Friday, 10 January 2014

یارانِ نکتہ داں (قسط دوم) ارسل مبشر

9 آرا

ارسل  مبشر


فیس  بک  پہ   شانی   سے   دوستی  کے  ثمرات  میں  سے  ایک   تو  یہ  تھا کہ  اب  لوگ  مجھے  بھی  کچھ نہ کچھ جاننے  اور  سننے  لگے تھے ۔کچھ  اچھے لوگوں  نے  مجھےاپنی   فرینڈ لسٹ میں شامل  کرنے کے  قابل سمجھاجیسے علی جاوید چیمہ  ،  عادل کھوکھر   صاحب  وغیرہ ۔ مگر  اس طرح  کی دوستی کسی اور سے استوار نہ ہوپائی جیسی  شانی  سے  جڑی  تھی ۔  اور ایک مدت تک  میرے دل کا صرف  ایک ہی وینٹریکل  آباد رہا ۔پھر  جو قدرت  کو  میری تہی  دامنی  پر  مزید رحم آیا تو  دوسرا  وینٹریکل آباد ہونے کی سبیل  نکل آئی۔
اس دوسرے  کولمبس  کا  نام  ارسل  مبشر  ہے جو میرے دل کے امریکا  تک  کا راستہ  دریافت  کرنے میں کامیاب ہوا۔
ارسل  کو  گروپ  میں دیکھا تو بہت بار تھا لیکن دیکھنے سے زیادہ  واقفیت  نہ تھی ۔  وجہ شاید  یہ  رہی ہو کہ  موصوف  ایک  تو پوسٹنگ کم کرتے تھے ،  دوسرے  ان کی لیے دیے رہنے والی عادت جسے شاید کچھ دل جلے مغروری کا نام  دیتے ہوں۔
ایک پرندہ کوا ہے ،اور تقریباً سب اکثر  اسے  دیکھتے ہیں۔  ایسا ہمہ خور ہے کہ   پیٹ بھرنے کو کچھ بھی ملے کھا جاتا ہے ۔مردار ہو  یا زندہ  ،  جائز  ناجائز  ، حلال  حرام  کی  اسے  کبھی پرواہ  نہیں رہی ۔شواہد  ثابت کرتے  ہیں کہ  لکڑ ہضم  پتھر  ہضم والا  نعرہ  کووں  سے  مستعار  لیا  ہے انسان نے ۔اور   ایک پرندہ شاہین   بھی ہے ۔ اتنی  بلندی  پر  اڑتا ہے  کہ  جن  کی دور کی نظر کمزور ہو وہ تو اسے دیکھ   ہی نہیں پاتے ۔ اور  جن کی نظر کمزور  نہ بھی ہو وہ  بھی اس  کے  اڑنے  کے  انداز  سے سمجھتے ہیں کہ محض آوارہ گردی کر رہا  ہے ۔  لیکن درحقیقت شاہین  اس بلندی پر  اڑتے ہوئے   کہ جہاں سے انسان  کو  بھی دنیا  بازیچہ  اطفال  کی طرح ایک   بڑا سا  فٹ  بال  نظر آتی ہے ۔  وہاں سے شاہین  اپنے لیے زمین پر شکار  ڈھونڈتا ہے اور  جب کسی  کو اپنے شکار کی  حیثیت  سے پسند کر لیتا ہے  تو  آناً فاناً  جھپٹ کر  اسے لے اڑتا ہے ۔
فیس بک  کے اکثر صارفین  اور ارسل  میں وہی فرق ہے جو  کوے اور شاہین  میں ہے ۔ فیس بک پرموجود  اکثر یت  کا محبوب مشغلہ  اپنی فرینڈ لسٹ کو دن دوگنی رات چوگنی  ترقی دینا ہے ۔ کوئی بھی  ہو ، کیسا ہی کیوں نہ ہو۔  ان کا ایڈفوبیا  ھل  من مزید  ، ھل  من مزید کے  ریاض  میں مصروف  رہتا ہے ۔  لیکن  ارسل مبشر  شاہین  فطرت ہے ۔  نظر سب پر  ہے،  مگر    جھپٹتا  یہ   صرف اسی  پرہے  جسے  یہ  اپنے لائق  سمجھے۔  لیکن  جس  بلندی  پر  یہ  اڑتا ہے اور جس  انداز  میں اڑتا ہے اس    دھوکے میں کچھ لوگ  اسے  مغرور اور کچھ لوگ محض آوارہ  گرد تماشائی سمجھتے  ہیں۔علامہ  اقبال  نے بھی  کیا  خوب فرق  بیان کیا  ہے۔
پرواز ہے دونوں  کی  اسی  ایک  فضا میں لیکن
کرگس  کا  جہاں اور ہے  شاہین کا جہاں اور
سرائیکی زبان کی  ایک ضرب المثل  ہے " شیں  بکھ مرے  ، درب مول  نہ  چرے" (ترجمہ:۔   شیر  بھوک  سے  مر تو جاتا  ہے مگر  گھاس  نہیں کھاتا۔) میرا یہ  ببر  شیر  دوست  بھی  ہر  ایرے غیرے  کو منہ نہیں لگاتا ۔   لیکن گھبرائیے نہیں صرف  عادت میں ببر  شیر  ہے  حقیقت  میں یہ  ایک  بہت ہی  پیارا خرگوش  ہے ۔ اتنا  خوبصورت  جس کا صرف رنگ روپ ہی  نہیں، حرکتیں اور باتیں بھی بہت  پیاری    ہیں۔(خبردار کوئی میرے دوست کو نظر نہ لگائے)۔
 مذکورہ  بالا پس ِمنظر میں ہماری دوستی  کوئی  انہونی یا معجزہ  نظر آتی ہے کیونکہ   حالات  تو  ایسے  تھے کہ بقول  غالبؔ:۔
واں وہ غرورِ عزو ناز، یاں یہ حجابِ پاسِ وضع
راہ  میں ہم  ملیں کہاں ، بزم میں وہ بلائے کیوں
لیکن ایک  تقدیر  بھی  تو  ہے ۔ اس نے بساط  بچھا  دی ۔  اس  پہ مہروں  کے طور پر  احسن  شاہ ، عظمیٰ راؤ اور ان  کے تمام  طبلچیوں  کو  استعمال   کیا  گیا ۔ دیکھا جائے  تو  یہ سارا معاملہ  شیر  کے شکار  جیسا تھا ۔ شکاریات سے  شغف رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ  شیر  کے  شکار  کیلئے عام طور دو طریقے مستعمل ہیں۔
طریقہ   1:۔  گائے  یا کسی بڑے  جانور  کو چارے  کے طور پر  درخت  سے  باندھ کر  اس  کے سامنے  کے درختوں پر   بندھی مچان   میں بیٹھ کر شکاری    شیر  کے آنے  کا انتظار کرتا ہے ۔ بے خبر  شیر  چارے  کے طور پر بندھے جانور  پر جھپٹتاہے  ،  اور شکاری کا شکار ہو جاتا ہے۔
طریقہ2:۔   دوسرا  طریقہ جسے شکاریات  کی  اصطلاح  میں "ہانکا " کہتے ہیں۔  اس طریقے میں آدمیوں کی  ایک جماعت جو  پیپوں ، ڈھولوں اور نیزوں سے لیس ہوتی  ہے ، جس  علاقے  میں شیر  کی  موجودگی  محسوس ہو اس   کے  گرد  نصف دائرے کی صورت  میں پھیل جاتی ہے ۔ اور پھر  وہ  لوگ نیم دائرے میں   آگے  بڑھتے ہوئے  شور  پیدا  کرنے کیلئے بہت زور زور سے ڈھول  پیٹنے اور پیپا بجانے  کے ساتھ ساتھ چلاتے  بھی  ہیں۔ شیر  شور سے تنگ  آ کر  اس  طرف کو بھاگتا ہے  جہاں  سے  شور  کی آواز  نہیں آ رہی  ہوتی ۔  لیکن وہاں  شکاری گھات میں بیٹھا ہوتا  ہے ۔
ایسے  ہی  ایک  بار تقدیر  کے  شکاری  نے  "محفل ِ قلندر"نامی جنگل  میں  ہانکا کروایا۔  اور  اس ہانکے  میں  شیر  کے ساتھ  ساتھ بھیڑیا بھی  گِھر  گیا ۔   دوستی  کا  دیوتا   گھات  میں تیار   بیٹھا تھا اس  نے   تیر  چلادیا  ۔   اہل  ِ نظر  جانتے  ہیں کہ  وہ تیر  گھائل  نہیں بلکہ  مائل  کرتا  ہے ۔
یہ  تھا  قصہ دی  لائن  کنگ  اور وولورین  میں دوستی ہونے   کا ۔
اور اس  کے  بعد حسبِ سابق   بات چیٹ سے آگے بڑھی  اور فون  پہ  جا لٹکی ۔پہلی  بار موصوف  کا فون  ایسے آیا جیسے طوفان  میل فاں فاں  کرتی   آتی  ہے ۔ یہ تو خیر فیصل آبادیوں کی عادت  ہے کہ کم سے کم  وقت میں زیادہ سے زیادہ  بولنے  کی کوشش میں اکثر  اوقات سانس بھی ملتوی کر  دیتے  ہیں۔ یہ جناب شاید  فرسٹ امپریشن  کے چکر میں   اس  سے بھی دو ہاتھ آگے والا مظاہرہ فرما  رہے تھے ۔  میں دل ہی دل میں ہنسا کہ کوئی  بات نہیں دوچار دن بعدخود ہی  اپنی اوریجنلٹی  میں سمٹ جاؤ گے۔  اور  یہ  ان دو چار دن  میں بجائے  خود  اپنی  اوریجنلٹی  میں آنے کی بجائے  میرے  سٹائل  کو  فرسودہ  اور آؤٹ آف فیشن قرار دے کر  مجھے اپ ٹو ڈیٹ  ہونے  کی  تبلیغ فرماتے  رہے ۔ لیکن فدوی  کو  اپنا "اندازِ  بیاں  اور " اپنے  ایمان  کی  طرح  عزیز  تھا۔
سرائیکی  زبان  کی ایک اور ضرب المثل  ہے :۔ "نویں دے نوں  جہاڑے۔" (نئی  کے چونچلے  نو  دن  تک  ہی  چلتے ہیں)۔ویسا  ہی ہوا۔ نو  دن  پورے ہوتے ہوتے  حضرت  اپنے سارے سٹائل  اور ساری تبلیغ  بھول بھال  کے اپنی اصلی  کھال میں آ گئے ۔ البتہ  گزرے نو دنوں میں پورا پورا زور لگا دیا ۔  یہ اور بات  کہ  پرنالہ  اور گل محمد  وہیں کے وہیں رہے ۔
کئی بے چارے کال  اٹینڈ ہونے کی حسرت میں خاک  ہونے  کا  شکوہ کرتے نہیں تھکتے اور  یہ صاحب ایسے ناشکرے واقع ہوئے ہیں کہ جب بھی کال کرو ۔  ان  کے اندر کے حاتم طائی  کی غیرت انگڑائیاں  لیتی جاگ جاتی ہے ۔ پس  ایک سادہ  سی بڑھک  مارتے ہوئے فرماتے ہیں تم بند کرو کال میں کرتا ہوں ۔اور  کبھی کبھی  تو مجھے  ہنسی آتی ہے کہ  لڑکیاں بے چاری تو یونہی بدنام ہیں۔  ہم دونوں  کی گھنٹوں گھنٹوں  کی کالز  میں جیسی مرضی جانبداری سے دیکھ  لیں ایک  بھی کام کی بات  جسے سرائیکی  میں"چج  دی گالھ" کہتے ہیں، سنائی  دے تو پیسے واپس ۔۔۔۔
اپنے کھرے پن  اور  انتہائی  خلوص  کی بدولت  ارسل  میرا  سب  سے  بہترین دوست  بنتا گیا ۔  اور یہ  بات  میں  اب بھی  ڈنکے  کی چوٹ پر  کہہ  سکتا ہوں  کہ میرے سب دوست مجھے پیارے ہیں لیکن جب ان میں   سب سے زیادہ  پیارا دوست چننے  کو  کہا  جائے تو  میں ارسل  مبشر  کا نام لوں  گا۔ حالانکہ  مجھ سے دوستی کے دعویدار  تو شانی  بابا بھی ہیں  اور  اگر  ارسل  نہ ہوتا  تو  یقیناً شانی  ہی میرا  نمبر  ون دوست ہوتا۔
اس  کیوں  کا  جواب  جاننا ہے تو آگے پڑھتے رہیں۔
فیس  بک پر  ایک  بار  "عشق" پر  بات  چل  نکلی ۔  اوریہ وہ  موضوع ہے  جس پر  جتنی   لمبی  لمبی  چھوڑو کم  ہے۔ اسی  زعم  میں یار لوگوں نے خوب لمبی لمبی چھوڑیں۔ سوال  بس  اتنا تھا  کہ "عشق  دراصل ہے کیا۔؟" اور  لوگ  تو  ہاتھ  دھو  کے فلمی کہانیاں سنانے  لگے ۔  کوئی ادھر  کی چھوڑ رہا  ہے تو  کوئی ادھر کی ،  اور  لال بجھکڑ   سر دھنتے دھنتے  کملے  ہوئے جا رہے تھے ۔مجھے  بھی شوق  چرایا  سو میں  نے  "عشق  کیا  ہے؟" کے جواب میں ایک تفصیلی  آرٹیکل لکھا  اور  پوسٹ کر دیا ۔  لیکن  فیس  بک پہ اکثریت  صرف ایک دو لائنیں  پڑھنے کی عادی ہے ۔  میرے اتنی  محنت سے لکھے گئے آرٹیکل کو  کچھ عقل کے اندھوں  نے پڑھنا ہی گوارا نہیں کیا ۔  اور جو لوگ فلمی قسم  کے  عشق کو  ہی عشق سمجھتے تھے  انہوں نے پہلی دو لائنیں پڑھ  کر  کتابی باتیں قرار  دے دیا ۔  حد  تو یہ ہوئی کہ میری دوستی  کے دعویدار(ابو ظہبی والے)بھی پڑھے بغیر بس شرما  شرمی اور   دیکھا دیکھی  کی خالی خولی واہ واہ  پہ ٹرخاتے  رہے ۔اور  کچھ خرقہ سالوس  میں چھپے برہمن(ایک شاہ صاحب) کاپی پیسٹ کا  فائدہ اٹھا  کر  کہیں اورمجمع لگاکر  اپنی علمیت جھاڑتے رہے ۔ صرف ایک  ہی اللہ  کا جی دار  بندہ  تھا  جس نے اس آرٹیکل کو  شروع سے آخر  تک حرف بحرف پڑھا ۔  ظاہر  ہے  وہ ارسل  کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے ۔
شانی  کو  میں نے اخروٹ  سے  تشبیہ  دی تھی ۔  اور یہاں میرا  خیال ہے کہ اگر  ارسل  پھل  ہوتا تو  انار ہوتا ۔انار  اس  لیے  نہیں کہہ  رہا  کہ  وہ جنت کا  پھل ہوتا  ہے یا  اس  کے اتنے اتنے فوائد  ہیں۔  ہیں تو ہوتے رہیں، مجھے  کیا۔  میں تو ارسل کو اس لیے  انار  سے تشبیہ دے  رہا ہوں کیونکہ  یہ واحد  پھل ہے جس کو  کیڑا  نہیں لگتا۔ امرود  میرا پسندیدہ  پھل  ہے مگر  میں اسے محتاط ہو کر کھاتا ہوں، کیونکہ اس  میں کیڑے ہو سکتے ہیں۔  آم  ہو  یا سیب  ،کیڑا تو ایسی  بلا ہے  کہ ہری مرچ  میں بھی ہوتا ہے۔   لیکن انار وہ واحد  پھل  ہے جو    اپنی انتہائی  شیرینی  اور لذت کے  باوجودکیڑوں  سے پاک  ہے ۔
  اور ارسل مبشر میرا ایسا  دوست ہے جس  میں منافقت کا  کیڑا نہیں۔
 انار کا  کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں۔  لیکن ان  سب کے باوجود  انار  ہر کسی  کی  پہنچ  میں نہیں۔  انار کھانے کو دل  چاہتا ہے  تو  پہلے اپنے  آپ کو انار کے قابل  بنائیے  اللہ  تعالیٰ میری  طرح آپ کو  بھی ارسل  جیسا میٹھا انار  کھلائے  گا۔

9 آرا:

  • 12 January 2014 at 12:12

    چھوٹا غالب جی آپ نے ارسل بارے جو لکھا حرف حرف سچ ھے۔میں موصوف کو نیکا صوفی کہتا ھوں ۔۔محبت سے لبریز اور عقل سے پیدل ھے۔ہم جیسے حساب کتاب کرنے والے منہ تکتے رہ جاتے ھیں اور ارسل جیسے محبت کرنے والے بازی لے جاتے ھیں ۔الله آپ کے انار کو سلامت رکھے پر یاد رھے۔ ١٠٠ بیمار منتظر ھیں

  • 12 January 2014 at 19:44

    @افتخار عفی صاحب

    ھاھاھاھاھاھاھاھا
    زبردست
    یہ جملہ مجھ سے مس ہو گیا تھا "محبت سے لبریز اور عقل سے پیدل "
    اجازت ہو تو اسے بھی تحریر میں شامل کر لوں ؟؟
    واقعی ارسل کی سادگی اور محبت سب کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے

    100 بیماروں کو اللہ شفا دے ھاھاھاھاھا

  • 12 January 2014 at 20:21

    میں اس ہستی کو جانتا تو نہیں لیکن جیسا آپ نے بیان کر دیا 101 واں بیمار ضرور ہونا چاہوں گا۔
    زبردست تحریر تھی۔

  • 13 January 2014 at 01:40

    حالانکہ فقیر تعریف اور کمنٹ کرنے کے معاملے میں تھوڑا محتاط ہے لیکن حضرت مکرمی و محبی کی تحاریر واقعتاً لائقِ تحسین و قابلِ ستایش ہوتی ہیں،،،،،،،،اللہم زد فزد

  • 13 January 2014 at 01:46

    محترم ارسل مبشر صاحب سے بات تو نہیں ہوئی لیکن جس طرح حضرت مخدوما نے اُن کا تعارف کروایا ہے ،،،،عاجز بھی مُلاقات کی خواہش دِل میں سُلگتی محسوس کررہا ہے

  • 16 January 2014 at 20:39

    واھ چھوٹے غالب کمال لاجواب۔۔۔ بیمثالــ حرف حرف سچ، آپ نے سچ لکھ کر ثابت کر دیا کے آپ حقیقت میں حق کا ساتھ دینے والے اور سچے لکھاری ھیں۔۔ آپ کے قلم کی ایسی پختگی ھمیشہ ایسے ھی قایم رھے امین ثم امین

  • 17 January 2014 at 11:01

    بہت بہت شکریہ زبیر بھائی اور جناب ملک حبیبی

    ویسے آپ چاہے جتنی مرضی میری تعریفیں کرتے رہیں حقیقت یہ ہے کہ آپ چند قدردانوں کے علاوہ مجھے کوئی پڑھنے کا قابل نہیں سمجھتا
    سو آپ یاروں کا دم غنیمت ہے
    جزاک للہ خیراً کثیراً کثیرا

  • 17 January 2014 at 11:02

    @ارسل مبشر

    بہت خوشی ہوئی یار
    تمہیں نہ صرف تحریر پسند آئی بلکہ دل کھول کے داد بھی دے گئے
    اور اس سے بھی زیادہ خوشی کہ تم نے اردو لکھنا آکر سیکھ ہی لیا

    کیپ اٹ اپ یارا
    جیتے رہو
    تم دوستی کے شہنشاہ ہو

  • 22 January 2014 at 09:57
    مہ جبین :

    اور ارسل مبشر میرا ایسا دوست ہے جس میں منافقت کا کیڑا نہیں۔
    شکر کرو کہ اللہ نے تمہیں ایسا بہترین دوست عطا فرمایا ، ورنہ اس نفسا نفسی کے دور میں اتنے مخلص لوگ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے
    اللہ اس پیاری دوستی کو سلامت رکھے آمین

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما