Sunday, 22 March 2015

محمد ﷺ کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا

1 آرا
اپنے بزرگوں  کےمزار پر  دربار  بنانے اور مجاور  بن کے بیٹھنے  کی  ہمیں  اجازت نہیں،  الکھ نگری  میں جو ممتاز  مفتی صاحب نے اپنے پیر و مرشد  سائیں اللہ بخش صاحب  رحمتہ اللہ علیہ کے مزار  کا احوال  لکھا ہے  ، یہاں  بھی کچھ ایسا  ہی حال ہے۔ یہ ایک  نہایت عجیب و غریب  قصہ ہے  جس کے متاثرین  میں سے آخری نام خاکسار کا ہے ۔
 اس پس منظر سے واضح ہو گیا  کہ  اپنے والد صاحب کی قبر  پر  ہم دربار  کھڑی کر کے آمدنی کا ذریعہ  نہیں بنا سکتے ، مگر پکی  قبر اور زائرین کے بیٹھنے کیلئے چبوترہ  تو بنوا سکتے ہیں۔ 
پس  تین  محرم  الحرام کو اس کام کا آغاز کیا گیا۔   بڑے بھائی  کا ارادہ  ابا جان کے پہلو میں دفن ہو نے  کا ہے تو منصوبہ یہ تھا کہ لگے ہاتھوں  ان  کی   قبر بھی  تعمیر  کر لی جائے  اور ساتھ  ہی بنیادیں کھڑی کر کے  ایک سادہ  ساکمرہ بنا دیا جائے  ۔  ہمارے  دیرینہ  مستری  حاجی محمد  رمضان صاحب جنہوں  نے  ابا جان  کی قبر تعمیر کی  تھی ،  کی نگرانی  میں کھدائی کا کام شروع ہوا۔ جب  کھدائی کرتے مزدور  قبر کے قریب پہنچے  تو  نہ صرف انہیں  بلکہ  ارد گرد کھڑے  سب لوگوں  کے  ناک سے تازہ گلابوں  کی خوشبو ٹکرائی۔  ہر  ایک دوسرے کی  طرف حیرانی سے  دیکھتاہوا یہ پوچھنے لگا کہ کیا خوشبو تمہیں بھی آئی ہے  یا صرف مجھے آ رہی ہے۔
اس  مرحلے پرہم نے  حاجی صاحب سے  ایک بار پھر پوچھا  کہ  قبر کی  محراب کے اوپر  منوں  کے حساب سے مٹی کا بوجھ پڑا ہے  ، جبکہ  آپ پہلو سے مٹی ہٹوا کے کھدائی کروا رہے  ہیں، کیا اس سے واقعی  مٹی کے  کھسکنے  اور ابا جی کی قبر کی  محراب ہلنے کا کوئی  خطرہ نہیں، انہوں  نے  اپنے برسوں کے تجربے کی  بنیاد پر  ہمیں تسلی دی  اور کھدائی جاری رہی۔  یہاں تک  کہ  پہلو کی  طرف سے  ایک دوسری قبر  کے برابر جگہ  کھود لی گئی کہ  اچانک ابا جی کی قبر  کا مٹی کا تعویز کھسکا اور  کسی آئس  برگ کی  طرح پہلو کی  طرف  ڈھلک آیا ،  اتنی زیادہ مٹی کے ڈھلکنے کے جھٹکے سے ابا جی کی قبر کی  محراب (جو کے کچی اینٹوں سے بنی ہوتی  ہے) ہلی اور ہلکی سی ٹیڑھی ہو گئی۔  ساتھ ہی وہاں موجود  حاضرین کے دل بھی ہل گئے۔ بڑے بھائی  صاحب کا  اس جھٹکے سے پارہ ہائی ہو گیا  ، اور وہ حاجی صاحب پر  برس پڑے کہ حاجی صاحب  ہمیں یہی خطرہ تھا  اور اسی  لیے مشورہ دیا تھا  کہ ابا جی کی قبر سے  بھی مٹی ہٹا لی جائے ، مگر  آپ کسی کی سنتے ہی کہاں ہیں،حاجی صاحب بھی برسوں کے تجربے کو فیل ہوتا دیکھ کے ہکا بکا کھڑے تھے۔  بھائی صاحب تو سر پکڑ کے بیٹھ گئے ، جبکہ میں نے مزدوروں  اور حاجی صاحب کو تسلی دی کہ اب بہتر یہی ہے کہ قبر کے  اوپر سے  مٹی ہٹا لی جائے ، تاکہ مزید کوئی پسوڑی  نہ کھڑی ہو جائے ۔ اور مزدور  آرام آرام سے قبر کے اوپر سے  مٹی  پہلو میں کھودے گڑھے میں کھینچ کر باہر نکالنے لگے۔
جب ابا جی کی  قبر سے مٹی ہٹا ئی گئی  تو  محراب  کے اوپر  بچھائی  گئی  کھجور کے پتوں  کی  چٹائی  مٹی  میں مٹی  ہو چکی تھی  اس کے محض  نشانات  سے  محسوس ہوتا  تھا کہ  یہاں 9 ماہ پہلے  چٹائی تھی۔  محراب  کی ٹیڑھ اور  ایک جانب کو جھکاؤ واضح نظر آیا۔  اب ہمارے سامنے  دو  آپشن تھے  کہ قبر  کے ساتھ ایک  اور دیوار  محراب کی اونچائی تک  کھڑی کر کے اس پر کنکریٹ کے  بنے سلیب  رکھ دئیے جائیں ۔  یا پھر  قبرکھول کر  محراب ہٹا  لی جائے  اور محراب کی بجائے  سلیب  رکھ کے پکا کام  کر دیا جائے  تاکہ مستقبل کیلئے کوئی خدشہ  نہ رہے۔
 دونوں  آپشن میری  طرف سے پیش ہوئے اور  سب لوگ پہلے آپشن  پر فوراً متفق ہو گئے ۔ اسی دوران  ابا جی کے بڑے بھائی  صاحب کی آمد ہوئی  اور صورت حال دیکھ کر  ان کا رنگ بھی فق ہو گیا۔  اچانک  ابا جی کی قبر  کی پائنتی کی  جانب سے مٹی قبر کے  اندر  کی جانب کھسکتی  نظر آئی تو  بڑے بھائی کابلڈ پریشر کم ہونے لگا۔ ابھی اسی مخمصے میں تھے کہ  ابا جی کے  سینے  کے مقام پر بھی ایک  اینٹ نیچے کو کھسکی تو  میں نے  حاجی  صاحب  کو  قبر  کھولنے کا کہہ دیا۔   بڑے بھائی صاحب  اس وقت  کسی فیصلے  پر نہیں پہنچ پا رہے تھے اور سر پکڑ کے  ایک طرف بیٹھے تھے ، قبر کھلنے کا سن کے چچا جان ڈر کے مارے دربار  شریف پر جا بیٹھے ، اور  حاجی صاحب نے ایک بار پھر مجھے سوچنے کیلئے کہا، اور کہا کہ  پہلےکسی  مولانا صاحب سے  اس بارے  میں مشورہ     لینے کا  صائب مشورہ دیا، جس پر  خاکسار کو جلال آ گیا۔  میں نے  مولانا  صاحبوں کی ایسی  تیسی کہہ کر کہا  کہ:۔"یہ میرے والد صاحب کی قبر ہے اور میں کہہ رہا  ہوں  کہ  میرے والد صاحب اس وقت یہی چاہتے ہیں کہ قبر کھول کر  دوبارہ بنائی  جائے ۔"حاجی صاحب نے بڑے  بھائی صاحب کی طرف سوالیہ نظروں سے  دیکھا تو وہ خاموش رہے ،   اتنے میں نے ایک مزدور کو قبر کے سرہانے سے مٹی ہٹانے کو کہا اور مٹی ہٹا لی گئی ۔
 محمد  اسلم جو کہ ابا جی  کا انتہائی جانثار  عقیدت مند  ہے ،  جسے ہم مذاقاًابا  جی کا جن کہا کرتے تھے ،  جسامت میں  کسی دیو سے کم نہیں ، لیکن دل کا  ایسا کمزور  کے  قبر کھلنے کا  سن کے کانپتے  لبوں سے  کنکریٹ کے سلیب  لانے کا   بہانہ کر کے  کھسک لیا۔ اتنے  میں میرے  دوسرے دو بھائی بھی آ گئے  اور وہ بھی  دور کھڑے  ہو گئے ۔
حاجی صاحب نے  قبر کے دھانے سے اینٹیں ہٹانا شروع کر دیں  ،  اور قبر  تقریبا  9 ماہ بعد کھل گئی ۔ سب کے حلق خشک ہو چکے تھے،  کسی کی آواز نہیں نکل  رہی تھی ۔  اب  محراب  کی اینٹیں  ہٹانے  کی صورت میں قبر کے اندر مٹی گرنے کا  خدشہ تھا، جس پر میں نے تجویز دی کہ  اندر  ایک  چادر بچھا دی جائے  ، تاکہ جو بھی مٹی ، دھول وغیرہ گرے وہ چادر پر  گرے۔ تجویز  تو سب کو اچھی لگی  لیکن اس کام  کو انجام دینے  کیلئے سب کی  متفقہ نظریں مجھ پر  پڑیں۔    میں  اندر دربار  شریف میں گیا  اور  اپنے جد امجد  حضرت  مخدوم سید  محمد باغ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ  (صاحب دربار عالیہ کوٹ والا) کے مزار کا سبز رنگ  کا  بڑا  غلاف اتار لایا۔ 
 الحمد اللہ  یہ خاکسار کیلئے اعزاز  کی بات تھی  کہ  تدفین کے وقت بھی باوجود  حاضرین میں سب  سے چھوٹا ہونے  کے ،  مجھے ہی ابا جی کو قبر میں اتارنے  کی  سعادت نصیب ہوئی ، اور آج 9ماہ  بعد  بھی  ان  کی خلوت  گاہ میں مجھے ہی اترنے کی  سعادت (دوسرے لفظوں  میں اجازت) حاصل ہوئی۔
میں سرہانے کی طرف سے قبر میں اترا  اور  اندر  بیٹھ گیا،  دیکھا تو  محراب  کی  جو دو اینٹیں  کھسک کر  قبر کشائی کا  سبب بنی تھیں   وہ  وہیں  معلق تھیں، حالانکہ صرف تھوڑی سی  اٹکی ہوئی تھیں ، پھر بھی محراب اتارنے کے دوران  گری نہیں۔ اس کے بعد  میں  نے  ابا جی کی جانب توجہ کی ۔ تو   کفن کھڑکھڑاتا  ہوا ویسے  ہی سلامت  تھا،  اندر  سے  پورا جسم  صحیح  سلامت  محسوس  ہو رہا تھا۔   بائیں گھٹنے کے ذرا اوپری  جانب  کفن پر خون  کے  ایک  سکے برابر چھوٹے سے نشان  کے  علاوہ  پورا کفن  بے داغ پڑا  تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ  میں دفن کے وقت   ابا جی کو  سیدھا لٹا کر نکلا تھا،  لیکن اس وقت  وہ اس انداز میں لیٹے  نظر آئے جیسے ان کی زندگی میں لیٹنے کی عادت تھی۔  قبر  جتنی  کشادہ تھی  ،  اب تو  میت پر اتنا عرصہ  گزر جانے کے  بعد جسم کے حساب سے اور  بھی کشادہ لگنا چاہیے تھا ، لیکن  میں نے دیکھا کہ  ابا جی کا  جسم بھرا بھرا  ہونے کی وجہ سے قبر بھی بھری ہوئی  لگ رہی تھی ،  اور  مجھے اچھی طرح  یاد ہے کہ تدفین  کے وقت  دونوں پہلوؤں سے  قبر  کی دیوا ر کا فاصلہ ایک ایک  ہاتھ تھا،   لیکن اب  جسم اس  اندا زمیں پڑا تھا  کہ  مجھے  پیر رکھنے  کیلئے جگہ مشکل سے مل رہی تھی  اور میرے  پیر اور  ہاتھ ان کے جسم سے لگتے ہوئے  ان کے جسم کی  حرارت تک محسوس کر رہے تھے۔  
یوں سمجھ لیں  کہ جیسے  ایک  آلتی  پالتی مارے بیٹھے بندے کو اگر  اچانک لیٹنا پڑ  جائے ۔ یعنی  دیکھنے پر  صاف صاف یہی معلوم ہوتا تھا کہ  یہ ہمارے  اندر داخل ہونے سے پہلے بیٹھے ہوئے تھے۔ کیونکہ  مجھے اچھی طرح یاد ہے  کہ  دفن کیلئے  لٹاتے وقت  ابا جان کے  گھٹنے سے گھٹنا  اور  پیر سے پیر جوڑ  کے  لٹایا  تھا، اب  دونوں پیروں کے  درمیان   ڈیڑھ فٹ کا  واضح  فاصلہ تھا اور  دونوں گھٹنوں کے درمیان  بھی کافی فاصلہ تھا۔
ابا جان کو  جگر کا کینسر  تھا، ڈاکٹرز کی پیش گوئی تھی  کہ  ان کو  وفات سے پہلے خون کی الٹیاں  آئیں گی اور وفات کے بعد بھی کینسر پھٹنے پر  خون جاری ہو جائے گا۔  ہمارا اپنا مشاہدہ بھی یہی تھا کیونکہ  اس  سے  پہلے رشتہ داروں کی وفات ہم نے دیکھی تھی ، اور  دفن تک  ان  کا خون جاری تھا ، آگے اللہ کو پتا۔  لیکن اباجی کے معاملے میں ساری پیش گوئیاں دھری کی دھری رہ گئیں ، قریباً سوا سات  بجے  شام کو وفات پائی  ، اور دوسرے دن  سوا چار بجے  اپنی قبر میں لٹائے گئے ، اور اس وقت تک میں ان کے ساتھ تھا، اور میں نے خون بہنا تو دور خون کا کوئی دھبہ بھی نہ دیکھا تھا۔  اب نو ماہ بعد  صرف ایک پانچ روپے  کے سکے کے برابر  خون کا دھبہ ان کے سفید کفن پر دیکھا ۔
خیر  یہ سب مشاہدہ  کر کے میں نے دربار شریف کا غلاف  ابا جی کے  اوپر  بچھا دیا  اور  باہر نکل آیا۔  بڑے بھائی میرے  قریب آئے اور  آنسوؤں سے لبریز  آواز میں کان میں پوچھا:۔ کیسے ہیں؟ سو رہے ہیں۔؟ میں نے جواب دیا :۔ جیسے دفنایا تھا ، ویسے  کے ویسے ہیں ، حتیٰ کے کفن  کو بھی کوئی زوال تک نہیں۔ اب تین لوگ  محراب کی اینٹیں  ہٹانے لگے اور  باقی سب  باہر نکالنے لگے۔  محراب اوپر سے پوری طرح ہٹا دی گئی۔  تو قبر کا منظر سب  کیلئے واضح ہو گیا۔  جب سلیب رکھنے کیلئے  دیوار  کی درستگی  کر لی گئی تو میں دوبارہ قبر میں اترا اور   احتیاط سے غلاف  اکٹھا کر کے باہر پکڑا دیا۔  اس کے بعد  تو سب لوگ  قبر کی طرف امڈ آئے ، اور اللہ کی  قدرت کا  اپنی آنکھوں سے نظارہ  کیا۔ میں  نے سب کے سامنے  کفن کے اندر ہاتھ ڈال کر  کفن کی اوپری  چادر جھاڑی  ، جس کی کورے لٹھے  والی کھڑکھڑاتی آواز باہر کھڑے ہر  بندے نے سنی۔   قبرستان  میں  اس  وقت  جتنے بھی لوگ آئے ہوئے تھے ، سب  یہ نظارہ دیکھنے آنے  لگے اور دیکھ کر بے اختیار درود شریف کا ورد  کرنے لگ جاتے۔
کمال کی بات  یہ  تھی کہ  کفن کے بند  (کپڑے کا ایک پٹی نما عمودی ٹکڑا، جسے بعدمیں دفن کے وقت کھول دیا جاتا ہے) جو ابا جی  سے الگ ایک طرف پڑے تھے ، وہ مٹی میں  گل کر  مٹی ہو چکے تھے،  سوائے اس تھوڑے سے سرے کے جو  ابا جی کے  کفن کے  ساتھ مس ہوا پڑا  تھا بالکل صحیح سلامت تھا۔ 
 بے شک اس میں عقل والوں کیلئے  بہت سی نشانیاں ہیں۔
اس کے بعد  میں باہر آیا اور  کنکریٹ کے  سلیب  رکھ کے قبر کو  دوبارہ بند  کر دیا گیا۔  اوربقیہ  کام  معمول کے مطابق جا ری رہا۔

میں کوئی عالم نہیں کہ علمی نکتوں یا فقہی  مسائل پر  بحث کروں  اور  فروعی  باتوں پر مناظرے کروں  ، میں ایک سادہ سا مسلمان ہو ں ، جو  اپنے مشاہدے  کے بل بوتے پر  یقین سے کہتا ہے کہ  یہ شاندار  انجام  ، یہ  پر شکوہ  نظارہ ءِ  قبر اس شخص کا  تھا  جو حقیقی  معنوں میں  غلامِ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھا، یہ  انجام ایک  میلاد منانے  والے اور کثرت سے درود شریف پڑھنے والے  کا  تھا۔  جن کی قبر کشائی  کا  احوال آپ نے پڑھا  ،  وہ  باقاعدگی  سے ہر ماہ کی گیارہ تاریخ کا دن اور  بارہ تاریخ کی شام  کو  گیارہویں  شریف کی محفل کا  انعقاد کرتے تھے ،  اور وہ ان کی وفات کے بعد  بھی جاری و ساری ہے۔
سائنس  کہتی ہے  کہ دفن کے 78 گھنٹوں  کے اندر اندر  قبر کے اندورنی حبس اوردباؤ  کی تاب نہ  لاتے ہوئے  میت   پوری طرح پھٹ جاتی ہے ۔  لیکن  میں نے  آپ  کو 78 نہیں کم وبیش 9 ماہ     بعد  کا  نظارہ دکھایا  ہے۔ جھوٹ سچ  اللہ  بہتر جانتا ہے۔
جو بھی تیرے فقیر ہوتے ہیں
آدمی بے نظیر ہوتے  ہیں

Saturday, 21 March 2015

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔ ۔ (آخری قسط)۔

1 آرا
جمعرات 12جمادی الاول، بمطابق  13 مارچ  2014 کی سہ پہرتقریباً سوا چار بجے والد محترم  جناب سید ممتاز  حسین  بخاری  کو  ان کی والدہ محترمہ کے  پہلو میں واقع ان  کی آخری آرام گاہ میں اتارنے کا شرف  خاکسار (جوگی) کو  حاصل ہوا۔
اس کے بعد  روزانہ  صبح کی نماز کے  بعد   ان کی قبر پر  تلاوت  کرنا اور  پھول ڈالنا میرا معمول ہو گیا۔  تدفین کے  دوسرے دن صبح  جب تلاوت  اور  ختم سے فارغ ہو کر  میں لوٹ ہی رہا تھا  کہ  دو آدمی  قبرستان  میں داخل ہوئے ،  اور مجھ سے پوچھا  کہ  پیر ممتاز شاہ صاحب کی قبر  کونسی ہے۔؟ میں نے  ہاتھ کے اشارے سے بتایا  تو اس  نے مجھ  سے  دریافت  کیا کہ آپ  ان کے کیا لگتے ہیں، میں نے  بتایا کہ خاکسار ان کا چھوٹا  بیٹا ہے۔ اس  پر  اس نے میرا ہاتھ تھام لیا  اور مجھ سے  معذرت کی  کہ  میں عمرے  پر گیا ہوا تھا اور  ابھی کل ہی  واپسی ہوئی ہے ۔  مجھ سے جنازے میں شرکت  سے محرومی  پر افسوس کا اظہار کیا  اور  ہم  چلتے چلتے ان کی قبر تک  آ پہنچے۔
قبر کے پاس پہنچ کر اس نے میری طرف دیکھا  اور کہا  کہ  یہ اس  وقت مدینہ منورہ  میں  ہیں۔ میں  نے اس کا حسن عقیدت سمجھ  کر محض مسکرانے پر  اکتفا کیا، لیکن اس نے مزید جو کچھ بتایا  وہ  سننے اور لکھنے لائق تھا۔
اس نے بتایا  کہ  عمرے پر  روانہ ہونے   سے پہلے جناب سید باقر  شاہ صاحب (میرے ماموں زاد بھائی) کے پاس حاضر  ہوئے۔  انہوں  نے فرمایا کہ  آپ ہمارا سلام لے جائیں  اور حرم شریف میں آپ  کی ملاقات  میرے  دادا جان سید باغ علی  شاہ  بخاری رحمتہ اللہ علیہ (راقم کے نانا جان) سے ہو گی ، انہیں ہمارا سلام پہنچا دیجئے  گا۔  راوی کا کہنا تھا کہ  سننے  میں یہ بات مجھے بہت عجیب  لگی لیکن پاس ِ ادب سے  کسی چوں چرا کی بجائے میں نے حامی بھر لی۔ لیکن دل  میں مجھے پریشانی  تھی کہ ہم مرحوم  پیر صاحب تک  سلام کیسے پہنچائیں گے۔  ایک  دن حرم شریف  میں طواف کے بعد  جب میں سستانے  کیلئے  ایک  ستون سے ٹیک لگا کر  بیٹھا  کعبہ  کو دیکھ رہا تھا کہ  اچانک کسی نے میرا کندھا ہلا کر  مجھے اپنی طرح متوجہ کیا۔ سر اٹھا کر  دیکھا تو قبلہ  سید باغ علی  شاہ صاحب  کھڑے تھے ۔ بقول اس کے ، قبلہ پیر صاحب کو اپنے  پاس دیکھ کر  میں ہکا  بکا رہ گیا اور  کچھ  سمجھ  نہ آیا کہ  کیا  کروں کیا  کہوں ، یہاں تک  کہ انہوں نے  خود ہی فرمایا کہ میرے  پوتے نے  جو میرے لیے پیغام بھیجا ہے  وہ بتاؤ۔  میں نے ادب  سے  ان کا سلام پہنچایا اور جواب  میں وہ  بھی سلام  کہہ کر ایک طرف چلے گئے۔ اور کل میں واپس آیا ہوں آج صبح  صبح قبلہ پیر صاحب کے مزار پر  حاضری دینے آیا ہوں ۔  اس کے  بعد راوی نے  دوبارہ میرے  والد صاحب کوباقاعدہ مخاطب کر کے  کہا  کہ :۔" مجھے یقین ہے آپ اس وقت مدینہ منورہ میں ہیں۔" اس کے بعد  انہوں نے  ایصالِ ثواب کیا  اور  وہاں سے  قبلہ نانا جان کے مزار کی طرف چل پڑے  اور خاکسار نے گھر لوٹ  کر اماں جان کو ان کے والد صاحب  کی تازہ ترین کرامت سنائی۔
اتوار 16  مارچ  2014 کو  قل خوانی کا  اہتمام تھا۔  حسب الحکم  اوپن ایئر انتظام کیا گیا۔  تقریباً چار کنال  کے رقبہ  پر دریاں  بچھائی گئیں،  لیکن  تمبو کنات نہیں لگائے گئے۔  9 بجے کے بعد  جوں جوں  سورج بلند ہوتا  گیا گرمی بڑھتی گئی ۔ مجھ سمیت  بڑے بھائی کو یہ پریشانی  تھی کہ  11 سے 12 بجے تک  کس طرح لوگ اتنی گرمی میں بیٹھیں گے۔ لیکن  مجبوری یہ تھی  کہ  ابا جان کا حکم تھا کہ  شامیانے  قناتیں نہ لگائے جائیں ۔  جن لوگوں کو  یہ وجہ معلوم نہیں  تھی  ان کے خیال میں شاید ہم کنجوسی  کی وجہ سے شامیانے  وغیرہ نہیں لگوا رہے۔ حتیٰ کہ میرے  ماموں  سید کاظم مسرور بخاری نے اپنی ناراضگی کو اظہار بھی کیا اور کہا کہ اگر خرچے کا مسئلہ  ہے تو مجھے بتائیں لیکن عین دوپہر کے وقت لوگ کس طرح بیٹھیں گے۔  انہیں جواب ملا کہ  جن  کا  یہ  حکم ہے وہ  جانیں اور ان کی  قل خوانی جانے ، ہم نے تو بس حکم کی تعمیل  کی ہے ۔
اور الحمد اللہ  اس قدر تعداد میں لوگ آئے  کہ چار کنال  پر بچھی دریاں  کم پڑ گئیں  ، اور دوبارہ  65 دریاں مزید منگوائی گئیں۔ 
جونہی  پرو گرام شروع ہوا  تو سب نےدیکھا کہ  مغرب  کی جانب سے بادل کا ایک  بڑا سا ٹکڑا  رینگتا ہوا  آیا اور  پنڈال پر ٹھہر گیا۔  ہماری جان میں جان آئی اور لوگوں کیلئے دھوپ سے  بچاؤ کا  قدرتی انتظام ہو گیا۔ 
نعت خوان حضرات  کثیر تعداد میں آئے ہوئے  تھے،  ہر ایک کو زیادہ سے زیادہ  دو منٹ  کا وقت دیا جاتا  رہا،  سب سے  آخر میں ابا جان کے پسندیدہ نعت  خوان  ، حاجی  عطا محمد  صاحب  کو  فری ہینڈ دیا  گیا  ۔  اور  حاجی صاحب  کا  یہ حال تھا  کہ نعت پڑھتے پڑھتے ہچکیاں  لگ جاتیں۔  اس کے بعد  میرے  چچا زاد  بھائی  سید ضمیر  حسین  بخاری خطاب کیلئے کھڑے ہوئے ،   موت اور اس کے متعلقات پر تھوڑی سی روشنی ڈالنے کے بعد  جب مرحوم  کا  ذکر چھڑا  تو ہجوم میں آہ و بکا  کی آوازیں  وقفے وقفے  سے  بلند ہوتی رہیں ،  لوگ  دھاڑیں مار مار  کے روتے رہے ،  اس دن  مجھے ابا جی کی  سربستہ  زندگی کا  ایک  اور  راز پتا چلا،  صرف مجھے ہی نہیں ہم سب بھائیوں پر یہ راز اس دن منکشف ہوا۔  راوی  بیان کرتے ہیں، کہ  جب ہم عمرے پر  روانہ ہونے لگے تو  مرحوم  نے  ایک  مہر بند  رقعہ  میرے  حوالے کیا اور فرمایا  کہ یہ امانت  مدینہ منورہ  پہنچا دیجئے گا۔ مدینہ منورہ جب ہماری حاضری ہوئی  تو  مجھے وہ رقعہ رکھنے کیلئے  کوئی مناسب جگہ نہ ملی تو  میں نے  روضہ مبارک  کے  ساتھ پڑے قرآن مجید  کے ڈھیر  کے نیچے وہ رقعہ  رکھ دیا ۔
(اس دن شام کو  جب اماں جان سے اس بات کی تصدیق  چاہی تو اماں نے ہمیں  پہلی بار  یہ بتایا کہ  ہاں انہوں  نے  آنجناب  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم کے نام ایک  رقعہ لکھا تھا ، اور جس کیفیت میں لکھا تھا  اسے  لکھنے  سے راقم قاصر ہے )
ٹھیک 12  بجے ختم  پڑھا  گیا اور  بھائی کی دستار  بندی ہوئی ،  اور  کھانا  تقسیم ہونے لگا۔  بریانی اور زردہ  اس قدر  زبردست  بنا ہوا تھا کہ  لوگوں نے جی بھر کھایا اور اپنے ساتھ بھی تبرک کے طور پر لے گئے ۔
ایک صاحب  نے بعد میں روایت  کیا کہ  "میرا  بیٹا  شدید  بیمار تھا ،  اس دن قل خوانی میں جو لنگر بانٹا  گیا ، اس کا کچھ حصہ میں اپنے ساتھ بطور تبرک لے  گیا اور بیٹے کو کھلایا ۔  اور  میرا بیٹا جو کئی سالوں  سے  بیمار تھا اور ڈاکٹرز جواب  دے چکے تھے ، اب الحمد اللہ  وہ بالکل صحت مند ہے۔"
اللہ والوں کے راز اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی  بدل گئی
اک شخص  سارے شہر کو  حیران کر گیا

جانے  والے تو چلے گئے  لیکن دنیا کا چلن بھی بدل گئے ۔  ان  کی وفات کے بعد  خاکسار  نے  بہت  کچھ  بدلتا دیکھا  ہے۔  کچھ ایسا بدلاؤ جس  کا سوچنا  بھی نا ممکن تھا، لیکن وہ ممکن دیکھا ہے۔
لوگوں کو  اب  خدا  یاد آ گیا ہے ۔ لوگوں کو اب موت یاد رہنے  لگی ہے۔
لوگ  اب موت کی تیاری  دل  سے کرتے پھرتے ہیں۔
جسے دیکھو وہی  اپنا کفن  تیار  کروا رہا ہے۔ ہر  دس میں سے پانچ  افراد اپنی زندگی میں اپنی قبریں تیار کروا  رہے ہیں۔  علماء جب بھی تقاریر  میں موت کا ذکر کرتے ہیں ،  تو ان کا نام  لازمی لیتے ہیں۔  غرض کہ ان کی وفات جیسے وسیب کیلئے ضرب المثل بن گئی ہے۔
دور  ، دور سے لوگ  ان کا  صرف ذکر  سن کر ان کی  قبر پر فاتحہ  خوانی کیلئے آتے ہیں۔ ابھی  حال  ہی کا واقعہ ہے ۔  جو کہ وقوعے کے دو دن  بعد  مجھے معلوم ہوا۔
(دروغ بر گردن راوی)
16  مارچ  2015 کو  ایک  فیملی مزار پرحاضر  ہوئی ۔  ان کی کمسن بچی پر  جنات کا  قبضہ تھا۔  بچی کے والدین نے ہر طرح کا علاج کروایا ، عاملوں  ،پیروں فقیروں  کے  پاس چکر لگائے ، لیکن بے سود۔  بچی کے والد  (جو کہ  سید ممتاز حسین بخاری   رحمۃ اللہ  علیہ کا مرید بھی نہیں) نے اپنے پیر صاحبان  کے پاس جا کے فریاد کی ، جب حاضرات کا عمل کیا گیا ، تو  (بقول ان کے) قابض جن نے کہا  کہ  یہ سید  ممتاز حسین  بخاری کی  مریدنی ہے  ،  اس لیے  اب تک زندہ ہے۔  آپ ان کے مزار پر حاضری دیں ، ہم چھوڑ دیں گے۔  اور پھر  وہ  سب  مزار  پر حاضر ہوئے ۔ اب  وہ بچی بالکل ٹھیک  ہے ۔ 
اس کے علاوہ  اور بھی بہت سے واقعات ہیں ، جو  ہم تک لوگوں کی زبانی پہنچتے ہیں۔  اور ہماری حیرانی  در حیرانی کا سبب بنتے ہیں۔

نام فقیر انہاں  دا باہوؒ،  قبر جنہاں  دی جیوے ہو۔۔۔ 

Monday, 9 March 2015

چلتے ہو تو لاہور کو چلیے (قسط پنجم)۔

0 آرا

انتظار گاہ میں بڑی سی "ایل سی ڈی" پر ٹیسٹ میچ دکھایا جا رہا تھا۔ اور کرکٹ کے نشئی  مکھیوں کی طرح آنکھیں لگائے بیٹھے تھے۔ مجھے کرکٹ سے تو ویسے بھی دلچسپی نہیں رہی کجا کہ ٹیسٹ میچ دیکھنا۔

ارسل اور افی صاحب تک  بذریعہ ایس ایم ایس اطلاع پہنچائی ، جواباً افی صاحب کی کال آ گئی۔ انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور پوچھا ارسل کی کوئی خیر خبر؟ میں نے بتایا کہ جناح ٹرمینل سے نکلتے وقت اس سے بات ہوئی تھی ، تب اس نے ساڑھے چھ کا لارا دتہ تھا۔ ازاں بعد  کوئی اتا پتا نہیں ۔

یہاں ایک ابہام کا ازالہ ضروری ہے ورنہ افی صاحب کی خوئے مہمان نوازی پہ حرف آنے کا  خطرہ منڈلاتا رہے گا۔

صاحبو !!! تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ افی صاحب ان دنوں اے آر وائی زندگی چینل پر آن ائیرسوپ سیریل "بہنیں ایسی بھی ہوتی ہیں" کی تکمیل میں مصروف تھے ، محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً انہیں سر کھجانےکی بھی فرصت نہیں تھی۔ لکھنے لکھانے والے خوب جانتے ہیں کہ لکھنے کا عمل وحی کے عمل جیسا ہوتا ہے۔ یکساں اسراع  سے لکھتے لکھاری پر اگر کوئی بیرونی قوت  مداخلت کرے تو اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلتا۔

اب یہ تو افی صاحب کی بندہ پروری اور دلنوازی  ہے کہ اس مصروفیت کے عالم میں بھی انہوں نے مجھ سے ملاقات طے کر لی۔ حسنِ اخلاق کی اس سے اچھی مثال شاید ہی کوئی ہو۔ پانچ بجے تک  ان کا لکھنے کا وقت تھا ، اس کے بعد داستان سرائے جانا تھا جہاں ادبی نشست تھی۔ اور   ہمارے درمیان یہی طے پایا تھاکہ میں پانچ بجے شام تک ہی لاہور پہنچوں گا۔ بقول غالب:۔ "وائے دیوانگیِ شوق" کہ میں ساڑھے تین بجے ہی لاہور میں تھا۔ پس ثابت ہوا کہ اس میں افی صاحب کا کوئی قصور نہ تھا کہ وہ میرے استقبال کو نہ پہنچے تھے۔ بلکہ میں ہی مقررہ وقت سے پہلے پہنچ گیا تھا۔

اب خاکسار کے پاس مبلغ ڈیڑھ گھنٹہ فرصت کا تھا، جسے میں نے " تصورِ جاناں کیے ہوئے" بیٹھنے کی بجائے ادھر ادھر تاڑا تاڑی شروع کر دی۔ لیکن  جیسا کہ بھیدی لوگ جانتے ہیں یہ بھی ایک دقیق  فن ہے، جس میں کہ فدوی کورا پایا گیا۔ اس لیے جلد ہی اس شغل سے اکتا کر اور پڑھنے کیلئے کوئی کتابی چہرہ  نہ پا کر مجبوراً ایل سی ڈی کی طرف ہی منہ کر لیا۔ میری اس حرکت سے یونس خان کواس قدر خوشی ہوئی کہ اس نے  دوسری گیند پہ چھکا لگا دیا۔ صرف اسی پہ بس نہیں اس کے چند گیندوں بعد ایک اور چھکا ، پھر ایک چوکا اور پھر ایک اور چھکا۔ اپنی اس کرامت کا اگر پہلے ہی اندازہ ہوتا تومیں آتے ہی میچ دیکھنے لگ جاتا ۔

خیربھاگتےچور کی لنگوٹی سہی ۔ یونس خان کا بلا رنز اگلتا رہا اورجوگی کا وقت اچھا گزرتا رہا۔  فلک کج رو سے یہ برداشت نہ ہوا تواس نے سورج  کو متحدہ عرب امارات میں "شام ہوگئی ہے" کا نوٹس دینے پہ اکسایا۔ شام ہوئی اور پاکستان نے اننگزڈیکلیئر کر دی۔ مجھے کونسا فرق پڑنے والا تھا، میچ نہ سہی خبریں ہی سہی۔

ادھر افی صاحب نے لکھتے لکھتے سوچا کہ وہ بے چارا اتنی دور سے آ کر اڈے پہ رُل رہا ہے، اگرآج یہ قسط مکمل نہیں ہوتی تو کونسا کعبے کو کنڈ ہوجائے گی۔  یہ سوچتے ہی ان سے بیٹھا نہ گیا، تو کار لے کے آ گئے اور مجھے کال کی ، باہر آ جا  جھوٹے غالب، میں رہبر  ٹریولز ٹرمینل کے سامنے کھڑا ہوں۔ میں باہر نکلا سڑک پارکی ، اور ادھر ادھرنظریں دوڑائیں ، مگر افی صاحب نظر نہ آئے ، میں نے آگے بڑھ کے دیکھا تو ایک لمبی سی بس کےپیچھے سفید رنگ کی خیبر کھڑی نظر آئی۔

افی صاحب سٹیرنگ پہ ہاتھ رکھے جھک کر ادھر ادھرجھانکتے مجھے ڈھونڈنے میں مصروف تھے۔  میں نے ہاتھ کا اشارہ کیا تو چہرے پہ دلفریب مسکراہٹ ابھرآئی۔اتنے میں، میں کار کے پاس پہنچ چکا تھا۔ دروازہ کھولنے لگا تو افی صاحب نے کہا ایک منٹ رکو۔ کار سے باہر نکلے اور مجھ سے بغلگیر ہو گئے۔

یہ ہماری پہلی ملاقات  تھی ۔

(جاری ہے....) ۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما