Friday, 31 January 2014

یارانِ نکتہ داں (قسط ششم) زبیر حسین

3 آرا
میری  دوستوں  والی  تسبیح  کے   چھٹے   موتی کو زبیر حسین کہتے ہیں جبکہ  یہ خود کو زندگی  سمجھتے ہیں۔الامارات ائیر لائن میں انجینئر  ہیں  ۔ انٹر  نیٹ  پر  ایک ویب سائٹ "اردو  جواب " کے بانی  و منتظم  ِ اعلیٰ ہیں۔ان سے فون پر  صرف  ایک بار  ہی  بات ہوئی ہے ۔ اس لیے  ان کے  بارے  میں ذاتی طور پر تو فدوی  اندھیرے میں ہے  البتہ فکری طور پر  نہایت  اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ  ارسل مبشر ، ملک  حبیب اور  افتخار افی صاحب والی   فہرست  میں ان کا  نمایاں مقام ان کے  خلوص و بلند اخلاق  کی سب سے بڑی دلیل ہے  ۔ہو سکتا ہے کچھ لوگ یہاں  مجھ سے اختلاف کریں کیونکہ بعض لوگ زیادہ بولنے کو صفت  نہیں عیب سمجھتے ہیں۔ لیکن  میں ٹھوس وجوہات کی  بنا پر  زیادہ  بولنے والوں  پر کم بولنے والوں کی نسبت زیادہ  اعتماد کرتا ہوں ۔   ہو سکتا ہے کوئی  یہاں  میرے سامنے اولیا ء کرام کے یا شیخ  سعدی  ؒکے  کم بولنے  کی فضیلت  میں اقوال  پیش کرے ۔  اس سے پہلے میں بتا دوں کہ بے شک  زبان  انسان  کا تالا ہے ۔  جب تک یہ تالا لگا رہے  اندر کا انسان  چھپا رہتا ہے ۔  لیکن چھپنا دو قسم کا ہوتا ہے ۔  ایک  ڈرپوک  لوگوں کا چھپنا کہ کہیں کوئی  ہمارے اندر چھپے منافقت کے گند کو دیکھ نہ لے ۔  اور ایک ہوتا ہے  حیا دار  لوگوں  کا چھپنا ۔  لیکن وہ  چھپنا بقول داغ  ایسا  ہوتا ہے  کہ :۔ 

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے  ہیں

صاف چھپتے  بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
یہ بات تو  سب کو معلوم ہے  کہ حیادار لوگ  لازماً حسین بھی ہوتے  ہیں(یہاں حسن  ہر  معنوں  میں کہا ہے۔ اس کے علاوہ  میں حسین  مانتا ہی  صرف حیادار وں کو ہوں  )۔  یعنی  حسین  لوگ  حیا  اور  حسن کا پانی پت ہوئے ۔  حسن  کی  فطرت  ہے  ظہور  کرنا ۔   اور  حیا  کی فطرت ہے  حجاب  کرنا ۔  حسن اور  حیا  کی  اس زور  آزمائی  سے  شخصیت  میں وہ  توازن  آ جاتا ہےجسے   داغ نے "صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں" قرار دیا ہے ۔  جیسے  زمین  مرکز مائل  قوت  اور  مرکز  گریز  قوت  کی  زور آزمائی کے  نتیجے میں ہی  اپنے  مدار  پر  قائم  حرکت  میں ہے۔ 
اب جبکہ چھپنے  والوں  کی  اقسام   واضح ہو گئیں تو مناسب ہے  کہ  زیادہ  بولنے  والوں  کی اقسام  بھی  بیان کر دوں  تاکہ  کوئی ابہام  کسی   غلط فہمی  کا  باپ  نہ بن جائے۔  زیادہ  بولنا بھی  چھپنے  کی طرح  دو قسم کا ہوتا ہے ۔ 
ایک :۔ زیادہ  بولنا اور  اس  شوق  میں  اناپ  شناپ  بکنا
دوم:۔  زیادہ   بولنا مگر  اندر   اتنا  خزانہ    ہونا (حسین ہونا)کہ  دونوں  ہاتھوں  سے لٹائیں تب بھی  ختم نہ ہو ۔  اور   زبان  کی فریکوئنسی  اس قدر  سیٹ  ہونا(حیا  کا تقاضا) کہ زبان   پٹڑی  سے  اترنے  کا کوئی  امکان  ہی  نہ ہو۔
اب ان دونوں وضاحتوں    کے بعد فدوی  جبکہ  ثابت کر چکا ہے  کہ  کچھ لوگ  مجبوراً  زیادہ  نہیں بولتے کیونکہ ان کے  اندر  بولنے لائق کچھ  ہوتا ہی نہیں۔  کچھ لوگ اپنی منافقت  اور  علاوہ  ازیں فطری  خباثتوں   کے  ظاہر  ہوجانے  کے  ڈر سے زیادہ  نہیں بولتے ۔   اس  لیے  کم  بولنا بھی  صفت  تو نہ ہوا۔  پھر جب سب  کا  کم بولنا صفت نہیں تو کچھ لوگوں کا  زیادہ  بولنا  بھی    صرف تحقیق  کے  آلس  کی وجہ  سے عیب کیوں قرار دیا جائے ۔ ؟؟؟ جبکہ  یہ زیادہ  بولنا  ان  پر  خوب  خوب  جچتا ہو۔
شیخ سعدی  کے  ایک شعر کے  ترجمہ ہے :۔ " جس کا  حساب پاک  ہے اسے  محاسبہ  کا  کیا  خوف۔" پس  جس کا  اندر پاک  صاف  ہو  وہ  بھلا کس خوف  کے تحت اپناتالا کھولتے  ہوئے   گھبراہٹ  کا شکار  ہو۔  ارسل  مبشر  ہو  ملک  حبیب  ہوافتحار افی  صاحب  ہوں  یا  زبیر حسین  ۔ ان کے  بولنے  اور بے حد  اچھا  بولنے سے  میں اس نتیجے پر  پہنچا کہ  ایسے لوگ  کم از کم  منافق  کبھی  نہیں ہو سکتے۔  یہ  صفت (زیادہ بولنا  اور اچھا بولنا)صرف ان میں پائی  جاتی ہے  جن کا اندر پاک صاف ہو۔  اور یہ  وہی  صفائی  ہے جس کی  تاکید  حضرت  بابا بھلے شاہ  سرکار  ؒنے اپنے  کلام میں بھی فرمائی  ہے ۔
نماز پڑھن  کم  زنانہ ، روزہ  صرفہ  روٹی
اُچیاں بانگاں  او دیندے  ، نیت جنہاں  دی کھوٹی 
مکے دے ول اوہی  جاندے ، جیہڑے  کم دے ٹوٹی
او بھلیا  جے  توں  رب نوں ملنا  ، صاف کر اندر دی  کوٹھی 
(نماز پڑھنا کوئی  ایسامشکل  کام تو نہیں وہ تو عورتیں بھی پڑھتی ہیں۔  اور  روزہ  رکھنا  بھی  تو دراصل اپنا  فائدہ  ہے ۔ اونچی اونچی اذانیں وہ دیتے  ہیں جن کی نیت کھوٹی  ہو  (مراد ریا کار لوگ) مکے  کی طرف حج کو بھی وہی  جاتے  ہیں جو کام کاج سے جان چھڑاتے ہیں۔  پس یہ سب کام کرنے والا مردِمجاہد کہلانے کا حقدار  نہیں۔اور  نہ  ان کاموں  سے رب ملتا ہے ۔ ہاں اگر مردانہ  کمال  دکھانا ہے یا رب سے ملنے کی آرزو ہے  تو اپنا اندر صاف کر لو ۔ یہی تو  حقیقی  تصوف  ہے)۔

میرے  اس پیارے سے دوست زبیر میں صرف  یہی ایک  ہی  صفت نہیں۔  ان کی دوسری صفت  جانچنی  ہو تو  "اردو جواب" ویب سائٹ  کے شانِ نزول پر  غور کریں۔ 
ایک زمانہ تھا  کہ انٹر  نیٹ پر  اردو محض  دیوانے  کا خواب  تھی ۔ پھر  یونیکوڈ  اردو کی آمد کے  ساتھ  ہی انٹرنیٹ پر اردو  فورمز  بننے شروع ہو گئے ۔  حتیٰ کہ 2010 کے بعد تو یہ حال ہو گیا کہ   بقول  پطرس  بخاری :۔"کچھ عرصے بعد خون کی خرابی کی وجہ سے ملک میں جا بجا جلسے نکل آئے جس کسی کو ایک میز، ایک کرسی اور گلدان میسر آیا اسی نے جلسے کا اعلان کر دیا۔"( مرید پور کا پیر) ایسے ایسے  لوگوں  نے بھی  اردو فورم  بنا لیے  جنہیں واجبی  حد تک  بھی  اردو کے تین جملے مسلسل درست  بولنا  نہ  آتے ہوں گے۔ دنیا ئے  ہست و بود  میں مذہب  ، فرقہ ، ذات برادری  ، زبان، علاقے  کے نام سے  لوگوں کو ورغلایا جاتا ہے  انٹرنیٹ پر لوگوں کو  اردو کے  نام پہ  اکٹھا  کرکے اندر کھاتے اپنے  مذموم عزائم اور کریہہ  نظریات  کا  پرچار   کرنے  والے  سرگرم ہو گئے ۔کہیں آزادی  تحریر  و اظہارِرائے  کے نام پر  اسلام اور  پاکستان کے خلاف بکواس  کی جاتی  ہے اور جواب دینے والوں کو کتے کی طرح دُر دُر  کہہ کر  بھگا دیا جاتا ہے ۔چند  مفاد پرستوں کے حسنِ کرشمہ ساز  نے خرد کا نام جنوں رکھ دیا اور  جنوں کا نام  خرد رکھ  کے بدتہذیبوں کو اردو  کا ہیرو  بنا دیاہے۔ ایک طرف اتنی  روشن  خیالی کہ ایک شخص قرآن  مجید  میں اللہ تعالیٰ کی  نحوی اور  لغوی  غلطیاں نکالنے کے نام پر   اپنی  خباثت دکھا رہا ہے  اور  حضرت کے کان  پر جوں  نہیں رینگتی(العیاذباللہ)۔ وہیں یزیدیت  اور مطلق  العنانیت  کا وہ  عالم کہ کسی  بے چارے نے  ایڈمن  کی  کمینگی  پر  انگلی اٹھائی  تو  اس" سنگین ترین جرم"  کی پاداش  میں  اسے  عاق  کر کے دفع دور ہونے کا حکم ہے ۔ 
 یعنی کوئی اللہ  کی شان میں بکواس کرے اظہارِ رائے  کی آزادی ۔  کوئی رحمۃ للعالمین  کی شان میں گستاخی  کرے تو اظہار ِ رائے کی  آزادی ۔  کوئی  اسلام پر  بکواس کرے یا  نظریہ  پاکستان کے بارے میں بک بک کرے  ۔  یہ اظہارِرائے  اور  تحریر کی آزادی  اور انسان کا  بنیادی حق ہوا۔ اس سب سے  کسی  کو فرق نہیں پڑتا ۔  لیکن محض ایک ویب  سائٹ کے  مدیر  سے  اگر  کسی  نے  جواب دہی کا مطالبہ کیا تو  شاید عرش  ہل  گیا اور  کعبہ کے مینار  ٹیڑھے ہو گئے ۔ اب بندہ پوچھے کیا   وہ  بے حقیقت  انسان ان  کی نظر  میں اللہ  اور  اللہ  کے رسول  کی  نسبت  زیادہ  عزت والا  تھا۔۔۔؟؟؟؟(نعوذ باللہ)۔
   ((کاش  !!!!یہی  بات  ذوالقرنین  سرور  ، محمود مغل   اور عاطف بٹ  نے بھی  پوچھی ہوتی ۔۔۔۔))۔
میں نے کہا کہ بزم ِ ناز چاہیے  غیر سے  تہی  
سن کے ستم  ظریف نے  مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں

ایسے میں زبیر  بھائی  کو  اللہ  تعالیٰ کثیر  کثیر  جزائے  خیر  عطا فرمائے   جو اس چل سو چل اور بھیڑ  چال کا  شکار  نہیں ہوئے۔   انہوں نے خالصتاً سیکھنے  سکھانے کی غرض سے  "اردو جواب " کی بنا رکھی ۔  انٹر نیٹ پر بے شک ہر موضوع پر  بہت کچھ مل جاتا ہے مگر  اس  کیلئے گھنٹوں  خاک  چھاننے کے بعد  پھر  گوہر  مقصود کی  نشانی ہاتھ   آتی ہے ۔ اور پھر  اس آرٹیکل کو شروع سے  آخر تک پڑھنا پڑتا ہے ۔ اسی  مسئلے کا حل "اردو جواب"کی صورت میں ہے ۔ یہاں سوال کا دوٹوک  اور ٹو دی پوائنٹ  قسم کے جواب  مل جاتا ہے۔  یہ ایسا اوپن  فورم ہے کہ  جہاں ہر  کوئی  کسی  بھی موضوع پر(اخلاقیات  کے  دائرے میں)سوال کر سکتاہے۔ اور اگر  اسے "اردو جواب " پر  کسی  اور کے پوچھے  گئے سوال کا تسلی بخش اور  درست  جواب معلوم ہے تو وہ بلا تکلف جواب بھی دے سکتا ہے ۔ یعنی  یہ  ایک  ایسا   گوشہ  ہے  اور اردو زبان  میں  انٹر نیٹ پر  ابھی  تک  وہ واحد  ویب  سائٹ  ہے جہاں ہر بندہ  نہ صرف کچھ سیکھ سکتا ہے  بلکہ  اللہ کے دئیے ہوئے  علم میں سے اپنی  استعداد  کے مطابق  جواب  دے کر  کسی  کو کچھ سکھا   کر بہت سوں  کی  دعائیں بھی پا سکتا  ہے۔

پہلی بار زبیر  بھائی  سے  میری  ملاقات  اردو محفل  فورم پر ہوئی ۔ وہاں سے میرا "اردو جواب "پر جانا ہوا ۔  مجھے یہ  ویب سائٹ پسند آئی اور  میں نے  رکنیت حاصل  کر لی ۔  مجھے  اردو جواب کا سواں   رکن  ہونے کا اعزاز  ملا ۔ یعنی مجھ سے پہلے اردو جواب  کے 99 اراکین  تھے ۔   وقت کے ساتھ  ساتھ  "اردو  جواب " کا خوب  سے  خوب تر کا سفر جاری رہا ۔اور  یہ  زبیر  بھائی کا  بڑا پن  ہے  کہ  انہوں  نے  مجھ جیسےہیچمداں  کو اپنا  نمبر  دیا  پھرجب  چھٹی پر پاکستان تشریف  لائے  تو  فدوی  کے  ساتھ  ایک گھنٹہ  خوب  گپ  شپ  کی ۔اب  بھی  ابو ظہبی سے اکثر کالز  اور  میسجز  کے ذریعے  یاد فرماتے  رہتے ہیں۔
جی خوش  ہوا  حالی  ؔ سے  مل کر
ابھی  کچھ لوگ  ہیں   جہاں  میں

اس  نفسا  نفسی  کے  زمانے  میں جبکہ  انسانوں  کی  اکثریت  صرف  اس فکر میں ہے کہ  مجھے زیادہ  سے  زیادہ  فائدہ  کس کام سے  مل سکتا  ہے ۔  اس  زمانے  میں ایسے  پر خلوص  اور  بے لوث لوگوں سے  ملاقات  ہونا اور ان سے دوستی  ہونا   یقیناً  اللہ  کی  خاص رحمت ہے ۔ آج  کل  زمانے  کی برائیاں  کرنا فیشن بن چکا ہے  لیکن    کسی  کی  ایسی   گفتگو  کے دوران  میں زبیر  حسین جیسے  بے لوث اور  خالصتاً  خدمت ِ خلق اور  انسانیت  کی  بھلائی  کے جذبے سے سرشار  لوگوں  کی مثال دے کر   ہمیشہ  کہتا ہوں  کہ برائی  اور  اچھائی  کا توازن ہمیشہ  قائم  رہتا ہے ۔  ایسا  بالکل نہیں کہ  صرف برائی  ہی برائی ہو۔ جس قدر  برے لوگ ہوتے ہیں۔ اتنی  تعداد میں اچھے  لوگ بھی موجود رہتے  ہیں۔ ہو سکتا  ہے  ایسے  صاحبانِ کمال  ہماری  نظر سے  دور ہوں  لیکن   ہمیں چاہیے  کہ  ایسے لوگوں کو ہمیشہ  اپنے دل  سے   قریب  رکھا  کریں۔ کیونکہ  انہی  جیسے لوگوں کے دم سے انسانیت  کا  توازن  قائم  ہے ۔ 

Tuesday, 28 January 2014

پیکرانِ اخلاص

3 آرا
اللہ  تعالیٰ کی  شاہکار  تخلیق  انسان ہے ۔
شاہکار  اس لیے قرار دے رہا ہوں  کہ  یہ اللہ کی  واحد  مخلوق ہے جو جبر  و قدر  کا مرقع  ہے ۔یہ  واحد مخلوق ہے جس  میں اللہ نے  بیک  وقت  دل  اور دماغ  لگا دئیے  ہیں۔   دماغ  پر  عقل و خرد  کی  حکومت ہے ۔  اس کی وسعت  لامحدود ہے  مگر  جہاں  عقل کے پر  جل  جاتے ہیں وہاں سے دل کی سلطنت  شروع ہوتی ہے جہاں یقین  کا سکہ  چلتا ہے ۔ بحث و دلیل سے بے نیاز اس  طلسم ہو شربا  میں عقل  کو  آج تک داخلے کا پروانہ  نصیب نہیں ہو سکا۔

یہ قصہ بھی دل و دماغ کا ہے ۔ تاریخی روایات کے انبار پہ بیٹھ  کر فدوی   اپنے  انداز  میں صرف   قصہ    سنائے گا ۔
سچ  ہے یا دروغ  ،  بر گردن ِ مورخین۔
واللہ اعلم

خلافتِ راشدہ  کے بعد  اقتدار بنو امیہ  میں آیا  پھر ان سے  بنو عباس  کو منتقل ہوا ۔ عباسی  خلافت کا ذکر آئے تو ذہن میں  خلیفہ ہارون  الرشید  کا نام  خود بخود آجاتا ہے ۔ خلیفہ ہارون الرشید  کی ایک   محبوب ملکہ   تھی جو تاریخ میں زبیدہ  خاتون کے نام سے مشہور ہے ۔
ایک دفعہ یہی ملکہ زبیدہ خاتون شام  کے وقت   سیر  و تفریح کی غرض سے شاہی باغ  کو  جا رہی تھی ۔  بغداد سے  باہر  ایک  ویرانے سے جب  سواری گزری تو ملکہ    ایک منظر دیکھ کر  حیران  رہ گئی ۔  پراگندہ بالوں ، بوسیدہ پیراہن  اور حیرت  زدہ چہرے  کے ساتھ ایک شخص پتھر کے ٹکڑوں  اور تنکوں کو  جمع  کر کے کچھ  بنا رہا تھا ۔ملکہ نے سواری  رکوائی  اور  خواصین کو وہیں  رکنے کا کہہ کر  ایک کنیز  کے ساتھ  ادھر کو چل پڑی  ۔ جہاں حضرت بہلول دانا ؒ پتھروں  اور تنکوں  سے گھروندہ  بنانے میں اس قدر منہمک تھے  کہ انہوں نے ملکہ کی  آمد  کی  طرف  کوئی توجہ نہ کی ۔
بادشاہِ وقت  کی ملکہ جس کے سامنے کھڑی تھی وہ خود ہفت اقلیم  کا  بادشاہ تھا  ۔  جس کی حکومت کا رقبہ اس جہانِ فانی سے عالمِ جاوید تک پھیلا ہوا تھا۔
ملکہ کچھ دیر  ان کے متوجہ ہونے کی امید میں کھڑی رہی ، آخر  ہمت کر کے سلام کیا۔ سلام کا   جواب ملا تو  ملکہ  نے ادب سے پوچھا :۔  "جناب ! یہ کیا بنا رہے ہیں۔؟" اسی  بے نیازی سے جواب آیا:۔ " جنت کا محل بنا رہا ہوں۔"

اور یہ وہ مقام ہے جہاں دل و دماغ  کاپانی پت سجتا ہے ۔  عقل  ماننے  کیلئے مشاہدہ  مانگتی ہے ، مگر  دل تو  آنکھیں بند  کر کے بے اختیار  "آمنا صدقنا " کہہ دیتا ہے ۔ پھر  ان  دونوں کے مان لینے میں بھی بہت بڑا فرق ہے ۔ عقل  مان  لینے کے بعد منکر ہو جاتی ہےلیکن دل منکر  نہیں ہوتا ۔  دانشوروں  کا قافلہ  ہمیشہ عقل کے مشورے پراپنی راہ بدل لیتا ہے ۔ لیکن میں نے آج تک کسی  دیوانے کو ہزار  افسوس کے باوجود بھی جادہ  ٔ حق  سے ہٹتے نہیں دیکھا۔

زبیدہ  خاتون کو  بھی اپنی آنکھ کے دیکھے سے زیادہ ایک عارف  کی  بات پر یقین تھا ۔ پس اسی یقین نے پوچھا  :۔  جنت کا  یہ  محل میرے ہاتھ پر  فروخت کریں گے۔؟" جواب ملا:۔ " ضرور فروخت کروں گا۔"

یہ ہے  نازِبندگی ۔۔۔۔۔  غور فرمائیے ۔۔۔۔  جنت کس کی  اور فروخت کون کر رہا ہے ۔۔۔۔  
ضروری ہے کہ اس مقام کی بھی مناسب تشریح کرتا چلوں تاکہ کوئی  ابہام  نہ رہے ۔  
حدیث شریف  کے مفہوم کے مطابق  ٭جو خدا کا ہوتا ہے خدا اس کا ہوتا ہے ۔٭پس  جس کا خدا ہو گیا تو  کائنات میں باقی رہ ہی کیا گیا ۔۔۔

ملکہ  نے  خوش ہو کر  قیمت دریافت کی  ۔  جواب ملا :۔  "ایک درہم۔"
جواب سنتے ہی زبیدہ خاتون نے فوراً قیمت پیش کر دی  ۔ اور  دنیا کا  سب سے انوکھا سودا  طے  ہو گیا ۔اشٹام پیپر  وغیرہ تو  اس زمانے  میں ہوتے نہیں تھےاور  پٹواری  ، تحصیلدار  بھی  نئے زمانے  کی بدعات  ہیں۔ اس  لیے    قیمت  ادا ہونے  کے بعد  حضرت بہلول داناؒ نے  ایک لکڑی اٹھائی اور  گھروندے  کے گرد  خط  کھینچتے ہوئے فرمایا :۔  میں  نے جنت کا یہ محل ایک درہم کے عوض زبیدہ  خاتون کے ہاتھ بیچ دیا ۔"یہ سنتے ہی زبیدہ خاتون  اس یقین کی خوشی  سے سرشار  ہو گئی کہ اسے جیتے جی جنت مل گئی ہے۔اور  واپس  اپنے محل میں آگئی ۔

رات ہوئی  اور ہمیشہ  کی  طرح گزرگئی ۔  لیکن جب صبح تہجد  کے وقت  خلیفہ  ہارون  الرشید  پریشانی  کے عالم  میں حرم سرا میں تشریف  لائے تو پہرے دار  کنیزیں اور ملکہ بھی خلیفہ کی خلاف ِ عادت اور بے وقت آمدپہ   حیران ہو گئیں۔   ملکہ  نے  خلیفہ سے پریشانی  اور تشریف  آوری کا سبب پوچھا تو خلیفہ نے بتایا :۔"میں نے  ایک عجیب و غریب  خواب دیکھا  ہے ۔کہ میں ایک نہایت حسین و دلکش چمن کی سیر کر رہا ہوں ۔ پھولوں کی رعنائی اور درختوں  کی زیبائی بیان سے باہر ہے ۔ہموار زمین اور شفاف نہریں  جن میں دودھ اور شہد  رواں ہے ۔خوش رنگ  و خوش گلو پرندوں کے نغمے جادو جگا  رہے ہیں۔رنگ و نور میں ڈوبے محلات تا حد نظر پھیلے ہیں۔ میں عالم  حیرت میں ڈوبا یہ سب دیکھ ہی رہا تھا کہ میرے  قریب سے جھلملاتا ہوا نور کا ایک پیکرِلطیف گزرا  ۔ میں نے اس سے دریافت کیا یہ کونسی جگہ ہے اس نے کہا "جنت الفردوس"۔اسی  حیرانی میں گھومتا  پھرتا،   میں  لعل و زمرد سے بنے ایک خوبصورت  محل کے سامنےجا پہنچا  اس  پر  بخطِ سبز  " زبیدہ خاتون " لکھا ہوا تھا ۔  اور پھر میری آنکھ کھل گئی ۔ بیدار ہونے کے بعد تعبیر کے تجسس نے مجھے اتنی مہلت نہیں دی کہ صبح ہونے کا انتظار کرتا ۔اگر  مناسب ہو تو  بتاؤ یہ کیا راز ہے ، جس نے جیتے جی تمہارا نام  جنت الفردوس میں پہنچا دیا ۔؟؟"ملکہ  نےکہا:۔  اپنے نامہ  اعمال  میں اور تو کوئی ایساعمل یاد نہیں ۔ البتہ گزشتہ شام مجذوب بہلول  داناؒ سے ملاقات ہوئی تھی ۔" اور سارا واقعہ  کہہ سنایا۔ خلیفہ کو بھی اس مجذوب سے ملاقات کا شوق پیدا ہوگیا۔  اس  نے کارندوں کو حضرت بہلول دانا ؒکی تلاش میں بھیجا ۔

   جذب و جنون والوں کا کوئی   مخصوص ٹھکانہ   نہیں ہوتا ۔ جہاں  بیٹھ گئے دنیا  بس گئی ، اٹھے تو شہر اجڑ گیا۔۔۔۔ہزاروں  کے بیچ بھی تنہا۔۔۔۔کہیں جو مل گئے تو عالم  ایسا کہ ملنا نہ ملنا دونوں برابر۔   نگاہوں سے اوجھل ہو گئے تو اب ڈھونڈ انہیں چراغِ رخِ زیبا لے کر  ۔۔۔۔۔۔

لگا تار کئی دن کی تلاش کے بعد  ایک ویرانے میں حضرت بہلول دانا ؒ مل  گئے ۔  آج بھی ان کا وہی عالم تھا۔  آنکھیں چڑھی ہوئی تھیں اور دونوں  جہان سے بے نیاز  پتھر  اور  تنکے جمع  کیے  گھروندہ  بنانے میں مشغول  تھے ۔خلیفہ کو  خبر کی گئی اور خلیفہ فوراً وہاں پہنچ گیا ۔

واہ ۔۔۔!!! کیا عجیب و غریب منظر تھا۔۔۔
سلطنت ِ اسلامیہ کا فرمانروا  خلیفہ  ہارون الرشید  جس  کے رعب و جلال سے دنیا کے تین حصے ہمیشہ متاثر رہے ۔ یورپ  و فارس کے  سلاطین جس کے باجگزار کہلاتے ہوئے  فخر محسوس کرتے تھے ۔ وہی ہارون الرشید  ایک فقیر  کے  سامنے مؤدب کھڑا تھا ۔

سلام کیا ۔۔۔۔ جواب ملا ۔۔۔۔
پوچھا :۔  حضور یہ کیا بنا رہے ہیں۔؟
جواب ملا:۔ جنت کا محل بنا رہا ہوں
پوچھا :۔ اسے فروخت کیجئے گا۔؟
جواب ملا:۔  ضرور
قیمت دریافت کی تو جواب  ملا:۔ تیری پوری سلطنت اس محل کی قیمت ہے ۔
یہ سن کر  خلیفہ  کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکلی یا نہیں، یہ تو اللہ جانے مگر کچھ دیر  اسے  جیسے سکتہ سا ہو گیا ۔کچھ وقفے کے بعد  پھر  عرض کیا :۔
 حضور ! ابھی چند دن پہلے آپ  نے زبیدہ خاتون کے  ہاتھ ایک درہم پر  جنت فروخت کی ہے ۔  یک بیک  سٹاک ایکسچینج  میں اتنی تیزی ۔۔۔۔ ؟؟؟ 
حضرت بہلول داناؒ نے جلال کے عالم میں خلیفہ کی طرف دیکھا اور فرمایا :۔ زبیدہ خاتون پر اپنا قیاس  مت کر  ۔  وہ جنت دیکھ کر نہیں آئی تھی  ۔ اس نے صرف میری زبان پر  ان دیکھی جنت کا یقین کر لیا ۔ تنکوں اور پتھروں  سے بنے گھروندے کو جنت کا محل سمجھنے کیلئے  اسے اپنے مشاہدے کا انکار کرنا پڑا  ۔ عقل کے فیصلے سے جنگ کرنا پڑی ،اور نظر کو جھٹلانا پڑا ۔ اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم جنت دیکھ کر  آ رہے ہو   ۔  جنت کے وہ سب نظارے اب تک  تمہاری نظر کے سامنے ہیں۔ اس لئے تمہارے ساتھ کوئی رعایت  نہیں کی جاسکتی ۔"

بقول  قرآن  مجید :۔  اس  میں عقل والوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں۔
اور بقول  چھوٹا غالب:۔  اس میں عقل کے اندھوں   کے لیے بہت سی خامیاں ہیں

قارئین اس قصے سے جو مرضی  نتیجہ  نکالیں لیکن فدوی  کا مقصد  صرف پیکران ِ اخلاص و یقین ،  اور مہر  ومحبت  کی  دیویوں  کو  ایک  چھوٹا سا  خراجِ تحسین  پیش کرنا تھا ۔اس  فقیر کی باتوں پہ واہ واہ کرنے والے تو بہت ہارون الرشید  بھی ہیں اور محمود الرشید  بھی ۔  دیکھا دیکھی اور شرما شرمی میں بہت سے لوگ فدوی کی  دوستی کا دم بھی بھرتے ہیں۔  مگر  جب  میں نے یقین کی پل صراط بچھائی  تو   سب  یار دوست  اپنی  عقل  کے دوزخ میں گرتے گئے ۔اور یہ پل پار کرنے والے    "کچھ  ہوئے  تو  رندانِ  قدح خوار  ہوئے۔" قصور ان بے چاروں کا بھی  نہیں کیونکہ  وہ بے چارے تو آنکھوں دیکھے  کے محتاج ہیں۔لیکن  ان  پیکرانِ یقین  کی  صدیقیت  کے صدقے  جنہوں نے  فدوی کو یقین  کے قابل  سمجھا۔
  یہ قصہ صرف زبیدہ خاتون کا نہ تھا ۔  بلکہ  یہ قصہ  ہر  خاتون  کا  ہے ۔ یہ قصہ عورت کا  ہے ۔  اس عورت کا ہے  جو حوا  کی  بیٹی ہے ۔  جنت سے نکلوانے والا موضوع  ایک  الگ داستان رکھتا ہے جس  کو غلط رنگ دینے والوں کو یہ یاد کرنا  چاہیے  کہ آدم  علیہ السلام کا  ساری  آراستہ  و پیراستہ  جنت میں دل  نہیں لگا تھا ۔ یعنی  حضرت حوا  کی  آمد سے پہلے جنت حضرت آدم علیہ السلام کی نظر میں جنت نہیں تھی ۔ تو  قارئین  یہ قصہ اسی  کا ہے جس  کے بغیر  جنت بھی جنت نہیں۔

 خوشبو صرف احسا س  ہے ۔۔۔ خوبصورتی بھی ایک احساس ہے ۔۔۔ خوشبو  کو فریگرینس  کہہ لیں یا مہک  یا کسی  بھی زبان  کا نام دے دیں، اس سے خوشبو  کے اصل پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ خوبصورتی کو بیوٹی کہنے سے کیا اس میں کوئی  فرق پڑتا ہے ۔۔۔؟؟؟ پس  پھر  اس جانِ احساس کو  بھی کوئی سا نام دے دیں،  کسی  بھی زبان  میں کہہ  کے دیکھ لیں۔۔۔  عورت کہیں، امراۃ کہیں، تریمت ، زنانی ،  استری کہیں یا وومن   ،کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔

ایسا کیوں۔۔۔۔؟؟؟

پھول فرق رکھتے ہیں۔  کیونکہ پھول  مجسم ہیں ۔۔۔ مگر  خوشبو مجسم نہیں بلکہ ایک احساس ہے ۔البتہ  ہر  خوشبو  کی  ایک انفرادیت ہے
خوبصورت وجود  فرق رکھتے ہیں ۔  کیونکہ وہ مجسم ہیں۔۔۔۔ مگر  خوبصورتی صرف ایک احساس ہے ۔البتہ  ہر  خوبصورتی کی  ایک انفرادیت ہے

بالکل اسی طرح عورت اپنی "اصل"کے لحاظ  سے  ایک ہے ۔  نام  اور رشتے بدلنے سے  اصل نہیں بدل جاتی ۔  وقت اور جسم  ہی بدلتے آ رہے ہیں۔  فطرت تو آج بھی وہی ہے ۔
اس لیے کوئی  فرق نہیں پڑتا کہ اگر   کسی زمانے میں اس  کا نام  زبیدہ  خاتون  تھا تو کسی زمانے میں مہ جبین۔
کسی علاقے  میں اس کا  نام عنبل وارثی ہو  ،  چاہے  غزل ناز غزل۔۔۔
بے شک  وہ  آئر لینڈ والی  ملکہ  ہو، یا انگلینڈ  کی  پرنسس  ہو۔
کوئی اسے مومنہ کہتا ہے ، کوئی اسے عشبہ  پکارتا ہے ، اور کوئی  یسریٰ۔۔۔۔
یہ توصرف  ناماگون  تھا۔  اب رشتے  بدل  کر دیکھ  لیں۔  رشتہ ہی بدلتا جائے  گا ، "اصل "تو  عورت ہی رہے گی ۔
ماں بھی عورت ، بیوی  بھی  عورت ۔  بہن کا رشتہ ہو یا بیٹی کا ۔  صرف دوست ہو چاہے محبوبہ ۔۔۔۔  اصل  تو اس کی عورت ہے ۔
    سلام ہو  اس  جانِ جنت پر 
سلام ہو اس  جانِ احساس پر

Friday, 24 January 2014

یارانِ نکتہ داں (قسط پنجم) افتخار افی صاحب

2 آرا


اب تک پچھلی تمام  اقساط میں جتنے  بھی دوستوں  کا تذکرہ آیا  وہ  مجھے دوست رکھتے ہیں  اور میں انہیں دوست  رکھتا ہوں ۔یعنی  معاملہ برابری  کے اصول  پر  قائم  ہے ۔ لیکن افتخار  صاحب  اس لحاظ سے  منفرد ہیں کہ اور  بے شمار  لوگوں  کی  طرح فدوی  بھی  انہیں بے  حد  عزیز اور  محبوب جانتا ہے قطع نظر  اس کے  کہ یہ ہم سب میں سے  کس کو  دوست  سمجھتے  ہیں اور  کس کو محض اپنا مداح ۔۔۔۔

بڑے لوگوں کے مداحین کی کثرت  کوئی  انہونی یا عجوبہ  نہیں کہ اس پر حیران ہوا جائے ۔جیسے    شہد  یاکوزہ  مصری  اگر  اوپن  ایئر  پڑے ہوں تو مکھیوں کے جمگھٹے  لگ  ہی جایا  کرتے  ہیں۔ شکاریات  اور  جنگلیات  والے  جانتے ہیں کہ  گیدڑ  اور  اسی  قسم  کے چھوٹے  گوشت  خور  جانور  جنگل  میں ببر  شیر  کے  پیچھے  پیچھے  ہی  رہتے  ہیں۔ کیونکہ   شیر  کی عادت ہے  کہ  وہ  ایک  شکار  کو  پورا  نہیں کھاتا  بلکہ   گیدڑوں اور باقی  تمام  جانور  جو  اس  کے  زیر سایہ پلتے ہیں  ان  کیلئے  کچھ  حصہ چھوڑ دیا  کرتاہے ۔ کہیں چشمہ  پھوٹ  پڑے تو  آس  پاس  بہت سی گھاس  پھونس  اُگ  ہی  آیا کرتی  ہے ۔چشمہ  کسی  کو  اپنے  منہ سے  نہیں بلاتا  نہ  ہی  دعوتی  کارڈ بھیجتا  ہے  پھر  بھی  پانی  پینے  کو  بہت سے  جانور ، انسان  آ جاتے  ہیں۔بادشاہوں  کے  دربار  بھی  ہمیشہ  سے  ایسے  آباد  رہتے  آئے  ہیں۔  کچھ  درباری ،  کچھ  چوبدار  ، کچھ  چاکر  ،  اور  کچھ محض خوشامدی   درباروں  کی  رونق  رہتے  ہی  ہیں۔

یہ تو  یک جہت   موجودات  کی  مثال  تھی  ۔    کثیر الجہت   شخصیات  و  موجودات کا  معاملہ  بھی   اس سے مختلف  تو نہیں البتہ  ان  کے ساتھ  اور  پیچھے درباریوں  ، خوشامدیوں  اور  دُرد  خوارو ذلہ چینوں   کی کثرت  دیکھ  کر دُم دار ستارہ   یاد  آ جاتا ہے ۔  وہ  دم  اس کی  ذاتی نہیں ہوتی  بلکہ  اس  کی  انتہائی  کشش  ثقل  کا  نتیجہ  ہوتا  ہے ۔  اس  کی  کشش  سے  خلائی اجسام  اور   ذرات  اس کی  طرف کھنچے  تو چلے جاتے  ہیں لیکن اس  کی  انتہائی   رفتار  کا  ساتھ  نہ  دے پانے  کے سبب  اس  کے  پیچھے  پیچھے  اپنی  اپنی  رفتار  سے  گھسٹتے  رہ جاتے  ہیں۔ جسے  دیکھنے والا ستارے  کی دم  سمجھتا  ہے ۔ افتخار  صاحب  بھی  ایسی  ہی  ایک  کثیر  الجہت  شخصیت  ہیں ۔ ادیب  ، شاعر ،  اداکار ، کالم نگار، یہ  ، وہ ۔۔۔۔  اور  پتا  نہیں کیا  کیا۔۔۔۔ اور یہ  دنیا  کی  عجیب  حقیقت  ہے  کہ  اللہ جسے   مقام  و مرتبہ  یا  دولت  سے   نواز  دے  ان  کے  اچانک  ہی  بہت  سے دوست ہی نہیں رشتہ  دار بھی    نکل   آتے  ہیں۔  لیکن واللہ میں اس ستارے  کی دم  میں  موجودفصلی  بٹیروں  کی   بھیڑ  اورخوشامدیوں  کے   ہجوم کا حصہ  نہیں۔

میری  ان  سے  محبت  اور  دوستی  ایک  عجیب  معاملہ  ہے جسے  سمجھنے  سے پہلے  آپ  کو  حضرت  شاہ  حسینؒ کاشعر  :۔

جے  کوئی  متراں  دی  خبر  لے آوے۔۔۔۔  ہتھ  دے  ڈیندی  آں  چھلے۔
سمجھنا لازم ہے ۔ ورنہ  یہ معاملہ بھی   آپ  کی  سمجھ سے باہر  ہے ۔
                 
شیخ  سعدی ؒ کی  طرح  شنیدہ ام  کہ ایک  بار فرشتوں کا  ایک  گروپ  انسانی  بھیس میں حضرت  ابراہیم  علیہ السلام کے دروازے  پر  پہنچا  اور  اپنی  ملکوتی  آواز  میں  اللہ  کے نام پر  سوال  کیا ۔ فرشتوں  کی  آواز  اور  پھر  ان  کا  لفظ "اللہ " کہنے  کا  انداز   ، سن  کر  حضرت  ابراہیم علیہ السلام پر  بے خودی  طاری  ہوگئی ۔  بے قرار  ہو کر  باہر  نکلے  اور باہر  کھڑے  انسانی  روپ  میں فرشتوں  سے  کہا  کہ  ایک  بار  پھر   اسی  انداز  میں لفظ "اللہ " کا  نعرہ  سناؤ  تو  اپنی بکریوں کا آدھا ریوڑ  تمہیں دے دوں گا ۔  (یاد  رہے  کہ  حضرت  ابراہیم علیہ السلام کی  بھیڑ بکریوں  کے ریوڑ  کی  تعداد ہزاروں  میں تھی ) فرشتوں   نے  پھر  اسی  انداز میں اللہ  کا نام  لیا  تو حضرت  ابراہیم  علیہ السلام وجد  سے  جھوم  اٹھے  اور  حسبِ وعدہ اپنا  آدھا  ریوڑ  ان  کے  حوالے  کر دیا ۔  جب فرشتے  لے کر  جانے لگے  تو   حضرت  ابراہیم علیہ  السلام نے پکار  کر  کہا  ذرا  رکو ۔ اور  مجھے  ایک  بار  پھر  اللہ  کا  نام  سناؤ ۔  بدلے  میں تمہیں اپنا  باقی   آدھا ریوڑ  بھی دے دوں گا۔  فرشتوں نے  پھر  اسی  انداز  میں  بلند  آواز میں "اللہ " کہا  اور  حضرت ابراہیم  علیہ السلام نے بقیہ  آدھا  ریوڑ  بھی  ان  کے حوالے  کر دیا ۔  فرشتے  لے کر  جب تھوڑی دور  گئے تو حضرت  ابراہیم  علیہ  السلام بے تابی  سے  دوڑے  دوڑے  ان کے پاس پہنچے  اور  ان  سے  التجائیہ لہجے  میں ایک  بار پھر  وہی فرمائش  کی ۔  فرشتوں  نے  کہا کہ  اب تو آپ  ہمیں اپنا سارا ریوڑ  دے  چکے  ہیں ۔ اب ہم  اگر  آپ  کی  فرمائش  پوری کریں تو آپ  بدلے  میں ہمیں کیا  دیں گے۔۔؟حضرت  ابراہیم  علیہ  السلام  نے   فرمایا  اتنا ریوڑ  سنبھالنے  اور  چرانے  کیلئے تمہیں کسی  غلام  کی ضرورت تو ہوگی ۔  پس  ایک بار اللہ  کا  نام  سنا  دو اورمیں  بدلے  میں تمہاری  غلامی  کروں گا ۔  اب کی  بار  فرشتے  وجد  میں آ گئے  اور  حقیقت  حال  ظاہر  کی  کہ  دراصل  ہم  فرشتے ہیں اور  بس  آپ  کی  اللہ  سے  محبت  کا جائزہ لینے  اللہ  کی  اجازت  سے  آئے تھے ۔  یہ  مال  اب بھی  آپ کا  ہی  ہے ۔  
قاعدے  کے  مطابق  ناقص  کی  سند  کیلئے  کامل  کی  مثال  دی  جاتی  ہے  اس  لیے  اس  مثال  کا  سہارا  لیا  ہے  تاکہ  افی   صاحب   سے  اپنے  تعلق  کی  وضاحت  بیان کر سکوں ۔افتخار  صاحب  ہی  وہ  قاصد  ہیں جو  مجھ تک  "متراں  دی  خبر" لائے  اور  بدلے  میں انہیں "ہتھ  دے  چھلے" تو  کیا ہاتھ کی  انگلیاں دینے کو بھی  تیار  ہوں ۔  مگر  نہ یہ سنار  ہیں کہ  میرے  دئیے   کھوٹے چھلے  ان  کے کسی  کام آئیں نہ  ہی  یہ   آدم  خور  ہیں کہ اپنی انگلیاں دوں اور یہ   چبا  لیں۔البتہ    انہی  انگلیوں سے  کم از  کم  اپنی  نیاز مندی  اور  تشکر کا اظہار  کر سکتا ہوں سو  وہی کر رہا ہوں۔
پہلی  بار  انہیں  شانی  کے  البم  میں اشفاق  احمد  صاحب کے ساتھ  ایک  تصویر  میں دیکھا تھا ۔میں ان  کو  نہیں جانتا تھا ۔  دوسری  بار  ان کا ذکر  ارسل  کے منہ سے سنا ۔  غالب کے  ایک شعر  کی تشریح  کے  دوران  ان کا ذکر  آیا  اور  پھر  اکثر  آنے  لگا۔مجھے پرواہ  نہیں تھی ۔ پھر  ارسل  نے  ان کا  تفصیلی   تذکرہ  کیا  کہ افی  صاحب  ایسے  ہیں افی   صاحب ویسے  ہیں ،  اتنے  عمرے کیے یہ  کیا، وہ کیا   وغیرہ وغیرہ   مگر  مجھے دلچسپی  کا  کوئی  پہلو  نظر  نہ آیا ۔   اس سارے  تذکرے  کو  بے دلی  سے  سنتے  سنتے  اچانک  میرے  کان کھڑے ہو گئے ۔ وہ  کہہ  رہا  تھا  کہ   یکے از  دیوانگان ِ غالب  ہیں۔         میری اس  کیفیت  کو  وہی سمجھ سکتا  ہے جسے  30 سال  پردیس  میں گزرے ہوں  اور  اچانک قریب  ہی   کسی  گرائیں یا کم از  کم پاکستانی  کے ہونے کی    خبر  مل  جائے ۔
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس "مجھ کو"میرؔ  سے  صحبت  نہیں رہی 
اب وہی ڈرامہ معکوس ہو گیا ۔ یعنی  اب میں بہانے  بہانے  سے افی  صاحب کا  ذکر  کے  ارسل  کو مزید کریدنے کی  کوشش کرتا اور وہ  ٹال مٹول  ، بے نیازی  کے مظاہرے فرماتا ۔ حتیٰ کہ  اسے  دھمکیاں  بھی دے ڈالیں مگر  میری دکھتی  رگ  اس کے ہاتھ  میں تھی اور وہ  جانتا تھا کہ  تڑپے  چاہے  پھڑکے  مجھ سے دور  نہیں بھاگے گا۔آخر  میں دھمکیوں  سے  منت ترلے  پر  اتر  آیا ۔  یہاں تک کہ اگر  نمبر  نہیں دینا  یا رابطہ نہیں کروانا تو کم از کم کانفرنس  کال پر  ہی  بات  کروالینے میں تو کوئی حرج  نہیں  ۔ آخرکار  کئی  جتنوں  سے  یہ  کفر  ٹوٹا خدا  خدا  کر کے ۔۔۔۔
گرمیوں کی ایک  ڈھلتی شام  تھی ۔ مغرب کے بعد  افی صاحب  ایوننگ واک  پر  تھے  جب فدوی  نے  ارسل سے  ہاتھ  آیا   افی صاحب کا نمبر  ملا یا   (خوش قسمتی سے وارد اتیئے   تھے )۔ارسل میرا تعارف پہلے ہی کروا چکا  تھا اس  لیے  نام  بتاتے ہی پہچان  گئے  اور سمجھے شاید  میں  نے     کسی  کام  کے چکر  میں فون  کیا  ہے (اس  معاملے  میں بڑے  لوگ بے قصور ہیں کیونکہ  اکثریت  ان سے کوئی کام نکلوانے کے  چکر  میں ہی رابطہ کرتی ہے )۔ مگر  میں نے وضاحت کی  کہ  فدوی  کام یا کسی  وجہ  سے آپ  کے  پیچھے نہیں پڑا   بلکہ  ہم تو محبت والے  ہیں ۔یہ سن  کر بہت خوشی کا اظہار  کیا  ۔ میں نے پوچھا کہیں میں آپ  کی  مصروفیت میں مخل  تو نہیں ہو رہا ۔  کمال  مہربانی  سے   بولے کہ  جی نہیں میں بس  واک ہی کر رہا ہوں ۔  میں نے دل میں شکر  ادا  کیا۔ پھر جستہ جستہ   بات  مرزا  نوشہ پر  آ گئی  اورمیرا  وہ  حال ہو گیا  کہ   
کچھ اس  ادا  سے  آج  وہ  پہلو  نشیں رہے 
جب تک ہمارے ساتھ رہےہم نہیں رہے
میں  نے سپائیڈر مین تھری  اور کنگفو  پانڈا  میں  ایک ٹیکنیک دیکھی تھی ۔جب سپائیڈر مین ایک  گرتی  عمارت  کے  کنکریٹ  کے  گرتے  ہوئے ٹکڑوں  پر   پیر  رکھ  کے  پھلانگتا  ٹاپتا  اس  عمارت  میں جا کر  واپس  آ گیا  ۔   اور کنگفو  پانڈا  میں جو  ٹیکنیک  قید  خانے  سے  فرار کیلئے  ٹائی لنگ نے  استعمال کی  تھی  وہی  ٹیکنیک   استعمال  کر کے   ان  کی  باتوں  پر  پیر  رکھتا  پھلانگتا  اپنے  تخیل  کے  تمام تر  حواسوں  کے  ساتھ فدوی  دلی  میں استادِ محترم  جناب غالبؔ کلاں   کے  قدموں  میں جا پہنچا۔ یہ  بولتے  گئے اور  میں دیکھتا  گیا ۔

  یہ  غالب  اکیڈمی  چابی  لینے  گئے  ساتھ  میں بھی  تھا ۔ راستے  میں انہیں میں نے  ایک  کوئلہ  کی ریڑھی سے  ایک کوئلہ اٹھاتے دیکھا ۔ پھر  مین  گیٹ  کا تالا  کھول  کر  ہم خاندانِ لوہارو کے  قبرستان کے  احاطے  میں داخل  ہوئے ۔  صحن  کا فرش  سرخ  پتھر  اور   اس  کے  حاشیے   سفید  پتھر  سے   بنے  دکھائی  دئیے ۔  سامنے  مجھے  ایک  کرایے  دار  کا  اپنا  ذاتی  گھر  نظر  آیا ۔    سفید  سنگ مرمر  اور  خوبصورت  جالیوں  سے  تعمیر  کردہ  اس  عظیم  انسان کا  اپنا  گھر  جس کی    262 روپے  آٹھ آنے  ماہانہ  آمدنی  تھی مگر  73 سال  ڈیڑھ  مہینے  کی  زندگی  میں  کوئی  ذاتی گھر  نہ  بنایا  تھا ۔

افی   صاحب تو  غالبؔ سے  باتیں کرتے رہے ،  مگر  مجھ  پر  تو  ایسارعب  چھایا  کہ  لگتا تھا کہ پیدائشی  گونگا ہوں ۔   افی   صاحب نے  مزار  کے کتبے پر کوئلے  سے تنویر  ملک  صاحب کا  نام لکھا اور  تصویریں بنائیں۔ پھر  جب کوئلے  سے لکھا نام مٹانے  لگے  تو وہ  ضد  کر گیا    یا  پھر غالب ؔ کو  اپنے  ایک  دیوانے  تنویر  ملک  کا نام اپنے  پاس لکھا  رہنا  منظور تھا ۔ کچھ  بھی  ہو بہرحال  پانی  سے  دھونے  پر  بھی  وہ  نام پوری طرح نہیں مٹا۔خیر  پھر  الوداع  کا وقت  آیا  اور ایک گھنٹہ پورا ہوتے ہوتے  میں افی   صاحب کے طفیل دلی  میں حاضری دے کر واپس  آ گیا ۔



 اب آپ سب ہی فیصلہ کیجیئے  کیا  اب بھی مجھے  افی  صاحب سے   محبت  کیلئےکسی  اور وجہ  کی  ضرورت باقی رہ گئی ہے۔۔۔۔؟؟؟؟

افی صاحب در جاناں ﷺ پر


افی صاحب اور دی گریٹ بانو قدسیہ آپا



افی صاحب ابو ظہبی میں شانی کے ساتھ
(کالی شرٹ میں شانی )

Tuesday, 21 January 2014

رو میں ہے رخشِ عمر (فلیش بیک)۔

7 آرا
میری  یاداشت  اتنی  بھی کمزور  نہیں ، لیکن  اس کے باوجود مجھے یاد  نہیں کہ  مجھ سے  اس دنیا  میں بھیجنے  کا پوچھا گیا  تھا یا نہیں۔ بالفرض  اگر  پوچھا گیا تھا  تو یقیناً  میرا جواب  نفی میں تھا۔  پھر  بھی  میں اس دنیا  میں" یوسف  بقیمت  اول  خریدہ  "کی ایک  اور مثال  بنا   "قدر  سنگ سر راہ  رکھتا ہوں  "کا  راگ الاپ  رہا ہوں  تو  ظاہر  ہے میری  حیثیت  ایک کٹھ پتلی سے  زیادہ  نہیں۔ میں  محض اس  ڈرامے  کا ایک  ایکسٹرا  اداکار  ہوں  جو  دنیا کے  سٹیج پر  پیش کیا جا رہا ہے ۔ 
میں  کسی کے ذوقِ تماشا  کی  بھینٹ  ہوں ۔ 
وہ 21  جنوری  کی ایک  صبح  صادق  تھی  ۔ہفتہ  کا دن اور  زحل  کی ساعت  ۔  یعنی  کہ کہا جا سکتا ہے  کہ قِرآن النحسین کے  گارڈ آف  آنر کے  ساتھ  فدوی  کو دنیا  کے  گھاٹ اتارا  گیا  ،  اور زندگی دے کے مارا گیا۔ہو سکتا  ہے 21  شیطانوں  نے  سلامی  بھی دی  ہو  مگر  اس  وقت یہ سب دیکھنے کا  ہوش  کہاں  تھا ۔  میں  نے تو چیک چیک  کر  عرش ہلانے  کی  پوری کوشش  کی لیکن کیا پدی اور  کیا پدی  کا  شور  شرابہ ۔ نقار  خانے میں طوطی  کی  کب سنی  گئی  تھی جو  میری  کوئی سنتا ۔کوئی  ہمزباں  نہ پاکر  میں نے  چپ کا  ایسا  روزہ رکھا  کہ  تین سال  گزار  دئیے ۔
ان  دنوں  خوب فراغت تھی ۔ اس لیے  دماغ  پر خوب  زور  دے دے کر  وجہ  ڈھونڈتا رہا  کہ  آخر  مجھ سے کونسا  گناہ سر زد ہو  ا  جو  "بہت  بے آبرو ہو کر  تیرے کوچے سے ہم نکلے"۔  ابلیس  کا تو سمجھ  میں آتا ہے  کہ  اس  نے  بڑے ابا  جی  کو سجدہ نہ کیا  تھا ۔  بڑے ابا  جی اور بڑی اماں  صاحبہ  نے  بھی  "لا تقربو ہذہ الشجرۃ" پہ کان  نہ دھرنے  کا  نتیجہ  دیکھا۔  سانپ  نکال  دیا گیا  کہ  ابلیس  کو منہ میں بٹھا  کے  جنت میں لے گیا  تھا ۔ اور مور نے  بھی  اپنے کیے کی  سزا پائی ۔ عود  اور  انجیر  بھی نکال  دئیے گئے  کہ  آدم اور حوا  کو  ستر پوشی  کیلئے  اپنے  پتے  دئیے ۔
مگر  میرا  ان سب  قصوں میں کیا کردار ۔۔۔ میں  نے  تو  ان سب کا  ساتھ دینا  دور کسی  کو مشورہ بھی نہ دیا تھا ۔  مگر  زبردست کا ٹھینگا سر پر ۔۔۔۔  ہے جرم ِضعیفی  کی سزا مرگِ مفاجات ۔۔۔ چلی تو  آخر زور آور  کی  اور  جوگی میاں یہاں  آکے  دنیا کو  طلاقیں  دیتے پھر رہے  ہیں۔  اس سے بھلا  کسی کو کیا  فرق پڑنے والا  ہے۔قہرِدرویش  بر جانِ درویش۔۔۔
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پہ ناحق
حضرت یونس  علیہ السلام  مچھلی  کے پیٹ سے باہر  آئے تو کدو  کی بیل   نے  چھپا  لیا  تھا ۔ میں نے کتابوں  میں  جا پناہ  لی ۔   خوب  دنیا  تھی ۔  اس  کتابوں  کی دنیا  میں  بھی اُس   عالم  کی  طرح   سب  اچھا  تھا ۔  سانچ  کو آنچ نہیں تھی ۔  غرور کا  سر نیچا تھا ۔  ایمانداری  پسندیدہ ترین  صفت   تھی ۔  جھوٹوں  اور  شرپسندوں  کی کوئی عزت نہیں تھی۔  ہر  انسان  رشتوں  کی ڈور  سے  بندھا تھا ۔  ہر رشتہ  احساس کی  بنیاد پر   پیار  محبت  کے  سیمنٹ  سے استوار  تھا ۔  جیت صرف سچائی کی تھی ۔  ہر کوئی  ہنسی خوشی  رہتا  تھا۔ ہر کوئی  زبان  کا  سچا اور  وعدے  کا پکا تھا ۔المختصر  کہ سب  اچھا تھا  ۔
سوچااب  جبکہ  ڈھول  گلے  پڑا   ہے  تو بجا لیتے  ہیں ایک  شغل ہی سہی ۔۔۔اگر  دنیا  کتابوں  سےہوبہو  نہ سہی کم از  کم  50 فیصد  بھی  ملتی جلتی  ہے  تو  پھر  بھی گوارہ   کی جا سکتی ہے ۔  لیکن  کتابوں  کے  سائے  سے حقیقت کی کڑی دھوپ  میں نکلا  تو  دانتوں  پسینہ  آ گیا ۔  سانچ  کو  آنچ نہیں والا  خواب   کسی  دیوانے  نے  دیکھاتھا ۔ حقیقت  میں تو  آنچ تھی  ہی سانچ کو ۔غرور  کی گردن  میں سریا  فٹ  تھا اور سر پہ علم  و فضل کا اتنا بڑا پگڑ  بندھا تھا کہ سجدے میں جھکے تب  بھی برج الخلیفہ  سے  اونچا  رہے  ۔  ہاں اگر  کوئی سر نیچا تھا  بھی تو وہ شرافت  اور  انکسار کا تھا۔  بے ایمانی  درفشِ کاویانی  کی طرح لہرا رہی تھی  اور  ایمانداری  خاک  چاٹ  رہی تھی ۔ جو  جتنا  بڑا جھوٹا  اور جتنا بڑا  شر پسند  تھا وہ  اتنا ہی  بڑا معزز  اور  قابلِ احترام تھا ۔  ہر  انسان  صرف اپنے  نفس کا غلام  تھا ۔  رشتے  ناتے  انا کے  اندھے  کنویں   میں الٹے لٹکے  تھے ۔  پیار محبت کی  جگہ  طمع  اور  مطلب پرستی  نے لے لی تھی ۔ سچ  کا  مقدر ہر جگہ اور ہر حال میں  ہار ہو چکی تھی ۔سچائی  عیب  تھی ۔  ایمانداری  گناہ تھی ۔ جاہ  پرستی  اور  دولت  کے حرص  کی  ٹاپوں  تلے خوشی  کچلی جا چکی تھی ۔  کوئی خوش نہیں تھا ۔  ہر  شخص  ایک قبر تھا  جس میں بے چاری روح  زندہ مدفون  تھی ۔  چہرے  نہ تھے  قبروں  کے کتبے  تھے  جن  پر برسہا  برس کی   دکھ بھری داستانیں رقم تھیں۔
جوگی  چلا  اٹھا ۔۔۔۔
جھوٹ  ہے  ۔۔۔  جھوٹ  ہے ۔۔۔۔ جھوٹ ہے ۔۔۔۔
ہستی کے مت فریب  میں آ جائیو  اسدؔ!!!
سب بکواس  ہے ۔۔۔۔ سب فریب ہے۔۔۔۔
ہمہ  ناامیدی ، ہمہ بدگمانی 
فینٹاسی  کے مارے  کتابیں لکھ کے مر گئے  اور  مجھ جیسے  چغد  ان  کو  حقیقت  سمجھ  کر ان پہ بیٹھے سر دھنتے ہیں۔
عالم تمام حلقہ  ِٔ دام ِخیال ہے ۔۔۔۔۔
اس قدر دھاندلی  دیکھ کر  جوگی  نے  دنیا کو  تیسری  طلاق دے دی  "خاک  ایسی زندگی  پہ  کہ پتھر  نہیں ہوں میں" اور  یہاں کی  گھٹن  سے  تنگ آکر  بھاگ  جانے  کی سوچی ۔  غم ِ ہستی  کا  اسدؔکس ہو  جز  مرگ علاج ۔ ۔۔۔پھانسی  پہ لٹک  گیا ۔   ۔۔مگر ہائے ری   پھوٹی  قسمت  کہ موت شرمیلی  محبوبہ   کی طرح دور  سے منہ چڑا  کر بھاگ گئی ۔
اجل  مر رہی  تو کہاں آتے آتے۔۔۔۔۔
 اندر  "کیوں " نامی  اژدہا  ڈنک  پہ  ڈنک مارے  جا رہا تھا  جس کا تریاق  کسی نیم  حکیم کے  پاس تھا  نہ کسی نیم ملا  کے پاس ۔ نیم حکیموں  نے پاگل  قرار  دیا  اور نیم ملاؤں  نے کہا  کہ کافر ہو گیا  ہے ۔
سوال  ہی  عجیب  وغریب تھے ۔۔۔
جب کہ  تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا  کیا ہے؟
موت کا ایک دن معین  ہے
نیند  کیوں  رات بھر نہیں آتی؟
قمری  کف  خاکستر  ، بلبل  قفس رنگ
اے نالہ  نشان جگر سوختہ کیا  ہے ؟
مانعِ وحشت  خرامی  ہائے لیلیٰ کون ہے؟
خانہ ِٔ مجنونِ صحرا گرد بے دروازہ تھا
اصل  شہود  و شاہد  و  مشہود  ایک ہے۔۔۔۔ 
حیراں  ہوں  پھر  مشاہدہ  ہے کس حساب میں؟؟
یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں؟؟
عدو کے ہو  لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو؟؟؟
اندر  لگی آگ بھڑکتی  ہی گئی  اور  جواب  کی  کاربن ڈائی  آکسائیڈ  کہیں میسر   نہ آئی ۔شوریدگی  کے  ہاتھ  سے   تھا  سر وبالِ دوش  اور  صحرا  میں  کوئی  دیوار  جب مرزا نوشہ  کو  بھی  ڈھونڈے  سے نہ ملی  مجھے  کیونکر ملتی ۔احباب  کسی  بھی طرح چارہ سازی ِٔ وحشت  نہ کر سکے  تو  خیال  آیا   لوہے کو  اگر  لوہا  کاٹ  سکتا ہے  تو  ہو سکتا ہے  آگ کو  بھی  آگ  ہی  ٹھنڈا کرے ۔  اندر کی آگ  سے  چھٹکارے  کیلئے   مٹی کا تیل چھڑک  کر  باہر بھی آگ  لگا  لی ۔  موت  سے  آنکھیں ملانے  کا  جو مزہ آیا  وہ  کمال  کا تھا ۔ 
کس سے  محرومی ِٔ قسمت  کی  شکایت کیجئے ؟
ہم نے  چاہا  تھا مر جائیں  سو  وہ  بھی  نہ ہوا
موت تو  ہاتھ نہ آئی  البتہ  کچھ  حقائق  منکشف ہو گئے ۔
زخم  کے  بھرنے تلک ناخن پھر بڑھ آئے اور زنداں میں بھی  خیال ِ بیاباں  نورد تھا  تو بزرگوں   نے کہا  یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک  ہے اور خاندان  کا داغ  ہے ۔خیرشریکے  میں تو  یہ سب  ہوتا ہے ۔باغی کا   باپ  کہلانے  سے والد صاحب کو بھی عار محسوس ہوئی ۔ ہر سوال کا جواب "دفع ہو جاؤ  ہماری زندگی سے "تھا۔
اہلِ تدبیر  کی واماندگیاں ۔۔۔۔
آبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں
جب اندازِ جنون  ووحشت  کسی طور بھی چھٹ نہ  پائے اور بات  خون خرابے تک  پہنچ  گئی تو  اماں  نے  بھی  حدکر دی:۔ " عزت سے دفع  ہو جا بیٹا  اس  سے پہلے کہ پولیس   آکے  نکالے ۔"بس ایک  ہچکی  آئی  اور اویس  قرنی  چپ  چاپ  مر گیا ۔
مرگیا   صدمہ ِٔ یک جنبشِ لب  سے  غالب ۔۔۔۔۔
جوگی  نے اویس  قرنی  کی  لاش  کندھے  پہ  لادی اور  دفع  ہو  گیا ۔نہ تو   زمین پھٹی  نہ  ہی آسمان گرا ۔یہ تماشے صرف  تھرڈ کلاس فلموں میں ہوا کرتے ہیں۔ 
نکل  کر دیر  و کعبہ سے اگر  ملتا نہ دیوانِ غالب
تو ٹھکرائے ہوئے انسان  خدا  جانے کہاں جاتے
خدا  تو عرش  پہ رہتا ہے اس لیے دنیا میں ٹھکرائے ہوئے  ،  دھتکارے ہوئے  ، پھٹکارے ہوئے  گناہگاروں  جنہیں موت بھی   قبول کرنے سے انکاری ہو ،  کیلئے  جائے پناہ  دیوانِ غالب  ہی ہے ۔ استاد  محترم  خان بہادر  مرزا  اسد  اللہ  خان غالب ؔ مل گئے۔  اور   چھاپ  تلک  چھین  لیے موسے نیناں ملائی  کے ۔نہ صرف سر پہ ہاتھ پھیرا ، بلکہ سر اٹھا کے جینا سکھایا۔ دیوانِ غالبؔ سے  نہ صرف نئی   زندگی  ملی بلکہ  نیا  ایقان وایمان  بھی  حقیقت  میں یہیں سے پایا۔غالب نے فرمایا  
" شمع ہر رنگ میں جلتی  ہے سحر ہونے تک"۔
بیٹا زندگی کو ایک چیلنج سمجھ کر جیو، اور درد سے مت گھبراؤ بلکہ یقین کر لو کہ حد سے گزر کے درد خود دوا ہو جاتا ہے، رنج سے خو گر ہو انسان تو مٹ جاتا ہے رنج، نہ ستائش کی تمنا رکھو ، نہ صلے کی پرواہ کرو ، اشعار میں معنیٰ نہیں ہے تو نہ سہی۔ہر چند کہ عمر ہے برق خرام ، مگر اسے دل کے خون کرنے کیلئے غنیمت موقع جانو۔ 
بیا کہ قاعدہ آسماں بگردانیم
(آ ، کہ ہم آسمان کا دستور بدل ڈالیں)۔
اب  تک زندگی  سے  نفرت تھی  ،  اور  دنیا  سے نفرت تھی ۔  دیوانِ غالب  کاآئینہ دیکھا     تو اپنے  آپ  سے  بھی  نفرت ہو گئی ۔  استاد  جی  نے فرمایا :۔ " سنو  چھوٹے  میاں !  عالم  دو ہیں ۔ عالمِ ارواح  اور  عالمِ اجسام۔  خالق دونوں عالموں کا  وہی  ہے جو  رب العالمین  ہے ۔  قاعدہ  یہ ہے  کہ  اس  عالم کے  گناہگار  ،  اُس  عالم میں سزا پانے  جاتے  ہیں ۔ اور اُس عالم کے گناہگار  اِس عالم میں   سزا بھگتنے  کو بھیجے جاتے  ہیں"۔
ڈبویا مجھ کو ہونے نے ، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
تارے گننا  عاشقوں  کو مبارک رہے ۔  جوگی  نے سانس شماری  کا شغل  اپنا لیا ۔ لوگ زندگی گزارتے ہیں، لیکن زندگی جوگی کو گزار رہی ہے بے چاری ۔۔۔۔۔
نظرمیں  ہے ہماری  جادہ ِٔ راہِ  فنا  غالب
رہائی  کی امید  میں جوگی نے  تیس  سال  گزار دئیے ہیں ۔  دیکھئے  کب  رہائی  کا حکم ہو  اور  جوگی   کندھے  پہ لدی  لاش مٹی  کے حوالے کر کے   یہاں  سے  دفع ہو جائے  ۔ خس کم جہاں  پاک۔
رو  میں ہے رخشِ عمر  کہاں  دیکھئے  تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے  نہ پا ہے رکاب میں       

Saturday, 18 January 2014

یارانِ نکتہ داں (قسط چہارم) ملک حبیب اللہ

9 آرا

پرانے زمانے  کے اصلی سیانے کہا کرتے تھے  کہ  نام  کا انسان  کی شخصیت پر  بہت اثر پڑتا ہے ۔ اس  لیے سوچ سمجھ کرایسے   نام رکھے جائیں جن  کے اعداد اور  اثرات  انسان کے غالب  عناصر  کی خصوصیات  سے  ملتے جلتے ہوں ۔ بے  شک شیکسپئر  نے کہا تھا کہ  "نام میں کیا رکھا  ہے۔" مگر  اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ شیکسپئر   کا  کہنا یونیورسل  ٹروتھ ہو گیا ۔  وہ  بھی تو انسان تھا اس   نے چول  کیاہانک دی مغرب زدہ  یاروں  نے عقیدت  سے  رٹا مار لیا۔  فدوی کا ماننا ہے کہ نام میں بہت کچھ رکھا ہوتا ہے ۔  علم الاعداد والے  تو مجھ سے متفق ہو جاتے ہیں مگر   قاضی، ملا   ں متی  دینے  سے  باز نہیں آتے ۔۔۔
ماحولیات  والے گروہ  کا کہنا ہے  کہ  انسان  کی شخصیت کی تعمیر  میں  ماحول  بھی بہت زیادہ  اثر انداز ہوتا  ہے ۔  جینیاتی سائنس  والے  کہتے ہیں کہ   ڈی این اے ایک مکمل دستاویز  ہے جس میں انسان کا آدم ؑ تک ماضی  ، حال اور مستقبل  کی تمام ممکنہ پشتوں تک  کی تفصیل  خالق نے  تخلیق کے وقت درج کر دی ہے ۔ آسان لفظوں  میں کہا جائے تو   "عاقبتِ گرگ زادہ   گرگ "ہونا  کوئی انہونی نہیں بلکہ ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔  گلاب  کی قلم سے   کیکر  پھوٹنے سے تو رہا ،  ظاہر ہے گلاب  ہی   پھوٹے گا۔  آم  کی گٹھلی  سے آم کا پودا اُگنے پر  حیرانی  کا  اظہار کرنے والا احمق   نہیں تو کیا ہے۔

یادگار ِغالب لکھتے وقت  حالی ؔ  کو یہ  مشکل پیش نہیں آئی ہوگی   کیونکہ غالب  ؔ کے آباءو اجدا د  میں سے  سوائے     چنگیز  ، ہلاکواور تیمور  جیسے فاتحین اور سپہ گروں  کے  کوئی  قابلِ ذکر  شاعر یا  ایسا بلند کردار اور عالی  اخلاق عظیم  انسان   نہ گزرا  تھا ۔   آگرہ  کی  فخریہ  پیشکش   غالب  کے علاوہ   ایک  جہانگیر  ہی تھا ۔سونے پہ  سہاگہ  غالب  بے استادے بھی تھے ۔ پس  حالی ؔ نے استاد کو تلمیذ الرحمن  کہہ  کر  غالبیات  کی  پچ  پر  خوب دھواں دھار بیٹنگ کی ۔  لیکن حالی ؔ اگر  آج  زندہ  ہوتے  اور  ان کو  شفقت  امانت  علی  خان  پر لکھنا  پڑ جاتا  تو آٹے دال  کا  بھاؤ معلوم ہوجاتا ۔  میں  دیکھتا  کہ  استاد  امانت  علی  خان  اور اسد  امانت علی  خان  کے  گھرانے  کے  بچے  شفقت امانت  علی  خان  پر  وہ  کیسے  لکھتے ۔  حالی تو  زندہ  نہیں مگر  ان  کے گدی  نشین  کو  آج  و  ہی مشکل  در پیش  ہے ۔
پوچھتے ہیں وہ  کہ غالب ؔکون ہے
کوئی  بتلاؤ  کہ ہم بتلائیں کیا۔۔۔؟
 اگر  نام  کے حوالے  سے دیکھا جائے تو اسم  بامسمیٰ  ہیں۔  علاقے  کا پانی  اور ماحول دیکھا جائے تو  وہ علاقہ  ہی  مردم  خیز  ہے ۔ایک سے بڑھ کر  ایک  صاحب  کمال  اس  علاقہ  کے دانہ  پانی سے تعمیر  ہوا ۔  آباء  و اجداد  کا ذکر  ہوتو  ایں  ہمہ  خانہ آفتاب است  ۔  اور یہی فدوی  کو حیرانی ہے کہ ملک حبیب اللہ    کی  تعریف  کرنے  کیلئے کونسا  پہلو منتخب  کرے ۔  کس  زاویے  سے  دیکھے جہاں سے  ذکر کرنے پر  ان کی اپنی ذات  نظر  آ سکے ۔ سمجھ نہیں آتی  کہ ان پر  نام کا اثر  زیادہ ہے ۔ یا علاقے  اور ماحول کا اثر  غالب  ہے یا پھر  آباواجداد   سے  ملنے والےجینیاتی  ورثہ  کارنگ  زیادہ ہے ۔ جس پہلو سے جانچتا  ہوں وہی  پہلو  مکمل  ہے ۔ صرف نام  ہی حبیب نہیں یہ سر سے پیر تک  اور اقوال  سے  افعال  تک  سراسر  حبیب  ہیں۔ چوآسیدن  شاہ   آبائی  علاقہ  ہے ۔   جس کے تعارف کیلئے صرف نام ہی کافی  ہے ۔   اچھا بھئی شاعر   بھی ہیں  اور  اچھے شاعر ہیں۔  لیکن آباء و اجداد  میں کئی پشتوں تک    شاعر  ہی شاعر  ہیں۔ اور   کلام گواہ ہے  کہ  کس پائے  کے شاعر  ہیں۔ سونے پہ سہاگہ  ان  کی نسبت موہڑہ شریف  (مری)۔یعنی  ان  کے خلوص و محبت  کے گن گانے کا  موقع  ہے  نہ  ان کے اعلیٰ اخلاق  و کردار کے  بیان  کے سہارے  خانہ پری  کی  جا سکتی ہے ۔ 
مرزا  غالب  کا  ایک  نہیں کئی شعر  ان کی  شخصیت پر پورے اترتے  ہیں۔مثلاً 
تازہ  نہیں ہے  نشۂِ فکر سخن  مجھے
تریاکیِ   قدیم  ہوں دودِ  چراغ کا
اور  مرزا  کا  آبا ء والا   شعر  تو جیسے  انہی کیلئے لکھا گیا ہو۔
 سو پشت  سے ہے پیشہ ِٔ آباء سپہ گری
 کچھ شاعری  ذریعہ  عزت  نہیں مجھے
خیر  سے  میر ببر علی انیس  کا  فرمایا  بھی  ان کے  حق   میں پورا  اترتا ہے ۔ 
پانچویں  پشت ہے  شبیر  کی مداحی میں
عمر  گزری ہے  اسی  دشت  کی  سیاحی میں
    لیکن   جیسا  کہ  میں نے   پہلی  قسط  میں کہا  تھا  کہ  یہ تحریر  میں  اپنے  خاص انداز  سے  ہٹ  کر  سیدھے  سادے  طریقے  سے  لکھوں گا  ۔   (تھوڑا  بہت  ادب جھاڑنے کی  ناکام   کوشش     صرف ملک  حبیب   کے لحاظ  میں  کی گئی ہے ) اب تکلف  برطرف اور   سیدھی  طرح  قصہ سنیے۔۔۔۔

فیس  بک پر  ایک علی  جاوید  چیمہ  صاحب تھے۔   مجھے فرینڈ لسٹ  میں رکھتے  تھے اور اسی  لسٹ میں ملک حبیب اللہ صاحب بھی پائے جاتے تھے ۔اللہ  چیمہ  صاحب کو جزا  دے  کہ  میرے دل  کے چوتھے  خانے  کی   آبادی  کا  بہانہ بن گئے ۔ان کی   ایک  پوسٹ پر  کمنٹس  کے دوران ملک  صاحب سے پہلی بار آمنا سامنا  ہوا  ۔ہوا یوں کہ چیمہ صاحب نے غالب  کا  شعر  سٹیٹس پر لکھا  تو  میں نے ملنگوں  کے انداز  میں داد و تحسین  کےموسلا  دھار ڈونگرے برسائے  ۔اس پر  ملک  صاحب کا  کمنٹ  آیا جس میں کنٹرول کرنے کا  قیمتی مشورہ  لپٹا  ہوا  تھا۔  میری  غالبانہ حس  کوذرا  ناگوار  گزرا  کہ  بھئی "جب دیر  نہیں ،در نہیں،حرم نہیں آستاں  نہیں۔  بیٹھے ہیں  فیس بک  پہ ہم  کوئی ہمیں چپ کرائے  کیوں۔"کچھ اس  زعم  میں اور  کچھ  ان کو بے ذوق  سمجھ کرجواباً میں نے  داغ  کا  شعر    بطور کمنٹ داغ دیا۔
لطفِ مے کہوں تجھ سے کیا زاہد
ہائے کمبخت  !! تو  نے پی ہی نہیں
ملک  صاحب  نے  جواباً ایک  ذاتی  شعر  کے  ذریعے  تعلی کا  اظہار فرماتے  ہوئے واضح  کیا  کہ  میرے  پیالے  میں  بہت  سی ہستیوں (اساتذہ شعرا)کے  تبرک  میں  سے  ملی شراب  ہے ۔  اس  وقت تومیں نے اسے   محض "پدرم سلطان بود "قسم کی گپ  سمجھ کر درخور اعتنا  نہ  جانا۔لیکن  لوح ِ محفوظ  پر  ہماری  دوستی اللہ نے  روزِ ازل  سے  ہی  لکھ  رکھی  تھی  اس سے مفر  ممکن نہ تھا ۔ان کی  پیشہ ورانہ مصروفیات   کا وقت  بھی   آدھی رات سے شروع ہوتا  اور مجھے  بھی الو  کی طرح  ساری رات  نیند  نہیں آتی تھی ۔   یہ سب  عوامل  ہمارے میل جول    کی سازش  کرنے لگے۔  حالات و واقعات  کچھ ایسی ترتیب  سے وقوع  پذیر ہوئے  کہ  پطرس  کے  مضمون  "کتے"والا   منظربے  اختیار  یاد آجاتا  ہے ۔ بطور سند  اس  کا اقتباس بھی  پیش  ہے۔ تاکہ  کمزور  یاداشت والے  حضرات  بھی  بخوبی  لطف اندوز  ہو سکیں۔
اقتباس  
"کل ہی کی بات ہے کہ رات کے کوئی گیارہ بجے ایک کتے کی طبیعت جو ذرا گدگدائی تو انہوں نے باہر سڑک پر آ کر طرح کا ایک مصرع دے دیا۔ ایک آدھ منٹ کے بعد سامنے کے بنگلے میں ایک کتے نے مطلع عرض کر دیا۔ اب جناب ایک کہنہ مشق استاد کو جو غصہ آیا، ایک حلوائی کے چولہے میں سے باہر لپکے اور بھنا کے پوری غزل مقطع تک کہہ گئے۔ اس پر شمال مشرق کی طرف ایک قدر شناس کتے نے زوروں کی داد دی۔ اب تو حضرت وہ مشاعرہ گرم ہوا کہ کچھ نہ پوچھئے، کم بخت بعض تو دو غزلے سہ غزلے لکھ لائے تھے۔ کئی ایک نے فی البدیہہ قصیدے کے قصیدے پڑھ ڈالے، وہ ہنگامہ گرم ہوا کہ ٹھنڈا ہونے میں نہ آتا تھا"۔
   مگریہ  کل کی نہیں دو سال  پہلے کی  بات ہے ۔  ایک رات   کوئی  ساڑھے  بارہ  بجے چیمہ  صاحب  کی طبیعت جو ذرا گدگدائی تو انہوں نے   فیس بک  پر  آ کر ایک  شعر  اپنے  سٹیٹس  پر  پوسٹ کیا   ۔میری فی البدیہہ  والی  رگ پھڑکی  تو  میں نے  نیچے   (کمنٹ  بکس  میں) اسی    بحر اور قافیے  کا  شعر  تازہ  بتازہ گھڑ  کرعرض کردیا۔اس پرشمال مشرق کی طرف اُس قدر شناس  نے  زوروں کی داد دی(چیمہ صاحب  وزیر  آباد  سے  تھے جوکہ  پنجاب کاشمال  مشرقی شہر  ہے)اور داد کے ساتھ ساتھ  ایک  اور   تازہ  شعربھی  گھڑاڈالا۔۔۔   اسی وقت   کہنہ  مشق  استاد والی  خالی اسامی  کو پر کرنے  کیلئے  ملک حبیب اللہ صاحب میدان میں کود ے   اور  بھنا  کے  ایک   فی البدیہہ شعر  اسی  طرح  میں کہہ  دیا۔اب تو حضرات وہ مشاعرہ گرم ہوا کہ  ٹھنڈا ہونے میں نہ آتا تھا۔افسوس کوئی سگھڑ بی بی موقع ِ واردات  پر موجود  نہ تھیں ورنہ   دو چار  روٹیاں ہی ڈال  لیتیں۔ 
 اس     فی البدیہہ طرحی مشاعرے  میں سے اختتامی شعر تبرکاً عرض  ہے ۔
 مرقدِ عشق  پہ کب تک رویا جائے
رات  بہت ہو چکی  ،اب سویا  جائے
اگلےدن   پھر  کسی پوسٹ پر  ملاقات ہو گئی  ۔اجنبیت  کی  دیوار تو  ہم دونوں پچھلی  رات   ہی یاجوج  ماجوج  کی  طرح چاٹ چاٹ کر  ختم  کر   چکے تھے ۔ (حالانکہ  یہ محض ایک فرضی  اور من گھڑت  مفروضہ  ہے جو جدید تحقیق  کی روشنی  میں ہر پہلو  سے غلط ثابت ہو چکا ہے )لہذا  تقدیر  کےاس جوڑ  توڑ  کا  نتیجہ  ہماری دوستی  کی صورت میں ہی برآمد  ہوا۔اس  کے بعد  یہ  میری فرینڈ  لسٹ سے تلکے (پھسلے)اور سیدھاجی    میل کے  ان   بکس میں آن ٹپکے۔ لیکن  اپنی  بھٹکتی  آتما  جیسی فطرت سے مجبوروہاں  ٹک کے بیٹھنے کی  بجائے  کبھی سکائپ   پر  دعوتِ گپ دیتے  کبھی   جی ٹاک پر  آنے کو للکارتے ۔جی  تو بہت چاہا  کہ  پوچھوں :۔ اے بندہ  ِٔ ناداں  تجھے مسئلہ کیا ہے ۔۔۔؟؟؟ حیران بھی  تھا کہ     اس  کو کیسے  سمجھاؤں   کہ   اے  راولپنڈی  جیسے  بڑے شہر میں بیٹھ کر  ڈی ایس ایل  کے  مزے  چکھنے  والے!!تم  ایک  پینڈو کا دکھ  کیا جانو۔ تمہیں کیا  معلوم  اس قطرے(پینڈو)پہ  کیا گزرتی  ہے  انٹرنیٹ کے سیپ میں  گہر  ہونے  تک ۔  کاش  تم  دیکھ  سکتے کہ  دام ہر موج میں  ہے  حلقۂِ صد کام  ِنہنگ۔۔۔۔  مگر  افسو س غالبانہ  تکلم  کا  مزہ  محسوس  کرنے  کیلئے  کچھ خاص  قسم کے ریسیپٹر ز  کی  ضرورت ہوتی ہے ۔ ورنہ آج ہر  بندہ  دیوان ِغالب کا نشئی  نہ ہوتا۔  نتیجتاًاب  حال  یہ  تھا  کہ  نہ سمجھا جائے    ہے اس سے  نہ سمجھایا جائے ہے مجھ سے ۔
 ابھی  میں اسی  مخمصے میں ہی تھا  کہ  حضرت نے  شیخ مجیب  الرحمن  کے چھ نکات  کی  طرز  پہ  چند نکات  پیش کر دئیے ۔  میں ذوالفقار  علی  بھٹو بھی  نہ  تھا (کاش  ہوتا،  مفت  میں شہید  تو کہلاتا)اس  لیے  "ادھر  تم ، ادھر  ہم " والا  نعرہ  بھی  نہ لگا پایا ۔بنگالیوں کو  تو  نیم خود  مختاری  بھی  نہ دی  گئی تھی  البتہ  فدوی  نے   چکوالیوں  کا مطالبہ  منظور کر کے  اپنا   فون  نمبر  دے دیا ۔  بدقسمتی  سے  حضرت ٹیلی  ناروی  نکلے ، جن کو منہ لگانا  (کال  یا میسج کرنا)میں کسرِ شان  سمجھتا ہوں۔  اس  لیے ان کا فون نمبر  محفوظ ہی  نہ  کیا۔ اسی  بات  پہ  اچھا  خاصا  ڈرامہ  بن گیا  جسے  حبیب  میاں آج بھی  بطور  ترپ کاطعنہ  استعمال  کیا کرتے ہیں۔
نمبر  تو  محفوظ  نہیں تھا  اس  لیے  جب ان کی کال آئی   تو  ظاہر  ہے  نہ  میرا موبائل نجومی تھا   نہ  میں    بزرگی کا  دعویدار۔ دوسری وجہ  یہ  کہ  فدوی   ان انجان  لوگوں سے  پک  چکا  تھا  جو  نہ  جان نہ پہچان  بس  فدوی  کی  گپ  بیانی  سے  لطف اندوز ی  کے چکر  میں کالز  کرتے رہتے ہیں۔  تیسری وجہ  انہوں نے مجھے  "شاہ جی" کہہ کے مخاطب  کر دیا ۔ اس  لفظ سے  مخاطب  کیے جانے سے  مجھے اتنی  ہی چڑ ہے  جتنی   بابا بھلے شاہ صاحب کو  بھی تھی   "جیہڑا  سانوں  سید آکھے دوزخ ملے  سزائیاں۔" بس  جب کوئی ناعاقبت اندیش   مجھے شاہ  جی  کہہ کر  انجانے  میں دوزخ کا کوئی  کنواں الاٹ کروانے پر  تل  جائے   تو  ردعمل  کیا  ہونا  چاہیے تھا۔؟   اس  سب وضاحت  کے بعد  (جس  کی یقیناً ملک  حبیب صاحب  کو سمجھ  نہیں آئی  ہوگی )آپ سب ہی فیصلہ کریں ۔۔۔۔۔ 
کال  آئی میں نے بادل  نخواستہ  اٹینڈ بھی کر لی ۔ 
ہیلو۔۔۔
 جوابی ) ہیلو۔۔۔)
شاہ  جی  !سُتّے  او۔۔۔؟؟
کال  کٹ کر دی  گئی ۔  
 فدوی  کے  دماغ  نے  کہا  اول تو شاہ  جی کا تخاطب ، دوم  یہ  کہ نہ  تعارف کا تکلف نہ  سلام علیک  چھوٹتے ہی   "سُتّے او۔۔۔؟"یہ بھی  کوئی خواہ مخواہ  سرکھانے  کا شوقین  لگتا ہے ۔  آپ  ہی بتائیے ۔۔۔کہ  ایک بندے نے  موبائل  کے اتنے  بٹنوں  میں سے  سبز  بٹن ہی دبا کر  موبائل  کان سے لگایا ،  اور پھر  ہیلو  کے  جواب  میں ہیلو  سے  بھی نوازا ۔  اس  کے بعد   بھی  پوچھا  جائے  کہ "سو رہے  ہو؟"یہ سادگی کی  انتہاہے  یا ظلم  کی ۔۔۔۔؟؟؟؟صرف یہی کیوں  بلکہ  "شاہ  جی" نامی پٹرول کا گیلن پہلے چھڑک کر  کوئی "سُتّے  او۔۔۔؟؟" کی  تیلی  لگا دے  تو  کوئی  معجزہ  ہی  آگ  لگنے سے  محفوظ رکھ  سکتا ہے ۔ جبکہ معجزہ  صرف انبیا ء علیہ  السلام سے ہی  مخصوص ہے   ۔اور فدوی ٹھہرا  گناہگار  بندہ  بشر۔۔۔۔       

خیرجب    رات  گئی   توبات  بھی  اسی  کے ساتھ  گئی ۔۔۔۔ اب تو  ماشاءاللہ  ملک  صاحب سے  گھنٹوں  گھنٹوں مغز ماری  ہوتی  رہتی ہے ۔ مجھ  ناکس و ناچیز سے  بات  کرکے   پتا  نہیں  ان کو کتنی  نفلوں  کا   ثواب ہوتا ہے  مگر  میں تو یہ سوچ کر  صبر  کر لیتا ہوں  کہ  شاید اسی  بہانے  اللہ نے  میرے گناہ  بخشنے  ہوں ۔ حق  بات  کا چھپانا  کسی  طور  مناسب  نہیں اور  حق بات  یہ ہے  کہ موصوف   بے حد  باغ  و بہار قسم  کی شخصیت ہیں۔  لیکن ان کی لن ترانیوں سے  لطف  اندوز  ہونے کیلئے  لازم  ہے کہ   بندے میں  شاعرانہ ذوق   ہو ۔قارئین  میں سے  بھی  بہت سوں  کو  گپ  باز  ہونے  کی  خوش فہمی ہو گی ۔  بہت سے گپ بازوں سے آپ کی ملاقات ہو گی ۔  مگر   آپ  میں سے  کسی   نے  ایساپر خلوص  گپ باز  نہ دیکھا ہوگا جو  پلے  سے  بیلنس  بھیج کر  گپیں لڑائے ۔    ایک عرصہ تک  چھوٹا غالب  ؔ بھی  اس زعم  میں غلطاں  رہا  کہ " آج مجھ سا نہیں زمانے  میں ۔۔۔  نغز  گوئے  و  گپ  باز"(غالب  سے معذرت  کے ساتھ ) لیکن  جب سے ملک حبیب صاحب سے پالا پڑا ہے   تب سے  فدوی ڈنکے کی چوٹ پر  کان  پکڑ کے  عاجزی  سے اقرار  کرتا ہے کہ:۔
گپ بازی  کے تمہی استاد  نہیں ہو چھوٹے  غالبؔ
کہتے ہیں اپر  پنجاب میں کوئی  حبیب  بھی  تھا۔۔۔!!  

Thursday, 16 January 2014

جاتے ہیں وہی جن کو سرکار ﷺ بلاتے ہیں

6 آرا


بھیڑ بکریوں  کا ایک ریوڑ  راستے میں روک لیا گیا۔  خلیفۃ  المسلمین  کی خاص ہدایت پر پورے  ریوڑ  کی تلاشی لی جا رہی  ہے ۔ ایک ایک بھیڑ  ایک ایک بکری  کو ٹٹول کے دیکھا جا رہا ہے ۔ اور  آخر  کار  ایک بھیڑ کی کھال میں سے  ایک  خستہ حال  ، نحیف  و  نزار  انسان برآمد ہو ہی گیا ۔  تلاش کا مقصد پورا ہوتے ہی  ریوڑ  سمیت چرواہوں کو جانے کی اجازت  دے  گئی ۔ البتہ  اس خستہ حال  سے کہا گیا  کہ آپ کو  مدینہ منورہ  کی حدود  میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ۔  ہر طرح  کے منت ترلوں کا ایک ہی جواب تھا کہ ہم امیر المومنین کے حکم کے آگے بے بس ہیں ، اور امیر المومنین   بھی  اس معاملے میں اس حکم کے  آگے بے بس ہیں ، جو انہیں خواب میں سرکارِ  دو عالم  صلی اللہ علیہ وآلہٖ  وسلم  نے دیا ہے  کہ  اویس آ رہا  ہے ۔ اسے روکا جائے  اور مدینہ منورہ  میں داخل نہ ہونے دیا جائے ۔

اسی  طرح  کے  اور بھی کئی واقعات  سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔  کہیں جامی  ؒ  تنم  فرسودہ  جاں پارہ زِ ہجراں  یا رسول اللہ  ﷺ پکارتے  ملتے  ہیں لیکن پھر بھی حکم ہے کہ  جامی  نہ آنے پائے ۔ صرف  تاریخ ہی کیوں  حال  کا ہی حال سنیے

ایک  خاتون  ہیں ،  5  بچوں کی اماں جان ہیں ، 4 کو  اپنے  گھر بار کا کر چکی ہیں ، پانچواں بدعتی  نکلا  اور جوگی  ہو  گیا ۔ایک  عرصے  سے ان  کی خواہش  ہے کہ  کم از کم ایک بار   اس در  سے  ہو آئیں  جہاں  حاضری صرف نصیب والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے ۔ اب  وہ پرانا زمانہ تو نہیں رہا کہ اٹھے اور چل دئیے  اور حاضری دے کر  لوٹ آئے ۔ اب تو  محبوب نے دربان رکھ لیے ہیں۔  اور آمد رفت کے  قواعد  ظالم  سماج  اور ولن  کا کردار  ادا کر رہے  ہیں۔ چلیے  جی نوکر  کی تے نخرہ کی ۔  قواعد  کے مطابق  ہی سہی ،  کیا فرض ہے  کہ سب کو ملے ایک سا جواب۔  

پاسپورٹ کیلئے ضروری ہے کہ  کمپیوٹرائزڈ  شناختی کارڈ ہو ۔  کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ بن گیا ہے ۔ اب معلوم ہوا  کہ تصویر والا شناختی کارڈ ہونا لازمی ہے ۔  پھر  درخواست دی جاتی ہے ، حسبِ ضابطہ  تمام امور بخوبی انجام پا جاتے ہیں۔ مگر  جب شناختی کارڈ آتا ہے تو اس پر  حسبِ سابق تصویر نہیں ہے۔  چھوٹی بہن  اور دو چار اور خواتین عمرے  کیلئے جا رہی ہیں ، اور وہ  چاہتی  ہین کہ بڑی بہن کا بھی  پاسپورٹ  بن جائے تو انہیں بھی ساتھ  لیے چلتے ہیں۔ ایک  بار پھر کوشش  کی جاتی ہے ۔ اس بار  نادرا  کا  دفتر  ہی  اس چھوٹے سے گاؤں  میں بلوا لیا جاتا  ہے ۔   تین دن تک  آس پاس  کے علاقوں  کے لوگ  اس سنہری موقع سے فائدہ  اٹھاتے اور اس بی بی کو دعائیں دیتے رہے  جس کی وجہ سے  انہیں شہر  جانے اور پھر  لائن لگنے  کی کوفت سے  عافیت  نصیب ہوئی ۔   مقررہ مدت  کے بعد شناختی  کارڈ آ جاتا ہے مگر  تصویر اس بار  بھی نہیں ہے ۔ 
جزبز ہوتے ہوئے  جوگی  صاحب  نادرا  کے  ضلعی دفتر میں جا گھستے ہیں ، اور  سیکورٹی  گارڈ بیچارا   ایک ہی دھکے میں پاسے ہو گیا ۔ سیدھا  مینیجر کے سر پر نازل ہو گئے  ، اور جیسا  کہ ان کی عادت ہے دفتر سر پہ اٹھا لیا ۔  گلے پڑتا دیکھ کر  منیجر کو  جان چھرانی مشکل ہو گئی  اور اس نے  صرف  تصویر  دینے کا  کہہ کر  جان چھڑائی  کہ  صرف امیج اپ ڈیٹ  کر دیں گے باقی سب تو اوکے ہے ۔  اور جب شناختی کارڈ آیا  تو  حسبِ سابق تصویر پھر نہیں تھی۔ 

جنہوں نے جانا تھا وہ چلے گئے  ، اور پھر  واپس بھی آ گئے  ،  خاتون  حسرت زدہ    مبارک بادیں ہی دیتی رہ گئیں ۔ ایک بار پھر غلغلہ  اٹھا ، بڑی بڑی سفارشیں ڈھونڈی  گئیں ، اور  انتہائی  سخت تاکید کی گئی  کہ اس بار  شناختی کارڈ  مکمل ہونا چاہیے ۔ مگر بھولے لوگوں کو یہ سمجھ کہاں کہ  منظوری  کہیں اور سے ملتی ہے ۔ یہ نادرا ڈیٹا بیس  پر بیٹھے  نتھو پھتو  کس باغ کی مولی ہیں بھلا ۔ حسبِ  سابق  کارڈ ایک بار پھر  بغیر  تصویر  کے آیا ۔  نادرا کے کیمرے  نجانے خاتون کے نورانی  چہرے  کو دیکھ کر چندھیا جاتے ہیں ، یا  کوئی  اور  رولا  ہے۔ جوگی  نے کہا  :۔"یہ عجیب الٹ پھیر  ہے ،  ایک  اویس  اپنی اماں کی کی خدمت  میں ہمہ تن مصروف  رہنے کی   وجہ  سے  زیارت  ِ جاناں سے محروم  رہے  اور  ایک  اویس  کے  گناہ اپنی  ماں  کی زیارتِ  در رسول ﷺ سے  محرومی کا  باعث بنے ہوئے ہیں"۔

جسے چاہا در پہ بلا لیا  ، جسے چاہا  اپنا بنا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے ، یہ بڑے نصیب  کی بات ہے

اور  پھر کرم  ہو گیا  ایک  اور ماں پر  ، حسنِ اتفاق ملاحظہ ہو  ، ان کے بھی پانچ بچے ہیں۔   31  دسمبر  کو  خوش نصیب   جھومتے  جھامتے  درِ  حبیب  پہ  حاضری کے تصور  سے  شاداں و فرحاں   روانہ ہوئیں  ۔  ان  کے جانے کے بعد ایک اور  عجیب حقیقت منکشف ہوئی  کہ  کسی کے وسیلے  سے برکت  کا حصول کوئی گپ یا کسی  کا ضعفِ اعتقاد نہیں ، بلکہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ 
اول تو  خیر  مجھے  کوئی پڑھنے  کی ہمت نہیں رکھتا  یا یوں کہہ لیں کہ مجھے پڑھنے کا قابل نہیں سمجھتا ، لیکن ان کے جانے کے بعد  ایسا محسوس ہوا  کہ جیسے میرا "ڈیرہ" انٹرنیٹ کے انٹارکٹکا پر واقع  ہو  ، جس پر کسی کا آنا تو دور  اسے  دنیا کے  نقشے پر بھی ظاہر نہیں کیا جاتا ۔   اور  وہ جو  روزانہ  کے  کم از کم 300 نکتہ  داں  آمدورفت رکھتے تھے  اچانک  جیسے  جوگی کے ڈیرے کا راستہ بھول گئے ۔  دو تین دن  تو مارے حیرانی  کے میں سوچتا رہا  کہ  کیسا کمال ہے  کہ  ایک  برابر ہیں  تین سو  کے ۔ وہ ایک نہیں تو  صفر  بھی  غائب ،  اور وہ ایک ہوں  تو آمدو رفت کا گراف  بلندیوں پر ۔ایک شخص سارے  انٹر نیٹ کو ویران کر گیا 

اب  اس حقیقت  سے  مجھے کوئی انکار نہیں کہ ہر  کامیاب  مرد کے پیچھے  کسی خاتون  کا ہی ہاتھ ہوتا ہے ۔ میرا  لکھنا ہو  یا کسی کا مجھے پڑھنا  ،  سب کا سب ایک خاتون کے دم سے ہے ۔  اس سب کا کریڈٹ انہیں جاتا ہے ۔  وہ ہیں تو رونق ہے وہ نہیں تو بحرِ ظلمات ہے۔
اللہ  نے انہیں عمرے  کی سعادت  عطا فرمائی  اور  اسی  بہانے  مجھ پر یہ حقیقت آشکار فرمائی  کہ  وہ میرے لیے کس قدر سعد ہیں،  خاکسار  جوگی اور ڈیرے  کی جانب سے خاتونِ معظم  کو  یہ خوش بختی  ، اور عمرے  کی برکتیں  اور مدینہ منورہ  کی زیارت  کی خوشیاں بہت بہت مبارک ہوں ۔
نغمہ کجا و  من کجا ، سازِسخن بہانہ ایست
سوئے قطار می کشم ناقۂ بے زمام را     

Friday, 10 January 2014

یارانِ نکتہ داں (قسط سوم) مبین افضل قادری

2 آرا
مبین افضل قادری

مرزا غالب ؔ کو تا زندگی یہی افسوس رہا کہ سچے موتیوں سے بھی زیادہ قیمتی  ان  کے کلام کا کوئی قدر دان نہیں ہے ۔  پھر  اللہ نے  منشی نبی بخش حقیرؔ  صاحب  سے ان کی  ملاقات کروائی ۔اور  منشی صاحب اپنی  سخن فہمی کی بدولت  غالب ؔ کے بہترین دوست ہو گئے ۔ غالبیات سے دلچسپی رکھنے والے جانتے ہیں کہ غالب منشی  صاحب کی دوستی کا کتنا دم بھرتے تھے ۔
چھوٹے غالب ؔ کے  بھی  اب  فیس  بک پر  کافی  سارے دوست تھے لیکن منشی  نبی بخش  صاحب جیسا  کوئی دوست نہ تھا  جسے حقیقی  سخن فہم   کہا  جا سکتا۔پھر  قدرت  نے  چھوٹے غالب ؔ کو  نئے زمانے کے منشی نبی بخش  سے  ملوایا۔  جن کا نام  اس زمانے  میں مبین افضل  قادری ہے ۔  حیرت  انگیز  بات یہ کہ جناب کا تعلق بھی  فیصل آباد  سے ہے ۔ حیرت انگیز  اس لیے  کہ میرے دوستوں کی اکثریت  فیصل آبادی ہی تھی اور ہے ۔ میری بے کار زندگی  میں سے جو چند لائقِ ذکر سال  گزرے  ہیں وہ بھی اسی  روای ، چناب کے دو آبے میں گزرے ہیں۔   اور فطری طور پر  بھی میری لائل پوریوں سے گاڑھی چھنتی ہے ۔  قریب  کی مثال ارسل مبشر کا تعلق بھی تو فیصل آباد کے مردم خیز  علاقے  سے  ہے۔   اب اللہ نے منشی نبی بخش  دیا تو وہ بھی فیصل آباد سے۔۔۔۔شالا  وسدا  رہے  فیصل آباد۔

علامہ اقبال نے اپنی ساری  شاعری  میں جس صالح جوان  کا  خاکہ  بیان کیا ہے ۔ مثلا ً  " ہے  وہی جوان قبیلے کی آنکھ کا تارا۔" اور  " ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند۔" وغیرہ  وغیرہ   اسے  میں ہمیشہ علامہ اقبال  کی فینٹاسی  سمجھتا تھا ،  کہ آج کل کے زمانے میں ایسے صالح شاہین بچے  بھلا کہاں ملتے ہیں۔ لیکن  مبین افضل قادری کی صورت میں جب اس صالح جوان کو مجسم دیکھا تو حیرانی  اور خوشی  کے عالم میں اپنے دل کے تیسرے خانے  کی چابی  مبین افضل کے حوالے دی ،  جیسے  شیخ  نصیر الدین  عرف کالے  میاں  صاحب نے  اپنا مکان  مرزا  غالب  کو  بغیر  کرائے  کے رہنے  کیلئے دے دیا تھا۔
بے حد سلجھا  ہوا   اور  سلیم فطرت   نوجوان  ،  اس قدر صالحیت کہ جھوٹ اور افسانہ محسوس ہو ۔ وسیع المطالعہ ، بلندپرواز تخیل ، اور سب سے بڑھ کر  سخن فہم ۔ انداز تکلم ایسا  کہ بولتے   جائیں بولتے جائیں اور  سننے والے کو بوریت نہ ہو۔ ایسی خصوصیات  تو  خیر  اکثر  منافق قسم کے لوگ بھی اپنی اداکاری  کی بدولت اپنے  اندر لیے پھرتے ہیں ، جن سے اردو محفل پر  کئی بار واسطہ پڑا ۔  لیکن مبین  کی سب  سے بڑی خصوصیت اس کی شفافیت اور قول و فعل میں حیرت انگیز حد تک مطابقت ہے ۔بلکہ میرے خیال  میں یہ  باطنی  طور پر اور  بھی زیادہ پیارا ہے بہ نسبت اپنے ظاہر کے۔
میں سمجھتا تھا  کہ شاید  میں ہی   مبتلائے حیرت ہوں ، مگر  ایک خاتون کے کمنٹ  سے  اندازاہوا  کہ ایک  میں ہی  نہیں   ہر  شخص  دانتوں میں انگلی  دابے اس بوالعجبی پر  ٹک  ٹک دیدم  ، دم نہ کشیدم   کی تصویر  ہے کہ "ایسا  بھی  کوئی ہو سکتا ہے اس زمانے  میں۔" مبین کی ایک پوسٹ پر  ان کا کمنٹ پڑھ کر اتنی ہنسی آئی کہ  پوچھیے مت ۔ کمنٹ  ملاحظہ ہو :۔ " شکل سے تو آپ  مولوی  لگتے ہو ،  لیکن آپ کی پوسٹیں، آپ کے کمنٹس پڑھ کر  آپ کی بے حد سلجھی ہوئی سوچ  اور آپ کے اعلیٰ اخلاق  کی داد دینی پڑتی ہے۔"یہ ہے ہمارا حال ۔ ہم ہر   داڑھی والے کو مولوی اور ہر نابینا کو حافظ صاحب سمجھ لیتے ہیں۔  اس میں تو خیر کوئی مضائقہ  نہیں حد تو تب ہوتی ہے جب ہم فقہ  کے مسائل اور دین  کی اختلافی باریکیاں  ہر  ایک داڑھی والے کو  مفتی  اور علامہ سمجھ کر  پوچھنا شروع کر دیتے ہیں۔  صرف اسی پر  بس نہیں پھر  اس لال بجھکڑ  کے بتائے اٹکل پچو کو قرآن حدیث سمجھ کر  اپنا دین اور عقیدہ خراب کر لیتے ہیں۔ یہ تو خیر  ایک جملہ معترضہ تھا ۔
کافی عرصہ مبین اور  میں دوست رہے ۔  اور  جب  میری مبین سے چیٹ ہوتی تھی تو پھر  موہے  یاد نہ رہتا   تھا کوئے ۔  چھاپ تلک سب چھین لیتے  یہ موسے باتاں کرائی  کے ۔  تصوف ، ادب ، مابعد الطبعیات ، شاعری پر  ہی بس نہیں بلکہ مبین وہ  واحد دوست تھا جس کے ساتھ میں سیاست پر  تبادلہ خیال کر لیتا تھا ۔ایک بار گپ شپ کے دوران  ڈاکٹر ذاکر نائیک کا ذکر آ گیا ۔  تو گپ شپ  ایکسپریس  اس طرف چل  نکلی  ۔  جب  بات ڈاکٹر صاحب کے  اس  بیان  " کربلا  ایک سیاسی  جنگ تھی ، جسے  مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔" پر  آئی تو مبین نے ایک بہت ہی خوبصورت کمنٹ کیا ۔ بولا:۔  "ہمارے  ابا جی فرماتے  ہیں کہ اللہ  تعالیٰ جب کسی کو ذلت   ورسوائی دینا چاہتا ہے تو زمین پر اتر کر  اس کے سر میں ڈنڈا مارنے نہیں آتا ۔ بس اس کی سوچ  کا رخ اُلٹا کر دیتا ہے۔ "اس وقت  سے آج  تک  اس  بات  پر سر دھنتے  دھنتے  گردن  کی   ایسی  تیسی  ہو گئی  ہے  ۔اور مجھے یہ  زبردست بات تا زندگی شاید  بھول نہ پائے ۔

 شانی اور ارسل  کی طرح اگر  مبین افضل    کوئی پھل ہوتا تو یقیناً  یہ انجیر  ہوتا۔ بہت ہی خاص اور بہت ہی قیمتی پھل  ۔  جس کا  نہ صرف  ذائقہ  منفرد  ہوتا ہے بلکہ اس  کے فوائد  اتنے ہیں کہ  باقاعدہ  ایک کتاب اس پر  لکھی جا سکتی ہے ۔ اور یقیناً اللہ کے نزدیک بھی وہ پھل خاص  ہوگا تبھی تو اللہ نے قرآن میں اسے  اپنی قسم کے لائق سمجھا ۔انجیر بچپنے  سے  ہی میرا  پسندیدہ ترین رہا ہے ۔ اس کا سب سے منفرد  اور خاص الخاص کمال  اس  کے  ذائقے  کی بوقلمونی  ہے ۔ اکثرپھل  مختلف  علاقوں اور مختلف آب و ہوا  کے باعث  اپنے  ہی  ہم جنس پھل  سے مختلف  ذائقے کے ہو  تے ہیں۔مثلاً ایک  ہی  قسم کا  مالٹا  مختلف  علاقوں  میں مختلف  ذائقے  کا  ہوتا ہے ۔  آم  کی بذاتِ خود کئی  اقسام ہیں۔    مگر  انجیر  کا کمال  یہ  ہے  کہ ایک   ہی درخت  پر  لگنے والا  ہر  انجیر  تو  دور  صرف  ایک  انجیر  بھی  اپنے  اندر  مختلف  ذائقوں  کا  جہاں چھپائے  ہوتا ہے۔ تجربہ  کرنے کا دل کرے  تو  ایک  انجیر  کے  بالفرض  دس  برابر ٹکڑے کر لیں۔  پھر  ان ٹکڑوں   کو مختلف  اوقات  میں یا     ہر روز  ایک  ٹکڑا  کھائیں ۔  آپ  خود محسوس  کریں  گے کہ    وہی  ایک انجیر  آپ کو دس گھنٹوں میں دس  لذت آفرین اچھوتے   ذائقوں سے روشناس کرائے گا۔
انجیر  کی  ایک اور   حیرت انگیز  خصوصیت    اپنی  آنکھوں سے دیکھنی ہو  تو  ایک زندہ   سانپ  کو  کسی  مٹی کی ہنڈیا   یا   کسی  بھی برتن میں رکھ کر  انجیر  کے درخت کی جڑ  (تھوڑی  سی مقدار) کچل  کر   اس  ہنڈیا یا برتن میں ڈال دیں ۔اور ڈھانپ دیں۔  اگر  شیشے کا برتن ہو تو اور بھی بہتر ہے تاکہ  آپ  یہ حیرت انگیز  تماشا دیکھتے  ہوئے  خود  کو  قدیم  رومن  ایمفی  تھیٹر  میں محسوس کر سکیں۔سخت  جان  سے سخت جان  اور زہریلے سے زہریلا  سانپ  بھی  زیادہ  سے زیادہ  ایک گھنٹے  میں  تڑپ  تڑپ کر  مر جائے گا۔  لیکن سانپ کا مرنا کمال نہیں بلکہ کمال یہ ہے  کہ سانپ سکڑ کر  اپنی   جسامت  اور وزن سے  آدھا یا اس سے  بھی کم رہ جائے  گا۔  
  انجیر کا  ایک اور کمال یہ ہے  جو کہ دنیا کے کسی اور پھل یا چیز  میں نہیں کہ یہ پکنے کے بعد  محفوظ  صرف ایک ہی صورت میں کیا جاسکتا ہے ۔  انجیر  کو  پکنے کے کے بعد نہ تو ریفریجریٹر  زیادہ دیر تک  محفوظ کر سکتا ہے نہ ہی کوئی کیمیکل ۔  اسے صفر  سے  کم درجہ حرارت پربھی   محفوظ نہیں کیا جا سکتا ۔  واحد صورت صرف  خشک کر کے محفوظ کر نے کی ہے ۔

مبین افضل کا ایک خوبصورت بلاگ بھی ہے ۔ لیکن  شاید  بال بچوں کی ذمہ داریوں میں انہیں کافی عرصہ  سے اسے اپ ڈیٹ کرنے کی فرصت  نہیں مل پائی ۔
  اس قدر گہری دوستی کے باوجود حیرت ہے  کہ ہم دونوں کو کبھی  فون پر  رابطہ کرنے کا خیال نہ آیا۔   پھر  ایسا  ہوا کہ  بالترتیب  فیس بک اور اردو محفل دونوں کا استعمال  مجھ  سے چھوٹ گیا اور  مبین سے رابطے کا یہ   اکلوتا ذریعہ بھی ہاتھ  سے  جاتا رہا ۔اب اس امید پر  یہ تذکرہ  لکھا  ہے  کہ شاید  یہ تحریر  مبین  کی نظر سے گزرے ۔اور  میں اس سے  دوبارہ   اس کی صحبت سے  فیضیاب  ہو سکوں۔

دو  افیمی  اپنی  ہی دھن  میں کہیں جا رہے تھے  کہ  ایک  کا  پیر  پھسلا  اور  وہ  گہرے گڑھے میں گر کے  ہائے  ہائے الاپنے  لگا۔  لیکن  دوسرے افیمی  کو  تھوڑا آگے  جانے  کے بعد  ہم سفر  کی  غیر موجودگی کا ادراک ہوا۔   پریشانی میں ادھر  ادھر  نظر دوڑائی اور چلایا  ، ارے دوست کہاں  ہو۔۔۔۔؟؟؟  گڑھے  میں گرے  افیمی نے مدد  کی  امید  میں پھیپھڑوں  کی پوری قوت  کے ساتھ   دہائی  دی کہ  "یار میں یہاں گڑھے میں ہوں ۔" افیمی نے یہ سن کر  اطمینان سے سر ہلایا  اور   کہا:۔ "اچھا دوست  میری  دعا ہے  جہاں رہو  ، خوش  رہو ۔" اور  آگے  چل پڑا
اس  افیمی کی طرح میری  بھی اللہ سے دعا ہے کہ میرا  یہ پیارا دوست جہاں بھی ہو اللہ کی رحمت کے سائے اور اس کی حفظ و امان  میں ہو ۔       

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما