Tuesday, 7 January 2014

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط بیست)۔

2 آرا

سوئیے اب ایسی جگہ چل کر  جہاں کوئی نہ ہو


مورچہ بندی  کے  بعد   سےجوگی اوروسیم کی  زندگی کا  گولڈن  پیریڈ  شروع ہو گیا ۔  تمام تر سختیوں  کے باوجود  ان  ملنگوں  کے دن  عید  اور راتیں  شبِ برات تھیں۔  اسی  زمانے میں بڑی کلاسوں  کیلئے  کچھ نئے اساتذہ  کا اکادمی  میں تقرر ہوا ۔  ظاہر  ہے  نئے ہونے کے سبب  وہ  جوگی  اینڈ ہمنوا  کی شکل  اور کرتوتوں  سے ناواقف تھے  اور اسی بات کا فائدہ ملنگوں  نے  خوب اٹھایا ۔
  نظام الاوقات  حسبِ  سابق  تبدیل  ہوا۔  جس کے مطابق  صبح  نماز  کے بعد  اسمبلی  ، اور پھر  کلاسیں۔  کمپیوٹر، انگلش  ، ریاضی ، وغیرہ  قسم  کے  پیریڈ صبح  سوا  نو بجے تک  تھے ۔  سوا  نو بجے  ناشتے کا  وقفہ ،  ناشتے  کے بعد  ساڑھے نو بجے  سے بارہ  بجے  کے درمیان   بوستانِ سعدی ،  عربی  بول چال کے علاوہ  نئے آنے  والے اساتذہ  کے   فزکس ، اور  کیمسٹری  پیریڈز  تھے ۔بوستانِ  سعدی  مولانا  غلام محمد صاحب پڑھاتے  تھے  اور  جیسا  کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے  فنا فی السعدیؒ تھے ۔  انہیں شاید  یہ  بھی  نہیں معلوم  ہوتا  تھا  کہ  ان  کی  کلاس  میں کون  کون  بیٹھتا  ہے  اور کون کون  کچھ دنوں سے مسلسل  غائب ہے ۔ وہ  بس آتے  ہی  "ہاں بھئی ! پچھلا  سبق  یاد  ہے نہ  تجھے ۔۔۔؟؟؟  " اور سب کے  باجماعت  زوردار "ہاں جی" پر انہیں کچھ ایسا اندھا اعتبار  تھا  کہ  انہوں  نے کبھی کسی  سے پچھلا پڑھایا  سبق  سننے کا سوچا  بھی نہیں  ۔ 
  عربی کا  معلم مولانا   نذر  محمد  صاحب پڑھاتے تھے ،  مولانا غلام محمد  صاحب کے حقیقی  بھائی تھے  مگر سبق  سننے  کے معاملے  میں ان سے  مختلف تھے ۔  لیکن  یہ  بھی سچ ہے  کہ  حد درجہ سادہ دل  اور  بے حد شفیق استاد  تھے ۔ ان  کی  عادت  تھی کہ ہر ایک  طالب علم  سے  صرف  ایک  سطر  سنتے  تھے ۔ اور  ان  کی   اسی  عادت  سے جوگی  اور وسیم  پچھلے  تین سال  سے  خوب  فائدہ  اٹھا  تے آ رہے تھے ۔  جب مولاناصاحب سبق سننا  شروع کرتے تو وسیم اور جوگی کلاس  میں بیٹھے  لڑکوں  کو  گن کر  انہیں سبق  کی  کُل  سطروں  کی تعداد  سے  نفی کرتے  اور جو  سطر ان کے حصے  میں آنی ہوتی  ،اپنی باری  آنے تک  صرف اسے ہی  رٹا مار  لیتے اور  اس  فارمولے  کے طفیل مولانا صاحب  کی  نظر میں وسیم اور جوگی  نہایت  ہونہار  اور  لائق  طالب علم تھے جو دل لگا کر پڑھتے تھے۔
اب  جوگی اور وسیم  نے دن کو دو حصوں  میں تقسیم کیا ۔  ناشتے کے فوراً بعد   ساڑھے  نوبجے  جوگی  کا  وقت   شروع  ہوتا  تھا ۔اور  وہ  ہوسٹل میں جا کر  مورچے کی گہرائیوں  میں یوں غائب ہو جاتا جیسے حضرت   یونس علیہ السلام  کو مچھلی  نگل  گئی تھی ۔ جبکہ  اس دوران وسیم  کلاس  میں موجود  رہتا  تاکہ  کسی قسم کے ہنگامی حالات کی  صورت  میں   بروقت  قابو پایا جا سکے ۔ دوپہر  کے  کھانے کے وقت  وسیم  جوگی کو  آ کے جگا لے جاتا  اور  پھر دوپہر  کے کھانے  کے بعد  وسیم  کا  ٹائم شروع  ہو جاتا   ۔ اس دوران  جوگی  کلاس  میں موجود  رہتا  اور وسیم  ڈریم لینڈ  کی سیر کو  نکل جاتا ۔ یہ فزکس  کی  بدقسمتی کہ  اس کےپیریڈ اور    جوگی  کے آرام  فرمانے  کا وقت ایک  ہی    تھا ۔جیسا  کہ مثل مشہور  ہے کہ گیہوں کے ساتھ  گھن بھی پس جاتا ہے ۔ پس  بوستانِ سعدی  ، المعلم العربی کے ساتھ  ساتھ  فزکس  بھی جوگی  کی  نیند  کی چکی کی  زد میں  آکر   پس گئی۔

آلسی ہر حال  میں سوتا  ہے  سحر ہونے تک


لیکن  یہ سب  اتنا آسان  بھی نہ تھا  جتنا  کہ قارئین  کو پڑھنے  میں لگ رہا  ہے ۔ اس  سب کیلئے  حد درجہ خود اعتمادی  اور  انتہائی درجے  کی دیدہ   دلیری  کی  ضرورت تھی جو کہ  جوگی اور وسیم میں ایسے کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی جیسے کھیوڑہ میں نمک ، اور  چولستان میں ریت ۔۔۔
مولانا برادران  کی توخیر  تھی  مگر  نئے آنے والے اساتذہ  جناب محترم شبیر  احمد صاحب(طبیعیات) اور محترم جناب افتخار  احمد صاحب (کیمیا ) کو  حیرت تھی کہ جب سے  وہ   یہاں پڑھانے لگے  ہیں تب سے  کلاس  نہم کے مانیٹر  صاحب کے درشن سے محروم ہیں۔ہر بار  پوچھنے پر  وسیم  کی طرف  سے جواب  ملتا:۔"مانیٹر صاحب(جوگی) بیماری کی رخصت پر ہیں۔"اور  جب  اپنی باری  پر  جوگی  کلاس  میں موجود ہوتا تو  وسیم کی غیر موجودگی پر  اٹھنے والے ہر قسم کے سوالات کیلئے  تسلی بخش  جوابات  پٹارے میں تیار رکھتا  تھا۔کبھی کبھار  خلاف ِ  معمول جوگی  کی  عین سونے کے  اوقات میں ڈھنڈیا پڑ جاتی  تو   واقفانِ حال اساتذہ احتیاطاً ہوسٹل میں جوگی کے کمرے کا تالا بھی کھلوا کر دیکھنے  پر  اصرار کرتے  کہیں باہر  سے تالا لگوا کر  جوگی  اندر سویا  ہوا نہ ہو۔  مگر  ایک بار نہیں کئی بار  باوجود  کمرہ  تلاشی کے جوگی  کو  کوئی نہ ڈھونڈ سکا  حالانکہ صرف چند فٹ کے فاصلے پر محو  خواب تھا۔
 یہ تو دن کی صورتحال تھی ۔  رات کے وقت بھی مغرب  سے  عشاء  کی نماز کے بعد تک سونے  کی باری وسیم کی تھی  اور رشید صاحب کے راؤنڈ کے بعد سے  رات گیارہ بجے تک  جوگی  کا  مورچے پر قبضہ رہتاتھا۔

اس  سب کے باوجود  مورچہ  بہرحال   بقیہ تمام طلبہ  کیلئے برمودا  ٹرائی اینگل  کی طرح ہنوز  ایک سر بستہ راز  ہی تھا ۔  کئی طلبہ  کا اس وقت حیرت سے برا حال ہوجاتا  جب  اچھا بھلا  ان کے سامنے  بیٹھا جوگی  کتاب کا ورق  بدلنے  کے  دوران گدھے کے سر سے سینگ  کی طرح غائب ہو جاتا ۔اس کے علاوہ وسیم  کا بھی یہی حال تھا  اسے کمرے میں آتا  اور سب سے سلام دعا کرتے تو  سب دیکھتےتھے  ، لیکن پھر  پلک جھپکنے   میں اسے جیسے زمین نگل لیتی ۔کئی کمزور دل  طالب علموں نے ماہرانہ تجزیے کی  روشنی میں  جوگی اور وسیم کوجنات  قرار دیا جو کہ انسانی روپ میں ان کے ساتھ رہ کر تعلیم حاصل کرنے  آئے ہوئے ہیں۔   

ورنہ ہم چھیڑیں گے ، رکھ کے، عذرِ مستی، ایک دن


جاتی گرمیوں کے دن تھے ، کمرے میں لگے دو پنکھے  ساون  بھادوں  کے    حبس  کا بھلا کیا مقابلہ کرتے ، اس لیے  گراؤنڈ فلور  والےتمام کمروں کے طلبہ  تواپنی چارپائیاں ہوسٹل کے صحن میں گراسی پلاٹوں میں بچھا لیتے  تھے ، جبکہ اوپری منزلوں کے  قیدی   زیادہ سے زیادہ  برآمدے میں چارپائیاں ڈال کر  ہوا چلنے  کی دعائیں ہی مانگ سکتے تھے ۔صبح اذان  کے وقت سے جاگے مظلوم طلبہ  سارےدن کی دماغ نچوڑ پڑھائی کے بعد  گیارہ  بجے   سرہانے پر سر رکھتے ہی دنیا اور مافیہا سے بے گانہ ہو جاتے ۔
جبکہ نیند کی ڈبل ڈوز کے بعد  جوگی اور وسیم تازہ دم  ہو چکے ہوتے تھے ، اور  پھر  بے چارے سوئے ہوئے طلبہ کی شامت  آ جاتی ۔  
طلبہ کےپانی کیلئے  رکھے   جگ اور مگ کا استعمال جوگی  اور وسیم  مینڈک پکڑ کر اکٹھے کرنے  کیلئے کرتے ۔  فوارے  کے چاروں طرف لگی  آرائشی روشنیاں اور برآمدوں میں جلتی ٹیوب لائٹس پتنگوں  اورپروانوں کی کمزوری    تھیں جن کی طرف  "کچے دھاگے سے  بندھے  کھنچے چلے آئیں گے سرکار  میرے" کے مصداق وہ   جوق در جوق کھنچے چلے آتے ، اور  مینڈک  بھی اس  شاندار  ضیافت کیلئے ٹراتے ، پھدکتے، اچھلتے ، کودتے  تشریف  لے آتے    ۔  اس  لیے وسیم اور  جوگی کو مینڈکوں کی تلاش میں کوئی  جوئے شیر  نہ نکالنی پڑتی،  بلکہ غالب دکنی  کے شعر  کی طرح :۔
احمقوں  کی کمی نہیں غالبؔ
ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں
(احمقوں  کی جگہ مینڈکوں پڑھا جائے)
ایک پکڑنے کو ہاتھ مارتے تو دو تین مینڈک ہاتھ  میں آجاتے،  ان سب مینڈکوں کو  طلبہ کے  پانی اور دودھ  رکھنے  کیلئےدھو مانجھ   کے  رکھے گئے جگ میں  چندے  کی طرح جمع  کیا جاتا ۔  اور پھر  صحن میں غفلت کی نیند سوتے طلبہ  کے  بستروں پر  چھوڑے جاتے ، بلکہ کئی ایک کے تو گریبان اور بنیان میں بھی ڈال دئیے جاتے ۔اس  کے بعد  کیا  ہوتا  ہوگا  یہ قارئین خوب تصور کر سکتے ہیں۔ البتہ جوگی اور وسیم چہروں  پہ مسکینی  طاری کیے ایسی زوردار ، خراٹےمارکہ نیند  کی  ایکٹنگ کرتے جیسے  پچھلی کئی صدیوں سے اصحابِ کہف کی مانند  نیند  سے جاگے ہی نہیں۔
صرف اسی  پر  ہی بس  نہ تھی  بلکہ کئی  بدقسمتوں کو   چارپائی سمیت  اٹھا کر  فوارے کے  تالاب میں رکھ آتے  ، جن میں سے           اکثر  توصبح جاگتے اور جونہی پیر  نیچے دھرتے تو بجائے دھرتی  ماتا کے اپنے نیچے گوڈے گوڈےپانی  دیکھ کر بھونچکا  جاتے  کہ  یا الہی  یہ ماجرا کیا ہے ۔؟؟جبکہ کچھ بے چاروں کو کچی نیندمیں نہلانے کیلئے جوگی اور وسیم نے فوارہ آن کرنے والے  بٹن سے ایک لمبی تار جوڑ رکھی تھی ۔ یہ تار   زمین میں دبی  دبی عین اس جگہ سر  باہر  نکالتی  جہاں وسیم اور جوگی کی چارپائیاں جلوہ فگن ہوتی تھیں۔ ظاہر  ہے اس تار سے ایک  بٹن  بھی منسلک   کیا ہوا تھا ۔لہذا جن طلبہ کو نیند  میں نہلا کر  سبق سکھانا  مقصود ہوتا ان کی چارپائیاں فوارے  کے تالاب  میں رکھ دی جاتیں۔  اور پھر   اطمینان  سے  اپنی چارپائی پر لیٹ کر  مزے سے بٹن  دبا  دیا جاتا ۔ فوارہ تو جیسے  حکم کا ہی منتظر ہوتا تھا ،  آن ہونے  کا اشارہ  ملتے ہی پانی، فراٹے بھرتا ،  راکٹ کی طرح ہوا میں بلند ہوتا اور دس فٹ اونچائی سے    پھیل کر  تالاب میں سوئے بے چاروں کو پانی پانی کر دیتا ۔ اچانک  نیند  سے ہڑبڑا کر  جاگنے والوں کا حال دیکھنے  لائق ہوتا تھا ، لیکن جوگی اور وسیم کو ہمیشہ  اس بات کا قلق رہا کہ وہ  ان  کی اس ہیئت  کذائی پر  اسی وقت کھل کے قہقہے بھی نہیں لگا پاتے ۔
کئی لوگوں کو  اس تخریب کاری اور شب  خون  کے پیچھے جوگی اور وسیم کا ہاتھ کارفرما  ہونے کا پختہ  یقین تھا۔ مگر یہ دونوں بھی ایسے کائیاں تھے کہ  نہ کبھی رنگے ہاتھوں پکڑےگئے نہ ہی ان  واقعات  میں ان کے ملوث ہونے کے ثبوت  ملے ۔مجبوراً  طلبہ  کو جوگی اینڈ ہمنوا  سے ہمیشہ  بنا کر  رکھنی پڑتی تھی ۔ صحن  میں  سونے  والے باقاعدہ  دودھ سوڈا  اور  بسکٹس  پیسٹریوں  کی صورت  میں انہیں  خراج  ادا   کرتے  تاکہ کبھی ایسی رات  نہ دیکھنی پڑے ۔

2 آرا:

  • 17 January 2014 at 10:24
    مہ جبین :

    جوگی اینڈ ہمنوا کی شرارتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کی پناہ ۔۔۔۔۔۔ اپنے ہم جماعتوں کو کیسے کیسے مذاق کا نشانہ بناتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے اس آپ بیتی کی ایک اچھی خصوصیت یہ ہے کہ ایک ایک بات کو سچائی سے بیان کردیا گیا ہے، چاہے وہ اپنی شرارت ہو یا کسی دوسرے کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تصنع اور بناوٹ نظر نہیں آتا ، یہی ایک اچھی تحریر کا حسن ہے

  • 17 January 2014 at 13:18

    @خاتونِ معظم

    پسندیدگی اور تبصرے کا شکریہ کس لیے ادا کروں کیونکہ یہ تو میرا ھق بنتا تھا
    البتہ یہ حق ادا کرنے میں آپ نے بخل سے کام نہیں لیا اس کیلئے ممنون و مشکور ہستم
    جزاک اللہ

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما