Monday, 9 March 2015

چلتے ہو تو لاہور کو چلیے (قسط پنجم)۔

0 آرا

انتظار گاہ میں بڑی سی "ایل سی ڈی" پر ٹیسٹ میچ دکھایا جا رہا تھا۔ اور کرکٹ کے نشئی  مکھیوں کی طرح آنکھیں لگائے بیٹھے تھے۔ مجھے کرکٹ سے تو ویسے بھی دلچسپی نہیں رہی کجا کہ ٹیسٹ میچ دیکھنا۔

ارسل اور افی صاحب تک  بذریعہ ایس ایم ایس اطلاع پہنچائی ، جواباً افی صاحب کی کال آ گئی۔ انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور پوچھا ارسل کی کوئی خیر خبر؟ میں نے بتایا کہ جناح ٹرمینل سے نکلتے وقت اس سے بات ہوئی تھی ، تب اس نے ساڑھے چھ کا لارا دتہ تھا۔ ازاں بعد  کوئی اتا پتا نہیں ۔

یہاں ایک ابہام کا ازالہ ضروری ہے ورنہ افی صاحب کی خوئے مہمان نوازی پہ حرف آنے کا  خطرہ منڈلاتا رہے گا۔

صاحبو !!! تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ افی صاحب ان دنوں اے آر وائی زندگی چینل پر آن ائیرسوپ سیریل "بہنیں ایسی بھی ہوتی ہیں" کی تکمیل میں مصروف تھے ، محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً انہیں سر کھجانےکی بھی فرصت نہیں تھی۔ لکھنے لکھانے والے خوب جانتے ہیں کہ لکھنے کا عمل وحی کے عمل جیسا ہوتا ہے۔ یکساں اسراع  سے لکھتے لکھاری پر اگر کوئی بیرونی قوت  مداخلت کرے تو اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلتا۔

اب یہ تو افی صاحب کی بندہ پروری اور دلنوازی  ہے کہ اس مصروفیت کے عالم میں بھی انہوں نے مجھ سے ملاقات طے کر لی۔ حسنِ اخلاق کی اس سے اچھی مثال شاید ہی کوئی ہو۔ پانچ بجے تک  ان کا لکھنے کا وقت تھا ، اس کے بعد داستان سرائے جانا تھا جہاں ادبی نشست تھی۔ اور   ہمارے درمیان یہی طے پایا تھاکہ میں پانچ بجے شام تک ہی لاہور پہنچوں گا۔ بقول غالب:۔ "وائے دیوانگیِ شوق" کہ میں ساڑھے تین بجے ہی لاہور میں تھا۔ پس ثابت ہوا کہ اس میں افی صاحب کا کوئی قصور نہ تھا کہ وہ میرے استقبال کو نہ پہنچے تھے۔ بلکہ میں ہی مقررہ وقت سے پہلے پہنچ گیا تھا۔

اب خاکسار کے پاس مبلغ ڈیڑھ گھنٹہ فرصت کا تھا، جسے میں نے " تصورِ جاناں کیے ہوئے" بیٹھنے کی بجائے ادھر ادھر تاڑا تاڑی شروع کر دی۔ لیکن  جیسا کہ بھیدی لوگ جانتے ہیں یہ بھی ایک دقیق  فن ہے، جس میں کہ فدوی کورا پایا گیا۔ اس لیے جلد ہی اس شغل سے اکتا کر اور پڑھنے کیلئے کوئی کتابی چہرہ  نہ پا کر مجبوراً ایل سی ڈی کی طرف ہی منہ کر لیا۔ میری اس حرکت سے یونس خان کواس قدر خوشی ہوئی کہ اس نے  دوسری گیند پہ چھکا لگا دیا۔ صرف اسی پہ بس نہیں اس کے چند گیندوں بعد ایک اور چھکا ، پھر ایک چوکا اور پھر ایک اور چھکا۔ اپنی اس کرامت کا اگر پہلے ہی اندازہ ہوتا تومیں آتے ہی میچ دیکھنے لگ جاتا ۔

خیربھاگتےچور کی لنگوٹی سہی ۔ یونس خان کا بلا رنز اگلتا رہا اورجوگی کا وقت اچھا گزرتا رہا۔  فلک کج رو سے یہ برداشت نہ ہوا تواس نے سورج  کو متحدہ عرب امارات میں "شام ہوگئی ہے" کا نوٹس دینے پہ اکسایا۔ شام ہوئی اور پاکستان نے اننگزڈیکلیئر کر دی۔ مجھے کونسا فرق پڑنے والا تھا، میچ نہ سہی خبریں ہی سہی۔

ادھر افی صاحب نے لکھتے لکھتے سوچا کہ وہ بے چارا اتنی دور سے آ کر اڈے پہ رُل رہا ہے، اگرآج یہ قسط مکمل نہیں ہوتی تو کونسا کعبے کو کنڈ ہوجائے گی۔  یہ سوچتے ہی ان سے بیٹھا نہ گیا، تو کار لے کے آ گئے اور مجھے کال کی ، باہر آ جا  جھوٹے غالب، میں رہبر  ٹریولز ٹرمینل کے سامنے کھڑا ہوں۔ میں باہر نکلا سڑک پارکی ، اور ادھر ادھرنظریں دوڑائیں ، مگر افی صاحب نظر نہ آئے ، میں نے آگے بڑھ کے دیکھا تو ایک لمبی سی بس کےپیچھے سفید رنگ کی خیبر کھڑی نظر آئی۔

افی صاحب سٹیرنگ پہ ہاتھ رکھے جھک کر ادھر ادھرجھانکتے مجھے ڈھونڈنے میں مصروف تھے۔  میں نے ہاتھ کا اشارہ کیا تو چہرے پہ دلفریب مسکراہٹ ابھرآئی۔اتنے میں، میں کار کے پاس پہنچ چکا تھا۔ دروازہ کھولنے لگا تو افی صاحب نے کہا ایک منٹ رکو۔ کار سے باہر نکلے اور مجھ سے بغلگیر ہو گئے۔

یہ ہماری پہلی ملاقات  تھی ۔

(جاری ہے....) ۔

0 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما