Friday, 28 November 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔ (جنازہ) ۔(9)۔

2 آرا

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارہ


۔71  سال  پہلے جو جسم اس دنیا میں آیا تھا ،  آج  وہ  اس دنیا سے جا رہا تھا۔  71  سال کا  یہ عرصہ  بہت ہنگامہ خیز گزرا۔ بچپن  اور جوانی کا ابتدائی  حصہ  آبائی گاؤں  کوٹ والا میں گزرا ۔ اس کے بعد  دادا جی  اپنی اولاد کو  ادھر لے آئے اور اپنی زمینوں  پر ہی گھر بنا لیا۔  تقریباً ایک ایکڑ  کے رقبے پر  ہمارا سادہ سا دیہاتی طرز کا گھر  پھیلا ہوا تھا۔ ہوش  سنبھالنے سے  لے کر  تیس سال کے  اس عرصے کے دوران   ابا جی کے شوقِ تعمیر  کے سبب   میں نے اس گھر کو کئی شکلیں بدلتے دیکھا۔ اس  ایک ایکڑ  کی حویلی  کو دور اندیش ابا جی  نے کبھی  ایک  مرکزی  حویلی نہیں بنایا ۔ بلکہ  جیسے  جیسے  بیٹوں کی شادیاں کرتے آئے  سب کا دو دو کنال کا  الگ الگ   پورشن بنتا  گیا۔اور اب یہ میرا  پورشن زیر تعمیر تھا کہ ان کا وقت پورا ہو گیا۔ کم از کم  45 سال سے  وہ  جس گھر  کی تعمیر  در تعمیر میں لگے رہے  ۔ آج اسی گھر سے  ان کی رخصتی کا وقت آ گیا  تھا۔ 
اور پھر وہ  وقت بھی  آیا  کہ جن بیٹوں کو انہوں نے  اپنے کندھوں پہ بٹھا کے  ایمانیات  اور کلمے سکھائے تھے  وہی بیٹے  انہیں اپنے کندھوں  پر اٹھا کے  اس  گھر سے  رخصت  کرنے  کیلئے   چاروں طرف سے  تیار  کھڑے تھے۔  آخری دیدار  ہو گیا۔  اور کلمہ شہادت  کی گونج  میں چار بیٹوں  نے  ان کا جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔  سرہانے  کی طرف سے  حسنین  بھائی  اور ماموں  تھے۔ پائنتی  کی طرف  جنید حسنین  اور  اویس  تھے۔  جنازہ  کو  کندھا دینے  والوں (رشتہ داروں) کی اس قدر کثرت تھی  کہ  جنازے کے نیچے  بندے  سے بندہ جڑا تھا۔  میرے لیے  اگلا قدم  اٹھانا مشکل ہوتا تھا  کیوں کہ  آگے پیر رکھنے  کی  جگہ سامنے والے کے پیر ہوتے تھے ۔  کلمہ شہادت  کے ورد  کے ساتھ جنازہ  آہستہ آہستہ  آگے بڑھتے بڑھتے  ڈیوڑھی تک آن پہنچا۔ اس دوران  کئی بیچارے  بھیڑ  کے سبب  گرے  ، کچھ لتاڑے  گئے ، لیکن  چارپائی  کے دونوں  طرف سے  یہی عالم رہا  کہ  حقیقتاً تل دھرنے کو  بھی جگہ نہ تھی۔

جونہی  ہم نے مین گیٹ پار کیا۔  اس  کے بعد  تو حد ہی ہو گئی۔  باہر  عوام کا اس قدر ہجوم تھا  ، اور سب اسی کوشش میں کہ کسی طرح جنازے کو کندھا دے سکیں۔  جتنے  بھی سید برادران  اب تک جنازہ اٹھا کے اندر سے آئے تھے  ، ان بے چاروں  کو  مکھن میں سے بال کی طرح الگ کر لیا گیا۔  اس کے بعد  جنازہ  جیسے  انسانی  ہاتھوں پہ تیرتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔  سڑک پہ  پارک کیے  موٹر سائیکلز  ایک طرف اور دوسری طرف  کھال۔دیوانگی  کا یہ عالم  تھا کہ    لوگ ہیں  پاؤں  کچلے جا نے کی  ، موٹر سائیکلز  کے ہینڈلز پیٹ میں لگنے ،  فٹ پیڈ  پنڈلیوں ، گٹوں پہ لگنے  کی پرواہ کیے بغیر    بس جنازہ  کو کندھا  دینے کے شوق چوٹیں  کھاتے جا رہے پھر بھی چلے جا رہے ہیں۔   یقین کیجئے  کہ  جب کھال کو پار کرنے لگے  تو  اس وقت یہ حال  تھا کہ  میرے ہاتھ چارپائی پر تھے  اور میرے دونوں  پیر ہوا  میں۔  لوگ تھے کہ بس اٹھا کے کوئی  جھٹکا لگے بغیر چند سیکنڈ میں کھال پار کر کے جنازہ  کیلئے مختص  کیے گئے  خالی ایکڑ  میں داخل ہو گئے ۔ 
میں تھا کہ گلا پھاڑ پھاڑ  کے سب کو  جنازہ کو راستہ دینے کا کہتا جا رہا تھا  ، اور لوگ تھے  کہ نہ  انہیں جوتوں  کی پرواہ تھی  ، نہ  ہی  دھول مٹی  کی۔  کئی بے چارے  اسی  دھکم پیل میں بری طرح گرے لیکن فوراً اٹھ کر  دیوانہ  وار جنازے کو ہاتھ لگانے کیلئے آگے بڑھے ۔ایسے مناظر  صرف سنے تھے ، پڑھے تھے  ۔ لیکن اپنی آنکھوں  سے دیکھنے کا  پہلی بار اتفاق ہوا  تھا۔  
آخر کار  جا کے جنازہ رکھ دیا گیا ۔   اور  رکھنے کے بعد معلوم ہوا  کہ باقی  تین بھائی  ، کزن  اور ماموں  وغیرہ  اس دھکم پیل میں کہیں پیچھے ہی رہ گئے ہیں۔  صرف میں اکیلا تھا  اور  دھاڑیں مار مار  کے بے قابو ہوتا ہجوم ۔   سابق وفاقی  پالیمانی سیکرٹری  نواب  امان اللہ  خان، نواب احسان  اللہ خان ، نواب سیف  اللہ خان ، نواب انعام  اللہ  خان  ،  اور  سید رضا شاہ گیلانی جیسی  سیاسی شخصیات  اور دبنگ  وڈیرے  کہ عام حالات  میں لوگ جن کے سامنے  سر نہیں اٹھاتے ، آج  انہی کو عام لوگوں کی طرح دھکے کھاتے دیکھا۔ لوگوں کو جیسے  آج  صرف  جنازے کو   ہاتھ لگانے  اور ابا جی کے  آخری دیدار  کے علاوہ  کسی چیز کی پرواہ نہیں۔  میرا گلا بیٹھ  گیا  چلاتے چلاتے ۔ ارے خدا کے بندو  ! دھکے  کھانے کی بجائے  ایک قطار میں سب لوگ  دیکھتے جائیں اور گزرتے جائیں۔  لیکن  کچھ  سمجھ دار لوگوں  کے علاوہ  کسی نے  اس التجا کی پرواہ نہ کی۔ حتیٰ کہ جب ایک صاحب کو جب میں نے کہا کہ دھکم پیل کی بجائے  قطار میں شامل ہو جاؤ  تو وہ مجھ سے ہاتھا پائی پر اتر آیا  کہ  تم کون ہوتے ہو ہمیں اپنے پیر کے  قریب آنے سے روکنے والے ۔  کوئی عام موقع ہوتا  تو یقیناً میں اس کا سر کھول دیتا ، لیکن   اس وقت  سب کی ایک ہی حالت تھی ۔  سبھی جذبات سے مغلوب ہو  چکے تھے ۔  اسی وقت کسی نے اسے  شاید میرا تعارف کرا دیا کہ  یہی  ان کا چھوٹا  بیٹا  ہے ، تو  وہ بھلا مانس  مارے شرمندگی کے   منہ لپیٹ کر  ہجوم میں غائب ہو گیا۔  بعد میں   مجھے سمجھ  آیا کہ  اس کا مقصد  صرف آخری دیدار ہی نہ تھا ، بلکہ  وہ چارپائی کی  اس پوزیشن پر آکر  جنازے کو کندھا دینا کا موقع  ڈھونڈ رہا تھا۔

پورا  ایک ایکڑ جسے لیزر لیولر  کے ذریعے  دو دن پہلے ابا جی کے کہنے پر جنازے کیلئے  خالی  چھوڑ  دیا گیا تھا۔  اب یہ سارا رقبہ  ایک سر ے سے دوسرے سرے تک  کندھے سے کندھا ملا کر  کھڑے  غمزدگان کی  15  صفوں   سے  بھر چکا تھا۔   سید سجاد  سعید  کاظمی شاہ  صاحب جتوئی سے دھنوٹ پہنچ چکے تھے ، اور ان  کے دھنوٹ  سے   یہاں پہنچنے میں بمشکل  پانچ منٹ  ہی لگے ہوں  گے۔  اور  ان پانچ منٹ سے پہلے جو فدوی نے خود  پہلی صف میں کھڑے ہو کر  15  صفیں گنی تھیں،  اب  امام صاحب کی آمد  تک  پیچھے دو  اور ہمارے آگے  ایک اور  صف  کا  اضافہ  ہو گیا تھا۔  پیچھے سر گھما کے دیکھا  ، تو سید رضا شاہ گیلانی  سابقہ  ایم پی اے (مستقل) کو   چوتھی  صف میں کھڑے دیکھا      ۔ نواب میرے والی صف یعنی دوسری صف میں تھے  ۔   اور  پیچھے  جہاں تک نظر جاتی  تھی سر ہی سر  تھے ۔ساڑھے  اٹھارہ  صفیں ،  اور کندھے سے  کندھا  ملا کر  کھڑے لوگ۔  ہجوم کا یہ عالم تھا  کہ بڑے بھائی  سید حسنین بخاری کو  بمشکل پہلی صف میں جگہ نصیب  ہوئی۔اگر  کم از کم    ، اور محتاط  ترین اندازے  سے  ایک صف میں700  بندے فرض کریں  تو کل تعداد  کا تخمینہ 13000 تک جا پہنچتا ہے ۔
دھنوٹ کی تاریخ  میں کئی پر ہجوم  جنازے  ہوئے ہوں گے۔ میں نے اپنی  زندگی میں دو  پر ہجوم جنازے دیکھے  جن کے بارے میں میرا خیال تھا کہ یہ  سب  سے  زیادہ پر ہجوم ہیں۔ ایک  تب  جب 2005 میں میری  نانی  اماں  کا انتقال ہوا اور سارا دھنوٹ  جنازے میں امڈ  آیا۔  دوسرا  جنازہ  بڑے ماموں جان کا دیکھا  تھا  کہ  جگہ  کی  کمی کے باعث جنازہ ہائی سکول  کے  گراؤنڈ  میں لایا  گیا۔  تب    تقریبا  ً  12 صفیں  ہوئی تھیں ، اور  جنازے  سے  تدفین  تک  دھنوٹ کا  مین روڈ   کئی گھنٹے  ٹریفک  گزرنے کے قابل نہیں رہا۔  پولیس نے    شہر کے باہر  ہی ٹریفک  روک رکھا تھا  ، تا وقتیکہ  تدفین  نہ ہوگئی۔ اور اب یہ تیسرا  بڑا  اور سب سے  بڑا جنازہ تھا۔  یہ  صرف میرا  ہی نہیں کہنا ، بلکہ  اسی دن اور  بعد  میں  کئی دنوں تک نہ صرف  دھنوٹ اور نواحات   میں یہی موضوع سخن  رہا کہ  پیر صاحب نے تو  بڑے  پیر صاحب کا بھی ریکارڈ توڑ دیا۔
13  مارچ  2014  کا  سہ پہر 3 بجے  کا سورج ، عین سامنے ، تپتی  زمین پر  پسینہ  پسینہ لوگ جنہیں  اپنا بھی ہوش  نہ تھاپتھرائی  آنکھوں سے  دم سادھے  کھڑے تھے  ۔  امام صاحب نے جنازے کی نیت اور تکبیروں کی ترتیب کی وضاحت  کی اور  سب  نے امام صاحب کے تکبیر کہتے ہی  اقتدا میں ہاتھ باندھ لیے۔ سلام  پھیرتے ہی  صفیں  توڑ دی  گئیں  اور دعا مانگی  گئی۔   اس کے بعد  امام   صاحب  نے کپڑا ہٹا کر  ابا جی  کا چہرہ دیکھا ۔   اپنا  ہاتھ ان کے ماتھے پر رکھ کر  آنکھ بند کر کے کچھ پڑھتے رہے ۔ اور کچھ دیر  بعد  ویسے ہی کپڑے سے ڈھانک دیا۔  بڑے بھائی  آگے بڑھے  اور  دست بوسی کے  بعد  صاحبزادہ  صاحب کے ہاتھ میں آمد کے شکریے کے طور  پر  ہزار  والے  کچھ نوٹ  دینے لگے  تو انہوں نے   ہاتھ سے روک دیا۔  اور فرمایا:۔ "ارے نہیں بھئی! مجھے  تو شاہ  صاحب کے جنازے میں شریک ہونے کی  سعادت نصیب ہوئی ہے " (اللہ  اللہ  اللہ۔۔۔۔  یہ غزالی  زماں رازی دوراں  حضرت  علامہ  سید احمد سعید کاظمی شاہ  رحمۃ اللہ  علیہ  کے صاحبزادے  کا  اپنے والد محترم  کے مرید  کے بارے  میں کہنا۔۔۔ ہم پر  اپنے  ابا جی  کے   نئے نئے  کمالات  منکشف ہو رہے تھے ) اس کے بعد  اپنی  جیب سے  کچھ نوٹ نکال کر  بڑے بھائی  کے ہاتھ میں تھما دئیے ۔ اور پھر وہ اپنی گاڑی  میں سوار  کر  تشریف لے گئے  ، اور  ہجوم میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ۔ 

Monday, 24 November 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔۔ (8)۔

2 آرا
سات بجے  بجلی  آئی  تو  صحن میں بڑے بھائی نے چھڑکاؤکر دیا۔  باہر  شامیانے  اور دریاں  آ چکی تھیں۔ وہ  اندر لگوا دئیے اور دریاں خود بچھاتے رہے ۔  اس کے بعد  اباجی    کو  باہر صحن میں  لایا گیا۔  اماں جی نے کہا  کہ   14  مرتبہ سورۃ  بقرہ  کی  تلاوت کرنی  ہے۔ مدرسے سے حفاظ بلا لیتے  ، میں نے کہا  ابا جی نے ہمیں کیا اس لیے پڑھایا تھا  کہ جب وقت آئے تو ہم ان کیلئے  اتنی سی تلاوت بھی نہ کر سکیں۔  ہم خود بھی تو  انہی کے شاگرد  ہیں ، لہذا ہم سب بھائی  خود پڑھیں گے۔    اور  وضو کرکے  میں اور بڑے بھائی اباجی کے دائیں طرف کھڑے ہو کر سورۃ بقرہ کی  تلاوت کرنے لگے۔  آہستہ آہستہ  دوسرے  شاگرد   سید احسن عطا  ، سید توقیر مصطفےٰ ، سید محمد  عرفان  ، سید  ذیشان  ، سید عدنان  شاہ وغیرہ  بھی آتے گئے اور قطار لمبی ہوتی گئی ۔   یہاں تک کہ  گیارہ  مرتبہ سورۃ بقرہ  پڑھ لی گئی ۔ سوا دوپاروں پر مشتمل ہونے  کے سبب   سب  ایک ہی بار  پڑھ کے تھک گئے ۔ اور باقی  تین مرتبہ میں  نے اور ذیشان  نے  اپنے ذمے  لے لی۔   
اندر خواتین اور  باہر مرد حضرات  کی آمد  جاری ہو چکی تھی۔   ایک  عجیب سا  رواج  ہو گیا ہے  تعزیت کا   کہ خواتین آتے  ہی   خاتون خانہ  کے گلے لگ کر  چند  مصنوعی  قسم کی کوکیں مار  کے  افسوس کا اظہار کرتی  ہیں۔   ہمارے خاندان میں الحمد اللہ  بین  کرنے کا رواج نہیں ، لیکن  یہ کوکیں مارنا  بزرگوں کے  بعد  سے  جاری رہا۔  
مجھے بے حد غصہ آیا کہ  ایک تو ہماری  تلاوت میں خلل پڑ رہا تھا ۔  دوسرا یہ کہ  خواتین کی مسلسل  آمد جاری تھی اور ہر ایک  بنفس نفیس  اماں جی  کے گلے لگ کے  خود تو بے شک  مصنوعی  کوکیں ماری رہی تھی  ،  لیکن اماں جی کی صحت اور عمر  ایسی  نہیں کہ  چار پانچ سو  خواتین کا  ساتھ دینے کو سہی  رو  سکیں۔  میں نے سختی سے منع کر دیا کہ خبردار  !میری اماں کو  کسی نے اس عجیب سی حرکت سے  افسوس کے بہانے رلایا تو  میں بے عز ت کر کے  نکال دوں گا۔  وفات ہمارے ابا جی کی ہوئی ہے ۔ ہم صبر کر کے بیٹھے ہیں اور آپ سب  جو ان کی زندگی میں ان سے خائف رہے ، آج اپنا غم دکھانے  آ گئے ۔  غم ہمیں بھی ہوا  ہے ،  لیکن صبر افضل ہے۔  آپ سب کے رونے دھونے  سے اباجی کو نہ کوئی فرق پڑنے والا  ہے نہ ہی انہیں کوئی فائدہ ہونے والا ہے ۔ جنہیں ان کی خیر خواہی  مقصود ہے  یہ قرآن مجید پڑے ہیں، اور سورۃ یٰسین وغیرہ بھی کافی تعداد میں موجود ہے، بیٹھ کے تلاوت کریں ۔  جس کیلئے  ہم آپ کے شکر گزار ہوں گے۔  تلاوت کی توفیق نہیں تو کم از کم ہم پڑھنے والوں کی  تلاوت میں اپنی مصنوعی کوکوں سے  خلل اندازی نہ کریں۔
اس بات پر  خالہ جی  سمیت کچھ  خواتین نے کھا جانے  والی  نظروں سے گھورا۔  اور  مجھے اپنی  بڑائی جتانے کی کوشش کی مگر میرے  تیور  دیکھ کے کچھ کہنے کی ہمت نہ کر سکیں ۔   البتہ  ایک غالب اکثریت  جن میں ہماری آپی محترمہ بھی شامل تھیں ، نے  میری اس بات کو سراہا ۔  اور  دوسروں کو بھی تلاوت کی تلقین کی۔  
کل سے  میں جتنا ضبط کر کے   بیٹھا تھا اب اس ضبط میں دراڑیں پڑنے لگیں تھیں۔   اباجی  نے  اپنی زندگی میں  ہی میرے متعلق  فرمایا تھا کہ یہ  جتنا بھی سخت دل سہی  میری چارپائی کا پایہ پکڑ کے روئے گا ضرور۔  جس بات کو سن کے میں نے چٹکی میں اڑا دیا تھا آج  وہی بات سچ ہوگئی ۔  میں ضبط کرنے کیلئے  اور ساری توجہ تلاوت پر رکھنے  کی پوری کوشش  کرتے کرتے  اباجی کی چارپائی کا پایہ  پکڑ    کے  اپنے آپ کو کنٹرول کرنے  لگا۔  اس  وقت کی منظر نگاری میرے لیے مشکل ہے ۔  دل میں تہیہ  کیا ہوا تھا  کہ  میں بالکل نہیں روؤں گا۔ لیکن چار پانچ  سو  خواتین کے مجمعے میں  ان کی ہلکی ہلکی رونے آواز اور  اماں  جی کو  دیکھ کر  ضبط مشکل سا ہو گیا۔   اسی کوشش میں چار پائی  کا  پایہ پکڑ لیا ۔ یہ دیکھ کر  باجی اور  دیگر  واقفان حال  کی چیخیں نکل گئیں۔   جنہوں نے وہ پیش گوئی خود  سنی تھی اور  اب خود دیکھ لیا ۔ یہ  میں جانتا ہوں یا میرا خدا  کہ اس وقت  میں کس قدر مشکل میں تھا۔  میں اپنا رونا  روکنے کی بھرپور کوشش  میں  دھندلائی آنکھوں سے  سورۃ بقرہ کا آخری   رکوع  کی  بلند آواز  میں تلاوت کرنے لگا تو حاضرین سے بھی ضبط مشکل ہو گیا۔ یہ آخری رکوع تین بار  تلاوت کیا  ۔  ابا جی کا کفن کھولا  اور ان کے سینے پر  پھونک  مار کے  اماں جی کی  گود میں سر رکھ دیا۔  اور  ایسا محسوس ہوا  کہ ایک دم سے  سارا  غم کنٹرول  ہو گیا۔  ساری شدت تھم سی گئی ۔  
خواتین کی مسلسل آمد جاری تھی ، ہم نے اپنے  اندازے سے  کچھ فاضل  دریاں بھی بچھائی تھیں ، لیکن تعداد اتنی زیادہ ہو گئی  کہ وہ دریاں بھی کم پڑ گئیں۔  باہر  مردوں کی نشست کیلئے  بچھائی گئی  دریوں سے چھ دریاں اندر لا کر بچھا دیں۔               اماں جی نے  زبردستی مجھے نہانے کیلئے  بھیجا  کہ  باہر  جو پرسے کیلئے آ رہے  ہیں وہ  چھوٹے  بیٹے کا بھی پوچھ رہے تھے ۔ غسل کے بعد  باہر مردوں میں  آن بیٹھا۔ یہاں  بھی وہی تماشا  تھا۔
کہنے کو  سب تعزیت کیلئے  آئے بیٹھے تھے ۔ اپنے درمیان سے ایک انسان کا  دنیا  سے  چلے جانا  بھی ان  کو غفلت سے  جگانے کیلئے کافی نہ تھا۔ درود شریف کیلئے  سامنے شمارپڑے تھے  لیکن حضرات  غیبتوں اور  حالاتِ حاضرہ  پہ سیر حاصل تبصروں میں مصروف تھے۔  سوائے چند گنے چنے  حضرات کے سب اسی مشغلے میں مصروف تھے۔  اس  کے علاوہ ہر نیا آنے والا   ایک  سکہ بند  جملہ دہراتا "پیر سائیں! اللہ دی مرضی دے کم"(اللہ کی مرضی)،  آنے والے اکثر  مجھے شکل سے نہیں جانتے تھے ۔   اس لیے  میری تو کافی حد تک  بچت رہی لیکن باقی  بھائیوں کے تو  کان پک گئے ہوں گے۔  ویسے تعزیت  کیلئے اتنا ہی کافی ہے  ، لیکن یہ کیا  کہ  ایک ایک بندے کو مخاطب کر کے  وہی گھسا پٹا سکہ بند جملہ کہا جائے ۔  پیر سائیں! اللہ دی مرضی دے کم، جنید  سائیں اللہ دی مرضی دےکم، شاہد  شاہ صاحب اللہ  دی مرضی دے کم ۔  ایک ہی سانس میں تین چار بندوں سے  تعزیت کا فرض ادا ہو گیا۔  

دریاں کم پڑتی جا رہی تھیں۔  اور دریاں منگوا کے  میں نے   وہاں سے  ہٹ کے جنازے  کیلئے  خالی  رکھی گئی جگہ پر پندرہ بیس  دریاں بچھا دیں۔ اور خود  وہاں آ کے  بیٹھ گیا۔  دھیرے دھیرے   بزرگوں کے ستائے  اکثر  وہیں آ کے  بیٹھنے لگے ۔  اور  وہاں پہ  باقاعدہ درود شریف  پڑھا جانے لگا۔ جب کہ بزرگ حضرات  کی وہی بدگوئیاں جاری رہیں۔ 
قبرستان سے  مستری  صاحب نے  کچھ کچی اینٹیں  منگوائی تھیں، وہ  ریڑھی پر لوڈ  کروا  کے بھیجیں۔ اور اب  ذیشان  کو  سید مظہر  شاہ صاحب  کے ساتھ قبرستان  روانہ کیا ۔ کہ  جو حفاظ صبح سے قبر کے اندر  تلاوت  قرآن مجید میں مصروف ہیں ، ان کی جگہ لے لیں۔ اور انہیں آرام کا کہیں۔  نیز  ان کیلئے دوپہر کا  کھانا بھی بھجوا دیا۔     
اندر  آیا  تو  اندر  محفل  میلاد  سی  جاری تھی ۔    سب  خوش  آواز  خواتین کورس میں نعتیہ کلام پڑھنے میں مصروف  تھیں۔  رونا دھونا  الحمد اللہ   نہ ہونے  کے برابر تھا۔  ایک  بجے کے  قریب   باجی نے کہا کہ چار مرتبہ  میت پر  سورۃ ملک پڑھنی ہے ۔ فدوی  ، جنید ، عرفان  اور اس  کی اہلیہ نے  چارپائی کے چاروں کونوں پر کھڑے ہو کر  ایک ایک بار  سورۃ ملک  کی تلاوت کی ۔  محفل نعت  پھر جاری ہو گئی ۔ اور قصیدہ بردہ شریف پڑھا جانے  لگا۔

بڑے  بھائی کو  یہ پریشانی تھی کہ  کل سے  رات سے  صاحبزادہ سید سجاد سعید کاظمی  شاہ صاحب قدس سرہ سے رابطہ  کیا گیا تو  انہوں نے فرمایا  کہ  میرا تو   جتوئی  مظفر گڑھ  میں ایک قل خوانی  کا پروگرام فکس ہے۔   انہوں  نے اپنے بڑے بھائی مرکزی امیر  اہلسنت  پروفیسر  سید مظہر سعید  کاظمی شاہ صاحب قدس  سرہ العزیز   کو  جنازہ  پڑھانے کیلئے بلانے کا مشورہ دیا۔   لیکن  جناب پی ٹی ممتاز  صاحب (جن کے ذمہ جنازے  کیلئے  صاحبزادہ صاحب کو  بلانا  تھا) نے  انہیں بتایا کہ مرحوم کی وصیت نما فرمائش تھی کہ میرا جنازہ سید  سجاد  سعید  کاظمی شاہ صاحب پڑھائیں ۔  تو انہوں نے تین بجے پہنچنے کا  عندیہ دے دیا تھا۔  اب جتوئی سے دھنوٹ کا  سفر  کم از کم  بھی  5  گھنٹوں کا تو  ضرور ہے۔  جنازہ کیسے وقت پہ پڑھایا  جا سکے گا۔ 
دو بجے کے بعد  میں اندر آیا اور سب کو اطلاع دی کہ  جنازے  کاوقت قریب ہے ۔ جنہوں  نے آخری  زیارت کرنی کر لیں ۔ تاکہ یہ نہ ہو کہ  جب ہم اٹھانے کیلئے  آئیں تو  سب کو آخری دیدار یاد آ جائے ۔    تین بجنے میں  ابھی بیس  منٹ باقی تھے  اور میں وضو کر کے  نکلا  تو سب  رشتہ دار مرد حضرات  آخری دیدار  کیلئے اندر   آگئے ۔                 

Friday, 21 November 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔۔ (7)۔

6 آرا
ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے

آدھی رات  ہوتے ہوتے  میں نے کمرہ خواتین سے خالی  کرا لیا کہ اب ہم خود تلاوت کریں گے۔اماں  نے کہا  بھی کہ بیٹا  دو  دن اور دو راتوں سے مسلسل  جا گ رہے ہو۔  تھوڑا سا آرام کر لو ، کیونکہ کل سے  قل خوانی تک  سب انتظامات آپ نے ہی  تو سنبھالنے ہیں۔  لیکن میں نے کہاکہ اماں  قرآن مجید  ساری اولاد کو ابا  جی نے  خود  پڑھایا تھا۔  اب اتنا تو ان کا  حق بنتا ہے کہ  ہم بھی  ان کیلئے تلاوت  کر لیں جبکہ ہمارے ساتھ ان کی یہ آخری رات  ہے۔  ہم تو پھر بھی سوہی لیں گے ۔  
وضو کر کے میں آیا  تو  میرے سوتیلے بھائی  (سید شاہد حسنین) تلاوت میں مصروف تھے ۔ میں نے بھی تلاوت شروع کر دی۔  جنید بھائی بھی تشریف لے آئے  اور رضائی اوڑھ کے زبانی ہی  تلاوت کرنے لگے۔کچھ دیر  بعد  سید  محمد  رضا بھی   آ گیا۔  اور ایک بجے تک تلاوت میں مصروف رہا۔پھر وہ بھی چلا گیا،  اور جنید  بھائی بھی تلاوت کرتے کرتے دیوار سے ٹیک لگائے سو گئے۔ اڑھائی  بجنے تک  شاہد بھائی کی  ہمت بھی جواب دے گئی ۔  دس پاروں کی تلاوت کے بعد بولے یار میری تو آنکھیں دھندلا رہی ہیں۔  میں نے کہا ذرا دیر  آرام کر لیں،  اور وہ کمبل میں گھستے ہی فراٹے  سے خراٹے مارنے لگے۔
اب میں تھا اور ابا  جی۔۔۔۔
گھڑی  کی سوئیاں  چلتی رہیں اور  میری تلاوت جاری رہی۔  تین بجے کے قریب مجھے عجیب  سا  محسوس  ہونے لگا۔  دروازہ  حالانکہ  بند تھا پھر بھی  دروازے سے  ایک کے بعد ایک  ٹھنڈے  جھونکے  آتے ہوئے محسوس ہوئے ۔  اور چند منٹ بعد  ایسا محسوس  ہوا  کہ  کمرہ لوگوں سے بھر گیا ہے ۔ حالانکہ  کمرے میں ہم چار  اجسام کے سوا کوئی نہ تھا۔ جن میں سے اباجی سمیت دونوں بھائی سوئے تھے، اور چوتھا میں۔  خالی  کمرہ جس میں صرف ایک  چارپائی پر ابا جی  لیٹے تھے کے سوا کوئی سامان  نہ تھا۔  فرشی نشست  تھی بیٹھنے کیلئے ۔ اور  کمرہ ایسے محسوس  ہو رہا تھا  کہ کافی تعداد میں لوگ اندر بیٹھے ہوں۔  پہلے تو مجھے اپنا وہم لگا،  لیکن جب  واضح طور پر  محسوس  ہونے لگا کہ ہمارے علاوہ بھی  اس کمرے میں کافی لوگ موجود ہیں، تو  سردی  کے  باوجود  بھی  مجھے پسینہ آ  گیا۔ پہنی ہوئی جرسی اتار  دی۔   حلق  میں   خشکی محسوس  ہوئی  تو گلاس  کی طرف  ہاتھ بڑھایا ۔  گلاس  کے علاوہ ڈیڑھ  لیٹر  کی پانی سے بھری بوتل  جو ساتھ  ر     کھ کے تلاوت کرنے بیٹھا  ،   خالی  تھی۔  
میں تلاوت  روک کے اٹھا  اور  ایک نظر ابا جی  کی طرف ڈالی ،  ان پہ رضائی  اور چہرے  پر  سفید کفن کی چادر  پڑی تھی ۔  میں باہر نکلا   کہ ایک چھوٹا  سا  وقفہ ہو جائے  اور اسی دوران خیال  بھی بدل جائے  گا۔  لیکن  باہرآکر  تو  یہ احساس  اور بھی قوی ہو گیا۔ ساڑھے تین کا وقت  تھا  ، چاروں طرف خاموشی کا عالم تھا ، سارا  صحن  خالی  تھا ، لیکن اس کے باوجود ایسا محسوس ہوا  کہ صحن لوگوں  سے بھرا ہوا  ہے۔  واش روم کی  طرف جانے کو قدم بڑھایا  تو  ایسا  لگا جیسے بہت بڑے ہجوم میں سے گزرنا پڑ رہا  ہو۔ دونوں کندھوں  سے  کچھ ٹکراتا  محسوس ہوتا  رہا۔   
دوبارہ  وضو کے  بعد  جب میں واپس آنے لگا تو  اس احساس  میں اور بھی اضافہ  ہو گیا۔  نہایت واضح  طور پر    کچھ لوگوں  کی نہ صرف  موجودگی  محسوس ہوئی  بلکہ  ہلکی ہلکی  سرگوشی نما آوازیں   بھی  محسوس ہوئیں۔  کمرے میں واپس آیا تو  کمرے کے  ماحول  میں ایک غیر محسوس  سی تبدیلی محسوس ہوئی ۔  آنکھیں دیکھنے سے قاصر تھیں لیکن چھٹی حس کا   مسلسل  بجتا الارم  کہہ رہا تھا کہ  یہ محض ایک وہم نہیں۔   دوبارہ  تلاوت کرنے کیلئے آلتی پالتی  مار کے بیٹھا تو  محسوس  ہوا  کہ بیٹھنے کو  جگہ تنگ  ہے۔  دونوں گھٹنوں اور کندھوں پہ  انتہائی  واضح طور پر  لمس  محسوس  ہونے لگا۔   جو لوگ  مجھ سے  ذاتی  طور پر  واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ  میں نہ تو اعصابی کمزوری کا مریض  ہوں  ، نہ  ہی کوئی  ڈرپوک  ۔  الحمد اللہ  بے خوفی  اور نڈر ہونے  میں فدوی  اپنے  والد صاحب  پر گیا ہے ،  لیکن  مجھے یہ اقرار  کرنے میں کوئی باک نہیں کہ  اس  وقت میں سچ مچ ڈر گیا تھا۔یہ اس قسم کا ڈر نہیں تھا، جیسا کہ  عمومی طور  پر لوگوں کو محسوس ہوتا ہے۔ اتنا  تو مجھے معلوم تھا  کہ کچھ  لوگ آئے  ہیں،  اور جس اعلیٰ مقام و مرتبے  کے لوگ تشریف لائے ہیں ،  یہ  اسی  دبدبے  کا  اثر تھا  ۔  نہ معلوم میں کن کن ہستیوں  کے ساتھ بیٹھا تھا۔  مزید  شدت سے میں نے  اپنی توجہ تلاوت کی طرف کر دی۔  چار بجے بجلی  چلی گئی اور اندھیرا ہوا  تو  معلوم ہوا  کہ  سارا کمرہ اندھیرا ہے سوائے  اباجی چار پائی  سے چھت تک کہ ایک  واضح سفید روشنی تھی ، اتنی واضح  کہ کفن کی چادر کے نیچے  سے پھوٹتی صاف  دکھائی دیتی تھی۔     میں نے سر جھٹکا  اور  ساتھ  پڑی ٹارچ روشن کر کے  تلاوت کا  سلسلہ  جاری رکھا۔  
تقریبا ً آدھے گھنٹےبعد باہر  سے آتی  آوازوں سے محسوس  ہوا کہ  اماں  جی وغیرہ اٹھ گئے  ہیں۔  اور کچھ دیر بعد  اماں  جی ، باجی ،  خالہ جی    وغیرہ   کی آمد ہوئی اور  کمرہ  پہلے کی طرح خالی  ہوگیا۔ اب وہ  احساس بھی  ختم ہو گیا۔لیکن  ابا جی  کی چارپائی  کو گھیرے ہوئے  روشنی کو سب نے دیکھا  ، اور  دم سادھ کے بیٹھ گئے۔ پھر آہستہ آہستہ  اور لوگ بھی اٹھ کے آنے لگے ، اور بجلی نہ ہونے کی وجہ  سے بیٹھے درود شریف کا  ورد کرتے رہے ۔ اور کچھ صرف میری تلاوت  ہی سنتے رہے۔  باجی اور اماں  نے  بہت کہا کہ  اب تم کچھ دیر وقفہ کر لو  اور اتنی دیر تک  آگےہم  پڑھ  لیتے ہیں ۔  لیکن  میں نے تلاوت جاری رکھی۔ چھ بجے حافظ ذیشان بھی  آگیا   اس نے  کہا ماموں  اب آگے  میں پڑھتا ہوں ۔  میں نے کہا  سورۃ یوسف تک پڑھ کے  میں اٹھتا ہوں۔  سوا  چھ بجے  میں نے  قرآن مجید  اور ٹارچ  ذیشان کے حوالے کیا  اور   پیچھے ہٹ کے دیوار سے  ٹیک لگا کے کمبل اوڑھ لیا۔ اتنی دیر میں سوئے ہوئے دونوں بھائی بھی جاگ گئے  ، اٹھے اور جا کے اپنے اپنے  گھر سو گئے۔ کچھ دیر بعد  خیال آیا  کہ  یہاں  آرام کرتا رہا تو                باہر  کے کام کون دیکھے گا۔ 
باہر نکلا  تو دانی آیا ہوا  تھا ، چاچو  چاول   بھگونے  کیلئے رکھ دیں ۔ دیگوں کے حساب سے  12 ، 12 سیر  چاول  بوریوں  میں ڈال کے ٹیوب ویل کے حوض میں جا کے رکھ دئیے  ۔ ابا جی  کاشاگرد  حافظ محمد رشید ،  اور کچھ اور حفاظ  کو بھیجا  کہ  وہ  ابا جی کی قبر کے  اندر  بیٹھ کر تلاوت  کرتے رہیں۔  

مشرق  سے  سورج طلوع ہو رہا  تھا ۔  اور ہماری یتیمی کی پہلی رات گزر چکی تھی۔ 

Monday, 17 November 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے ۔۔۔ (6)

2 آرا
جو آتا  ہے
وہ جاتا ہے
دنیا  آنی جانی ہے
فقط ایک  کہانی ہے
جانے  والے  کو  کوئی کب روک سکا ہے ۔ وعدہ  پورا ہوا اور کم و بیش  71  سال  اس  دار ِ فانی میں گزار کر  ابا  جی  بھی    دارالقرار  کو چلے گئے ۔ میں کمرے  سے نکلا تو  دیکھا کہ رات کا ندھیرا  پھیل رہا تھا ،  اور  ایسا  ہی اندھیرا  ہم سب پسماندگان  کی   زندگی میں بھی پھیل چکا تھا۔سرائیکی محاورہ "کنڈ خالی تھی  گئی" اپنے اصل مطلب  کے ساتھ  اس  وقت مجھ پر واضح ہوا۔  لکھنے کو یہاں  بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے ، حزن بیانی  کے جوہر دکھائے جا سکتے ہیں۔ لیکن بقول غالب  "کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ  کی عادت نہیں مجھے"حقیقت  یہ ہے کہ  ایک  عجیب سی بے حسی  نے گھیر  لیا۔  صحن خلاف ِ توقع  رشتہ داروں سے بھر چکا تھا۔  ایک  تو چشمہ نہیں تھا ، اور پھر عشاء  کے وقت  کا اندھیرا، کچھ اندازہ  نہ ہوا  کہ  کون کہاں ہے۔  سب کے رونے کی آوازیں  آ رہی تھیں  ۔ لیکن نجانے  کیوں میری آنکھیں خشک تھیں ۔ اماں کی تلاش میں آگے بڑھا  تو حاضرین  مجھ سے بغلگیر ہو ہو کر اظہار افسوس کرنے لگے ۔ کچھ  بڑے بھائی کے گلے لگ کے رو رہے تھے ، کچھ میرے گلے لگ گئے ۔  اور عجیب بات یہ کہ  بجائے اس کے کہ کوئی ہمیں صبر کا کہتا الٹا  ہم ہی دوسروں کو صبر صبر کہہ رہے تھے ۔حسنین  بھائی  بھرائی آواز میں سب کو  اونچی آواز میں رونے سے  منع کر رہے  تھے۔  میں کھسکتا  کھسکتا  اماں تک پہنچنے میں کامیاب ہو ہی گیا۔  اماں  میرے  گلے لگ گئیں ، اور  کہا"پتر آپاں  رُل گیوسے" میں نے  کہا" اماں  موت  تو سب کو آنی ہے ، اور  جس نے  ہمیں پیدا کیا  وہ  تو ازل سے  زندہ و جاوید ہے ۔  وہ  حی و قیوم ہے۔  جب اللہ  ہے تو پھر کاہے کا غم ؟" اس بات پہ اماں نے مجھے  ماتھے پہ بوسہ دیا اور  "شیر پتر" کا خطاب دیا۔ 
بے شک خوشی  ہو یا غم اللہ کی  طرف سے  ہے۔  میں  خاندان میں دوسروں  کے  ماں باپ کی وفات پر انہیں روتے کرلاتے  دیکھ کر ہمیشہ یہ سوچتا تھا کہ  ایک نہ ایک دن یہ وقت مجھے بھی  دیکھنا ہے۔  اور جب مجھ پر ایسا  وقت آیا تو  اس وقت میرا  کیا رد عمل ہو گا۔  اور  پاک ہے وہ ذات  جس نے  یہ وقت آنے پر  مجھےصبر کی  توفیق دی۔یقیناً یہ اس  کی دی ہوئی توفیق ہی تھی  کہ  نہ صرف میں اور  حسنین بھائی  بلکہ  اماں اور باجی  نے  بھی  صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ دیا۔
 رشتے دار  تو  مہمانوں  کی طرح  آ گئے ، اب یہ ہماری ذمہ داری  تھی کہ  ان  سب کیلئے بیٹھنے  اور سونے کے انتظامات کے ساتھ  ساتھ ابا جی کے غسل اور  تکفین کا بھی  انتظام کریں۔  گھر  چونکہ  ابھی زیر تعمیر  ہی تھا  اور ابا جی کے آپریشن اور  پھر وفات  کی وجہ سے  تعمیر  ابھی نامکمل تھی ۔ اس وجہ سے  جن کمروں میں ابھی تک  وائرنگ  نہیں ہوئی تھی وہاں  عارضی طور پر تاریں  لگا کر بلب لگا دئیے ، اور  باہر جو  مرد  حضرات  آ رہے تھے ان کی نشست کیلئے   دریاں بچھادیں ، تایا  جی وہاں بیٹھ کے سب کے سامنے  اپنے رونے رونا  شروع ہو گئے ، اور میری غیبتیں ہوتی رہیں۔ساڑھے  آٹھ بجے  تک  حسنین  بھائی نے  جنازے  کے وقت  کا بتا دیا کہ  کل  بروز جمعرات  سہ پہر تین بجے  نماز ِ جنازہ ہو گی ۔ اب  ہم دونوں بھائیوں نے موبائل کے ذریعے  فرداً فرداً  سب  رشتہ داروں اور ابا جی کے مریدین تک  ابا جی کی  وفات اور  جنازے  کے وقت کی اطلاع پہنچائی ۔ 
غسل  کیلئے  پانی   میں بیری کے پتے  بھی  ابالے  جاتے ہیں۔  رات کے اندھیرے میں بیری کے درخت  سے پتے توڑ  لایا ۔اور  پانی ابلنے کیلئے تنور  پر رکھ دیا۔  جنید  حسنین(منجھلے بھائی ) نے میرے  مشورے سے  غسل   دینے کی جگہ کا تعین کر کے  گڑھا کھودنا شروع کر دیا۔ اور  میں ان کا   تیار کروایا  ہوا سرخ رنگ کا تختہ  غسل  اٹھا لایا۔ رشتہ دار  شاید اس امید میں تھے  اور جیسا کہ اکثر ہوتا  ہے کہ  آل اولاد تو رونے پیٹنے اور  غم کا بہانہ بنا کر چارپائی  کی پٹی سے چپک کر بیٹھ جاتی ہے ۔  لیکن یہاں تو صورت  ہی نئی تھی۔  ہم نے نہ تو کسی سے کوئی کام کہا اور نہ کسی  کو کرنے دیا۔  سب کام اپنے ہاتھوں سے انجام دئیے۔ساڑھے  نو بجے  کے قریب  جب کہ پانی  اور  غسل  کیلئے گڑھا تیار  ہو گیا تو  میں پہلے سے تیار شدہ کفن لے آیا ۔ ابا جی اور  اماں  جی کے چچا زاد  بھائی جنہیں  ہم ماموں  کہتے ہیں،  اس موقعے پر آگے بڑھے اور  بولے کہ یہ کام  بچوں کا نہیں ،  میں  نے کہا لیجئے  آپ ہی مجھے سکھا  دیں کہ کفن کیسے پہنایا جاتا ہے ۔   اور  انہوں نے   کفن کو ترتیب سے  چارپائی پر بچھا دیا۔
اس کفن کی بھی ایک کہانی ہے۔  یہ  کفن  اور اماں جی کا کفن  انہوں نے  اپنی وفات سے تقریباً  11  سال پہلے  ہی  تیار  کر کے رکھا ہوا تھا۔  اماں  جی نے اپنے ہاتھوں سے  دونوں کفن سیے تھے ۔ پھر یہ  دونوں کفن  عرب  بھجوائے  گئے جہاں  سے یہ  آبِ زم زم  میں بھگو کر  اور کعبہ کا طواف کر واکے  واپس لائے گئے۔   بجلی  تو حسب معمول اس موقع پر تھی ہی  نہیں، موبائلز اور ٹارچ کی روشنی میں دیکھا کہ  ابا  جی نے بدست خود بیری  کے پتوں کے رس سے  سینے  والی  جگہ پر کلمہ طیبہ ، کلمہ شہادت  اور  درود  تاج مکمل  لکھا  تھا۔  اور  اس کے حصار  کے طور پر مستطیل  شکل میں آیت الکرسی  لکھی ہوئی تھی۔
چاند  نکل آیا تھا اور چاندنی خوب چٹکی ہوئی تھی۔  اندر سے  ابا جی کو  ہم سب بھائی  غسل کیلئے   مقررہ مقام پر لے آئے ۔  اورتختے پر لٹا دیا۔  موقع پرموجود بزرگوں  نےجنہیں اس بات کا یقیناً بہت غصہ تھا کہ ہم کسی کام میں مدد مانگنا تو درکنار  کسی بات پہ مشورہ  بھی نہیں مانگ رہے تھے ۔پھر بھی وقتاً فوقتاً اپنی بزرگی  کے ذکر کے ساتھ  مشوروں سے نوازنا   جاری رکھا ۔  ایک بولے  کہ اب قمیض  اتارنا مشکل ہوگا۔  بہتر ہے کہ  قینچی  سے کاٹ  کر علیحدہ  کی جائے ۔  حسنین بھائی  نے   با آوازِ بلند دیگر بزرگوں  کو بھی پاس بلایا  اور کہا  میں آپ کی غلط فہمی آپ  کی آنکھوں کے سامنے ہی دور کر دوں ، کہیں کوئی  یہ کہے کہ  باپ کی کرامات گھڑلی ہیں۔  اور  اس  کے ساتھ ہی   ان کی قمیض اتارنا  شروع کر دی۔  اور گردن و بازو تک پہنچے تو  دونوں  بازو  کھڑے ہی نہیں پیچھے کر  اتنے آرام سے  قمیض اتار کے  دونوں  بازو  چھوڑے تو  ایسا محسوس ہوا  کہ جیسے ابا جی فوت نہیں ہوئے بلکہ بے ہوش پڑے ہیں۔بازو  آرام سے خود بخود  اپنی جگہ  پر واپس آ گئے۔ وفات کے تین گھنٹے بعد بھی  جسم اس طرح تازہ اور نرم  تھا  کہ لگتا ہی نہ  تھا کہ میت  ہے۔ موقع  پر موجود  جن جن لوگوں نے یہ منظر دیکھا  انہیں بے اختیار خدا یاد  آ گیا۔ ماموں نے  رشک  کے مارے آگے بڑھ کر بازو  اٹھا کے  دیکھا  اور  اللہ اکبر اللہ اکبر  کہنے لگے۔ایک چادر  ابا جی  کے  جسم پر گردن تک  ڈال دی گئی اور  ہم انہیں غسل دینے لگے۔   غسل کے بعد  انہیں کافور  اور عطر  لگایا  گیا ۔ 
اس موقع  پر  ماموں کے مشوروں  میں شدت آئی تو حسنین بھائی  نے  کہا آئیے  آپ ہی پہنا ئیے۔ آپ آگے بڑھے اور کفنی  پہنا کر   کفن کی پہلی چادر باندھنے ہی لگے  کہ  جنید  حسنین  نے  کہا مجھے لگتا ہے  کہ آپ نے کفنی الٹی پہنائی ہے ۔ سخت چراغ پا ہوئے  اور حاضرین کو مطلع  فرمایا کہ  جتنی ان کی عمر ہے اتنا میرا تجربہ ہے تجہیز و تکفین میں۔   یہ  ہے وہ ہے ۔۔۔۔میں نے ماما جی حوصلہ  رکھیں! ایک بار دیکھ لینے سے آپ کی بزرگی میں کوئی فرق نہیں آ جائے  گا۔ موبائل ٹارچ آگے کی تو واضح ہوا  کہ کفنی واقعی  الٹی پہنائی تھی ۔  ماما جی  کو ان کی بزرگی نے قطعاً شرمندہ نہ ہونے دیا ، خیر کفنی  میں کلمے اور درود شریف  والی سائیڈ  سیدھی کر کے  دوبارہ پہنائی گئی ۔ دونوں  چادریں  پہنا  کہ  کفن کے بند باندھ  دئیے  گئے ۔  اور  اباجی  کو اندر  کمرے میں لٹا دیا گیا۔اس دوران دس بج گئے اور  بجلی بھی تشریف لے آئی ۔  اندر موجود  بہوئیں  اور دیگر خواتین  تلاوت کرنے لگیں۔
اس کے  بعد ایک اور لطیفہ سامنے آیا ماما جی  کہ مطابق غسل  کا پانی جس گڑھے  میں جاتا ہے ، پلیتے (کپڑے کے بنے دستانے) اور بیری کے ابلے ہوئے ہتے وغیرہ  بھی اسی گڑھے میں دفن کیے جانے  ضروری ہیں۔ چونکہ کھودا جنید  نے تھا اس لیے اب  گڑھا  دوبارہ پر  کرنے کیلئے میں آگے بڑھا  تو ماما  جی نے ایک اور شگوفہ چھوڑا کہ  یہ  غلط ہے ۔ لازم ہے کہ  جس نے گڑھا کھودا  ہو پر بھی  وہی کرے۔  غصہ تو مجھے  بہت  آیا کہ فقہ  کی کسی کتاب  میں مجھے تو  یہ اہم مسئلہ کبھی نظر نہ آیا تھا اور  آج یہ  اہم اسلامی  مسئلہ  سننے  کو مل رہا تھا۔ سنی ان سنی کر کے  میں نے ہی آدھا گڑھا  بھرا اور مزید  آدھا   بھرنے کیلئے جنید نے میرے ہاتھ سے  کسی  لے لی۔

رات گیارہ ساڑھے گیارہ  تک  دھنوٹ شہر  اور آس پاس کے گاؤں  سے  آئے رشتہ دار واپس چلے گئے اور  جو دور سے آئے تھے  ان کےلیے آرام  کا انتظام  کر دیا  گیا۔          

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما