Thursday, 26 September 2013

ہے خبر گرم ان کے آنے کی

11 آرا
الف۔۔۔۔
انسان  ہے  تو  خسارے میں ہے ۔۔۔
خوشی ہو یا غمی  آپے سے  باہر ہونے میں دیر نہیں  لگاتا۔۔۔
خوشی  ملے تو  کہنا  کہ  "میں نے کر دکھایا۔"
غم ملے تو "میری تو قسمت ہی خراب ہے ۔ " یا  "قدرت  کو تو مجھ سے خدا واسطے کا بیر ہے۔"
ویسے  تو بہت عقلمند  اور  بحر علم کا  شناور ہے  ۔  سائنس  تو اس کی انگلیوں  پہ دھری ہے ۔  
نیوٹن کا  حرکت کا  تیسرا قانون  "ہر عمل کا ایک رد عمل  ہوتا  ہے " تو بچے بچے  کو بھی یاد ہے ۔  مگر  آزمائش  کے وقت  نجانے  کیوں  یہ  قانون  اکثر  بھول جاتا ہے ۔
شاید اعمال نامے  پہ نظر ڈالتے دل دہلتا  ہو۔۔۔!!

الف۔۔۔۔
اللہ  ہے  تو  اپنی  شان  کے مطابق  عظمتوں  کا مالک ہے ۔
اپنی مخلوق سے اتنا  پیار کرتا ہے  کہ ستر ماؤں  کا پیار  یکجا ہوجائے تب بھی  اس کے  پیار  کے  برابر  نہیں۔
مومن  ہو یا گناہگار ۔۔۔۔  اس  کے پیار  میں کمی  نہیں آتی ۔۔۔اس کی رحمت  کے سامنے سب برابر ہیں۔
توبہ  کا دروازہ  کھول کے  بیٹھاہے ۔ کہ  کب  بندے  کو میری  یاد آ جائے ۔۔۔۔
سب کے عیب  دیکھ رہا  ہے ۔۔۔ اور  پردے  ڈالے جاتا  ہے ۔

سیانے کہتے ہیں دنیا میں  پیدا ہونے  والے  پر بچے  کی  پیدائش  دراصل  اس بات کا اعلان  ہے کہ  اللہ تعالیٰ  ابھی  انسان  سے  مایوس نہیں  ہوا۔ 
چہ خوب ۔۔۔!! حضرت انسان  نے  حد کر دی ہے اپنی  حد پار کرنے میں۔۔۔۔ اپنی اوقات  بھول  جانے میں۔۔۔۔ مگر  اللہ  کی رحمت  کے قربان جائیے  کہ انسان  سے ناامید نہیں ۔۔۔ دنیا  میں آج  کیا کچھ نہیں  ہو رہا ۔۔۔اس کے  باوجود  اللہ  کی رحمت  بدستور  اس  صبح کے  بھولے  کی  شام  سے پہلے  واپسی  کیلئے  پُر امید ہے 
۔
گویا  غالب ؔ  کے بقول :۔ "وہ اپنی خو نہ چھوڑیں  گے ہم اپنی وضع کیوں  بدلیں۔"

میں  ہر روز  کی  طرح سورج  کے  مغرب سے طلوع ہونے  کا خوف دل میں لیے صبح  جاگا  تو  پیغام ملا  کہ  اللہ  کی طرف  سے  صلح  صفائی  کا  ایک  اور موقع  ملا  ہے ۔  اللہ  کی  انسان  سے  خوش امیدی  کی  ایک  اور علامت  دنیا  میں وارد ہوئی  ہے ۔۔۔مجھ سے  سیاہ  کار  کیلئے  یہ  خبر کتنی  خوشی  کا  باعث ہوئی  اس  کا  اندازہ  کرنے  کیلئے ذرا  حضرت  یعقوب  علیہ  السلام کا  واقعہ  قرآن مجید  کی زبانی  ملاحظہ  فرمائیں ۔۔۔۔  جب انہیں حضرت یوسف علیہ السلام  کی  کنعان  آمد  کی خوشخبری  سنائی  گئی  تھی ۔
میری  خوشی  کا اندازہ  صرف  وہ  پھانسی  کا  مجرم  ہی لگا سکتا ہے  کہ  جسے عین  پھانسی  سے  کچھ دیر پہلے  معافی  نامے  کی خوشخبری  مل جائے ۔۔۔

میں نے  سنا  ہے  جب  ابو لہب  کو  ثوبیہ  نے  آمد  سرکارﷺ کی  خبر سنائی  تھی تو  اس  نے  خوشی  کے مارے  خبرلانے  والی  لونڈی  کو  آزاد  کردیا ۔  اور  اس  کے اعمال  نامے کی تمام  تر  سیاہ کاریوں  کے باوجود وہ  آج  بھی  اس  ایک  عمل  کی  جزا پا رہا ہے ۔۔۔ میرے دل میں خیال  آیا کہ  نام  نہاد  جوگی  میاں  ابو لہب اور  آپ  کے اعمال نامے  میں کم از کم  انیس بیس کا ہی فرق  ہوگا ۔  پس  اگر امید  کی ایک کرن  ۔۔۔ تسکین کا  ایک  لمحہ ۔۔۔ عذاب سے  ایک  لمحے کا  چھٹکارہ ۔۔۔اسے مل سکتا  ہے  تو  یقیناً تمہیں  بھی مل سکتا  ہے ۔ غلام ، لونڈیوں  کا  تو زمانہ  لد گیا تو کیا ہوااپنے  انداز میں خوشی  کا  اظہار تو  کیا  جا سکتا ہے ۔  اللہ  کو  اپنے  محبوب  ﷺ سے  اتنا  پیار  ہے تو  یقیناً  محبوب  ﷺ کی امت  سے  بھی پیار ہوگا۔  پس  اگر  ایک  پیارےنبی  ﷺ کے  ایک  پیارے امتی کی  آمد پر خوشی  کے اظہار  کا  موقع ہے  تو  ہاتھ سے جانے نہ پائے ۔ڈوبتے  کو تنکے کا سہارا بھی  بہت  بڑا  سہارا  لگتا  ہے ۔۔۔میری  اس بات  کی حقیقت  صرف وہی  سمجھ  سکتے  ہیں جو  سیاہ کاری  اور  کمینگی میں میرے ہم پلہ  ہوں۔ اگر  خوش قسمتی  سے  آپ  میری  بات نہیں سمجھ  پا رہے تو  اللہ کا شکر ادا کیجئے ۔

اللہ  تعالیٰ نے اپنے  پیارے  رسول ﷺ اور ان  کی  امت  پر بے شمار  نعمتوں  کی بارش  کی ہے ۔  ان  بے شمار  نعمتوں  میں سے  اس نے  صرف  "کوثر" عطا  کیے جانے  کا ذکر فرما کر  خوشخبری  دی "بے شک  آپ کا دشمن  ہی  بے نام و نشان  ہوگا۔" اس  سے اندازہ  لگایا جا سکتا ہے کہ  نام  و نشان  ہونا  کس قدر  بڑی نعمت  ہے ۔  کفار اور منافقین  نے مذاق بنا لیا  تھا  کہ  آپ ﷺ کو  اللہ تعالیٰ نے  اولادِ نرینہ  عطا نہیں فرمائی ۔  اس  کی تردید  میں اللہ  نے  خاص طور پر  سورۃ  نازل فرما کر  آپ  ﷺ کے دشمنوں  کے بے نام  و نشان  ہونے  کی خبر  دی ۔ اب  کوئی  کہہ سکتا ہے  کہ  نعمتوں  کا ذکر تو  اللہ  نے تقریباً سارے  قرآن مجید  میں فرمایا  ہے ۔  سورۃ  الرحمن  کا  تو  موضوع  ہی یہی  ہے کہ  "پس تم اپنے رب کی  کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔" لیکن  اندازِ بیاں  پر  غور فرمائیے ۔ اور سورۃ  کوثر  کی  آیات کی تعداد  سے  اندازہ  لگائیے کہ اس  سورۃ  میں اللہ تعالیٰ  نے  اپنی خاص الخاص نعمت  کا ذکر  کر کے ظاہر  کیا  ہے کہ  نام و نشان  ہونا  دراصل  اس دنیا  کی سب سے بڑی اور  ہمیشہ رہنے والی نعمت ہے ۔ پس مبارک  باد کا مستحق ہے ہر  وہ  اللہ  کا بندہ  جسے اللہ  نے یہ نعمت  عطا فرمائی  ہے ۔

 ڈارون  سے  ہر چند کہ  میں متفق نہیں مگر  نظریہ  ارتقا  کا جزوی  طور پر  قائل ضرور ہوں۔حضرت آدم علیہ  السلام  کی وفات  کے وقت  ان کی  اولاد  کی تعداد  کیا تھی ۔ ان میں سے کتنے  ہی  قدرتی آفات  کی  زد میں آ کر  مر گئے  ہوں  گے ۔ کچھ آپسی  جھگڑوں  کی بھینٹ چڑھ گئے ہوں  گے۔ ان  میں سے زندہ وہی رہے  جو  قدرت کی نظر  میں بہترین  تھے ۔ ان کی اولادیں  ہوئیں، اور  قدرت کا  چھانٹی  والا فارمولا  ہر زمانے  میں لاگو ہوتا  رہا۔ دنیا  میں کتنی ہی جنگیں ہوئیں ۔ کتنے ہی زلزلے آئے ، کتنے  ہی انسان  سیلابوں  ، طوفانوں کی نظر ہوگئے ۔ مگر  دنیا  انسان  سے خالی  نہیں ہوئی ۔ ہر  لیول  سے  سروائیو کر کےآگے  آنے  والےیقیناً بہترین  تھے اور قدرت  کی نظر  میں خاص  تھے ۔ اب  حال  پر نظر دوڑائیں  تو  ثابت ہوگا  کہ حضرت آدم  کی  اولاد  کی چھانٹی  میں سے  قضا و  قدرت  نے  موجوہ انسانوں  کو  ہی چنا ۔کیا  یہ  بات  حکمت  سے خالی  ہو  سکتی ہے  کہ  اتنے زمانوں میں آنے والی  بے شمار  آفات  اور  جنگوں  کا  شکار  ذوالقرنین سرور  کے  آباو اجداد  نہ تھے ۔ اور  اب  جبکہ  بقول غالبؔ:۔ 
سلطنت دست بدست  آئی  ہے 
جامِ مے  ، خاتمِ جمشید نہیں
حضرت آدم  علیہ السلام  سے  ہوتے  ہوتے یہ  سلطنت  اب  محمد  زین  العابدین تک  آن پہنچی ہے ۔تو ماننا ہی  پڑے گا  کہ  قدرت  نے  انہیں بے مقصد  نہیں چُنا۔ یہ  یقیناً  بہت  ہی خاص الخاص  ہیں۔
بڑے غالب ؔ  نے  اپنے سات  بچے  دے کر  قدرت  سے زین العابدین خان عارفؔ کو  پایا  تھا ۔  اور چھوٹے  غالب ؔ پر  بھی  اللہ  کا کرم ہو گیاہے ۔

خوش آمدید  محمد  زین العابدین۔۔۔۔

ختم کرتا ہوں اب  دعا پہ کلام
شاعری سے نہیں مجھے  سروکار
تم سلامت رہو  ہزار  برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار   

Saturday, 21 September 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط ہفدہم)۔

2 آرا

گر کیا  ناصح نے  ہم کو قید، اچھا!یوں سہی


نئے  قانون کے نفاذ کابھی جوگی اور وسیم  کے معمولات پر کچھ خاص اثر نہ ہوا۔ یعنی جو محفل  ہوسٹل کے گراسی  پلاٹوں  پہ سجتی تھی ۔وہ  اب    کھیل کے میدان کے مشرقی  سرے  پر واقع  ٹیوب ویل کے  حوض پر سجنے لگی  ۔ عجیب بات یہ کہ محفل کے شرکاء کی تعداد بجائے کم ہونے کے بڑھتی گئی  ۔ اور مزے  کی بات یہ  کہ  باقاعدگی  سے کرکٹ  کھیلنے  کے عادی طلباء  بھی اب کرکٹ  بھول بھال  کر  اس محفل کا  حصہ  نظر آتے ۔سب قاعدے قانون  دھرے کے دھرے رہ گئے ۔  مدعی  لاکھ  برا چاہے تو کیا ہوتا  ہے ۔۔۔۔
اس  پر  قانون میں  ایک ترمیمی  بل کے ذریعے  اضافہ عمل میں لایا گیا  کہ تمام طلباء پر یہ بھی  لازم ہے کہ وہ کسی نہ کسی کھیل  میں حصہ لیا کریں ۔

کھیل کے میدان  تقریباًتین ایکڑ کے رقبے پر پھیلے ہوئے تھے ۔ایک حصے  پر  فٹ بال کھیلنے والوں کا قبضہ تھا ۔ اور اسی کے  کچھ حصے میں کبڈی کھیلنے والوں کا میدان سجتا تھا ۔ بقیہ دونوں حصوں  میں کرکٹ  کے نشئی  اپنا نشہ  پورا کیا کرتے  تھے ۔جوگی  کے پسندیدہ ترین استاد جناب محمد  حنیف صاحب فٹ بال  کھیلنے والوں میں شامل  تھے اس لیے جوگی  اور وسیم  نے فٹ بال  ٹیم میں شمولیت اختیار  کی ۔مزے کی بات  یہ  دونوں  کا  تجربہ  صرف  دیکھنے  کی  حد تک تھا۔  پہلے ہی دن  شاید  لمبے قد  اور دیو  جیسے بازوؤں  کی  وجہ  سے  جوگی کو گول کیپر  کھڑا  کر دیا گیا ۔وسیم  کو  تو شاید  میدان  میں فٹ بال  کو کک  لگانے کا  موقع  میسر  نہ آیا  مگر  گول کیپر  کی حیثیت  سے کھڑے جوگی  کی طرف فٹ بال  بھاگ بھاگ  کے آتا ۔گول   کی  دو کوششیں ناکام  کرنے بعد  تیسری  بار  فٹ  بال  جب  گول  کی طرف آیا تو جوگی صاحب  نے جو ش میں آ کر   زندگی  میں پہلی بارجو کک  ماری اس کا  فٹ بال  پر  تو  کوئی خاص  اثر  نہ  ہوا  سوائے اس  کے  کہ  دس بارہ  فٹ  دور  جا گرا البتہ  جوگی  میاں پر   اچھا خاصا اثر ہوا۔ اس وقت تو  گول پوسٹ  چھوڑ  کے  پاؤں  سہلانے میدان کے   کنارے جا بیٹھے  ۔  مغرب ہوتے ہوتے پاؤں  اچھا  خاصا سوج گیا۔ اور  عشاء  ہونے تک حالات مزید  بگڑچکے تھے  ۔  اور صبح  جوگی  صاحب چلنے پھرنے سے بھی عاجز تھے ۔
کچھ  دن  کی مالش  رنگ لائی اور پیر  ٹھیک  ہوگیا  مگر  جوگی  اور وسیم نے پھر کبھی فٹ بال  کا نام نہ لیا۔ چونکہ قاعدے کی رو سے کسی نہ کسی  کھیل میں حصہ لینا  ضروری تھا ۔اور ویسے  بھی بقول  جناب  مرزا  غالب ؔ علیہ الرحمۃ
اپنا  نہیں وہ شیوہ  کہ آرام  سے بیٹھیں
اس در پہ نہیں بار تو کعبے  ہی کو ہو  آئے
 اس لیے جوگی  نے میس  میں تنور جلانے  کیلئے  آنے والی لکڑیوں میں سے ایک  اچھا  سا ڈنڈا  منتخب کیا  اور میس  کی کلہاڑی سے دو  عدد بہترین  گُلیاں  تخلیق  کیں ۔ اور اگلے دن  کرکٹ گراؤنڈ کے  ایک طرف جوگی  اینڈ کمپنی  نے   گلی ڈنڈے کا میدان سجا لیا ۔ اکثر طلبا  ء کیلئے  یہ نیا  کھیل تھا ، اور کچھ اس کھیل  کے کھلاڑی  نکل آئے ۔ اب جو  انہوں نے جوگی اور وسیم  کو گلی ڈنڈا کھیلتے  دیکھا تو ان  کو بھی کھیلنے کا شوق چرایا ۔ یوں چند دن بعد  گلی ڈنڈا کھیلنے والی دو ٹیمیں معرض وجود میں آگئیں ۔ اور بڑے  معرکے  کا کھیل ہونے لگا ۔ لیکن  چونکہ  اسی میدان میں کرکٹ کھیلنے والے بھی  ہوتے  ا س لیے  گلی ڈنڈا  کھیلنے  والے  کھلاڑیوں  کی مہارت اکثر ان بیچاروں کے ماتھے اور کبھی سر کیلئے  عذاب بننے لگی ۔ ایک  بار جب  جوگی  کی شاٹ  پر  گلی  ایک  کرکٹر  کے منہ سے ٹکرا  کر  اس کے ثنایا  علیا(سامنے  کے  دو اوپری دانت) کی شہادت  کا باعث بنی  تو گلی ڈنڈے  کے  کھیل پر پابندی  لگ  گئی ۔
 

عشق نبرد پیشہ  طلبگارِ مرد تھا


علم الصرف  کے مدرس  جناب محمد امین صاحب  کی  زبانی  جب یہ معلوم ہوا کہ  آنجناب  کراٹے ماسٹر بھی ہیں تو  جوگی  وسیم اور ناصر وغیرہ کے پیہم اصرار پر  انہوں  نے  عصر سے مغرب کے درمیان  کراٹے  کلاس  کی حامی بھر لی ۔شدہ شدہ  یہ  خبر  پھیل گئی  کہ  اب اکادمی میں کراٹے کلاس بھی ہوا کرے  گی ۔  پہلے  دن تقریباً ڈیڑھ سو  طلباء کراٹے سیکھنے  کیلئے  میدان  میں تھے ۔  دوسرے دن یہ  تعداد دگنی  ہو چکی تھی ۔ اور  جب  امین  صاحب نے  آٹھ فٹ اونچی   فلائنگ کک  کا  مظاہرہ  فرمایا  تو  تیسرے  دن نہ صرف  ہوسٹل  کا صحن  کراٹے سیکھنے  کے شوقین  طلباء سے بھر گیا  بلکہ  چاروں  طرف برآمدوں  میں بھی  دو دو قطاریں  بن چکی  تھیں۔ سب کا خیال  تھا  کہ  بس  ہفتے دو ہفتے  میں ہم بھی جیکی چن  بن جائیں گے ۔  مگر  جب  پہلے چار  دن صرف  جسمانی  ورزشیں  ہی  ہوتی رہیں۔ تو  وہی  ہوا جو کوفے  میں حضرت مسلم بن عقیل کے ساتھ ہوا تھا ۔پانچویں دن  صرف  22  طلباء  کراٹے  کلاس میں تھے اور چھٹے دن  یہ تعداد مزید  کم ہو کر  بارہ  رہ  گئی ۔ اور ساتویں  دن  یہ نفری  سات  کے ہندسے  پر  تھی ۔ سات  کا عدد  کچھ  ایسا سعد  واقع  ہوا کہ  کراٹے کلاس  کی  تعداد  پھر سات  پر ہی قائم  رہی ۔

لکھتے رہے  جنوں کی حکایاتِ خونچکاں


وقت  گزرتا  رہا لیکن  ایسے  محسوس  ہوتا  تھا  کہ گزرنے  کی  بجائے  بے چارے  طلباء پر  تنگ  ہوتا  جا رہا  ہے ۔ دن رات وہی چوبیس  گھنٹے  والے  ہی تھے ۔  ایک گھنٹے  میں بھی پہلے کی طرح ساٹھ منٹ تھے ۔ مگر اساتذہ  شاید  سمجھتے  تھے  کہ  طلباء کے  پاس چوبیس  کی بجائے  چونتیس گھنٹے  کا وقت  ہوتا  ہے  ۔ ایک دن میں سولہ  اساتذہ  کو  بھگتنے  کے علاوہ  ہفتے میں ایک  بار  لنگر  خانے  میں  لگا  لکڑیوں  کا ڈھیر  بھی  میس  میں ڈھونا  ہوتا تھا۔  سال  بھر  جتنے  چاول  کھاتے تھے  سال میں ایک بار وہ  بونے کی ذمہ داری  بھی  انہیں ناتوانوں پر  تھی ۔  وہ  منظر  بھی دیکھنے سے تعلق  رکھتا تھا ۔  کسان  زمین  تیار کر کے پانی لگا دیتے  تھے  اور صبح  کی نماز  کے بعد  طلباء  شلواریں گھٹنوں  تک  چڑھا  کے  یاجوج  ماجوج  کی طرح کھیت  میں ایک  طرف سے گھستے  اور دوسرے  سرے پر جا نکلتے ۔اسی  رفتار سے ایکڑوں پہ ایکڑ  دھان  بوتے  بوتے  نو بجنے  تک سب  کوہ قاف  کے  جنوں  کے  ہم شکل بن چکے ہوتے ۔ پھر  وہیں برگد  یا پیپل کی  گھنی  چھاؤں  میں  لسی  اچار  کے ساتھ  لنگر  خانے آئی  روٹی  سے ناشتہ  کرتے ۔  روٹی  شاید  اس  کیلئے  چھوٹا لفظ  ہے ،"روٹا "کہنا  زیادہ  مناسب ہوگا۔حجم  میں وہ تین روٹیوں  کے برابر  ہوتی  ،   بے حد  عمدگی  اور مہارت  سے  پکائی  گئی ۔  اتنے  محیط  کے باوجود  کیا  مجال  کہ  کہیں سے گولائی یا  موٹائی  میں  فرق  آ جائے ۔جوگی  ہمیشہ  اس روٹی  کے  حجم پر  حیران  ہی  رہا  تاآنکہ  جب تک  اس نے گولڑہ  شریف  کے  لنگر  خانے  میں  اس  سے بھی  بڑی  روٹی  نہیں دیکھ  لی۔ خیر  یہ تو  ایک  جملہ  معترضہ  تھا۔ ناشتے  کے  بعد  یاجوج  ماجوج  پھر حرکت  میں آتے  اور  دوپہر  ہونے  سے  سے  گھنٹہ  بھر  پہلے  ایک مربع دھان  بوکر  ہاتھ  جھاڑتے  ٹیوب  ویل  میں گھس  جاتے ۔اور دوپہر  کا  کھانا    حسبِ معمول  میس   میں جا  کھاتے  تھے ۔ اسی  طرح  دو یا  تین  دن  کے اندر  دھان  کی بوائی  مکمل  ہو جاتی۔
علاوہ  ازیں  مکئی  کے موسم  میں جب مکئی پک جاتی  تو یاجوج ماجوج  ایک بار پھر  حرکت میں آتے  اور دیکھتے ہی دیکھتے  مکئی کے بھٹے  پودوں سے ٹرالیوں  میں اور ٹرالیوں  سے خشک  کرنے کے  میدان  میں منتقل ہو جاتیں۔
اکادمی  میں طلباء  کی  بڑھتی تعداد  کے پیشِ نظر  سارا  سال  تعمیرات  کا  کام  بھی  ساتھ ساتھ چلتا  رہتا ۔  اسی عرصے کے دوران  نیا  میس  ہال  ، باتھ رومز  اور ہوسٹل  کا  مشرقی  ضمیمہ  تعمیر  ہوئے ۔ ان  میں بھی طلباء  کا  پسینہ  شامل  ہے ۔ اینٹوں کی کئی کئی ٹرالیاں  (ٹریکٹر  والی ٹرالی ) آن کی آن  میں ادھر  سے ادھر کر دیتے ۔ جب  میس  ہال  کی  چھت  پہ  لینٹر  ڈالاجانا  تھا تو طلباء  نے اپنی  خدمات  پیش  کردیں۔  جو کام  تین چار دنوں میں ہونا  تھا  وہ مغرب  سے  عشاء  کے درمیانی  وقت  میں کر کے رکھ  دیا ۔   

Saturday, 14 September 2013

دل کے داغ

2 آرا

انتساب


کچھ سابقہ "عزیز" دوستوں کے نام


شام کے سرمئی  اندھیروں میں
یوں میرے دل کے داغ جلتے ہیں

جیسے پربت کے سبز پیڑوں پر
برف کے بعد دھوپ پڑتی  ہے

جیسے صحرا کی ریت اٹھ  اٹھ کر
اجنبی کا طواف کرتی ہے

کسی کی معصوم تمنا کو 
لوگ یوں توڑ جاتے ہیں

جیسے دم توڑتے مسافر  کو
قافلے والے چھوڑ جاتے ہیں

Friday, 13 September 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط ششدہم) ۔

3 آرا

دھمکی میں  مر گیا  جو نہ بابِ نبرد تھا


معاملہ  کچھ اس طرح بگڑا کہ شکیل صاحب اور ان کے  ہم خیال مولانا  صاحبان اور  حلقہ  ملنگاں  کے درمیان خوب ٹھن گئی ۔  اور مولانا پارٹی    اس تاڑ میں رہنے لگی کب انہیں  جوگی  اور وسیم کو رگیدنے  کا موقع میسر ہو ۔  اور یہ عرصہ  جوگی  اور وسیم نے اس طرح گزارا جیسے سرکس  کا بازیگر  رسے پر  سائیکل چلاتے  وقت  ،  اور  گنہگار پل صراط  پر  گزارتے ہوں ۔اور مصیبت پہ مصیبت  یہ  کہ  کسی  بھی جوابی کاروائی کیلئے جوگی کمپنی  کو  بالواسطہ  طریقہ اپنا  نا  پڑتا تھا ۔اور قسمت  سے  اگر  کوئی موقع  ہاتھ آجاتا تو  چوکتے نہ تھے ۔ ایک بار شکیل احمد صاحب  نماز  کے فضائل پر اسمبلی ہال  میں درس دے رہے تھے  اور جب وہ  باجماعت نماز  کی  حکمت اور ثواب کا  خشوع  و خضوع  سے بیان فرمانے  لگے تو  وسیم نے  کھڑے ہو کر  کہا:۔ ایمان  کی  امان پاؤں تو کچھ عرض کروں ۔؟  شکیل صاحب اور ہمنوا چوکنے ہو گئے  کہ راکٹ فائر ہونے والا ہے مگر  تمام طلبا  ء اور  اساتذہ  کی موجودگی میں سوال کی  اجازت بھی (مارے باندھے) دینی ہی پڑی ۔ سوال تھا  کہ کیا  باجماعت نماز  کی حکمتیں اور ثواب سب  کیلئے ہے یا کچھ لوگوں کو استثنا  بھی حاصل ہے ۔؟ شکیل  صاحب سوال کے پس منظر کو سمجھے بغیر فوراً  کلف لگے لہجے  میں بولے :۔ ہاں  ! یہ  سب  کیلئے ہے اور اسلام  میں کسی  کو استثنا   ،یا تخصیص  حاصل نہیں۔    پھر وسیم کی طرف دیکھ کر  طنزیہ انداز میں واضح کیا  کہ :۔ "اعمال  اور ان کی جزا کا دارومدار  نیت  پر ہے ۔"اور وسیم نے اگلا  فائر  کیا :۔ "مگر  ایک  کنفیوژن  ہے ۔  تپتی  دوپہر  میں ظہر  کے وقت جب سب لوگ یہ  حکمتیں اور  ان کے ثواب سے جھولیاں  بھرنے مسجد میں جاتے ہیں تو   آپ اپنی  قیام  گاہ  میں ہی  جائے  نماز بچھا  لیتے ہیں ۔"شکیل صاحب حتی الامکان  شائستگی سے غرائے :۔ "کوڑھ مغز ! تمہیں کیا معلوم  ،  ہم چار  لوگ  وہیں  اپنے  کمرے میں ہی جماعت کا اہتمام  کر لیتے  ہیں۔ " وسیم کا منہ پھٹ ہونا سب  کو معلوم  تھا  مگر  اب جو غوطہ  وسیم نے دیا شکیل صاحب کو بھی پسینہ  آ گیا ۔"آپ  چند قدم  چل  کر مسجد  میں باجماعت نماز پڑھنے نہیں جاتے ۔ بلکہ اپنے کمرے میں  ہی جماعت کھڑی کر لیتے ہیں جس کی نفری  اکثر اوقات امام  صاحب کے  علاوہ  صرف ایک مقتدی  ہوتی ہے ۔ تو کوئی کیسے  نہ سمجھے کہ آپ  کو  غلام  محمد صاحب  کی اقتدا میں نماز پڑھنا گوارا نہیں یا    آپ  حسبِ  سابق  اسلام  میں تقسیم در تقسیم اور ڈیڑھ اینٹ کی ذاتی مسجد اورذاتی  فقہ  کی روایت  کے مقلد  ہیں۔؟" اس قدر  جارحانہ  حملے  پر جوگی  اور وسیم کے  علاوہ سب  سکتے میں رہ گئے  ۔  شیر محمد  صاحب نےاپنی پیٹی بھائی  کو   بر وقت کمک پہنچا ئی اور شکیل صاحب نے مولویوں والی روایتی تعلیل  بازی  کی پٹاری کھولی ۔ اورکسی قدر طنزیہ  لہجے میں  قرآن  مجید میں سے بدگمانی  سے بچنے اور حسنِ ظن  سے متعلقہ آیات کی تلاوت فرما کر  دو  نمازیوں  کی  جماعت کی تعلیل یہ پیش کی  :۔"چونکہ ہم  مسافر ہیں اور جماعت کے ساتھ مقیم والی  نماز پڑھائی  جاتی ہے ۔ اس لیے ہم  اپنے کمرے میں نمازِ قصر کی جماعت کھڑی کر لیتے ہیں ۔"مگر  وسیم  کی الجھن  بدستور قائم  تھی  کہ  فجر ،  عصر اور  مغرب  کی نمازیں  آپ مسجد  میں  سب کے ساتھ  جماعت میں ادا کرتے ہیں تو   کیاصرف  ظہر  اور عشا ء  کی  نماز کے وقت آپ  مسافر ہوتے ہیں۔۔؟؟؟؟   اس  کے جواب  میں وسیم کو زبردستی  بیٹھنے کا حکم دے کر  شکیل  صاحب نے فاتحانہ  نگاہ  سارے ہال پر ڈالی اور پوچھا کسی اور کی کوئی الجھن ہو تو وہ  سوال کر سکتا ہے  اور پورے ہال میں صرف ایک ہی ہاتھ کھڑا ہوا ۔  جو ظاہر ہے جوگی  کے علاوہ کس کا  ہو سکتا  تھا۔شکیل صاحب نے نہ چاہتے ہوئے بھی برا سا منہ بنا کر  جوگی کو سوال کی اجازت دی۔    جوگی کا سوال تھا  کہ  اگر  آپ کی تعلیل کو درست مانا جائے جو کہ  یقیناً درست ہے  تو اس ہال  میں بیٹھے ہوئے کم از کم دو تہائی طالب علم  بھی شرعاً  مسافر  ہی   ہیں ۔ لیکن حقیقت  یہ  ہے  کہ اگر کوئی  طالب  علم جماعت  کے ساتھ نماز پڑھنے سے رہ  جائے تو اسے صبح اسمبلی  میں  سب کے سامنے گدھے  کی طرح تشدد کا نشانہ  بنایا  جاتا ہے ۔اگر  اسلام میں کوئی  تخصیص اور استثنا  نہیں تو  یہ سب کیا کہلائے گا ۔۔۔؟؟  تانا شاہی  ۔۔۔؟؟  یا  ۔۔۔۔؟؟؟
شکیل صاحب  نے  تو لاجواب  ہو  کر  بولنے سے  انکار کر دیا  مگر  چونکہ عزت کا  سوال  تھا  اس لیے مولانا  شیر محمد نےپہلے تو اساتذہ  کے سامنے   اس طرح زبان چلانے  پر  ایک  ہجویہ وعید  بیان فرمائی  اور کہا کہ فقہ کی دو چار کتابیں  پڑھ لینے سے اپنے آپ کو علامہ سمجھ کر  محترم  اساتذہ کرام سے  بے مقصد بحث کرنے والے جان  لیں کہ  علم فقہ  کی رو سے  شرعاً  مسافر  بھی اگر  کسی  جگہ پندرہ دن قیام  کی نیت  کر کے مقیم ہو  تو  اس کیلئے  سارے  احکام  مقیم والے ہیں۔ لیکن اگر  شرعی مسافر کسی  جگہ  پندرہ دن قیام کی نیت کیے بغیر  چاہے سال بھر بھی  مقیم رہے تب بھی اس پر سب احکام مسافر  والے لاگو ہوں گے ۔ آپ لوگ چونکہ طالب  علم ہیں اور آپ کو  چھٹی بھی  دو  ہفتے بعد  ہوتی  ہے ۔ اس  کا مطلب ہے  تمام طلباء  پر  مقیم والے احکام  لاگو ہیں۔"لیکن  جوگی  کے ترکش  میں ابھی تیر  باقی تھے ۔  لہذا  مزے بولا:۔ "چھٹی تو واقعی  تمام  ادارے  کو دو ہفتے بعد ہوتی ہے ۔ ظاہر  ہے اساتذہ  کو  بھی ۔  اس کا مطلب ہوا کہ    چھٹی کا  شیڈول  معلوم  ہونے کے باوجود  بھی کچھ لوگ   محض دو رکعت نماز سے بچنے  کیلئےپندرہ    روزقیام کی نیت نہیں کرتے ۔یقیناً وہ لوگ قابلِ تحسین ہیں۔ اور ان  پر انگلی اٹھانا آخرت کی بربادی کا باعث ہوگا ۔"اس بات پر  ہال میں موجود  متاثرین کے علاوہ  تمام   اساتذہ  اور طلباء کھلکھلا کر ہنس پڑے ۔وسیم  نے  ٹکڑا لگایا :۔سمجھا کر  ناں یار "اعمال  اور ان کی جزا کا دارومدار  نیت  پر ہے ۔" اس پر  کسی  منچلے نے جوش میں آ کر    نعرہ ءِ  تکبیر   بلند کیا  اور ہال اللہ  اکبر  کی صدا سے گونج اٹھا ۔

جاتی ہے کشمکش  کوئی اندوہِ عشق کی ؟


اس غدر  کے بعد   متاثرہ پارٹی نے سختی سے  جوگی اور وسیم کی اثر پذیری  اور طلباء میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو کچل دینے کا فیصلہ کر لیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب  ہوسٹل  وارڈن منظور احمد صاحب استعفیٰ  دے کر  جا چکے تھے ۔  اور ہوسٹل  انچارج  کی ڈیوٹی  اساتذہ  کی ذمہ داری قرار پائی تھی ۔  ہوسٹل  کا چارج  ہاتھ آتے ہی سب  سے پہلا کام مولانا  صاحب نے  وسیم اور جوگی  کو  الگ کرنے کا کیا ۔  وسیم کا بوریا بستر  گول کروا کے  دوسری منزل پہ  بھیج   دیا گیا ۔  اور جوگی کو گراؤنڈ فلور  پر  رہنے کا پابند  کرکے سمجھ لیا گیا کہ  خطرہ  ٹل گیا ۔  لیکن  یہ صرف خام خیالی  تھی ۔
اہل ِ تدبیر  کی و ا ماندگیاں
آبلوں پر  حنا باندھتے ہیں
جوگی  نے ایک غیر سیاسی  اور غیر مذہبی  تنظیم"ڈان"(ڈی اے  ڈبلیو  این) کی داغ بیل ڈالی ۔  اس  کا  مقصد  اور منشور نظریات ہائے کہنہ  کی اندھا دھند تقلید  اور لکیر کی فقیری کی حوصلہ  شکنی اورجہانہائے نو  کی  تلاش  میں  پیش آمدہ  تجربات  پہ  تبادلہ  خیال اور ایک دوسرے کی  حوصلہ افزائی  تھا ۔ دو  اراکین  سے  اس  انجمن کا آغاز  ہوا لیکن   جوگی اور وسیم کو الگ  کرنے کی ہرکوشش اس  انجمن کے اراکین  میں اضافہ پر منتج ہوئی ۔    
پہلے  تو جوگی اور وسیم کی شر انگیزیاں صرف ایک کمرے  تک محدود  تھیں اب تو  یہ شر مزید  پھیلنے لگا ۔ جوں جوں کمرے تبدیل  ہوتے گئے  جوگی اور وسیم  کے  نظریات اور خیالات  عام ہوتے گئے ۔  سارا دن تو ساتھ ہوتے  ، عشاء کی نماز کے بعد    سے صبح کی نماز  تک کی جدائی جوگی اور وسیم کے حلقہ احباب میں وسعت کا باعث بنی ۔اور آخر کار  جب کسی  طرح کچھ ہاتھ نہ آیا تو ایک  بار پھر  جوگی اور وسیم کو ایک ہی کمرہ  الاٹ ہوا۔
عصر  سے  مغرب  کے درمیانی  وقت میں کھیل کے میدان سجتے تھے ۔  مگر  نہ تو جوگی کو  کسی کھیل میں دلچسپی تھی  نہ ہی وسیم کو  ۔ دو کلو مونگ  پھلیاں  سامنے رکھ کے  ان کی محفل  سجتی ۔ جہاں  دنیا جہان  کے موضوعات پر  سیر حاصل تبادلہ  خیال  کیا  جاتا  اور اتنے طالب علم کرکٹ میچ  دیکھنے والے نہ ہوتے جتنے جوگی اور وسیم کی  گپیں سننے والے ہوتے ۔مخالفین نے  اوپر  تک یہ اطلاع پہنچائی  کہ  یہ دونوں نہ توخود کھیلتے ہیں نہ ہی کسی  کو کھیلنے  دیتے ہیں۔ جبکہ  کھیل طلباء  کی ذہنی اور جسمانی  صحت کیلئے نہایت ضروری  ہیں۔لہذا اوپر سے حکم آیا  کہ تمام  طلبا کا کھیل کے میدان  میں  ہونا  لازمی  ہے۔گپ شپ  کیلئے  مغرب سے عشاء کا درمیانی وقت بہت ہے  ۔اس نئے  قاعدے  کے تحت عصر سے مغرب کے  درمیان ہوسٹل  کے اندر یا اندرونی  احاطے  میں نظر آنے والا ہرطالب  علم  سزا  کا مستوجب  قرار  دیا گیا۔  
 

Monday, 9 September 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط پانزدہم) ۔

1 آرا

اونٹ رے اونٹ ! تیری کونسی کل سیدھی


نہ معلوم  جوگی کا  خمیر  کس  مٹی سے اٹھایا  گیا تھا۔ دنیا جہان سے نرالی منطق  ، نرالے ہی  طور تھے ۔اور  وسیم  سے دوستی کے بعد  تو  مانو  سہاگہ  پھر گیا  ۔ہینگ لگی نہ پھٹکڑی  مگر  رنگ ایسا  چوکھا آیا  کہ  سب کی آنکھیں خیرہ ہو کے رہ گئیں ۔ کوئی  ایک ادھ معاملہ ہو تو  بندہ  بھی کہے  کہ کبھی کبھار  دماغی رو  الٹ  جاتی ہے  ، دو چار  ڈنڈے پڑے  تو  دماغ  ٹھکانے آجائے گاجبکہ  اس قدر  تسلسل  ، تواتر  اورثابت قدمی سے  روشِ عام سے الٹ چلنے والے  جس  کی  دماغی رو نہیں بلکہ ساری کی ساری  کھوپڑی ہی الٹ  ہوایسے کا پھر کیا علاج ۔۔۔؟؟
علم  ِ صرف اور اس کی  گردانات  اور  تعلیلات  سے  ہر ایک کی جان جاتی  تھی ۔ جوگی  اینڈ ہمنوا  نے  ایسی  سبیل نکالی  کہ  جس  نے بھی سنا  حیرت کے مارے عش عش  بھی نہ کر سکا ۔ سب  لوگ   جب "میزان  الصرف "  میں سر دئیے   "ماضی  مطلق   معروف  مزید فیہ  " کی  صرف ِ  کبیر  اور ان کے اوزان  کو رٹا مار مار  کے ہلکان ہو رہے ہوتے جوگی اینڈ کمپنی  مزے سے عمران اور پاکیشیا  سیکرٹ سروس کے کارنامے پڑھا کرتے اس کے باوجودجب   علم الصرف کے پیریڈ میں سب با جماعت مرغا بن کر حسد اور رشک کے ملے جلےجذبات سے جوگی اور وسیم کو جناب محمد امین صاحب سے  گپیں  ہانکتے دیکھتے تو ان  بے چاروں کا کلیجہ سڑ کے سُوا  ہو جاتا  ۔آخر  انہوں نے ڈیڑھ لیٹر پیپسی  اور دو کلو  بسکٹ کی  بھینٹ دے کر  یہ راز ِ نہاں  پالیا کہ ان دونوں  نے میزان الصرف کی گردانیں کبھی اپنے سر پہ سوار نہیں ہونے دیں بلکہ  یہ آتے جاتے  چلتے پھرتے  نظر آنے والی  کسی  بھی  چیز  کو گردان  میں قید  کر لیتے ہیں۔ مثلاً پنکھا  دیکھا  تو  شروع  ہو گئے ۔ ۔۔۔۔  پَنکھا، پنکھآ، پنکھو، پنکھت ، پنکھتا، پنکھنَ، پنکھتَ ، پنکھتما،  پنکھتم ۔۔۔۔۔۔الخ۔
ان چیرہ دستیوں کا  شکار  محض علم الصرف ہی نہیں بلکہ  عربی ادب  ، فارسی  ادب اور  پھر  منطق  اور اصولِ فقہ  بھی حصہ بقدرِ جثہ  پاتے رہے ۔ عربی زبان کی وسعت    ماشاء اللہ  بے حد و حساب  ہے  ،  اور  اس پہ مستزاد  وسیم اکرم  گردان کیلئے ایسے ایسے  مصادر  چُن چُن  کر  ڈھونڈ لاتا  کہ مولانا  نذر محمد  صاحب "بے شرم ، گدھے " کی گردان کرنے لگ جاتے ۔ اور  پھر  ہمیشہ  کیلئےجوگی  اور   وسیم  کیلئے عربی مصادر کی گردانیں   شجرِ ممنوعہ  قرار دے دی گئیں۔
فارسی  میں کبھی بے خیالی میں یا بھولے سے اگر  جناب محمد  حنیف صاحب  ان دونوں میں سے کسی کو گردان کا کہہ دیتے تو پھر  "ریدن" ،  "شاشیدن" ، "لیسیدن"، "چسپیدن" وغیرہ قسم  کے مصادرکی گردان  انہیں ان کی توبہ یاد دلادیتی  کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے ان  شیطانوں  سے گردان کا کبھی نہیں کہنا۔
گلستانِ سعدی  کا باب پنجم (در عشق و جوانی ) ان کا پسندیدہ ترین ہونے کے  باوجود  نہ معلوم کیا وجہ تھی  کہ ان دونوں کیلئے گلستان  کا سب سے  زیادہ  پیچیدہ اور  تشریح طلب باب تھا۔ غلام محمد صاحب پانچ سات بار تو اپنی سادہ دلی  سے  ان دونوں کو پڑھاتے  اور ناقابلِ گرفت حد تک تشریح بھی فرماتے  رہے ، لیکن تا بہ کے ۔۔۔۔؟؟؟آخر کار سمجھ ہی گئے  کہ  انہیں گلستان سعدی  ؒ اور خاص طور پر باب پنجم  حفظ ہے  ، بس  یہ  تشریح کے ضمن میں دوسرے شعرا کے شعر  سننے اور مزے سے نکتے بازی کرنے  کے چکر میں باب ِ پنجم  کے ادق ہونے  کی دہائی  دیتے ہیں۔

 جس  کو ہو دین  و دل  عزیز ، اس کی گلی  میں جائے کیوں


فقہ  اور  اصولِ فقہ  کے درس  میں  ان کی کھڑی  کی  گئیں مباحث بھی   اپنی  جگہ  ایک  تماشا  تھیں۔۔۔ سب سے پہلے پانی کی پاکی اور ناپاکی والے مسئلے   پر  ان  دونوں کی سوئی بارہ  پہ اٹک گئی ۔مولانا شکیل احمد  صاحب کا اس قسم کے طالب علموں سے پہلی بار واسطہ پڑا تھا ۔  لہذاپہلے پہل تو بوکھلا  گئے  اور دوسری  بار وضو  کے مسئلے پر  ڈٹ  گئے ۔ اس بحث کی وجہ  دراصل  عوام  میں رائج  یہ غلط تصور جسے  فقہ کا مسئلہ  سمجھ  لیا گیا  تھا کہ  وضو  ٹوٹنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے  کہ  انسان  کا  چاہے  کسی بھی وجہ سے  چاہے  چند  لمحے  کیلئے ہی سہی ستر ہٹ جائے ۔ یعنی اس غلط تصور کی رو سے  اگر  کوئی  باوضو  شخص  کپڑے تبدیل کرتا  ہے تو اس کا وضو  ٹوٹ گیا  اوراب اسے دوبارہ وضو کرنا پڑے گا ۔حلقہ  ملنگاں(جوگی اور وسیم )کا کہنا تھا کہ وضو نہیں ٹوٹتا  جبکہ  عوام کا تو کیا کہنا  شکیل صاحب نے  بھی حکومت کی رٹ قائم کرنے اور ان دونوں سے یرغمال نہ ہونے  کے چکر میں وضو کے ٹوٹنے اور تجدید ِ وضو  کے حق میں ووٹ  دیا  اور پھر  بحث اتنی بڑھی کہ سانپ کے گلے میں چھچھوندر ہو گئی ۔  شکیل  صاحب نے انا کا مسئلہ بنا لیا اور حلقہ  ملنگاں  کی تو فطرت  میں تھا  کہ سچ  پر  ڈٹ جاؤ اور پھر  رتی برابر  بھی پیچھے نہ ہٹو ۔
آخر کار  جب  فقہ کی کسی  مستند  کتاب  میں کسی  بھی امام ؒ  کے نزدیک  وضو  کا ٹوٹنا ثابت نہ ہوا تو  شکیل صاحب غیر پارلیمانی  ہتھکنڈوں پر  اتر آئے ۔اور  ان کی علمیت  کا ملمع جوگی  کے پھینکے پھندے میں پھنس کر اتر  گیا۔ کسی مسئلے  پر بات کے دوران مثال  کے طور جوگی نے غالب  ؔ کا مشہور ِ زمانہ مصرعہ  "کون جیتا ہے تیری زلف  کے سر ہونے تک"پڑھا تو حسبِ عادت شکیل صاحب نے مصرعے  کو  سراسر غلط قرار دیتے ہوئے ساری مثال کو ماننے سے  انکار کر دیا ۔  وجہ  کی کھوج میں  پتہ چلا  کہ شکیل صاحب  کا قول  ہےکہ  ایک  زلف  کبھی  سر  (جسے انگلش میں ہیڈ کہتے ہیں) ہو ہی  نہیں سکتی ۔  یعنی  شاعر نے ایک ناممکن  سی بات محض  بھرتی کا شعر  جڑنے کو کہہ دی ہے ۔  نہایت ہی بے تکا شعر ہے ۔جب ان  کی اطلاع کیلئے عرض کیا گیا کہ یہ   (بقول  آپ کے) بے تکا شعر  فخر ِ اردو  مرزا غالب ؔ  علیہ الرحمۃ  کا  ہے  تو انہوں نے ایک نثری ہجو  غالب  ؔ  کی  شان میں  کہہ  کر اسے  بے تکے شعر  سے  ترقی سے کر  لغو  ترین شعر  کے درجے پر فائز کر دیا ۔
جوگی  نے ایمان کی امان  پا  کر  عرض  کی کہ سر جی ! فدوی  کے ناقص  خیال  میں سر  ہونے  کا مطلب  فتح  ہونے کے  مطلب میں بیان ہوا ہے ۔ اور شکیل صاحب  کی شائستگی  کی پیمانہ  چھلک پڑا ۔  انہوں  نے جوگی کے  ماضی  قریب کے ریکارڈ  اور  حال  کے  وقوعے  کی  روشنی  میں مستقبل  کی  پیش گوئیاں  شروع کر دیں۔ یہاں تک تو سب خیر  گزری  اگلے دن  قائد  اعظم محمد علی جناح ؒ  کے ذکر  پر  جب انہوں  نے بابائے قوم  کی شان میں  نازیبا  کلمات پاس کیے  تو  حلقہ ملنگاں نے احتجاجاً شکیل  صاحب سے پڑھنے سے انکار کر دیا  اور  ان کی کلاسز کے  بائیکاٹ کا  اعلان کر دیا ۔  


حضرت ناصح گر آویں دیدہ و دل فرشِ راہ


فقہ  کے مدرس  تبدیل  ہو گئے مگر  حلقہ ملنگاں  کے اطوار تبدیل  نہ  ہوئے ۔  اب کی بار  بحث کا  باعث "قدوری" کی کتاب النکاح بن گئی ۔ طلاق  اور مہر  کے مسائل پر تو خیر  بے ضرر بحثیں اکثر رونق ِ کلاس ہوتی ہی تھیں۔  مگر  یہ بحث نہایت  عجب نوعیت کی  تھی ۔متنازعہ  مسئلہ   جنسیات  سے متعلق   ہونے کے سبب یہاں  صرف بحث کی مناسب تفصیل پر اکتفا کیا  جا رہا ہے ۔
عوام الناس میں  نیم ملا حضرات کی پھیلائی لغو محض افواہ  کے سچ  یا جھوٹ ہونے پر  بحث ہوئی ۔ نیم  ملا  اور مکتبی قسم کے مولانا حضرات  کا اس بارے میں قول تھا کہ مسئلہ  نا مذکور  فعلِ حرام ہے اور اس  کے وقوع کی صورت میں  نکاح فاسد ہو جاتا ہے ۔ اور تجدید ِ نکاح بھی صرف حلالہ  کے بعد  ہی  ہو گی ۔
اس فعل کے حلال یا حرام  ہونے  کی بحث اپنی جگہ  جوگی اور وسیم  کا  نکتہ  اعتراض یہ تھا  کہ اس فعل     کے وقوع  کی صورت میں  آئمہ  اربعہ  میں سے کسی  کے نزدیک  بھی نکاح کے فاسد ہونے کا  کوئی ثبوت نہیں۔نہ طلاق جبری واقع ہو  گی نہ ہی  نکاح ٹوٹے  گا۔کیونکہ  جھوٹ بولنا  اور شراب پینا قسم  کے گناہ نہ  صرف حرام  بلکہ کبیرہ گناہ  ہیں۔ لیکن ان کبیرہ گناہوں  کے  وقوع  کے بعد  بھی  نکاح نہیں ٹوٹتا۔
ہر طرف زلزلہ سا آ گیا اور نام  نہاد  علامہ  حضرات کے  قصرِ  علم  کے چند کنگرے  گر پڑے ۔  حسبِ عادت بات کفر  کے فتوے سے شروع ہوئی اور یہاں تک آن پہنچی  کہ ان دونوں  میں خود ابلیس  حلول کر گیا ہے ۔ اس  لیے یہ اس قسم کے مسئلوں  کو  بحث کا  اکھاڑہ  بنا لیتے ہیں۔ لیکن جب کسی طرح گلو خلاصی نہ  ہوئی اور جوگی  اینڈ ہمنوا  اپنے موقف  پر ڈٹے  رہے  کہ اول درجہ تو یہ ہے کہ امام ِ اعظم حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کا قول پیش کیا جائے جس سے ثابت ہو کہ نکاح ٹوٹ گیا ۔ درجہ دوم میں بقیہ  آئمہ ثلاثہ کے اقوال  سے بھی ثابت کیا جا سکتا ہے ۔  بس پھر کیا تھا ۔ ۔۔۔۔ لائبریری  میں رش  لگ گیا  ۔  بڑی بڑی کتابیں جو  ہم جیسے بچے جمہورے  صرف الماری  میں سجی دیکھ  کر  دل بہلا  سکتے تھے  ۔  وہ اپنی طباعت کے بعد  پہلی بار کھل گئیں۔لیکن نکاح ٹوٹنے کا  قول کسی کتاب میں نہ پایا جا سکا ۔  تین  دن اکھاڑہ سجا رہا جس  میں اساتذہ کے علاوہ  طلباء کی  دلچسپی  بھی دیدنی تھی ۔
آخر  جب  ہر  ممکن کوشش کے باوجود نکاح ٹوٹنے کا قول نہ  مل سکا  تو پھر  بات حلال حرام پر آ گئی ۔
نامذکور  فعل  کے حلال ، حرام  ہونے پر    نئی بحث کا آغاز ہو گیا ۔
اس بحث نے اس قدر طول کھینچا  کہ  شیطان کی آنت ہو گئی۔ جوگی  اور ہمنوا کا  نکتہ نہایت سادہ  تھا کہ  نکاح کامقصد ہی حرام کو حلال کرنا ہے ۔ نکاح سے پہلے  جو کچھ  کرناگناہ کبیرہ  ہے  نکاح کے ایجاب و قبول  کے بعد وہی  ثواب کا کام ہو جاتا ہے ۔ پس اگر  نکاح کے بعد بھی کچھ  حلال اور کچھ حرام  کا جھگڑا رہے تو نکاح کا مقصد  اور مطلب تو فوت ہو گیا ۔  ایسے ناقص نکاح کا کوئی کیا کرے ۔ نکاح میں  ایجاب  و قبول  کا اطلاق "کُل" پر  ہوگا نہ کہ "جزو"پر۔۔۔
بیع و شرا کے قواعد  ِ فقہ اس ضمن میں بہترین رہنمائی  فراہم کرتےہیں ۔ تفصیل میں جانا بے جا ہے ۔
اللہ تعالیٰ  نے جنرل طور پر  فرما دیا کہ نکاح کے بعد مرد پر عورت حلال ہے اور عورت  کیلئے مرد حلال ہے ۔  پس  اگر  اب ہم قیل و قال کریں تو ہم  میں اور بنی اسرائیل  میں کونسافرق باقی رہ گیا ۔  سورۃ بقرہ  اللہ نے مسلمانوں کی ضیافتِ طبع  کیلئے نازل نہیں فرمائی  بلکہ اس کا مقصد بنی اسرائیل  کا قصہ سنا کر  عبرت دلانا تھا کہ کہیں کل کو مسلمان بھی یہی قیل و قال نہ شروع کر دیں۔ (واقعہ  بقرہ کا خلاصہ ) موسیٰ  علیہ السلام  کے سوال  پر اللہ  تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ ایک گائے ذبح کر  کےاس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مقتول  کی لاش پر رکھو ۔ مقتول  خود اٹھ کر بتا دے گا کہ اس کا نامعلوم قاتل کون  ہے ۔  غور فرمائیے ۔۔۔۔ اللہ  نے ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا ۔۔۔ کوئی بھی ہو۔۔۔ کیسی بھی ہو ۔۔۔  نہ رنگ کی تخصیص ۔۔۔۔  نہ عمر  کی قید ۔۔۔۔  بات نہایت سادہ تھی ۔  لیکن  بنی اسرائیل اپنی عادت سے مجبور تھے ۔ سوال پہ سوال کرتے گئے اور خود کو خود  پھنساتے گئے ۔ رنگ پوچھا تو اللہ تعالی  ٰ  نے فرمایا "تسر الناظرین       "،  پھر  بھی شامت نے ستایا تو پوچھ لیا کہ عمر  کتنی ہو ۔۔۔الخ ۔  سوال پوچھتے گئے اور ایک سادہ سی بات کو پیچیدہ کرتے گئے ۔ کوئی  بھی گائے سے بات اب ایک مخصوص گائے تک آن پہنچی ۔  جس کا ملنا  ناممکن تو نہیں مگر مشکل ضرور ہو گیا ۔اور اس وقت ہم مسلمان بھی وہی تماشا  کر رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ  نے جب جنرل طور پر  مرد و  عورت کو نکاح کے بعد ایک دوسرے پر حلال  کر دیا تو ہمیں پاگل کتے نے کیوں کاٹ لیا ہے کہ ہم پوچھتے پھر رہے ہیں کہ کہاں  کہاں تک چھونے کی اجازت ہے ۔ اور کیا کیا کرنے کی اجازت ہے ۔"میاں بیوی ایک  دوسرے کا لباس ہیں۔" کیا اتنے واضح حکم کے بعدیہ  پوچھنے کا  کوئی جواز رہ جاتا ہے کہ یہ لباس ہم  جسم کے کونسے کونسے  حصے پر پہنیں۔۔۔؟؟؟  جب واضح حکم آ گیا تو اس کے بعد تفصیل پوچھ پوچھ کے چسکے لینا چہ معنیٰ دارد۔۔۔؟؟؟

قائل ہونا نہ ہونا ایک طرف ۔۔۔۔ جوگی اور وسیم کی ذہانت کی دھاک ہر طرف بیٹھ گئی ۔

عزم ِ کراچی و مشکلہا (مغزل کہانی تیسری قسط)۔

2 آرا
اب جبکہ یہ راز راز نہیں رہا کہ وہ نامراد جوگی دراصل میں ہی تھا ، جو مغ پلس غزل کی تلاش میں تھا۔
تو پھر تکلف ایک طرف رکھیے اور آگے کی کہانی مجھ سے سنیے۔۔۔

کچھ عرصہ مزید بیت گیا ، مگر جوگی کی تلاش  کو منزل نصیب نہ ہوئی ۔
واں وہ غرور عز و ناز ، یاں یہ حجاب پاس وضع
راہ میں ہم ملیں کہاں ، بزم میں وہ بلائے کیوں
  چونکہ اس مسئلے پر آنجہانی غالب مرزا پہلے ہی اچھی خاصی روشنی  ڈال چکے تھے ۔ اس لیےمیرے دل میں ان کیلئے کوئی شکوہ شکایت قسم کی خرافات کا کوئی گزر نہ تھا۔آپ شاید سوچ رہے ہوں کہ  جب بزرگ خواب میں اشارہ کر گئے تھے  کہ  وہ  ملک پاکستان کے شہر کراچی میں رہتے ہیں ، تو پھر "مانع وحشت خرامی ہائے لیلیٰ کون ہے۔؟؟" میں مانتا ہوں  کہ  "خانہ مجنونِ صحرا گرد    بے دروازہ تھا " مگر یہ کمبخت کراچی کا سفر "بے کرایہ نہ تھا" ۔ شکل پر بے شک اب بھی سٹوڈنٹی  برستی ہے  مگر زیادہ سے زیادہ رحیم  یار خان تک مفتہ ہو سکتا ہے  ، اگر تمام کنڈکٹر حاتم طائی کے ہاتھ پر بیعت بھی کر لیں  تب بھی تو منٹھار ، نیو خان وغیرہ  کی دوڑ    صادق آباد کی جامع مسجد تک ہی ہے۔اگر چندہ جمع کر کے بالفرض کراچی پہنچ بھی جاؤں تو کراچی کونسا چک نمبر 111/7ہے جہاں میں جاتے ہی انہیں ڈھونڈ لوں گا۔اللہ جھوٹ نہ بلوائے ایک بار تو زبیدہ آپا سے رجوع کرنے کا خیال بھی دماغ میں  کلبلایا ، مگر  بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آسان ہونا ۔۔۔۔

ایک دن جب میں   اسی فکر میں غرق تھا تو غیب سے مضامین خیال میں آنے لگے ۔ جن میں سے ایک اچھوتا اور نادر مضمون یہ تھا کہ کراچی پہنچ کر وہاں گلی گلی "بھانڈے قلعی کرالو" کی صدا لگانا شروع کر دو ۔پریوں کی شہزادی بھلا کب بھانڈے دھوتی ہوگی ، اس لیے جس گھر سے سب سے زیادہ کالے اور حال سے بے حال  برتن لائے جائیں ، سمجھو وہیں اپنی آپا جی  رہتی ہیں ، اگر خدا نخواستہ  سگھڑاپے میں بھی مس یونیورس کے ایوارڈ پر بھی قابض ہوئیں تو لوگوں  بھانڈے قلعی کرتے کرتے  یہ عزت ِ سادات بھی جاتی رہے گی ۔ نوشہ میاں کی بھی تو کوئی امید بر نہیں آئی  تھی ۔  مگر دل کو تسلی دی کہ
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آؤ نہ ہم بھی سیر کریں شہرِ فتور کی
  کسی نہ کسی گھر سے تو دودِ تیموریہ اٹھتا دکھائی دے گا ۔ ویسے بھی پریوں کی شہزادی ہوئیں تو کیا شادی کے بعد ہر لڑکی بیگم ہی بن جاتی ہے، شاید محمود میاں کہیں کسی  تھڑے پر پکا سگریٹ پھونکتے اور عشق کو کوستےنظر آ جائیں ۔ اتنی عمدہ ترکیب سوچنے پر دو تین الٹی چھلانگیں لگائیں ، اپنے آپ کو خراجِ تحسین پیش کیا ، اور آگے کا پلان سوچا کہ کرائے کا بست و بندکیونکر ہو ۔
نظر ِ انتخاب مسجد کیلئے چندہ کی صندوقچی پر جا پڑی ، مگر ہائے ری پھوٹی قسمت  اس خزانے پر مولوی صاحب پھن پھیلائے چوکس بیٹھے تھے ۔سمجھ دار آدمی تھے  مجھے دیکھ کر اور بھی چوکس ہو گئے ،چیں بجبیں ہو کر پوچھا :۔ خیر تو ہے آج فوجاں ادھر کدھر؟ کیسے راہ بھول پڑے کیونکہ آپ اور آپ استاد محترم کا مشترکہ ایجنڈا ہے کہ "طبیعت ادھر نہیں آتی۔"
جوابا ً میں نے زمانے بھر کا گھسا پٹا جملہ اچھال دیا :۔ مولوی صاحب ! سیانے کہتے صبح کا بھولا شام کو لوٹے تو بھولا کہہ کر اس کا دل نہ توڑو ۔ میں تو پھر بھی شام سے کئی گھنٹے پہلے دوپہر کو نازل ہوا ہوں ۔ "
مولانا صاحب بھی گرگِ باراں دیدہ تھے ، مجھے ایک طنزیہ مسکراہٹ سے نوازا ، اورمجھے کچھ ایسی شک بھری نظروں سے گھورا ، جیسی نظروں سے غالب نے اس ساقی کو گھورا تھا جس پر انہیں شک تھا کہ "ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں۔"اور فرمایا :۔ اور وہ صبح کتنے سال پہلے کی تھی؟
مسلسل طنزیہ حملوں پر میرے بخاری خون نے بھی ابال پکڑا، میں نے درجوابِ آن غزل کے طور پر گستاخانہ کہا :۔" مولوی صاحب آپ کے اسی دل شکن رویے سے مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا ہے ۔"
وہ بھی کچھ کم ڈھیٹ نہ تھے  ترکی بہ ترکی بولے :۔ " ارشاد ۔۔۔۔ ارشاد۔۔۔۔ ناچیز ہمہ تن گوش ہے۔"
اب تو مانو جوابی حملہ واجب ہو گیا تھا ،سو دانت پیس کے  بولا:۔ " ایک کسان کا گدھا رسا تڑا کر بھاگ نکلا ، اور شامت کا مارا مسجد میں پنا ہ لینے گھس گیا ۔ مولانا صاحب سخت چراغ پا  اور بدمزہ ہوئے ، ڈنڈا لے کرجہاد کی نیت سے گدھے پر  پل پڑے ، کچھ  دیر میں کسان بھی افتاں خیزاں وہاں پہنچ گیا اور گدھے کی درگت بنتے دیکھ کر بولا :۔ مولوی صاحب رحم کریں بے چارہ بے زبان جانور ہے ، کبھی مجھے بھی مسجد میں گھستے دیکھا ہےکیا۔؟"
اور ساتھ ہی ایک جناتی قسم کا قہقہہ بھی لگایا ، مولانا صاحب شاید لطیفے سے زیادہ میرے قہقہے کا برا مان گئے ، اس لیے ہمیشہ سے  کارآمد اکسیری نسخہ  یعنی باآوازِ بلند "لاحول ولاقوۃ ۔۔۔۔۔" کا ورد شروع کر دیا ۔ اس اسم اعظم کے سامنے تو شیطان ِ اعظم یعنی ابلیس بھی نہ ٹک سکے ، میری بھلا کیا مجال تھی۔اس لیے خدا سے دل ہی دل میں "بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے" کا شکوہ کرتے بھاگ نکلا۔
      
  جب ٹھنڈے دل اور ٹھنڈے پیٹ سے سوچا تو سمجھ آیا کہ مولانا صاحب پر غصہ بے جا ہے کہ بقول استاد جی "اس میں کچھ شائبہ خوبی تقدیر بھی تھا"۔لیکن  ہمت ہارنا سراسر بے عزتی تھی ۔ کچھ دیر بعد اس خیال سے پھر دو تین چکر لگائے کہ بندہ بشر ہے، شاید باتھ روم گیا ہو ۔ مگر مولوی صاحب شاید قبض کے مریض تھے ، یا پھر میرے دوسرے چکر پر معاملہ سمجھ گئے  تھے مزید چوکنے ہو بیٹھے ۔ خیر میں نے نماز کے وقت کا انتظار کیا ، اور گھات میں  بیٹھ گیا کہ جونہی اذان کیلئے اٹھیں تو صندوقچی لاپتہ کر دی جائے ۔ لیکن جب میں نے اذان کیلئے اٹھنے سے پہلے مولوی صاحب کو سرمایہ صندوقچی سے اپنے فتراک میں منتقل کرتے دیکھا ، توکھسیانی بلی کی طرح  بے اختیار عمران سیریز کو کوسا ،اور جی چاہا کہ مولوی صاحب "سےکوئی پوچھے تم نے کیا مزہ پایا"۔۔۔۔۔ ۔
پھر دل کو تسلی دی اور  ڈھٹائی سے سوچا  خیر ہے ۔۔۔۔!!استاد جی کے ساتھ ایسا ہوا ہوتا تو آج یہ شعر یوں ہوتا:۔
گر کیا مولانا نے سرمایہ غائب ، اچھا یوں ہی سہی
یہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا
ہونا تو یہی چاہیے تھا مگر احباب ہی نااہل تھے ، چارہ سازی وحشت نہ کر سکے ، اس لیے اٹھتے بیٹھتے  خیال ِ کراچی نورد تھا۔

محلے میں اور کوئی منہ لگاتا ہی نہ تھا کہ اسی سے ادھار ہی مانگ لیتا ،  اسی بہانے استاد جی کی سنت پر بھی عمل ہو جاتایعنی ایک پنتھ دو کاج ۔مگر کسی ڈیڑھ شانے نے سچ ہی کہا ہے :"اے بسا آرزو کہ خاک شد۔"لے دے کے ایک "نون" ہی تھا ، جو میرا دوست ، ہمدم ، رازداں بلکہ مختصر کہا جائے تو لنگوٹیا یار تھا ۔ طرفہ تماشا یہ کہ وہ بھی میری طرح کنگال شہنشاہ ۔ (تفصیلی تعارف کیلئے الف نون ملاحظہ ہو)
چونکہ کبھی کبھار اس کے منہ سے کام کے مشورے بھی خارج ہو جاتے تھے ، اسی امید پر میں نے نون کا کھرا اٹھایا اور اسے اللہ ڈتہ گرم حمام پر جا پکڑا ، موصوف کنگھی چوٹی میں مصروف تھے ،میرے سلام کا جواب بھی میڈم نور جہاں کی طرز میں آیا ۔ حیرانی تو مجھے بہت ہوئی لیکن میں پٹڑی سے اترکر اپنے مشن امپوسبل چندہ پروٹوکول کو پسِ پشت ڈالنا نہ چاہتا تھا ۔ اس لیے سیدھے کام کی بات پر آیا ۔
"یار میں کراچی جانا چاہتا ہوں "
"اچھا ۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے جاؤ" کہہ کر وہ اپنے کام میں مگن رہا ۔ یہ بے نیازی مجھے ہضم کرنا مشکل تھی ، پھر بھی اس معاملے کی تفتیش ملتوی کر کے  میں غرایا :۔" کمینے ! میں اجازت مانگنے نہیں ۔ مشورہ مانگنے آیا ہوں ۔" مگر اس کی محویت پھر بھی نہ ٹوٹی ۔ میں نے ایک سرد آہ بھر کر کہا:۔ حق ہاااااااااا۔۔۔۔
"تو اور آرائشِ خم کاکل
میں اور اندیشہ ہائے دوردراز"
حسبِ توقع غالب کے شعر پر نون بری طرح چڑ گیا ، کنگھی پٹخی اور جھنجھلا کے بولا :۔ " کراچی جانا ہے تو جاؤ مرو۔۔۔ میرا کیوں سر کھا رہے ہو ۔ ابھی تک وہ کلینک والی پٹائی سے ابھرنے والے  گومڑ ختم ہوئے نہیں  اور تو پھر کوئی نیا پنگا لے کر آ گیا ۔"
اس غیر متوقع عزت افزائی پر میرا منہ بن گیا :۔ "تو دوست کسی کا بھی ، ستم گر نہ ہوا تھا۔"اس لیے مزیدتپانے کیلئے پھر غالب کا مصرعہ گنگنایا ۔
نون مزید چڑ گیا :۔ "یار تو آخر کیوں میری جان کو آ گیا ہے؟"
میں نے مسکرا کے صدا لگائی :۔ "ایک مشورے کا سوال ہے بابا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
نون بھلا کیسے موقع ہاتھ سے جانے دیتا ، ہاتھ جوڑ کے بولا :۔ معاف کرو بابا ۔۔۔۔ جمعرات کو آنا۔۔۔"
میں نے کہا :۔ "اکڑنا بند کر خبیث ۔۔۔ تم سے تو میں بعد میں نپٹ لوں گا مگر ابھی شرافت سے کوئی اچھا سا مشورہ دے ، کوئی ترکیب سوچ ۔۔ ۔ کراچی جانے کا سب سے سستا ذریعہ سوچ ۔۔۔۔۔ کیونکہ عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب ہے سمجھ نہیں آتا دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک ۔"
نون شرارت سے بولا :۔ "چل میں تجھے دریائے سندھ میں دھکا دے آتا ہوں ، بہتے بہتے کراچی تو پہنچ ہی جاؤ گے۔"
"اپنی کمینگی کسی اور وقت تک کیلئے اٹھا رکھو اور سیدھا سیدھا مشورہ دو، میں واقعی سنجیدہ ہوں ۔" میری جھنجھلاہٹ عروج پر تھی
نون شاید مجھ سے کلینک پر پڑنے والی مار پر سوری سننا چاہتا تھا اس لیے بے نیازی سے دوبارہ محو آئینہ داری ہو گیا ۔ ظالم نے یہ بھی خیال نہ کیا کہ اسے "کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں " ۔ مجھ جیسے آزادہ و خود بیں کیلئے اب الٹے پھر آنے کے سوا کوئی چارہ  نہ تھا ۔
انگور کھٹے پا کر میں نے خود کو غیرت دلائی کہ "اپنی ہستی ہی سے ہو ، جو کچھ ہو " استاد جی کے اس ولولہ انگیز مصرعے پر کھوپڑی کو تاؤ آ یا اور ایک ترکیب چھپاک سے دماغ کے جوہڑ میں مینڈک کی طرح کودی اور میں بے اختیار اچھل پڑا ۔ جیسے پچھلی بار خواب میں الف چاچو سے ملاقات کی تھی اسی طرح پھر سے کوئی خواب دیکھا جائے ۔ نیک کام میں دیر کیسی ۔۔۔۔ نکما تو ہمیشہ سے تھا ۔۔۔۔ بس لیٹنے کی دیر تھی ۔ ۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔ کروٹیں بدل بدل کر بقول ملکہ جہنم میڈم نصیبو لال "کنڈ چھلی گئی سجناں " اور نیند تھی  کہ  جیسے عنقا کے پروں پہ بندھی تھی ۔۔۔۔۔برات ِ عاشقاں بر شاخِ آہو۔
ہزار حیف کہ اتنا نہیں کوئی غالبؔ
کہ جاگنے کو ملا دیوے آ کے خواب کے ساتھ
بہت سوں کا سلیپنگ پلز سے بھلا ہو جاتا ہے ، اسی امید پر میں نے بھی کچھ گولیاں گنے بغیر پھانک لیں ، مگر " درد منت کشِ دوا نہ ہو ا۔۔۔۔۔۔"

تنگ آ کر وقت گزاری کیلئے 1962 ء کا ایک رسالہ اٹھا لیا ۔ ورق گردانی کرتے کرتے نگاہیں ایک شعر سے دوچار ہوئیں ، اور چھوٹا غالب چاروں شانے چت ۔
خواجہ حیدر علی آتش ؔ کہہ رہے  تھے :۔
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہے
آؤ دیکھا نہ تاؤ ، اٹھ کے کمر باندھی ، اور مسافر راہ پر گر پڑا (راہ افتادن ) ۔ اس قدر نازک مزاج تو نہ تھا مگر پھر بھی تھا تو جنس آدم سے ، آہستہ آہستہ گوڈے گٹے جواب دینے لگے ۔بہاولپور تک کا سفر تو جیسے تیسے کٹ گیا مگر مجھے آٹے دال کا بھاؤ خوب خوب معلوم ہو گیا ، دل میں سوچا ایک ضلع پار کرنے پر یہ حشر ہوا ہے تو جوگی میاں حساب لگا لو ، بہاولپور ، رحیم یار خان کو پار کر کے سندھ کی سرحد آئے گی ، اور پورا سندھ پار کرکے سمندر کنارے مائی کلاچی کا کراچی بستا ہے، اچھا خاصا لمبا رستہ ہے ۔حساب کتاب سے تو جوگی کو غش پہ غش آنے لگے ، سارا جوگ اور جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ۔ بے اختیار جی چاہا کہ عورتوں کی طرح جھولی اٹھا اٹھا کے آتش ؔ کو بدعائیں دوں اور منہ بھر کے نہ صرف اسے بلکہ اس کے اگلے پچھلوں کو بھی ایسا کوسوں کہ وصی شاہ ، اور فرصت عباس شاہ سنیں تو  شاعری سے توبہ تائب ہو جائیں اور داتا دربار پر ملنگ بن کے بیٹھ جائیں ۔
واقعی قرآن مجید سچ کہتا ہے ، غالب کے علاوہ سارے (اکثر ) شاعر  جھوٹے ہیں ۔ آتش ؔ کو کبھی خود پیدل سفر کرنا پڑا ہوتا تو ایسا بے تکا شعر لکھنے  سے پہلے قلم توڑدیتا ۔ منہ پہ کالک مل لیتا مگر اتنی لمبی نہ چھوڑتا ۔ اور میں نے بدھو پنے میں نایاب کو بھی پیچھے چھوڑ دیا کہ اس کئی سو سال کے مرحوم شاعر کے جھانسے میں آ گیا ۔  ایک پٹرول پمپ پہ بیٹھا آتش ؔ اور اس کے دیوان کو کوس ہی رہا تھا کہ لانگ مارچ  سے واپس آنے والوں کا قافلہ وہاں آن پہنچا ۔ وہ وہاں کچھ دیر پانی پینے اور سستانے کیلئے رکے ، میں تو کافی دیر سے سستا ہی رہا تھا  اس لیے اس امدادِ غیبی پر شکر ادا کیا اور قافلے کی ایک بس میں گھس گیا ۔

جاری ہے

اس کہانی کی اگلی قسط ملاحظہ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط چہاردہم) ۔

5 آرا

میں نہ اچھا ہوا ، برا نہ ہوا


ان ہنگامہ  خیزیوں   کے  درمیان تین  سال  بیت  گئے ۔  اور جو  کلاس  باسٹھ طلبا ء سے شروع ہوئی تھی ۔ تین سال گزرتے گزرتے اڑتیس  طلبا  ء کی کلاس رہ گئی ۔  کچھ گردش ِ مدام سے گھبرا کے چھوڑ گئے ۔ کچھ سختیاں جھیلنے کے عادی  نہ ہو پائے  اس لیے  چھوڑ گئے ۔مگر جوگی اور وسیم  نے غالب ؔ کا وضع  کردہ کلیہ گھول کر  پی  لیا تھا  کہ  "رنج سے  خو گر  ہوانسان  تو مٹ جاتا ہے  رنج"  اس لیے "مشکلیں ان پر پڑیں  جتنی آساں ہو گئیں۔"
جوگی  نے زندگی کو اس کی سختیوں  سمیت ہنس کے گزارنے کا  ڈھنگ سیکھ  لیا ۔    اپنے کام اپنے ہاتھ  سے کرنے کی ایسی عادت پڑی کہ الحمد اللہ آج تک کسی  کی محتاجی محسوس نہ ہو  ئی ۔  اپنے کپڑے آپ دھویا  کرتے  تھے ۔  حتیٰ کہ چھٹی  والے دن جب سب طلباء گھر چلے جاتے ، تو جوگی میاں  میس میں اماں (صابر) کے  ساتھ کھانا پکانے کے رموز  سیکھتے ۔  سبزی  کاٹنےاور پکانے میں  ایسی  مہارت  آئی  کہ اب تو اکثر خواتین  جوگی کو یہ کام اس صفائی اور چابکدستی   سے کرتا دیکھ  کر  منہ میں  انگلی نہ  بھی دبائیں تو  کم از کم ناک پہ انگلی ضرور رکھ لیتی ہیں۔
(ناک پہ انگلی  رکھنا انتہائی  حیرت کا اظہار ہے ۔ اور یہ خالصتاً ایک خاتونی ادا  ہے ۔)
دو ہفتے  بعد  ایک چھٹی ہوتی ۔سب طلباء  چھٹی کے دن گھر چلے جاتے مگر  جوگی تو شاید بھول  ہی گیا  تھا کہ اس کا بھی کوئی  گھر ہے ۔جمعہ کے دن اکثر طلباء سے ان کے  والد  ین ملنے آتے  تھے ، مگر  اس  جیل میں ایک قیدی ایسابھی تھا جس کی  کبھی کوئی ملاقات نہیں آئی ۔  یومِ والدین کے علاوہ  اکثر  طلباء کے پدران  کی طلبی ہو تی تھی ۔ مگر جوگی اس  معاملے میں آزاد اور اپنے معاملات کا خود جواب دہ تھا ۔اپنی دنیا  کا آپ بادشاہ  تھا ۔

اپنا  سا منہ لے  کے رہ گئے


وسیم اور جوگی  کی بے مثال  جوڑی  کو  توڑنے کی ہر کوشش  اور سازش  جب  ناکام ہوئی  تو  کھسیاکر کھمبا  نوچنے  کیلئے  وسیم اکرم  کے  والد صاحب کو  خط لکھ مارا گیا ۔ کہ  جوگی سے دوستی  آپ کے بیٹے  کی تعلیم اور بہترین ذہنی صلاحیتوں کے  حق میں سخت مضر ہے ۔جوگی کو  غیر نصابی  کتابیں اور ناول  وغیرہ پڑھنے کی گندی عادت  ہے ۔ اس سے  یہ  چھوت  کی بیماری  وسیم کو لگی اور نتیجہ  یہ کہ  اب  یہ  دونوں ہوسٹل  میں عمران سیریز  سے  فلمی رسالوں  تک  ہر  الا بلا کے  ڈسٹری  بیوٹر ہیں۔ لیکن سر توڑ کوششوں کے باوجود  آج  تک کوئی چھاپہ کامیاب نہیں ہوا۔ اور وسیم  اکرم کو فلمیں دیکھنے کا جوچسکا  ہے،  ڈر ہے  وہ جوگی  کو  بھی  نہ لگ جائے ۔  اس لیے جیسے ممکن ہو   دور اندیشی  کا ثبوت دیتے ہوئے اس  خطرے کا بروقت  سد باب  کیا جائے ۔
اور پھر وسیم کے والدمحمد اکرم صاحب جو کہ  پاکستان  ائیر فورس  میں آفیسر  تھے ، بنفس نفیس  جوگی سے ملنے تشریف  لائے ۔مگر  جیسا  کہ  میر تقی  میرؔ کے ساتھ  ہوا تھا  وہی ہوا، یعنی :۔ الٹی ہوگئیں سب تدبیریں  ، کچھ نہ دوا  نہ کام کیا۔"جناب محمد اکرم صاحب   جوگی سے مل کر    بہت خوش ہوئے اور دو  گھنٹے کی ملاقات  کا نتیجہ یہ  نکلا  کہ جوگی کو چھٹیوں  میں اپنے ہاں آنے کی دعوت دے گئے  ۔مخالفین اور بدخواہوں میں صفِ ماتم  بچھ گئی اور  وہ شام  "شامِ غریباں "کے طور پر منائی گئی ۔

کلکتے کا جو ذکر  کیا  تو  نے ہم نشیں


گرمی  کی چھٹیوں میں فیصل آباد  یعنی  وسیم اکرم کے گھر جانا ہوا ۔
اس کی بستی کا نام "بھٹہ نواب  والا"  تھا جو کہ  نیا لاہور  نامی  چھوٹے سے قصبے  کے بالکل  ہی نزدیک ہے ۔  جھنگ سے فیصل آباد جانے والے  روڈ پر  واقع ہے ۔ اس کے علاوہ گوجرہ  سے فیصل  آباد جاتے  ہوئے پینسرہ  سے کچھ پہلے ان  کا گاؤں آتا ہے ۔
وسیم  کی  والدہ صاحبہ جوگی سے مل کر  اتنی خوش ہوئیں  کہ بیان  سے باہر  ہے ۔   بے حد  پیار اور شفقت سے ملیں اور دیکھتے ہی اپنا بیٹا بنا لیا ۔  انہوں  نے کہا میرا اب تک صرف ایک بیٹا تھا اور  ماشاءاللہ اب میرے دو بیٹے ہیں۔ حیرت کی بات یہ کہ  دونوں میں  حیرت انگیز  مماثلت  اور مشابہت ۔یوں  جوگی  کو  ایک ماں اور ایک بڑی  بہن مل  گئیں ۔
زندگی میں بہت کچھ  دیکھا ، بہت سے لوگوں  سے ملنے کا موقع ملا ۔  بہت  سے نادر روزگار لوگوں  سے دوستی رہی ۔ مگر  وسیم اکرم  سے دوستی اللہ کی سب سے بڑی نعمت تھی ۔  وہ  میرا سب سے  پیارا  دوست تھا ۔  جس کی یاداس دل  سے  یقیناً موت کی تلخی  بھی نہ مٹا پائے گی۔
اگر کوئی  وسیم  اکرم   سے واقف  قاری  یہ کہانی  پڑھے یا خود وسیم پڑھے  تو  مجھے اس  کا  سراغ دے کر احسان مند ضرور کرے ۔

 

پوچھتے ہیں وہ کہ غالب ؔکون ہے


وسیم اکرم  جوئیہ ۔  ایک ہمہ جہت  شخصیت ۔   ہر پہلو لا جواب  ،  ہر جہت میں بے مثال ۔
بے انتہا  بذلہ  سنج ،  بے  حد  ذہین  اور حاضر جواب ۔ اور( جوگی سے دوستی ہونے کے بعد  )سفاکی  کی حد تک منہ پھٹ  بھی ۔
  سلمان  خان  اس وقت  اس کا پسندیدہ  ہیرو تھا جب اس سوکھی  بوتھی والے کی فلمیں کم کم لوگ ہی دیکھنا پسند  کرتے تھے ۔ نہ صرف خود خوبصورت  تھا بلکہ اس  کی طرح اس آواز  بھی بہت خوبصورت اور بے حد  سریلی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ سکول اسمبلی  میں ہماری کلا س  کی طرف سے نعت  شریف  سنانے کی ذمہ داری  اس کے  دوش  پر تھی ۔ 
ہمارے استاد اور دربار شریف  کی  جامع  مسجد  کے امام  جناب مولانا غلام  محمد صاحب کا نواسا ہماری کلاس میں شامل ہوا۔  وہ  لاہور  سے آیا تھا  اس لیے  کسی  کو  کچھ  نہ سمجھتا تھا ۔  ایک دن اس کی  جو شامت  آئی  تو وسیم  کے سامنے  اپنے دکھڑے  روتے ہوئے  بولا :۔ "یار میں تو یہاں  آ کر پچھتا رہا ہوں ۔  یہاں  تو سارے جاہل گنوار بھرے  پڑے ہیں۔ ایسا  لگتا ہے یہ ایک چڑیا گھر ہے ۔"  وسیم نے برجستہ  کہا :۔ "ایساتو نہ کہو یار !اس چڑیا  گھر میں ایک لنگور کی کمی تھی   اب تمہارے آنے سےاچھی خاصی  رونق لگ گئی ہے ۔"
ایک مرتبہ  شکیل  احمد سعیدی  صاحب نے وسیم  پہ اعتراض اٹھایا  کہ تم جوگی کو  استاد، استاد  کیوں  کہتے  ہو ؟ ۔ وہ تمہارا استاد نہیں بلکہ کلاس فیلو ہے۔استاد تو ہم  ہیں  تمہارے ۔  اس پر وسیم  نے اپنی مخصوص دل جلانے  والی مسکراہٹ کے  ساتھ ایسامنہ توڑ  جواب  دیا  جو کہ  لکھنے کے تو قابل نہیں ۔البتہ اتنا  سمجھ لیجیئے  کہ شکیل  صاحب  نے لاجواب ہو کر  وسیم کو کلاس سے نکال دیا۔
ایک  بار سائنس  کے استاد جناب مجید احمد  صاحب نے  وسیم  کو  مرغا بنا  کر  دو  تین  ڈنڈے جڑ  دئیے ۔ لیکن  وسیم  نے چوں  تک نہ کی ۔  انہوں نے ہنس کے کہا اوئے تم  بندے ہو یا کھوتے ۔؟وسیم نے کہا :۔ " سر آپ نے جو تین ڈنڈے مارے ہیں  کھوتا سمجھ کے  ہی مارے ہیں۔ اب بندہ  آپ کے سمجھنے کی لاج نہ رکھے تو کیا  دوزخ میں جائے۔ " مجید صاحب بہت  ہنسے  اور پھر اس کے بعد    انہوں  نے  کبھی وسیم پر  ہاتھ نہ اٹھایا ۔
ایک بار عشا ء کے بعد  جب سب طلباء ہال میں بیٹھے رٹے  بازی میں مصروف تھے۔اور  وسیم  اکرم صاحب  نیند کی جھپکیوں سے لطف اندوز ہونے میں مصروف تھے ۔  کہ استاد صاحب نے دیکھ لیا ۔نیند  بھگاؤ  نعرے کے  تحت  منہ دھونے کا حکم صادر کیا ، مگر  منہ دھونے کے باوجود بھی نیند نہ ٹلی تو مرغا بنا  دیا ۔  اور جب چند منٹ بعد  وسیم مرغابنا  بنا  اچا نک ورلڈ ٹریڈ  سنٹر  کی طرح زمین بوس  ہو گیا ۔تو  استاد صاحب کی حیرانی  بجا تھی ،  پوچھا:۔  اوئے ڈھیٹ کہیں  کے، تم  مرغا  بن کے بھی نیند  کر رہے تھے  ۔ تو اس  فخر  الکہلاء  نے  جماہی لیتے ہوئے  اک ادائے  بے نیازی سے کہا :۔ "سر جی  نیند تو سولی پر بھی آ جاتی ہے ۔۔۔۔۔"طلباء نے تو  کھی کھی کھی کی ہی  استاد صاحب بھی اپنی ہنسی روکنے میں ناکام ہو گئے ۔
جیسا کہ  پہلے بھی ذکر  ہو  چکا ہے   اپنی  خوش الحانی  اور  خوبصورت آواز کے باعث  اسمبلی میں  ہماری کلاس  کی طرف سے  نعت شریف  پڑھنے  کی ذمہ داری وسیم اکرم  کے سپرد تھی ۔  ہر ہفتے  ایک  نئی نعت سنانے  کے چکر میں ایک بار  اس نے  نعت پڑھی   جو  کہ حدیقہ کیانی  کے مشہور  گانے "بوہے  باریا ں  " کی  طرز پر  تھی ۔ نعت کے مصرعے تھے :۔ "  سوچاں میریاں  مدینے ول جاندیاں ، دروداں دی صدا بن کے ۔" وسیم  نے بہت  اچھی  نعت پڑھی  مگر  روانی میں پڑھتے پڑھتے نعت سے گانے کی ٹون میں  آ گیا ۔۔۔۔
سوچاں میریاں مدینے ول  جاندیاں ۔۔۔۔۔ دروداں دی صدا بن کے۔۔۔۔ ہائے ۔۔۔  بوہے باریاں۔۔۔۔۔
طلباء تو  خیر  کھی  کھی  کرنے  کے  لیے ہمیشہ کمر بستہ رہتے ہیں۔  مگر  اس  لطیفے  پہ  تو  سخت سے  سخت  مولانا صاحبان  اور اساتذہ  کرام  بھی تمام تر  احتیاط  اور مصلحت  کو بالائے  طاق  رکھ کے   بے ساختہ قہقہنے پہ  مجبور  ہو گئے  ۔

Monday, 2 September 2013

محفلیں درہم کرے ہے گنجفہ بازِ خیال

3 آرا
 فدوی وہ  خوش قسمت واقع  ہوا کہ  ذوالقرنین سرور  میں دھتیاسے ۔۔۔
ہوسکتا ہے  آپ   ناواقف ہوں  ۔۔۔ یا  خیر  سے بھلکڑ واقع ہوئے ہوں۔۔۔۔ تو  آپ کی مشکل آسان کیے دیتا ہوں۔۔۔۔
نیرنگِ خیال۔۔۔۔ یہ اوٹ پٹانگ سا لفظ  پڑھ کے اکثر"پڑھے لکھے  "قسم کے ذہن مولانا آزاد کی تصنیف  کی طرف  گھوم جاتے   ہیں۔  لیکن  چونکہ ساڈے سوہنے  استاد جی فرما گئے ہیں :۔ "لازم نہیں خضر کی ہم پیروی کریں" اس  لیے پاسے کرو   مولانا  غلام نہرو  (اوہ معذرت )مولانا  آزادکو، یہ دیکھیے ناں ۔۔۔۔ یہ رہا ایک نواں نکور  نیرنگ ِ خیال۔۔۔۔۔مزے کی بات یہ کہ ہر قسم کے سالخوردہ بلکہ کِرم خوردہ "بابوں" کے اثرات سے پاک ۔۔۔  اتنا  خالص ۔۔۔۔  جتنا  ماں کا پیار ۔۔۔۔بلکہ  چند منتہیٰ قسم  مقامات   جہاں  بڑوں بڑوں کی  بابائیت اور بزرگیانہ  فرزانگی   ہانپتی  پائی گئی اور  "گنجے  فرشتوں" کے  سوختہ  پروں  کا ڈھیر  لگا ہوا تھا ۔وہاں  سے آگے کو جاتے نقشِ پا  کچھ  مستند  "کُھرا  شناسوں" کے حلفیہ  بیان  کی رُو سے انہی  حضرت  کے  ہیں۔

جس قدر  اوٹ پٹانگ  آپ کا قلمی  نام  ہے اس  سے کہیں زیادہ  موصوف نستعلیق واقع ہوئے ہیں۔

چانکیائی  بنیادوں پہ استوار  گاندھی گیری کا  ورلڈ فریب  سنٹر  اس  "نین  الیون"کے  سامنے  ریت  کا  بھدا سا تودہ  نظر آتا ہے ۔ حضرت موہن  داس  کرم چند گاندھی  جی کے  پیڈسٹل  پنکھوں ،  بریکٹ  فین، سیلنگ  فین  وغیرہ وغیرہ  کو  میری  ان خرافات ہائے بے جا   پر چیں بجبیں  ہونے  اور آگ بگولا  ہونے   بے شک  پورا حق ہے   مگر  خدا لگتی کہتا  ہوں  گاندھی جی کا  اونٹ اس کے  ٹو(پہاڑ)کے نیچے کھڑا   کے دیکھ  لیں ۔ واضح ہوجائے گا کہ  پنجاب  کے اصلی دیسی گھی اور  جنوبی افریقہ کے ڈالڈا  میں کیا فرق ہے ۔۔۔
صلائے عام  یارانِ نکتہ داں کیلئے 

اللہ جھوٹ  نہ بلوائے  میں نے  اب  تک گزری زندگی میں بڑے بڑے انٹارکٹکا آخر  کارایک  نقطے  پہ پگھلتے دیکھے  ہیں۔ سائبیریا کے آئس برگ  بھی  سرکتے  سرکتے  سرک  جاتے ہیں۔جوگی  صدقے  جائے  اس  کوہ  ہمالیہ  کے  جسے  ہلانا ممکن ہے نہ پگھلانا ۔۔۔۔ ماشاءاللہ
آپس کی  بات ہے ! مجھ پہ ایک بار  سیانے پن کا دورہ پڑا۔ میں  نے سوچایا تو  یہ حد سے زیادہ  بزدل اور دبو  ہے  یا  پھر مہان آلسی ۔ورنہ  آدمی  کو  بھلا کیسے میسر  ہوا اس قدر مشکوک  حد تک  نستعلیق  انسان ہونا۔۔؟میں نے اپنی کسوٹیاں  سنبھالیں اور موصوف کی جانچ  پڑتال  میں البیرونی  کی طرح کچھ عرصہ مغز ماری میں لگا رہا  ۔اور  نتیجہ  نکلا  کہ جس طرح  زمین  کا  گول ہونا  حقیقت  ہے  اسی طرح یہ بھی  ناقابل ِ یقین  سہی مگر  حقیقت  ہے کہ حضرت  وجوبی  حالتوں میں بھی آپے اور جامے سے  باہر  نہیں ہوتے ۔۔۔   
ایک دن  میں  نے حسد کے مارے  ،رشک  ٹپکاتے الفاظ  میں پوچھ ہی لیا :۔
  یہ آب و گِل  کہاں  سے آئے ہیں؟؟؟؟
ابر کیا چیز  ہے ؟؟؟؟  ہوا کیا ہے ؟؟؟؟
ارسطو  جس پہ قربان جائے  اور سقراط  سر دھنتا  مر جائے   اس فیلسوفی  مسکراہٹ  سے  بولے :۔  مورکھ !!!انسان میں صرف  خود  پرستی  اور  خود ترسی  کا  ہی نہیں  خود  ملامتی  اور خود اذیتی کا مادہ  بہر حال موجود ہے ۔ جب  یہ  لیول خطرے کے نشان  سے  اکھ مٹکا  کرنے لگے تو اسے  ذلالت پرستی  کی انتہا کہتے ہیں۔اس  مرض کا مریض  جان بوجھ کر  ایسی حرکتیں اور "خرکتیں" کرتا ہے  تاکہ  جواباً اسے  جی  بھر کے ذلیل کیا جائے  اور اس  کی ذلالت پرست  حس  کو تسکین پہنچے ۔اگر مابدولت ان جاہل  گدھوں  کی باتوں  پہ ان کے حسبِ منشا  ردِ عمل  کا مظاہرہ کریں گے   تو مطلب ہوا کہ  میں اس کے اشاروں پہ ناچنگ۔۔۔۔۔۔ ترسانا  بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے ۔۔۔۔  سمجھا  کر نہ یار ۔

  ہم سخن فہم ہیں غالب  ؔ کے طرفدار  نہیں۔۔۔۔ آہو

دو ہزار بارہ  کے رمضان  المبارک  میں  جس  دوستی کی بنیاد  پڑی  تھی ۔   اس دو ہزار  تیرہ  کے  رمضان المبارک  میں اس نے   ایک سال  بخیر و خوبی  پورا  کیا۔ بالکل جناب  ،  آپ بھی ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔اس قدر خوبیوں اور محاسن کے مالک سے دوستی کرنا یا دوستی ہو جانا کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔جیسے  فلسفے  میں پی ایچ  ڈی کر کے علامہ صاحب نے  "بالِ جبریل " لکھ ڈالی تو کیا کمال ہوا ۔ کئی کن  ٹٹے "علامے " تو ایسے بھی ہیں کہ بے شک ماضی مطلق مجہول کی گردان نہیں آتی اور نہ یہ  خبر  ہے کہ اِنّ ، انّ، کان، لیت ، لعل  مبتدا اور خبر  پر کیا عمل کرتے ہیں ، پھر  بھی  وہ  "بالِ عزرائیل "  یعنی  "موت  کا منظر ، مرنے کے بعد کیا ہوگا" جیسی کتابیں  لکھ دیتے ہیں۔
مجھے خدانخواستہ خفقان  نہیں، اگرآپ میری بات سمجھنے کی کوشش کریں تو واضح ہو جائے گا قاضی کے گھر کے چوہے سیانے  ہوں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں۔فلسفے  میں پی ایچ ڈی  کے بعد بال جبریل  کی تصنیف  کوئی بڑی بات نہیں۔اسی  طرح     اس قدر خوبیوں اور محاسن کے مالک سے دوستی کرنا یا دوستی ہو جانا کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔ظاہر  ہے  اور بھی بہت سے لوگ موصوف سے  لنگوٹیانہ یاری  کے مدعی ہوں گے ۔اور  ہمارا  عقیدہ کہ "قیامت ہے کہ ہووے مدعی کا ہم سفر غالب"۔۔۔۔پھر  یہ مذکورہ بالا   سطور  چہ معنیٰ  دارد۔۔۔؟؟؟
اب تک  کچھ عجلت  پسند  بزرگ  مجھ پر  خوشامدی  کا فتویٰ  لگا چکے ہوں گے ۔  مگر  واضح ہو کہ  
صادق ہوں اپنے قول  میں غالبؔ !خدا گواہ
کہتا ہوں  سچ  کہ جھوٹ  کی عادت نہیں مجھے
موصوف سے دوستی  کو اپنا طرہ امتیاز سمجھنے والے اور ہوں گے ۔۔۔ہم کو تقلید  تنک ظرفی منصور نہیں۔۔۔۔

کسی کی صفت  بیانی کی صرف ایک ہی وجہ تو نہیں ہوتی پیارے  لال۔۔!!! موصوف اس  ہیچمداں ، بندہ  ناداں کے پسندیدہ ترین مزاح نگار بھی   واقع  ہوئے ہیں۔لیکن آپ سوچیں  گے  مزاح نگار  ہونا  تو کوئی بڑی بات نہیں ۔۔۔۔  یقیناً  مزاح نگاری کا لیبل لگوا لینا کوئی بڑی بات نہیں۔ لیکن  چھوٹے غالب  کا پسندیدہ مزاح نگار  ہونا  یقیناً  بڑی  اور بے حد  بڑی  بات ہے ۔  خاکم  بدہن میں بالواسطہ اپنی تعریف  کی راہ نہیں نکال  رہا ،  میں دراصل یہ بتانا چاہتا ہوں کہ  فدوی  تنقید  نگاری  میں "مولانا حالیؔ"کے سکول آف  تھاٹ سے  تعلق  رکھتا ہے ۔  اور یہ  بھی سب کو پتا ہے کہ فدوی  "حیوانِ ظریف " کی  شاگردی  کا بھی دعوے دار ہے ۔اور  ان دونوں عوامل کی  موجودگی  میں کوئی مائی کا لال   جوگی  کاپسندیدہ مزاح نگار  ہوجائے تو  یہ یقیناً  بہت بڑی بات ہے ۔
پس  ماننا ہی پڑے گا  کہ  بندے  میں دم ہے ۔  جس  قطار میں صرف پطرس  بخاری  ،  کرنل محمد  خان اور ابنِ انشا  جیسے   عظیم  مزاح نگار  ہوں   اس  قطار  میں اپنی جگہ  بنا لینا  نہ صرف ایک  بہت بڑا اعزاز  ہے ، بلکہ غالبؔ کے  مصرعے  کی حقیقت  بیان  کرتی  بین  دلیل  ہے ۔ اگر  نیرنگِ  خیال انسان ہے  تو  پھر یقیناً  ہر  آدمی کو میسر  نہیں انسان ہونا۔

بے شک آپ  کا مطالعہ بہت وسیع  ہے ۔ آپ کی  کتابوں  کی  الماری  میں کچھ نوادرات  بھی  موجود ہیں۔ 
لیکن!!!!!!!
اگر  اب تک  آپ  نے  موصوف کو نہیں پڑھا تو اپنے آپ پر ظلم کیا ہے ۔ لٹر پٹر  اور الم  غلم  پڑھنا چھوڑئیے ،  نیرنگِ خیال کو پڑھیے۔

آپ کا حلقہ احباب  یقیناً  بہت وسیع  ہوگا ۔  بہت سے پہنچے ہوئے ، سلجھے ہوئے وغیرہ وغیرہ قسم کے دوستوں سے  آپ مالا مال ہیں
 لیکن  اگر  آپ  نیرنگ ِ خیال  کے دوست نہیں  تو آپ دنیا کے مفلس ترین آدمی  ہیں۔
مشورہ  مفت ہے سوہنا۔  
انکار  یقیناً  ابلیس  کے ہم خیال و پیروکار ہی کریں گے ۔۔۔۔۔ 

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط سیزدہم)

0 آرا

کیا غمخوار  نے رسوا، لگے آگ اس محبت کو


نشیب و فراز تو زندگی کا حصہ ہیں۔  اور  ہر عروج کو  زوال ہے ۔  اس  میں کسی کی شعوری یا لاشعوری کوشش کو چنداں دخل نہیں۔اپنے آپ  پہ اترانے  والا  انسان تو محض ایک کٹھ پتلی ہے ۔ کیا خوب فرمایا ہے مرزا غالب ؔ علیہ  الرحمۃ  نے :۔ 
نقل کرتا  ہوں  اسے  نامہ اعمال میں مَیں 
کچھ نہ کچھ  روزِ ازل  تم نے لکھا ہے تو سہی
آٹھویں  جماعت کے سالانہ امتحان  بورڈ آف ایجوکیشن فیصل آباد  کے زیر اہتمام ہونے  قرار  پائے  تھے ۔ اور گورنمنٹ ہائی  سکول  نمبر  ایک  ،  نزد پریم ستی  ٹرسٹ  کالج   امتحان گاہ مقرر ہوئی ۔ مولانا حضرات سر پہ ٹوپیاں  سجائے امتحان دینے پہنچ  گئے ۔  پہلا پرچہ  نہایت  ہی اچھا ہو ا۔   اور وہ  جو ایک ہوّا سوار  تھا وہ  بھی  اتر گیا ۔  نگران  بھی آلسی  تھے ۔ اور کوئی خاص سختی بھی نہیں تھی ۔  باقی سب پرچے  تو بغیر  بیرونی  ذرائع  کی مدد  سے  بہترین ہو تے رہے  ۔ مگر  ایک کمبخت ریاضی  سے جوگی  کی کبھی نہ بنی تھی ۔  اس لیےجس  دن  ریاضی کا پرچہ درپیش  تھا     وقتِ روانگی  "امام ضامن  "طور پر ٹیسٹ پیپر (جسے  طلباء  کی زبان میں "خلاصہ" کہا جاتا ہے ) ساتھ رکھ لیا ،تاکہ حوصلہ  رہے اور  یہ ریزرو  بوقتِ  ضرورت کام آئے ۔ اور کمرہ امتحان میں  داخل ہونے سے پہلے وہ ٹیسٹ  پیپر  مبینہ طور پر  امتحانی  فائل  کے اندر گھات لگا کے بیٹھ گیا ۔
پرچہ شروع  ہوا۔  سوالیہ پیپر  ہاتھ آیا تو ٹیسٹ  پیپر  ساتھ لے آنے پر افسوس  ہوا۔ کیونکہ آدھا پرچہ تو خالصتاً  اپنے  زورِ بازو  پہ حل کیا جا سکتا تھا ۔  لیکن اب خلاصہ   ساتھ آ ہی گیا  ہے  تو خیر  ہے ۔  اور  یہی تو خام خیالی تھی  کیونکہ   آج قطعاً خیر نہ تھی ۔تقدیر  حسبِ عادت  بندے  کی تدبیر  پر کھی کھی کھی  کیے    جا رہی تھی ۔
آدھا پرچہ  تو لگے ہاتھوں"ایمانداری بہترین حکمتِ عملی ہے " والے  مقولے  کو   مدنظر رکھ  کے  حل کر ڈالا   گیا ۔  اس  کے بعد  سپریم کورٹ  کی  طرح  نظریہ ضرورت کو  جواز  بنا کر  اپنی پوزیشن مستحکم رکھنے کیلئے ٹیسٹ  پیپر  سے  مدد  لینے  کا  "اصولی "فیصلہ  کیا گیا ۔  دیدہ  دلیری  ملاحظہ ہو  کہ  جوابی پرچے  کے  نیچے ٹیسٹ پیپر  پڑا  ہے ۔  جیسا کہ کسی  کن ٹُٹے عاشق  کا قول  ہے کہ "دل میں سجا رکھی ہے تصویر یار ۔   ذرا  سر جھکا کے  دیکھ  لیا " اسی  طرح نگران  صاحب کے گھومتے  ہی پرچہ اٹھا  کے نیچے سے  جواب دیکھ لیا ۔  زندگی  میں  پہلی بار نقل لگائی  تھی ۔  اور  خوشی بھی بہت  تھی  کہ ریاضی  نہیں سمجھ میں آتی تو نہ آئے ، ٹیسٹ پیپر زندہ  باد ۔ 
اسی  اثنا میں سنٹر  سپرنڈنٹ  صاحب حسبِ معمول رسمِ دستخطی  ادا کرنے کو اس  کمرے میں  داخل ہوئے  اور  ہمیشہ کی طرح ہر  ایک طالب علم  کے جوابی پرچے کے ماتھے پر دستخط کے نام  پر  لکیریں گھسیٹنے  میں مصروف ہو گئے ۔  دماغ  نے جوگی سے کہا  :۔ حالات اور احتیاط کا تقاضا ہے  کہ ٹیسٹ پیپر کا  تبادلہ  کر دیا  جائے  اور اس  کو عارضی  طور پر  گھٹنے  کے نیچے  پناہ گاہ میں بھیج دیا جائے ۔ یہ رائے مناسب بھی تھی ۔ مگر  ایک  کمبخت  دل بھی تو  انسان میں ہوتا  ہے جس  کے بارے میں مرزا  غالب ؔ علیہ  الرحمۃ  کا قول ِ فیصل ہے کہ :۔"  دوستدار  دشمن ہے  ، اعتمادِ دل معلوم"
اس منحوس  دوستدار  دشمن نے  دماغ پر  ڈرپوک  ہونے کی پھبتی  کسی  اور کہا کہ پہلے کبھی کسی نے اتنی  تلاشی  لی ہے جو آج  لے گا ۔ زیادہ  ہی خوف ہے  تو ٹیسٹ پیپر کو  پرچے کے  نیچے سے نکال  کر فائل کے اندر رکھ لو۔  اول تو  وہ کسی کی فائل کھول کے اندر دیکھ  ہی نہیں رہا ۔ دوم یہ سپرنڈنٹ کو ئی  مرزا  غلام احمد قادیانی تو نہیں کہ اسے الہام ہو جائے گاکہ جوگی کی فائل میں   ٹیسٹ پیپر پڑا ہے ۔ کمبخت کے  دلائل اتنے  زوردار تھے کہ جوگی  نہ چاہتے  ہوئے بھی دل  سے  متفق ہو گیا ۔  جونہی سپرنڈنٹ پہلی رو سے دوسری  رو میں مڑا  ،چشم  زدن  میں خلاصہ پرچے کے نیچے  سے  فائل کے اندر منتقل ہو گیا ۔  اور جوگی  دنیا  جہان  کی شرافت اور مسکینی  چہرے پر سجائے   پرچہ حل کرنے  کی  اداکاری  میں  مصروف  ہو گیا۔  آخر  کار  وہ منحوس  گھڑی آن پہنچی ۔ سپرنڈنٹ  نے  فائل  لے کر  پرچے پہ دستخط گھسیٹے  اور آگے بڑھ گیا ۔  جوگی  کا  رکا ہوا سانس  بحال ہوا اور ابھی کلمہ  شکر  منہ سے نکلا بھی نہ تھا  کہ سپرنڈنٹ واپس مڑا  اور  جوگی سے فائل کھولنے کو کہا ۔ 
اُس وقت  کی  کیفیات  کو حوالہ الفاظ کرنا بے حد مشکل ہے ۔ بس اتنا معلوم  ہے ، فائل کھلی ، اندر خلاصہ پڑا منہ چڑا رہا تھا ۔  سپرنڈنٹ  نے نام  پوچھا  اور کہا  یہ کیا حرکت ہے ۔؟؟  جواب  نہ ملنے پر  پیپر  چھین لیا اور کمرے سے دفع ہو جانے کا آرڈر دیا۔  یہ تو غالب کا حوصلہ  تھا  کہ فرمایا   :۔ "دے وہ   جس قدر ذلت ہم ہنسی میں  ٹالیں  گے" کیونکہ  "ان" کا پاسباں  غالب ؔ کا آشنا  نکل آیا تھا ۔ لیکن جوگی کیسے ہنسی میں ٹال دیتا جبکہ پاسبان تو کیا نگران بھی  آشنا نہ تھا اپنا ۔ منہ  بنائے  ، فائل بغل میں دبائے  ، بہت بے آبرو ہو کر  اس کمرے سے  ہم نکلے ۔ نجانے جنت سے  نکلتے وقت  حضرت  آدم علیہ السلام کی کیا کیفیا ت ہوں گی ۔
  باہر  اس سکول کے  ہیڈ  ماسٹرصاحب ٹہل رہے  تھے ۔ جوگی کو جو یوں  عربی اونٹ  کی  طرح  گردن اٹھائے باہر جاتے دیکھا تو وقت پوچھا ۔ معلوم ہوا  کہ  ابھی  آدھا وقت  بھی نہیں گزرا ۔  پھر تم کیوں جا رہے ہو ۔؟  چلو واپس جاؤ  ۔۔۔۔قاعدے کے مطابق آدھا وقت تو بیٹھو ۔ جوگی نے وضاحت کی  کہ جناب مجھےتو بیٹھے رہنے میں کوئی  اعتراض نہیں البتہ سپرنڈنٹ صاحب  کو ضرور  ہے ۔ ہیڈ ماسٹر صاحب ہنس پڑے اور جوگی کو ساتھ لیا  اور  خود کمرے میں دوبارہ بٹھا گئے ۔ نگران صاحب کی جو بے عزتی ہونی تھی وہ  تو سپرنڈنٹ  صاحب پہلے ہی  کر چکے تھے ۔ اس لیے  اب نگران صاحب جوگی کے سر پہ سوار رہے ۔ مگر  ملنگ کو کیا پرواہ  کیونکہ وہ  تو 80 نمبر  کا پرچہ حل کر  کے پُر باش تھا ۔  اب چاہے سر پہ بیٹھے  یا گود میں، میری جانے بلا ۔۔۔۔۔


ایک مرگِ ناگہانی اور  ہے 


نگران صاحب سے  جب کسی طرح بے عزتی ہضم نہ ہوئی(کاش کوئی  اسے  پروفیسر  حکیم سلیمان  کی پھکی  کھا نے کا صائب مشورہ  ہی دے دیتا )تو موٹر سائیکل پہ سوار ہو کے آ گئے۔ اور دو  گھنٹے  رشید صاحب کے آگے رونے روتے رہے  ۔  ان کے جانے  کے بعد جوگی کو  سمن جاری ہوئے  اور      مغرب  کے کھانے  کے بعدرشید صاحب کی عدالت  میں جوگی کی پیشی  ہوئی ۔اور انہوں نے دو اور  دو ملا کر چار گھنٹے(بزعمِ خودتو)خوب بے عزتی   کی ۔ مگر مردِ ناداں پہ اس کلام ِ نرم و نازک  کابھلا  کیا اثر ہونا تھا ۔ البتہ  افسو س  اس بات کا تھا  کہ رشید صاحب  کی زبانی  بے عزت ہونا پڑا ۔ اور شاید رشید صاحب کو بھی زیادہ  دکھ یہی تھا کیونکہ انہوں نے جوگی  کو کبھی اپنی اولاد سے کم نہ سمجھا تھا ۔  
اب کیا ہو سکتا تھا ۔ ہونی ہو چکی  تھی ۔ پرنس آف پرشیا والا خنجر  بھی ہاتھ میں  نہ تھا کہ وقت میں واپس جا کر  سب کچھ ٹھیک کر دیتا اور  پرانی کہانیوں کی طرح سب ہنسی خوشی  رہنے لگ جاتے ۔ بنی بنائی ساری عزت کا جنازہ  نکل چکا تھا ۔  لائق فائق  طلبا ء والی  فہرست  سے خارج کیے جا چکے تھے ۔   ساری شہرت اور مقبولیت کو دھبا  لگنا  تھاسو   لگ چکا تھا۔


اپنا نہیں وہ شیوہ  کہ آرام سے بیٹھیں


انتقامی  کاروائی  کے طور پر   بقیہ سارے پرچوں میں جوگی اور  وسیم  نے  ایک"اندازِتخریب کاری اور"کا  مظاہرہ  کیا۔  عربی  ، سائنس  اور انگلش  کے پرچوں  میں تو  سارے کمرے کے مددگار ہوئے ہی  مگر  معاشرتی علوم کے مضمون میں تو کوئی  شریکِ غالب نہ تھا ۔  اس  لیے پہلے آدھے گھنٹے  میں  اپنا پرچہ حل کر کے  فارورڈ کر دیا ۔قائد اعظمؒ کے چودہ نکات  والا سوال  طلبا ء  کے نزدیک  بہت دہشت ناک  ہوتا تھا ۔  رٹا مارنا چونکہ اپنی  فطرت میں بھی نہ تھا اس لیے قائداعظم  ؒ    کے چودہ نکات باریک باریک  لکھائی میں پیمانے پر لکھ کے  لےگئے اور نہایت اطمینان  سے پرچے میں لکھ دئیے ۔
جونہی نگران  مڑتا  ، پرچوں کا تبادلہ ہو جاتا ۔   اپنا پرچہ  لکھنے کے بعد  جوگی نے وسیم کا  پیپر  حل کیا ۔  اس کے بعد  ان  دونوں کے پرچے کمرے میں گردش کرنے لگے ۔ ہمارے پرچے کسی  کے پاس کسی  اور کے ہمارے پاس ۔  اور  یہ پہلا موقع تھا جب  جوگی کسی  پیپر  میں پورے تین گھنٹے ٹک کر بیٹھا ہو ۔  اس دن بلا مبالغہ  بارہ  نالائق طلبا ء کے پرچے  نگران  کے  ناک کے  نیچے بیٹھ  کر جوگی نے خود لکھے ۔ 

مغل سے مغزل تک (مغزل کہانی قسط 2)۔

0 آرا
گزشتہ سے پیوستہ


دو دفعہ کا ذکر ہے کسی دور دراز علاقےمیں  ایک جوگی  رہتا تھا ۔ایک دن نہ جانے اس کے جی میں آئی کہ اٹھا اور اپنے برقی گھوڑے پر بیٹھا اور کہیں نکل گیا،  پھرتا پھراتا ،  ایک خوبصورت وادی میں جا پہنچا، وہاں کے لوگ بہت ملنسار اور مہمان نواز تھے۔ جوگی کا وہاں دل لگ گیا ، وہ سارا دن وادی میں گھومتا پھرتا رہتا تھا ، اور رات کو الو کی طرح اپنی بولی میں اودھم مچاتا رہتاتھا۔ ایک دن وہ ایک خوبصورت جھیل کے  کنارے جا نکلا ، جھیل بے حد خوبصورت اور صاف ستھرے تازہ پانی سے بھری تھی ، کناروں پر رنگا رنگ پھول عجب بہار دکھلا رہے تھے ، اچانک اس کی نظر جھیل میں تیرتے ہنسوں کے جوڑے پر پڑی ،جھیل میں دو سفید سفید نہایت خوبصورت  راج ہنس  تیر رہے تھے  اور  اردگرد سے بے نیاز ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے۔ جوگی ان کی محبت سے بہت متاثر ہوا ، اور اسے ان دونوں سے انس سا ہو گیا ۔ اب وہ روزانہ وہاں آتا ، اور سارا دن بیٹھ کے ان کی خرمستیاں اور اٹکھیلیاں  دیکھتا ۔ کچھ عرصہ بعد راج ہنس بھی جوگی سے مانوس ہو گئے ، اور نر کی جوگی سے دوستی ہوگئی ، اور مادہ کو جوگی نے بہن بنا لیا ۔  جوگی نے ان کے نام رانجھا اور ہیر رکھ دئیے۔دن یونہی گزرتے رہے، ایک دن ایسا ہوا کہ راج ہنس جھیل میں تیرنے نہ آئے۔جوگی نے سوچا کوئی مصروفیت ہوگی، مگر رانجھا اور ہیر لوٹ کر نہ آئے ۔اس نے امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا ، لیکن وہ تو جیسے واپسی کا رستہ ہی بھول گئے ۔ اب جوگی کا وہاں پہ دل نہ لگتا تھا، وہ  اداس اداس سا رہنے لگا ، پھر ایک دن اس کے دماغ میں ایک خیال آیا کہ کیوں نہ رانجھا ور ہیر کو تلاش کیا جائے، کیا خبر وہ کس حال میں ہوں ۔ اللہ کا نام لے کر جوگی ان کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ مگرچونکہ   ان کا مقام اور پتہ  نہ جانتا تھا، اس لیے شہروں شہروں ان کی تلاش میں بھٹکتا پھرا ، ایک دفعہ جب وہ ایک گھنے جنگل سے گزرہا تھا  کہ  رات نے آ لیا ،اس نے رات گزارنے کیلئے کسی محفوظ جگہ کی  تلاش شروع کر دی ۔ اچانک اسے ایک طرف  روشنی دکھائی دی ، وہ اس سمت چل پڑا، چلتے چلتے ایک جھونپڑی کے سامنے پہنچ گیا ، یہ روشنی جھونپڑی میں جلتے دیے کی تھی ، اس نے  اطمینان کی سانس لی اور دروازے پہ آواز دی" کوئی ہے ؟"
اندر سے آواز آئی " اندھے ہو کیا ، نظر نہیں آتا  کہ دیا جل رہا ہے ، تو ظاہر ہے کوئی ہوگا ہی۔"
جوگی نے کہا :۔ "دیے کا جلنا کوئی ثبوت تو نہیں کسی کے زندہ موجود ہونے کا۔ دیے تو قبروں اور مزاروں پر بھی جل رہے ہوتے ہیں۔"
اندر سے آواز آئی :۔ "بکو مت، سیدھی طرح بتاؤ کون ہو تم اور کیا چاہتے ہو؟  نہیں  تو دفع ہو جاؤ،میں بہت مصروف ہوں۔"
جوگی:۔" میں ایک مسافر ہوں ، اس جنگل سے گزر رہا تھا کہ رات ہو گئی ، رات گزارنے کا ٹھکانہ ڈھونڈ رہا تھا"
اندر سے آواز آئی :۔ "اب اندر بھی آؤ گے یا باہر ہی کھڑے سر کھاتے رہو گے؟"
جوگی جھونپڑی کا دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہے کہ  ایک پونے 63 سال کے بزرگ موٹے موٹے عدسے آنکھوں پہ چڑھائے،  بیٹھے  دیوانِ غالبؔ  کی تلاوت کر رہے  ہیں ۔جوگی نے آگے بڑھ کے ادب سے سلام کیا ، اور دیوانِ غالبؔ کو ہاتھ لگا کر آنکھوں کو لگائے۔ یہ دیکھ کر بزرگ کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ دوڑ گئی ، اور ماتھے کی  تیوریوں میں  بھی کچھ کمی ہوئی ۔ 
بزرگ:۔ " کہاں سے آ رہے ہو بالک؟ اور کدھر کا  ارادہ ہے ۔"
جوگی:۔ " میں  ایک دور دراز ملک  اردو محفل سے آ رہا ہوں، اور منزل کا کوئی پتہ نہیں ، قسمت نے پاؤں میں راستے بچھا دیے ہیں اور میں چلتا جا رہا ہوں ۔نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں ۔آپ بتائیے یہ کونسا ملک ہے ؟"
بزرگ :۔ " میرا نام اعجاز عبید اخترؔ ہے، اور تم اس وقت سر زمین ہندوستان پر ہو،  اور یہ گھنا جنگل سندر بن کے نام سے مشہور ہے ۔ تم بتاؤ کہ تم کس کی تلاش میں نکلے ہو۔؟"
جواب میں  جوگی نے  رانجھے اور ہیر کے  ملنے سے لیکر ان سے بچھڑنے تک کا سارا قصہ تفصیل سے سنا دیا،  یہ سن کر بزرگ  بہت متاثرہوئے، اور کہا:۔ " ٹھیک ہے تم یہاں رات گزار سکتے ہو، مگر میری مانو تو تم اس لاحاصل تلاش کو ترک کر دو، یہ دنیا بہت بڑی ہے ، جو ایک بار کھو جائے وہ دوبارہ نہیں ملتا ۔"
جوگی:۔ " میں اس لاحاصل کی تلاش میں ہی مرنا پسند کروں گا ، تا آنکہ میں انہیں ڈھونڈ نہ لوں ، آپ نہیں جانتے کہ وہ دونوں میرے لیے کتنی اہمیت رکھتے ہیں ۔میں ایک تنہا اور اکیلا جوگی تھا، جس کا کوئی بھی دوست کوئی بھی رشتے دار، کوئی بھی ایسا نہیں تھا جسے میں اپنا کہہ سکتا ۔ خوش قسمتی سے مجھے بہن بھائی ملے ،  ابھی میں ان کے ملنے کا ٹھیک سے شکر بھی ادا نہیں کر پایا تھا کہ وہ بچھڑ گئے۔  اس رشتے کی قدروقیمت کوئی میرے جیسا ہی کر سکتا ہے جس کی ساری زندگی اکیلے ہی گزری ہو۔ میں نہ تو ان کی تلاش ترک کر سکتا ہوں ، نہ ہی انہیں بھولنے کا حوصلہ ہے مجھ میں ۔"
یہ کہتے کہتے جوگی کی آواز بھرا گئی، اور بزرگ کی بھی آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے ۔رندھی ہوئی آواز میں بولے:۔" بس کرو بیٹا ، مجھے یقین آ گیا ہے تمہاری لگن کی سچائی پر، میں  دعا کرتا ہوں، کہ تمہاری تلاش کامیاب رہے ، اور تمہیں تمہارے دوست مل جائیں۔لیکن مشکل یہ ہے کہ تم ان کا نام و مقام تک نہیں جانتے ، پھر انہیں  ڈھونڈو گے کیسے؟"
جوگی:۔ " نہیں جانتا، کیسے ڈھونڈوں گا، مگر پھر بھی دل میں ایک آس ہے کہ کبھی نہ کبھی ان سے ایک بار پھر ضرور مل پاؤں گا۔ آپ مجھے اللہ کے نیک بندے اور بزرگ لگتے ہیں ، خدا کیلئے آپ ہی میری کچھ مدد کیجئے۔"
بزرگ :۔ " ارے کیسی باتیں کرتے ہو  ،  میں نے تو ساری زندگی فاعلاتن ،فعلان،  فاعلات   کرتے گزاری ہے ، اس کے سوا کوئی کام نہیں کیا۔  میں تو خود اللہ سے امید لگائے جنگل میں بیٹھا ہوں۔میں بھلا کیسے نیک اور بزرگ ہو گیا ،"
جوگی:۔ " بزرگو!! کیا اب آپ منتیں کروانا چاہتے ہیں؟ ، اگر آپ بزرگ نہیں  ہیں تو یہ بال کیا دھوپ میں لیٹے لیٹے سفید کیے ہیں؟۔  میری کچھ مدد کریں۔"
بزرگ :۔ "نالائق ، بد اخلاق ، کسی نے بزرگوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں سکھائی کیا ،  پتا نہیں کہاں سے آ جاتے ہیں منہ اٹھا کے، چلو دفع ہو جاؤ ابھی اور اسی وقت یہاں سے ۔"
جوگی بزرگ کے پاؤں پر گر پڑا اور گھگھیا کے بولا:۔ "معاف کر دیں عالی جاہ! ، ساری زندگی انسانوں سے دور  ویرانوں میں گزری ہے ، اور کچھ زندگی کی صعوبتوں نے زبان تلخ کر دی ہے ، اس لیے نادانستگی میں غلطی ہو گئی ۔ آپ کو غالبؔ کا واسطہ مجھے معاف کر دیں اور میری  کچھ مدد کریں۔"
غالبؔ کا نام سنتے ہی بزرگ کچھ نرم پڑ گئے اور بولے:۔ "اچھا ٹھیک ہے ٹھیک ہے، اب تم آرام سے سو جاؤ، صبح اللہ کچھ نہ کچھ سبب بنا دے گا۔"
مگر نیند کیا خاک آنی تھی،  سونے کیلئے لیٹا تو بزرگ نے دوبارہ دیوانِ غالبؔ کھول کر اس کی تلاوت شروع کر دی ، نتیجتاً جوگی ساری رات بیٹھ کے سر دھنتا رہا۔
جب صبح کا اجالا پھیل گیا  اوربلبلیں سن کر یہ نالے غزل خواں ہو گئیں تو جوگی نے بزرگ کو ان کا وعدہ یاد دلایا ۔ بزرگ نے اثبات میں سر ہلایا ، جوگی کو خاموش رہنے کی ہدایت کر کے  سر جھکا کر مراقبے میں ڈبکیاں لگانے لگے ۔ کافی دیر بعد مراقبے سے سر اٹھا یا اور بولے:۔ " تمہارے لیے ایک عجیب و غریب خبر ہے "
جوگی بے تابی سے بولا :۔ "جی جناب  میں جانتا  ہوں غریب ہی ہوگی ، زرداری کی صدارت میں جہاں انسان ِ خطِ غربت سے نیچے  سسک رہے ہیں ، وہاں خبر کی کیا مجال کہ امیر ہوتی پھرے ، بہرحال عجیب ہو یا غریب ، جلدی بتائیے کیا خبر ہے؟"
بزرگ:۔ "وہ جنہیں تم ہنس راج سمجھتے رہے اور انہیں بہن بھائی بنا لیا ، وہ سچ مچ کےراج  ہنس  نہیں  تھے۔"
یہ سن کر جوگی ہنس پڑا اور بولا:۔ " بابا جی، مخول نہ کرو،  اگر وہ سچ مچ کے راج ہنس نہیں  تھے تو کیا پلاسٹک کے تھے؟ "
بزرگ:۔ " ناہنجار ! دھیان سے پہلے پوری بات تو سن لیا کرو، بیچ میں ٹانگ اڑا دیتے ہو۔ وہ جسے تم نے بہن بنایا تھا اور اس کا نام ہیر رکھا تھا ، وہ کوئی راج ہنسنی نہیں بلکہ پریوں کی شہزادی ہے ، اور وہ جو تمہارا دوست بنا تھا ، وہ راج ہنس نہیں بلکہ اصل میں  ایک انسان ہے۔"
جوگی:۔ " بابا جی ! میں  آپ سے آخری بار کہتا ہوں  ہوں ، کہ  یہ بچوں کی کہانیاں کسی اور کو سنائیے گا  ، مجھ سے ڈرامے بازی نہ کریں ، اور اصل بات بتائیں۔"
یہ سن کر بزرگ غصے سے لا ل نیلے پیلے اور زرد ہو گئے اور جلال میں آ کر جوگی کو دفع ہو جانے کا آرڈر دیا۔ مگر جوگی بھی اپنی صفت میں ایک ڈھیٹ تھا،  بھلا کہاں ماننے والا تھا۔
 آخر کار  تنگ آ کر بزرگ نے دیوانِ غالبؔ پر ہاتھ رکھ کے کہا ، کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں سچ کہہ رہا ہوں ، سچ کے سوا کچھ نہیں کہہ رہا ۔ تب جوگی کو یقین آیا ، مگر حیران ہو کر بولا:۔" اگر ہیر ایک پری ہے اور رانجھا انسان ، تو پھر وہ راج ہنس کیسے بنے ہوئے تھے؟؟اور ایک دوسرے کو ملے کیسے؟؟"
بزرگ اپنا ماتھا پیٹ کر بولے:۔ "نجانے کس الو کی دم سے پالا پڑ گیا ہے میرا بھی۔ ارے او عقل کے دشمن ! کانوں  کی بوہے باریاں  کھول کے سنو! اس پری کا نام ہیر نہیں ، بلکہ اس کا نام شہزادی بدر منیر ہے ۔ وہ پرستان کی شہزادی ہے ۔ اور رانجھے کا نام رانجھا نہیں بلکہ گلفام ہے ۔ اور وہ ایک عام انسان ہے ۔ دونوں ہی مرزا غالبؔ کے دیوانے اور مرید ہیں  ۔ تمہیں  تو پتا ہوگا کہ یومِ غالبؔ کے موقع پر ہر سال مشاعرہ  منعقد ہوتا ہے ۔ ایک بار ایسا ہوا کہ شہزادی بدر منیر انسانی صورت میں مشاعرے میں  شریک ہوئی ، اسی مشاعرے میں گلفام بھی موجود تھا ،اور مرزا غالبؔ بھی تیر کمان ہاتھ میں سنبھالے تاک میں بیٹھے تھے۔"
جوگی:۔ "خدا کا خوف کریں بابا جی ۔ سپہ گری مرزا غالبؔ کے آبا کا پیشہ تھا ، ان  کا نہیں ۔ ان کا پیشہ تو قرض لینا  تھا۔کیا وفات کے بعد انہیں اس خاندانی پیشے کا خیال آیا، جواب تیر کمان ہاتھ میں پکڑ کے بیٹھے رہتے ہیں؟"
بزرگ کا چہرہ اس بات پر فلیش لائٹ کی طرح پھر رنگ برنگ ہو گیا ۔ یہ دیکھ کر جوگی کی رگ  ِ خرافت پھر پھڑکی:۔
"بابا جی ! چھوٹی سی بات ہی تو پوچھی ہے ، کوئی دیپک راگ تو نہیں سنایا  جو آپ بار بار یوں دیے کی طرح جلنے بجھنے لگ جاتے ہیں  ۔ ویسے بھی میرا اعتراض کوئی غلط تو نہیں تھا۔آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے مرزا غالبؔ کے بارے میں ۔"
اب تو بزرگ کا غصہ جے ایف تھنڈر کی رفتار سے آسمان کو ہاتھ لگانے چل پڑا۔ آگ بگولہ ہو کر بولے :۔ "اچھا تو اب مجھے تم جیسے بچے آ کے غالبؔ  پڑھائیں گے۔؟ جب تم الف انار بے بکری والا قاعدہ پڑھتے تھے ، تب میں نے دیوانِ غالبؔ نسخہ اردو ویب  ترتیب دیا تھا۔ اور تم کیا ہو کہ غالبؔ  کے بارے میں میری  غلط فہمی درست    کرنے چلے ہو۔؟
جوگی:۔ " میں سوا سات جماعتیں پاس ہوں ،اور ڈائریکٹ قبلہ غالبؔ کا شاگرد ہوں، کوئی مذاق نہیں ہوں ۔"
یہ سن کر بزرگ  اٹھے  اور کونے میں پڑے ایک سالخوردہ  سے لکڑی کے صندوق کی طرف بڑھ گئے۔ جوگی ذرا گھبرا گیا کہ کہیں  AK47 نکال کر مجھ پر گولی ہی نہ چلا دیں، دل ہی دل میں جل تو جلال تو آئی بلا ٹال تو کا ورد کرنے لگا۔ مگر بزرگ صندوق کھول کر اس میں کچھ ڈھونڈنے لگے۔ پھر کچھ دیر بعد ایک پرانا سا کاغذ ہاتھ میں لیے آ گئے ، اور تپائی پر کاغذ کھول کے پھیلا دیا۔  بولے :۔ 
" یہ دیکھو ! یہ ہے میرا شجرہ نسب ،  اس میں میرے نام سے چار نام اوپر جو پانچواں نام ہے یہ میرے پڑدادا کے دادا تھے، اور یہ گلی قاسم جان سے اکثر گزرتے تھے، کئی بار گزرتے ہوئے مرزا غالبؔ سے سامنا ہوا تو سلام بھی کیا ، اور مرزا غالبؔ نے کمال مہربانی سے نہایت خندہ پیشانی سے وعلیکم السلام بھی کہا تھا۔  اب معلوم ہوا؟ کہ  کس طرح یہ روایات  مجھ تک سینہ بسینہ  پہنچی ہیں ، وہ کیا خوب کہا ہے ، مرزا غالبؔ  سرکار نے :۔
سلطنت دست بدست آئی ہے
جام ِ مے ، خاتم جمشید نہیں "
پھر دونوں ہی بے اختیاری کے عالم میں  اس شعر پر سر دھننے لگے۔ جب ذرا نشہ کم ہوا توجوگی کا پرنالہ ابھی تک وہیں تھا:۔  " دیوان غالبؔ  ترتیب دینے کا یہ مطلب تو نہیں  کہ آپ کا ہر مفروضہ   درست مان لیا جائے ، آپ کے پڑدادا نواب مصطفے خان شیفتہ اور پڑنانا  مولانا الطاف حسین حالی  بھی ہوتے تب بھی میں  تیر کمان کا مرزا غالبؔ کے ہاتھ میں ہونا   کیونکر مانوں ۔؟"
بزرگ :۔ (طنزیہ لہجے میں)"کبھی  یونانی دیومالا  پڑھنی نصیب ہوئی ہو تی تو تمہیں پتا ہوتا کہ اس میں ایک دیوتاہے  جس نے ایک چڈی پہنی ہوتی ہے اور ہاتھ میں تیر کمان لیے ہوتا ہے ۔"
جوگی:۔(بات کاٹ کر) " آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ نہ صرف یونانی  ، مصری اور ہندی دیومالا بلکہ کوہ قاف کی جن مالا سے بھی اچھی خاصی سلام دعا ہے خاکسار کی ، اور وہ جو دیوتا پیمپر باندھے اور تیر کمان  ہاتھ میں لیے ساری دنیا کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو خجل خوار کرتا پھرتا ہے ، اس کا نام کیو پڈ ہے اور وہ محبت کا  دیوتا کہلاتا ہے۔ مگر سوئی ابھی تک وہیں اٹکی ہے ۔ کہ اس تیر کمان کا مرزا غالبؔ  کے ہاتھ میں آنا کیا معاملہ ہے۔؟؟"
بزرگ:۔" افوہ ! میں بھی کس پاگل سے مغز ماری کر رہا ہوں۔ خیر سنو! یہ دلی شہر کی بات ہو رہی ہے ، خواجہ نظام الدین اولیا ؒ  کا دلی ،  جنہوں نے  ہندوستان کے بادشاہ محمد شاہ تغلق  کو بھی اس کے دارلحکومت میں"ہنوز دلی دور است" کہہ کر  نہیں گھسنے دیا تھا ، وہ کہاں اس کیوپڈ  شیوپڈ کو دلی کے پاس پھٹکنے دیتے ہیں بھلا ۔  اس لیے  دلی کیلئے اس تیر کمان کو سنبھالنے کی ذمہ داری انہوں نے مرزا غالبؔ کو سونپی  ہوئی ہے ،   نہ صرف دلی  بلکہ ساری دنیا میں جہاں جہاں بھی قتیلانِ غالبؔ ، دیوانگانِ غالبؔ، مریدانِ غالبؔ ، اور شاگردانِ غالبؔ بستے ہیں ، ان کے  دلی معاملات ، اور محبتوں کی دیکھ بھال بھی مرزا غالبؔ  بنفس ِ نفیس خود کرتے ہیں۔      "
یہ سن کر جوگی خوشی سے اچھل پڑا:۔ " اوہ ۔۔۔۔ اوہ۔۔۔ ۔ واقعی ۔۔۔۔ اب میں سمجھا ۔۔۔۔کہ قتیلانِ غالبؔ  کی محبتوں میں کامیابی کا تناسب اتنا زیادہ کیوں ہے ۔  واہ ۔۔۔۔واہ ۔۔۔۔۔ کیا بات ہے میرے استاد محترم کی ۔"
بزرگ:۔" کامیاب ہو یا  ناکام ، یہ بات تو اظہر من الشمس ہے  کہ قتیلانِ غالبؔ  ایک ہی محبت کرتے ہیں ، اور پھر تا زندگی اسےنبھاتے ہیں ،   شادی کے بعد اچھے زن مرید  ثابت ہوتے ہیں ، کوئی مانے یا نہ مانے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
جوگی نے بیچ میں بات کاٹ دی:۔ " اچھا اب یہ بات تو واضح ہو گئی، اب آگے  بتائیں۔"
بزرگ:۔ " ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ  مرزا غالبؔ بھی تیر کمان ہاتھ میں سنبھالے تاک میں بیٹھے تھے۔ جب شہزادی بدرمنیر کی غزل پڑھنے کی باری آئی تو گلفام کے دل پر جیسےپن، تھرمل، شمسی  اور  ایٹمی بجلی گھر  گر پڑے ، بدر منیر نے جیسے ہی کہا :۔" عرض کیا ہے" مرزا غالبؔ نے  اس کے کندھے پر کمان رکھ کے چلہ کھینچا اور گلفام کو تیر تاک مارا ۔  وہ خود بھی مغل شہزادہ تھا ، اور حسن ووجاہت  میں کسی سے کم نہیں تھا، اس نے زندگی میں ایک سےبڑھ کر  ایک حسین دیکھے تھے ، مگر کبھی کسی کو گھاس ڈالنے کے قابل نہ سمجھا تھا ، لیکن شہزادی بدر منیر کا ملکوتی حسن نظر انداز کرنا کسی دل گردے ، جگر ، پھیپھڑے، معدے ، مثانے والے کے بس کی بات نہ تھی ،یوں   یہ حور شمائل  پہلی نظر میں ہی گلفام کے دل پر قابض ہو گئی  ۔ جتنی دیر بدرمنیر غزل پڑھتی رہی ، گلفام کو دنیا و مافیہا کی خبر نہ تھی ۔ وہ غزل کیا سنتا وہ تو اس سراپا غزل کو پڑھنے اور دل میں اتارنے میں محو تھا ، جسے مرزا غالبؔ نے کبھی شائع ہی نہ کیا تھا ۔ غزل ختم ہوئی اور داد و تحسین کا غلغلہ اٹھا تو گلفام کو حقیقت کی دنیا میں ناچار لوٹنا پڑا ، اس کے دماغ میں شیطانی چرخے گھومنے لگے اور وہ بدرمنیر سے بات کرنے کیلئے  بہانے اور ترکیبیں سوچنے لگا۔ 
اتنا بتانے کے بعد بزرگ ذرا سانس لینے کو رکے ، تو جوگی سے رہا نہ گیا ۔ :۔ "با با جی ! آگے بھی تو بتائیں کہ پھر کیا ہوا ، جلدی بتائیں ۔"
بزرگ :۔ " اوہو ! بتاتا ہوں  بھئی  بتاتا ہوں  ذرا دم تو لینے دو۔"
جوگی :۔ "آپ کے دم لینے کے چکر میں میرا دم نکلا جا رہا ہے ۔ "
بزرگ نے ایک پیالہ عرق گلاب پیا ، ایک چمچ شہد چاٹا اور پھر گویا ہوئے:۔" آخر گلفام کے دماغ میں ایک ترکیب آئی ، اور اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ، اس پر عمل بھی کر ڈالا ۔ جانتے ہو اس نے کیا کیا؟"
پھر خود ہی بولے
"اس نے بدر منیر کی غزل پر تنقید کر دی ، اور اس میں سے دو چار امریکن سنڈیاں ، اور ایک دو گلابی سنڈیاں نکال کے رکھ دیں ۔"
جوگی ہڑبڑا گیا :۔ "یہ امریکن اور گلابی سنڈیاں کہاں سے نکل آئیں ؟ غزل تھی  یا کپاس کا کھیت؟"
بزرگ اس دخل در نامعقولات  پر چیں  بجبیں ہوئے ، اور بولے :۔ "میرا بھی کس عقل کے دشمن سے پالا پڑ گیا    ہے ،  دیوانِ غالبؔ کو تو ایسے ہاتھ  لگا رہے تھے جیسے  میر مہدی مجروح ؔ تم  ہو، مگر اتنی سی بات نہیں سمجھ پائے ۔ میرا مطلب تھا کہ گلفام نے بدرمنیر کی غزل میں کیڑے نکالے ۔"
جوگی (کھسیا کر):۔ "ہی ہی ہی  ۔اوہ اچھا ۔۔۔۔۔ اب سمجھا۔"
بزرگ:۔ ( کسی قدر چونک کر ) تمہاری یہ کھسیانی ہنسی سن کر مجھے مقدس بٹیا یاد آ گئی ، تم شاید جانتے ہو گے اسے؟ ، فرنگستان میں رہتی ہے ، بہت ہی نیک بخت  بچی ہے ،   بچپناتو اس کا  ابھی تک نہیں  گیا،  بچوں کے ساتھ مل کر چھلانگیں اور  کدکڑے لگاتی پھرتی ہے ،کل مجھے طلسمی الو نے خبر دی کہ امرود توڑنے کیلئے  درخت پہ چڑھ رہی تھی ،  پیر پھسلا اور نیچے آ گری ، ٹخنے نے اس کی حرکتوں سے تنگ آ کراپنی جگہ چھوڑ دی ، اب پیروں پر کرچز لگے ہیں ، مگر شیطان کی نانی  پھر بھی شرارتوں سے  باز نہیں آتی ۔"
جوگی :۔ (سر پکڑ کے) اوہو !! بابا جی آپ پٹری پر آئیں سیدھی طرح ، اور یہ مقدس نامہ پھر کبھی سہی ، ابھی مجھے  شہزادی بدرمنیر اور گلفام کا قصہ سنائیں ۔"
بزرگ:۔  ہاں تو میں کہہ  رہا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہرطرف سے اٹھتی واہ واہ کی دے دنا دن  میں اچانک جو ایک جانب سے یہ تنقید  کا ڈونگا آ لگا تو بدرمنیر کو بہت غصہ آیا ، جی میں آیا کہ اس کمبخت کو تو جلا کے راکھ کر دے یا مکھی بنا کے اڑا دے ، جو خوامخواہ مولانا حالی کا گدی نشین  بننے کی کوششوں میں ہے ، ا ُدھر مرزا غالبؔ  نے بھی کمان میں ایک تیر چڑھایا ، اور چلہ کھینچنے لگے۔ ۔۔۔ مگر پھر شاید یہ سوچ کر رک گئے کہ عورت ذات ہے ، اور  ہے بھی اپنی بیٹی جیسی اور خاص  مریدنی، اس لیے وہ کوئی اور طریقہ سوچنے لگے۔
اتنی دیر میں  بدر منیر  نے  جدھر سے تنقید نازل ہوئی تھی اس طرف جو سر کو گھمایا ، تو ایک خوبصورت گھبرو جوان پر نظر پڑی ،  دل نے فورا ً  مکھی بنانے کے ارادے کو کینسل کر دیا ، مگر دماغ ڈٹ گیا کہ اسے سبق سکھانا ضروری ہے۔بدر منیر نے اسےکچھ کھوٹی کھوٹی اور کچھ کھری کھری سنائیں ، مگر گلفام بھلا کہاں یہ ہمکلام ہونے کا نادر موقع ہاتھ سے جانے دیتا، اس نے بھی جی کڑا کر کے دو بدو جواب دیا۔مگر اس کی دفاعی   حیثیت شہزادی بدرمنیر کے سامنے ایسے تھی جیسے نادر شاہ درانی کے سامنے محمد شاہ رنگیلا کی افواج کی تھی ۔ ہر چند کہ گلفام کی  رگوں میں بھی  مغل خون دوڑتا پھرتا تھا ، مگر بد قسمتی سے بدرمنیر اس کی قائل نہ تھی ۔ اس لیے ناچار آنکھ سے دو چار قطرے بغیر "سر زیر بارِ منتِ ڈراپرکیے " ٹپکا نے پڑے ۔ یہ دیکھ کر شہزادی بدرمنیر بھی کچھ پسیج سی گئی ۔ چونکہ غالبؔ کی پیش گوئی کو 186 سال گزر چکے تھے اس لیے جدید زمانے کی تقاضوں کے مطابق حسن سادگی و پرکاری ، بے خودی و ہشیاری میں یکتا ہونے کے ساتھ ساتھ سب کچھ جانتے ہوئے جرات آزما تھا ۔بدرمنیر نے اب تک بدصورت  جن اور بے ڈھنگے دیو ہی دیکھے تھے ، گلفام کی مردانہ وجاہت  آسانی سے نظر انداز کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔اب معاملہ ایک طرف غرور عزو ناز ، اور دوسری طرف حجابِ پاس ِ وضع والا ہو چکا تھا۔
   مرزا غالب ؔ تیر ترکش میں رکھ کے کمان کندھے پر واپس لٹکا کے کوئی   اہنسائی  طریقہ سوچنے میں لگ گئے ۔کہ ان کو  بیٹی پر  تیر بھی نہ چلانا پڑے اور کام بھی تیر والا ہو جائے  ۔ 
 اب گلفام ہر جمعرات کو مزار غالبؔ پہنچ جاتا ، اور  بدرمنیربھی  اکثر مزار غالبؔ پر آتی جاتی رہتی  ،  گلفام کو  دیکھ کر یوں انجان بن جاتی گویا وہ لوح جہاں پہ حرفِ مکرر ہو،چار سال تک گلفام بے چارا جوتیاں چٹخاتا رہا ، اتنی تو اسے نوکری کی تلاش میں بھی جوتیاں نہیں چٹخانی پڑی تھیں ،اب بھلا دل کو دل سے کیسے راہ نہ ہوتی ، بدر منیر کے سینے میں چائینہ کا نہیں  بلکہ اصلی دل لگا ہوا تھا۔  محبت نفوذ کر ہی گئی ۔ اسی بات پر محترمہ شلپا سیٹھی اپنی کتاب "دھڑکن" میں کیا خوب فرماتی ہیں :۔ نہ ، نہ کرتے پیار، ہائے میں کر گئی ، کر گئی، کر گئی ۔ تو نے کیا اعتبار ررررر ہائے میں مر گئی مر گئی  مر گئی ۔
مرزا غالبؔ  نے بھی اطمینان  کا سانس لیا اور   اپنے داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے  بدرمنیر کے دل پر سرخ روشنائی  سے میم  لکھ دیا۔
 شہزادی بدرمنیر دل کے ہاتھوں ہار گئی ، اور اقرار کر ہی لیا ۔ پھر وہی ہوا جو اکثر ہوتا ہے ، یعنی نامہ و پیام ہونے لگے ،دونوں طرف یہ حال تھا کہ :۔
 قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں 
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں۔
اور میں کیا تمہیں ان کی نجی باتیں  بتاؤں،قصہ مختصر یہ کہ      2006  ء کا موسم خزاں تو جیسے تیسے گزر ہی گیا ، مگر دسمبر آتے ہی گلفام ابرار الحق بن گیا :۔ بھیگا بھیگا سا یہ دسمبر ہے ، بھیگی بھیگی سی تنہائی ہے ۔۔۔۔ ان کتابوں میں جی نہیں لگتا ، ہم کو سجنی کی یاد آئی ہے ۔ ایک دن رشید صاحب نے جو جوان بیٹے کو یوں گنگناتے سنا ، تو سمجھ گئے ۔ مگر  باپ والی وضع داری آڑے آتی تھی، اس لیے براہ راست کچھ نہ پوچھا کہ بیٹا سجنی کا پتہ ہی بتا دو تاکہ ہم سلسلہ جنبانی شروع کریں ۔ دسمبر بھی گزر گیا، اور 2007 ء آن پہنچا ، جنوری کے چھوٹے چھوٹے دن اور لمبی لمبی راتیں ، گلفام کا وضع احتیاط سے دم رکنے لگا کہ برسوں سے چاک گریباں نہ کیا تھا ۔ آخر جی کڑا کر کے ابا جان سے کہہ ہی دیا :۔ راتاں ہویاں وڈیاں ، سجن بن۔۔ برہوں تڑانواں گڈیاں  سجن بن۔ مگر باپ آخر باپ ہوتے ہیں ، اگر باپوں سے ہی کام چل جاتا تو بھلا اللہ تعالیٰ ماں جیسا اوتار زمین پر کیوں اتارتا۔ ادھر سے شہزادی صاحبہ کو بھی ہجرگراں تھا ، اور شبہائے فراق میں اکثر اپنی گہری سہیلی وزیر زادی کو مخاطب کر کے گنگنایا کرتیں :۔ "سہیلی رے سہیلی ، کیا ہے یہ پہیلی۔۔۔۔ ایسا ویسا کچھ کیوں ہوتا ہے سہیلی ۔ میری انگڑائیاں ، میری تنہائیاں ، کتنی اکیلی ۔۔۔۔ سہیلی ری سہیلی۔۔۔۔۔" سہیلی بھلا کونسا علامہ اقبال  تھی ، کیا جواب دیتی، البتہ  دونوں سر جوڑ کر اس بات پہ گھنٹوں کھی کھی کھی کھی کیا کرتیں ۔ اللہ جانے کیا ماجرا تھا۔
اسی شرما شرمی میں فروری اور مارچ بھی گزر گئے ،میں ہوتا تو  اتنے عرصے میں  کے ٹو ، ماؤنٹ ایورسٹ، اور کنچن چنگا  کو کئی بار سر کر چکا ہوتامگراس سے یہ  زلف نہ سر ہونی تھی  نہ ہوئی ، آخر گلفام میاں نے سپریم  کورٹ میں رٹ دائر کر ہی دی:۔ "مائے نی میں کنوں آکھاں، درد وچھوڑے دا حال  ۔"
 اماں جان نے کمال تمکنت سے فرمایا :۔ "دکھاں دی روٹی، سولاں داسالن آہیں دا بالن بال ۔"
گلفام :۔ " لو ہم مریض عشق کے بیمار دار ہیں
اچھا اگر نہ ہوتو مسیحا کا کیا علاج؟"
 اماں جان نے پوچھا :۔" بے تابیوں کا کیا سبب؟ کیا علاج؟"
 فریادی بولا :۔ "کہے حسین ؒ فقیر نمانڑا ۔۔۔۔ شوہ ملے تاں  تھیواں  نہال ۔"
چیف جسٹس صاحب نے اس بات کا فوری نوٹس لیا ، اور فرمایا :۔ "انصاف ہوگا، ضرور ہوگا۔"
اپریل جنبانیندن میں گزر گیا ۔ ظالم سماج کی مجال نہیں تھی کہ بیچ  میں ٹانگ اڑاتا، 17 مئی وصل ڈے  مقرر ہوا۔مئی کا مہینہ آتے ہی لڑکیوں ، بالیوں نے ڈھولک رکھ لی اور حلوائیوں نے مٹھائیاں تیار کرنا شروع کر دیں، ٹینٹ اور لائٹنگ والوں کو بھی آرڈر بک کرا دئیے گئے  ۔  17 مئی  2007ء   کا دن آن پہنچا اور یوں گلفام کا بھی بینڈ بج گیا ۔    
مگر جیسا کہ اب تک ہر کہانی میں ہوتا آیا ہے کہ کہانی کے آخر میں "ان کی دھوم دھام سے شادی ہو گئی اور وہ ہنسی خوشی  رہنے لگے"اس  کہانی کا اختتام یہاں نہیں ہوتا۔ بدرمنیر اور گلفام کی شادی ہو گئی، اور وہ ہنسی خوشی بھی رہنے لگے، ماشاءاللہ اب ان کے آنگن میں 2 ننھی پریوں کی چہکاریں ، اور قلقاریاں گونجتی ہیں ۔ (اللہ ان کی خوشیوں کو سدا قائم و دائم رکھے، اور ان کی آپسی محبت دن دوگنی رات چوگنی ہوتی رہے ، ان کے پیار کو کسی بد نظر کی نظر نہ لگے)۔ اب وہ جنت نظیر ملک پاکستان میں رہتے ہیں۔ 
بزرگ سناتے سناتے رک گئے ، مگر جوگی تو ویسے ہی منہ کھولے محویت سے بیٹھا تھا ، جیسے شہزادی بدرمنیر اور گلفام کے ولیمہ میں بریانی اڑانے میں  مصروف ہو۔ بزرگ نے جوگی کو جھنجھوڑا مگر جوگی کی محویت نہ ٹوٹی ،  ناچار بزرگ نے پانی سے بھرا لوٹا جوگی پر انڈیل دیا ۔
 مگر یہ کیا۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بجائے جوگی کی آنکھ کھلنے کے میری آنکھ کھل گئی۔۔۔۔
 اور میں نے اماں کو پانی کا خالی جگ لیے  اپنے سر پر کھڑا دیکھا ۔

ہاں تو میں کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ۔۔۔۔۔۔۔۔  مغل بچے عجیب ہوتے ہیں ، جس پہ مرتے ہیں ، اسے مار رکھتے ہیں      

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما