Saturday, 30 May 2015

چلتے ہو تو لاہور کو چلیے (آخری قسط)۔

4 آرا
راستے میں ہماری زبانیں قینچی کی طرح چلتی رہیں. ارسل نےتیسری مرتبہ پھر مجھ سے پوچھا:۔ "یار چھوٹے بتا! میں تمہیں کیسا لگا۔" اورجواباً مجھے وہی تعریفی الفاظ دہرانے پڑے جو پہلے بھی کئی بار دہرا چکا تھا۔ افی صاحب نےگھڑی دیکھی اور بولے یار اس وقت وہ ٹی سٹال بند ہو چکا ہوگا، ورنہ تم دونوں کو وہاں کی زبردست چائے پلاتا۔ میں نےکہاجوچائے ہم نے مون مارکیٹ میں پی تھی بری تو وہ بھی نہیں تھی۔ مسکرا کے بولے:۔ یہ بہت......... قسم کی چائے ہوتی ہے، پیتے تو زندگی بھر اس کا مزہ نہ بھولتے۔" اس نادر  تشبیہہ پر ارسل اور میرے حلق سے قہقہے پھوٹ پڑے۔

افی صاحب کی شخصیت کے کیاکہنےایسے بے تکلف اوریار باش قسم کے بندے ہیں کہ انکی صحبت میں بوریت تو پاس نہیں پھٹکتی، البتہ  ہنسا ہنسا کے پسلیوں کے ہاتھ کھڑے کروادیتے ہیں۔
اشفاق احمدصاحب کی قبر پہ حاضری کے ایجنڈے پر بات شروع ہوئی توافی صاحب نے  بتایا کہ شام کے بعد قبرستان کا مین گیٹ بند کر دیا جاتا ہے۔ میں نےتجویزپیش کی کہ کیوں نہ گاڑی باہرکھڑی کر کے ہم دیوار پھاندجائیں۔ افی صاحب نےکہاچوکیدارہمیں چرسی سمجھیں گے جو سُوٹے لگانے کیلئےقبرستان میں گھس آئے ہیں۔ اور یہ معاملہ بھی ملتوی ہوگیا۔

ہنستے ہنساتے ایک بارپھرمون مارکیٹ جا پہنچے اورافی صاحب کے مخصوص گوشہِ نشست یعنی نرگس بیوٹی پارلرکے بالکل سامنے والے کونےمیں پڑاؤ کیا۔ وہاں پہنچتے ہی افی صاحب اورارسل ایکا کرکے میرے لمبے بالوں کے پیچھے پڑ گئے اور لگے پھبتیاں کسنے، دونوں نے بہت کوشش کی کہ  مجھےاسی وقت حجامت کیلئے حجام کے سامنے پیش کر دیں، لیکن میں نے پروں پہ پانی نہ پڑنے دیا۔ اسی دوران عبدالرزاق قادری صاحب کی کال آ گئی۔ میں نے بتایا کہ ہم واپس مون مارکیٹ پہنچ چکے ہیں۔ اگر آپ اس وقت یہاں آسکیں تو  ملاقات کا آنند آجائے گا۔ اور قادری صاحب نے جو کچھ جواب میں فرمایااس کارواں پنجابی ترجمہ "بوہے باریاں تے نالے کندھاں ٹپ کے ۔۔۔۔ آواں گاہوا بن کے" کیاجاسکتاہے۔

 اس کے بعد سلسلہ کلام وہیں سے جڑ گیاجہاں سے کال آنے پر ٹوٹاتھ ، لیکن جلد ہی خاکساراس دریا کا رخ موڑنے میں کامیاب ہوگیا۔ ایسالگتاتھا  کہ ہم تینوں ایک ٹینک پربیٹھےہیں اورسامنے آنے والے مختلف موضوعات کو روندتے لتاڑتےچلےجا رہے ہیں۔ بات سے بات نکلتی جا رہی تھی۔ نہ وقت کا ہوش تھانہ اردگرد کا, کہ قادری صاحب کی پھر کال آ گئی۔ سننے پر معلوم ہوا کہ وہ مون مارکیٹ میں تشریف لا چکے ہیں، مگرنشانِ منزل ڈھونڈنے میں ناکامی کامنہ دیکھےجارہے ہیں۔ میں نےدوتین نشانیاں دیں لیکن انہوں نے نہ "مدعا پایا"۔

راقم کرسی سےکھڑاہوا , اور ادھرادھرجھانکتے  گھومتے قادری صاحب کو ڈھونڈ رہا تھا اوروہ کان سے موبائل لگائے گجر ہوٹل کے نیچے کھڑے  ہوئے تھے۔ اچانک میری نظر ایک نوجوان پر پڑی جو ہمارے پڑاؤ کے اردگرد مشکوک اندازمیں منڈلا رہا تھا۔ جب اسے اندازہ ہوا کہ میں قادری صاحب  کو کال پر راستہ سمجھارہا ہوں، تو اس نے خوشی سے نعرہ نما آواز نکالی اب تومیری کامن سینس بھی شیر ہوگئی۔ اس کی نظروں کے تعاقب میں نظریں دوڑائیں تو کوئی موبال کان سے لگائے ،منہ اٹھائے نرگس بیوٹی پارلرکےپینا فلیکس پر چمکتی دمکتی حسیناؤں سےآنکھ  مٹکا کرنے میں مصروف تھا۔ میں نے موبائل پہ کہا سرکار میری طرف بھی توجہ فرمائیے۔ تو آپ نے بکمال مہربانی حسیناؤں کی جان بخشی اور پیچھے کو مڑے ، مجھ پر نظر پڑی تو میری کھلی بانہیں دیکھ کر ایک ہی جست میں پارک کی ریلنگ پھلانگی اور سینے سے آ لگے ٹھاہ کر کے.... ان سے مل کر مولانا حالی کی طرح میرا بھی جی خوش ہو گیا۔ افی صاحب اور ارسل سےان کا تعارف کروایا اور آپ نےنوید (ساتھ آئے نوجوان) سے ہمارا تعارف کروایا۔ افی صاحب نے باآوازِ بلند کرسی سمیت کا چائے کا آرڈردیا، جس کی فوراً ہی تعمیل ہوئی۔

ہمیں چائے پہ لگاکرافی صاحب کو ایساغنیمت موقع ہاتھ آیا کہ پھر انہوں نے ہمیں بولنے کا موقع ہی نہ دیا۔ میں تو پھر بھی افی صاحب کے خطاب  کو آتشِ امرود سمجھ کر بے خطرکود پڑتااورچند لقمےدے آتا مگرعبدالرزاق، ارسل اور نوید کا  کردار محوِ تماشائے برلبِ کرسی، یعنی صرف  ایک اچھے سامع کا تھا۔ ایک بار تائیدکی تلاش میں ارسل کی طرف دیکھا تو موصوف ہمیں ہمارے حال پہ چھوڑکر موبائل پہ انگلیاں دوڑا رہے تھے۔  ہم پہ بس نہ چل سکا توموبائل کو بس میں کرلیا۔ اوروقفے وقفےسےواپسی کا نعرہ بھی لگاتے رہے۔ جسے کچھ دیر تو ہم ٹالتے رہے، آخر مجھے بھی خیال آیا کہ سفر بہت لمبا ہے۔ اس لیے اب محفل برخاست کرنی چاہیے۔

محفل برخاست ہوتے ہوتے بھی کچھ دیرلگ گئی۔  دراصل میرا ، ہم سب کا اٹھنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ پھر نجانے کب یوں مل بیٹھنے کا موقع ملے، اس لیے جتنا وقت ایک ساتھ بیٹھ سکتے ہیں، بیٹھے رہیں۔ مگروقت شاید خرگوش سے شرط لگا کردوڑا جا رہا تھا۔
 
آخرافی صاحب اورارسل اٹھے اور ریل گاڑی کی طرح آہستہ آہستہ رینگتےرینگتے چل پڑے ،جبکہ  عبدالرزاق اور خاکسارصرف اٹھے اور کھڑے ہی رہے۔ کہنے کواختتامی باتیں تھیں مگرایک بار شروع کیا ہوئیں ختم ہونا بھول گئیں۔ اچانک قادری صاحب کو کچھ یاد آیا، انہوں نے میجک شوکے چرب زبان جادوگر کے سے انداز میں شال کے اندر ہاتھ ڈالا اور پھر اپرکے اندر ڈال لیا۔ ہاتھ کے اس اندر در اندر سفرسے میرے کان کھڑے ہوئے مگردو عدد کتابیں برآمد ہوتے دیکھ کر  اطمینان سے بیٹھ گئے۔ قادری صاحب نے دونوں میرے حوالے کردیں، میں ڈھنگ سے ان کا شکریہ بھی ادا نہ کر پایا، کیونکہ میری نظریں آہستہ آہستہ دور جاتے افی صاحب اور ارسل پر لگی تھیں۔ جو اب پارک سے نکل رہے تھے.

اب میں بھی ایک بار پھرالوداعی مصافحہ کرکے رخصت ہوا۔ پارک سے نکلا تو افی صاحب کار پارکنگ سے نکال کر میرے انتظار میں تھے، میں بیٹھااور ہم مون مارکیٹ سے بھی نکل گئے۔ اب کار سوئے سٹی ٹرمینل رواں دواں تھی۔ کچھ ہی دیر میں ہم وہاں پہنچ گئے۔ دونوں کار سے نکل کر مجھ سے بغلگیر ہوئے اور میں نے ان سے رخصت چاہی۔ ارسل تو مجھے بس پہ بٹھانے کو آرہا تھا مگرمیں نے شکریے کے ساتھ اسےاپنی بس پہ (نیازی اڈے سے) سوار ہونے کا مشورہ دے کر ٹال  دیا۔ پھر میں تو سڑک پار کر کےٹرمینل میں داخل ہوگیااور یہ لوگ کار میں بیٹھ کرآگے چل پڑے۔

بہاولپور جانے والی بس روانگی کیلئے بالکل تیار تھی، کوئی سیٹ خالی ہونے امید تو نہیں تھی، مگر پھر بھی کنڈیکٹر سے پوچھ لیا کہ شاید کوئی جُگاڑ ہوجائے، لیکن ہاؤس فُل کی خبر پاکرکندھے اچکائےاورٹکٹ کاؤنٹر پہ پہنچا، اگلی بس ایک گھنٹہ بعد یعنی ایک بجے روانہ ہونی تھی اور   مجھے 19 نمبر سیٹ کا ٹکٹ نصیب ہوا۔

وقت گزاری کیلئےانتظار گاہ میں آبیٹھا، ٹی وی  دیکھ کے ایک گھنٹہ گزارنے کا سوچالیکن، بارہ بجتے ہی بجلی صاحبہ رخصت پہ چلی گئیں۔ اور میری قسمت کی طرح یہاں بھی اندھیراچھاگیا۔  کسی نہ کسی طرح ایک گھنٹہ توگزارناتھاسب سے پہلے بھائی کو فون کرکے بتایا کہ ایک بجے لاہور سے  نکلوں گا، صبح گھر پہنچ جاؤں گا۔ اس کے بعدوقت گزارنے کیلئےسانپ والی گیم کھیلنے میں مشغول ہو گیا۔ کچھ ہی دیرمیں اس سے بھی اکتا گیا تو باہر نکل کرٹہلنے لگا۔
جب ٹہلنے سے بھی بہلنے کی سبیل نہ نکلی تو  بس میں گھس گیا، کنڈیکٹر کو رحم آیا تو بطور چارہ سازی وحشت اس نے USB سی ڈی پلیئر  میں لگا کے زمانہ قدیم کے گانے چلا دیے، مگر زنداں میں بھی خیال ِبیاباں نورد تھا، سو ٹی وی دیکھنےکی بجائےکھڑکی کے شیشےسےناک لگا کر باہرنظر آتی بتیاں گنتا رہا۔ میری دیکھا دیکھی باقی مسافر بھی بس میں بیٹھنے لگے اور نتیجتاً 12 بج کر 50 منٹ پر ہی بس ٹرمینل سے نکلی اور بہاولپور کی جانب دوڑنے لگی۔ صبح کی نماز وہاڑی میں ادا ہوئی۔ اور پھر میلسی, کہروڑ پکا   کو بھی پیچھے چھوڑ آئے۔ تین گھنٹے بعد...... بدھو  جس منہ سے جمعہ کی صبح لاہور گیاتھا ہفتہ کی صبح آٹھ بجے واپس لوٹ آیا۔

مؤرخین سے مجھے کوئی امید نہیں کہ وہ اِس ناچیز بھولے کا نام تاریخ میں سنہرے چھوڑکالے حروف سےبھی لکھنے کو تیار ہوں جو شام کی بجائےصبح صبح ہی لوٹ آیا۔ البتہ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز والوں کواپنا نام بھیجنے کے بارے  میں سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں۔


آپکا کیا خیال ہے؟؟؟؟

4 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما