Wednesday, 27 May 2015

چلتے ہو تو لاہور کو چلیے (قسط دہم)۔

0 آرا
اسی  سوچ  میں گم تھا  کہ  میں نے آپا  جی کی زمزم  سے دھلی  نگاہیں اپنے اندر اترتی ہوئی  پائیں۔    ان کو اپنی طرف دیکھتا پا کر میں  چونکا تو انہوں نے   بڑی شفقت اور پیار سے  مجھے اپنے قریب بلایا ۔  اور  میں بے خودی کے عالم  میں آپا  جی کی طرف کھنچا چلا گیا۔  ارسل ابھی تک ان کے قدموں  سے لپٹا بیٹھا تھا،  میں نے  اسے ہاتھ  لگا کے  اٹھنے کا  اشارہ دیا اور  خود  بانو آپا   سامنے بکھری  جنت میں داخل ہو کر ان کے قدموں پر ڈھیر  ہو گیا۔تیس سال سے  بھٹکتے  جوگی  نے     ماں  جی  کی  گود  میں  سر جھکا دیا۔  بانو آپا کا  شفقت اور ممتا سے  لبریز  پاکیزہ ہاتھ  اپنے سر  پر محسوس  ہوا ۔  جی تو چاہا  کہ  دھاڑیں مار مار کے رونا شروع کر دوں  مگر  اتنا  شفیق ہاتھ  میرے سر پر تھا  کہ رو  بھی نہ سکا ۔  روتا بھی تو کس منہ سے  روتا۔  ۔۔۔؟
  کتابوں  میں پڑھا ہے جب آقائے  نامدار  تاجدارِ کائنات   معراج پر  تشریف لے گئے  تھے ، تو  وقت کی  لگامیں  کھینچ لی گئیں تھیں ۔سیر افلاک  اور  "قابَ قوسین  " کے  اعزاز  سے سرفراز  ہونے  کے  بعد  جب واپس  عالم  ِ خاکی میں تشریف لائے  تو  در مبارک  کی  کنڈی  ابھی ہل  رہی تھی اور وضو  کا پانی  زمین پر  ابھی ویسے ہی  بہہ رہا تھا۔ 
اللہ جھوٹ نہ بلوائے  جتنی  میری  اوقات  ہے اس حساب سے  تو یہ میری  معراج تھی۔  
تیری معراج  کہ تو لوح و قلم  تک پہنچا
میری معراج  کہ میں تیرےقدم تک پہنچا
رسول  اللہ صلی اللہ  علیہ  وآلہ  وسلم  کو  اللہ  تعالیٰ نے  بلایا  ، غلام ِ   رسول  اللہ  کو  اللہ  کی  برگزیدہ  بندی  بانو آپا  نے بلایا  ۔    رسول  اللہ صلی اللہ  علیہ  وآلہ  وسلم  کو  جبرئیل  علیہ السلام سفید   براق  لے کر  لینے  کو آئے تھے ، غلام  ِ رسول اللہ  کیلئے افتخار احمد  عثمانی  صاحب سفید  کار  لے کر  لینے کو آئے ۔    رسول  اللہ صلی اللہ  علیہ  وآلہ  وسلم   کو جنت  کی سیر  کرائی گئی  اور  غلام  ِ  رسول اللہ  کو  بانو آپا کے قدموں میں بچھی  جنت  (داستان سرائے)میں  سیر کرائی گئی۔قرآن مجید  میں اللہ تعالیٰ خود  گواہی دے رہا  ہے  کہ میرے آقارسول  اللہ صلی اللہ  علیہ  وآلہ  وسلم    کو "قابَ قوسین ِ او ادنیٰ"(ایک  کمان  کے دونوں سروں  جتنا  قریب  بلکہ اس سے  بھی تھوڑا کم)کا تاج پہنایا  گیا۔  اور حاضرین گواہ  ہیں کہ   غلامِ  رسول اللہ  جب  بانو آپا  کے سامنے  زانوئے ادب تہہ  کر  کے  ان کی گود میں  جھکا  اور  ان کا دستِ شفقت اس  کے سر پہ تھا  تو  یہ  مقامِ "قابَ قوسینِ او ادنیٰ" کی  ایک  خاکی  تمثیل  تھی۔
دیکھنے  والوں  کی دانست  میں جوگی چند  ثانیے  بانو آپا کی گود میں جھکا رہا ۔  لیکن  
کوئی میرے دل سے  پوچھے تیرے تیرِ نیم کش کو
ان چند لمحوں میں مجھ پر  کئی عالم  گزر گئے ،  میرے  لیے وقت  رک چکا تھا ،  اور سیر افلاک  جاری تھی۔ البتہ  جب واپس  لوٹا  تو معلوم ہوا  کہ  بانو آپا  کا دست مبارک میرے سر پہ ہے،  اور  صوفے پہ بیٹھا  ارسل  ویسے  ہی  مسکرا رہا ہے۔  ساتھ  بیٹھی  محترمہ عشرت صاحبہ ماں  بیٹے کے  اس پیار کو دیکھ رہی ہیں ،  افی صاحب  جو  دروازہ  کھول کے اندر داخل  ہو رہے تھے  ابھی دروازے  سے دو تین قدم  ہی آگے آئے  ہیں۔پس ثابت ہوا  کہ یہ جوگی  عرف  چھوٹے غالب کی معراج ہی تھی۔  الحمد اللہ  رب العلمین

میں سیدھا ہو کے  وہیں آپا  جی کے قدموں  میں پسر گیا۔  اتنے میں افی صاحب قریب  آ چکے تھے  اور  آتے ہی  انہوں نے  پھر سے میرا (تفصیلی)تعارف شروع کر دیا۔ کہ یہ لودھراں  سے  تقریباً ڈیڑھ ہزار کلومیٹر کا  سفر کرکے صرف آپ کی  زیارت کیلئے  آج ہی  آیا  اور راتوں  رات واپس بھی  چلا جائے گا، غالب  پر اس کی بڑی تحقیق  ہے ،  اور آگے بہت سی   نہایت ہی  مبالغہ  آمیز  تعریفیں  جن کا لکھنا یہاں مناسب نہیں، البتہ  افی صاحب کے حسنِ ظن  اور ذرہ نوازی  پر  بہت بہت  شکریہ  اور جزاک اللہ ۔
پھر افی صاحب  نے کہا  چلو بھئی  ارسل  اور چھوٹے !آپا جی کے  ساتھ تصویر  بنانے لگا ہوں، میں نے ارسل  کو  صوفے  سے  اٹھا  کر کہا  کہ    ایک سائیڈ  پر ہو جا بابو!! میرے  اور میری  محترم  آئیڈیل  بانو آپا  کے درمیان کوئی  تیسرا نہ ہو۔  اس پر  بانو  آپا کے  لبوں  پر پھیلی دل نشین  مسکراہٹ گہری ہو گئی اور حاضرین ہنس پڑے۔  ارسل  ہنستا  ہوا  اٹھ   گیا اور بقول  غالب:غیر از  نگاہ کوئی  حائل نہ رہا۔ اب  آپا  جی کے ساتھ والے  صوفے  پر صرف  میں براجمان تھااور  افی صاحب  میری  تصویریں  بنانے لگے۔پھر  افی صاحب  اور ارسل  مبشر  بھی  میرے ساتھ آ کے  بیٹھ گئے  اور  گپ شپ شروع ہو گئی ۔  میں  آپا  جی کی  طرف اتنا محو  تھا کہ  جناب  اثیر احمد  خان صاحب  مجھ سے کوئی بات کرتے رہے  مجھے  پتا ہی نہ چلا ، وہ تو  جب افی صاحب نے ادھر  متوجہ کیا  تو  دیکھا  کہ  محترمہ  عشرت صاحبہ  میری  بانو آپا  کی طرف محویت پر ہنس  رہی تھیں  اور  اثیر احمد  خان صاحب  مجھ سے کچھ کہہ رہے تھے ۔  واللہ  کچھ ایسی  بے خیالی  تھی کہ  سن اثیر صاحب کو رہا تھا  لیکن سمجھ کچھ  نہ آیا  کہ کیا کہہ رہے ہیں، بس ان کے ہونٹ ہلتے  نظر آرہے تھے ۔  آخر میں نے  معذرت کر لی کہ  اس وقت  میں آپا  جی کے سائے  میں بیٹھا  ہوں  مجھ پر  جتنا  پریشر ہے  وہ  مجھے پتا ہے ، اس لیے نہ  مجھے  کچھ سمجھ آ رہا ہے نہ بولا جا رہا ہے۔ اس بات  پر ایک بار پھر  سب ہنس پڑے ۔       

سب نے مجھے میرے  حال پر چھوڑ  دیا ، پھر  بانو  آپا  اور فدوی  ایک دوسرے  کی طرف متوجہ ہو گئے ۔  میں نے آپا  جی کو  بتایا  کہ  آپ  کی تخلیق  راجہ  گدھ مجھے کتنا پسند ہے  اور آپ  کا ناولٹ "ایک دن" تو میرا پسندیدہ  ترین ہے ،  وہ میں نے اتنی بار پڑھا ہے  کہ  ا ب تو حفظ ہو چکا ہے۔ آپا  جی مونا لیزا  والی  مسکراہٹ سے نوازتیں  اور فرماتیں "مہربانی"۔  آپا  جی نے  مجھے  اپنی  وراثتی زمین  کے بارے میں بتایا  جو کہ  ضلع لودھراں کے نواح  میں چک 92  اور  چک 95 میں واقع ہے ، اور  جس پہ فراڈئیوں  نے  قبضہ  کیا  ہوا  ہے۔ میں نے  آپا جی کو تسلی  دی کہ  میں چک  92 اور 95  جا کر حالات  معلوم کروں گا۔  جس پر آپا جی نے مجھے دعاؤں سے نوازا۔  میں نے آپا  جی سے کہا  کہ "آپ  میرے آئیڈیل  ادیبوں  میں سر فہرست ہیں، میرے اور میرے قلم کے  حق میں بھی دعا کریں"۔  آپا  جی نے  مجھے فرمایا:۔ "بے فکر  رہو بیٹا!" اور میرے حق میں  دعا فرمائی۔اس کے علاوہ  بہت سی  باتیں ہوئیں ماں بیٹے میں،  جن کا تذکرہ  ضروری نہیں۔
اس دوران  فوٹو گرافر  ہماری تصویروں  پر تصویریں  بنائے جا رہا تھا۔  افی صاحب آپا جی  سے مخاطب  ہوئے اور بتایا  کہ  :۔"آپا جی ! یہ آپ کا اتنا مداح ہے  کہ کہتا تھا ایک  بار آپا  جی کی  خدمت میں حاضری  نصیب  ہو جائے پھرچاہے موت آ جائے  میں مرنے کو تیار ہوں۔" آپا جی  نے  میری  طرف ممتا  بھری  ڈانٹنے  والی نگاہوں سے دیکھا اور  ایک  علامتی  سی چپت  کے طور پر  میرے گال کو پیار سے  چھوا  اور فرمایا:۔ "ایسا  نہیں کہتے بیٹا ۔ زندگی  جینے کیلئے ملی ہے ، اسے چیلنج سمجھ کر  جیو۔" اور  پھر فرمایا کہ:۔"بیٹا  جاب  کی فکر نہیں کرنی ،  جاب مل جائے گی۔" میں  نے  ہنس کے  ان کا ہاتھ پکڑا  اور  کہا:۔ "آپا  جی !  بھاڑ میں جائے جاب۔  آپ سے ملاقات میرے لیے لائف  اچیومنٹ  ایوارڈ ہے۔بس  آپ کا پیار پا لیا  ہے تو   زندگی سے  بھی راضی اور اللہ سے بھی راضی ہو گیا" اور حاضرین  ہنس پڑے  ۔
شام  پانچ بجے سے  یہ محفل شروع  ہو ئی تھی  اور اب رات کے دس  بجنے کو  تھے ۔  آفرین ہے  عالی  جناب محترمہ  بانو قدسیہ آپا  جی  پر  کہ چھیاسی  سال  کی عمر  اور اتنی  ضعیفی کے باوجود   اتنی دیر سے  ہمارے درمیان   تشریف  فرما رہیں ۔  اس  عرصے میں ، ایک  بار  بھی  انہیں اکتائے ہوئے  نہ دیکھا، ایک لمحے کو بھی اس درخشاں  پیشانی پر  ہلکی سی شکن نے  بھی نہ جھانکا تھا۔ بے شک اللہ  والوں کے  رنگ ہی نیارے ہیں۔ 
میں ابھی وہیں بیٹھا تھا  کہ دو لوگوں  نے  مجھ سے میرا فون نمبر مانگا، اور میں نے  دیکھے بغیر دے  دیا،  کیونکہ  آنکھیں تو  آپا جی  پر مرکوز تھیں۔  پھر  محترمہ  عشرت  صاحبہ  نے آپا  جی سے کہا کہ  چھوٹے غالب سے  کہیں کہ غالب کا  کلام سنائے۔  آپا جی مجھے حکم فرمایا  تو  میں نے  جھٹ سے شعر عرض کیا:۔
کھلتا کسی  پہ  کیوں میرے دل کا معاملہ
شعروں  کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
اثیر احمد  خان صاحب  نے دوبارہ پڑھنے کو  کہا تو میں نے وضاحت کی کہ  موجودہ  سیاسی  حالات کے پیشِ نظر  دوسرے  مصرع کو   یوں  بھی پڑھا  جا سکتا ہے کہ :۔
"شیروں" کے انتخاب نے  رسوا کیا مجھے
اثیر صاحب کو حیرانی ہوئی  کہ یہ شعر  غالب کا ہے  ، تو جواباً میں تصدیقی سرٹیفیکیٹ  دے دیا ۔
محترمہ  عشرت صاحبہ  اور ان کی دوست سمیر ا صاحبہ  رخصت ہونے لگیں  تو  افی صاحب انہیں باہر تک چھوڑنے گئے ، اور  مجھ سے ایک نوجوان نے نمبر مانگا  اور ساتھ ہی اپنا تعارف بھی کروایا  کہ  :۔" مجھے امجد  نواز کہتے ہیں، اور  میں بانو  آپا  جی کا منہ بولا بیٹا ہوں"۔ ہم  دونوں  مزید  گپ شپ کیلئے  باہر پورچ میں آ گئے اور   پھر گپوں  کی  پٹاریاں  کھل  گئیں ، یہاں تک کہ افی صاحب  واپس  آئے اور  مجھے ساتھ لیتے ہوئے  اندر چلے گئے۔   اندر  اثیر  احمد خان  صاحب  ارسل مبشر کا  انٹرویو  لے رہے تھے ۔ میں اندر گیا تو میرا بھی انٹرویو  شروع ہو گیا۔  مجھ سے  میری کوالیفیکیشن  پوچھی ۔ بتانے پر   ان کے چہرے پر کچھ ایسے تاثرات ابھرے  جیسے سوچ رہے ہوں  کہ:۔"حلیے سے اتنے پڑھے لکھے لگتے تو نہیں ہو۔"کچھ دیر  کے انٹرویو  کے بعد  انہوں نے  ہمیں رخصت ہونے کی اجازت  دے دی،  اور ہم  الٹے قدموں  چلتے دروازے  سے  باہر نکل آئے ۔ جوتے پہنے اور  شاداں و فرحاں  داستان  سرائے  کے گیٹ سے باہر  آ گئے ۔   
 داستاں  سرائے  کی نیم پلیٹ پر چمکتے الفاظ  کے ساتھ  افی صاحب  نے ایک  میری  اور ارسل  مبشر کی تصویر لی اور دو تین چھلانگوں  میں ہم سڑک کے پار کھڑی افی صاحب کی  کار کے پاس  جا پہنچے ۔  ارسل نے  پچھلی  سیٹ پر قبضہ  جما لیا اور  میں آگے  افی صاحب  کے ساتھ  بیٹھ  گیا۔  افی صاحب  نے گاڑی سٹارٹ  کی اور  ہم وہاں سے چل پڑے۔

0 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما