Sunday, 19 May 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط پنجم) ۔

1 آرا


شکر خورے کو خدا شکر دیتا ہے


دن کو ورکشاپ میں کام کرتا اور رات کو رہائش کیلئے شاہ صاحب کے ایک دوست ، جو کہ ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی پوسٹ پر ملازم تھے کا گھر مستقر  مقرر ہوا۔وہاں جاتے ہی جوگی کو مانوس سی خوشبو آئی ، غور کرنے پر معلوم ہوا کہ ساتھ والے کمرے میں کتابوں سے بھری دو الماریا ں ہیں ۔گویا  ٹارزن  جنگل  میں آ گیا ۔۔۔۔   کانٹوں  کی  طرح کتابوں کی  زباں پیاس  سے سوکھ  رہی تھی ۔  ان کی دعا  سے  یہ آبلہ پا  وادیِ  پُر خار میں آن  پہنچا۔کتابوں نے  خوشی  سے ایک  دوسری  کو  مبارک باد  دی کہ "غمخوارِ جانِ دردمند آیا"۔  پھر یہ معمول بن گیا کہ دن کو ورکشاپ کی خجل خواری کے بعد رات دس بجے سے صبح 6 بجے تک کا ٹائم نسیم حجازی کے نام ہو گیا۔پہلا ناول "پیاسی ریت" جو پڑھا تو  "چھاپ تلک سب چھین لیے موسے نیناں ملائی کے" ۔
 ایک دن نذیر  صاحب ( اسٹیشن ماسٹر)نے پڑھتے دیکھ لیا ، بہت  حیران ہوئے ، اور اس سے بھی زیادہ حیران تب ہوئے جب انہوں نے دیکھا کہ 530 صفحات پڑھ بھی چکا ہے ، اصل میں ان کا خیال تھا کہ شاید یہ نالائق بچہ تھا جسے مجبورا ً ماں باپ نے ورکشاپ کے کام پرلگا دیا ، مگر ان کی حیرانی انتہا نہ رہی جب اسی نالائق دس، گیارہ سال کے بچے کو نسیم حجازی کا ضخیم ترین ناول رات کو جاگ کر  پڑھتے دیکھا۔ پوچھا کہ کچھ سمجھ بھی آتا ہے یا بس اینویں ہی کتاب کھولی ہوئی ہے ، جواباً جوگی نے کہا کہ آپ پچھلے 500 صفحات میں سے کوئی سا بھی صفحہ کھول کے مجھ سے زبانی سن لیں۔یا پھر اب تک پڑھے گئے ناول کا خلاصہ سن لیں۔ اسٹیشن  ماسٹر صاحب شاید مجذوب کی بڑ سمجھ لیتے مگر آزمانے پر معلوم ہوا کہ جسے وہ نالائق بچہ سمجھتے تھے وہ تو "غضب نکلا ، ستم نکلا۔"
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ جو اپنے بچوں کو ڈراتے تھے کہ دیکھو دل لگا کر نہیں پڑھو گے تو جوگی کی طرح ورکشاپ میں بھیج دیں گے، اب وہی اٹھتے بیٹھتے جوگی یہ جوگی وہ کرتے ۔ اور بات بات پہ اپنے بچوں کو جوگی کی مثالیں دیتےکہ ریختے کے تمہی  استاد نہیں ہو ۔ 
"پیاسی ریت" کے بعد "اندھیروں کے ساربان" کا نمبر آیا اور پھر تو سلسلہ چل نکلا ، اور جوگی کا شعور جو چاہِ یوسف  میں آزادی کیلئے پھڑپھڑا رہا تھا نسیم حجازی صاحب کے رسے کی مدد سے نکلتا چلا گیا ، اور آزاد فضاؤں کی سیر کرنے لگا۔اب جب کہ حقیقت اپنی  تمام تر تابناکی  سے یہ آشکار کر چکی تھی  کہ "قطرہ اپنا بھی حقیقت  میں دریا ہے " تو اپنے تیل ، گریس سے داغدار ہاتھوں ، کپڑوں سے نفرت سی محسوس ہونے لگی 


شاہین کا جہاں اور ہے



اب جوگی کو محسوس ہونے  لگاکہ نہیں میرا نشیمن کاروں موٹروں کے بونٹ پر ، میں شاہین ہوں بسیرا کروں گا اقبال ؒ  و غالبؔ کے  دیوانوں  پر
بغاوت تو دل میں اسی وقت سے پنپنے  لگی تھی جب سے دشت ِ امکاں  میں  نقشِ پا  پایا  تھا ۔مگر استاد ِ عالیشان کا  فرمان مانع  تھا  کہ "چاک مت کر  جیب بے ایام  ِ گل ۔"  ۔ پس  جونہی  "ادھر  کا اشارہ  " پایا تو آتش فشاں پھٹ  پڑا ۔بغاوت  کا درفشِ  کاویانی  لہراتے ہوئے جوگی نے ورکشاپ میں کام کرنے سے انکار کر دیا۔یہ محض  چھوٹا سا    انکار نہ تھا ۔صدیوں پر  محیط  فرمانبرداری کا  طلسم  توڑنے  کا  گناہ تھا۔  اور اس خاندان میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی بچے نے بڑوں کے سامنے آوازِ حق بلند کی اور ڈٹ گیا۔
"بڑائی" کے ایوانوں میں جیسے زلزلہ سا آ گیا ۔ اور متفقہ  فیصلہ ہو اکہ بغاوت کو کچل دیا جائے ، اور نشانِ عبرت بنا دیا جائے تاکہ اس خربوزے کی  دیکھا دیکھی  دوسرے  خربوزے  بھی رنگ نہ پکڑ  لیں اور  کسی اور کو جرات نہ ہو بڑوں کے سامنے بولنے کی۔سب نے جی بھر کےجوہرِ دست  و بازو  دکھایا ۔ مار مار کے ڈنڈے توڑ دئیے، مگر جو حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ کو پڑھ چکا تھا وہ بھلا کیسے پیچھے  ہٹنے  والاتھا ، احد احد کی صدا بلند ہوتی رہی ۔
 آخری حربے کے طور پر جوگی کو گھر سے نکل جانے کا حکم ہوا ، کہ باہر کے دھکے کھائے گا تو دو تین دن میں دماغ ٹھکانے آ جائے گا ۔
اہل ِ تدبیر  کی واماندگیاں 
آبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں
جوگی خوب  ہنسا۔۔۔۔۔۔۔۔


غالبؔ خستہ کے بغیر کام کونسے بند ہیں 


  اب  جبکہ دونوں طرف سے انا بیچ میں آ چکی تھی ،مسئلہ حل ہونے کا تو دور دور تک کوئی نشان نہ تھا ۔واں وہ غرور ِ عزو  ناز، یاں یہ حجابِ پاسِ وضع۔  سارا دن وحشت  خرامی  اور دشت نوردی   میں گزر تا ،  اور  شام کو  پاؤں پسار کے  سو جاتا ۔
جب میکدہ  چھٹا  تو  پھر اب کیا جگہ کی قید
مسجد ہو  ، مدرسہ  ہو،  کوئی خانقاہ ہو
تین دن تو فاقے  سے  گزر  ہی گئے ، چوتھے دن خدا یاد آ گیا اور عشا کی نماز کے وقت مسجد میں جا پہنچا ۔ وہاں مدرسے کے طالب علم پڑھتے تھے ، سوچا شاید کچھ مل ہی جائےگا۔مگر سوائے سوکھی روٹی کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کے کچھ ہاتھ نہ آیا ۔شکر ادا کیا اور وہی لے جا کر وضو کرنے والی ٹونٹیوں میں بیٹھ گیا ۔ چبانے کی کوشش کی مگر روٹی شاید تین چار دن سے زیادہ پرانی تھی ، چبائی نہ گئی ، اس لیے پانی میں بھگونے بیٹھ گیا  ۔امام صاحب کی نظر پڑی تو انہوں نے سمجھا شاید کوئی طالب علم ہے جو نماز پڑھنے کی بجائے ٹونٹیوں پر بیٹھا وقت ضائع کر رہا ہے ۔وہ غصے میں بھرے اپنی دانست میں اس کام چور طالب علم کو پکڑنے آئے  جو نما ز نہیں پڑھتا الٹا پانی ضائع کر رہا ہے۔ مگر جب ایک اجنبی بچے  کو روٹی کا سوکھا ٹکڑا چباتے دیکھا تو شاید ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا ۔ نہایت حیرانی سے پوچھا تم کون ہو بیٹا، اور رات کے نو بجے یہاں کیا کر رہے ہو؟ گھر کیوں نہیں جاتے ؟ کس کے بیٹے ہو ؟وغیرہ وغیرہ


ہے کچھ ایسی بات جو چپ ہوں ورنہ


جوگی نے تو کچھ نہ بتایا ، البتہ ایک طالب علم نے پہچان لیا کہ بیٹھا ہے جو کہ سایہ دیوارِ یار میں ،  فرمانروائے کشورِ ہندوستان  نہ  سہی  مگر  یہ بندہ کمینہ  جو  ابھی   مہمانِ  خدا  ہے  فلاں جگہ کا رہنے والا ہے اور فلاں کا بیٹا ہے ۔ امام صاحب کی حیرت دو چند ہو گئی ۔۔۔۔۔بیٹا گھر کیوں نہیں جاتے ۔۔۔۔یہاں بیٹھ کر سوکھی روٹی چبانے سے تو اچھا ہے کہ گھر چلے جاؤ ۔۔۔۔ ماں باپ سے معذرت  کر لو وغیرہ وغیرہ  ۔۔۔۔
 اور سمجھانے بجھانے کی بہت کوشش کی مگر جوگی نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ میں غلطی پر نہیں ہوں اس لیے معذرت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے  ، ہم اپنی وضع  کیوں چھوڑیں 
اور سوکھی روٹی کھانے کا مجھے شوق نہیں آج چوتھا دن ہے کچھ نہیں کھایا اس لیے مجبوراً یہی چبا رہا ہوں ۔ لیکن میں بھوکا مرتو جاؤں گا لیکن وہ غلطی اپنے سر نہیں لوں گا جو میں نے کی ہی نہیں ۔ امام صاحب تو سچ مچ یہ سن کر رو پڑے ، بولے بیٹا میں  آپ کے نانا جان کا مرید ہوں۔  اور اگر گھر نہیں جانا تو کم از کم میں  تمہیں تمہارے  ماموں کے گھر ہی پہنچا آتا ہوں  ، مگر جوگی نے صاف انکار کر دیا، کیونکہ :۔
 گزراوقات کر لیتا ہے کوہ و بیاباں میں 
 ذلت ہے شاہیں کیلئے کارِ آشیاں بندی    
 ناچار جوگی کے ماموں تک اطلاع پہنچائی گئی اور ان کے توسط سے  مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا ۔ والد صاحب کا موقف تھا کہ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم اس کی پڑھائی کا خرچہ نہیں  اٹھا سکتے۔ اصل مسئلہ تو بغاوت ہے ، اس نے بڑوں کے فیصلے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ ہمیں اکڑ کے دکھا رہا ہے ۔ اس عمر میں اس کا یہ حال ہے  تو آگے کیا کرے گا۔ آخرکار شرط یہ ٹھہری کہ جوگی معافی مانگ لے تو نہ صرف تعلقات معمول پر آ سکتے ہیں بلکہ جوگی کو منہاج القرآن  لاہور میں داخل بھی کروایا جا سکتا ہے ۔(وہاں کچھ چچا زاد اور خالہ زاد بھائی  زیر تعلیم تھے) مگر جوگی نےسفید  انکار کر دیا، جب میری غلطی ہی نہیں تو میں معافی کیوں مانگوں ۔
 کوئی بڑا چھوٹا نہیں ، اسلام مساوات کا سبق دیتا ہے ، اور جہاں والدین کے حقوق ہیں وہاں اولاد کے حقوق بھی ہیں ۔ جب تک کوئی اپنا فرض پورا نہیں کرے گا وہ مجھ سے کیسے میرا فرض نبھانے کی بات کر سکتا ہے۔آخرکار مذاکرات ناکام ہو گئے۔

1 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما