؟  رحم سے پیٹ نہیں بھرتا ۔ " یہ کہہ کر نون نے  ہاتھ بڑھا کر  میز پہ پڑا  گاجر  کا حلوہ اٹھا یا  اور الف  پہ بیٹھے  بیٹھے  مزے سے کھانے لگا۔ الف بہتیرا چلایا  ۔ دوستی کے واسطے دئیے ۔  مگر نون  جیسے بہرا ہو گیا تھا ۔ اس کے کان پہ کوئی جوں تک نہ رینگی ۔حلوہ ہڑپنے کے بعد  نون  نے چائے کا  مگ  اپنے حلق میں انڈیلا  اور ایک عدد  ڈکار خارج  کرکے بولا:۔ واہ بھئی  واہ ۔ ذائقہ ہے بہو کے ہاتھ میں"۔
"اے سنگدل انسان  !  میرے بے زبان معدے  حق تو  تم نے مار ہی لیا ہے ۔ اب خدا کیلئے  میرے پھیپھڑوں  پر تو رحم کھاؤ"۔  الف  کے لہجے میں  وہ شکستگی اور درد  تھا   جو"کنگ لئیر"  کا بروٹس سے تیر کھانے کے بعد تھا۔نون کا موڈ چونکہ حلوہ خوری کے بعد  بحال ہو چکا تھا اس لیے  الف کے اوپر  سے  اٹھ گیا۔"ہٹلر  کے چیلے !! تم سے تو دوزخ کے فرشتے پوچھیں ۔۔۔اب بکو کیا مسئلہ ہے ، جو تم کچھ کہے سنے بغیر  میرا بھرتا بنانے  پہ تل گئے تھے ۔" الف کراہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔نون  دانت نکوس کر ڈھٹائی سے بولا :۔ " دفع کر ۔۔۔۔  میں تو بس گاجر کا ھلوہ ہڑپنا چاہتا تھا ۔ ویسے بھی  زرینہ کونسا میری منگیتر ہے؟"۔
الف کو تو پتنگے لگ گئے :۔ "تو میں کونسا اس کیلئے  مرا جا رہا ہوں ۔  مین تو بس ناشتے کے شکریے  میں خوش اخلاقی  بگھار رہا تھا ۔ لیکن تم پتہ نہیں  کیا کیا سمجھ بیٹھے  ۔ اور ہاں ۔۔۔۔!!! ایک پلیٹ حلوہ  ہڑپ کے زیادہ خوش نہ ہو ۔ تمہیں تو آج میری وجہ سے نصیب ہو گیا ۔  مگر میرے پاس جو پلان ہے  ۔ اس پہ عمل درآمد کے بعد  سارادن ایسے لذیذ کھانوں سے فرصت نہیں ملنی مجھے ۔  اور جس کمینگی کا  مظاہرہ ابھی تم نے کیا  ہے اس کے بعد  میں تو کسی صورت  تمہیں  اپنے  تازہ  منصوبہ برائے  خوشحالی  میں شامل نہیں کرنے والا"۔
منصوبے کا سن کر نون کو اپنی حماقت اور جلد بازی پر رونا آیا۔ لپک کر الف سے لپٹ گیا  اور بولا :۔ "چھوڑ نا یارمنصوبے کا سن کر نون کو اپنی حماقت اور جلد بازی پر رونا آیا۔ لپک کر الف سے لپٹ گیا  اور بولا :۔ "چھوڑ نا یار،ایک پلیٹ حلوے  کی وجہ سے تو  بچپن کی دوستی پر  نفرت کے پوچے پھیرنے پہ تُل گیا ہے "۔
الف کراہا:۔ " پہلے ہی  تیری لتاڑ پچھاڑ سے  میری بے چاری  پسلیاں دکھ رہی ہیں ۔ اب تو  بچی کھچی پسلی بھی ہلانا چاہتا ہے کیا ؟۔  چل دور ہٹ"۔نون کھسیا  کر  الگ ہوا اور بولا  :۔ دیکھ نا یار ،  میری ہمسائی نے تم پر لائن ماری ، میں نے تیرا حق مارا۔  حساب ہوا  برابر۔  بس اب صلح کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ " نون نے ہاتھ اتھا کر خود ہی فیصلہ  اور اعلان سنا دیا۔
لیکن الف کے تیور صلح والے  نہ تھے ۔ اس نے چپ چاپ  حملے کے دوران اتری جوتی  تلاش کر کے پاؤں میں گھسیٹی  اور  باہر جانے لگا۔ہر حربہ ناکام جاتا دیکھ کر  نون  کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے ۔ اسے اس احمق کی کہانی یاد آئی  جوسونے کا انڈہ دینے والی مرغی  ذبح کر کے پچھتایا تھا۔لپک کر آگے بڑھا اور  الف کو بازو سے پکڑ کر روک لیا:۔ "دیکھ یار  آج تک ہم نے جو کچھ کھایا ساتھ کھایا ۔  حتیٰ  کہ مار ، پھٹکار بھی ۔اب  اگر  قسمت کھلنے کے آثار نظر آئے ہی ہیں  تو تم اس طرح  بہانے بہانے رسے تڑانے لگے ہو ۔ اچھا یہ دیکھ میں  کان پکڑتا ہوں "۔  مگر الف کی بے نیازی سے  ہر گز دال گلتی نظر نہ آئی۔ اس نے اپنا بازو جھٹکے سے چھڑایا اور  بیٹھک کا دروازہ پار کر گیا ۔پیچھے سے نون نے آواز  دی:۔ "اچھا تو  پھر سن! اگر مجھے اس منصوبہ برائے خوشحالی میں شامل نہ کیا گیا تو  میں بھی کسی کو اکیلے  اکیلے یہ خوشحالی نصیب نہیں ہونے دوں گا۔"یہ بڑھک توقع سے زیادہ  کامیاب اور نتیجہ خیز  رہی ۔  جاتے ہوئے الف کے قدم ایک دم   رک گئے  مگر اس نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔نون سمجھ گیا کہ دھمکی  نے لوہا گرم کر دیا ہے اب بس  مسکے کی چوٹ لگانے کی دیر ہے ۔بھاگابھاگاآیا اور الف سے بولا :۔"یار میری بات کا غلط مطلب مت لینا۔ وہ تو میں غصے میں  اول فول بک ہی دیا کرتا ہوں اکثر ۔ چل اب تو بھی غصہ تھوک اور آجا مل کر ناشتہ کرتے ہیں"۔
الف نے حیرانی سے پوچھا:۔ " کونسا ناشتہ۔۔۔؟؟؟ حلوے اور چائے  کا کریا کرم  تو  میرے سامنے ہی تمہارے ہاتھوں ہو چکا ہے ۔ اب کونسے ناشتے کا جھانسا دینے کی کوشش میں ہو  تم؟"۔
نون  سینہ ٹھونک کر فخریہ لہجے میں بولا:۔ "ہم ہیں تو پھر کیا غم ہے۔  بس تم آؤ تو سہی  ۔۔۔۔  یار کو  فرسٹ کلاس دودھ پتی  پلاتا ہوں ۔" حیرت کے مارے الف کی  آنکھیں باہر ابل آئیں:۔" دودھ پتی۔۔۔؟؟؟   مگر کہاں سے آئے گا دودھ۔۔۔؟؟؟ میری  معلومات    کے مطابق تو تم  ممالیہ  جانوروں  کی صف میں شامل نہیں ہو۔ پھر ۔۔۔؟؟؟؟
نون  الف کو کھینچتا ہوا اندر لے گیا اور بولا:۔ ""حیران ہونے کیلئے بہت عرصہ پڑا ۔ ابھی بس میرا ساتھ دو اور کمال دیکھو۔" یہ کہہ کر نون  نے  اپنی چارپائی  کے نیچے سے ایک لمبی سی رسی برآمد کی  ۔اور ہمسایوں کے لان سے تھوڑا سا گھاس توڑ  کر رسی کے ایک سرے سے  باندھ دیا۔جس  سرے سے گھاس بندھی تھی  اسے نون نے گلی میں رکھ دیااور  رسی پکڑ کے بیٹھک کے دروازے میں  گھات لگاکے  بیٹھ گیا ۔ چند منٹ  انتظار کے  بعد  گلی میں دو تین بکریاں  نمودار ہوئیں ، جوکہ محلے کے کسی گھر کی تھیں شاید ۔  بڑی جسیم لائل پوری بکریاں تھیں ۔ جونہی وہ  رسی سے بندھے گھاس کو دیکھ کر  کھانے کو لپکیں ۔ نون نے کسی ماہر شکاری کی طرح  ہاتھ میں پکڑی رسی کو لپیٹنا شروع کر دیا ۔ بکریاں گھاس کے لالچ میں منہ اٹھائے  گھاس کے پیچھے پیچھے  کھنچی چلی آئیں ۔ حتیٰ کہ نون رسی کھینچتا ہوا الف سمیت  دروازے سے ہٹ کر  اندر چلا گیا ۔ بکریاں بھی  گھاس کے تعاقب میں  دروازے میں گھس آئیں ۔  دروازے کے پیچھے نون  تیار کھڑا تھا ۔ جونہی دونوں بکریاں اندر  داخل ہوئیں  نون نے جھٹ  سے دروازہ بند کر دیا ۔بکریاں اس سب واردات سے بے نیاز  جلدی سے گھاس پہ  لپکیں  ۔ جبکہ نون  الف کو اشارہ کر کے بکریوں پر لپکا اور گھاس کھاتی بے خبر بکریوں  کو دبوچ لیا ۔ اور اگلے چند لمحوں میں  دونوں رسی سے بندھ چکی تھیں  ۔ الف ابھی تک  حیرانی اورناسمجھی کے عالم میں تھا ۔   غصے سے   بولا :۔ "اب تو چوریاں بھی کرنے لگا ہے ؟ تف ہے تم پر ۔ مجھے بھی اپنے ساتھ  پکڑواؤ گے "۔ 
نون جیسے الف کی  سادہ لوحی پہ مسکریا  اور بولا:۔ " بھولے بادشاہ  !  کونسی چوری ؟  میں کونسا یہ بکریاں بیچنے کا  ارادہ رکھتا ہوں ۔؟بس چپ چاپ دیکھتا جا "۔ یہ  کہہ کر  نون اندر سےایک جگ  لے آیا اور  ایک بکری کے نیچے  بیٹھ کر  اس کے  تھن دھونے لگا جو دودھ سے بھرے  دور سے ہی نظر آ رہے تھے ۔  اب الف کو سمجھ آیا کہ نون  کیوں اسے دودھ پتی کی آفر کر رہا تھا ۔ اس دوران  نون نے ماہر  گوالے کی طرح بکری کا دودھ دوہنا شروع کر دیا ۔ ایک کے بعد دوسری کی باری آئی ۔ دونوں کا دودھ نکال کر  بکریوں کو باہر بھگا یا  اور الف سے بولا:۔ " کیا یاد کرو گے تم بھی ۔  انشاءاللہ ساری زندگی تم میرے ہاتھ کی چائے کا  ذائقہ نہ بھلا پاؤ گے"۔
الف منہ بنا کر بولا :۔ "میں نہیں پینے ولا چوری کے  دودھ سے بنی چائے "۔  اس پر نون نے  ایک فرمائشی سا قہقہہ  لگایا اور  آنکھیں گھما کے  بولا :۔ " حاجی صاحب!  اسے چوری نہیں شکار کہتے ہیں۔ اور شکار چور نہیں شیر کرکے کھاتا ہے ۔  گیدڑ ٹائپ لوگ  بس چائے کے کھوکھوں پہ  پانی ملے دودھ  کے کڑوے کسیلے ، بدرنگے  محلول کو چائے سمجھ کر پیتے ہیں۔  ہم تو شیر ہیں شیر ۔  اپنا شکار کر  کے  پیتے ہیں"۔ 
الف کو بھی ہنسی آگئی:۔ "اوہ میرے خدا !  کیا نیرنگی  ہے ۔  جب سے  نواز  شریف  کی پارٹی الیکشن جیتی ہے  پاکستان کا ہر گدھا بھی اپنے آپ کو  شیر سمجھ   بیٹھا ہے"۔
نون سنی ان سنی کر کے کچن میں جا گھسا  اور چند منٹ  بعد  تھرموس اور دو کپوں کے ساتھ  بیٹھک میں آیا۔اور  حاتم طائی والے لہجے میں  بولا :۔  "لے جگر  عیش کر اور  اب مزید کسی بک بک کے  بغیر  سیدھی طرح  نیا پلان اگل دے ۔ ورنہ ۔۔۔" الف  جواب دینے  کی بجائے پراٹھوں کو دیکھ کر گنگنایا:۔ " تیری دو ٹکیاں دی نوکری ۔۔۔وے میرا لاکھوں کا ساون جائے ۔" اور  ہاتھ بڑھا کر  پراٹھے اپنی  طرف کھسکا لیے۔نون جھنجھلا گیا  ۔ مگر الف کو  پراٹھے  اجاڑتے دیکھ کر  اس نے مزید  کچھ کہنے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے  پراٹھوں  پہ حملہ کرنا مناسب سمجھا۔
اسی اثنا میں چوڑیوں کی کھنکھناہٹ کے ساتھ ہی  دروازے میں زرینہ  کا چہرہ  طلوع ہوا۔  محترمہ ابا جی کو  ناشتہ دینے گئیں تو  لگے ہاتھوں سوٹ بھی  بدل لیا  اور ہونٹوں کی سرخی مزید گہری کر لی ۔ جسے دیکھ کر الف نے بمشکل اپنی ہنسی روکی  ۔جبکہ زرینہ  کے دل میں الف کو مسکراتا دیکھ کر جلترنگ سے بج اٹھے:۔"ہائے اللہ !!! آپ ابھی تک  ناشتہ کر رہے ہیں ۔ میں تو برتن  لینے آئی تھی  ۔" زرینہ نے   دل کا چور چھپانے کیلئے      اپنی   آمد کا جواز گھڑا۔اور نون کے  ماتھے پر شکنیں پڑ گئیں ۔ دل ہی دل میں زرینہ کا منہ چڑاکے سوچا:۔ " سب سمجھتا ہوں میسنی کہیں کی"۔ 
 جونہی ناشتہ ختم ہوا زرینہ نے جھٹ سے  ہتھیلی  الف کے سامنے کر دی ۔  الف نے برتن اٹھا کر  زرینہ کے پھیلے ہاتھ پہ دھر دئیے۔ نون کی ہنسی چھوٹ گئی اور  زرینہ بے چاری کھسیا کر رہ گئی۔ :۔ "برتن تو میں لے ہی جاؤں گی مگر الف جی! ذرا میرا ہاتھ تو دیکھئے ۔ اور میر ی قسمت کا حال تو بتائیے ۔ اتفاق سے آج آپ مل گئے ہیں ورنہ آپ تو عید کے چاند کی طرح  کبھی کبھار ہی نظر آتے ہیں۔"لفظوں کے ساتھ ساتھ  زرینہ نے قاتل اداؤں  کا جال پھینکا  تو الف کی  سانس اٹکنے لگی ۔  دل کو دھڑکنوں کی گنتی بھول گئی اور  حلق  جیسے صحرائے تھر  ہو گیا ہو۔نون کو لگا کہ آج الف برا پھنسا ہے ۔ کمک کے طور پر  اس نے پانی کا ایک گلاس  الف کی طرف بڑھایا  ۔ زرینہ کی آنکھوں کے بھنور میں ڈوبتے الف کو  یہ تنکے کا سہارا غنیمت لگا ۔ گلاس لے کر اس نے ایک ہی سانس میں پورا گلاس اندر  انڈیل لیا اور دو چار گہری سانسیں لے کر  حواس بحال کیے۔نون کا خیال تھا  کہ اب الف کوئی  بہانہ بنا کر اس چڑیل کو ٹالے گا ۔ مگر اس کی  حیرت کی  کوئی انتہا نہ رہی  جب الف  زرینہ  کی  حنائی ہتھیلی تھام کر  اسے  غور سے دیکھنے لگا۔ کچھ دیر گھورنے کے بعد  پر سوچ لہجے میں بولا  :۔ "مس !! آپ کی قسمت کی لکیر کافی گنجلک ہے "۔ زرینہ کے پلے کچھ نہ پڑا تو اس نے پوچھ ہی لیا ۔ :۔ "جی یہ  گنجلک کیا ہوتا ہے۔؟"اور تائید  طلب نظروں سے  نون  کی جانب دیکھا ۔ نون  جو پہلے  ہی الف کے ہاتھ میں  زرینہ کا ہاتھ دیکھ کر جلا بھنا بیٹھا تھا ۔ آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا:۔"یہ  کیا تم نے مرزا رجب علی سرور  والی اردو بولنا شروع کر دی ہے ۔ اور تمہارا کیا خیال ہے  کہ مس زرینہ  نے ایم اے اردو  کیا  ہوا ہے ۔  یا سب نے تمہاری طرح دیوان غالب گھول کر پیا ہوا ہے ؟۔ اردو اگر پاکستان  کی  قومی زبان ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں  کہ ہر پاکستانی کو اردو آتی بھی ہے ۔ میٹرک تو دور  ایف اے ، بی اے کے طالب علموں کو بھی بس اتنی اردو آتی ہے جتنی کے گائیڈ  بکس ، ٹیسٹ پیپرز  میں لکھی ہوتی ہے ۔  انگریزی  تو البتہ ہماری پادری زبان ہے  مگر  سٹار پلس کی مہربانی سے ان پڑھ  خواتین بھی ہندی سمجھ اور بول لیتی ہیں "۔
 نون سانس لینے کو رکا تو  الف نے ہاتھ جوڑ دئیے  اور زرینہ نے منہ بنا کر کاٹ کھانے والی نظروں سے نون کو  گھورا ۔ الف نے  زرینہ کی طرف متوجہ ہو کر کہا:۔"گنجلک کا مطلب ہوتا ہے  الجھا ہوا ، اور پیچیدہ۔ یعنی آپ کی قسمت کی لکیر کافی  الجھی ہوئی  ہے ۔  کبھی فرصت  سے ہاتھ دکھائیے گا"۔ زرینہ نے فدا ہو جانے والی نظریں الف کے چہرے پہ گاڑیں اور  بولی :۔ "کوئی بات نہیں آپ  اطمینان سے ہاتھ دیکھئے  ۔ مجھے کونسا جلدی ہے ۔ "۔ مرتا کیا نہ کرتا ۔ الف دوبارہ ہتھیلی کی لکیروں سے الجھنے لگا ۔  چند ثانیے بعد بولا  :۔"ہم،ہمم ممم۔۔۔۔ آپ  کے کافی خواب اور ارمان ہیں ۔  اور  ان  کے پورے ہونے کا بھی اشارہ ہے ۔"۔  زرینہ  کا منہ کھل گیا  مسرت سے بھرپور لہجے میں بولی :۔" ہائے اللہ۔۔۔۔!!! سچی۔۔۔۔؟؟؟"۔ الف نے  اپنی بات پوری کی :۔ " مگر اس لکیر کو ایک  اور لکیر کاٹ رہی ہے ۔ اس کا مطلب ہے  کہ  کچھ رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں آپ کے ارمانوں  کے راستے میں۔"زرینہ  نے  پھر بیچ میں بات کاٹ دی :۔ "رکاوت کیا ہے۔۔۔؟؟؟ بتائیں ناں الف جی۔۔۔ آپ تو چھپے رستم نکلے  الف جی ۔ بتائیں ناں  میرے دل کی مراد کب پوری ہو گی ۔ " الف بدستور لکیروں کھونے ایکٹنگ  کرتے ہوئے بولا :۔ غیر واضح لکیر ہے ۔ اس  کا مطلب ہے کہ  یہ  لکیر  کالے علم  کے عمل کا کرشمہ ہے۔ آپ کا کوئی بدخواہ ہے زرینہ جی جس نے  آپ  کے خلاف کوئی سفلی عمل کروایا ہے"۔ زرینہ ہکا بکا رہ گئی :۔ "بتائیں ناں  اس رکاوٹ کا کوئی تو حل ہوگا۔ کوئی تو توڑ ہوگا۔  میں آپ کو منہ مانگی فیس دوں گی۔  آپ بس یہ مسئلہ حل کریں پلیز"۔
نون جو ساتھ بیٹھ کافی دیر سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا ۔ اب اسے سمجھ آیا کہ الف کا منصوبہ برائے خوشحالی کونسا ہے ۔  منہ مانگی فیس والی بات پر تو  اس کی باچھیں کھل گئیں اور الف پر اسے  بے اختیار پیار آ گیا" واہ میرے یار  تو جینئس ہے ۔  بس نگوڑے زمانے کو ہماری قدر نہیں ۔ " نون  نے دل ہی دل میں الف کو داد دی تو خود کو بھی شامل کرنا نہ بھولا۔
الف نے انکساری  سے جواب دیا :۔ "شرمندہ نہ کریں  زرینہ جی ! ہمارے مرشد  پاک  روپے پیسے  سے سخت متنفر ہیں اور یہی نصیحت فرماتے ہیں۔  فیس  لینے کا تو میں سوچ بھی نہیں سکتا ۔  کیونکہ  آپ  نون کی ہمسائی ہیں تو میری بھی ہمسائی ہوئیں ۔  اس لیے فیس وغیرہ کا مجھے کوئی لالچ نہیں۔ آپ کا کام میں ویسے ہی کروا دوں گا"۔الف کے  آخری الفاظ پر  زرینہ چونکی تو ساتھ ساتھ نون کے بھی کان کھڑے ہو گئے 
زرینہ نے پوچھا:۔ "کس سے کروا دیں گے؟"۔
الف عقیدت بھرے لہجے میں بولا:۔ " اپنے پیر صاحب سے ۔  بہت پہنچے ہوئے بزرگ ہیں وہ ۔  ویسے بھی یہ کوئی  چھوٹی موٹی رکاوٹ  نہیں ہے ۔ ہو سکتا ہے مجھ سے کوئی گڑ بڑ ہو جائےاس لیے  جوگی بابا سے مدد کی درخواست کرنی پڑے گی ۔  مگر ایک مسئلہ ہے"۔ زرینہ جو  الف کی باتوں میں ڈوبتی جا رہی تھی پھر چونکی اور بے تابی سے پوچھا:۔"مگر اب کیا مسئلہ ہے؟"۔ الف نے چہرے پر تما تر بے چارگی کو جمع کیا اور بولا  :۔ مسئلہ یہ ہے کہ  بابا  جی  کوہ ہمالیہ کے غاروں میں چلہ کاٹنے  تشریف لے جا چکے ہیں۔  ویسے تو ان کی شفقت اور مہبانی سے یہ ناچیز  جوگی بابا کا چہیتا اور مقرب مرید ہے ۔ میری درخواست پروہ یہ کام تو دور،  چلہ چھوڑ کر یہاں  تشریف لانے  پر بھی  تیار ہو جائیں گے ۔  لیکن  انہیں بلانے کیسے جاؤں۔آپ کو تو پتا ہے  کہ  قسمت کے مارے بیروزگار کی کیا کیا مجبوریاں  ہوتی ہیں۔  بدقسمتی سے جیب بھی  پاکستان کے خزانے کی طرح خالی ہی رہتی ہے اکثر ۔ پرانا زمانہ  بھی نہیں کہ کسی گھوڑے خچر  پہ بیٹھ کر چلا جاتا ۔  "  الف کی تقریر کے دوران  نون بے چارے نے خود کو دھمال پذیر ہونے سے بمشکل روکا ہوا تھا ۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ  الف کو کندھوں  پہ  اٹھا کے  اتنا ناچے اتنا ناچے  کہ  کبھی انجمن ، صائمہ  اور ریما بھی مجموعی طور پر اتنا نہ ناچی ہوں ۔
زرینہ جلدی سے دوسری طرف گھومی ۔ اس کا ایک ہاتھ حرکت میں آیا اور  چند لمحوں بعد  جب وہ الف اور نون کی طرف مڑی  تو اس کے ہاتھ میں ایک ہزار کا کراراکرار ا نوٹ  موجود تھا ۔ وہ الف کی طرف بڑھا کر بولی  فی الحال  تو میرے پاس یہی موجود ہیں ۔  آج ہی ابا سے  کسی کام کیلئے لیے تھے ۔ "۔  الف نے ہاتھ بڑھا کر  نوٹ پکڑ لیا اور بولا:۔ ارے نہیں  نہیں ۔۔۔ رہنے دیں ۔ شرمندہ تو نہ کریں ۔ (اس دوران  نوٹ جیب میں  منتقل ہو گیا)آپ کو جیب خرچ ملا تھا اور آپ اپنے استعمال کی بجائے ہمیں دے رہی ہیں۔ویسے آپ تو جانتی ہیں کہ شیر کی حکومت میں  اب بندہ  ایک ہزار میں بہاولپور  سے  ملتان تک ہی  جا کر  واپس آ سکتا ہے ۔  کوہ ہمالیہ تک جانا  اور پھر واپس آنا تو  ایک طرف رہا "۔زرینہ صدقے واری  جاتے ہوئے بولی :۔  "ارے الف جی  !! آپ بھی کمال کرتے ہیں ۔ یہ تو صرف آپ کیلئے  ہاتھ دکھائی کے طور پر ایک حقیر سا نذرانہ تھا ۔ آپ بس جوگی بابا کے پاس جانے کی تیاری کریں ۔ سفر کا جملہ خرچ  اس بندی کے ذمے رہا ۔ بلکہ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ جوگی بابا  کو بھی ساتھ لے آئیں۔ اور ہاں آپ بس مجھے سفر خرچ بتا دیں ۔ اس کا جلد سے جلد انتظام ہو جائے گا"۔
نون  کو کافی دیر  ہو گئی تھی چپ بیٹھے بیٹھے  اس سے رہا  نہ گیا تو  خوشی  سے شرابور لہجے میں بولا :۔"میرا خیال ہے دس ہزار کافی رہیں گے"۔الف نے  کھاجانے والی نظروں  سے  نون کو گھورا اور اشارے سے  اپنی چونچ بند رکھنے کی  ہدایت کی ۔اور  زرینہ سے بولا:۔ " دیکھیں جی حالات کا کچھ پتہ نہیں ۔ معلوم نہیں جوگی بابا کو دھونڈنے میں ہمیں کتنے دن لگ جائیں ۔  اب ایسا تو نہیں کہ  جونہی ہم بس سے اتریں گے جوگی بابا ہمارے استقبال کیلئے  موجود ہوں گے۔  باقی آپ خود سمجھدار ہیں"۔سمجھداری کا سرٹیفیکیٹ ملتے ہی زرینہ تو جیسے ہواؤں میں اڑنے لگی ۔ اسے تو آج تک اماں  نے  کوڑھ مغز ،  کم عقل ، بے وقوف اور نجانے کن کن  کن خطابات سے نوازا تھا۔  الف نے سمجھدار کہہ  کر گویا اسے ملکہ پرستان کہہ دیا ۔ اور وہ جو پندرہ ہزار کا کہنے والی تھی فوراً  بیس ہزار کا بجٹ پیش کر دیا۔نون پہ شادی مرگ کی کیفیت طاری ہو گئی اور بے ہوش ہوتے ہوتے بچا۔ الف سے بھی باچھیں کنٹرول نہ ہو سکیں ۔ اس نے بھی خوشی کے مارے منظوری دے دی۔
زرینہ اٹھ کھڑی ہوئی  اور برتن اٹھاتے ہوئے  بولی:۔"اف اللہ ۔۔۔۔!! کافی دیر ہو گئی  ہے  آج تو اماں سے  اچھی خاصی صلواتیں سننا پڑیں گی ۔" پھر الف  کی طرف دیکھ کر  ایک قاتلانہ ادا سے بولی  :۔"اچھا الف جی!! میں اب چلتی ہوں آپ بھی سفر کی تیاری کیجئے ۔" دروازے تک  جا کر مڑی  ، ایک نظر  الف کو دیکھا پھر خود ہی شرما  ئی اوربھاگ کر  باہر نکل گئی۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما