Sunday, 6 October 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط ہجدہم)۔

4 آرا

صد جلوہ روبرو ہے جو مژگاں اٹھائیے


آٹھویں جماعت  کا  نتیجہ  نکلا  تو  معلوم ہوا  کہ  جن کے  پرچے  جوگی  نے حل کیے تھے  وہ  دوسری اور تیسری پوزیشن  حاصل  کر کے  واہ وا  کے حقدار  ٹھہرے  اور خدائی  خدمتگار  یعنی باؤ جوگی  850  میں سے 643 نمبروں  کے ساتھ چوتھی  پوزیشن پر قانع  رہے ۔ناقدین  اور بدخواہوں  نے منہ میں انگلیاں داب لیں۔  حاسدین جل بجھ کے رہ گئے ۔ اور  اساتذہ  کے دماغ میں یہ بات  آلتی  پالتی  مار کے  بیٹھ گئی کہ   بورڈ  میں پوزیشن  لینے  والے پڑھاکواور ذہین   بچوں  کی  فہرست میں  میں جوگی  کا نام  لکھا جاسکتاہے  اور  میٹرک  کے امتحان میں اسلامی اکادمی  کا  نام  روشن کرنےکیلئے  ضروری ہے کہ   سب توجہ اورکھنچائی دوسرے طلباً کی  نذر  کی جائے  تاکہ کل کلاں کو  کوئی نالائق  فیل ہو کر  اکادمی  کے  نام پر  دھبہ   نہ لگا بیٹھے       ۔ جوگی کو پوزیشن  کی پرواہ  تو  نہ تھی البتہ  اسی  سبب  پچھلے  سارے  داغ   اچھے قرار پائے (حالانکہ اس زمانے میں ابھی سرف ایکسل  بھی دریافت نہ ہواتھا )
اس درجے  میں درسِ نظامی  کے نصاب میں  علم المنطق  کا نیا اضافہ  ہوا۔ اس  کے علاوہ  فارسی ادب  میں بوستانِ سعدی ؒ ،  نحو  میں ہدایۃ  النحو،  فقہ میں القدوری (پہلا  نصف)، اور  اصولِ فقہ  میں  نورالانوار کے علاوہ  عربی  بول چال  کیلئے  "المعلم العربی" سے  پالا پڑا ۔ سیدھی سادھی ریاضی  سے  پیچھا  چھوٹا تو ٹرگنومیٹری ، اور خیالی الجبرا  نے  دہلیز  پکڑ لی۔ معاشرتی علوم  نے  مطالعہ پاکستان  کا  چولا  پہن لیا ۔ اور تو اور اب تک  جسے  سائنس  سمجھتے تھے  نویں  جماعت میں آ کر معلوم ہوا  کہ  اس  کی شاخیں بھی ہیں۔ بیالوجی  اور  کیمسٹری  سے تعارف  ہوا تو  جوگی  کے دماغ میں کچھ  نئے  موٹر  وے  وجود  میں آئے  (فزکس کا ذکر  آگے  آئے گا)۔ اسی  طرح اب تک  جو اردو  کی کتاب میں نظم  کے نام پر صرف حمد و نعت  کے علاوہ ملی  نغمے  ہی  ملتے تھے ، اس  میں اب غزلیات کا بھی اضافہ ہو گیا ۔ معلوم ہوا کہ  اردو میں علامہ  اقبال  کے علاوہ  "ہیں اور  بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے "جیسے  کہ  میر تقی میر ، خواجہ میر  درد، مولانا حالی  وغیرہ وغیرہ ۔خدائے سخن  ، فخرِ  اردو  مرزا  نوشہ  اسد اللہ خان  غالب ؔ سے پہلی بار باضابطہ  اور بالمشافہ  ملاقات  ہوئی ۔ مگر  اس وقت تک  ذہن  کے کسی کونے  کھدرے  میں کوئی بھولا بھٹکا  سا گمان  بھی نہ تھا  کہ عنقریب  یہ  آسیب  جوگی  کے سر  پر سوار ہو جائے گا ،  اور ایسا  سوار ہوگا  کہ رانجھا رانجھا  کردے  جوگی آپے رانجھا ہو جائے گا۔

ذکر   میرا ،  بہ بدی بھی ،  اسے منظور نہیں


مگر  غالب ؔ سے پہلا تعارف کچھ  اچھا نہ تھا ۔ جناب  مقصود احمد  صاحب اردو کے استاد تھے ۔  اور نہ معلوم کس بنا پر  اردو کے استاد  تھے ۔ان  کی نظر میں علامہ اقبال  کے علاوہ اردو میں کوئی قابلِ ذکر شاعر  نہیں تھا۔  مزے کی بات یہ  کہ یہ ان ذاتی رائے بھی نہ تھی (یہ بات بعد میں معلوم ہوئی ) بس  جیسا  کہ علامہ اقبال کے بارے میں پاکستانیوں کا اندھا دھند  خیال ہے وہ بھی اسی خیال کے مقلد تھے ۔ جوگی  کو یقین  تھاکہ  انہوں نے کبھی "بالِ جبریل"کھول  کر بھی نہ دیکھی تھی ۔ مگر  یقین کی انتہا  یہ تھی کہ علامہ اقبال  کے علاوہ تمام شعرا  کو اوچھی  نظر سے دیکھتے تھے ۔  میر  تقی میر ؔ کے  بارے میں ان کی معلومات   "اردو کے بہت پرانے اور مشہور  شاعر  تھے "سے زیادہ کچھ  نہ تھیں۔ خواجہ میر  درد ؔ اور مولانا حالی  ؔ کا نام  جانتے تھے یہی بہت تھا ۔مگر  غالبؔ کے نام  پہ  منہ  پہ رومال  رکھ لیا کرتے تھے ۔  وسیم  کو شک تھا کہ کبھی بھولے سے غالب  ؔ کا نام  منہ سے نکل جائے تو  باقاعدہ  کلیاں اور غرارے  کر کے کفارہ  بھی ادا کرتے ہونگے ۔
وفاقی نصاب کمیٹی  کاکرنا یوں ہوا  کہ مرزا  غالبؔ کی غزل "کوئی  امید  بر نہیں آتی " بھی شاملِ نصاب تھی ۔ اب گلے پڑا ڈھول تو بجانا ہی تھا  ، البتہ غالب ؔکی تعارف میں  انہوں  نے جی بھر کے ڈنڈی مار کر اس  زیادتی  کا بدلہ لے لیا ۔ غالبؔ کا  جو خاکہ  طلباً کے سامنے پیش کیا   وہ ایک شرابی ، فاسق اورمسخرے بڈھے کا تھا ۔ جسے شراب پینے  اور فحش  لطیفے  گھڑنے میں کمال  حاصل تھا ۔ ایسی بے تُکی شاعری  لکھ ماری  جو نہ پڑھنے کے قابل ہے  اور نہ سمجھنے کے قابل ۔  جس کا ثبوت یہ ہے کہ  پورے دیوان کی چھانٹی کے بعد یہ غزل انتخاب  ہوئی  ۔اس  کے علاوہ چونکہ غالبؔ ویہلا  نکما  تھا اس  لیے سارا دن بیٹھ کر  دوستوں کو خط  لکھا کرتا تھا ۔  وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
اس  قسم  کے تعارف کے بعد  بھلا کس کو پڑی  تھی  کہ  غالبؔ کی طرفداری  میں  خجل  خوار ہوتا پھرے ، علامہ اقبال سے ویسے بھی جوگی کا بچپن  سے یارانہ تھا ۔ شکوہ جوابِ شکوہ ، بانگِ  دِرا  مکمل  اور  بالِ جبریل جزوی طور پر حفظ تھے ۔ 


ہاں !! کچھ نہ کچھ  تلافی ِ مافات چاہیے


علم  کا درجہ  بڑھا  تو اس  کا  بوجھ بھی ظاہر ہے بڑھ گیا ۔ سونے کا وقت پہلے  بھی کھینچ تان کے  ہی ملا  کرتا تھا اب تو سونے (گولڈ)کی طرح  یہ سونا  بھی مہنگا  ہو گیا۔جوگی  اور  وسیم  جیسے  مہا  آلسیوں  کے نزدیک   نیند کا یہ استحصال  نہایت ہی ظالمانہ اقدام تھا ۔ اس کا  مَکوُ ٹھپنے  کی  ترکیبیں سوچنے کیلئے  جوگی اور وسیم  نے باتھ روم میں چلہ  کشی  شروع کر دی ۔ چلہ کشی  تو  خیر  ٹھیک ہے مگر  قارئین کو  چِلے  کے مقام پر  یقیناً حیرت ہو رہی ہوگی ۔ جی ہاں  یہ کوئی مذاق نہیں، البتہ اس منطق  کے  پیچھے  جوگی  کا اتفاقی طور پر دریافت کردہ قانون (جوگی کا دوسرا قانون)کارفرما تھا ۔ جوگی  کے دوسرے قانون کے مطابق  دنیا میں صرف ایک مقام ایسا ہے  جہاں دنیا  کا ہر فرد  ٹِک  کے بیٹھنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتا  ہے ۔  اور یہ دنیا کا واحد  مقام ہے جہاں  انسان کا ذہن  حقیقی طور پر  ہر فکر  سے آزاد اور اپنے آپ کو پُر سکون(ریلیکس) پاتا  ہے  ۔اس بے فکری اور پرسکون عالم  میں دماغ ایسےایسے عقدہ ہائے مشکل   بھی وا کر  دیتا ہے کہ کشایش کو بھی بے اختیار پیار آجائے۔اور  وہ  پُرسکون مقام  مری  یا کاغان  کی وادی نہیں بلکہ باتھ روم  ہوتا ہے ۔    ہرچند  کہ  متعصب  اور  بغلول  قسم کے لوگوں نے  جوگی کے دوسرے قانون  کو کبھی  درخورِ  اعتنا نہ  جانا ۔ بلکہ  اسے  مجذوب کی  بڑ اور دیوانے کا خواب قرار دیا ۔ لیکن  وسیم کا اس عظیم قانون  کی دریافت  کے بارے میں خیال تھا  کہ اگر جوگی  غیر  مسلم ہوتا اور تب یہ قانون  دریافت کرتا  تو  نیوٹن  یا آئن  سٹائن  والی صف میں نہ سہی   کم از کم  نوبل انعام  کا حقدار  ضرور قرار پاتا۔
جوگی  نے  کئی ذاتی تجربات  کی  کامیابی  کی روشنی میں  اسے مفروضے سے ترقی دے کر  "جوگی کا دوسرا  قانون" کا  نام  دے دیا ۔ جوگی  کوجب بھی کسی  سنگلاخ  زمین میں ہزل گوئی  میں مشکل در پیش ہوتی تو  اکثر  وہ  باتھ  روم میں ہی حل ہوتی ۔  جس  غزل کا ایک مصرعہ  بھی لکھنا مشکل ہوتا  باتھ روم میں غیب سے مضامین کی آمد اس کثرت سے ہوتی  کہ پانچ  منٹ  میں ایک  طویل  غزل  ہو جاتی۔صرف یہی نہیں بلکہ وسیم نے طلبا ء  کے ایک  اکٹھ میں حلفیہ  بتایا  کہ  اس  کو  مسئلہ  فیثا غورث جب  کئی دن کی عرق ریزی  کے بعد  بھی  نہ یاد ہوا تو  اس  نے جوگی  کے دوسرے قانون  کے مطابق  باتھ روم میں مراقبہ کیا ۔ اور  اب مسئلہ فیثاغورث تو کیا  ٹرگنو  میٹری  کے تمام  مسائل  بازیچہ  اطفال ہیں اس کے آگے۔۔۔۔اور اس طرح جوگی کا دوسرا قانون طلباء میں بہت مقبول ہوا۔  
    اس  چلہ کشی  کے  نتیجے میں جوگی  پر انکشاف ہوا  کہ بوقت ضرورت نیند پوری کرنے  کیلئے   باتھ روم سے اچھا  گوشہ  عافیت کوئی اور  نہیں ہوسکتا ۔  اور اس  طرح جوگی اور  وسیم  تہجد  کے وقت  اٹھتے  اور   ایک، ایک  باتھ  روم میں معتکف  ہو جاتے ۔ باتھ روم  کی  کثرتِ تعداد کی وجہ سے  کچھ عرصہ  تو کسی کو کانوں  کان  خبر بھی نہ ہو سکی، کہ  باتھ رومز کی ان  بھول بھلیوں میں  جوگی  اور وسیم تہجد  سے  صبح  کی نماز  کے اختتام  تک  سوتے   بھی ہیں۔لیکن  ایسی  باتیں زیادہ دیر  تک  پوشیدہ  نہیں رہ پاتیں جبکہ حاسدین  کہ جماعت  بھی  ٹوہ  میں رہنے لگے ۔ بدخواہوں  کی چغلخوری  رنگ لائی  اور  یہ  گوشہ  عافیت  بھی قابلِ پناہ  نہ رہا ۔    

4 آرا:

  • 6 October 2013 at 19:58
    مہ جبین :

    جوگی اور وسیم کی شرارتوں میں شدت آتی جارہی ہے ، ظاہر ہے اب بڑی کلاس میں پہنچ کر بڑی ذمہ داریاں نبھانی ہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " جوگی کا دوسرا قانون " ہر قدم پر نئی نئی پیچیدگیوں کو سلجھاتا نظر آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واہ واہ

  • 7 October 2013 at 00:30

    ماشاءاللہ
    بہت خوشی ہوئی کہ نا معلوم لوگ اب جانے پہچانے ہو گئے ہیں
    ۔۔۔۔

    شرارتوں کی شدت کے سلسلے میں عرض ہے کہ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔۔۔
    صرف اسی دوسرے قانون پر ہی بس نہیں ، ابھی تو آگے "جوگی کا تیسرا قانون " بھی دریافت ہونا ہے
    اس وقت تک تھوڑا انتظار کا مزہ لیجئے

  • 8 October 2013 at 06:22

    وہ چیز جو میں ڈھونڈ رہا ہوں وہ اِس قِسط میں نہیں مِلی،،،،،،،،،،،،،،

  • 12 October 2013 at 11:22

    میرا نام بھی امیر خسرو تو ہے نہیں جو آپ کے چیستان ، اور پہیلیاں بوجھ لوں
    اس لیے نہایت ندامت سے عرض کیا ہے
    پاس کر یا برداشت کر

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما