Friday, 21 February 2014

ڈبویا مجھ کو ہونے نے 21 (قسط بیست و یکم )۔

1 آرا

بلائے جاں ہے غالبؔ  ، اس کی ہر بات


شیطان کی آنت  کا پھر بھی کوئی نہ کوئی  اختتام ہو سکتا  ہے ، مگر  جوگی اور وسیم کی شرارت  ایجادی   بے لگام و بے اختتام  تھی ۔سونے پہ سہاگہ  ان  کی  دیدہ  دلیری  اور  ہاتھ  کی صفائی ۔ایسے کرتوت نما  کارناموں کے موجد  ہوئے  کہ  شیطان  بھی پناہ  مانگے ۔ شیطان سے گلو خلاصی  تو  بہت  سستی  ہے  مگر  ان   کے  ڈسے کو  نہ  لاحول   فائدہ  دیتا  نہ ہی آیت  الکرسی  کا  ورد  کام آتا  ۔
ببل  گم  (چیونگم ) چباتے چباتے  جب تھک جاتے  تو  بے دید  انسانوں  کی  طرح   حقارت سے پھینک دینے  کی بجائے ،  بصد  احترام  اسے سر   (آنکھوں) پر  جگہ دیتے ۔  البتہ  یہ الگ بات ہے  کہ وہ سر کسی  بدنصیب  غافل  طالب علم  کا  ہوتا ۔ بالوں  میں لگتے ہی  ببل  گم گوہ کی طرح چمٹ جاتی   ۔  جسے  نہ تو  کوئی  شیمپو نہ صابن   دھو سکتا  تھا  نہ  ہی پٹرول یا مٹی کے تیل  سے  الگ  کیا جا سکتا  تھا ۔  نتیجہ  متاثرین  کی ٹنڈ  کے طلوع  کی صورت  میں نکلتا ۔
( گوہ :۔ ایک خزندہ ( رینگنے والا جانور )ہے ، جو کہ گرگٹ سے بڑااور  مگرمچھ  سے چھوٹا ہوتا ہے ، مگر  اسی  خاندان  سے ہونے   کے باعث ان کا ہمشکل ہوتا ہے ۔ گوہ  کی پکڑ  بہت مشہور ہے ۔ ایک بار جہاں چمٹ جائے  پھر  اسے وہاں  سے چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے ۔ پرانے زمانے میں گوہ  کی اسی خصوصیت کے پیشِ نظر  چور  اسے سدھا  کر  اپنے ساتھ رکھتے ۔ بلند و بالا  عمارتوں پر چڑھنے  کیلئے ، اور فصیلیں پھلانگنے  کیلئے  یہی  قدیم ٹیکنالوجی  استعمال کی جاتی تھی) 
کئی بے چارے  صبح  نماز کے وقت  چاہنے کے باوجود  بھی  بستر  سے اٹھنے  سے  قاصر پائے  گئے   ۔ تحقیق  ِ حال  پر  معلوم  ہوا  کہ  گوند  سے چارپائی کے ساتھ    چپکے  پڑے ہیں۔اکثر   بے چاروں  کی  بیٹھتے ہی بے محابا  دھاڑیں  نکل جاتی تھیں۔  کئی بستر پر  لیٹتے ہی تڑپ  کر  اٹھ  کھڑے  ہوتے  اورٹاپتے  ،  جھاڑتے  ہلکان ہو تے رہ  جاتے   ۔ کیکر  کے کانٹوں  کی  وہاں  موجودگی  سب  کی سمجھ سے باہر تھی۔
تبت  ٹالکم پاؤڈر سے  قارئین میں سے بہت سے واقف ہونگے ۔ مگر  اس پاؤڈر کا  ایسا  استعمال  یقیناًکبھی  کسی نے نہ سنا ہوگانہ  دیکھا ہوگا ۔
 کلاس  کے  کمروں  میں تو قالین  بچھے تھے  مگر  ہوسٹل  کے کمروں  اور  برآمدوں  میں چپس  کا  فرش تھا ۔ صفائی کا  بہترین  انتظام ہونے  کی وجہ سے فرش ہمیشہ  چمکتے دمکتے رہتے تھے ۔  اور  پھر  ایک  دن  جوگی  کا  تبت ٹالکم پاؤڈر  کا ڈبہ  اچانک   خالی کیا ہوا ، کوئی قیامت  سی  قیامت  برپا  ہو  گئی  ۔یکے بعد  دیگرے  کئی   بے چارے برآمدوں   میں  پھسلے  اور  کمر پکڑے    ہائے ہائے کرتے پائے گئے ۔ حد  تو اس وقت  ہوئی جب ہوسٹل انچارج  صاحب عشا  ء کے بعد معمول  کے  راؤنڈ پرتھے ۔  جیسے ہی جوگی  کے کمرے میں داخلے کو  پہلا  قدم رکھا ۔ اچانک  تین چار فٹ  ہوا میں اچھلے اور دھڑام سے  زمین  پر  آرہے ۔  سارے تنتنے  اور  اکڑ فوں  ہوا ہو گئے  ، اور تین  دن صاحبِ فراش رہنے کے بعد انہوں نے ہوسٹل وارڈن کے عہدے سے استعفیٰ  دے دیا۔
اور پھر  ایک دن تو حدکی  بھی  حد   ہی ہو گئی ۔جو  بھی  باتھ  رومز  سے   باہر  آتا  ،  نہایت بے چین و  بے کل نظر   آتا۔گویا  بندے  نہ ہوئے مرغانِ بسمل   ہو گئے ،  اک  سی سی سی سی  ، سی صدا تھی جو   چاروں طرف سے گونج رہی  تھی ۔ بازار  میں"ونٹو  جینو"  اور "کمال  مرہم " کا کال پڑ گیا ۔  کسی  ظالم  نے  باتھ روم   کے  لوٹوں  میں لال مرچیں  گھول کے رکھ دی تھیں۔    

کیا خوب ! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور


فارسی کی  ایک  ضرب المثل بھی کیا خوب ہے :۔ ہر روز عید  نیست کہ حلوہ خورد کسے۔حالانکہ غالب نے تو تسلی دی تھی کہ " آہ  کو چاہیے  اک عمر  اثر ہونے تک "  مگر  ان مظلوم طلبہ کی  آہیں صرف تین  مہینے میں ہی اثر  کر گئیں ۔   جوگی  کو  ایک دن  ناشتے کے بعد میس سے واپسی پر کلاس میں ایک  ضروری کام پڑ گیا ۔ اسی  دوران  گھنٹی  بج گئی ،   جوگی    کلاس  سے نکلنے  ہی لگا  کہ  جناب  محترم  شبیر  احمد  صاحب کلاس روم  میں داخل  ہوئے ۔ جوگی کو  دیکھا  تو پوچھ لیاکہ تم   کون ہو ۔؟ نہ چاہتے  ہوئے  بھی جوگی  کے منہ سے  سچ  نکل  گیا  کہ  اسی  کلاس  کا  مانیٹر ہوں ۔  شبیر  صاحب  کے منہ  سے  ایک لمبی  سے  اوہ ہ ہ ہ ہ  اچھاااااااااا خارج ہوئی ۔" کافی عرصے سےبیمار تھے اب کیسی  طبیعت ہے ۔؟  " جوگی  نے  دنیا  جہان  کی مسکینی  اپنے  چہرے  پر  سجا  کر  جواب  دیا :۔"اب  تو ٹھیک  ہوں  ، اسی  لیے اب حاضر  ہو گیا ہوں۔" شبیر صاحب نے  اسی مسکینی  سے متاثر ہو کر  مزید عیادت کی :۔ "خیر تو ہے  کیا  ہوا تھا ۔۔۔؟؟ " اس  سے پہلے کہ  جوگی کوئی جواب گھڑتا ، "قبائلی علاقے " سے وسیم نے اپنی دانست  میں کمک اندازی  کی :۔"یرقان ہو گیا تھا ۔" یہ سن کر شبیر صاحب  کی رہی  سہی  ہمدردی  بھی امڈ پڑی :۔ "اوہ۔۔۔۔  آئی سی ۔۔۔۔  خیر  اب تو ٹھیک ہو نا ں ، بے فکر  رہو  جلد  ہی دوبارہ  ریکور کر لو گے ۔" اور جوگی نے دل  ہی  دل میں خود کو کوستے  ہوئے "جی سر " کہہ کر  مجبوراً  قبائلی علاقے کی راہ  لی ۔ شبیر  صاحب "بے چارے مانیٹر " کی  پڑھائی  میں ہوئے حرج  کے احساس  تلے دبے تھے ، اس لیے  کہا :۔ " تمہارے کلاس  فیلوز  نے بتایا تو ہوگا  کہ ہم اپنا سلیبس  سارا ختم  کر چکے ہیں۔ تمہیں مشکل  تو ہوگی ، لیکن  تمہارے دوست   مدد   کر دیں گے ، اور اگر  مزید  مدد  کی ضرورت  ہو تو  بلا جھجھک   مجھ سے پڑھ لینا۔ " اس  کا جواب  صرف  "جی بہت بہتر " کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا سو  یہی جواب  دے کر  باقی  سارا وقت جوگی نے  اپنی  نیند  کا ماتم کرتے  گزارا ۔

دیکھیے  لاتی ہے اس شوخ کی  نخوت کیا رنگ


بیالوجی کی تدریس  کیلئے  بھی ایک نئے استاد صاحب کا تقرر ہوا۔انہوں  نے  پہلےہی دن  رعب جمانے کیلئےاپنےتعارف  میں بہت سی لمبی لمبی چھوڑیں ،  اور  یہ  دعویٰ کیا کہ  ان کا تدریسی  تجربہ اتنا ہے جتنا کہ  کلاس میں بیٹھےطلبہ  کی کُل عمر ہے ۔ نیز  کلاس میں نظم و ضبط قائم رکھنے  کا انہیں  صرف شوق ہی نہیں خبط بھی  ہے ۔ مزید  یہ کہ  "میں نے بڑے بڑے شرارتی  طالب علموں  کو  سدھایا ہوا ہے ، اس لیے  بہتر یہی  ہے  کہ خود بخود ہی انسان بن جائیں ورنہ  میں کسی  رعایت کا قائل نہیں۔" یہ تعارف صرف زبانی کلامی ہی نہ تھا ، بلکہ تعارف کے دوران  انہوں  نے ظفر اقبال  کو کھڑا کر کے  ایک بارہ  نمبر  کا طمانچہ  جڑ دیا ۔ اس کا قصور یہ تھا کہ وہ ان  کی باتیں  مسکرا ، مسکرا کر  سن رہا تھا ۔ اس کے بعد  دو اور بے قصوروں کے حصے میں بھی ایسے  کرارے  کرارے طمانچے  آئے ۔  جوگی  کیلئے یہ  ایک کھلا چیلنج تھا  بلکہ در اندازی  تھی کہ  اس  کے مانیٹر ہوتے ہوئے  اس  کی رعایا  یعنی کلاس نہم کے طلبہ کو محض  اپنی انا کی تسکین  کیلئے تھپڑ جڑ دئیے جائیں۔  
اگلے دن  جب   استاد  صاحب نے   چاک نکالنے  کیلئےچاک  کے ڈبے  میں  ہاتھ  ڈالا  تو یکدم  گھبرا  کر  پیچھے ہٹ  گئے ۔  ڈبا نیچے  گرپڑا۔     ڈبے میں سے  ایک   بڑا سا  مینڈک   پھدک کر  باہر آیا  ، اور استاد  بہادر  کے اوسان  خطا ہو گئے ۔   باوجود  کوشش  کے  کوئی  بھی اپنی ہنسی  روکنے میں کامیاب  نہ ہو سکا ۔استاد ِ محترم اس قدر ضعیف  القلب  ثابت  ہوئے  کہ  کلاس نہم تو کیا  حزب الرحمن اسلامی اکادمی  میں تدریس  سے بھی   ہمیشہ  کیلئے تائب ہو گئے ۔

اک تماشا ہوا ، گلہ نہ ہوا


شعبان کا چاند نظر آتے ہی پاکستان  میں پٹاخے  ،  شرلیاں  بازار میں عام دستیاب ہو جاتے ہیں۔ اکادمی  کے  طلبہ کی تو بازار تک بھی  رسائی نہ تھی ۔  مگر  جوئندہ  ، پائندہ ۔شب ِ برات  تو ہمیشہ  سے آیا کرتی  تھی مگر  جس  دھوم دھام  سے اس بار آئی   تھی ،  شاید  ابھی تک کسی کو نہ بھولی ہو ۔ (بشرطیکہ وہ  اس رات وہاں موجود رہا ہو)۔ 
ڈنر  کے بعد میس سے واپسی  پر   جوگی نے وسیم کے ہاتھ میں ماچس دیکھی ۔ حیرانی تو بہت ہوئی ،  مگر پوچھنے کاموقع نہ ملا ۔  اس کے صرف دس  منٹ بعد جب جوگی اپنے کمرے سے  انگڑائی لیتا ہوا نکلا  تو ایک گڑبڑ کا احساس ہوا ۔  چاروں  طرف بھگدڑ سی مچی تھی ۔  جوگی  نے برآمدے میں ایک جانب سے رشید  صاحب کو غصے سے آگ بگولہ ، اور ہاتھ  میں ڈنڈا پکڑے آتے دیکھا تو  غڑاپ سے دوبارہ کمرے میں گھس گیا ۔ ناصر علی کی بدقسمتی کہ  عین اسی  وقت اسے کمرے سے نکلنے کی سوجھی  جبکہ   رشید صاحب  بلائے ناگہانی  کی طرح سر پہ پہنچ  چکے تھے ۔  بغیر  کسی وارننگ کے رشید صاحب نے اندھا  دھندڈنڈا بازی  شروع  کر دی ، بے چارے ناصر کے حصے میں بھاگتے بھاگتے بھی  دس  گیارہ  ڈنڈے تو آ ہی گئے ۔  حواس  بحال ہوئے تو معلوم  ہوا  کہ سب طلبہ کو نیچے صحن  میں فوارے کے پاس جمع ہونے کا  حکم ہے ۔  جوگی  نے  پتلی گلی  پکڑی اور باتھ  روم  کی طرف  بھاگا ۔  مگر   ادھر جانے والی  گیلری کا دروازہ بند تھا ۔  مجبوراً  سب کے ساتھ   ہجوم  کا حصہ بن  گیا ۔  کچھ دیر  بعد  چرواہے کی طرح  جب رشید  صاحب تمام طلبہ کو  نیچے ہانک لے آئے  تو   انگریزی  ، اردو مکس  زبان میں مرغا بن جانے کا  آرڈر دیا ۔ 
جیسا کہ آپ پچھلی اقساط میں پڑھ چکے ہیں ، اردو زبان  کا استعمال  ان کے بگڑے موڈ کی نشانی تھی ، لیکن یہ آج معلوم ہوا کہ اردو کے ساتھ جب انگریزی بولنے  لگیں تو  انتہائی  خراب موڈ کی نشانی ہے ۔ کسی  میں دم مارنے کی مجال نہ تھی ، حتیٰ کہ اساتذہ بھی  ایک طرف خائف کھڑے تھے ۔ مرغوں پر  جب ڈنڈوں  کی برسات  ہوئی  تو بانگیں دینے لگے۔ رشید صاحب کے  غصیلے  انگریزی  اردو مکسچر  سے   اتنا   ہی سمجھ آیا کہ  کسی شیطان کے  چیلے نے پٹاخہ  چھوڑا  تھا جوکہ برآمدے میں  آتے  رشید  صاحب کی ٹانگوں کے درمیان پھٹا  تھا۔بس اب رشید صاحب کو اسی  ناہنجار  کی  تلاش تھی ۔  تیس چالیس  بے چاروں کی پٹائی  کے بعد مجرم  کا سراغ تو ہاتھ نہ آیا  البتہ رشید صاحب ہانپنے لگے  ، مگر غیض  و غضب میں کمی  نہ آئی ۔  ڈنڈا اندازی چھوڑ کے  زبانی  کلامی لیکچر دینے لگے ۔  طلبہ بے چارے  سر جھکائے سننے کے علاوہ کر بھی  کیا سکتے  تھے۔     

1 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما