Sunday, 6 January 2013

کوئی پرانی یاد

0 آرا




کوئی پرانی یاد





کوئی پرانی یاد میرا رستہ روکے مجھ سے کہتی ہے 


اتنی جلتی دھوپ میں یوں کب تک گھومو گے


آؤ


چل کے بیتے دنوں کی چھاؤں میں بیٹھیں


اس لمحے کی بات کریں


کہ جس میں کوئی پھول کھلا تھا


اس لمحے کی بات کریں


کہ جس میں کسی آواز کی چاندی کھنک اٹھی تھی


اس لمحے کی بات کریں


کہ جس میں کسی کی نظروں کے موتی برسے تھے


کوئی پرانی یاد میرا رستہ روکے مجھ سے کہتی ہے 





0 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما