Thursday, 28 March 2013

چچا ڈھکن (آخری قسط)۔

3 آرا


کہا جاتا ہےکہ انسان پر صحبت کا اثر ضرور ہوتا ہے۔ اگر اس کی نشست و برخاست اچھے لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے تو وہ اقبالؒ کا مردِ مومن بن جاتا ہے ورنہ شفقت چیمہ بن جاتا ہے۔۔۔۔۔یہ بات سو فیصد سے بھی کچھ اوپر تک درست ہےجس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ چچا ڈھکن گائے کی طرح سیدھے اور کبوتر کی طرح شریف انسان تھے۔ ان کے انگ انگ سے شرافت یوں ٹپکتی تھی کہ جیسے پھلوں سے رس ٹپکتا ہےمگر کچھ دنوں سے ان میں تبدیلیاں نظر آنے لگیں ۔ انہوں نے نہ صرف موالیوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا بلکہ ان کے اڈوں پر بھی آنے جانے لگے۔ کبھی وہ بھنگ کیلئے سائیں مٹھو  کے دربار پر چلے جاتے تو کبھی چرس کے دم لگانےسائیں سکھو کے دربار کا رخ کرتے۔ ایک بار تو نشے میں ایسے ٹن ہوئے کہ تن من کا ہوش بھلا بیٹھےاور سرِ عام دھوتی اتار کر ناچنے لگےچونکہ گانے کے بغیررقص پھیکا نظر آتا ہے اس لیے وہ ساتھ ساتھ گا بھی رہے تھے۔۔۔۔۔۔
ہنگامہ ہے کیوں برپا ، تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکا تو نہیں ڈالا ، چوری تو نہیں کی ہے
آکر رقص کرتےکرتے امراؤ جان ادا کی طرح لڑکھڑا کر زمین پر گرے اور انٹاغفیل ہو گئے۔ ان کے ساتھی انہیں گدھا ریڑھی پر ڈال کران کے گھر لے گئےکہ دوست وہ جو مصیبت میں کام آئے۔ ان کی زوجہ نے جب انہیں نشے میں دھت دیکھا تو وہ حیران و پریشان ہو گئیں ۔ اس سے پہلے کہ ان کی حیرت کا ناپ مزید بڑھ جاتا ، وہ سنبھل گئیں ۔ وہ سیدھی باتھ روم گئیں اور یخ پانی کی بالٹی لے کر الٹے پاؤں واپس آگئیں ۔ وہ بھری ہوئی بالٹی ان کی چوٹی پر انڈیل دی جس سے ان کی پوری بلڈنگ تر بتر ہو گئی۔ اس ترکیب سے ان کا آدھا نشہ ہرن ہو گیا ، باقی مشکل اچار کی ڈلی نے حل کر دی ۔ انہوں نے نہائی ہوئی بھینس کی طرح سر کو دو تین جھٹکے دئیےاور اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس موقع پر بیگم نے انہیں خوب لعن طعن کی اور انہیں کچھ غیرت کھانے کو کہا ۔وہ سر جھکا کر سب کچھ سنتے رہےکیونکہ بیگم کے سامنے تو رستم کی بھی چوہے جیسی حیثیت نہیں ہوتی وہ تو پھر چچا ڈھکن تھے۔جواب میں منہ سے ایک لفظ تک نہیں بولے البتہ اشاروں کی زبان میں فقط اتنا کہا کہ انہین بالکل نہیں پتا کہ یہ سب کیسے ہو گیا۔
اگرچہ ان کی بیگم اس وضاحت سے مطمئن تو نہیں ہوئیں مگر اس کے باوجود سر ہلا کر رہ گئیں ۔ اس کے ساتھ ہی انہیں وارننگ دے دی کہ اگر آئندہ ایسی حرکت کا ارتکاب کیا تو ان کا گھر میں نہ صرف داخلہ بند کر دیا جائے گا بلکہ حقہ پانی اور بجلی گیس بھی بند کر دی جائے گی۔ یہ دھمکی سن کر وہ سہم گئے اور کانوں کو ہاتھ لگا کر بولےکہ ان کے باپ کے باپ کی توبہ جو آئندہ وہ نشے کے قریب بھی پھٹکیں ۔ اگر پھٹکیں تو بے شک رنڈوے ہو جائیں۔۔۔۔۔
قدرت کی ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ وہ رنڈوے تو نہیں ہوئےالبتہ ان کی بیگم بیوہ ضرور ہو گئیں۔
ہوا یوں کہ وہ قریبی گاؤں سےکتوں کا عظیم الشان دنگل دیکھ کر واپس گھر آرہے تھےکہ مخالف سمت سے آنے والےایک پاگل ٹرک نے انہیں ٹکر مار کر چاروں شانے چت کر دیا ۔ انہیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لا کر ناک آؤٹ  ہو گئے۔ حسنِ اتفاق سے ان کی جیب میں بجلی کا بل موجود تھا جو کہ انہوں نے اسی دن بنک میں جمع کرایا تھا ، اس بل سے ان کی شناخت ممکن ہو سکی۔
ان کا پارسل جب ایمبولینس کے ذریعے ان کے مرکزی ٹھکانے پر پہنچا تو گلی میں کہرا م برپا ہو گیا ، ہر شخص ان کی بے وقت موت پر افسوس کا اظہار کر رہا تھا۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ بیگم کی بدعا انہیں لے ڈوبی ہے جبکہ کچھ دیندار بزرگوں کا خیال تھا کہ ان کا وقت پورا ہو گیا تھا ۔ حقیقت چاہے کچھ بھی ہو مگر یہ بات سچ ہے کہ ان کی المناک موت سے جہاں پہلوانی کی صنعت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ، وہاں شہر ایک عظیم انسان کی رفاقت سے محروم ہو گیا ، کیونکہ ایسے نادر نمونے صدیوں بعد تولد ہوتے ہیں ۔
حق مغفرت کرے ، عجب آزاد پہلوان تھا

3 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما