Sunday, 19 May 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط پنجم) ۔

1 آرا


شکر خورے کو خدا شکر دیتا ہے


دن کو ورکشاپ میں کام کرتا اور رات کو رہائش کیلئے شاہ صاحب کے ایک دوست ، جو کہ ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی پوسٹ پر ملازم تھے کا گھر مستقر  مقرر ہوا۔وہاں جاتے ہی جوگی کو مانوس سی خوشبو آئی ، غور کرنے پر معلوم ہوا کہ ساتھ والے کمرے میں کتابوں سے بھری دو الماریا ں ہیں ۔گویا  ٹارزن  جنگل  میں آ گیا ۔۔۔۔   کانٹوں  کی  طرح کتابوں کی  زباں پیاس  سے سوکھ  رہی تھی ۔  ان کی دعا  سے  یہ آبلہ پا  وادیِ  پُر خار میں آن  پہنچا۔کتابوں نے  خوشی  سے ایک  دوسری  کو  مبارک باد  دی کہ "غمخوارِ جانِ دردمند آیا"۔  پھر یہ معمول بن گیا کہ دن کو ورکشاپ کی خجل خواری کے بعد رات دس بجے سے صبح 6 بجے تک کا ٹائم نسیم حجازی کے نام ہو گیا۔پہلا ناول "پیاسی ریت" جو پڑھا تو  "چھاپ تلک سب چھین لیے موسے نیناں ملائی کے" ۔
 ایک دن نذیر  صاحب ( اسٹیشن ماسٹر)نے پڑھتے دیکھ لیا ، بہت  حیران ہوئے ، اور اس سے بھی زیادہ حیران تب ہوئے جب انہوں نے دیکھا کہ 530 صفحات پڑھ بھی چکا ہے ، اصل میں ان کا خیال تھا کہ شاید یہ نالائق بچہ تھا جسے مجبورا ً ماں باپ نے ورکشاپ کے کام پرلگا دیا ، مگر ان کی حیرانی انتہا نہ رہی جب اسی نالائق دس، گیارہ سال کے بچے کو نسیم حجازی کا ضخیم ترین ناول رات کو جاگ کر  پڑھتے دیکھا۔ پوچھا کہ کچھ سمجھ بھی آتا ہے یا بس اینویں ہی کتاب کھولی ہوئی ہے ، جواباً جوگی نے کہا کہ آپ پچھلے 500 صفحات میں سے کوئی سا بھی صفحہ کھول کے مجھ سے زبانی سن لیں۔یا پھر اب تک پڑھے گئے ناول کا خلاصہ سن لیں۔ اسٹیشن  ماسٹر صاحب شاید مجذوب کی بڑ سمجھ لیتے مگر آزمانے پر معلوم ہوا کہ جسے وہ نالائق بچہ سمجھتے تھے وہ تو "غضب نکلا ، ستم نکلا۔"
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ جو اپنے بچوں کو ڈراتے تھے کہ دیکھو دل لگا کر نہیں پڑھو گے تو جوگی کی طرح ورکشاپ میں بھیج دیں گے، اب وہی اٹھتے بیٹھتے جوگی یہ جوگی وہ کرتے ۔ اور بات بات پہ اپنے بچوں کو جوگی کی مثالیں دیتےکہ ریختے کے تمہی  استاد نہیں ہو ۔ 
"پیاسی ریت" کے بعد "اندھیروں کے ساربان" کا نمبر آیا اور پھر تو سلسلہ چل نکلا ، اور جوگی کا شعور جو چاہِ یوسف  میں آزادی کیلئے پھڑپھڑا رہا تھا نسیم حجازی صاحب کے رسے کی مدد سے نکلتا چلا گیا ، اور آزاد فضاؤں کی سیر کرنے لگا۔اب جب کہ حقیقت اپنی  تمام تر تابناکی  سے یہ آشکار کر چکی تھی  کہ "قطرہ اپنا بھی حقیقت  میں دریا ہے " تو اپنے تیل ، گریس سے داغدار ہاتھوں ، کپڑوں سے نفرت سی محسوس ہونے لگی 


شاہین کا جہاں اور ہے



اب جوگی کو محسوس ہونے  لگاکہ نہیں میرا نشیمن کاروں موٹروں کے بونٹ پر ، میں شاہین ہوں بسیرا کروں گا اقبال ؒ  و غالبؔ کے  دیوانوں  پر
بغاوت تو دل میں اسی وقت سے پنپنے  لگی تھی جب سے دشت ِ امکاں  میں  نقشِ پا  پایا  تھا ۔مگر استاد ِ عالیشان کا  فرمان مانع  تھا  کہ "چاک مت کر  جیب بے ایام  ِ گل ۔"  ۔ پس  جونہی  "ادھر  کا اشارہ  " پایا تو آتش فشاں پھٹ  پڑا ۔بغاوت  کا درفشِ  کاویانی  لہراتے ہوئے جوگی نے ورکشاپ میں کام کرنے سے انکار کر دیا۔یہ محض  چھوٹا سا    انکار نہ تھا ۔صدیوں پر  محیط  فرمانبرداری کا  طلسم  توڑنے  کا  گناہ تھا۔  اور اس خاندان میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی بچے نے بڑوں کے سامنے آوازِ حق بلند کی اور ڈٹ گیا۔
"بڑائی" کے ایوانوں میں جیسے زلزلہ سا آ گیا ۔ اور متفقہ  فیصلہ ہو اکہ بغاوت کو کچل دیا جائے ، اور نشانِ عبرت بنا دیا جائے تاکہ اس خربوزے کی  دیکھا دیکھی  دوسرے  خربوزے  بھی رنگ نہ پکڑ  لیں اور  کسی اور کو جرات نہ ہو بڑوں کے سامنے بولنے کی۔سب نے جی بھر کےجوہرِ دست  و بازو  دکھایا ۔ مار مار کے ڈنڈے توڑ دئیے، مگر جو حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ کو پڑھ چکا تھا وہ بھلا کیسے پیچھے  ہٹنے  والاتھا ، احد احد کی صدا بلند ہوتی رہی ۔
 آخری حربے کے طور پر جوگی کو گھر سے نکل جانے کا حکم ہوا ، کہ باہر کے دھکے کھائے گا تو دو تین دن میں دماغ ٹھکانے آ جائے گا ۔
اہل ِ تدبیر  کی واماندگیاں 
آبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں
جوگی خوب  ہنسا۔۔۔۔۔۔۔۔


غالبؔ خستہ کے بغیر کام کونسے بند ہیں 


  اب  جبکہ دونوں طرف سے انا بیچ میں آ چکی تھی ،مسئلہ حل ہونے کا تو دور دور تک کوئی نشان نہ تھا ۔واں وہ غرور ِ عزو  ناز، یاں یہ حجابِ پاسِ وضع۔  سارا دن وحشت  خرامی  اور دشت نوردی   میں گزر تا ،  اور  شام کو  پاؤں پسار کے  سو جاتا ۔
جب میکدہ  چھٹا  تو  پھر اب کیا جگہ کی قید
مسجد ہو  ، مدرسہ  ہو،  کوئی خانقاہ ہو
تین دن تو فاقے  سے  گزر  ہی گئے ، چوتھے دن خدا یاد آ گیا اور عشا کی نماز کے وقت مسجد میں جا پہنچا ۔ وہاں مدرسے کے طالب علم پڑھتے تھے ، سوچا شاید کچھ مل ہی جائےگا۔مگر سوائے سوکھی روٹی کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کے کچھ ہاتھ نہ آیا ۔شکر ادا کیا اور وہی لے جا کر وضو کرنے والی ٹونٹیوں میں بیٹھ گیا ۔ چبانے کی کوشش کی مگر روٹی شاید تین چار دن سے زیادہ پرانی تھی ، چبائی نہ گئی ، اس لیے پانی میں بھگونے بیٹھ گیا  ۔امام صاحب کی نظر پڑی تو انہوں نے سمجھا شاید کوئی طالب علم ہے جو نماز پڑھنے کی بجائے ٹونٹیوں پر بیٹھا وقت ضائع کر رہا ہے ۔وہ غصے میں بھرے اپنی دانست میں اس کام چور طالب علم کو پکڑنے آئے  جو نما ز نہیں پڑھتا الٹا پانی ضائع کر رہا ہے۔ مگر جب ایک اجنبی بچے  کو روٹی کا سوکھا ٹکڑا چباتے دیکھا تو شاید ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا ۔ نہایت حیرانی سے پوچھا تم کون ہو بیٹا، اور رات کے نو بجے یہاں کیا کر رہے ہو؟ گھر کیوں نہیں جاتے ؟ کس کے بیٹے ہو ؟وغیرہ وغیرہ


ہے کچھ ایسی بات جو چپ ہوں ورنہ


جوگی نے تو کچھ نہ بتایا ، البتہ ایک طالب علم نے پہچان لیا کہ بیٹھا ہے جو کہ سایہ دیوارِ یار میں ،  فرمانروائے کشورِ ہندوستان  نہ  سہی  مگر  یہ بندہ کمینہ  جو  ابھی   مہمانِ  خدا  ہے  فلاں جگہ کا رہنے والا ہے اور فلاں کا بیٹا ہے ۔ امام صاحب کی حیرت دو چند ہو گئی ۔۔۔۔۔بیٹا گھر کیوں نہیں جاتے ۔۔۔۔یہاں بیٹھ کر سوکھی روٹی چبانے سے تو اچھا ہے کہ گھر چلے جاؤ ۔۔۔۔ ماں باپ سے معذرت  کر لو وغیرہ وغیرہ  ۔۔۔۔
 اور سمجھانے بجھانے کی بہت کوشش کی مگر جوگی نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ میں غلطی پر نہیں ہوں اس لیے معذرت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے  ، ہم اپنی وضع  کیوں چھوڑیں 
اور سوکھی روٹی کھانے کا مجھے شوق نہیں آج چوتھا دن ہے کچھ نہیں کھایا اس لیے مجبوراً یہی چبا رہا ہوں ۔ لیکن میں بھوکا مرتو جاؤں گا لیکن وہ غلطی اپنے سر نہیں لوں گا جو میں نے کی ہی نہیں ۔ امام صاحب تو سچ مچ یہ سن کر رو پڑے ، بولے بیٹا میں  آپ کے نانا جان کا مرید ہوں۔  اور اگر گھر نہیں جانا تو کم از کم میں  تمہیں تمہارے  ماموں کے گھر ہی پہنچا آتا ہوں  ، مگر جوگی نے صاف انکار کر دیا، کیونکہ :۔
 گزراوقات کر لیتا ہے کوہ و بیاباں میں 
 ذلت ہے شاہیں کیلئے کارِ آشیاں بندی    
 ناچار جوگی کے ماموں تک اطلاع پہنچائی گئی اور ان کے توسط سے  مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا ۔ والد صاحب کا موقف تھا کہ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم اس کی پڑھائی کا خرچہ نہیں  اٹھا سکتے۔ اصل مسئلہ تو بغاوت ہے ، اس نے بڑوں کے فیصلے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ ہمیں اکڑ کے دکھا رہا ہے ۔ اس عمر میں اس کا یہ حال ہے  تو آگے کیا کرے گا۔ آخرکار شرط یہ ٹھہری کہ جوگی معافی مانگ لے تو نہ صرف تعلقات معمول پر آ سکتے ہیں بلکہ جوگی کو منہاج القرآن  لاہور میں داخل بھی کروایا جا سکتا ہے ۔(وہاں کچھ چچا زاد اور خالہ زاد بھائی  زیر تعلیم تھے) مگر جوگی نےسفید  انکار کر دیا، جب میری غلطی ہی نہیں تو میں معافی کیوں مانگوں ۔
 کوئی بڑا چھوٹا نہیں ، اسلام مساوات کا سبق دیتا ہے ، اور جہاں والدین کے حقوق ہیں وہاں اولاد کے حقوق بھی ہیں ۔ جب تک کوئی اپنا فرض پورا نہیں کرے گا وہ مجھ سے کیسے میرا فرض نبھانے کی بات کر سکتا ہے۔آخرکار مذاکرات ناکام ہو گئے۔

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط چہارم) ۔

2 آرا


ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب


اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے کہ جوگی کو پڑھنے کا (غیر نصابی) چسکہ کب لگا البتہ اس روایت کے راوی جناب چھوٹا غالب  عفی  عنہ   صاحب  کا کہنا ہے کہ  جوگی نے پہلی  اور دوسری جماعت کے درمیانی وقفے میں ایک چھوٹی سی بچوں کی کہانی "بزدل شہزادی"پڑھی تھی۔  اور جوگی کے مطابق وہ پہلی کہانی اس کے دماغ کی ہارڈ ڈسک میں ابھی تک ویسے ہی محفوظ ہے ۔اس کے بعد جوگی کو الف لیلیٰ ہاتھ لگی ۔پھر توبقول غالبؒ  "گویا  دبستاں کھل گیا۔۔۔۔۔۔"
 اور پانچویں تک آتے آتے جوگی سپر مین، سپائیڈر مین ، ہر کولیس، ٹارزن، اور عمرو عیار کے قصوں کا حافظ ہو چکا تھا ۔مگراب یہ قصےبچگانہ لگنے لگےتھے ۔ اور تمنا اپنا دوسرا قدم رکھنے کو بے تاب تھی ۔ ایک دوست(خرم شہزاد) کے گھر جانا ہوا تو اس کے نانا جان کا کتب خانہ جوگی  کیلئے کوہ ِصدا ثابت ہوا ۔ ٹیپو سلطان ، نواب سراج الدولہ کے کارنامے پڑھے تو خواب میں سلطان ٹیپو کی طرح انگریزوں کی ایسی تیسی کرنے لگا۔ 

اس کو چھٹی نہ ملی ، جس کو سبق یاد ہوا


ہر چند کہ جوگی کی پانچویں جماعت میں پوزیشن آئی مگر جوگی کے والد صاحب اس وقت تک بڑے دو بیٹوں کے تعلیمی ریکارڈکو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ تعلیم سے میری اولاد کا کچھ بگڑنے والا نہیں ۔ بڑے دونوں صاحبزادے آٹھویں ، نویں سے آگے نہ بڑھ سکے ، ہزار کوششیں کی گئیں ، کئی ٹیوٹر بدلے گئے  حتیٰ کہ باخبر ذرائع کے مطابق امتحان میں پیپر بھی بدلوائے گئے ، مگر یہ حضرات  میٹرکولیشن کی زلف سر کرنے  میں ناکام رہے  ۔   بڑوں کی ناکامیاں  چھوٹے کی راہ کا کانٹا بن گئیں ۔ اور مانعِ  وحشت خرامی ہائے  لیلیٰ  ہو گئیں۔دانائی  اور  (نجانے کس)ہنر  میں یکتا ئی نے چھوٹے  غالب  سے آسمان  کو دشمنی  کا سبب  فراہم کر دیا۔ ان  سب  عوامل   کے  گٹھ جوڑ  کا     نتیجہ یہ ہوا کہ پوزیشن لینے کے باوجود جوگی کی تعلیم کو فل سٹاپ لگا کر کوئی ہنر سکھانے کا" دانشمندانہ" فیصلہ کیا گیا ۔شاہ صاحب کا خیال تھا کہ 5 سال بعد اس نے بھی میٹرک میں اٹک جانا ہے ، اس لیے بہتر ہے اسے ابھی سے کوئی ہنر سکھا دیا جائے ، ویسے بھی پڑھ لکھ کے کونسا نوکری ملنی ہے ۔ حکمِ  حاکم  مرگِ مفاجات ۔ جوگی بے چارا مرتا کیا نہ کرتا ، دل ہی دل میں کڑھ کر رہ گیا ۔ بقول  اکبر الہ  آبادی :۔
چور آئے ، گھر میں  تھا جو کچھ ، لے گئے
کر ہی کیا سکتا تھا  بندہ ، کھانس لینے کے سوا
اور دل میں" بڑوں" کے خلاف پہلی گرہ پڑ گئی ۔قارئین  کو سمجھنے  میں اب کوئی  مشکل  نہ   رہی ہو گی  کہ کریلا  حالات  کے نیم  پر  چڑھا  تو  دہرا کڑوا  ہو گیا ۔ وہ  گرہ ، وہ  نفرت  اب  مرتے  دم تک  ہر اس سورمے  کا  مقدر ہے جو" بڑے "ہونے  کے زعم  میں مبتلا ہو ۔  میں ہر اس  ابلہ  کا  دشمن  ہوں   جو خود کو" بڑا  "سمجھے ۔ عمر  صرف  بال سفید  کرتی ہے ۔ عقل  دینا  اللہ   کی مرضی ہے ۔  جسے چاہے دے ، جب چاہے دے ۔  پھر چاہے  وہ سید ہو یا چوڑا ۔  مسلمان  ہو یا  کسی  بھی مذہب کا پیرو۔
نہ  تو علم  کسی کے باپ  کی جاگیر  ہے ۔ نہ  عقل  کسی  مائی  کے لال  کی وراثت۔
میں  ایک  سیکنڈ  کے  انسان  سے لے کر  طویل العمرہر   انسان  کی عزت و احترام کا  قائل ہوں بشرطیکہ  وہ انسان  ہو۔استاد  بھی  کیا خوب  فرماتے ہیں :۔
آدمی  کو بھی میسر  نہیں انسان ہونا    


میں کہاں یہ وبال کہاں  



حسبِ معمول ایک  اور   یکطرفہ  فیصلے  میں  طے  کیا گیا  کہ جوگی  موٹر سائیکل مکینک بنے گا  ۔ اور اس فیصلے کو  عملی پاجامہ  پہنانے  کیلئے رفیق آٹوز پر شاگردی کیلئے پہنچا دیا گیا  مگر بھلا ہو رفیق میاں کا جنہوں نے بڑی سہولت سے پہلو بچا لیا کہ شاہ صاحب ، گناہگار نہ کریں  میں کیسے پیروں کے بچے کو اپنا شاگرد بنا سکتا ہوں ، ویسے بھی پہلے ہی میرے پاس درجن بھر شاگرد موجود ہیں ۔بے اختیار جوگی نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا ۔
مگر فلک ِ کج رو نے  ابھی ایک اور پھندا لگا رکھا تھا ۔ ایک واقف کار کو  پتا نہیں کیا سوجھی کہ  بڑے شاہ صاحب سے  کہا کہ آپ فکر نہ کریں ، آپ جوگی میاں کو موٹر(کار) مکینک بنائیں ، بڑا زبردست اور عزت والا کام ہے ، میرا ایک واقف ہے ہم اس کی ورکشاپ میں اسے شاگردی دلوا دیتے ہیں ، اتنا ہی نہیں بلکہ اس خدائی فوجدار   نے اسی وقت موٹر سائیکل پر بٹھایا اور بلال موٹر ورکشاپ پر پہنچا کے دم لیا ۔
کیسے کیسے  لوگ ہمارے جی کو جلانے آ جاتے ہیں
سارا  راستہ دعائیں مانگتا رہا  کہ رفیق آٹوز کی طرح  وہاں بھی مجھے  شاگرد بنانے سے صاف انکار کر دیا جائے  ۔ مگر شاید  وقت قبولیت کا نہیں تھا ۔ اور  قسمت  بھی کوئی کچی پنسل سے نہیں لکھی گئی تھی ۔یوں ایک اصیل عربی گھوڑا گدھا گاڑی میں جوت دیا گیا ۔ تین چار دن تو جوگی کو ماحول ہی اوپرا سا لگا ۔ہر طرف کالا تیل، موبل آئل کی بو، اور گاڑیوں کا ہجوم ۔مزید    کچھ دن  جوگی کو اوزاروں کے نام یاد کرنے میں صرف ہو گئے   ۔ استاد کہتا :۔ "چھوٹے دس کا گوٹی راڈ لے آؤ" اور چھوٹے صاحب دس انچ کا راڈ استاد کے ہاتھ میں تھما دیتے ۔اور  جواب ِ آں غزل کے طور پر فین بیلٹ یا راڈز سے پٹائی کروا بیٹھتے۔
یہ جنونِ عشق  کے انداز چھٹ جائیں گے کیا ؟؟؟ 
ایک بار جب ایک کار کےٹائر کھول کے اندر لگی بریک ڈسکس دھونے کو کہا گیا، تو جوگی نے بالٹی پانی کی لی اور بڑی دل جمعی سے چاروں وھیلوں کی بریک ڈسکس دھو کے رکھ دیں ۔  کشائش  کو  شاید  یہ  عقدہ مشکل پسند آیا  ہومگر   جوگی  میاں   مار کے حقدار ٹھہرے ، بعد میں پتا چلا کہ انہیں پٹرول یا بریک آئل سے دھونا تھا ۔
عرض کیجئے  جوہرِ اندیشہ  کی گرمی کہاں
آئل  فلٹر   کھولنے  لگے  تو فلٹر  ہاتھ میں اور  چوڑیاں وہیں کی وہیں ۔  گیس  ویلڈنگ  کے ذریعے بڑی مشکل سے کھولاگیا ۔ پلگ  کھولنے کا ارادہ  کیا   تو آدھا پلگ ہاتھ میں اور   آدھا انجن سے  باہر آنے سے  انکاری۔ ایک بار جو فارغ بیٹھا دیکھ کر استاد  ڈینٹر  نے کہا "شاہ  جی یہ  کار کے دروازے  تو کھول کے الگ کر دو، میں  اتنی دیر میں سلنڈر  میں کاربوریٹر ڈال لوں ۔  حضرت  نے دروازے تو کار سے الگ کر دئیے ۔ البتہ آدھے بولٹ  اندر ہی ہراساں ہو کر ٹوٹ گئے۔

اس مار کٹائی میں 2 سال گزر گئے۔۔۔۔ اچھا خاصا  مکینک بھی بن گیا۔۔۔۔  
مگر جوگی کا اس کام میں دل نہ لگا۔ 

Friday, 17 May 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط سوم) ۔

1 آرا

جب مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوارِ گلستان پر


جوگی کی ابتدائی تعلیم حسبِ روایت   گھر میں ہی ہوئی۔شعور  اور لاشعور میں دبی ماضی  کی داخل  دفتر فائلیں  کھنگالنے سے  انکشاف ہوتا  ہے کہ  اڑھائی  یا  زیادہ  سے زیادہ تین  سال  کا  جوگی   ایک روپے  کے لالچ  میں  سارا دن تختی  لکھا کرتا تھا ۔  ٹیوب  ویل  اپنا  تھا ،  اور  وہاں  ایک  بار لکھی تختی  ابا  جی کو دکھانے  کے بعد  دھو کر  سوکھنے کے بعد  لکھنے  کا  یہ عمل  بار بار جاری رہتا۔  یوں آم کے آم اور  گٹھلیوں  کے دام کے  مصداق  جوگی   املا  ،  صحتِ املا  اور خوشخطی  کے ساتھ  ساتھ  الفاظ کے  معانی کے سلسلے  میں کسی  فرہنگ  اور ڈکشنری  کی  محتاجی  سے  آزاد  ہوتا  چلا گیا ۔  اس وقت  تو  یہ جوئے شیر صلے  میں ملنے والے  ایک روپے  کے نوٹ کی خاطر بہائی جاتی  تھی ۔ مگر  اسی بہانے  لفظ و  معانی  سے  ایسا قریبی  رشتہ جڑ گیا کہ اب  لفظ میرے  رازدار  دوست اور میرے جاسوس ہو کر رہ گئے  ہیں۔  یہ میرا وہ  ہتھیار ہیں جن کی مدد  سے  میں ہر  ایک کی  شخصیت کے  اندر جھانکنے  اور "پردے کے پیچھے  کیا ہے" سے  واقف  ہوجانے  کی صلاحیت سے مسلح ہوں۔
مجھے  اچھی طرح یاد ہے  جب میرے  بڑے بھائیوں کو لفظ "آسٹریلیا"  کا تلفظ نہیں  آتا تھا ۔  تب مجھے  20  تک  کے روایتی پہاڑوں کے  علاوہ "سوا"  کا پہاڑہ ، "ڈیڑھ " کا پہاڑہ ، "پونے "  کا پہاڑہ بھی یاد تھے۔ جب کہ  6  کلمے ، اور  ایمانیات  وغیرہ  تو ہمارے  ہاں  بچے  جھولے  میں ہی یاد کر لیتے ہیں۔      
ہونہار پوت کے پاؤں پالنے میں  رویتِ ہلال کمیٹی کی مدد کے بغیرہی دیکھے جا چکے تھے۔ اور جوگی کا بھی ہر اٹھتا قدم "دشتِ امکاں" کو روند رہا تھا، سکول میں داخل کرایا گیاتواس کی خداداد ذہانت کے اعتراف کے طور پر ڈائریکٹ دوسری جماعت میں بٹھا دیا گیا۔لیکن ماسٹر صاحب پڑھانے سے زیادہ چمڑی ادھیڑنے کے شوقین تھے، اور بات بات پہ بچوں کو مرغا بنا کر ان کی "بانگِ درا" سننے کو مستحب جانتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جوگی کو سکول پھانسی گھاٹ اور ماسٹر ظفر اللہ صاحب تارا مسیح نظر آنے لگے۔ گھر سے بستہ لیے نکلتا مگر سکول جانے کی بجائے قدرت کے شاہکاروں کے مطالعے کیلئے۔ اور چھٹی کے وقت مسکین سی صورت بنائے گھرواپس۔
ایک بار یوں ہوا کہ جوگی صاحب جب کہ ریلوے لائن پر کائنات کے اسرار و رموز پر غور وفکر فرمانے میں مگن تھے کہ والد صاحب" مرگِ ناگہانی" کی طرح سر پر پہنچ گئے ، اور پھر جو مار پڑی اس کا تو ذکر ہی کیا مگر ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ سب کو سکول نہ جانے کی وجہ سمجھ آ گئی ، اور جوگی کو لڑکیوں کے سکول میں داخل کر دیا گیا ، تاکہ کم از کم سکول جانا تو سیکھ لے۔بس پھر کیا تھا ، ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات استانیوں کی نظروں سے چھپے نہ رہ سکے، اور جوگی کو ایک ہی مہینے کے اندر اندر تیسری جماعت کا ویزا مل گیا، نکمی نکمی لڑکیوں کے درمیان راجہ اندر بنے پھرتے تھے۔اور سب لڑکیاں باقاعدہ ٹافیا ں وغیرہ کھلا کر بھائی بناتیں اور ناز اٹھاتیں۔


لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوز


شہر میں پہلا کے جی سکول کھلا تو  جوگی کو ایک بار پھر سکول سے ہجرت کرنی پڑی۔ نیا سکول نیا ماحول ، چونکہ استانیاں پڑھاتی تھیں  اس لیے وہاں  دل لگ  تو  لگنا  ہی تھا۔ کہانی پھر نرسری سے شروع ہو گئی ، اور حسبِ سابق پریپ اور ون کلاس کو جوگی نے ایک ہی سال میں فتح کر ڈالا۔جب سکول کے بچوں کو ریڈیو پاکستان کی سیر کرائی گئی، تو بچوں کے ایک پروگرام میں جوگی نے بھی ایک تقریر کی ۔ اور انعام کے ساتھ ساتھ خوب داد بھی سمیٹی، سکول کے پرنسپل صاحب کی جوہر شناس نظروں نے جوگی کے اندر چھپے فنکار کو بھی ڈھونڈ نکالا ،ا ورسکول کی پہلی سالانہ تقریب  تقسیم انعامات میں جوگی صاحب کے جوہر کھل کر مزید سامنے آئے ، جب ایک ڈرامے میں پیر صاحب کا کردار اس خوبصورتی سے نبھایا کہ دیکھنے والے عش عش کر اٹھے، دوسری کلاس میں پہنچنے تک جوگی سکول کا سب سے زیادہ ہر دلعزیز طالب علم  بن چکا تھا۔ جوگی کی ایک دلچسپ عادت تھی، کچی پنسل کا سکہ چبانے کی، پنسل کو شارپ کرتا رہتا اور سکہ چباتا رہتا،  ایک دن سر ناصر صاحب نے ریاضی پڑھاتے وقت مثال دی کہ بچو،فرض کیا کہ  موٹا(جوگی)ایک دن میں 4 پنسلیں چبا جاتا ہے تو ایک ہفتے میں کتنی پنسلیں کھا جائے گا؟

کس سے محرومی قسمت کی شکایت کیجئے


وقت ایک دریا کی مانند ہے ، ہمیشہ ایک طرف نہیں بہتا ، پس وقت نے کروٹ لی ، اور اس کروٹ کے نیچے جوگی بھی آ گیا۔ پینڈو لوگ اس زمانے میں کورٹ کچہری کے بڑے شوقین ہوا کرتے تھے، اور اسی ہنگامہ پہ گھر کی رونق موقوف سمجھتے تھے۔  زمین اور جائیداد کی مقدمے بازی ، مار کٹائی تک جا پہنچی، جوگی کے بھائی نے کسی کی ہڈی پسلی ایک کی تو جوابِ آں غزل کے طور پر کچھ دن بعد اس پر گولی چلا دی گئی، زیادہ نقصان تو خیر نہیں ہوا،
والد صاحب نے مقدموں کی پیروی احسن طریقے سے کرنے کیلئے ، آبائی گاؤں چھوڑا اور شہر میں گھر خرید لیا ، اس افراتفری میں کسی اور کا تو کچھ نہیں بگڑا مگر جوگی سے ایک بار پھرنہ صرف اس کا سکول چھوٹا بلکہ تعلیمی سلسلہ بھی پھر کھڈے لائن لگ گیا۔وہاں قریبی سرکاری سکول میں داخلے کا فیصلہ کیا گیا، مگر چونکہ سال ختم ہونے کے قریب تھا اس لیے امتحانات کے بعد داخلے کا لارا دتہ  گیا، اور یوں فرصت کا  یہ عرصہ" تصورِ جاناں کیے ہوئے " گزرا
آخر کار جوگی کو تیسری جماعت میں داخلہ مل گیا،  روایتی سرکاری سکول کے روایتی استاد صاحبان اور وکھری ٹائپ دا جوگی ۔پڑھائی وغیرہ کا تو رواج ہی نہ تھا۔ اس سکول میں چار دیواری نام کی کوئی چیز نہ تھی، سکول کے میدان میں شیشم اور سرس کے درخت کمرہ جماعت کہلاتے تھے، پانی پینے کیلئے سڑک پار کر کے مسجد کی ٹونٹیوں سے آبِ حیات کشید کرنا پڑتا تھا، سکول کے میدان کے ساتھ والے میدان میں فقیروں کی بھی جھونپڑیاں   کافی تعداد میں  تھیں ، ان کے گدھے اور خچر بھی بلا تکلف خود کولڑکوں کا ہم جماعت سمجھتے تھے، استاد ہر کتاب کا ایک صفحہ کاپی پر لکھ کر آنے کا حکم جاری کرتے اور لمبی تان کر سو جاتے، اگلے دن ہوم ورک چیک کرنے کے نام پر کاپیوں پر لکیریں گھسیٹ دیتے، امتحانات کے بعد جب نتیجہ کا اعلان ہوا تو انکشاف ہوا کہ جوگی اول آیا ہے ۔ ایسےہی وقت دلکی چال چلتا  چلتاگزرتا گیا۔

ڈبویا مجھ کوہونے نے (قسط دوم) ۔

3 آرا

ایں خانہ ہمہ آفتاب است


ابھی  تک آپ  نے  صرف ہمارے  خاندان  کے ذکور  کی ہی چند منتخب  مثالیں پڑھیں ۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس "الجلال و الکمال"  کا تاج صرف  ذکور  کر سر ہے ۔ ضروری ہے  کہ چند مثالیں  طبقہ  نسا ء سے  بھی  ذکر   کی جائیں ۔تاکہ  یہ واضح  ہو جائے ایں خانہ ہمہ  آفتاب است۔
بہت ہی مشہور جملہ ہے کہ ہر کامیاب مرد  کے پیچھے عورت  کا ہاتھ ہوتا ہے ۔  بالکل  سچ ہے ۔ حضرت آدم علیہ  السلام سے   لے کر  آج  تک  یہ صورت چلی آتی ہے کہ مرد کی  صرف کامیابی ہی نہیں اس کی ناکامی کے پیچھے بھی کوئی زنانہ  ہاتھ ہوتا ہے۔میں نے اپنے خاندان کے پیر فقیر  ، مجذوب تو ذکر کر  دئیے  ۔ اور قارئین نے پڑھے  لیکن ان عظیم ماؤں کو  خراجِ تحسین  پیش  نہ کرنا صریح زیادتی  ہے ۔ جن کے "مکتبِ گود"  ان حق پرستوں کی تعلیم و تربیت ہوئی ۔  
سب سے پہلا  خراجِ تحسین پیش  کیا جاتا ہے  ان  عظیم والدہ ماجدہ  ام المومنین حضرت  سیدہ   خدیجہ  الکبریٰ  رضی اللہ  تعالیٰ  عنہا کی جناب میں کہ  جن کی  مبارک  گود  میں سیدہ  خاتونِ جنت رضی اللہ تعالیٰ  عنہا  کی  تعلیم و تربیت ہوئی ۔  پھر  یہ  الجلال والکمال  کا سلسلہ  آگے  بڑھا ۔  اور  اس  مکتب  سے  دو  سردارانِ  جوانانِ جنت   فارغ التحصیل  ہوئے ۔یہ یقیناً  عظیم  والدہ ماجدہ  کی  ہی تربیت  و تعلیم  تھی کہ  ایک  مسلمانوں  میں خانہ جنگی  کے خاتمہ اور دو گروہوں  کے  درمیان  صلح   کا  باعث  بنا۔ اور  ایک  نے اہل  و عیال  و جانثار  کٹوا  دئیے  ،  اور خود  نیزے پہ  قرآن سنایا ۔ اپنے  عظیم  نانا  جان کا دین بچایا۔
اسلام  زندہ ہوتا ہے  ہر  کربلا کے  بعد 
یہ سلسلہ جاری ہے ۔   دنیا صرف ایک  رابعہ بصری  سے واقف  ہے ۔  جبکہ ہمارے  خاندان میں  آدھی  قلندروں  کی  لائن لگی  ہے ۔   طوالت سے بچنے کیلئے  میں حسبِ  سابق زیادہ  دور نہ جاتے ہوئے  اپنے زمانے  سے  قریبی  چند مثالوں  پر اکتفا کروں گا۔لیکن اس  سے پہلے  آپ  ایک بات  ذہن نشین  کر لیں ۔
ایک آدمی کو مرشد کامل  کی تلاش تھی ۔  اس نے ایک بزرگ کے  بارے میں  سنا  کہ  وہ بہت  باکمال  اور پہنچے ہوئے ہیں۔ وہ  دور دراز کا سفر کر کےان کی  خدمت میں حاضر ہوا ۔  کچھ دن ان  کے ساتھ رہا ۔  ایک دن واپسی کا قصد  کر کے  اجازت  لینے کو آیا  تو  کہنے لگا حضرت  میں  دور دراز  سےآپ کے کمال  کا شہرہ  سن کے  یہاں آیا تھا ۔ مگر  اتنا عرصہ آپ کے ساتھ رہنے کے باوجود   میں نے  آپ کی  کوئی کرامت  نہیں دیکھی ۔  مجھے بہت  مایوسی ہوئی ۔ بزرگ نے مسکرا کے  فرمایا  میاں  جتنا  عرصہ  میرے ساتھ رہے  ہو  کیا اس  دوران  تم نے  میرا کوئی  عمل  خلاف  ِ شرع  دیکھا ۔  نفی  میں سر ہلا کے بولا :۔ جی نہیں میں نے آپ کا کوئی  عمل خلافِ شریعت نہیں پایا ۔  بزرگ  نے فرمایا :۔  تو پھر  تم اور کونسی  کرامت  کے متلاشی  ہو۔۔۔؟؟
ہماری اماں  جان سے  روایت کہ ان  کی  پھوپھی  جان(یعنی  میرے  دادا  جان اور نانا  جان کی بہن صاحبہ ) پیدائشی  مجذوب تھیں۔  ایک  بار  ان کی  والدہ  نے بیٹی  کے تزکیہ نفس کا ہولناک  نظارہ  دیکھ لیا ۔  کمرے  میں  ان  کےٹکڑے بکھرے  پڑے تھے ۔  ماں  تھیں چیخ پر قابو نہ پا سکیں ۔ اور ٹکڑے  جڑ کر  دوبارہ  ثابت  و سالم ہو گئے ۔  بیٹی نے حیرانی  سے ماں  سے پوچھا کیا  ہوا؟ ۔ اوراس  کے  بعد  یہ  راز کھل گیا کہ  ان مجذوبہ  عالیہ  کا یہ  معمول تھا  کہ  عالم تنہائی میں  ٹکڑے  ٹکڑے  ہو جاتی تھیں ۔ 
ہماری  دادی جان  اپنے  والدین کی اکلوتی  اولاد  تھیں۔  ان کے  والد  صاحب حضرت  شاہ خدا بخش  شاہ ؒ صاحب  کے بچپن  کا انگاروں  والا  واقعہ آپ   پہلی  قسط میں پڑھ چکے ہیں۔  ایک مجذوب  کی اکلوتی  بیٹی  میں  ظاہر  ہے  وہ  سب خصوصیات  بدرجہ اتم  موجود تھیں ۔  (ارتقا کا  نظریہ  اپنے ذہن میں حاضر رکھیے)

میری نانی  جان  بھی  اپنے  والدین  اکلوتی صاحبزادی  تھیں ۔انہی  سے  ہمارا ایک بار پھر اُچ شریف  سے  رشتہ  جڑا۔ ماشاءاللہ  کمال کا حافظہ پایا  تھا ۔  دیوانِ فرید   اور عارفانہ  کلام  کی حافظہ تھیں ۔  ایک عالمِ دین کی بیٹی اور  ایک عالمِ دین  کی زوجہ محترمہ ہونا سونے پہ  سہاگہ ۔  علمِ  حدیث و علمِ فقہ  میں  بڑے بڑے  ان کے سامنے  پانی بھرتے  تھے۔ ہمارے  خاندان میں تقریباً سب سے زیادہ سے  طویل  العمری  کا اعزاز  بھی  انہی  کے حصے میں ہے ۔ ۔ اوروہ   مرعوبیت شاید  تا عمر  نہ جائے ۔حالانکہ  جلال  تو  ہمارے  خاندان  کا  خاصہ  ہے  مگر  وہ   بے حد  جلالی مزاج  کے  ساتھ  ساتھ بے حد  شفیق  تھیں ۔ میں  اس  بات پہ  ہمیشہ حیران ہی رہا  کہ  انہیں اپنے  پوتے پوتیوں  نواسے  نواسیوں  کی  فوج ظفر  موج میں سے ہر ایک  کا  مزاج  اور  اس  کی دلچسپیاں  ہماری ماؤں سے زیادہ  معلوم  تھا ۔ شاید ان  کی اولاد  کے حصے  میں  صرف جلال  اور  اولاد  کی اولاد  یعنی  ہمارے حصے  میں  شفقت آئی ۔  ہر ایک  کو یہی  لگتا  ہے  میں ہی  ان کا  /کی سب  سے  زیادہ میں ہی ان کا  لاڈلا /لاڈلا ہوں ۔ آخر  دن تک  ان کے حواسِ ظاہری  و باطنی میں سوائے بصارت کی کمزوری  کے اور کوئی  فرق نہیں آیا ۔ میں نے انہیں ہمیشہ  اپنے کام  خود کرتے دیکھا ۔  انہیں شاید  چار بیٹوں اور  چار بیٹیوں میں  سے کسی پر بوجھ بننا  گوارہ نہ تھا ۔  اور  یوں ان کا  گھر جیسے ہمارے سارے خاندان کی چوپال  تھی ۔ وہ نہ صرف ہمارے خاندان  کی  وحدت اور  یکجائی  کی علامت اور سبب تھیں بلکہ  اُم البلد  تھیں۔  سارے شہر  کی اماں جان  تھیں۔ان کی وفات  پر  جیسے  سارا  شہر  اور  نواحی  مواضعات اور  گاؤں  سوگوار  تھے۔  دھنوٹ کی تاریخ  میں اس  سے پہلے  شاید  اتنا  ہجوم  کسی  جنازے میں  نہ دیکھنے  کو آیا   نہ اب  ہوگا۔ان  کے  بعد  ہمارے  خاندان  کا  وہ  رنگ   نہ رہا ۔ اور  ہماری  وحدت پارہ  پارہ  ہو گئی ۔میں ہمیشہ  ان سے متاثر رہا  اوروہ   مرعوبیت شاید  تا عمر  نہ جائے کیونکہ  اسی گود  میں میری  اماں نے پرورش  پائی  تھی۔

اب  تذکرہ  ہوجائے  میری آئیڈیل  خاتونِ  معظم کا ۔ میری  پیاری اماں  جان کا۔اور  میں انگشت بدنداں ہوں کہ الفاظ کہاں سے ڈھونڈ لاؤں  جو  میری آئیڈیل خاتون  کا  بیان کرنے  قابل ہو ں ۔اگر دیکھا جائے تو میں کہہ سکتا ہوں کہ  میں  حضرت آدم علیہ السلام کی نسبت خوش قسمت ہوں  کیونکہ ان کی کوئی ماں نہیں تھیں ۔ جبکہ  مجھے  یہ نعمت ِ خداوندی  میسر آئی ۔ اس بات پر  نہ صرف مجھ پہ  بلکہ ہرقاری  پر  اللہ تعالیٰ  کا شکر  واجب ہے ۔ 
میں بڑا ہی سخت سٹینڈرڈ رکھتا ہوں  ایویں کسی سے متاثر نہیں ہو جاتا ۔ مگر میری اماں میری آئیڈیل خاتون ہیں 
میں حضرت رابعہ بصریؒ کو آدھی قلندر بھی مانتا ہوں ، مجھے ان کے اعلی مرتبے میں بھی کوئی شک نہیں ، نہ ان کی ولایت پر کوئی شبہ۔ مگر میں کبھی ان سے بھی اتنا متاثر نہیں ہوا ، جتنا میں اپنی اماں سے متاثر ہوں۔
ہمارے وسیب میں ایک محاورہ بولا جاتا ہے "بسم اللہ دا ویلا"
جب کسی کی سادگی اور معصومیت اور اس کی دلی کشادگی کا ذکر کرنا ہو تو کہتے ہیں کہ "فلانڑا تا، بسم اللہ دے ویلے دا اے"( فلاں بسم اللہ کے وقت کا ہے)۔ اور یہ صرف میں نہیں ہمارا پورا خاندان اور تمام وسیب کی عورتیں کہتی ہیں ، کہ ۔۔۔۔ بی بی بسم اللہ دے ویلے دی اے۔
میری اماں بالکل ان پڑھ ہیں ۔ مگر مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی شرم نہیں کہ میں نے غالب ؔکے مشکل سے مشکل ترین اشعار کا مطلب اپنی اماں سے سمجھا۔ میری اماں شاعرہ بھی ہیں ، کوئی باقاعدہ بیاض دیوان والی شاعرہ نہیں ۔ فی البدیہہ کہنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں ، اور اشعار گننے کا ہوش کس کو رہتا ہےسنتے وقت بھلا ۔ سرائیکی میں بے حد اعلی شعر اور بڑے راز کی باتیں مجھے اپنی اماں کی شاعری میں مل جاتے ہیں ۔ایک بار اماں نے مجھے نوٹ کرتے دیکھا، تو روک دیا، اب میں انہیں چھیڑ کے موبائل  ریکارڈرآن کر لیتا ہوں۔
نمونہ کلام ملاحظہ ہو :۔
گھڑے بھرن چوڑے والیاں 
رنگو رنگ گھڑیاں دا ڈھیر
نا کر مان سہاگ دا
نہ  پئی بانہہ دگھیر
چوڑے والی ہک ادھ 
باہوں بٹیاں ڈھیر
اتھ تاں تئیں پا نہ کتیا
اگھاں پچھیسن سیر

اکثر میں ہنستا ہوں ، کہ اماں آپ نے ہم بھائیوں کے نام اتنے زبردست کیسے رکھ لیے؟ حالانکہ ہمارے علاقے کے رواج کے مطابق ہمارے نام اللہ بخش، خیر دین، غلام رسول ، اسلم ، اکرم ، نذیر وغیرہ ہونے چاہیے تھے ۔مگر آپ نے چن چن کر "حسنین" (میرے بڑے بھائی) جنید (مجھ سے بڑا بھائی) اور اویس  رکھے ۔ کسی اور کے گھر پیدا ہوا ہوتا تو میرا نام بھی  اللہ وسایا ہوتا۔
میں نے قرآن مجید گھر میں ہی پڑھنا سیکھا تھا ،حافظ بھی نہیں ہوں ،  مگر اللہ کا شکر ہے تراویح میں حافظ صاحب کو لقمے دے لیتا ہوں۔ اور یہ سب میری اماں کا کمال ہے۔صرف قرآن مجید  ہی کا کیا ذکر ، اکثر معاملوں میں میری استانی محترمہ  میری پیاری اماں  ہیں۔ لوگ  مدتوں  کی  ریاضتوں  اور  گہرے  مطالعے  و  اساتذہ  کے  سامنے  گھٹنے  ٹیک  کر  جو  دقیق مسائل  سیکھ  کر جامے سے باہر ہو جاتے  ہیں۔ بلامبالغہ  یہ باتیں ہماری مائیں  ہمیں  گود میں ہی  سمجھا  اور گھٹی میں  گھول  کے پلا دیتی ہیں ۔حضرت سلطان  باہورحمۃ اللہ  علیہ  فرماتے  ہیں کہ اگر  عورت  کی  بیعت جائز ہوتی  تو  میں اپنی  والدہ محترمہ  کے دستِ حق پر بیعت کرتا ۔  اور یہی  قول  فدوی  چھوٹے  غالب  کا  بھی  ہے۔

اس  سلسلے  کی  اگلی  کڑی  ہے  ۔ مومنہ  زینب۔
یہ کہنا بہت  مشکل ہے  کہ  میرا مومنہ  سے  کیا رشتہ  ہے ۔  مومنہ  میری  شاگرد  بھی  ہے  اور  میری  استاد  بھی ۔  کہنے کو میری بھانجی  ہے  مگر  میری  بہن ہے۔میری  سب  سے  بہترین دوست  ہے بلکہ  میری  موم جاناں  ہے ، میری  پیاری  بیٹی  ہے ۔  سنا ہے  بچپن  میں ، چھوٹا  غالب  بہت  ذہین تھا ، مگر مومنہ  نے تو ذہانت  کے  تمام ریکارڈ ایک ہی جنبش  سے  توڑ دئیے ۔  اس قدر  ذہانت  کہ  کبھی کبھی  میری  اماں  جان  گھبرا  جاتی  ہیں کہ یہ  بچی  زندہ  بھی  رہے گی یا  نہیں۔ اللہ  تعالیٰ اسے  خوشیوں  اور  سکھ بھری زندگی دے ۔محترمہ  ابھی  تیسری  کلاس  میں  اور  علم  ِ فلکیات  میں  دلچسپی رکھتی ہیں۔مجھے  اس بات کا اعتراف کرنے  میں  کوئی  باک نہیں کہ میں نے  کہانیاں لکھنے کا ہنر  مومنہ سے سیکھا ۔   محترمہ  4 سال  کی عمر  سے  باقاعدہ  کہانیاں گھڑ گھڑ  کر  سناتی آ رہی  ہیں۔ چشم ِ بد دور۔۔۔۔۔
  کمپیوٹر  میں  میری شاگرد  ہیں اور بعض  خاندانی اختلافات  کے باعث میرا مومنہ کے ذریعے ارفع کریم کا ریکارڈ  توڑنے کا خواب  شرمندہ تعبیر  نہ ہو پایا ۔  خیر  ابھی  تو  محض سات سال کی ہے ، اور  ستاروں  سے آگے  جہان  اور بھی ہیں۔


وجود ِ زن سے  ہے۔۔۔۔۔


اب تک  تو  چند  گہر بار  ہستیوں  کا  تذکرہ ہوا  ، لیکن  اس کا یہ مطلب  نہیں کہ ہمارے خاندان  میں بس یہی چند   گنج ہائے  گرانمایہ  ہیں۔  جس خاندان  کے   لڑکے  بھی  کسی  زمانے میں بمشکل مڈل  اور  پھر  میٹرک  تک دنیاوی تعلیم  حاصل  کرتے تھے ۔ لڑکیوں  کی تعلیم کا تو ذکر ہی  کیا ۔۔۔۔ الحمد اللہ  اب اسی  خاندان  میں ایم اے  اردو ، ایم اے انگلش ،   چھوڑ  ایم فل،  پی ایچ  ڈی   کی  تعلیم  تک  لڑکیوں  کی رسائی  ہے ۔  اس  روایت  شکنی  کے  پیچھے  ہم جیسے  چند  روایت شکن سر پھرے نوجوانوں کا  نام آتا  ہے ۔
پچھلی  قسط میں جلال کے تذکرے اور  خالص دیہاتی  ماحول   کی روایات  سے شاید  کسی  کے دل میں  ہمارے خاندان میں  عورت  کے مقام پر  کوئی  شک شبہ  اٹھے تو  یہاں  ضروری ہے  کہ  اس  بات کی وضاحت  کر دی جائے  کہ ہماری مائیں ہمیں پہلا سبق  خواتین کی عزت اور احترام کا دیتی ہیں ۔  جس  کی وجہ سے ہمارے خاندان  کے بڑے  سے بڑے جلالی اور سر پھرے بھی خواتین کی  غیر مشروط  عزت  اور  احترام کے قائل  ہیں۔  ویسے  بھی ہمارے  خاندان پر  تقریباً  خواتین راج  ہی رہا  ہے ۔  گھر  کے  معاملات  میں خواتین  کو کلی  اختیار  حاصل  ہے ۔  
اس کے  چند  مثبت  نتائج  کے ساتھ ساتھ منفی  نتائج بھی ظہور میں آئے  ہیں۔ خاندانی  اختلافات  ، دوریاں  اور تقسیم در تقسیم  بھی خواتین  کی عنان گیری  کے  نتیجے  ہیں۔اس قسم کے زیادہ  تر   کیس بیرون  خاندان  سے آنے والی  خواتین کے  کرشمے  ہیں۔ لیکن  کچھ ایسی عفت مآب  خواتین  بھی ہیں جو کہ  بیرون ِ خاندان سے آئیں اور ہمارے لیے  رشکِ خاندان  بن گئیں ۔  ان سب عفیفات  کو  میرا  سلام 
       

Sunday, 5 May 2013

بڑے میاں تو بڑے میاں ۔ چھوٹے میاں سبحان اللہ

10 آرا

آپ نے زندگی میں اچھے ، برے تقریباًہر قسم کے لوگ دیکھے ہونگے،کچھ کے بارے میں آپ کا خیال ہوگا کہ "خوبیوں  کا مجموعہ ہے وہ"  اور کچھ میں خامیاں ہی خامیاں ، کچھ اعتدال پسند بھی دیکھے ہونگے، آدھے تیتر آدھے بٹیر (میر امطلب ہے ففٹی ففٹی)۔ مگر میں ملواتا ہوں آپ کو مجموعہ تضادات سے ۔۔۔۔

آپ چاہے ستاروں پہ یقین رکھتے ہوں  یا نہیں ،  ان کا طالع  ستارہ زحل ۔۔نحس۔۔۔ اور پیدائش کا دن ہفتہ۔۔۔  نحسِ اکبر۔۔۔۔
روایت ہے کہ جس دن آپ پیدا ہوئے اس دن شہر میں  چار دنبوں کو ہیضہ ہوا  پندرہ بھینسیں السر میں مبتلا ہوئیں ، جبکہ 35 پلے شرم سے مر گئے پھر بھی  لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے یہ سعد ہیں۔ کسی  نے  کوئی پھل دار درخت  کا پودا لگوانا ہویا نومولود کا نام رکھنا ہو۔  انہیں زحمت دی جاتی ہے ۔  اللہ  جانے بھئی کیا  راز  ہے۔ خدا  گواہ ہے  مجھے  ان کے عقلمند ہونے  میں کوئی شک شبہ نہیں۔ مگر  بعض  لوگ نجانے  کیوں  ان کی عقل  سے  پہلے  "بے"  کا  اضافہ  کرنے پر  بھی مصر رہتے ہیں۔   
حیوان ِ ظریف سے تو آپ واقف ہی ہیں ان کی کچھ عادات تو فطری طور پر ان میں تھیں اور کچھ شعوری کوشش کے نتیجے میں اپنے اندر پیدا کر لی ہیں۔یار لوگوں نے چھوٹا غالب ؔ کہہ کہہ کے یہی نام مشہور کر دیا ہے ، اب ان کا اصل نام بہت کم لوگ جانتے ہیں ۔لوگوں کی تو بات ہی کیا ۔ بھولے  بھٹکے کوئی  اگر اویس  کہہ  کر پکارے  تو غائب دماغ پروفیسر کی طرح خود  بھی چونک پڑتے ہیں  "ہائیں ں ں ں یہ اویس کون ہے ۔؟؟"  
 صرف نام ہی کیا اکثر رشتہ دار تو ان کو شکل سے بھی نہیں جانتے ۔ ان کا کہنا ہے کہ پیدا ہوا تھا تب تو دیکھا تھا ، اس کے بعد ہمیشہ یہی سنا ہے کہ پڑھ رہا ہے ، پڑھ رہا ہے ، کبھی بھیرہ  شریف ، کبھی قادربخش شریف ، کبھی بہاولپور تو کبھی  لاہور۔
 البتہ جن بزرگوں کا واسطہ آپ سے اکثر پڑتا رہتا ہے وہ آپ کو قیامت کی نشانی قرار دینے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے ۔
  بزرگوں کی اس وجہ عناد کی تلاش میں جب ہاتھ پیر مارے گئے تو انکشاف ہوا کہ آپ سفاکی کی حد مساوات کے علمبردار اور قلمبردار ہیں۔ 
شیخ سعدیؒ کے اس مصرعے پر دل و جان سے فدا ہیں  :۔ بزرگی بہ عقل است نہ بسال (بزرگی عقل سے ہے عمر سے نہیں )۔ اس ضمن میں  آپ کو شرم دلانے کی بے شمار ناکام کوششوں کے جواب میں   آپ نے ڈھٹائی سے فرمایا :۔اگر  کوئی  مجھ سے  دس بیس  تیس یاچالیس سال پہلے پیدا ہو گیا تو یہ اس کا کوئی ذاتی کمال  نہیں ، یہ تو قدرت کی ستم ظریفی ہے ۔ہاں اگر کوئی مجھے اپنے وہ کار ہائے نمایاں بتائے جو اس نے مجھ سے پہلے پیدا ہوکر کیے تو پھر بات ہے ، ورنہ کوئی اپنے سفید بالوں کے بل پر مجھ سے عزت نہیں کروا سکتا جبکہ اس کا نامہ اعمال مجھ سے کئی سال زیادہ گناہوں بھرا ہو۔
لیکن حیرت انگیز بات  یہ ہے کہ اس سفاکانہ رویے کے باوجود ان کے سب سے بہترین تعلقات بزرگ پارٹی سے ہی ہیں ۔
بالکل نہیں۔۔۔۔  بدلحاظ نہیں کہا  جا سکتا  انہیں۔۔۔۔  کیونکہ خود  سے  چھوٹی عمر کے  ہر انسان کو  قابلِ عزت  گردانتے  ہیں۔ پتا  نہیں یہ کونسی  سائنس ہے؟؟
آپ کا کہنا ہے کہ مجھے بچے پسند نہیں ، مگر اس حقیقت  کو جھٹلانا بھی  ممکن نہیں  کہ یہ بچہ لوگوں کے موسٹ فیوریٹ  ماموں ، موسٹ فیوریٹ چاچو(چاچو تو شاذ و  نادر  بلکہ  ان سے ناواقف  لوگ کہتے  ہیں۔  جبکہ  گھر کے بھیدی  یعنی  سگے  بھتیجے بھتیجیاں  بھی    ماموں   کہتے  ہیں ۔) اور بیسٹ فرینڈ ہیں  ۔ خواتین میں ان کی مقبولیت کا گراف ہمیشہ بلند ہی رہتا ہے ۔ بڑی بوڑھیوں کے  چہیتےتو ہیں ہی   ،مگر درمیانی طبقے میں بے حد مقبول ہیں۔البتہ ہم عمر بی بی لوگوں سے ہمیشہ کنی کترا ئے رہتے ہیں ۔اس معاملے میں ناجائز حد تک شریف ہیں اور ان سے زیادہ شریف ہیں جو ان سے کم شریف ہیں ۔ فون پر زنانہ آواز سنتے ہی فورا باجی کہہ دیتے ہیں ۔ ایک مرتبہ تو حد ہی کر دی ، موبائل میں کارڈ فیڈ کرنے کیلئے نمبر ملایا تو اس محترمہ کو بھی باجی کہہ دیا جس نے کہا "یو فون میں خوش آمدید "۔
ایک  دو  کیس  ایسے  سامنے  آئے  کہ  بڑوں  کے بھی ہاتھ  کھڑے ہو گئے ۔  معاملہ  اس  حد تک  لا ینحل  ہو ا کہ  بات  علیحدگی   تک جا پہنچی  تھی ۔  اللہ  بھلا کرے  اس خدائی  خدمت گار  کا  کہ فریقین کو  نجانے  کیا پٹی  پڑھائی  کہ  بیگم صاحبان  شوہر مرید ہو گئیں اور فریق  ِ ثانی  نے فخر  سے  زن مریدی  کا  تاج سر پہ  سجا لیا ۔مگر  اس میں  تضاد کیا  ہوا؟؟  یہ تو اچھی خاصی  نیکی  ہو گئی ۔  جی بالکل۔۔۔۔    مگر  اس حقیقت  کو کیسے  جھٹلایا  جائے  کہ  دو طلاقوں  کے پیچھے  بھی  انہی  کا ہاتھ  تھا ۔اور  کمال یہ  کہ  اس  کے  باوجود  فریقین بلکہ   دیگر متاثرین  کی  بھی دعائیں   پائیں ۔  اب  بتائیں  کیا  یہ کھلا تضاد  نہیں۔۔۔؟؟؟؟  
آپ کا خیال ہوگا اس قدر سویٹ بلکہ سویٹیسٹ (نہ صرف خود بلکہ) مٹھار مٹھار باتیں کرنے والا اگر خود حلوائی نہیں تو کم از کم صبح صبح ناشتے میں ہاتھیوں کی طرح ڈیڑھ دو من گنے ضرور چبا تا ہوگا۔ مگر آپ کا جواب اور خیال دونوں غلط  قرار دئیے جاتے ہیں ۔اور کوئی گاجریں کھانے کا تکا لگانے کی بھی کوشش نہ کرے ، کیونکہ گاجریں ہی کیا ، یہ "گ" والی کسی بھی چیز کو منہ لگانا کسرِ شان سمجھتے ہیں ۔ جی ہاں ۔۔۔۔۔!!!"گ" گاجر، "گ" گوبھی، "گ"گونگلواور "گ" گوشت"کو اپنے لیے شجرِ ممنوعہ سمجھنے والے کامن بھاتا کھاجا کریلے اور میتھی ہے۔شاید آپ کو یہ بات گپ محسوس ہو مگر حقیقت یہی ہے ۔ خیر پکے ہوئے کریلے اور میتھی شوق سے کھانے والے تو آپ نے اکثر دیکھے ہی ہونگے ، مگر مزہ تو تب ہے جب آپ ان کو کچے کریلے چباتے اور میتھی چرتے دیکھیں ۔
کریلے اور میتھی ہی نہیں  ، کدو ہوں بینگن یا  بھنڈیاں،  اماں کا ہاتھ بٹانے کے بہانے آدھ سیر سے زیادہ سبزی  ان کے پیٹ کو پیاری ہوجاتی ہے۔
جس پر اماں خدا کا شکر بجا لاتی ہیں کہ شکر ہے یہ گوشت نہیں کھاتا ورنہ ۔۔۔۔۔۔
گوشت تو یہ خود نہیں کھاتے مگر چائے اماں نہیں پینے دیتیں ، اگر کبھی کبھار (گھر سے باہر) چائے کا کپ ان کے ہاتھ میں ہو تو یقیناً اس چائے اور شربت روح افزا میں صرف رنگ کا ہی فرق ہوگا۔ آزمائش شرط ہے۔

آئیے تھوڑا اور حیران کروں آپ کو۔۔۔۔۔۔
گرما گرم جلیبیوں پر جان چھڑکنے والے کو رس گلے دیکھ کر ابکائیاں آنے لگتی ہیں ۔
گوشت خود تو کھاتے نہیں مگر کسی کو کھاتا دیکھ لیں تو قے روکنا مشکل ہو جاتا ہے ۔
سونف  چبانے والے ۔۔۔۔  الائچی چبانے والے۔۔۔۔  حتیٰ  کہ  پان  کی جگالی  کرنے والے  آپ  نے بہت دیکھے ہوں گے ۔ ذرا  ملاحظہ  فرمائیے  ان کی جیبوں  میں  فلفلِ سیاہ (کالی مرچ)نہ صرف پائی  جاتی ہے ۔ بلکہ چبائی بھی جاتی ہے۔ چار  پانچ  ہری  مرچیں  بھی برآمد  ہو جائیں تو کچھ بعید  نہیں۔  
ہاہاہاہاہاہاہا  یہ کوئی گپ نہیں۔۔۔۔
خیر  شاید  آپ کہیں کہ  دو چار  ہری مرچیں چبا لینا تو کوئی ایسی  بڑی بات نہیں جس پر حیران ہونے کی زحمت کی  جائے ۔  ایک  بار کسی  نے ان کے منہ پر  یہی کہہ دیا  بس پھر کیا تھا ۔۔۔۔  حضرت نے للکارا  ۔۔۔۔ لے آؤ بھئی  ہائی برِڈ مرچیں  بھی لے آؤ۔  وہ  مذاق  سمجھ کے پورا ایک پودا ہائی  برِڈ مرچ  کا  اکھاڑ  لایا  ۔ اور  یہ  بلا سارا  پودا چُگ  گئی۔  جی نہیں آنکھیں بند کر کے  نگلیں  نہیں۔ بلکہ مزے لے لے کر  چبا  چبا  کے  ڈکار  گئے۔اور     پسینہ دیکھنے والوں کوآ گیا ۔
(ہائی  برِڈ مرچ  کوئی  مذاق نہیں ۔  یہ جاننے  والے اچھی طرح  جانتے ہیں۔ )
ایک دن شرط  لگا کر  تقریبا ً 3  سیر  سے  زیادہ  دیسی  مرچیں   ہڑپ کر گئے  ۔  اماں کو پتا  چلا تو بے اختیار  انہوں نے ماتھا پیٹ لیا :۔ "(ترجمہ)ہائے ۔۔۔۔  لوگوں کی اولاد  بادام ،  پستے  ، چلغوزے  کا شغل کرتی ہے  ۔ میرا یہ یاجوج ماجوج   مرچوں  کا دشمن ہوا  ہے" 

اب تک آپ کے تخیلاتی کینوس  پرایک عمرو عیار کے ہم شکل مریل ، چمرخ اور مرنجان مرنج سے نتھو خیرے کی تصویر بن چکی ہو گی ، لیکن میں  آپ کی یہ غلط فہمی بھی بروقت  دور کرتا چلوں کہ جو لوگ آپ کو چھوٹا غالب نہیں کہتے وہ انہیں ٹارزن کہہ کر پکارتے ہیں ۔(ماشاءاللہ)

شیکسپئر کے ایک ڈرامے کا مشہورِ زمانہ بلکہ بدنام ِ زمانہ سا جملہ ہے :۔ "نام میں کیا رکھا ہے۔" 
لیکن میں ثابت کر سکتا ہوں کہ شیکسپئر نے چول ہی ہانکی ہے۔  نام میں ہی تو سب کچھ رکھا ہوتا ہے۔
اس شخصی نیرنگی سے قطع نظر کرکے اگر ان کے نام کی نیرنگیوں کو دیکھا جائے تو کچھ حیرت انگیز حقائق اور تضادات سے پردہ اٹھتا ہے۔
اویس قرنی
الف پر ضمہ(پیش) پڑھا جائے تو مطلب بنتا ہے :۔ " روحانی فیض یافتہ"
الف  پر فتحہ (زبر) کے ساتھ پڑھا جائے تو مطلب ہوتا ہے:۔ "بھیڑیا"
"وین ہیلسنگ"  سے  جب شہزادی اینا پوچھتی  ہے :۔ "(ترجمہ) کچھ لوگ کہتے ہیں  کہ وین ہیلسنگ  ایک  دھارمک  انسان ہے ۔ جبکہ  کچھ کہتے ہیں ایک  سفاک قاتل۔ ۔۔ سچائی کیا ہے۔؟" تو وین  ہیلسنگ کا  جواب  تھا :۔ "ہو سکتا ہے میں دونوں ہی ہوں۔۔"
ہیں کواکب  کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے  ہیں دھوکا یہ بازی گر  کھلا
ان کا مزید  شخصیاتی  اور نفسیاتی پوسٹ مارٹم کیا جائے تو ثابت ہوگاکہ چھ فٹ کا یہ ہٹا کٹا دیو ہیکل "چھوٹا" صرف چھوٹا غالب ہی نہیں ، بلکہ "چھوٹا طارق بن زیاد" ، "چھوٹا ٹیپو سلطان" اور "چھوٹا منٹو" بھی ہے ۔ بہت سے لوگوں کو دعویٰ ہوتا ہے سرپھرا ہونے کا ،مگر یہ مجسم شوریدہ سر اور غالب کے الفاظ میں "جنوں جولاں ، گدائے بے سرو پا"واقع ہوئے ہیں ۔ ہر دن اپنی زندگی کا آخری دن سمجھ کر جینے والی اس بلا کا کوئی سامنا کرکے دکھائے تو ہم مانیں ۔ انتہائی حد تک امن پسند بلکہ امن پرست کہا جائے تو ہر گز مبالغہ  نہیں ۔ مگر ۔۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔ خیر  چھوڑئیے ۔۔۔ میں آپ کو ڈرانانہیں چاہتا

آلسی اس قدر واقع ہوئے ہیں کہ آپ سن کر کانوں کو ہاتھ لگائیں گے۔ بے شمار واقعات میں سے ایک واقعہ گزک کے طور پر حاضر ہے۔ یہ بات تو سارے زمانے کو معلوم ہے کہ چھ ماہ سے پہلے منہ دھونے کو یہ اسراف میں شمار کرتے ہیں۔ ایک بار اماں نے جب اصرار کی حد کر دی اور ان کا کوئی بہانہ نہ چلنے پایا۔ تو اماں جان سے کہا کہ ہاتھ اور منہ دھونا بہت مشکل کام ہے ۔ مگر آپ کے حکم سے روگردانی کی مجال بھی نہیں ۔ آپ کو بھی کچھ ڈسکاؤنٹ دینا چاہیے، اس لیے یا تو ہاتھ دھونے کا کہیں یا منہ دھونے کا۔ اماں نے یہ سوچ کر منہ دھونے کا کہہ دیا کہ منہ دھونے کے دوران ہاتھ بھی خود بکود دھل ہی جائیں گے ۔ مگر اس فخر الکہلا کو سلام ہے کہ جا کے پانی سے بھرے ٹب میں منہ ڈال دیا اور دو تین بار ہلا جلا کر باہر نکال لیا۔ اور اماں سے آ کر فرمانبرداری کی داد چاہی۔ بجائے داد دینے کے انہوں نے ماتھا پیٹ لیا۔

چھوٹا غالب نام کے بارے میں کچھ دل جلوں کا بیان  ِ حلفی ہے کہ یہ صرف  محض "شو بازی"  ہے ۔اس گدھے کے   تو  فرشتوں کو بھی  نہیں پتا  کہ غالبؔ  کس گلقند  کا نام  ہے ۔ مگر چھوڑیں جی ان  کی باتوں پہ نہ جائیں ۔۔۔۔  کیا  خوب  کہا ہے ملکہ ترنم نے  "دنیا  کب چپ رہتی ہے ۔۔۔ کہنے دے جو کہتی ہے ۔۔۔۔ مت کر دنیا  کی بات  سجن۔۔۔۔۔۔ الخ" اس  دنیا نے  تو  حضرت مریم علیہ السلام اور  حضرت  سیدہ عائشہ  صدیقہ رضی  اللہ  تعالیٰ  عنہا   جیسی پاک  روحوں  پر  زبان درازی  میں بھی کوئی کسر  نہیں  چھوڑی تھی ۔ حضرت حسین  بن منصور  حلاج ؒ کا تو ذکر ہی کیا کرنا ۔۔۔۔ اب  بھلا آپ خود  ہی  بتائیں  کہ  اس چھوٹے  موٹے  کی   حیثیت  ہی کیا  ۔۔۔؟؟؟
لیکن  آپ  کی تسلی  نہیں  ہو پا رہی  اور  آپ  کے  اندر  کے  انڈیانا جونز  کو چین  نہیں آ رہا  تو  جناب ِ عالی  موسٹ  ویلکم  کیونکہ   "ننکانہ  دور  تے نئیں"۔اگر آپ  ذرا  آلسی  قسم کے  انڈیانا جونز  ہیں تو کوئی  مسئلہ  نہیں۔۔۔۔  ایسے بھی  اللہ کے بندے موجود ہیں ۔۔۔۔۔  جو کہ اس فنا  فی الغالب   کے   عینی  شاہد   ہونے  کا  شرف  رکھتے ہیں۔
"کشتیاں  جلا  دو "  ان  کا  پسندیدہ  جملہ  نہیں بلکہ ان کا نصب العین  ہے ۔ اس ضمن میں  فرماتے ہیں کہ "راہِ فرار  یا واپسی  کا راستہ  چور اچکے  رکھتے ہیں۔اور  میں تمہیں چور  اچکا  نظر آتا ہوں کیا ؟ "
شیخ  سعدی  ؒ  نے فرمایا تھا "  میں  صرف خدا سے  ڈرتا ہوں  اور اس  شخص سے  جو خداسے نہیں ڈرتا ۔" ان  سے ملیے  ۔۔۔۔یہ ٹیپو سلطان کے معتقد   اور  بے خطر آتشِ  نمرود  میں  کود پڑنے والے صاحب  کہتے ہیں:۔ "اللہ  تعالیٰ  کے سامنے  کھڑے  ہونے  کے  علاوہ  اگر  کسی سے ڈرتا ہوں  تو وہ  ہے عورت ۔  "(لاحول ولا قوۃ  ۔۔۔  یہ آپ کیا سوچنے لگے ؟) آپ شاید  انہیں کسی  حکیم  پروفیسر  فلاں ، فلاں  فلاں سے رجوع کا مشورہ  دینے کا سوچ رہے ہوں ۔ تو اطلاعاً عرض ہے  کہ  سو پشت  سے  ہے  پیشہ  آباء   دوا  گری۔ الٹے بانس بریلی کو  لے جانے کی حماقت   مت کیجیئے۔  اور ان  کی مذکورہ بالا بے تکی  منطق  کی  کوئی اور توجیہہ سوچیں ۔

آپ  یقیناً  چونک جائیں گے  یا  شاید ایک اور مذاق  سمجھیں  گے کہ  دیوانِ غالب ؔ  جس   کے سرہانے  رہتا ہواور  میں کہوں کہ اسے شاعری  سے  چِڑ ہی نہیں سخت نفرت  ہے۔ان  کو  تکرار  سے  چاہے وہ کسی  بھی چیز کی  ہو سخت چڑ  ہے ۔ آپ ان سے  ایک  ہی بات دوسری  یا تیسری  بار  کہنے کی غلطی کر  دیکھیں ۔ خود ہی  جان جائیں گے ۔حیران تو ان کی اماں  جان بھی بہت ہوتی ہیں بلکہ بعض اوقات  تو کہہ بھی دیتی ہیں۔(ترجمہ):۔"بیٹا ۔۔۔  آج تک  تم اس دیوانِ  غالب سے تو نہیں اکتائے ۔۔۔  ایک ایک  شعر  کو  تسبیح کی طرح ہزارہزار بار  پڑھتے ہو ۔ "
ایک  بار کسی نے دیکھ لیا ادب  سے  بیٹھے  گہری سنجیدگی  سے کچھ پڑھ رہے  تھے ۔ وہ  حیران ۔۔۔۔  خیر ہو آج چھوٹا قرآن مجید  کھول  کے  بیٹھا ہے ۔  داد  دینے کو آئیں تو  ان کے سامنے  نسخہ  حمیدیہ  کھلا  ہوا تھا ۔  تب سے  گھر میں مذاق بن گیا۔
مگر  مچھ  کے آنسو  تو  عام  بات  ہےایک  بار    بھیڑیا  روتے  ہوئے پکڑ ا گیا  ۔     دھاڑیں  مار مار  کے  جوش  اشک سے  تہیہ  طوفاں کیے   ہوئے    سر پٹخ رہا تھا ۔اماں    حیران  ۔۔۔۔   سر پہ  ہاتھ پھیر کے فرمایا :۔ " (ترجمہ) بیٹا اگر کوئی لڑکی  وغیرہ  کا چکر  شکر  ہے تو بتاؤ ۔   بولے   بقول  غالب  "چیل کے گھونسلے  میں  ماس کہاں "  سو جوگی  کے  دماغ میں  ان خرافات  کاگزر کہاں ؟  ۔۔۔ مگر  یوں  گریہ  نیم شبی  چہ معنی  دارد ۔۔۔  جواب  ملا اک  شعر  چڑھ  گیا  ہے ۔۔۔ سناؤ  تو ذرا ہم بھی تو سنیں ۔۔۔۔ کعبے  کس منہ سے  جاؤ  گے غالب۔۔۔۔۔۔   اگلا  مصرعہ  ہچکیوں  میں ڈوب   گیا ۔اور ماں  بیٹا رونے  بیٹھ  گئے۔
کسی کی آخری  ہچکی  ، کسی  کی  دل لگی ہوگی
اماں  نے  تدبیر  نکالی  کہ  بینڈ بجے گا تو نُورا سب غالب  شالب  بھول بھال جائے گا ۔  تلاش  کی ضرورت  ہی کیا ۔  ایک انار  سو بیمار ۔  مگر  انار  کے نخرے  بھی تو  دیکھئے ۔  صورت  میں  چاہے  مس افریقہ  ہو۔  سیرت  میں  چاہے  پھولن دیوی ہو ۔   اپنا محبوب وہی  جو ادا رکھتا ہو ۔
ادا  کا مطلب  ان کی  ڈکشنری میں  دیوان  ِ غالب  ہے 
صلائے  عام ہے  بانوانِ  نکتہ داں کیلئے
مگر  
 نہ  نو  من تیل  میسر  ہوا ۔۔۔  نہ رادھا  ناچی 

بی بی لوگوں کا کہنا ہے  ٹھنڈی آہیں بھرنا قبول   ہے ، مگر  دیوان غالب کا گھوٹا نہیں لگایا جاتا۔

یہ سب پڑھ  کے شاید آپ  کو قصہ  گل بکاؤلی  یاد آ رہا ہو 
اس پاگل  کا  خاکہ  پڑھنے سے بہتر  ہے آپ  اسی  گل بکاؤلی  یا سیف الملوک سے دل بہلا لیں۔  
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کہے  دیوانہ  کیا

جو  لوگ  ابھی تک  نہیں اُکتائے وہ مزید تفصیلات  ان کی  خود نوشت "ڈبویا  مجھ کو ہونے نے"  میں ملاحظہ  فرمائیں۔  جن کی اس سے بھی تسلی  نہ ہو  اور وہ  عین الیقین کے قائل  ہوں تو  ہم ان  کو کھلے بازو  خوش آمدید  کہتے  ہیں۔ 
ست بسم اللہ  جی آیاں  نوں   
   

جزقیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار (مغزل کہانی قسط نمبر 7) -

3 آرا
گزشتہ سے پیوستہ

اچانک  ایک جھماکا سا ہوااور جھٹکے  سے  میری آنکھیں کھل گئیں   ۔
مگر یہ کیا۔۔۔۔؟؟؟
یہ تو کوئی  اور دنیا  ۔۔۔ کوئی اور  ہی عالم تھا ۔۔۔۔
شاید  نہیں  بلکہ یقیناً  میں  عالم موجودات کی بجائے عالم محسوسات  میں  تھا ۔ بے اختیار  اٹھنے کی کوشش کی  مگر صرف  سوچ کر رہ گیا ، کیونکہ میں پہلے ہی  اٹھا ہوا تھا ۔ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ چار  سیاہ  پوش ہیولوں نے مجھے ٹنگا لولی  (چار  طرف سے  یعنی دونوں بازو اور دونوں  ٹانگوں سے اٹھانا) کر رکھا  تھا اور ایک طرف کو  بھاگے جا رہے تھے ۔ یہاں  بھاگنا لفظ میں نے  ان کی تیز  رفتاری  کابیان کرنے کیلئے استعمال کیا ہے  جبکہ  حقیقت یہ تھی  کہ  وہ مجھے اٹھائے  ہوئے  ہوا میں  تیزی سے اڑے جا رہے تھے ۔ حیران ہو کر  سوچا "یا الٰہی !! یہ ماجرا کیا ہے " اور ہیولوں کو مخاطب کر کے پوچھا:۔ " کون  ہو بھائی ؟ کدھر لے جا رہے ہو  مجھے ؟ میں  نے   تمہارا  بگاڑا کیا ہے ۔۔؟؟ "میرے مخاطب کرنے پر  ایک ہیولے  نے میری جانب دیکھا اور میں لرز کر رہ گیا ۔ سرخ انگارہ آنکھیں کسی  بھی قسم کے  تاثرات  سے عاری تھیں۔  صد شکر کہ باقی  چہرہ  سیاہ  لبادے میں   ڈھکا ہوا تھا ورنہ  ۔۔۔ 
ایک  آواز میرے کانوں  سے ٹکرائی :۔ " پہچانا نہیں ہمیں۔۔؟؟ ہم موت کے فرشتے ہیں۔ اور  تمہاری روح کو تمہارے  ٹھکانے  یعنی سقر  مقر ہاویہ زاویہ  تک پہنچا  نا  ہماری ذمہ داری ہے  ۔" میری تو  سٹی گم ہو گئی ۔  کانپتے ہوئے بولا :۔ " کیوں مذاق کرتے ہو یار ۔۔۔ ویسے بھی میں اپنی  آپی  سے ملنے  آیا تھا  کوئی  ڈاکا  ڈالنے تونہیں آیا تھا  ۔۔۔تمہیں  کوئی غلط فہمی ہوئی ہے شاید ۔"
جواب ملا :۔ " ہم یہ سب نہیں جانتے ۔ اور نہ ہی جانناچاہتے ہیں۔ ہر بندہ  موت کو سامنے  دیکھ کر  ایسے ہی  اپنے آپ کو  معصوم ثابت کرنے  پر تل جاتا ہے ۔ یہ ڈرامے ہم روزانہ  دیکھتے ہیں۔ ویسے بھی  ہماری تمہاری  کوئی دشمنی نہیں۔ ہم تو بس اپنی ڈیوٹی نبھا رہے ہیں۔ ہمارے چیف  یعنی ملک الموت  روحوں کو جسم سے  جدا کرتے ہیں، اور روح کو  اس دنیا سے اس دنیا  میں اس کے ٹھکانے تک  پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے ۔اور  اب تم مر چکے ہو ۔"
میں نے کہا :۔ " مرنے کا مجھے  غم نہیں ۔  مگر  یہ شدادجیسا انجام میرے مقدر میں کیوں لکھا تھا ۔ اس نے بھی  جنت میں پہلا قدم رکھا تھا کہ  موت  نے آن دبوچا ، اورمیں بھی  ساری  زندگی کی تلاش کے بعد  جب  منزل پر  پہنچا  تو پہلے قدم پر  ہی ملک الموت کے ہتھے چڑھ گیا ۔"
کیا بیاں کرکے مرا روئیں گے یار
مگر "شگفتہ  بیانی "  میری 
اچانک  ایک خیال  آنے پر میں نے پھر پوچھا :۔ " میرے  اتنے دوست  تھے ۔ کسی نے مجھے بچانے  کی کوئی  کوشش نہ کی۔۔۔؟؟"  جواب ملا :۔ " موقع پر جو  موجود تھے  ان میں سے  مذکر  تو سر پکڑ  کے بیٹھ گیا  اور  جوشِ اشک سے  طوفاں  برپا کرنے پر تل گیا ۔  البتہ  خاتون نے ہمیں روکنے کی بہت کوشش کی ، اور دھمکایا بھی  بہت ۔ لیکن ہم   دو گرہوں میں بٹ کر اسے چکمہ دینے اور تمہیں لے کر نکل بھاگنے میں کامیاب ہو ہی گئے۔  باقی  دوستوں کا حال  نیچے خود دیکھ لو۔" یہ سن کر میں  سر گھماکر  نیچے دیکھنے لگا۔ اس وقت  ابھی ہم کراچی  کی فضاؤں میں ہی تھے ۔
 ایک جگہ یوسف ثانی  صاحب نظر آئے ۔  ہمیشہ مجھے چھوٹا بھائی سمجھ کر شفقت فرمایا کرتے  تھے ۔ سوچا  بندہ مومن ہیں  مدد نہ سہی  کوئی تسلی  تو دے ہی دیں گے ۔  آواز دی ۔ سن کر افسردہ  ہو گئے  اور فرمایا :۔" چھوٹے میاں اللہ کو یہی منظور تھا ۔ اس کے کاموں میں کون دخل دے سکتا ہے بھلا ۔  تم  اپنا راستہ ناپو اور  ہمیں تمہاری جواں مرگی  بلکہ پردیس  مرگی  پر  صبر کے  گھونٹ بھرنے دو۔  تمہاری بدقسمتی کہ  میں ایصال ِ ثواب  وغیرہ کا بالکل قائل  نہیں۔  کسی فاتحہ  شاتحہ کی امید نہ رکھنا۔"
ہوئی توقع  جن سے خستگی کی داد پانے کی۔۔۔
اس ٹکے سے جواب  کے بعد  کسی  اور سے "کس امید پہ کہیئے  کہ آرزو کیا ہے۔" ٹھنڈا سانس لے کر  مہ جبین آپی  کو یاد کیا اور ان کی تلاش  میں نظریں یہاں  وہاں  دوڑائیں ، مگر ان کا گھر  شاید کہیں پیچھے رہ گیا تھا ۔  صبر کے سوا چارہ ہی کیا تھا ۔ مومن  نے بھی کیا خوب کہا  تھا مگر  خوامخواہ  ہی کہا تھا؎
چارہ دل  سوائے صبر نہیں
سو تمہارے سوا نہیں ہوتا
اسی  اثنا میں جامشورو ، لاڑکانہ ، حیدرآباد ،  روہڑی  ، سکھر بھی  گزر گئے ۔  آگے  پنجاب  اور بلوچستان  کی سرحد آنے والی تھی ۔  مغرب کی جانب  سے  شاید  مستونگ  میں کوئی  رند  بیٹھا  گنگنا  رہا تھا ؎
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت  کو ملیں گے
کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
پنجاب کی سرحد  شروع ہوئی  کشمور سے گزرتے  ہوئے جونہی صادق آباد پہنچے  ایک ہنگامہ برپا تھا ۔ پہیہ  جام ہڑتالیں تو سنیں تھیں مگر ان مظاہرین  نے پہیہ سمیت سب کچھ جام کر رکھا  تھا حتیٰ  کہ دریائے  سندھ کا پانی بھی۔ بہت معرکے کا  احتجاجی مظاہرہ تھا ۔ جس کے روح رواں  کوئی گول مٹول  مگر نہایت ہینڈسم  صاحب(جیسے ہنڈا سوک  ، یا سوزوکی مارگلہ ) تھے گود میں ایک بہت ہی پالی پالی شی سویٹی  پری  کو اٹھایا ہوا تھا ۔احمد  علی ،  محسن وقار ،سید زبیر اور چند  نامعلوم  بہی خواہ  بھی  صف ِ اول  میں  نعرہ  زنی  میں مشغول  تھے۔  ان کے مطالبات  کا خلاصہ یہ  تھا  کہ  چھوٹا  غالب  کو نشانِ حیدر  دیا جائے ۔  اور حکومتی خرچ پر  ان کا شاندار  مزار تعمیر کروا کے ان کے خلیفہ  جناب ذوالقرنین  سرور صاحب  کو  سجادہ نشین کا منصب سرکاری طور پر سونپ دیا جائے ۔ ورنہ  اسلام آباد تک  ڈائیوو  میں بیٹھ کر لانگ مارچ تو  کیا لانگ ا پریل سے بھی دریغ نہیں  کریں گے۔
دل  کو بہت ڈھارس بندھی  اور ان  ہوا  خواہوں کیلئے تشکر  انہ  جذبات امڈ  امڈ آئے ۔
جز قیس اور  کوئی  نہ آیا بروئے کار 
  خیر ۔۔۔رحیم یار خان  پلک جھپکتے  گزر گیا ۔ بہاولپور  سے  آواز  آ رہی  تھی "خس کم جہاں پاک۔ مسخرہ کہیں کا " ملتان  خانیوال  بھی گزرگئے  چیچہ  وطنی سے   گزرے  تو ساہیوال   کی  جانب سے کوئی پکار نے والا پکار رہا تھا :۔ " احمد فراز کو میرا  سلام کہیو۔" راوی  پار کیا  تو  کمالیہ  شروع ہوا ، کوئی  لاہوری پٹھا  باقاعدہ  سلطان راہی  والے سٹائل  میں بازو لہرا لہرا کے  بڑھکیں مار تے  ہوئے  آپے سے  باہر  ہوا جا رہاتھا :۔" اوئے ساڈا  ڈنگیا تے پانی نئیں منگدا ۔۔ ۔ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔ ہااااااا۔۔۔ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔"ٹوبہ  ، رجانہ ، گوجرہ  سے  گزرتے ہوئے  جب  سمندری  پہنچے تو  فیصل آباد  کی جانب سے  ڈھول  کی ڈھما ڈھم  سنائی دے رہی تھی ۔ قریب  پہنچے  تو  دیکھا کہ  لوگ بغلیں بجا رہے تھے،  اور مٹھائیاں بانٹ رہے تھے ۔۔ اور وہ جو  قصور والوں سے اک موہوم   سی امید تھی  انہیں لاہوریوں  سمیت  وہاں بھنگڑے ڈالتے دیکھ کر  مر گئی ۔ حالانکہ  قصور والوں کو  تو  کم از کم سمجھا نا  چاہیے تھا ان نادانوں کو  کہ "  دشمن مرے تے خوشی نہ کرئیے۔۔۔  سجناں وی مر جانا۔" 
سرگودھا ، گوجرانوالہ  میں میرا تھا ہی کون ۔  میں نے فرشتوں سے  کہا  کہ میری آخری خواہش کے طور پر پلیز  موٹر وے  والا روٹ  پکڑو ۔  اور براستہ وزیرآباد ، سیالکوٹ چلو ۔  اس بے ضرر  سی خواہش میں ان کا کیا گھاٹا تھا۔ وہیں سے ہو لیے ۔ سیالکوٹ  سے گزرنے لگے توایک  جگہ سے دھوئیں کے   مرغولے اٹھتے  دیکھ کر  میں سمجھ  گیا  کہ    حضرت  یہیں رونق  افروز  ہیں  ۔ پکے  سگریٹ  کے  سوٹے لگا تے  ہوئےکوئی  عالم ِ بے کیفی  میں نعرے لگا رہا تھا "لگے دم ۔۔ مٹے غم ۔۔۔  پی پیالہ صبر دا ۔ ۔۔ کوئی نئیں ساتھی قبر دا   ۔۔۔ جھولے  لال ۔۔۔۔۔"مجھ سے  رہا نہ گیا ۔  میں نے بے اختیار  پکارا :۔ "  پیر بھائی ۔۔۔!!میں دنیا تیری چھوڑ چلا۔۔۔فرشتے  مجھے اغوا کر کے لے جا رہے ہیں " مست  ملنگ تھوڑا چونکا  اور پھر  اسی  ٹون میں بولا :۔ " اچھا دوست  میری تو دعا ہے جہاں رہو خوش رہو۔۔۔۔  مرشد  کو  سلام دیجو ۔ ۔۔(ایک   اور سُوٹا لگا  کر ) جھولے لال ل ل ۔۔۔۔"
میں ہوں فسردگی کی آرزو غالب کہ دل
دیکھ کر  طرزِ تپاک ِ اہل دنیا جل گیا
اسی  دوران پنڈی  بھی آ گیا ۔ اسلام  آباد  کی فضاؤں میں داخل ہوئے تو  چائے  کی  بہت ہی زبردست  خوشبو  کی  لپٹیں ناک سے ٹکرائیں ۔ البتہ یہ بتانے سے قاصر ہوں کہ لپٹن یلو لیبل  کی  خوشبو تھی یا سپریم   کی (کیا معلوم کھلی  پتی  ہو) بہر  حال جو بھی تھی خوشبو  بڑی  زبردست تھی   شاید الائچی  یا سونف   کا تڑکا  لگایا  گیا  تھا ۔ ناک  کو اس کے حال  پہ چھوڑ  کر کان لگائے تو   آواز آئی :۔
نہ ترے آنے کی خوشی نہ  جانے کا غم
کہ یہی ہے  قلندر کی متاعِ زندگی۔۔۔!!
قریب تھا  کہ ہم  کشمیر سے گزرتے ہوئے  گلگت  بلتستان کی حدود میں داخل ہوتے کہ کیا  دیکھتا ہوں خیبر پختونخواہ  کی جانب سے  کچھ ہر اہرا  سا غبار  اڑتا ہماری  طرف آتا  دکھائی  دیا ۔ فرشتوں کی رفتار میں تیزی آ گئی  کہ طوفان آنے والا ہے  جلدی یہاں سے نکل چلیں۔ مگر دیکھتے ہی دیکھتے ہرے  رنگ کا طوفان  قریب پہنچا اور ہمارے قافلے  کا  راستہ روک لیا ۔  اور  طوفان  میں  سے ایک نورانی پیکر  نمودارہوا ۔  یقیناً  میری طرح آپ کو حیرانی ہو گی  کہ ہمارا راستہ روکنے والا کوئی ٹارزن ، ہرکولیس ، تھور یا سپائیڈر مین نہ تھا ۔  نہ ہی ہلک  ، یا  دی میٹرکس  کا "نیو" تھا ۔ بلکہ  ایک  نرم و نازک سی خاتون تھیں۔ چہرہ  مہندی  کے بڑے بڑے پتوں میں چھپا ہوا ہونے کی وجہ سے میں پہچان نہ پایا۔ البتہ  ان  کے نہایت  خوبصورت  ، چمکیلے  بلکہ  نورانی  (اتنے خوبصورت کہ حوریں  بھی رشک کرتی اور  ان سے کریم مانگتی  ہونگی )مزید حیرانی یہ  کہ  ان خوبصورت ہاتھوں نے  مسکارا ، آئی  لائنر ، لپ سٹک نہیں بلکہ  پمپ ایکشن  رپیٹر  تھام رکھا تھا ۔ اچانک  سریلی آواز میں گرجیں:۔ "خبردار ۔۔۔!!  جو ایک قدم بھی آگے  بڑھایا تو ۔ میں فائر  کرنے  سے دریغ نہیں کروں گی  اور کسی  بھول میں مت  رہنا  میرا نشانہ  "وانٹڈ "  کی انجلینا جولی  سے  بھی  زیادہ پکا ہے ۔" فرشتوں نے ہینڈ بریکس  کھینچ  لیں اور  مذاکرات کا ڈول ڈالا :۔ "دیکھئے  معزز  خاتون !  ہم کوئی ہوائی مخلوق نہیں ۔  رب  کائنات کے فرشتے  ہیں۔  اور اسی کے  حکم سے  اس بدبخت  کی روح کو  یہاں سے  اگلے جہاں پہنچانے  جا رہے ہیں۔ "
محترمہ کی غصے بھری آواز  آئی (چہرے کی تاثرات  تو میں دیکھ نہیں پایا):۔ " سوچ سمجھ کے بولو  میاں فرشتے ۔  آدم  مسجود ملائک  ہے  ، اور  پھر  یہ  صرف  آدم  ہی نہیں بلکہ میرے پیارے  چھوٹےبھیا بھی ہیں۔اور  اگر ہاروت  ماروت  کا انجام  یاد ہو  تو پھر میرے غالب بھیا  کو بدبخت  کہنے کی جرات  نہ کرنا ۔ "
ایک فرشتہ بولا:۔ " معزز خاتون !  ہمیں آپ کے  خواہرانہ  جذبات  کی قدر ہے ۔  مگر  آپ کو شاید  یہ معلوم نہیں کہ  اس  بد۔۔۔۔ (کہتے کہتے  ایک دم زبان غوطہ  کھاگئی ) میرا مطلب ہے  کئی لوگوں کی طرف  اس  پر  بداخلاق ہونے  اور ناپاک جانور(شاید کتا  شاید سور۔ واللہ اعلم)  ہونے کے الزامات  عاید کیے گئے ہیں۔"اور  طوفان  میں جیسے بھونچال آ گیا ۔ گرج کر بولیں:۔ " لوگ کون ہوتے ہیں میرے  بھیا پر اس طرح کے الزام لگانے والے ۔  میں تو ۔۔۔۔۔ " ابھی وہ آگے  کہنے ہی والی تھیں کہ  ہمارے پیچھے کچھ دیکھ کر  چونکیں اور رک گئیں۔ انہیں  چپ ہوتا دیکھ کر فرشتوں  نے بھی غیر ارادی  طور پر  پیچھے مڑ کر دیکھا  ، (ظاہر ہے میں نے بھی)  اور ایک خوبصورت پری کو آتا دیکھ کر  مزید گھبرا گئے ۔  پری  کیا  تھیں بس یوں سمجھیے  کہ پرستان کی  شہزادی بنفس نفیس  تشریف لائی تھیں۔  (جنہوں  نے  فلم "ٹِنکر بیل اینڈ دی  لاسٹ ٹریژر"  میں  کوئین فیری کو  دیکھا  ہو۔ وہ سمجھ گئے ہونگے ) سنہری ستاروں میں ملبوس ۔ ہاتھ  میں  ستارے  والی چھڑی  لیے  وہ  شہزادی  قریب پہنچیں اور آتے  ہی  فرمایا:۔ " شاباش  حنا! بہت اچھا کیا ۔  اگر تم انہیں نہ روک لیتیں مجھے  ابھی  نجانے  اور کتنی بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ۔" اور یہ سن کر میں حیرانی  سے اچھل تو  نہ سکا  مگر بہت  حیران ضرورہوا۔ یعنی  کہ یہ  میری  سپر گریٹ  آپی  جی ہیں۔ مگر  منہ کیوں چھپا رکھا ہے  ، اور اسی  وقت مجھے  خیال آیا کہ  صرف  حنا آپی ہی  نہیں فیری  آپی نے  بھی چہرہ  بھی نقاب  میں   تھا ۔  میں تو بھیا  ہوں ان کا ۔۔ شاید  فرشتو ں سے پردہ کر رکھا ہو۔ میں ابھی  اسی  سوچ میں تھا کہ ایک فرشتے  کی آواز آئی :۔ " دیکھیں بی بی  آپ خدائی کاموں میں ٹانگ اڑا رہی ہیں ۔۔۔ اچھا نہیں کر رہی  ہیں۔ اس کا نتیجہ اچھا  نہیں ہوگا۔"
فیری  آپی  پھنکاریں:۔ "وہ سب بعد میں  دیکھی جائے  گی  ابھی تو  ہمیں چھوٹے  غالب کا بلیک  وارنٹ دکھاؤ۔ کراچی  سے توتم  مجھے چکمہ دے کے بھاگ نکلے ،  مگر اب  حنا اور  مجھ سے  بچ کے نکلنا  مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔ "(ڈون والے  سٹائل میں)
فرشتوں  نے بیک زبان کہا:۔" بلیک وارنٹ تو  ہمارے پاس نہیں ہے ۔وہ تو ملک الموت  کے پاس ہوتا ہے ۔"  آپی  کہاں  اس فریب میں آنے  والی تھیں۔  گرج کے بولیں:۔ " مجھے الو سمجھا ہے کیا؟  میں نے " دی فینٹم  ممی " اور "  پائریٹس  آف دی  کیربیئن۔ ایٹ  ورلڈز اینڈ"  نامی  فلمیں دیکھی  ہوئی ہیں۔ اور  اتنا تو مجھے  پتا ہے  کہ  روح کو لے جانے والے  فرشتوں کے پاس پروانہ راہداری  ضرور  ہوتا ہے ۔ ورنہ  روح اس عالم میں داخل نہیں ہو پاتی۔ چلو اب نکالو  جلدی ۔۔ شاباش۔"ناچار  فرشتے کو میرا بلیک وارنٹ اور  پروانہ  راہداری  نکال کے دکھانا ہی پڑا ۔ حنا آپی نے  دیکھ  کر فتویٰ دے  دیا کہ  یہ  پروانہ  جعلی ہے ۔  فرشتہ  چڑ کر بولا:۔ " بی بی ۔  پروانہ  راہداری   پروانہ  ہوتا ہے ، اصلی  ہو جعلی۔"
اتنے میں فیری آپی  حنا آپی  کے قریب ہوئیں  اور  اردو  میں کھسر پھسر کی ۔ فرشتوں  کے تو سر سے گزر گئی  مگر  چونکہ "اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتےہیں داغ"  اس لیے  میں نے سب سن بھی لیا اور ان کا پلان   بھی سمجھ گیا۔فیری  آپی  کہہ رہی تھیں:۔ "حنا !  جیسے  بھی  ہو ، ہمیں ان کو باتوں میں لگائے رکھنا ہوگا ۔ کیونکہ  مہ جبین آنٹی  مصلے  پر بیٹھی  دعاؤں میں مشغول ہیں۔ انہوں نے کہا ہے  تم فرشتوں  کو اُس دنیا  میں جانے  سے  جتنی دیر روک سکتی ہو روکے رکھو۔ اس  دنیا کا معاملہ اسی دنیا  میں ہی نپٹ جائے  تواچھا ہے ۔ " حنا  آپی  کی مسکراتی ہوئی آواز سنائی دی:۔ " ہرااااااا۔۔۔۔  میں بھی سوچ رہی تھی  کہ مہ جبین آنٹی کہاں غائب ہیں ۔  لگتا ہے  اب تووہ فیصلہ اپنے  حق میں کروا کے ہی دم لیں گی ۔  بہت  پہنچی  ہوئی بی بی ہیں ۔ مجھےان پہ یقین ہے۔"
میں بیان  نہیں کر سکتاکہ  مجھے  اس وقت  کتنی  خوشی  ہو رہی تھی ۔  آپ غلط سمجھے مجھے دوبارہ  زندگی  ملنے کی  خوشی نہیں بلکہ اتنی پیاری  اور دبنگ  بہنوں  کاچھوٹا  اور لاڈلا بھیا  ہونے  پر خوشی  اور فخر  سا ہو رہا تھا ۔  دنیا میں مجھ جیسا  خوش قسمت  اورکون ہو گا  بھلا ۔
اس دوران    فرشتے بھی  ڈائریکٹ  ایکشن کے  فیصلے  پر متفق ہو کر ڈو آر ڈائی   کے موڈ میں آ گئے   کہ اچانک   ایک اور فرشتہ  نازل ہوا ۔ مگر وہ  ان  موت کے فرشتوں جیسا  نہیں تھا ۔  بے حد وجیہہ  ، پاکیزہ  ، نورانی  صورت کہ دیکھ کر بے  اختیار  اللہ  کے  حضور جھک  جانے  کا خیال  آئے  جو اتنی مخلوقات  کا خالق  اور مالک ہے ۔

اس کہانی کی آخری قسط انشاءاللہ جلد ہی  پیش کر دی جائے گی

یہ نہ تھی ہماری قسمت (مغزل کہانی قسط نمبر 6) -

2 آرا


گزشتہ سے پیوستہ


کراچی میں جیسے  اکثر شبِ برات کا ہی سماں رہتا ہے ۔ شُرلیاں  پٹاخے (جاندار  شرلیاں پٹاخے منہ نہ بنائیں یہ ان کا  تذکرہ  نہیں) رونق بڑھائے رکھتے ہیں کہ  "نوحہ غم ہی  سہی نغمہ شادی  نہ سہی" ۔  شاید اس کی  ایک وجہ  بے تحاشا  بڑھتی ہوئی  شرح آبادی پر کنٹرول  کی کوشش بھی  ہو ۔ لیکن  موت کے فرشتے  اور میٹرنٹی ہومز ، دائیوں  وغیرہ  میں   کانٹے کا مقابلہ  ہے ۔ وہ  مارتے مارتے  تھکتا ہے  نہ  ثانی الذکر کو  زچگیوں  کی ہڑبونگ  سانس لینے کی فرصت دیتی ہے ۔  مگر جیساکہ   ہاتھیوں  کی لڑائی میں ہمیشہ  بے چارے مینڈک  ہی زیادہ رگڑیں چوٹیں کھا بیٹھتے ہیں وہی حال  بے چارے  ایدھی  کارکنان کا ہے ۔  وہ بھی آخر  انسان ہیں پیالہ و ساغر تو نہیں ،  اس گردش مدام اور جنازوں  کے اژدہام  سے  میرا دل  بھلا  کیوں نہ گھبرا جاتا ۔ میں بھی تو  میڈ بائی  مٹی ہوں  کوئی  سلی کون سے تو  نہیں بنا ہوا ۔  بقول شاعر؎
ختم ہوتا ہے کب کارِ جہاں
اک  نہ اک دردِ سری رہتی ہے
ایک  بار  لالو کھیت  میں  جب میں دیگر کارکنان  کے ساتھ جائے حادثہ  پر  امدادی  کاموں میں مصروف تھا کہ  ناگاہ    سریلی  سی زنانہ آواز میں کسی نے  میرا نام  پکارا :۔ "غالب صاحب ۔۔۔!!"ہرچند کہ  میں جوگی ہوں مگر دل تو  بچہ ہے جی ۔۔۔  کان  کھڑے کیسے نہ ہوتے ۔ دماغ نے  یاد دلایا  "ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد"اب  دل اور دماغ  میں جھگڑا  شروع  ہوگیا  اور "  ایماں مجھے روکے ہے  جو کھینچے ہے مجھے کفر"  والی  صورتِ حال پیدا ہو گئی ۔   میرے اندر  کا  فیلسوف  چلایا : بھلا  اس دیارِ غیر میں غالب خستہ کا واقف  کون نکل آیا وہ  بھی  کوئی صنفِ نزاکت سے ۔قریب  تھا کہ  میں  وہم سمجھ کر سر جھٹک  کے  اپنے کام میں مصروف ہو جاتا کہ  آواز دوبارہ  آئی  اور اس بار  آواز  کا مخرج  کہیں قریب  ہی محسوس ہوا ۔ آواز کی سمت  دیکھنے کو مڑنے ہی لگا تھا  کہ  ایک دم  جیسے  کوئی  مقناطیس کا  جنوبی قطب  مجھے شمالی قطب سمجھ کے مجھ  سے لپٹ گیا ۔  میں حیران  اور کچھ کچھ  پریشان ۔۔۔ اور  سچ کہوں  تو کچھ کچھ بے مزہ بھی ہوا ۔۔۔  کیونکہ  اچھا  خاصا  میں کسی  کے بلاوے  پر لبیک  کہنے ہی والا تھا  کہ  یہ کباب  میں ہڈی ٹپک پڑی ۔ ہڈی کو اپنے  حال پر چھوڑ کر میں نے  سریلی  خاتون  کی تلاش میں  ادھر ادھر  نظروں کے گھوڑے دوڑا ئے ۔  مگر گوہر مقصود ہاتھ  نہ آیا ۔ جھنجھلا  کے کباب  میں ہڈی  کی  جانب توجہ کا خیال  ۔  اچانک دماغ  میں کوندا لپکا  کہ کہیں لپٹنے کے بہانے  پیٹ میں خنجر نہ گھونپ دے  اور میرا خون  لپٹن یلو لیبل  کی چائے کی  مانند  لالوکے کھیت  کو سیراب  کرتا نظر آئے ۔ اور  بقول سعدی ؒ تریاق  کے عراق  سے آنے  تک کہیں  سانپ کا  کاٹا  پردیس  میں  جان نہ دے بیٹھے ۔ اس  لیے جس قدر جلد  ہو سکے  موصوف کا  چہرہ  دیکھ لیا جائے  تاکہ  سند رہے اور  بوقت وصیت کام آ سکے ۔ مگر  مصیبت  یہ تھی کہ  میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں کمبل مجھے  نہیں چھوڑتا ۔  اگر یہ معانقہ ہے تو  معانقے کی بھی کم از کم ایک  حد ہوتی ہے  ، یہ تو نہیں  کہ "چپکا لے سیّاں  فیوی کول سے " ۔
میں نے  ردعمل کے  طور پر اپنی  ٹارزنیت  کا مظاہرہ  فرمایا  اور جناب کی پسلیوں نے احتجاجی  نوٹس جاری کیا  تو انہیں الگ ہونے کا خیال آیا ۔ الگ ہوئے  اور پھر  مجھے پکارا :۔ "ارے غالب بھیا  ۔۔۔ آپ اور یہاں ۔۔"مردانہ  منہ سے  زنانہ  آواز  نکلتے دیکھ کر حیران رہ گیا اور  بے اختیار سوچا"اب سو چ میرے دوست خدا ہے کہ نہیں ۔"اور بے حد خوش بھی ہوا ۔ اس بار کھٹاک سے لپٹنے کی باری میری تھی ۔ 
تعارف بھی کرادیتا ہوں  ذرا دھنگ سے مل تو لینے دیں ۔ نہیں نہیں ۔۔۔ تعارف  کرانا ٹھیک نہیں ۔  البتہ کچھ اشارے (خبردار  اس سے  وہ والے  اشارے  مراد لے کر  خواتین مجھے لوفر لفنگے  کے خطاب نہ دینے بیٹھ جائیں )دیتا  ہوں تاکہ ذرا قارئین کی توجہ  کا بھی اندازہ ہو سکے کہ پڑھتے بھی ہیں یا بس سکرول  کر کے ۔۔۔۔۔  خیر  ۔۔۔ چھوڑئیے !!۔ 
ایک گورا چٹا  خوبصورت گھبرو  جوان ۔ ۔۔۔
چہرہ  سنجیدہ  مگر آنکھوں میں شرارت اور ذہانت کے لشکارے ۔۔۔۔
آواز سے  تو اچھا  خاصا  بندہ  بھی دھوکا کھا جائے ۔۔۔  
جیسے آشا بھوسلے  نغمہ سرا  ہوں ۔۔۔ 
کچھ کچھ ناہید اختر سے ملتی  جلتی آواز۔۔۔۔
گانا  شروع کر دیں توامید ہے لتا منگیشگر  کی روزی روٹی  بند ہو جائے ۔۔۔۔
المختصر یوں سمجھ لیں کہ  ببر شیر  کلین شیو  کروا کے  آ یا ہو  جیسے ۔۔۔۔
ابھی تک  مجھ سے چپکے ہوئے ہیں  ۔۔۔ پس ثابت ہوا کہ  میرے پیڈ سٹل فین  بھی واقع ہوئے  ہیں ۔ 
میں نے کان میں کہا :۔"  ۔۔۔۔ بھائی چھوڑ دیں اب تو  لوگ ہمیں مشکوک  نظروں  سے دیکھنا شروع ہو گئے ہیں ۔  "  
اس جگت نے پسلی خلاصی کروا دی  ورنہ یہ تو  شاید  ایک دو پسلیاں  کڑک کرنے  پر تلے ہوئے تھے ۔ چھوٹتے ہی بولے :۔ "  واہ صاحب واہ۔۔۔!!  نہ کوئی  پیام نہ خبر  ۔۔۔ اچانک کراچی میں آن ٹپکے ۔۔۔  اتنی کچی دوستی  تو ہماری نہ تھی  کہ  مجھے بتانا بھی مناسب نہ جانا آپ نے ۔" میں نے بولنے کیلئے منہ کھولا  مگر بولنے کی حسرت لیے کھلے کا کھلا ہی رہ گیا  کیونکہ وہ مجھے بولنے کا موقع دینے کو تیار نہ تھے ۔ ان کی آکاش وانی  سے نشریات بدستور جاری تھیں ۔۔۔:۔ "اور ایدھی میں کب سے جاب سٹارٹ کی ۔۔۔؟ لگتا ہے کافی دنوں سے کراچی میں ہیں  ۔۔۔۔ مگر اس قدر بے گانگی کہ ہم کو  بتایا بھی نہ ۔۔۔۔ (آگے بہت سا وغیرہ وغیرہ ) " ۔جیسے ہی سانس لینے کو رکے میں موقع غنیمت جان کر عرض حال پیش کیا کہ ؎
بنا کر رضاکاروں کا ہم بھیس چھوٹا غالب
نشانِ  مغل و  خانہ ءِ  غزل  ڈھونڈتے ہیں 
 نیز پوچھا کہ "آخر  اس درد کی دوا کیا ہے؟"  ۔ میری بات ان سنی کر کے  ایک بار  پھر اپنی  ہانکنے  لگے :۔ "اگر میں تماشا دیکھنے باہر  نہ آیا ہوتا تو  آپ سے ملاقات  سے محروم رہ گیا ہوتا ۔ اب قسمت  سے کراچی  آ ہی گئے ہیں تو ہمیں بھی مہمان  نوازی کا موقع دیں ۔  " میں نے کہا :۔ "آپ کا  خلوص و محبت سر آنکھوں پر۔ میں جس  کام کو گھر سے نکلا ہوں  وہ ہر بار بیچ میں رہ جاتا ہے۔ اس لیے پہلے میری مشکل کا کوئی  حل نکالیں ۔ "
بولے:۔ "اب فکر فاقے سے باہر تشریف لائیے ۔ غزالوں کے  ٹھکانے  کی سن گن بھی مل جاوے گی مگر پہلے ہمیں میزبانی کا  شرف بخشیں  ۔"  اب اس قدر محبت اور اصرار سے کوئی  بلائے تو کون کافر انکار  کی جرات کرے  ۔ ان کی تقریر  جاری تھی  ۔"قریب ہی میرا غریب خانہ ہے ۔"  دل کو"قریب" کا لفظ سن کر  خوشی ہوئی مگر پاپی پیٹ کو لفظ"غریب خانہ" پر مایوسی ہوئی ۔ اس نے سمجھاروح افزا کے  ایک گلاس  پر ٹرخا دیں گے یا زیادہ سے زیادہ  ٹینگ کا  ایک ساشے  گھول  کے لے آئیں گے ۔ مگر جب نام نہاد"غریب  خانے " پر میزبان  نے  میزبانی  شروع کی تو   پیٹ میاں    ہانپنے لگے۔۔۔ ہاتھ کھڑے کر دئیے ۔۔۔ میں نے  کہا اب ٹھونس نا خبیث کہیں کے ۔ اب گدھے کی طرح ہانپتا کیوں ہے ۔ مگر پیٹ  منہ تک  بھرا ہونے کی وجہ سے کوئی جواب نہ دے سکا ۔ آخر مجھے ہی رحم آگیا  اور میں نے ہاتھ روک لیے ۔ مگر میزبان کو رحم نہ آیا ۔ اٹھا اٹھا کے سامنے دھرتے  اور ایک دو چمچ چکھنے کا کہہ کر ساری  پلیٹ خالی کرا کے دم لیتے ۔  میں نے دہائی دی تو جا کر پھکی گولڑہ  شریف اور ہاجمولا  کینڈی کا  ایک پیکٹ لے آئے ۔ماشاءاللہ بھابھی جان کے  ہاتھ میں اللہ نے  خوب ذائقہ دیا  ہے ۔ اگر الٹیاں لگنے  کا ڈر نہ ہوتا تو رکنے والا میں بھی نہیں تھا۔اس  دعوت ِ شیراز  کے اختتام پر  فدوی  نے اس حج کا  ثواب ان کی نذر کیا جو  کبھی نہ کبھی ہم کریں گے۔ 
 ان کے صاحبزادے  سے ملاقات  کا شرف حاصل ہوا اور  ایسا لگا کہ چلبل پانڈے  کا  بچپن میرے سامنے ہے ۔  شکل ایسی معصوم ، سنجیدہ   اور  فلسفیانہ    جیسے ارسطو  دوبارہ  پیدا ہو گیا ہو ۔ حرکتیں  ایسی کہ  شیطان  ِ اعظم بھی پیٹ پکڑ کر  ہنستا ہنستا  گر پڑے (قدموں میں)  اور مریدی  کی  درخواست  پیش کرے ۔
ہاجمولا  چباتے  ہوئے  میں نے  یاد دلایا  کہ  آپ نے  کچھ وعدہ بھی کیا تھا ۔  بولے  :۔ " یاد ہے وعدہ  !  مگر اس سے پہلے  آپ کو ایک وعدہ دینا پڑے گا ۔"  
میں نے کہا:۔ " پردیسی کو بلیک  میل کرتے ہو میاں  ۔اللہ پوچھے آپ کو ۔۔" ناچار وعدہ کرتے ہی بنی۔بولے:۔ " غزالوں کا  پتہ میں  ڈھونڈ لاتا ہوں مگر  اس  سے پہلے آپ وعدہ کریں  کہ آپ  جتنے دن  کراچی میں ہیں ہمارے مہمان رہیں گے ۔  "  میں  سٹپٹا گیا:۔ "  کیوں میری زندگی کے درپے ہو کاکا شپاہی ۔۔۔؟ غزالہ  آپی  کو آپ جانتے  نہیں ۔ پٹھان خون  ہے  ۔ مجھے چھری پھیر دیں گی  مگر جیتے جی کسی اور کے ہاں مہمان ہونے  کی اجازت ہر گز نہیں دیں گی۔  البتہ اتنا  کہہ سکتا ہوں کہ واپسی  سے پہلے  ایک دو دن آپ کو میزبانی  کا موقع ضرور دوں گا۔ " کافی  دیر یہ یک نکاتی  مذاکرات  چلتے  رہے ۔ آخر اتفاق رائے ہو ہی  گیا۔ میزبان نے   ہاتف دستی  نکال کر  دو چار جگہ سے  سن گن لی اور  جلد ہی  خوشخبری سنائی۔  میرے  بھی اسد اللہ  خاں  بہادر  کی طرح  خوشی سے  ہاتھ پاؤں  پھول گئے ۔ بس  نہیں  چل رہا تھا کہ ابھی  انہیں  گھسیٹتا  ہوا  سوئے منزل لےچلوں۔ مگر میزبان  اگلے  دن سے پہلے  جان چھوڑنے پر  راضی  نہ ہوا۔ آدھی رات تک تو شکاریات  کے قصے چلتے رہے ۔ تھک گئے  تو خراٹوں سے ماحول  مترنم  کر دیا ۔  میں نے  دل ہی دل میں  مومن  خاں مومن کو یاد کیا ۔ 
شب جو مسجد میں  جا پھنسے مومن
رات کٹی خدا خدا کر کے۔۔۔!!
جیسے مومن کی رات کٹ گئی تھی  میری بھی  جیسے تیسے  کٹ ہی گئی ۔ صبح ہونے والی تھی کہ میں نے رولا ڈال دیا ۔۔۔ ایں ایں ایں ۔۔۔۔ مجھے آپی  پاش جانا ہے ےےےے ۔۔۔ ایں ایں ایں ۔۔۔۔۔  میزبان نے بہتیرا سمجھایا بھائی  دن تو نکلنے دو ۔ میں نے کہا صبح ہو گئی ہے  یار ۔  فرمایا  یہ  جھوٹی صبح (صبح کاذب )  ہے  ۔ مجبوراً چپ ہو گیا اور گھڑیاں گننے لگا ۔ عاشق تو تھا نہیں کہ ستارے  گنتا ۔ مگر  قسمت  دیکھئے  کہ گھڑی بھی ایک  ہی تھی(دیوار پر) اسی کو بار بار  گنتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد سچی صبح کے آثار  محسو س ہوئے تو میں  پھر مچل گیا ۔  میزبان نے تنگ آ کر  ہاتھ جوڑ دئیے ۔ پھر بھی مجھے افاقہ نہ ہوا تو چپل گھسیٹی  اور مجھے لے کر  باہر  نکلے  ۔ باہر تو جیسے ہو کا عالم تھا  انسان تو درکنار  کوئی کتا بلا  بھی  نظر نہ آیا ۔ میزبان نے کہا  :۔ "اب ایسے عالم میں کس سے  راستہ پوچھیں گے۔۔۔؟۔کم از کم صبح تو ہو لینے دو اللہ کے بندے ۔  یہ میرا گھر ہے کوئی  خرکار کیمپ تو  نہیں جو  تمہیں کسی  کل چین  نہیں پڑتا ۔  " خلاف  ِ توقع بات میری سمجھ میں آ گئی ۔  مجبوری کا  دوسرا نام صبر ہے  اور ایک  افواہ کے مطابق  اس کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔ میں نے بھی 9  بجے تک صبر کیا  مگر قسم لے لیں پھل تو  کیا گٹھلی بھی دیکھنے کو نہ  ملی ۔ ہاں البتہ تفصیلی قسم کا بھرپور ناشتہ  سارے دلدر  بھلانے  کو کافی تھا ۔  اگر  ناشتہ ہی صبر کا پھل تھا  تو پھر میٹھا نہیں بڑا کرارااور چٹپٹا تھا ۔  ا س  لیے  تمام  کتب اور ریکارڈز وغیرہ میں درستی  کی جائے اور آئندہ  بھی صبر کا پھل میٹھا لکھ کر  عوام کو بے وقوف  بنانے  کا  سلسلہ موقوف  کیا جاوے ۔ الداعی  الی الخیر :۔ فدوی چھوٹا غالبؔ

قصہ کوتاہ ! ایک دو مقامات سے کمک پا کر  آخر کار  یہ مختصر قافلہ  غزال آباد  جا پہنچا ۔ مگر سرائیکی کہاوت  "جلدی دے اگوں ٹوئے۔" کی طرح جب ہم  افتاں خیزاں  آشیانِ غزل پہنچے تو  دروازے پہ  لٹکا  تالہ  میرا منہ چڑا رہا تھا ۔ نہ جانے کہاں گئے ہونگے ۔ ایک خیال آیا    جیسے عمران سیریز  میں سیکرٹ سروس کے  دھاوا بولنے پر غیر ملکی ایجنٹ  زیر زمین چلے جاتے ہیں اور ایجنسی ہیڈ کوارٹر   کیمو فلاج  کر دئیے جاتے ہیں۔ اسی طرح شاید  میرے آنے کی بو پا کریہ بھی کہیں  کھسک لیے ہونگے ۔ 
قسمت  کی خوبی دیکھئے  ٹوٹی کہاں کمند
دو چار  ہاتھ  جب کہ لبِ بام رہ گیا
میرا اتر ا منہ دیکھ کر میزبان  کی خوئے دلنوازی  نے جوش مارا ۔ اور انہوں نے تسلی دی  :۔" اتنی  زیادہ پریشانی  کی بات نہیں ۔  مکان تو مل گیا ہے سمجھو آدھی پریشانی ختم  ۔ جہاں بھی ہونگے  لوٹ کر تو آخر  یہیں آئیں گے ناں ۔ آپ اس طرح منہ  نہ لٹکائیں مجھ سے ہنسی  روکنا مشکل  ہو جاتا ہے ۔"
ہم بے زار بیٹھے تھے  اور میزبان کو اٹکھیلیاں سوجھ رہی تھیں ۔ میں توانشا کی  طرح  ان سے  "چل راہ لگ اپنی "  بھی  نہ کہہ سکتا تھا کیونکہ ایک تو  شہر انہی کا  تھا دوسرے  میں  مہمان بھی انہی  کا تھا ۔  اس لیےایک ٹھنڈی سانس  لی اور مزید منہ بنا لیا۔میزبان کا دل پسیج گیا ۔ بولے:۔ غالب بھائی ! آپ تو دل پر لے گئے  میں تو آپ  کی پریشانی  کم کرنے  کیلئے  ذرا مذاق  کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔  خیر آئیے واپس چلتے ہیں۔" مرتا کیا نہ کرتا ۔ چل پڑا۔۔۔۔۔
میزبان کوئی  میری طرح نکمے بابو  تو نہ تھے ان کو ایک ضروری کام سے جانا پڑا  تو جاتے جاتے  مجھے کہیں نہ بھاگ  جانے  اورٹک کر بیٹھنے کی  ہزرا ہا تاکیدیں کر کے چلے گئے ۔ میری حالت  عجیب ہو رہی تھی۔۔۔ 
کھڑا تھا ۔۔۔۔ بیٹھ گیا۔۔۔۔
بیٹھ کر بھی چین نہ پایا تو ۔۔۔۔ لیٹ گیا ۔۔۔۔
لیٹ کے  بھی  بے چینی کم نہ ہوئی تو ۔۔۔۔ اٹھ کے ٹہلنے لگا۔۔۔۔۔
بار بار دل میں خیال آ رہا تھا کہ شاید اب واپس آ چکے ہو ں ۔ٹھکانہ تو ان کا دیکھ ہی لیا ہے کیوں نہ خود ہی جا کر دیکھ آؤں کہ  آئے یا نہیں۔ میزبان   کو اپنے ساتھ خجل خوار کرنے  کی کیا ضرورت ہے ۔ بے چارے  کوخلوص اور محبت کی اتنی سزا دینا  مناسب نہیں۔   یہ سوچتے سوچتے گھڑی دیکھی تو دو بجا رہی  تھی ۔ کچن سے آتی  ولولہ  انگیز  خوشبوئیں پیٹ کو ورغلانے کی بھرپور   کوشش کر رہی  تھیں  لنچ کے بعد چلے جانا۔کہ اچانک میرؔ  یاد آگئے۔
حوصلہ مند چٹانوں کو بھی ریزہ ریزہ کردیں
شوقِ منزل میں رکاوٹ نہیں دیکھا کرتے
اور غالب ایکسپریس کی  بریکیں فیل ہو گئیں۔ راستے میں خیال آیا کہ کم از کم  بتا کے تو آتا ۔ میزبان میرے اچانک  غائب ہونے  پر پریشان ہونگے ۔ لیکن  سوچا کہ شاید ابھی بھی  خانہِ غزل پر  تالہ ہو  ۔ واپس  تو ویسے  بھی  جانا پڑے گا کیوں  نہ چل کے تصدیق ہی   کر لی جائے ۔  اور  شاید  اس وقت آسمان کسی  اور کی  بدخوئی میں مصروف تھا یا واقعی  قدرت مہربان ہو گئی تھی ۔ کیونکہ وہاں پہنچ  کر دیکھا  خانہ غزل پر تالہ  موجود نہ تھا ۔  میری باچھوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی اور دل کنگرو کی طرح چھلانگیں مارنے لگا ۔  مجھ پہ شادی مرگ جیسی کیفیت طاری تھی ۔  سمجھ نہ آ رہا تھا کہ اب کیا کروں ۔
اسی ادھیڑ بن میں  قریب پہنچ گیا ۔ کچھ اٹھا پٹخ ، اور  برتن کھڑکنے   قبیل  کی کچھ  آوازیں کانوں میں آئیں ۔ اور بچاؤ بچا ؤ کی صدا  کے ساتھ ایک دو مردانہ  چیخیں  فضا میں گونجیں۔  حیرانی سے  اوپر دیکھا  کہ " یہ ہنگامہ  اے خدا کیا ہے ؟ " مگر نہ  میں کلیم اللہ تھا  نہ ہی  اس وقت   کوہِ  طور پر کھڑا تھا جو خدا مجھے  ریپلائی  کی  زحمت  گوارہ فرماتا ۔  اس لیے  خود ہی اٹکل پچو سے کام لینے کی  کوشش کی ۔ مگر کچھ سمجھ نہ آیا ۔  سوچا اچانک اندر  جا کر  سرپرائز دینا  چاہیے ۔  
میں جونہی دروازے میں داخل ہوا۔  کوئی کانوں  پہ ہاتھ رکھے بہت تیزی سے  باہر نکلا۔  میری بدقسمتی  کہ اس کے باہر نکلنے اور  میرے اندر گھسنے  کا  وقت ایک ہی تھا ۔ ۔۔۔ کوئی ڈوئی  نما  چیز (شاید  بیلن ہو،  مجھے  غور کرنے  کا موقع  اور وقت  ہی نہیں ملا  )  زناٹے  سے  میرے ماتھے پر آ لگی ۔ کچھ  قرمزی سے  ستارے ناچے  اورکچھ   سوچنے سمجھنے سے پہلے ہی  میرے چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔ ۔۔۔۔  میں کٹے ہوئے کیکر کی طرح  دھڑام  سےآ  گرا ۔
اسد اللہ  خاں تمام ہوا
دریغا !وہ رندِ شاہد باز

پینڈو بابا جی ؒ کے حضور (مغزل کہانی قسط نمبر 5) -

2 آرا
گزشتہ سے پیوستہ


کچھ عرصہ کراچی میں گزرا تو اجنبیت کی دیوار گر گئی ، کم از کم اتنا مانوس تو ہو ہی گیا کہ کسی کی مدد کے بغیر کہیں آ جا سکوں ۔ ایک دن فارغ بیٹھے بیٹھے اکتا گیا تو خیال آیا کہ کیوں نہ چل کے بابائے اعظم ؒ کے مزار پر حاضری دی جائے کہ اس عظیم قائدؒ کیلئے فاتحہ خوانی فرض اگر نہیں تو کم از کم ہر پاکستانی پر قرض ضرور ہے ۔
جیسے مسلمانوں پر زندگی میں کم   سے  کم ایک بار حج فرض ہے اسی طرح ہر پاکستانی (اگر وہ احسان فراموش نہیں ) پر جو کراچی آنے جانے کی استطاعت رکھتا ہے تو زندگی میں ایک بار مزارِ قائدؒ حاضری اور فاتحہ خوانی خود پر فرض سمجھے کہ یہ محبت و احسان کی شریعت کا پہلا رکن ہے ۔ 
ایک بار فون پر کسی کراچی کے دوست سے دوستی ہو گئی ۔ اس نے مجھے کراچی آنے کی دعوت دی تو جواب میں میں نے بتایا کہ کراچی دیکھنےکا تو مجھے بہت شوق ہے خاص طور پر قائد اعظم ؒ کے مزار پر حاضری تو میری زندگی کی چند حسرتوں میں سے ایک حسرت ہے ۔ میری اس بات پر وہ طنز سے ہنسا اور بولا :۔ "کراچی میں مز ارِ قائدؒ کے علاوہ  اور بھی کئی جگہیں ہیں دیکھنے کی ، وہاں تو صرف پینڈو لوگ جاتے ہیں ۔ تو آج میں ڈنکے کی چوٹ پر اپنے پینڈو ہونے کا فخریہ اعتراف کرتے ہوئے ہر ایسی سوچ رکھنے والےکی سوچ پر تھو تھو تھو کرتا ہوں ۔ میں جاہل اور پینڈو ضرور ہوں مگر احسان فراموش نہیں ۔
یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
اے قائد اعظم ؒ تیرا احسان ہے احسان
قصہ مختصر ۔۔۔۔!!! پینڈوبارگاہ جناح میں جا پہنچا  ۔میری خود بینی + و آزادہ روی جانے کہاں چھو منتر ہو گئی ، اور ساری شوریدہ سری جھاگ کی طرح بیٹھ گئی ۔ ایک 65 برس پہلے فوت ہو چکے بابے کا مجھ پہ ایسا رعب چھایا کہ بیان سے باہر ہے۔ میرا خیال ہے کہ لفظ "رعب" اس کیفیت کی پوری طرح عکاسی کرنے سےبھی  قاصر ہے اور کچھ غلط فہمیوں کا باعث بھی ۔ یہ تو دراصل ایک باکردار  جوان ِ رعنااور ایک باوقار بابا جی کی جلالت و عظمت کا سادہ سا اعتراف تھا ۔
سبحان اللہ !! جیسے وہ جناح کیپ سجائے وقار سے سر اٹھائے ایک سادہ سی شیروانی میں ملبوس گورنر جنرل آف پاکستان کے طور پر قوم سے مخاطب تھے ، اسی سادگی اور وقار کے ساتھ ان کا مزار شان و شوکت سے سر اٹھائے کھڑا اپنا پاکستان دیکھ رہا ہے ۔ گیٹ سے داخل ہوتے ہی شدتِ جذبات سے آنکھیں دھندلا گئیں اور میں میکا نیکی انداز میں سر جھکائے چلتا گیا ۔ سر جھکا رکھا تھا کہ کوئی دیکھ نہ لے یہ چھ فٹ کا ہٹا کٹا پینڈو رو رہا ہے ۔ مگر مزار کے اندر داخل ہوتے ہی ساری احتیاطیں ، ساری وضع داری جذبات کے ریلے میں آنسوؤں کے ساتھ بہہ گئی ۔ 
اب ایک یتیم بچہ اپنے باپ کی قبر سے لپٹا ہوا تھا جو اس کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اپنا سب کچھ اپنی اولاد کے نام کرکے دنیا سے جا چکا تھا ۔
فرشتوں نے زمین کی لگامیں کھینچ لیں ۔۔۔۔ سورج سکتے میں  آ گیا۔۔۔۔۔ اور وقت کو ہچکی لگ گئی ۔۔۔۔۔
مجھے تو اس وقت ہوش آیا جب چوبدار نے مجھے کندھے سے پکڑ کر ہلاتے ہوئے جیسے تصدیق چاہی :۔" بھائی صاحب ! آپ ٹھیک تو ہیں ناں ۔۔؟"
میں اسے کیسے بتاتا کہ آج ہی تو ٹھیک ہوا ہوں ۔ ۔۔۔ دل و دماغ کی ساری کثافتیں آج بابا جی ؒ کے کندھے پہ سر رکھ کے آنسوؤں میں بہا دی ہیں ۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔میں آج ہی تو ٹھیک ہوا ہوں ۔۔۔
اب جو ہوش آیا تو ادھر ادھر نظر دوڑائی ۔۔۔
بادشاہوں کے دربار سنے تھے ۔۔۔ پڑھے تھے۔۔۔۔
اولیا ءاللہ کے دربار آنکھوں سے دیکھے تھے ۔۔۔۔۔
لیکن ایسے بابائے اعظم ؒ کا دربار نہ کہیں دیکھا ، نہ سنا ، نہ پڑھا ۔۔۔۔۔۔
اس قدر سادگی کہ مثال ممکن نہیں ۔۔۔۔
اس سادگی سے ٹپکتا ایسا جاہ و جلال ، ایسی شوکت و حشمت کہ شہنشاہان ِ روم و فارس دیکھ لیں تو رشک کے مارے انگلیاں کاٹ لیں۔۔۔۔
نہ نوبت ، نہ نقارہ ۔۔۔۔ نہ ملنگ نہ مجاور ۔۔۔۔ اگر بتیاں ہیں نہ صدائے حق ہو کے غلغلے ۔۔۔۔۔
پھر بھی ایسا تقدس ۔۔۔۔ ایسی پاکیزگی ۔۔۔۔۔ کہ بے اختیار غالب ؔ کا شعر زبان پہ جاری ہو جائے ؎
اک کھیل ہے اورنگِ سلیماں میرے نزدیک
اک بات ہے اعجازِ مسیحا مرے آگے۔۔۔!!
پتا نہیں لوگ کیسے منقش دروازے ۔۔۔۔ چاندی کا کٹہرا۔۔۔۔ دیدہ زیب سنگ مر مر کا فرش ۔۔۔۔ اور چھت سے جھولتا وہ دلکش فانوس دیکھ لیتے ہیں ۔ مجھے تو یہ سب دیکھنے کی فرصت مل سکی نہ دیکھنے کی چاہت رہی ۔ بس اتنا یاد ہے کہ اک دست ِ پر شفقت میرے جھکے سر پر آیا اور آواز آئی :۔ "بی بریو مائی ڈئیر سن ۔"اور حواس گم ۔۔۔۔ قیاس گم ۔۔۔۔ نظر سے آس پاس گم ۔۔۔۔۔
ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتنا 
وہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں
ویسے تو میں مویشی پال بھائیوں کی طرح کوئی حسرت پال انسان نہیں ،پھر بھی بندہ بشر ہوں ۔۔۔ زیادہ نہیں  البتہ دو چار بے ضرر سی خواہشیں ضرور کہیں دل کے نہاں خانوں میں رکھی ہیں ۔ جیسے کہ چھوٹی امراؤ بیگم اور چھوٹا غالب جھیل سیف الملوک کے پانی میں پاؤں لٹکائے ، ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے چاند سے محو گفتگو ہوں ۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ مگر ایک خواہش بلکہ حسرت سمجھ لیں ، ایسی ہے کہ جس کے پورا ہونے کیلئے میں یہ دو چار خواہشیں تو کیا بقیہ ساری زندگی بھی قربان کرنے کو تیار ہوں ۔ بس مجھے صرف اتنا وقت مل جائے کہ میں ان کے سامنے کھڑا ہو کر ۔۔۔آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر۔۔۔۔ کہہ سکوں :۔
مائی لارڈ !  مسٹر قائد اعظم محمد علی جناح ۔۔۔! آئی لو یو ۔۔۔ سو مچ 
اور وہ مسکرا دیں ۔ (بے شک" می ٹو" نہ بھی کہیں ، پھر بھی چلے گا)
ہک ہااااااا۔۔۔۔۔۔ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں  اور جا بسیں
پینڈو شاداں و فرحاں دربارِ جناح سے باہر آیا ۔۔۔۔ ایک انگڑائی لی اور سوچا ذرا گھوم پھر کر باغِ جناح کا کراچیانہ ورژن بھی دیکھ لیا جائے ۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔ پینڈو کی تو ہو گئی ہائے ۔۔۔ ہائے ۔۔۔ ہائے ۔۔۔۔
زیادہ تفصیل میں کیا جاؤں ۔۔۔ عقلمند را اشارہ کافی ہے ۔۔۔ اس لیے مختصر اً عرض کیا ہے ؎
وہ سبزہ زار ہائے مطرا کہ ہے غضب
وہ نازنین بتانِ خود آرا کہ ہائے ہائے
صبر آزما وہ ان کی نگاہیں کہ حف نظر 
طاقت ربا وہ ان کا اشارا کہ ہائے ہائے
جن کو یہ اشارا سمجھ نہیں آیا۔۔۔ وہ جا کر کارٹون نیٹ ورک دیکھیں
خدا جانے ان بنات النعش  کے جی میں  کیا آئی  کہ اس  قدر  عیاں  ہو گئیں ۔ایک  سے بڑھ کر ایک  نو بہار ِ ناز  دیکھ  کے خدا کی صناعی   پہ  کئی بار  سبحان اللہ  منہ سے نکل گیا ۔سبحان  اللہ  کوئی تھیں   زلفِ سیاہ رخ پہ پریشاں  کیے ہوئے ۔۔۔۔سبحان اللہ یہ  ہیں کہ سرمے  سے تیز  دشنہ  مژگاں  کیے ہوئے ۔۔۔۔ اور  یہ  جو  مسکرا رہی ہیں چہرہ فروغ   ِ لپ سٹک  سے  گلستاں کیے ہوئے ۔۔۔۔  اور  بے چارہ  پینڈو  کہ اسے  مدت ہوئی  یار کو مہماں  کیے ہوئے۔۔۔۔۔جگر لخت  لخت سے  دعوت ِ مژگاں  کرتا آگے  بڑھ  گیا۔   
مجھے مہاتما بدھ کے مقابلے میں مہاتما منگل یا مہاتما جمعرات ہونے کا دعوی کبھی نہیں رہا ۔۔۔ نہ ہی میں کوئی برہم چاری پرش ہوں۔
پارسا کوئی نہیں مانتا بھاڑ میں جائے ، الحمد اللہ تاک جھانک بھی میری عادت کبھی نہیں رہی ۔
شاید کسی کو میری روشن خیالی میں تامل ہو  مگر مجھے تنگ نظر ملاں بھی نہیں کہا جا سکتا ۔
میں کسی بی بی ، خاتون کو پردے کے فضائل بھی نہیں گنوانا چاہتا نہ ہی میری برقعوں کی دکان ہے ۔
فیشن کرنا ، اور خود آراستگی خواتین کا ازلی فطری حق ہے ۔ یہ بات مجھے دل سے تسلیم ہے ۔
مگر میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بے شک بے شک حجاب  نہ اوڑھیں ، برقع پہنیں آپ کے دشمن ، کہیں آپ کا دم نہ گھٹ جائے ۔ مگر ڈھنگ کے کپڑے پہننے میں حرج ہی کیا ہے بھلا۔۔۔۔؟؟؟ خدا نے دوپٹہ آپ کو بطور ڈھال عطا فرمایا ہے ۔۔ ۔ اور ایک اچھا سپاہی اپنی ڈھال سائیڈ پہ لٹکا کر میدانِ جنگ میں  نہیں اترتا ۔۔۔۔ یہ آپ کے پیارے سے بابا جانی ؒ کا اپنی مایہ ناز پاکستانی  بیٹیوں کے نام ایک چھوٹا سا پیغام تھا جو فدوی نے پہنچا دیا ۔کسی کو برا لگا ہو تو ۔۔۔ ۔ قہرِ درویش ، بر جانِ درویش ۔۔۔۔
بات کچھ زیادہ ہی پٹڑی سے اتر چکی ہے ۔ اس لیے جو عجلت پسند سورمے  بذریعہ سکرولنگ  یہاں تک آن پہنچے ہیں ان سے اس خواہ مخواہ جذباتیت کیلئے معذرت چاہتا ہوں ۔۔۔ پاکستانی ہو اور جذباتی نہ ہو ۔۔۔ یہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔ جب تک جذباتی نہ ہو جائیں ہمیں کھانا ہضم نہیں ہوتا ۔۔۔۔ بس سمجھ لیں میں بھی ایک سچے اور پکے پاکستانی کی طرح اپنا کھانا ہضم کر رہا تھا ۔ 
پڑھنے کا بہت شکریہ ۔۔۔۔ اجر آپ کو اللہ دے گا

ملتے ہیں  اس سفر کے اگلے پڑاؤ میں
دعاؤں کا طالب :۔ فدوی چھوٹا غالب             

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما