Monday, 25 May 2015

چلتے ہو تو لاہور کو چلیے (قسط نہم)۔

0 آرا
اور بات  آئی گئی ہو گئی ، کھانے کیلئے اٹھنے لگے  تو  افی صاحب کی آواز آئی  :۔ "اماں جی! یہ دو فنکار  آئے بیٹھے  ہیں ۔ ان سے ابھی  کچھ سنا جائے  یا کھانے کے بعد۔ ؟ اور  کچھ دیر کے تردد کے بعد  پہلے ان کو موقع دینے کا فیصلہ ہو گیا۔  
اتنی دیر سے میں بھی کمرے میں  موجود تھا اور وہ میاں بیوی  بھی موجود تھے، مگر  واللہ  باللہ  ان کے گانا شروع کرنے سے پہلے  مجھے ان کی موجودگی کا احساس تک نہ ہوا  تھا۔  افی صاحب  نے  ان   سے پوچھا  کہ  ایسے  ہی زبانی کلامی  سنائیں گے یا بجانے کیلئے  تھال بھی  حاضر کیا جائے ۔اس  نے  "مومن  ہے تو بے تیغ بھی   لڑتا ہے سپاہی " قسم کا  جواب دے کر  یہ بھی کہا کہ اگر تھال مل جائے تو سونے پہ سہاگہ والی بات ہو گی ۔تھال حاضر کیا گیا۔  اور انہوں نے اپنے  فن کا مظاہرہ کیا کیا، بس یوں سمجھیں  کے  ماحول پہ  فسوں پھونک دیا۔  میں  نے زندگی میں پہلی بار   ایک تھال  اس قدر مسحور کن دھن میں بجتے ہوئے  سنا تھا۔ صرف میں ہی  کیا سب کا یہی خیال  ہوگا یقیناً ۔ تبھی تو ہر کوئی اپنے موبائلز  اور آئی فونز  سے ان کی ویڈیو بناتا نظر آیا ۔اختتام  پر بھرپور  تالیوں  سے انہیں داد  دی گئی۔
اچانک  مجھے  احساس  ہوا  کہ  میری بغل میں کھڑا  کلین  شیو  بندہ  میری طرف کنکھیوں سے دیکھ رہا ہے ۔  میں ذرا سائیڈ  پہ ہوا تو  وہ سرک کے پھر قریب   ہوا اور  کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو گیا۔  میں ابھی اس کی طرف دیکھنے ہی والا  تھا کہ  وہ آگے بڑھا  اور  افی صاحب  سے جھک کر ملتے ہوئے بولا:۔ "سر آپ  ڈراموں میں آتے ہیں  ناں۔" افی صاحب کے چہرے پر  شرارتی سی  مسکراہٹ دوڑ گئی۔ اور انہوں نے  میری طرف دیکھا ، میں کچھ نہ سمجھنے والے  انداز  میں   ہونق کھڑا تھا یہاں  تک کہ  وہی  کلین شیو  بندہ سیدھا  ہو کے میری  طرف مڑا  اور میرے گلے لگ گیا۔ 
یہ حضرت کوئی  اور نہیں، ارسل مبشر صاحب تھے۔
خلاف معمول  شلوار قمیض  اور کیمل کلر  کے  کوٹ میں ملبوس ،  ارسل  تصویروں  سے کہیں زیادہ اصل میں شاندار نظر آ رہا تھا۔  اور یہ بات میں نے اس سے کہہ بھی دی (جس پر بعد میں  کئی بار پچھتایا)کہ  تصویروں سے  زیادہ  اچھی پرسنالٹی تمہاری اصل میں ہے۔ اور  اس پر اسے ایک شعر بھی سنایا
تجھ میں جو بات ہے، وہ بات نہیں آئی ہے
کیا یہ تصویر  کسی غیر سے کھنچوائی ہے؟؟
ابھی اس بات پر  ارسل  ٹھیک سے پھول  بھی  نہ پایا تھا  کہ افی صاحب نے  ہمیں  ڈائننگ ہال میں دھکیلا کہ  پہلے کھانا کھا لو،   باتیں تو تمہاری ایک  بار شروع ہوئیں  پھر ختم نہیں ہونیں ۔ اور ہم  ڈائننگ ہال میں آ گئے۔ زبردست چپاتیاں  اور  مرغی کا گوشت  تھا۔  سویٹ ڈش میں حلوہ تھا۔باقی سب مہمان بھی شرماتے  لجاتے  وہیں جمع  ہو گئے ۔ کیونکہ  بانو آپا کی سخت تاکید تھی کہ کوئی بھی مہمان کھانا کھائے  بغیر  نہیں جائے ۔ ارسل  نے تو  مجھے  کہہ دیا کہ  میں کھانا کھا کرفیصل آباد  سے   نکلا تھا، لیکن   میں  بھلا کیسے داستان سرائے  کی مہمانی  ہاتھ سے جانے دیتا۔  البتہ  کھڑے ہو کر  ایک ہاتھ میں روٹی اور ایک  ہاتھ میں سالن  کی پلیٹ لے کر کھانے سے مجھے الجھن ہو رہی تھی۔افی صاحب تو  بھنبھیری  بنے ہوئے کبھی ادھر آ رہے تھے کبھی ادھر جا رہے تھے ۔ میں  نے کہا  :۔"ہمیں تو بیٹھنے کی  کوئی مناسب جگہ دکھا دیں ۔" افی صاحب بھلا کب چوکتے، بڑے معصومانہ انداز میں دریافت کیا:۔ "کیوں ؟  کی کتیاں طرح  کھانی اے ؟" حلق سے ابلتے قہقہے کو کہا کہ زمزم، اور افی صاحب سے کہا :۔ "جی نہیں ، بلکہ انسانوں  کی طرح بیٹھ کے کھانی ہے ۔" وہ کوئی جواب دئیے بغیر  پھر غائب  ہو گئے ۔ آخر میں نے دو روٹیاں اور ارسل نے سالن نکالا  اور ہم  اپنی مدد آپ کے تحت  جگہ  تلاش کرتے لاؤنج میں گھس گئے۔ وہاں بیٹھ کے اطمینان  سے کھاتے رہے  اور  گپیں بھی ہانکتے رہے ۔ارسل  بھی میرا ساتھ دینے  کے بہانے  کھاتا  رہا۔  مگر  ڈائننگ  ہال میں کھانا  کھاتی  دو تین خوبصورت  حسیناؤں  کی  موجود گی  ارسل کو بے چین کیے رہی۔ اسے شاید میرے ساتھ ادھر بیٹھ  کے  کھانے کے  فیصلے پر  پچھتاوا ہو رہا تھا  جس کی پاداش میں وہ  دیدارِ حسن سے اتنی دیر تک ناحق محروم  رہا۔ تھوڑی تھوڑی  دیر بعد مجھ سے پوچھتا :۔" یار چھوٹے!! حلوہ بڑا زبردست ہے، تمہارے لیے لے آؤں؟" میں نے ٹال دیا:۔ "دیکھنے میں تو واقعی زبردست لگ رہا تھا  مگر تمہاری بدقسمتی  کہ میں حلوہ کھاتا ہی نہیں۔"اور ارسل کا دیکھنے والا منہ بن گیا۔ کچھ دیر  بعد پھر  مجھے سالن اور لانے کی آفر کی، مگر میں نے انکار کر دیا۔  پھر روٹی اور لانے سے انکار کے بعد  آخر کار  پانی لانے کی آفر پر  مجھے ترس آگیا۔  حالانکہ کھانے کے دوران یا کھانے کے فوراً بعد میں پانی بھی نہیں پیتا۔پھر بھی ارسل  کو  ڈائننگ ہال جانے کا ایک بہانہ فراہم کرنے کیلئے  میں  نے پانی کے  گلاس  پر حامی بھر لی۔  کہ بقول ناصر کاظمی
وہ "ٹھرکی" سہی ، پھر بھی یار اپنا ہے
 ارسل  تیر  کی طرح  ڈائننگ ہال میں گیا اور شاید چار پانچ گلاس پانی پی  کر ایک گلاس میرے لیے  لے کر  کافی دیر بعد  واپس آیا۔ ہمارے  کھانا کھانے  کے منظر کو بھی افی صاحب نے کیمرے میں  قید کر لیا۔  کھانے کے بعد  ہم دونوں کو اشفاق  صاحب کے کمرے کی راہ دکھائی گئی۔  یہ وہ سیڑھیاں  ہیں جہاں سے  اشفاق صاحب اوپر اپنے کمرے میں جاتے تھے۔  اور یہ  وہ  کمرہ  ہے  جس میں قدرت اللہ  شہاب صاحب  کا قیام رہا کرتا تھا۔  اس کے بعد  وہ جگہ دیکھی  جہاں  اردو  ادب کے  درخشندہ  ستارے  یعنی  جناب  ممتاز مفتی  صاحب ، ابن انشا ء  صاحب  ، قدرت اللہ  شہاب صاحب  اور اشفاق احمد  صاحب   محفل جمتی تھی۔اس  وقت  بے طرح غالب کی یاد  آئی کہ کس عالم  میں اس  عارف  نے  کہا ہوگا:۔
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گرانمایہ کیا کیے؟؟

ہم جب  داستان سرائے  کے تاریخی گوشوں  کی سیر کے بعد  واپس   چوپال میں پہنچے  تو  بانو آپا  کے پاس   رش لگا ہوا دیکھا۔  سب ان کے ساتھ تصویریں  بنوانے اور ان سے آٹو گراف  لینے  میں  مصروف تھے۔  بانو آپا سب سے فرداً فرداً پوچھ رہی تھیں کہ کھانا اچھے سے کھایاہے ناں؟اور  اسی  مسکراتے  صبیح چہرے  اور خندہ پیشانی  سے  سب کو آٹو گراف دیتی رہیں ۔جبکہ میں نے اس دوران   اشفاق احمد  صاحب  کے بتائے  ہوئے طریقےسے   ایک  کونے میں بیٹھا  بابا ڈھونڈ لیا۔ وہ  فنکار  بابا  ایک طرف اداس بلبل  کی طرح سکڑا سمٹا  بیٹھا تھا کہ میں نے جا لیا۔  استاد ِمحترم خان بہادر  مرزا اسد اللہ  بیگ غالب کا  بھی یہی شیوہ تھاکہ  جب کوئی شعر  پسند آتا تو  چاہے وہ کسی کا  بھی ہو اس قدر تعریف کرتے  کہ مبالغے  کی حد کو پہنچا  دیتے۔ اس کے علاوہ   بھی لوگوں  کی حوصلہ افزائی  کرنا  وہ  جیسے فرض سمجھتے تھے۔  تذکرہ غوثیہ  میں غوث علی  قلندرؒ صاحب  نے ان کا جو آنکھوں دیکھا  واقعہ نقل کیا ہے ، وہ میرے جیسے دیوانگانِ غالب  کیلئے  مشعلِ راہ ہے۔
میں نے بابے کی  تعریف کی تو  اس نے  رسمی سی تعریف سمجھ کر  وہی  کہا جو  عموماً ایسی  باتوں کے جواب میں کہا جاتا ہے۔  مگر میں تو جیسے لسوڑا  ہو گیا۔  کچھ دیر تو اسے یقین نہ آیا  کہ  ایک پینڈو  سے نوجوان کو  بھی موسیقی  کی ایسی سمجھ ہو سکتی ہے ۔ میں گھِستا  رہا گھِستا رہا  یہاں تک  کہ بابا کھلنے لگا۔  اور پھر ہم دونوں  کے  درمیان جو بے تکلفانہ  گفتگو شروع ہوئی  تو  اس چند منٹ کی گفتگو میں ، خاکسار نے اس سے اتناکچھ  سیکھ لیا  کہ جتنا ادھر بیٹھے سوٹڈ بوٹڈ "کہنہ مشق استاد" ساری  زندگی  بھی  نہ سیکھ  پائیں۔ کیونکہ  وہ  اپنی وضع داری  اور     رکھ رکھاؤ  کی  بیڑیوں  میں جکڑے  تکبر  کی جس  جیل  کے قیدی ہیں ،وہاں  سے ایسی انمول پوربی  ہوائیں نہیں گزرتیں ۔  یہ ہوائیں تو زمین  پہ اگے چھوٹے  چھوٹےپودوں کے  پھول کھلاتی ہیں۔ 
الحمد اللہ  جوگی  تو ویسے بھی خاک نشین  ہے اور  استادِ محترم  کا  بھی یہی نعرہ تھا 
رواج صومعہ ، ہستی ست ، زینہار مرو
متاع میکدہ  مستی ست ، ہوشیار بیا
حصار عافیتے  گر ہوس کنی  غالب
چو ما بہ  حلقہ رندانِ خاکسار  بیا
(اس کے اردو ترجمے کی بجائے بہتر ہے  کہ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم  جو کہ اشفاق احمد صاحب کے اساتذہ میں سے ہیں ، کے قلم سے کیا گیا  لازوال  ترجمہ  درج کر دوں  تاکہ فارسی سے نابلد قارئین  بھی اس سے کماحقہ  لطف اندوز ہو سکیں)
اے رواج اے مسجداں مندراں دا، اوتھے ہستیاں  تے خود پرستیاں نیں
مے خانے وچ مستیاں ای مستیاں نیں  ، ہوش کر بن کے ہوشیار آجا
سکھی وسنا جے توں چاہنا ایں ، میرے  غالبا! ایس  جہاں اندر
آجا  رنداں دی بزم وچ بہہ جا ،  ایتھے بیٹھدے نیں خاکسار آجا
اتنے میں مجھے قدوسی  صاحب  بلانے  آ گئے ،  تو میں  نے بابے کی جان چھوڑی  اور ادھر  ڈرائنگ روم میں آ گیا۔  کمرہ چند خاص  مہمانوں کے علاوہ  خالی ہو چکا تھا ۔ ارسل مبشر آگے بڑھا  اور آپا جی کی  قدم بوسی کی۔ اور ان سے  حال چال پوچھنے لگا۔  اور میں نے  پھریہ موقع  غنیمت جانا  اوراس  فرصت  کو  تصورِ جاناں  میں ضائع کرنے کی بجائے  قدوسی صاحب  پر غور کرنا شروع کر دیا۔  
پہلی نظر میں  دیکھتے ہی ایسے لگتا ہے  جیسے آپ کے سامنے اشفاق احمد صاحب  آ گئے ہوں ، کافی حد تک  ان جیسے لگتے ہیں۔  چھوٹی چھوٹی سفید داڑھی بھی بالکل اشفاق احمد صاحب جیسی ہے ۔ جی میں آیاان سے کہوں  کہ قدوسی صاحب!!آپ تو ابھی زندہ ہیں جبکہ ٹی وی پر  آپ کی  بیوہ کے  نام سے ڈرامہ آتا  ہے۔    پھر اس  خیال پر  دل میں ہنس کر میرؔ کی  طرح خود  کو تنبیہہ کی کہ  "پگڑی  سنبھالیے میرؔ ،یہ دلی ہے"افی صاحب نے بتایا  کہ یہ تقریباً چالیس سال سے  اشفاق  احمد صاحب اور داستان سرائے کی خدمت میں ہیں۔  مجھے بہت  رشک آیا۔ جن کو اتنا عرصہ  اشفاق احمد صاحب  کی  صحبت نصیب ہوئی تو  ظاہر ہے ان کے  تو ہر  انداز سے  بابا جی کے افکار  ظاہر ہونے ہی  ہیں ،  بے  حد  سادہ  اور سیدھے  سبھاؤ  کے  متین بزرگ  ہیں۔
مجھے پھر شیخ سعدی  یاد آ گئے 
گلے خوشبوئے در حمام روزے
رسید از دستِ محبوبے بدستم
بدو گفتم کہ مشکے یا عبیرے
کہ از بوئے دلآویز تو مستم
بگفتا من گلے نا چیز بودم
و لیکن مدتے با گل نشستم
جمالِ ہمنشیں بر من اثر کرد
وگرنہ اینہمہ خاکم کہ ہستم
ترجمہ:۔  ایک روز حمام میں نہاتے ہوئے  ، ایک عزیز دوست کے ہاتھ سے مجھ تک خوشبودار مٹی پہنچی۔ میں نے کہا : تو مشک ہے یا عبیر ہے؟ کہ تیری دلآویز خوشبو سے میں مست ہوا جا رہا ہوں۔وہ بولی : میں تو ناچیز مٹی تھی، لیکن ایک مدت تک پھول کے ساتھ  صحبت رہی۔  ہمنشیں کے حسن کا مجھ پر اثر ہواہے ورنہ  میں تو وہی خاک ہوں ۔

  میں ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔اور یہی وجہ ہے  کہ واپسی  پر  میں نے  قدوسی  صاحب سے بھی اپنے ساتھ ایک عدد تصویر  کی درخواست  کی،  جس  پر انہوں  نے حیرانی سے مجھے دیکھا اور پوچھا کہ "میرے ساتھ کس لیے" میں نے کہا:۔ "مدتے با گُل  نشستی و از  بوئے  دلآویز  ِ تو  مستم" اس کے جواب  میں انہوں  نے ایک دلآویز  تبسم  سے نوازا  اور ارسل اور  میرے درمیان کھڑے  ہو گئے اور افی صاحب  نے  اس لمحے  کو تصویر  کی صورت  محفوظ  کر لیا۔   قدوسی  صاحب  نے  مجھ سے نام اور فون نمبرپوچھا تاکہ  وٹس ایپ پر  پوسٹ کرنے  کیلئے  تصویر  کو کیپشن دے سکیں۔ 

0 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما