Thursday, 16 January 2014

جاتے ہیں وہی جن کو سرکار ﷺ بلاتے ہیں

6 آرا


بھیڑ بکریوں  کا ایک ریوڑ  راستے میں روک لیا گیا۔  خلیفۃ  المسلمین  کی خاص ہدایت پر پورے  ریوڑ  کی تلاشی لی جا رہی  ہے ۔ ایک ایک بھیڑ  ایک ایک بکری  کو ٹٹول کے دیکھا جا رہا ہے ۔ اور  آخر  کار  ایک بھیڑ کی کھال میں سے  ایک  خستہ حال  ، نحیف  و  نزار  انسان برآمد ہو ہی گیا ۔  تلاش کا مقصد پورا ہوتے ہی  ریوڑ  سمیت چرواہوں کو جانے کی اجازت  دے  گئی ۔ البتہ  اس خستہ حال  سے کہا گیا  کہ آپ کو  مدینہ منورہ  کی حدود  میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ۔  ہر طرح  کے منت ترلوں کا ایک ہی جواب تھا کہ ہم امیر المومنین کے حکم کے آگے بے بس ہیں ، اور امیر المومنین   بھی  اس معاملے میں اس حکم کے  آگے بے بس ہیں ، جو انہیں خواب میں سرکارِ  دو عالم  صلی اللہ علیہ وآلہٖ  وسلم  نے دیا ہے  کہ  اویس آ رہا  ہے ۔ اسے روکا جائے  اور مدینہ منورہ  میں داخل نہ ہونے دیا جائے ۔

اسی  طرح  کے  اور بھی کئی واقعات  سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔  کہیں جامی  ؒ  تنم  فرسودہ  جاں پارہ زِ ہجراں  یا رسول اللہ  ﷺ پکارتے  ملتے  ہیں لیکن پھر بھی حکم ہے کہ  جامی  نہ آنے پائے ۔ صرف  تاریخ ہی کیوں  حال  کا ہی حال سنیے

ایک  خاتون  ہیں ،  5  بچوں کی اماں جان ہیں ، 4 کو  اپنے  گھر بار کا کر چکی ہیں ، پانچواں بدعتی  نکلا  اور جوگی  ہو  گیا ۔ایک  عرصے  سے ان  کی خواہش  ہے کہ  کم از کم ایک بار   اس در  سے  ہو آئیں  جہاں  حاضری صرف نصیب والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے ۔ اب  وہ پرانا زمانہ تو نہیں رہا کہ اٹھے اور چل دئیے  اور حاضری دے کر  لوٹ آئے ۔ اب تو  محبوب نے دربان رکھ لیے ہیں۔  اور آمد رفت کے  قواعد  ظالم  سماج  اور ولن  کا کردار  ادا کر رہے  ہیں۔ چلیے  جی نوکر  کی تے نخرہ کی ۔  قواعد  کے مطابق  ہی سہی ،  کیا فرض ہے  کہ سب کو ملے ایک سا جواب۔  

پاسپورٹ کیلئے ضروری ہے کہ  کمپیوٹرائزڈ  شناختی کارڈ ہو ۔  کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ بن گیا ہے ۔ اب معلوم ہوا  کہ تصویر والا شناختی کارڈ ہونا لازمی ہے ۔  پھر  درخواست دی جاتی ہے ، حسبِ ضابطہ  تمام امور بخوبی انجام پا جاتے ہیں۔ مگر  جب شناختی کارڈ آتا ہے تو اس پر  حسبِ سابق تصویر نہیں ہے۔  چھوٹی بہن  اور دو چار اور خواتین عمرے  کیلئے جا رہی ہیں ، اور وہ  چاہتی  ہین کہ بڑی بہن کا بھی  پاسپورٹ  بن جائے تو انہیں بھی ساتھ  لیے چلتے ہیں۔ ایک  بار پھر کوشش  کی جاتی ہے ۔ اس بار  نادرا  کا  دفتر  ہی  اس چھوٹے سے گاؤں  میں بلوا لیا جاتا  ہے ۔   تین دن تک  آس پاس  کے علاقوں  کے لوگ  اس سنہری موقع سے فائدہ  اٹھاتے اور اس بی بی کو دعائیں دیتے رہے  جس کی وجہ سے  انہیں شہر  جانے اور پھر  لائن لگنے  کی کوفت سے  عافیت  نصیب ہوئی ۔   مقررہ مدت  کے بعد شناختی  کارڈ آ جاتا ہے مگر  تصویر اس بار  بھی نہیں ہے ۔ 
جزبز ہوتے ہوئے  جوگی  صاحب  نادرا  کے  ضلعی دفتر میں جا گھستے ہیں ، اور  سیکورٹی  گارڈ بیچارا   ایک ہی دھکے میں پاسے ہو گیا ۔ سیدھا  مینیجر کے سر پر نازل ہو گئے  ، اور جیسا  کہ ان کی عادت ہے دفتر سر پہ اٹھا لیا ۔  گلے پڑتا دیکھ کر  منیجر کو  جان چھرانی مشکل ہو گئی  اور اس نے  صرف  تصویر  دینے کا  کہہ کر  جان چھڑائی  کہ  صرف امیج اپ ڈیٹ  کر دیں گے باقی سب تو اوکے ہے ۔  اور جب شناختی کارڈ آیا  تو  حسبِ سابق تصویر پھر نہیں تھی۔ 

جنہوں نے جانا تھا وہ چلے گئے  ، اور پھر  واپس بھی آ گئے  ،  خاتون  حسرت زدہ    مبارک بادیں ہی دیتی رہ گئیں ۔ ایک بار پھر غلغلہ  اٹھا ، بڑی بڑی سفارشیں ڈھونڈی  گئیں ، اور  انتہائی  سخت تاکید کی گئی  کہ اس بار  شناختی کارڈ  مکمل ہونا چاہیے ۔ مگر بھولے لوگوں کو یہ سمجھ کہاں کہ  منظوری  کہیں اور سے ملتی ہے ۔ یہ نادرا ڈیٹا بیس  پر بیٹھے  نتھو پھتو  کس باغ کی مولی ہیں بھلا ۔ حسبِ  سابق  کارڈ ایک بار پھر  بغیر  تصویر  کے آیا ۔  نادرا کے کیمرے  نجانے خاتون کے نورانی  چہرے  کو دیکھ کر چندھیا جاتے ہیں ، یا  کوئی  اور  رولا  ہے۔ جوگی  نے کہا  :۔"یہ عجیب الٹ پھیر  ہے ،  ایک  اویس  اپنی اماں کی کی خدمت  میں ہمہ تن مصروف  رہنے کی   وجہ  سے  زیارت  ِ جاناں سے محروم  رہے  اور  ایک  اویس  کے  گناہ اپنی  ماں  کی زیارتِ  در رسول ﷺ سے  محرومی کا  باعث بنے ہوئے ہیں"۔

جسے چاہا در پہ بلا لیا  ، جسے چاہا  اپنا بنا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے ، یہ بڑے نصیب  کی بات ہے

اور  پھر کرم  ہو گیا  ایک  اور ماں پر  ، حسنِ اتفاق ملاحظہ ہو  ، ان کے بھی پانچ بچے ہیں۔   31  دسمبر  کو  خوش نصیب   جھومتے  جھامتے  درِ  حبیب  پہ  حاضری کے تصور  سے  شاداں و فرحاں   روانہ ہوئیں  ۔  ان  کے جانے کے بعد ایک اور  عجیب حقیقت منکشف ہوئی  کہ  کسی کے وسیلے  سے برکت  کا حصول کوئی گپ یا کسی  کا ضعفِ اعتقاد نہیں ، بلکہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ 
اول تو  خیر  مجھے  کوئی پڑھنے  کی ہمت نہیں رکھتا  یا یوں کہہ لیں کہ مجھے پڑھنے کا قابل نہیں سمجھتا ، لیکن ان کے جانے کے بعد  ایسا محسوس ہوا  کہ جیسے میرا "ڈیرہ" انٹرنیٹ کے انٹارکٹکا پر واقع  ہو  ، جس پر کسی کا آنا تو دور  اسے  دنیا کے  نقشے پر بھی ظاہر نہیں کیا جاتا ۔   اور  وہ جو  روزانہ  کے  کم از کم 300 نکتہ  داں  آمدورفت رکھتے تھے  اچانک  جیسے  جوگی کے ڈیرے کا راستہ بھول گئے ۔  دو تین دن  تو مارے حیرانی  کے میں سوچتا رہا  کہ  کیسا کمال ہے  کہ  ایک  برابر ہیں  تین سو  کے ۔ وہ ایک نہیں تو  صفر  بھی  غائب ،  اور وہ ایک ہوں  تو آمدو رفت کا گراف  بلندیوں پر ۔ایک شخص سارے  انٹر نیٹ کو ویران کر گیا 

اب  اس حقیقت  سے  مجھے کوئی انکار نہیں کہ ہر  کامیاب  مرد کے پیچھے  کسی خاتون  کا ہی ہاتھ ہوتا ہے ۔ میرا  لکھنا ہو  یا کسی کا مجھے پڑھنا  ،  سب کا سب ایک خاتون کے دم سے ہے ۔  اس سب کا کریڈٹ انہیں جاتا ہے ۔  وہ ہیں تو رونق ہے وہ نہیں تو بحرِ ظلمات ہے۔
اللہ  نے انہیں عمرے  کی سعادت  عطا فرمائی  اور  اسی  بہانے  مجھ پر یہ حقیقت آشکار فرمائی  کہ  وہ میرے لیے کس قدر سعد ہیں،  خاکسار  جوگی اور ڈیرے  کی جانب سے خاتونِ معظم  کو  یہ خوش بختی  ، اور عمرے  کی برکتیں  اور مدینہ منورہ  کی زیارت  کی خوشیاں بہت بہت مبارک ہوں ۔
نغمہ کجا و  من کجا ، سازِسخن بہانہ ایست
سوئے قطار می کشم ناقۂ بے زمام را     

6 آرا:

  • 16 January 2014 at 21:44
    مہ جبین :

    سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے درِ اقدس کی حاضری اور زیارت کا شرف ملنا یقینا زندگی کی سب سے بڑی سعادت اور خوش بختی ہے ، ہم جیسے نکمے سیاہ کاروں کے لئے رحمتِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ و معطر دربارِ عالیشان میں حاضری کا بیان الفاظ میں کسی طور ممکن ہی نہیں اس وقت جو جذبات ہوتے ہیں اس کو کوئی بھی احسن انداز سے بیان نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ سب کو اور خصوصا اماں جان کو اپنے جوگی بیٹے کے ساتھ اس درِ پاک کی کی حاضری اور زیارت کا شرف عطا فرمائے آمین ۔ انکی چشمِ کرم کو ہے اس کی خبر، کس مسافر کو ہے کتنا شوقِ سفر
    جن کو اقبال جب بھی اجازت ملی ، وہ بھی آقا کے دربار تک جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انشاءاللہ
    اللہ پاک اویس کو دونوں جہان میں سرخرو فرمائے آمین

  • 16 January 2014 at 22:02
    مہ جبین :

    فریاد امتی جو کرے حالِ زار میں
    ممکن نہیں کہ خیرِ بشر کو خبر نہ ہو
    یہ دنیاوی ضابطے ، قانون تو ہم جیسے دنیا داروں کے لئے ایک پردہ اور حجاب ہیں لیکن رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ایک ایک امتی کی تڑپ اور ذوق و زوق کو ملاحضہ فرما رہے ہیں ، کچھ تو وہاں جاکر بھی سعادتوں سے محروم رہتے ہیں اور کچھ ہزاروں میل کی دوری پر ہوتے ہوئے بھی حضوری کی کیفیت کو پالیتے ہیں ، مجھے یقین ہے کہ اماں جان بھی ایسی روحانی حاضری اور حضوری کا شرف حاضل کرچکی ہونگی ، اللہ اور اس کے حبیبِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت جلد انکو اپنے درِ اقدس کی حاضری کا اذن عطا فرمائیں گے انشاءاللہ عزوجل آمین ثم آمین
    اماں جان کی خدمت میں میرا سلام عرض کردینا۔

  • 17 January 2014 at 03:32

    السلام علیکم!
    یہ نادرا کے دفتر والا بھی ہمارا ایک سنجیدہ المیہ ہے اور باقی رہی نصیبوں کی بات تو اس سے کسے فرار ممکن ہے
    اب میرے پاس اپنا انٹرنیٹ آ گیا ہے
    اب ان شاءاللہ ضرور پڑھ لکھ لیا کروں گا آپ کے بلاگ پر
    اور باجی مہ جبین کے تاثرات دیکھے ہیں بہت خوشی ہوءی
    کہیں یہی وہ خوش نصیب تو نہیں جنہیں سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دربارگوہر بار میں حاضری کا شرف حاصل ہوا ہے
    ؟
    اور مزید یہ کہ اردو محفل فورم سے میں بھی معطل کر دیا گیا ہوں
    اگلی ملاقات تک کے لیے اجازت
    اللہ حافظ

  • 17 January 2014 at 10:53

    @خاتون ِ معظم

    آپ کا تبصہ پڑھتے پڑھتے آنکھیں بھیگ گئیں ، البتہ سبب معلوم نہیں

    دعاؤں کیلئے جزاک اللہ اور ہر دعا پہ بے شمار آمین، آمین آمین

    اللہ آپ کو حج کی سعادت بھی نصیب فرمائے
    آمین

  • 17 January 2014 at 10:59

    @عبدالرزاق قادری

    وعلیکم السلام بھائی جان
    انٹرنیٹ آنے کی بہت بہت مبارک باد وصول کریں
    اور ھاھاھاھاھاھا اردو محفل سے معطل ہونے پر آجاؤ مل کر بھنگڑے ڈالیں
    جب آپ کی پہلی تحریر ہی ا محفل پر مقفل کر دی گئی تھی تو آپ کو تبھی سمجھ جانا چاہیے تھا کہ یہاں حق گو یاروں کی کوئی گنجائش نہیں

    اب آپ
    www.yoonhe.com
    پر تشریف لائیں، آپ کو خصوصی دعت دی جاتی ہے اس فورم پر

    جی بھیا
    وہ خوش نصیب اور میری لیے خوش بختی کی علامت خاتون یہی عالی جنابہ ہیں

    اگلی ملاقات کا انتظار رہے گا
    فی امان اللہ

  • 19 January 2014 at 20:15
    مہ جبین :

    رونے والی آنکھیں مانگو، رونا سب کا کام نہیں
    ذکرِ محبت عام ہے لیکن سوزِ محبت عام نہیں

    وہ آنسو جو آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے ذکر پر بہہ نکلیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت قیمتی ہوتے ہیں انکو بہت سنبھال کر رکھنا

    اللہ تمہاری دعا کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے آمین
    جزاک اللہ خیرا

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما