Friday, 17 May 2013

ڈبویا مجھ کوہونے نے (قسط دوم) ۔

3 آرا

ایں خانہ ہمہ آفتاب است


ابھی  تک آپ  نے  صرف ہمارے  خاندان  کے ذکور  کی ہی چند منتخب  مثالیں پڑھیں ۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس "الجلال و الکمال"  کا تاج صرف  ذکور  کر سر ہے ۔ ضروری ہے  کہ چند مثالیں  طبقہ  نسا ء سے  بھی  ذکر   کی جائیں ۔تاکہ  یہ واضح  ہو جائے ایں خانہ ہمہ  آفتاب است۔
بہت ہی مشہور جملہ ہے کہ ہر کامیاب مرد  کے پیچھے عورت  کا ہاتھ ہوتا ہے ۔  بالکل  سچ ہے ۔ حضرت آدم علیہ  السلام سے   لے کر  آج  تک  یہ صورت چلی آتی ہے کہ مرد کی  صرف کامیابی ہی نہیں اس کی ناکامی کے پیچھے بھی کوئی زنانہ  ہاتھ ہوتا ہے۔میں نے اپنے خاندان کے پیر فقیر  ، مجذوب تو ذکر کر  دئیے  ۔ اور قارئین نے پڑھے  لیکن ان عظیم ماؤں کو  خراجِ تحسین  پیش  نہ کرنا صریح زیادتی  ہے ۔ جن کے "مکتبِ گود"  ان حق پرستوں کی تعلیم و تربیت ہوئی ۔  
سب سے پہلا  خراجِ تحسین پیش  کیا جاتا ہے  ان  عظیم والدہ ماجدہ  ام المومنین حضرت  سیدہ   خدیجہ  الکبریٰ  رضی اللہ  تعالیٰ  عنہا کی جناب میں کہ  جن کی  مبارک  گود  میں سیدہ  خاتونِ جنت رضی اللہ تعالیٰ  عنہا  کی  تعلیم و تربیت ہوئی ۔  پھر  یہ  الجلال والکمال  کا سلسلہ  آگے  بڑھا ۔  اور  اس  مکتب  سے  دو  سردارانِ  جوانانِ جنت   فارغ التحصیل  ہوئے ۔یہ یقیناً  عظیم  والدہ ماجدہ  کی  ہی تربیت  و تعلیم  تھی کہ  ایک  مسلمانوں  میں خانہ جنگی  کے خاتمہ اور دو گروہوں  کے  درمیان  صلح   کا  باعث  بنا۔ اور  ایک  نے اہل  و عیال  و جانثار  کٹوا  دئیے  ،  اور خود  نیزے پہ  قرآن سنایا ۔ اپنے  عظیم  نانا  جان کا دین بچایا۔
اسلام  زندہ ہوتا ہے  ہر  کربلا کے  بعد 
یہ سلسلہ جاری ہے ۔   دنیا صرف ایک  رابعہ بصری  سے واقف  ہے ۔  جبکہ ہمارے  خاندان میں  آدھی  قلندروں  کی  لائن لگی  ہے ۔   طوالت سے بچنے کیلئے  میں حسبِ  سابق زیادہ  دور نہ جاتے ہوئے  اپنے زمانے  سے  قریبی  چند مثالوں  پر اکتفا کروں گا۔لیکن اس  سے پہلے  آپ  ایک بات  ذہن نشین  کر لیں ۔
ایک آدمی کو مرشد کامل  کی تلاش تھی ۔  اس نے ایک بزرگ کے  بارے میں  سنا  کہ  وہ بہت  باکمال  اور پہنچے ہوئے ہیں۔ وہ  دور دراز کا سفر کر کےان کی  خدمت میں حاضر ہوا ۔  کچھ دن ان  کے ساتھ رہا ۔  ایک دن واپسی کا قصد  کر کے  اجازت  لینے کو آیا  تو  کہنے لگا حضرت  میں  دور دراز  سےآپ کے کمال  کا شہرہ  سن کے  یہاں آیا تھا ۔ مگر  اتنا عرصہ آپ کے ساتھ رہنے کے باوجود   میں نے  آپ کی  کوئی کرامت  نہیں دیکھی ۔  مجھے بہت  مایوسی ہوئی ۔ بزرگ نے مسکرا کے  فرمایا  میاں  جتنا  عرصہ  میرے ساتھ رہے  ہو  کیا اس  دوران  تم نے  میرا کوئی  عمل  خلاف  ِ شرع  دیکھا ۔  نفی  میں سر ہلا کے بولا :۔ جی نہیں میں نے آپ کا کوئی  عمل خلافِ شریعت نہیں پایا ۔  بزرگ  نے فرمایا :۔  تو پھر  تم اور کونسی  کرامت  کے متلاشی  ہو۔۔۔؟؟
ہماری اماں  جان سے  روایت کہ ان  کی  پھوپھی  جان(یعنی  میرے  دادا  جان اور نانا  جان کی بہن صاحبہ ) پیدائشی  مجذوب تھیں۔  ایک  بار  ان کی  والدہ  نے بیٹی  کے تزکیہ نفس کا ہولناک  نظارہ  دیکھ لیا ۔  کمرے  میں  ان  کےٹکڑے بکھرے  پڑے تھے ۔  ماں  تھیں چیخ پر قابو نہ پا سکیں ۔ اور ٹکڑے  جڑ کر  دوبارہ  ثابت  و سالم ہو گئے ۔  بیٹی نے حیرانی  سے ماں  سے پوچھا کیا  ہوا؟ ۔ اوراس  کے  بعد  یہ  راز کھل گیا کہ  ان مجذوبہ  عالیہ  کا یہ  معمول تھا  کہ  عالم تنہائی میں  ٹکڑے  ٹکڑے  ہو جاتی تھیں ۔ 
ہماری  دادی جان  اپنے  والدین کی اکلوتی  اولاد  تھیں۔  ان کے  والد  صاحب حضرت  شاہ خدا بخش  شاہ ؒ صاحب  کے بچپن  کا انگاروں  والا  واقعہ آپ   پہلی  قسط میں پڑھ چکے ہیں۔  ایک مجذوب  کی اکلوتی  بیٹی  میں  ظاہر  ہے  وہ  سب خصوصیات  بدرجہ اتم  موجود تھیں ۔  (ارتقا کا  نظریہ  اپنے ذہن میں حاضر رکھیے)

میری نانی  جان  بھی  اپنے  والدین  اکلوتی صاحبزادی  تھیں ۔انہی  سے  ہمارا ایک بار پھر اُچ شریف  سے  رشتہ  جڑا۔ ماشاءاللہ  کمال کا حافظہ پایا  تھا ۔  دیوانِ فرید   اور عارفانہ  کلام  کی حافظہ تھیں ۔  ایک عالمِ دین کی بیٹی اور  ایک عالمِ دین  کی زوجہ محترمہ ہونا سونے پہ  سہاگہ ۔  علمِ  حدیث و علمِ فقہ  میں  بڑے بڑے  ان کے سامنے  پانی بھرتے  تھے۔ ہمارے  خاندان میں تقریباً سب سے زیادہ سے  طویل  العمری  کا اعزاز  بھی  انہی  کے حصے میں ہے ۔ ۔ اوروہ   مرعوبیت شاید  تا عمر  نہ جائے ۔حالانکہ  جلال  تو  ہمارے  خاندان  کا  خاصہ  ہے  مگر  وہ   بے حد  جلالی مزاج  کے  ساتھ  ساتھ بے حد  شفیق  تھیں ۔ میں  اس  بات پہ  ہمیشہ حیران ہی رہا  کہ  انہیں اپنے  پوتے پوتیوں  نواسے  نواسیوں  کی  فوج ظفر  موج میں سے ہر ایک  کا  مزاج  اور  اس  کی دلچسپیاں  ہماری ماؤں سے زیادہ  معلوم  تھا ۔ شاید ان  کی اولاد  کے حصے  میں  صرف جلال  اور  اولاد  کی اولاد  یعنی  ہمارے حصے  میں  شفقت آئی ۔  ہر ایک  کو یہی  لگتا  ہے  میں ہی  ان کا  /کی سب  سے  زیادہ میں ہی ان کا  لاڈلا /لاڈلا ہوں ۔ آخر  دن تک  ان کے حواسِ ظاہری  و باطنی میں سوائے بصارت کی کمزوری  کے اور کوئی  فرق نہیں آیا ۔ میں نے انہیں ہمیشہ  اپنے کام  خود کرتے دیکھا ۔  انہیں شاید  چار بیٹوں اور  چار بیٹیوں میں  سے کسی پر بوجھ بننا  گوارہ نہ تھا ۔  اور  یوں ان کا  گھر جیسے ہمارے سارے خاندان کی چوپال  تھی ۔ وہ نہ صرف ہمارے خاندان  کی  وحدت اور  یکجائی  کی علامت اور سبب تھیں بلکہ  اُم البلد  تھیں۔  سارے شہر  کی اماں جان  تھیں۔ان کی وفات  پر  جیسے  سارا  شہر  اور  نواحی  مواضعات اور  گاؤں  سوگوار  تھے۔  دھنوٹ کی تاریخ  میں اس  سے پہلے  شاید  اتنا  ہجوم  کسی  جنازے میں  نہ دیکھنے  کو آیا   نہ اب  ہوگا۔ان  کے  بعد  ہمارے  خاندان  کا  وہ  رنگ   نہ رہا ۔ اور  ہماری  وحدت پارہ  پارہ  ہو گئی ۔میں ہمیشہ  ان سے متاثر رہا  اوروہ   مرعوبیت شاید  تا عمر  نہ جائے کیونکہ  اسی گود  میں میری  اماں نے پرورش  پائی  تھی۔

اب  تذکرہ  ہوجائے  میری آئیڈیل  خاتونِ  معظم کا ۔ میری  پیاری اماں  جان کا۔اور  میں انگشت بدنداں ہوں کہ الفاظ کہاں سے ڈھونڈ لاؤں  جو  میری آئیڈیل خاتون  کا  بیان کرنے  قابل ہو ں ۔اگر دیکھا جائے تو میں کہہ سکتا ہوں کہ  میں  حضرت آدم علیہ السلام کی نسبت خوش قسمت ہوں  کیونکہ ان کی کوئی ماں نہیں تھیں ۔ جبکہ  مجھے  یہ نعمت ِ خداوندی  میسر آئی ۔ اس بات پر  نہ صرف مجھ پہ  بلکہ ہرقاری  پر  اللہ تعالیٰ  کا شکر  واجب ہے ۔ 
میں بڑا ہی سخت سٹینڈرڈ رکھتا ہوں  ایویں کسی سے متاثر نہیں ہو جاتا ۔ مگر میری اماں میری آئیڈیل خاتون ہیں 
میں حضرت رابعہ بصریؒ کو آدھی قلندر بھی مانتا ہوں ، مجھے ان کے اعلی مرتبے میں بھی کوئی شک نہیں ، نہ ان کی ولایت پر کوئی شبہ۔ مگر میں کبھی ان سے بھی اتنا متاثر نہیں ہوا ، جتنا میں اپنی اماں سے متاثر ہوں۔
ہمارے وسیب میں ایک محاورہ بولا جاتا ہے "بسم اللہ دا ویلا"
جب کسی کی سادگی اور معصومیت اور اس کی دلی کشادگی کا ذکر کرنا ہو تو کہتے ہیں کہ "فلانڑا تا، بسم اللہ دے ویلے دا اے"( فلاں بسم اللہ کے وقت کا ہے)۔ اور یہ صرف میں نہیں ہمارا پورا خاندان اور تمام وسیب کی عورتیں کہتی ہیں ، کہ ۔۔۔۔ بی بی بسم اللہ دے ویلے دی اے۔
میری اماں بالکل ان پڑھ ہیں ۔ مگر مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی شرم نہیں کہ میں نے غالب ؔکے مشکل سے مشکل ترین اشعار کا مطلب اپنی اماں سے سمجھا۔ میری اماں شاعرہ بھی ہیں ، کوئی باقاعدہ بیاض دیوان والی شاعرہ نہیں ۔ فی البدیہہ کہنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں ، اور اشعار گننے کا ہوش کس کو رہتا ہےسنتے وقت بھلا ۔ سرائیکی میں بے حد اعلی شعر اور بڑے راز کی باتیں مجھے اپنی اماں کی شاعری میں مل جاتے ہیں ۔ایک بار اماں نے مجھے نوٹ کرتے دیکھا، تو روک دیا، اب میں انہیں چھیڑ کے موبائل  ریکارڈرآن کر لیتا ہوں۔
نمونہ کلام ملاحظہ ہو :۔
گھڑے بھرن چوڑے والیاں 
رنگو رنگ گھڑیاں دا ڈھیر
نا کر مان سہاگ دا
نہ  پئی بانہہ دگھیر
چوڑے والی ہک ادھ 
باہوں بٹیاں ڈھیر
اتھ تاں تئیں پا نہ کتیا
اگھاں پچھیسن سیر

اکثر میں ہنستا ہوں ، کہ اماں آپ نے ہم بھائیوں کے نام اتنے زبردست کیسے رکھ لیے؟ حالانکہ ہمارے علاقے کے رواج کے مطابق ہمارے نام اللہ بخش، خیر دین، غلام رسول ، اسلم ، اکرم ، نذیر وغیرہ ہونے چاہیے تھے ۔مگر آپ نے چن چن کر "حسنین" (میرے بڑے بھائی) جنید (مجھ سے بڑا بھائی) اور اویس  رکھے ۔ کسی اور کے گھر پیدا ہوا ہوتا تو میرا نام بھی  اللہ وسایا ہوتا۔
میں نے قرآن مجید گھر میں ہی پڑھنا سیکھا تھا ،حافظ بھی نہیں ہوں ،  مگر اللہ کا شکر ہے تراویح میں حافظ صاحب کو لقمے دے لیتا ہوں۔ اور یہ سب میری اماں کا کمال ہے۔صرف قرآن مجید  ہی کا کیا ذکر ، اکثر معاملوں میں میری استانی محترمہ  میری پیاری اماں  ہیں۔ لوگ  مدتوں  کی  ریاضتوں  اور  گہرے  مطالعے  و  اساتذہ  کے  سامنے  گھٹنے  ٹیک  کر  جو  دقیق مسائل  سیکھ  کر جامے سے باہر ہو جاتے  ہیں۔ بلامبالغہ  یہ باتیں ہماری مائیں  ہمیں  گود میں ہی  سمجھا  اور گھٹی میں  گھول  کے پلا دیتی ہیں ۔حضرت سلطان  باہورحمۃ اللہ  علیہ  فرماتے  ہیں کہ اگر  عورت  کی  بیعت جائز ہوتی  تو  میں اپنی  والدہ محترمہ  کے دستِ حق پر بیعت کرتا ۔  اور یہی  قول  فدوی  چھوٹے  غالب  کا  بھی  ہے۔

اس  سلسلے  کی  اگلی  کڑی  ہے  ۔ مومنہ  زینب۔
یہ کہنا بہت  مشکل ہے  کہ  میرا مومنہ  سے  کیا رشتہ  ہے ۔  مومنہ  میری  شاگرد  بھی  ہے  اور  میری  استاد  بھی ۔  کہنے کو میری بھانجی  ہے  مگر  میری  بہن ہے۔میری  سب  سے  بہترین دوست  ہے بلکہ  میری  موم جاناں  ہے ، میری  پیاری  بیٹی  ہے ۔  سنا ہے  بچپن  میں ، چھوٹا  غالب  بہت  ذہین تھا ، مگر مومنہ  نے تو ذہانت  کے  تمام ریکارڈ ایک ہی جنبش  سے  توڑ دئیے ۔  اس قدر  ذہانت  کہ  کبھی کبھی  میری  اماں  جان  گھبرا  جاتی  ہیں کہ یہ  بچی  زندہ  بھی  رہے گی یا  نہیں۔ اللہ  تعالیٰ اسے  خوشیوں  اور  سکھ بھری زندگی دے ۔محترمہ  ابھی  تیسری  کلاس  میں  اور  علم  ِ فلکیات  میں  دلچسپی رکھتی ہیں۔مجھے  اس بات کا اعتراف کرنے  میں  کوئی  باک نہیں کہ میں نے  کہانیاں لکھنے کا ہنر  مومنہ سے سیکھا ۔   محترمہ  4 سال  کی عمر  سے  باقاعدہ  کہانیاں گھڑ گھڑ  کر  سناتی آ رہی  ہیں۔ چشم ِ بد دور۔۔۔۔۔
  کمپیوٹر  میں  میری شاگرد  ہیں اور بعض  خاندانی اختلافات  کے باعث میرا مومنہ کے ذریعے ارفع کریم کا ریکارڈ  توڑنے کا خواب  شرمندہ تعبیر  نہ ہو پایا ۔  خیر  ابھی  تو  محض سات سال کی ہے ، اور  ستاروں  سے آگے  جہان  اور بھی ہیں۔


وجود ِ زن سے  ہے۔۔۔۔۔


اب تک  تو  چند  گہر بار  ہستیوں  کا  تذکرہ ہوا  ، لیکن  اس کا یہ مطلب  نہیں کہ ہمارے خاندان  میں بس یہی چند   گنج ہائے  گرانمایہ  ہیں۔  جس خاندان  کے   لڑکے  بھی  کسی  زمانے میں بمشکل مڈل  اور  پھر  میٹرک  تک دنیاوی تعلیم  حاصل  کرتے تھے ۔ لڑکیوں  کی تعلیم کا تو ذکر ہی  کیا ۔۔۔۔ الحمد اللہ  اب اسی  خاندان  میں ایم اے  اردو ، ایم اے انگلش ،   چھوڑ  ایم فل،  پی ایچ  ڈی   کی  تعلیم  تک  لڑکیوں  کی رسائی  ہے ۔  اس  روایت  شکنی  کے  پیچھے  ہم جیسے  چند  روایت شکن سر پھرے نوجوانوں کا  نام آتا  ہے ۔
پچھلی  قسط میں جلال کے تذکرے اور  خالص دیہاتی  ماحول   کی روایات  سے شاید  کسی  کے دل میں  ہمارے خاندان میں  عورت  کے مقام پر  کوئی  شک شبہ  اٹھے تو  یہاں  ضروری ہے  کہ  اس  بات کی وضاحت  کر دی جائے  کہ ہماری مائیں ہمیں پہلا سبق  خواتین کی عزت اور احترام کا دیتی ہیں ۔  جس  کی وجہ سے ہمارے خاندان  کے بڑے  سے بڑے جلالی اور سر پھرے بھی خواتین کی  غیر مشروط  عزت  اور  احترام کے قائل  ہیں۔  ویسے  بھی ہمارے  خاندان پر  تقریباً  خواتین راج  ہی رہا  ہے ۔  گھر  کے  معاملات  میں خواتین  کو کلی  اختیار  حاصل  ہے ۔  
اس کے  چند  مثبت  نتائج  کے ساتھ ساتھ منفی  نتائج بھی ظہور میں آئے  ہیں۔ خاندانی  اختلافات  ، دوریاں  اور تقسیم در تقسیم  بھی خواتین  کی عنان گیری  کے  نتیجے  ہیں۔اس قسم کے زیادہ  تر   کیس بیرون  خاندان  سے آنے والی  خواتین کے  کرشمے  ہیں۔ لیکن  کچھ ایسی عفت مآب  خواتین  بھی ہیں جو کہ  بیرون ِ خاندان سے آئیں اور ہمارے لیے  رشکِ خاندان  بن گئیں ۔  ان سب عفیفات  کو  میرا  سلام 
       

3 آرا:

  • 18 May 2013 at 11:25
    Anonymous :

    عالی نسب خاندان کی عالیشان و گہر بار ہستیوں کے تذکرے نے دل کو بہت ارور دیا ، بے شک ایسی گنج ہائے گرانمایہ ہستیاں ہی خاندان کی اساس اور اکائی کی علامت ہوتی ہیں
    تمہاری نانی مرحومہ و مغفورہ کی قبرِ انور پر اللہ پاک کروڑ ہاکروڑ انوار و تجلیات کی بارش فرمائے آمین
    تمہاری پیاری اماں جان کو اللہ پاک عمرِ خضر عطا فرمائے اور انکا سایہ اپنے بچوں کے سروں پر سلامت رکھے آمین
    اماں جان کی خدمت میں میرا سلامِ عقیدت
    اللہ سادات کرام کے اس خاندان کو سدا سلامت اور آباد رکھے آمین

  • 18 May 2013 at 11:29
    Anonymous :


    گھڑے بھرن چوڑے والیاں
    رنگو رنگ گھڑیاں دا ڈھیر
    نا کر مان سہاگ دا
    نہ پئی بانہہ دگھیر
    چوڑے والی ہک ادھ
    باہوں بٹیاں ڈھیر
    اتھ تاں تئیں پا نہ کتیا
    اگھاں پچھیسن سیر

    اویس اسکا ترجمہ بھی لکھ دیتے تو میں بھی کچھ سمجھ لیتی نا


    اوپر کے تبصرے میں ٹائپو ہوگیا ہے اور اسکو درست بھی نہیں کیا جاسکتا

    میں یہ لکھنا چاہ رہی تھی کہ دل کو بہت سرور دیا

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما