Pak Urdu Installer

Sunday, 22 March 2015

محمد ﷺ کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا

1 آرا
اپنے بزرگوں  کےمزار پر  دربار  بنانے اور مجاور  بن کے بیٹھنے  کی  ہمیں  اجازت نہیں،  الکھ نگری  میں جو ممتاز  مفتی صاحب نے اپنے پیر و مرشد  سائیں اللہ بخش صاحب  رحمتہ اللہ علیہ کے مزار  کا احوال  لکھا ہے  ، یہاں  بھی کچھ ایسا  ہی حال ہے۔ یہ ایک  نہایت عجیب و غریب  قصہ ہے  جس کے متاثرین  میں سے آخری نام خاکسار کا ہے ۔
 اس پس منظر سے واضح ہو گیا  کہ  اپنے والد صاحب کی قبر  پر  ہم دربار  کھڑی کر کے آمدنی کا ذریعہ  نہیں بنا سکتے ، مگر پکی  قبر اور زائرین کے بیٹھنے کیلئے چبوترہ  تو بنوا سکتے ہیں۔ 
پس  تین  محرم  الحرام کو اس کام کا آغاز کیا گیا۔   بڑے بھائی  کا ارادہ  ابا جان کے پہلو میں دفن ہو نے  کا ہے تو منصوبہ یہ تھا کہ لگے ہاتھوں  ان  کی   قبر بھی  تعمیر  کر لی جائے  اور ساتھ  ہی بنیادیں کھڑی کر کے  ایک سادہ  ساکمرہ بنا دیا جائے  ۔  ہمارے  دیرینہ  مستری  حاجی محمد  رمضان صاحب جنہوں  نے  ابا جان  کی قبر تعمیر کی  تھی ،  کی نگرانی  میں کھدائی کا کام شروع ہوا۔ جب  کھدائی کرتے مزدور  قبر کے قریب پہنچے  تو  نہ صرف انہیں  بلکہ  ارد گرد کھڑے  سب لوگوں  کے  ناک سے تازہ گلابوں  کی خوشبو ٹکرائی۔  ہر  ایک دوسرے کی  طرف حیرانی سے  دیکھتاہوا یہ پوچھنے لگا کہ کیا خوشبو تمہیں بھی آئی ہے  یا صرف مجھے آ رہی ہے۔
اس  مرحلے پرہم نے  حاجی صاحب سے  ایک بار پھر پوچھا  کہ  قبر کی  محراب کے اوپر  منوں  کے حساب سے مٹی کا بوجھ پڑا ہے  ، جبکہ  آپ پہلو سے مٹی ہٹوا کے کھدائی کروا رہے  ہیں، کیا اس سے واقعی  مٹی کے  کھسکنے  اور ابا جی کی قبر کی  محراب ہلنے کا کوئی  خطرہ نہیں، انہوں  نے  اپنے برسوں کے تجربے کی  بنیاد پر  ہمیں تسلی دی  اور کھدائی جاری رہی۔  یہاں تک  کہ  پہلو کی  طرف سے  ایک دوسری قبر  کے برابر جگہ  کھود لی گئی کہ  اچانک ابا جی کی قبر  کا مٹی کا تعویز کھسکا اور  کسی آئس  برگ کی  طرح پہلو کی  طرف  ڈھلک آیا ،  اتنی زیادہ مٹی کے ڈھلکنے کے جھٹکے سے ابا جی کی قبر کی  محراب (جو کے کچی اینٹوں سے بنی ہوتی  ہے) ہلی اور ہلکی سی ٹیڑھی ہو گئی۔  ساتھ ہی وہاں موجود  حاضرین کے دل بھی ہل گئے۔ بڑے بھائی  صاحب کا  اس جھٹکے سے پارہ ہائی ہو گیا  ، اور وہ حاجی صاحب پر  برس پڑے کہ حاجی صاحب  ہمیں یہی خطرہ تھا  اور اسی  لیے مشورہ دیا تھا  کہ ابا جی کی قبر سے  بھی مٹی ہٹا لی جائے ، مگر  آپ کسی کی سنتے ہی کہاں ہیں،حاجی صاحب بھی برسوں کے تجربے کو فیل ہوتا دیکھ کے ہکا بکا کھڑے تھے۔  بھائی صاحب تو سر پکڑ کے بیٹھ گئے ، جبکہ میں نے مزدوروں  اور حاجی صاحب کو تسلی دی کہ اب بہتر یہی ہے کہ قبر کے  اوپر سے  مٹی ہٹا لی جائے ، تاکہ مزید کوئی پسوڑی  نہ کھڑی ہو جائے ۔ اور مزدور  آرام آرام سے قبر کے اوپر سے  مٹی  پہلو میں کھودے گڑھے میں کھینچ کر باہر نکالنے لگے۔
جب ابا جی کی  قبر سے مٹی ہٹا ئی گئی  تو  محراب  کے اوپر  بچھائی  گئی  کھجور کے پتوں  کی  چٹائی  مٹی  میں مٹی  ہو چکی تھی  اس کے محض  نشانات  سے  محسوس ہوتا  تھا کہ  یہاں 9 ماہ پہلے  چٹائی تھی۔  محراب  کی ٹیڑھ اور  ایک جانب کو جھکاؤ واضح نظر آیا۔  اب ہمارے سامنے  دو  آپشن تھے  کہ قبر  کے ساتھ ایک  اور دیوار  محراب کی اونچائی تک  کھڑی کر کے اس پر کنکریٹ کے  بنے سلیب  رکھ دئیے جائیں ۔  یا پھر  قبرکھول کر  محراب ہٹا  لی جائے  اور محراب کی بجائے  سلیب  رکھ کے پکا کام  کر دیا جائے  تاکہ مستقبل کیلئے کوئی خدشہ  نہ رہے۔
 دونوں  آپشن میری  طرف سے پیش ہوئے اور  سب لوگ پہلے آپشن  پر فوراً متفق ہو گئے ۔ اسی دوران  ابا جی کے بڑے بھائی  صاحب کی آمد ہوئی  اور صورت حال دیکھ کر  ان کا رنگ بھی فق ہو گیا۔  اچانک  ابا جی کی قبر  کی پائنتی کی  جانب سے مٹی قبر کے  اندر  کی جانب کھسکتی  نظر آئی تو  بڑے بھائی کابلڈ پریشر کم ہونے لگا۔ ابھی اسی مخمصے میں تھے کہ  ابا جی کے  سینے  کے مقام پر بھی ایک  اینٹ نیچے کو کھسکی تو  میں نے  حاجی  صاحب  کو  قبر  کھولنے کا کہہ دیا۔   بڑے بھائی صاحب  اس وقت  کسی فیصلے  پر نہیں پہنچ پا رہے تھے اور سر پکڑ کے  ایک طرف بیٹھے تھے ، قبر کھلنے کا سن کے چچا جان ڈر کے مارے دربار  شریف پر جا بیٹھے ، اور  حاجی صاحب نے ایک بار پھر مجھے سوچنے کیلئے کہا، اور کہا کہ  پہلےکسی  مولانا صاحب سے  اس بارے  میں مشورہ     لینے کا  صائب مشورہ دیا، جس پر  خاکسار کو جلال آ گیا۔  میں نے  مولانا  صاحبوں کی ایسی  تیسی کہہ کر کہا  کہ:۔"یہ میرے والد صاحب کی قبر ہے اور میں کہہ رہا  ہوں  کہ  میرے والد صاحب اس وقت یہی چاہتے ہیں کہ قبر کھول کر  دوبارہ بنائی  جائے ۔"حاجی صاحب نے بڑے  بھائی صاحب کی طرف سوالیہ نظروں سے  دیکھا تو وہ خاموش رہے ،   اتنے میں نے ایک مزدور کو قبر کے سرہانے سے مٹی ہٹانے کو کہا اور مٹی ہٹا لی گئی ۔
 محمد  اسلم جو کہ ابا جی  کا انتہائی جانثار  عقیدت مند  ہے ،  جسے ہم مذاقاًابا  جی کا جن کہا کرتے تھے ،  جسامت میں  کسی دیو سے کم نہیں ، لیکن دل کا  ایسا کمزور  کے  قبر کھلنے کا  سن کے کانپتے  لبوں سے  کنکریٹ کے سلیب  لانے کا   بہانہ کر کے  کھسک لیا۔ اتنے  میں میرے  دوسرے دو بھائی بھی آ گئے  اور وہ بھی  دور کھڑے  ہو گئے ۔
حاجی صاحب نے  قبر کے دھانے سے اینٹیں ہٹانا شروع کر دیں  ،  اور قبر  تقریبا  9 ماہ بعد کھل گئی ۔ سب کے حلق خشک ہو چکے تھے،  کسی کی آواز نہیں نکل  رہی تھی ۔  اب  محراب  کی اینٹیں  ہٹانے  کی صورت میں قبر کے اندر مٹی گرنے کا  خدشہ تھا، جس پر میں نے تجویز دی کہ  اندر  ایک  چادر بچھا دی جائے  ، تاکہ جو بھی مٹی ، دھول وغیرہ گرے وہ چادر پر  گرے۔ تجویز  تو سب کو اچھی لگی  لیکن اس کام  کو انجام دینے  کیلئے سب کی  متفقہ نظریں مجھ پر  پڑیں۔    میں  اندر دربار  شریف میں گیا  اور  اپنے جد امجد  حضرت  مخدوم سید  محمد باغ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ  (صاحب دربار عالیہ کوٹ والا) کے مزار کا سبز رنگ  کا  بڑا  غلاف اتار لایا۔ 
 الحمد اللہ  یہ خاکسار کیلئے اعزاز  کی بات تھی  کہ  تدفین کے وقت بھی باوجود  حاضرین میں سب  سے چھوٹا ہونے  کے ،  مجھے ہی ابا جی کو قبر میں اتارنے  کی  سعادت نصیب ہوئی ، اور آج 9ماہ  بعد  بھی  ان  کی خلوت  گاہ میں مجھے ہی اترنے کی  سعادت (دوسرے لفظوں  میں اجازت) حاصل ہوئی۔
میں سرہانے کی طرف سے قبر میں اترا  اور  اندر  بیٹھ گیا،  دیکھا تو  محراب  کی  جو دو اینٹیں  کھسک کر  قبر کشائی کا  سبب بنی تھیں   وہ  وہیں  معلق تھیں، حالانکہ صرف تھوڑی سی  اٹکی ہوئی تھیں ، پھر بھی محراب اتارنے کے دوران  گری نہیں۔ اس کے بعد  میں  نے  ابا جی کی جانب توجہ کی ۔ تو   کفن کھڑکھڑاتا  ہوا ویسے  ہی سلامت  تھا،  اندر  سے  پورا جسم  صحیح  سلامت  محسوس  ہو رہا تھا۔   بائیں گھٹنے کے ذرا اوپری  جانب  کفن پر خون  کے  ایک  سکے برابر چھوٹے سے نشان  کے  علاوہ  پورا کفن  بے داغ پڑا  تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ  میں دفن کے وقت   ابا جی کو  سیدھا لٹا کر نکلا تھا،  لیکن اس وقت  وہ اس انداز میں لیٹے  نظر آئے جیسے ان کی زندگی میں لیٹنے کی عادت تھی۔  قبر  جتنی  کشادہ تھی  ،  اب تو  میت پر اتنا عرصہ  گزر جانے کے  بعد جسم کے حساب سے اور  بھی کشادہ لگنا چاہیے تھا ، لیکن  میں نے دیکھا کہ  ابا جی کا  جسم بھرا بھرا  ہونے کی وجہ سے قبر بھی بھری ہوئی  لگ رہی تھی ،  اور  مجھے اچھی طرح  یاد ہے کہ تدفین  کے وقت  دونوں پہلوؤں سے  قبر  کی دیوا ر کا فاصلہ ایک ایک  ہاتھ تھا،   لیکن اب  جسم اس  اندا زمیں پڑا تھا  کہ  مجھے  پیر رکھنے  کیلئے جگہ مشکل سے مل رہی تھی  اور میرے  پیر اور  ہاتھ ان کے جسم سے لگتے ہوئے  ان کے جسم کی  حرارت تک محسوس کر رہے تھے۔  
یوں سمجھ لیں  کہ جیسے  ایک  آلتی  پالتی مارے بیٹھے بندے کو اگر  اچانک لیٹنا پڑ  جائے ۔ یعنی  دیکھنے پر  صاف صاف یہی معلوم ہوتا تھا کہ  یہ ہمارے  اندر داخل ہونے سے پہلے بیٹھے ہوئے تھے۔ کیونکہ  مجھے اچھی طرح یاد ہے  کہ  دفن کیلئے  لٹاتے وقت  ابا جان کے  گھٹنے سے گھٹنا  اور  پیر سے پیر جوڑ  کے  لٹایا  تھا، اب  دونوں پیروں کے  درمیان   ڈیڑھ فٹ کا  واضح  فاصلہ تھا اور  دونوں گھٹنوں کے درمیان  بھی کافی فاصلہ تھا۔
ابا جان کو  جگر کا کینسر  تھا، ڈاکٹرز کی پیش گوئی تھی  کہ  ان کو  وفات سے پہلے خون کی الٹیاں  آئیں گی اور وفات کے بعد بھی کینسر پھٹنے پر  خون جاری ہو جائے گا۔  ہمارا اپنا مشاہدہ بھی یہی تھا کیونکہ  اس  سے  پہلے رشتہ داروں کی وفات ہم نے دیکھی تھی ، اور  دفن تک  ان  کا خون جاری تھا ، آگے اللہ کو پتا۔  لیکن اباجی کے معاملے میں ساری پیش گوئیاں دھری کی دھری رہ گئیں ، قریباً سوا سات  بجے  شام کو وفات پائی  ، اور دوسرے دن  سوا چار بجے  اپنی قبر میں لٹائے گئے ، اور اس وقت تک میں ان کے ساتھ تھا، اور میں نے خون بہنا تو دور خون کا کوئی دھبہ بھی نہ دیکھا تھا۔  اب نو ماہ بعد  صرف ایک پانچ روپے  کے سکے کے برابر  خون کا دھبہ ان کے سفید کفن پر دیکھا ۔
خیر  یہ سب مشاہدہ  کر کے میں نے دربار شریف کا غلاف  ابا جی کے  اوپر  بچھا دیا  اور  باہر نکل آیا۔  بڑے بھائی میرے  قریب آئے اور  آنسوؤں سے لبریز  آواز میں کان میں پوچھا:۔ کیسے ہیں؟ سو رہے ہیں۔؟ میں نے جواب دیا :۔ جیسے دفنایا تھا ، ویسے  کے ویسے ہیں ، حتیٰ کے کفن  کو بھی کوئی زوال تک نہیں۔ اب تین لوگ  محراب کی اینٹیں  ہٹانے لگے اور  باقی سب  باہر نکالنے لگے۔  محراب اوپر سے پوری طرح ہٹا دی گئی۔  تو قبر کا منظر سب  کیلئے واضح ہو گیا۔  جب سلیب رکھنے کیلئے  دیوار  کی درستگی  کر لی گئی تو میں دوبارہ قبر میں اترا اور   احتیاط سے غلاف  اکٹھا کر کے باہر پکڑا دیا۔  اس کے بعد  تو سب لوگ  قبر کی طرف امڈ آئے ، اور اللہ کی  قدرت کا  اپنی آنکھوں سے نظارہ  کیا۔ میں  نے سب کے سامنے  کفن کے اندر ہاتھ ڈال کر  کفن کی اوپری  چادر جھاڑی  ، جس کی کورے لٹھے  والی کھڑکھڑاتی آواز باہر کھڑے ہر  بندے نے سنی۔   قبرستان  میں  اس  وقت  جتنے بھی لوگ آئے ہوئے تھے ، سب  یہ نظارہ دیکھنے آنے  لگے اور دیکھ کر بے اختیار درود شریف کا ورد  کرنے لگ جاتے۔
کمال کی بات  یہ  تھی کہ  کفن کے بند  (کپڑے کا ایک پٹی نما عمودی ٹکڑا، جسے بعدمیں دفن کے وقت کھول دیا جاتا ہے) جو ابا جی  سے الگ ایک طرف پڑے تھے ، وہ مٹی میں  گل کر  مٹی ہو چکے تھے،  سوائے اس تھوڑے سے سرے کے جو  ابا جی کے  کفن کے  ساتھ مس ہوا پڑا  تھا بالکل صحیح سلامت تھا۔ 
 بے شک اس میں عقل والوں کیلئے  بہت سی نشانیاں ہیں۔
اس کے بعد  میں باہر آیا اور  کنکریٹ کے  سلیب  رکھ کے قبر کو  دوبارہ بند  کر دیا گیا۔  اوربقیہ  کام  معمول کے مطابق جا ری رہا۔

میں کوئی عالم نہیں کہ علمی نکتوں یا فقہی  مسائل پر  بحث کروں  اور  فروعی  باتوں پر مناظرے کروں  ، میں ایک سادہ سا مسلمان ہو ں ، جو  اپنے مشاہدے  کے بل بوتے پر  یقین سے کہتا ہے کہ  یہ شاندار  انجام  ، یہ  پر شکوہ  نظارہ ءِ  قبر اس شخص کا  تھا  جو حقیقی  معنوں میں  غلامِ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھا، یہ  انجام ایک  میلاد منانے  والے اور کثرت سے درود شریف پڑھنے والے  کا  تھا۔  جن کی قبر کشائی  کا  احوال آپ نے پڑھا  ،  وہ  باقاعدگی  سے ہر ماہ کی گیارہ تاریخ کا دن اور  بارہ تاریخ کی شام  کو  گیارہویں  شریف کی محفل کا  انعقاد کرتے تھے ،  اور وہ ان کی وفات کے بعد  بھی جاری و ساری ہے۔
سائنس  کہتی ہے  کہ دفن کے 78 گھنٹوں  کے اندر اندر  قبر کے اندورنی حبس اوردباؤ  کی تاب نہ  لاتے ہوئے  میت   پوری طرح پھٹ جاتی ہے ۔  لیکن  میں نے  آپ  کو 78 نہیں کم وبیش 9 ماہ     بعد  کا  نظارہ دکھایا  ہے۔ جھوٹ سچ  اللہ  بہتر جانتا ہے۔
جو بھی تیرے فقیر ہوتے ہیں
آدمی بے نظیر ہوتے  ہیں

Saturday, 21 March 2015

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔ ۔ (آخری قسط)۔

2 آرا
جمعرات 12جمادی الاول، بمطابق  13 مارچ  2014 کی سہ پہرتقریباً سوا چار بجے والد محترم  جناب سید ممتاز  حسین  بخاری  کو  ان کی والدہ محترمہ کے  پہلو میں واقع ان  کی آخری آرام گاہ میں اتارنے کا شرف  خاکسار (جوگی) کو  حاصل ہوا۔
اس کے بعد  روزانہ  صبح کی نماز کے  بعد   ان کی قبر پر  تلاوت  کرنا اور  پھول ڈالنا میرا معمول ہو گیا۔  تدفین کے  دوسرے دن صبح  جب تلاوت  اور  ختم سے فارغ ہو کر  میں لوٹ ہی رہا تھا  کہ  دو آدمی  قبرستان  میں داخل ہوئے ،  اور مجھ سے پوچھا  کہ  پیر ممتاز شاہ صاحب کی قبر  کونسی ہے۔؟ میں نے  ہاتھ کے اشارے سے بتایا  تو اس  نے مجھ  سے  دریافت  کیا کہ آپ  ان کے کیا لگتے ہیں، میں نے  بتایا کہ خاکسار ان کا چھوٹا  بیٹا ہے۔ اس  پر  اس نے میرا ہاتھ تھام لیا  اور مجھ سے  معذرت کی  کہ  میں عمرے  پر گیا ہوا تھا اور  ابھی کل ہی  واپسی ہوئی ہے ۔  مجھ سے جنازے میں شرکت  سے محرومی  پر افسوس کا اظہار کیا  اور  ہم  چلتے چلتے ان کی قبر تک  آ پہنچے۔
قبر کے پاس پہنچ کر اس نے میری طرف دیکھا  اور کہا  کہ  یہ اس  وقت مدینہ منورہ  میں  ہیں۔ میں  نے اس کا حسن عقیدت سمجھ  کر محض مسکرانے پر  اکتفا کیا، لیکن اس نے مزید جو کچھ بتایا  وہ  سننے اور لکھنے لائق تھا۔
اس نے بتایا  کہ  عمرے پر  روانہ ہونے   سے پہلے جناب سید باقر  شاہ صاحب (میرے ماموں زاد بھائی) کے پاس حاضر  ہوئے۔  انہوں  نے فرمایا کہ  آپ ہمارا سلام لے جائیں  اور حرم شریف میں آپ  کی ملاقات  میرے  دادا جان سید باغ علی  شاہ  بخاری رحمتہ اللہ علیہ (راقم کے نانا جان) سے ہو گی ، انہیں ہمارا سلام پہنچا دیجئے  گا۔  راوی کا کہنا تھا کہ  سننے  میں یہ بات مجھے بہت عجیب  لگی لیکن پاس ِ ادب سے  کسی چوں چرا کی بجائے میں نے حامی بھر لی۔ لیکن دل  میں مجھے پریشانی  تھی کہ ہم مرحوم  پیر صاحب تک  سلام کیسے پہنچائیں گے۔  ایک  دن حرم شریف  میں طواف کے بعد  جب میں سستانے  کیلئے  ایک  ستون سے ٹیک لگا کر  بیٹھا  کعبہ  کو دیکھ رہا تھا کہ  اچانک کسی نے میرا کندھا ہلا کر  مجھے اپنی طرح متوجہ کیا۔ سر اٹھا کر  دیکھا تو قبلہ  سید باغ علی  شاہ صاحب  کھڑے تھے ۔ بقول اس کے ، قبلہ پیر صاحب کو اپنے  پاس دیکھ کر  میں ہکا  بکا رہ گیا اور  کچھ  سمجھ  نہ آیا کہ  کیا  کروں کیا  کہوں ، یہاں تک  کہ انہوں نے  خود ہی فرمایا کہ میرے  پوتے نے  جو میرے لیے پیغام بھیجا ہے  وہ بتاؤ۔  میں نے ادب  سے  ان کا سلام پہنچایا اور جواب  میں وہ  بھی سلام  کہہ کر ایک طرف چلے گئے۔ اور کل میں واپس آیا ہوں آج صبح  صبح قبلہ پیر صاحب کے مزار پر  حاضری دینے آیا ہوں ۔  اس کے  بعد راوی نے  دوبارہ میرے  والد صاحب کوباقاعدہ مخاطب کر کے  کہا  کہ :۔" مجھے یقین ہے آپ اس وقت مدینہ منورہ میں ہیں۔" اس کے بعد  انہوں نے  ایصالِ ثواب کیا  اور  وہاں سے  قبلہ نانا جان کے مزار کی طرف چل پڑے  اور خاکسار نے گھر لوٹ  کر اماں جان کو ان کے والد صاحب  کی تازہ ترین کرامت سنائی۔
اتوار 16  مارچ  2014 کو  قل خوانی کا  اہتمام تھا۔  حسب الحکم  اوپن ایئر انتظام کیا گیا۔  تقریباً چار کنال  کے رقبہ  پر دریاں  بچھائی گئیں،  لیکن  تمبو کنات نہیں لگائے گئے۔  9 بجے کے بعد  جوں جوں  سورج بلند ہوتا  گیا گرمی بڑھتی گئی ۔ مجھ سمیت  بڑے بھائی کو یہ پریشانی  تھی کہ  11 سے 12 بجے تک  کس طرح لوگ اتنی گرمی میں بیٹھیں گے۔ لیکن  مجبوری یہ تھی  کہ  ابا جان کا حکم تھا کہ  شامیانے  قناتیں نہ لگائے جائیں ۔  جن لوگوں کو  یہ وجہ معلوم نہیں  تھی  ان کے خیال میں شاید ہم کنجوسی  کی وجہ سے شامیانے  وغیرہ نہیں لگوا رہے۔ حتیٰ کہ میرے  ماموں  سید کاظم مسرور بخاری نے اپنی ناراضگی کو اظہار بھی کیا اور کہا کہ اگر خرچے کا مسئلہ  ہے تو مجھے بتائیں لیکن عین دوپہر کے وقت لوگ کس طرح بیٹھیں گے۔  انہیں جواب ملا کہ  جن  کا  یہ  حکم ہے وہ  جانیں اور ان کی  قل خوانی جانے ، ہم نے تو بس حکم کی تعمیل  کی ہے ۔
اور الحمد اللہ  اس قدر تعداد میں لوگ آئے  کہ چار کنال  پر بچھی دریاں  کم پڑ گئیں  ، اور دوبارہ  65 دریاں مزید منگوائی گئیں۔ 
جونہی  پرو گرام شروع ہوا  تو سب نےدیکھا کہ  مغرب  کی جانب سے بادل کا ایک  بڑا سا ٹکڑا  رینگتا ہوا  آیا اور  پنڈال پر ٹھہر گیا۔  ہماری جان میں جان آئی اور لوگوں کیلئے دھوپ سے  بچاؤ کا  قدرتی انتظام ہو گیا۔ 
نعت خوان حضرات  کثیر تعداد میں آئے ہوئے  تھے،  ہر ایک کو زیادہ سے زیادہ  دو منٹ  کا وقت دیا جاتا  رہا،  سب سے  آخر میں ابا جان کے پسندیدہ نعت  خوان  ، حاجی  عطا محمد  صاحب  کو  فری ہینڈ دیا  گیا  ۔  اور  حاجی صاحب  کا  یہ حال تھا  کہ نعت پڑھتے پڑھتے ہچکیاں  لگ جاتیں۔  اس کے بعد  میرے  چچا زاد  بھائی  سید ضمیر  حسین  بخاری خطاب کیلئے کھڑے ہوئے ،   موت اور اس کے متعلقات پر تھوڑی سی روشنی ڈالنے کے بعد  جب مرحوم  کا  ذکر چھڑا  تو ہجوم میں آہ و بکا  کی آوازیں  وقفے وقفے  سے  بلند ہوتی رہیں ،  لوگ  دھاڑیں مار مار  کے روتے رہے ،  اس دن  مجھے ابا جی کی  سربستہ  زندگی کا  ایک  اور  راز پتا چلا،  صرف مجھے ہی نہیں ہم سب بھائیوں پر یہ راز اس دن منکشف ہوا۔  راوی  بیان کرتے ہیں، کہ  جب ہم عمرے پر  روانہ ہونے لگے تو  مرحوم  نے  ایک  مہر بند  رقعہ  میرے  حوالے کیا اور فرمایا  کہ یہ امانت  مدینہ منورہ  پہنچا دیجئے گا۔ مدینہ منورہ جب ہماری حاضری ہوئی  تو  مجھے وہ رقعہ رکھنے کیلئے  کوئی مناسب جگہ نہ ملی تو  میں نے  روضہ مبارک  کے  ساتھ پڑے قرآن مجید  کے ڈھیر  کے نیچے وہ رقعہ  رکھ دیا ۔
(اس دن شام کو  جب اماں جان سے اس بات کی تصدیق  چاہی تو اماں نے ہمیں  پہلی بار  یہ بتایا کہ  ہاں انہوں  نے  آنجناب  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم کے نام ایک  رقعہ لکھا تھا ، اور جس کیفیت میں لکھا تھا  اسے  لکھنے  سے راقم قاصر ہے )
ٹھیک 12  بجے ختم  پڑھا  گیا اور  بھائی کی دستار  بندی ہوئی ،  اور  کھانا  تقسیم ہونے لگا۔  بریانی اور زردہ  اس قدر  زبردست  بنا ہوا تھا کہ  لوگوں نے جی بھر کھایا اور اپنے ساتھ بھی تبرک کے طور پر لے گئے ۔
ایک صاحب  نے بعد میں روایت  کیا کہ  "میرا  بیٹا  شدید  بیمار تھا ،  اس دن قل خوانی میں جو لنگر بانٹا  گیا ، اس کا کچھ حصہ میں اپنے ساتھ بطور تبرک لے  گیا اور بیٹے کو کھلایا ۔  اور  میرا بیٹا جو کئی سالوں  سے  بیمار تھا اور ڈاکٹرز جواب  دے چکے تھے ، اب الحمد اللہ  وہ بالکل صحت مند ہے۔"
اللہ والوں کے راز اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی  بدل گئی
اک شخص  سارے شہر کو  حیران کر گیا

جانے  والے تو چلے گئے  لیکن دنیا کا چلن بھی بدل گئے ۔  ان  کی وفات کے بعد  خاکسار  نے  بہت  کچھ  بدلتا دیکھا  ہے۔  کچھ ایسا بدلاؤ جس  کا سوچنا  بھی نا ممکن تھا، لیکن وہ ممکن دیکھا ہے۔
لوگوں کو  اب  خدا  یاد آ گیا ہے ۔ لوگوں کو اب موت یاد رہنے  لگی ہے۔
لوگ  اب موت کی تیاری  دل  سے کرتے پھرتے ہیں۔
جسے دیکھو وہی  اپنا کفن  تیار  کروا رہا ہے۔ ہر  دس میں سے پانچ  افراد اپنی زندگی میں اپنی قبریں تیار کروا  رہے ہیں۔  علماء جب بھی تقاریر  میں موت کا ذکر کرتے ہیں ،  تو ان کا نام  لازمی لیتے ہیں۔  غرض کہ ان کی وفات جیسے وسیب کیلئے ضرب المثل بن گئی ہے۔
دور  ، دور سے لوگ  ان کا  صرف ذکر  سن کر ان کی  قبر پر فاتحہ  خوانی کیلئے آتے ہیں۔ ابھی  حال  ہی کا واقعہ ہے ۔  جو کہ وقوعے کے دو دن  بعد  مجھے معلوم ہوا۔
(دروغ بر گردن راوی)
16  مارچ  2015 کو  ایک  فیملی مزار پرحاضر  ہوئی ۔  ان کی کمسن بچی پر  جنات کا  قبضہ تھا۔  بچی کے والدین نے ہر طرح کا علاج کروایا ، عاملوں  ،پیروں فقیروں  کے  پاس چکر لگائے ، لیکن بے سود۔  بچی کے والد  (جو کہ  سید ممتاز حسین بخاری   رحمۃ اللہ  علیہ کا مرید بھی نہیں) نے اپنے پیر صاحبان  کے پاس جا کے فریاد کی ، جب حاضرات کا عمل کیا گیا ، تو  (بقول ان کے) قابض جن نے کہا  کہ  یہ سید  ممتاز حسین  بخاری کی  مریدنی ہے  ،  اس لیے  اب تک زندہ ہے۔  آپ ان کے مزار پر حاضری دیں ، ہم چھوڑ دیں گے۔  اور پھر  وہ  سب  مزار  پر حاضر ہوئے ۔ اب  وہ بچی بالکل ٹھیک  ہے ۔ 
اس کے علاوہ  اور بھی بہت سے واقعات ہیں ، جو  ہم تک لوگوں کی زبانی پہنچتے ہیں۔  اور ہماری حیرانی  در حیرانی کا سبب بنتے ہیں۔

نام فقیر انہاں  دا باہوؒ،  قبر جنہاں  دی جیوے ہو۔۔۔ 

Monday, 9 March 2015

چلتے ہو تو لاہور کو چلیے (قسط پنجم)۔

0 آرا

انتظار گاہ میں بڑی سی "ایل سی ڈی" پر ٹیسٹ میچ دکھایا جا رہا تھا۔ اور کرکٹ کے نشئی  مکھیوں کی طرح آنکھیں لگائے بیٹھے تھے۔ مجھے کرکٹ سے تو ویسے بھی دلچسپی نہیں رہی کجا کہ ٹیسٹ میچ دیکھنا۔

ارسل اور افی صاحب تک  بذریعہ ایس ایم ایس اطلاع پہنچائی ، جواباً افی صاحب کی کال آ گئی۔ انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور پوچھا ارسل کی کوئی خیر خبر؟ میں نے بتایا کہ جناح ٹرمینل سے نکلتے وقت اس سے بات ہوئی تھی ، تب اس نے ساڑھے چھ کا لارا دتہ تھا۔ ازاں بعد  کوئی اتا پتا نہیں ۔

یہاں ایک ابہام کا ازالہ ضروری ہے ورنہ افی صاحب کی خوئے مہمان نوازی پہ حرف آنے کا  خطرہ منڈلاتا رہے گا۔

صاحبو !!! تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ افی صاحب ان دنوں اے آر وائی زندگی چینل پر آن ائیرسوپ سیریل "بہنیں ایسی بھی ہوتی ہیں" کی تکمیل میں مصروف تھے ، محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً انہیں سر کھجانےکی بھی فرصت نہیں تھی۔ لکھنے لکھانے والے خوب جانتے ہیں کہ لکھنے کا عمل وحی کے عمل جیسا ہوتا ہے۔ یکساں اسراع  سے لکھتے لکھاری پر اگر کوئی بیرونی قوت  مداخلت کرے تو اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلتا۔

اب یہ تو افی صاحب کی بندہ پروری اور دلنوازی  ہے کہ اس مصروفیت کے عالم میں بھی انہوں نے مجھ سے ملاقات طے کر لی۔ حسنِ اخلاق کی اس سے اچھی مثال شاید ہی کوئی ہو۔ پانچ بجے تک  ان کا لکھنے کا وقت تھا ، اس کے بعد داستان سرائے جانا تھا جہاں ادبی نشست تھی۔ اور   ہمارے درمیان یہی طے پایا تھاکہ میں پانچ بجے شام تک ہی لاہور پہنچوں گا۔ بقول غالب:۔ "وائے دیوانگیِ شوق" کہ میں ساڑھے تین بجے ہی لاہور میں تھا۔ پس ثابت ہوا کہ اس میں افی صاحب کا کوئی قصور نہ تھا کہ وہ میرے استقبال کو نہ پہنچے تھے۔ بلکہ میں ہی مقررہ وقت سے پہلے پہنچ گیا تھا۔

اب خاکسار کے پاس مبلغ ڈیڑھ گھنٹہ فرصت کا تھا، جسے میں نے " تصورِ جاناں کیے ہوئے" بیٹھنے کی بجائے ادھر ادھر تاڑا تاڑی شروع کر دی۔ لیکن  جیسا کہ بھیدی لوگ جانتے ہیں یہ بھی ایک دقیق  فن ہے، جس میں کہ فدوی کورا پایا گیا۔ اس لیے جلد ہی اس شغل سے اکتا کر اور پڑھنے کیلئے کوئی کتابی چہرہ  نہ پا کر مجبوراً ایل سی ڈی کی طرف ہی منہ کر لیا۔ میری اس حرکت سے یونس خان کواس قدر خوشی ہوئی کہ اس نے  دوسری گیند پہ چھکا لگا دیا۔ صرف اسی پہ بس نہیں اس کے چند گیندوں بعد ایک اور چھکا ، پھر ایک چوکا اور پھر ایک اور چھکا۔ اپنی اس کرامت کا اگر پہلے ہی اندازہ ہوتا تومیں آتے ہی میچ دیکھنے لگ جاتا ۔

خیربھاگتےچور کی لنگوٹی سہی ۔ یونس خان کا بلا رنز اگلتا رہا اورجوگی کا وقت اچھا گزرتا رہا۔  فلک کج رو سے یہ برداشت نہ ہوا تواس نے سورج  کو متحدہ عرب امارات میں "شام ہوگئی ہے" کا نوٹس دینے پہ اکسایا۔ شام ہوئی اور پاکستان نے اننگزڈیکلیئر کر دی۔ مجھے کونسا فرق پڑنے والا تھا، میچ نہ سہی خبریں ہی سہی۔

ادھر افی صاحب نے لکھتے لکھتے سوچا کہ وہ بے چارا اتنی دور سے آ کر اڈے پہ رُل رہا ہے، اگرآج یہ قسط مکمل نہیں ہوتی تو کونسا کعبے کو کنڈ ہوجائے گی۔  یہ سوچتے ہی ان سے بیٹھا نہ گیا، تو کار لے کے آ گئے اور مجھے کال کی ، باہر آ جا  جھوٹے غالب، میں رہبر  ٹریولز ٹرمینل کے سامنے کھڑا ہوں۔ میں باہر نکلا سڑک پارکی ، اور ادھر ادھرنظریں دوڑائیں ، مگر افی صاحب نظر نہ آئے ، میں نے آگے بڑھ کے دیکھا تو ایک لمبی سی بس کےپیچھے سفید رنگ کی خیبر کھڑی نظر آئی۔

افی صاحب سٹیرنگ پہ ہاتھ رکھے جھک کر ادھر ادھرجھانکتے مجھے ڈھونڈنے میں مصروف تھے۔  میں نے ہاتھ کا اشارہ کیا تو چہرے پہ دلفریب مسکراہٹ ابھرآئی۔اتنے میں، میں کار کے پاس پہنچ چکا تھا۔ دروازہ کھولنے لگا تو افی صاحب نے کہا ایک منٹ رکو۔ کار سے باہر نکلے اور مجھ سے بغلگیر ہو گئے۔

یہ ہماری پہلی ملاقات  تھی ۔

(جاری ہے....) ۔

Monday, 15 December 2014

چلتے ہو تو لاہور کو چلیے (قسط چہارم)۔

3 آرا
بورے والا کے بعد چیچہ وطنی کے باہر سےیوں گزرےجیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک جاتے ہوئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو وادی ثمود میں سے گزرنے کا حکم فرمایا تھا ۔ میں منزل بہ منزل ارسل اور افی صاحب کو برابر خبر دیتا رہا، مبادا یہ نہ کہیں کہ بے خبری میں آ لیا ہے ۔ بورے والا سے لاہور تک کوئی قابل ذکر واقعہ پیش نہ آیا ، سوائے اس کےکہ موٹر وے پر بس کے سامنے جاتے ٹرک کو اچانک بریک لگی تو بس اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔ کمزور دل مسافروں نے کلمے پڑھے جبکہ میں نے غالب کا شعر :۔
ہم تھے تیار مرنے کو ، پاس نہ آیا نہ سہی
آخر اس شوخے ٹرک میں کوئی بریک بھی تھا​
جیسے باقی شہر گزر گئے تھے ویسے ہی ساہیوال اور اوکاڑہ بھی یکے بعد دیگرے گزرتے گئے ، یہاں تک کہ لاہور کا بیرونی بس ٹرمینل ٹھوکر نیاز بیگ آ گیا ۔ اس وقت سہ پہر کے تین بجے تھے ۔ کھڑکی سے باہر دیکھا تو ہر طرف جماعتِ اسلامی کے بینر اور پینا فلیکس لگے نظر آئے ، جن میں بنفس ِ نفیس محترم سراج الحق صاحب کھلے بازو میرا ستقبال کرتے اور خوش آمدید کہتے صاف نظر آ رہے تھے ۔ 
مجھ پر تو شادی مرگ کی کیفیت طاری ہو گئی ۔ واہ میرے مولا ، سبحان تیری قدرت ۔ جس نمانے کو اپنے علاقے میں بندہ بھی کوئی نہیں سمجھتا ، اس کا لاہور میں داخلے پر اس قدر پر شکوہ استقبال ۔۔۔۔آخر ان لوگوں کو خبر کیسے ہوئی کہ چھوٹے غالب کی آج لاہور تشریف آوری ہے۔ ۔۔۔اس کا مطلب ہے کہ مجھ ناچیز پر بھی ایجنسیزکی گہری نظر ہے ۔ 
اس قدر پذیرائی پر پھولا نہ سمایا ، اور آنکھیں بھیگ گئیں ۔ چشمہ اتار کے آنکھیں صاف کیں اور چوڑا ہو کے بیٹھ گیا۔ بس ٹرمینل میں داخل ہوئی تو ایک اور روح افزا منظر دیکھا۔ایک طرف استبالیہ کیمپ لگا ہوا تھا ، جہاں لوگوں کا ہجوم تھا۔ اتنے سار ےلوگ اپنے گھر بار ، کام دھندے چھوڑ کر بیرونِ شہر خاکسار کا استبال کرنے کو اکٹھے ہوئے ہیں ، یہ خیال مجھے مجبور کر رہا تھا اس پاکستانی ہیروئن کی طرح جنہوں نے ایک فلم میں سرسوں کا کھیت روندتے ہوئے رقص کے نام پہ چند قلابازیاں لگا کر سہیلیوں سے فرمایا :۔ 
من میں اٹھی نئی ترنگ
ناچے مورا انگ انگ
پنچھی تیرے سنگ سنگ
من چاہے اڑ جاؤں
کسی کے ہاتھ نہ آؤں ​
اور ساتھ کھڑا خوشامدی سہیلیوں کا ٹولہ بیک آواز چلایا :۔ 
اے سکھی ناں ، ناں ، ناں ۔۔۔۔۔​
پس سہیلیوں کی اس عدم موجودگی کو جواز بنا کر مابدولت نے اس نیم بے ہودہ خیال کو سنگلی ڈالنے کی کوشش کی تو خیال نے مینڈک کی طرح زقند لگائی اور "مرید پور" کے ریلوے سٹیشن پر جا پہنچا ، جہاں میرے آنجہانی کزن محترم پطرس بخاری کے ساتھ کوفیوں والا سلوک کیا گیا تھا ۔ اس عبرت انگیز خیال نے الٹا فدوی کو سنگلی ڈال دی اورمیں نے ایک جھرجھری لے کر اب کے بغور باہر کا جائزہ لیا ، جس کے نتیجے میں باقی ماندہ خوش فہمی بھی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ کیونکہ یہ سارا تام جھام اور استقبال تو جماعت اسلامی کے اجتماع میں شریک ہونے والوں کیلئے تھا ، جبکہ میرا تو دور دور تک جماعتِ اسلامی سے کوئی تعلق کجا کسی رکن سے علیک سلیک تک نہ تھی ۔ پس خاکسار جی بھر کے کھسیانا ہوا اور نوچنے کیلئے کوئی کھمبا میسر نہ آنے کی وجہ سے چپکا ہی بیٹھا رہا ۔تاآنکہ بس ٹرمینل سے نکلی اور آگے چل پڑی۔

وہ تو بھلا ہو ارسل مبشر کا جس کا عین اسی وقت فون آ گیااور مجھے حالیہ خفت مٹانے اور غم غلط کرنے کا غنیمت موقع ہاتھ لگ گیا۔ اب صورت ِ حال یہ تھی کہ کال ملتے ہی میں السلام علیکم کیے جا رہا ہوں اورجواب میں شاں شاں سن رہا ہوں۔ اپنی آواز بلند کی اور پوچھا کہ کہاں پہنچے ہو ؟ جواباً کی بورڈ پہ ٹائپنگ جیسی آواز سنائی دی۔ تنگ آمد بہ بند آمد(نظریہ ضرورت کے تحت محاورے میں تحریف کی گئی ،لہذا اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں)۔ چند ثانیے بعد پھر موبائل بجا ، گھورنے پہ معلوم ہوا کہ پھر ارسل کی کال ہے ۔ کال ملنے پر وہی سوال دہرایا کہ کہاں پہنچے ہو ؟ کتنی دیر ہے لاہور پہنچنے میں؟ اور اس اللہ کے بندے نے سنی ان سنی کر کے میرا سوال مجھی پوچھ لیا ۔ دوسرے لفظوں میری آنتیں میرے گلے ڈال دیں۔
شرافت سے بتایا کہ حضور ! ابھی 3 منٹ پہلے باقاعدہ ایک تفصیلی پیغام بھیج چکا ہوں کہ میں ٹھوکر ٹرمینل تک پہنچ چکا ہوں ۔ اگر وہ سمجھ نہیں آیا تو اب بزبانِ خود آپ کے گوش گزارکرتا ہوں کہ بس ٹھوکر ٹرمینل سے نکل آئی ہے اور ساڑھے تین بجے تک انشاءاللہ لاہور پہنچنے والا ہوں۔ اب اگر طبع نازک پہ گراں بار نہ ہو تو مطلع فرمائیے کہ جناب کب لاہور میں قدم رنجہ فرمانے والے ہیں۔؟
جواب ملا کہ یار چھوٹے آفس میں اتنا بزی تھا کہ بلا ۔۔ بلا۔۔ ۔ بلا ۔۔ ۔ بلا۔ الغرض اس طویل تقریر کا لُبِ لباب صرف اتنا تھا کہ میں ابھی فیصل آباد سے نکلنے لگا ہوں ۔ چھ بجے تک پہنچ جاؤں گا۔
دل کے جلنے کا ایک اور سبب میسر آیا تو دل خوب بھڑ بھڑ جلنے لگا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پھٹکار زدہ چہرے پہ مزید بارانِ پھٹکار ہوئی ، اور ایسا اندھیر چھایا کہ مجھ میں آئینہ دیکھنے جوگا حوصلہ بھی باقی نہ رہا۔ گویا بقول ِ غالب :۔
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا ، جل گیا​
بس میری نفسیاتی اکھاڑ پچھاڑ اور اندرونی خلفشار سے بے نیاز دوڑی دوڑی لاہور میں داخل ہو گئی ، اور سیدھی جا کے سٹی ٹرمینل پہ فرو کش ہو ئی ۔ میں نے جیکٹ اٹھائی ، سست روی سے بس سے خارج ہوا۔ ابھی میں ٹرمینل کے ویٹنگ روم کی طرف بڑھا ہی تھا کہ ایکا ایکی خود کودو تین کنڈکٹرحضرات کے نرغے میں پایا ۔ دل کو تسلی دی کہ نیوز چینلز کے رپورٹرز اور کیمرے نہ سہی کم از کنڈکٹرز نے تو ہمارے گرد گھیرا ڈالاہے۔ میں اپنے خیالوں میں گم تھا اور ان میں سے ہر ایک کا اصرار تھا کہ میں ان کی کمپنی کی بس میں سفر کروں ۔ کوئی مجھے بہاولپور لے جانے کیلئے کھینچ رہا تھا اور کوئی مجھے ملتان دکھانے پر تُلا تھا۔کوئی اور موقع ہوتا تو یقیناً میں اچھا خاصا شغل لگاتا ان کے ساتھ بھاؤ تاؤ کرتا ، ناک بھوں چڑھاتا ، اور بعد میں بتاتا کہ لاہور جانا ہے ۔ مگر چونکہ اس وقت سات گھنٹے کے طویل سفر سے آیا تھا اور کچھ گزشتہ واقعات پہ دل جلا ہوا تھا اس لیے میں نے ہاتھ اٹھا کر سب کا شکریہ ادا کیا اور معذرت کی کہ ابھی ابھی توبس سے اترا ہوں ،اور میری یہ گھنی زلفیں اصلی ہیں کوئی امپورٹڈ وگ نہیں ۔ پس یہ حقائق ثابت کرتے ہیں کہ میں" گنجا "نہیں اور نہ ہی یہ پرویز مشرف کی حکومت ہے کہ ائیر پورٹ پر اترتے ہی ڈی پورٹ کر دیا جاؤں ۔جہاں آپ کی بس جانے والی ہےمیں وہاں سے ہی ابھی آیا ہوں۔ اس لیے مجھ پر وقت ضائع کرنے کی بجائے کوئی اور سواری ڈھونڈ لو۔یہ سنتےہی سب تتر بتر ہو گئے اور میں اطمینان سےانتظار گاہ میں جا کر بیٹھ گیا۔ 

Saturday, 13 December 2014

چلتے ہو تو لاہور کو چلیے (قسط سوم)۔

0 آرا
ڈرائیور نے وہاڑی شہر کو بائی پاس کیا ، اور بس کو سوئے لاہور رواں دواں رکھا۔ اب مجھے خیال آیا کہ یہ واقعی ڈائیوو ہے یا محض مونو گرام  چپکا کر شیر کی کھال میں گدھے والا معاملہ کیا ہوا ہے۔ اگرواقعی ڈائیوو ہےتو اب تک اس غیرتِ ِناہید کے درشن کیوں نہیں ہوئے جسے عرفِ عام میں بس ہوسٹس کہا جاتا ہے۔ اصولاً تو میرے سوار ہوتے وقت انہیں استقبال کیلئےکھڑا ہونا چاہیے تھا ،بے شک اہلاً و سہلاً مرحبا نہ بھی کہتی۔   مانا کہ ہماری نظراچھی خاصی کمزور ہے مگر چشمے پہ خواہ مخواہ تو پیسے خرچ نہیں کیے ناں......چشمے کا خیال آتے ہی فوراً چشمہ اتارا  اور بس کے لہراتے پردے سے صاف کیا، مبادا مطلوبہ منظر گردو غبارکی دھندلاہٹ کی بھینٹ چڑھ گیا ہو۔

نصف ایمان کے حصول کے بعد بھی ہنوزدلی دور بود۔ رہا نہ گیا توشتر مرغ کی طرح اچک اچک کے  ادھر ادھر نظر دوڑائی، لیکن گُل بکاؤلی نظر نہ آیا۔ بھلا ہودربان(گارڈ )کاجو "مجھے گدا سمجھ کے  چپ" نہ رہا۔ بلکہ پیاسا سمجھ کے اس بھلے مانس نے "مطلوب و مقصودِ مومن" کو بذریعہ کانا پھوسی اطلا ع بہم پہنچائی۔ حالانکہ ماضی بعید  میں اسی کے ایک  پیٹی  بھائی نے بڑے غالب کے ساتھ اس کے الٹ سلوک کیا تھا۔ پس نیوٹن  کے  تیسرے قانونِ حرکت کی پیروی میں اک پیرِمغاں  بلکہ "لیرِ مغاں" کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا، کی آمد ہوئی۔

نیم مردانہ نیم زنانہ صفات کی حامل ایک ہستی  ڈرائیور کے عین پچھلی سیٹ سے طلوع ہوئی۔ صورت گری تو بے شک اللہ تعالیٰ کی ہے مگراسے بگاڑنے کا کریڈٹ انسان کوجاتا ہے۔ ہرچندکہ محترمہ میک اپ کی بھرپور مدد سے 60 فیصد  خاتون نظر آ نے میں کامیاب تھیں اور زیرو نمبر کا چشمہ لگا کر اپنے تئیں پروفیسربھی سمجھ رہی تھیں۔ نسوانیت کااس قدر فقدان تھا کہ غالب کےمصرعہ "ہر چند کہیں کہ ہے ، نہیں ہے" کی ہوبہو تصویر تھیں۔ دوپٹے جیسی کوئی چیز آدھے سر پہ تھی توسہی لیکن اتنی مہین کہ"صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں" کی عملی تشریح سمجھ لیں۔ بادی النظر میں محسوس کیا جا سکتا تھا کہ مجبوراً دوپٹہ گوارہ کیاہوا ہے۔ جونہی ہاتھ میں ایکوافینا اور گلاس پکڑے آگے بڑھیں تو یکایک مجھ سے آگے 25 سیٹوں پر بیٹھے ہوئے نفوسِ ٹھرکیہ کو احساس ہوا کہ انہیں تو بہت پیاس لگی ہوئی ہے۔

اورمجھے اس وقت سمجھ آئی کہ غالب کے اس مصرعے "جی کس قدر افسردگی دل پہ جلا ہے"  میں کیا سائنس  ہے۔ جی جلنا ، دل جلنا ، رونگٹے کھڑے ہونا قبیل کے محاوروں سے اردو زبان کا دامن لبریز ہے البتہ ایک ضروری محاورے "رونگٹے  بیٹھ جانا" سے عاری ہے۔ فدوی  نے فی البدیہہ یہ محاورہ گھڑ کے اردو کو دان کیا۔ دل جلنے کا اثر یہ ہواکہ صبیح چہرہ دھواں دھواں ہو گیا ، اور  شکل پہ پھٹکار برسنے لگی۔ میر تقی میر سےاس وقت بے حسد محسوس ہوا ، کہ سارے "پنکھڑی  اک گلاب کی سی" نازکی کے حامل اور "چراغوں میں روشنی" دھندلا دینے والےحسین انہی کے زمانے میں کیوں تھے۔۔۔؟؟؟

میری یہ جھنجھلاہٹ بے وجہ نہ تھی۔ ایسا میرے ساتھ پہلی بار نہیں ہو رہا۔ اس کے پیچھے ایک پوری تاریخ ہے۔
اکثر بس ٹرمینل پہ بڑے بڑے سائن بورڈز  پہ تابڑتوڑ خوبصورت حسینہ کے فوٹو کے ساتھ، آپ کی ہمسفر لکھا دیکھ کر  ہمارا کنوارا دل مچل  مچل کر جوگ سے مرتد ہو جاتا۔ عاجز آ کر جب پوچھتا کہ 
دلِ ناداں تجھے  ہوا کیا ہے؟ 
جانتا ہے جیب میں پڑا کیا ہے؟

روٹھا روٹھا جواب آتا

 مانا  کہ ایکسٹرا  ہے ان کا کرایہ  غالب
دو ، تین سو زیادہ دینے میں برا کیا ہے؟

       اور یوں جب بھی دل کے کہنے میں آ کر   فیصل موورز یا ڈائیوو  پہ سفر کیا ، تو سارے  سفر کے دوران لالچی کتے والی کہانی پر سر دھنتا رہااور ہاتھ مسلتا رہا۔ اور انہی سفروں کے دوران ہی "قیامت ہے کہ ہووے مدعی کا ہمسفر  غالب" سمجھ میں آیا۔ سند باد جہازی کی طرح ہر سفر سے بخیر  واپسی کے بعد میں بھی سچے دل سے توبہ کرتا کہ اب فیصل موورز اور ڈائیوو کے  جھانسے میں نہیں آؤں گا۔ مگر اگلی باراسی امید  پہ کہ شاید اس بار............

اس اثنا میں بس بان محترمہ ہم تک پہنچ آئیں۔ چند شرارتی زلفیں دوپٹے کی آنکھ بچا کر پف کی صورت میں ماتھے پہ لہرا لہرا کر "لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم " گنگنا رہی تھیں۔ لیکن "میں نہ لگاؤں گا ہاتھ رے" پر ڈٹا رہا۔خواتین میں شاید  بندہ تاڑنےکی حس ہوتی ہے ، ایک نظر میں جان لیتی ہیں کہ کنوارہ ہے یا  بیوی زدہ.....لہذا  محترمہ نے فدوی کو قابلِ التفات سمجھا ، اور سیٹ کے ساتھ کمر ٹکا کےکھڑی ہو گئیں۔ حالیہ ساقی گری کے دوران یہ ان کا واحد وقوف تھا  حالانکہ میں عرفات نہ تھا۔ مگر میں تو ایسے انجان بن گیاجیسے مجھے ڈاکٹر نے پانی سے پرہیز  تجویز کیا ہو۔ آخر انہوں نے باقاعدہ پانی  آفرکیا۔ جسے میں نے شائستگی سے ٹھکرا دیا۔  میک اپ زدہ چہرے پہ حیرت کے تاثرات ابھر ے اوراپنا سا منہ لے کے آگے بڑھ گئیں۔ جلد ہی واپس آ گئیں، ایک بار پھر مجھے سےپانی  کیلئے پوچھا ، اور اس بار بھی میں نے پینے سے انکار کر دیا۔ شاید خاتون نے مجھے کوئی وہمی قسم کا بندہ سمجھا کہ جا کے دوسرا  گلاس لے آئیں ، پھر بھی میری ناں ہاں میں نہ بدلی۔

میری بے نیازی کو محترمہ نے ناک کا مسئلہ بنا لیا  یا پھر کوئی اور چکر تھا ، وہ جو پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے سیٹ سے اٹھنے کا نام نہ لے رہی تھی اب 15 منٹ میں ان کا تیسرا چکر  لگا اورمجھ سے پھر پوچھا ، میری تو جیسے پیاس ہی مر گئی  جیسے پطرس کی موسیقیت لالہ جی کی بات سنتے ہی مر گئی تھی۔ بس بورے والا پہنچ کر   رکی، اور سب مسافروں کو آدھے گھنٹے کی چھٹی دی گئی، کہ کھایا پیا ٹھکانے لگا سکیں ، اور اکڑی ہوئی ٹانگیں سیدھی کر سکیں۔
   
 اسی وقت ذوالقرنین کو بھی لمحاتِ فرصت میسر آئے اور اس کاجوابی ایس ایم ایس آیا ۔  تازہ ترین واردات کا دکھڑا اسے سنا کر میں نے دل کا بوجھ ہلکا کیا، اور ساتھ ہی داستاں سرائے میں ڈنر کی اطلاع دے کر جلانے کی کوشش کی، مگر  وہ چکنا گھڑا نکلا۔ اور میری کوشش بے کار گئی. وقت گزرتے پتا ہی نہ چلا۔ بس بورے والا سے بھی چل پڑی۔ مسافروں کی وقت گزاری کیلئے فلم باغبان چلا دی گئی۔ جبکہ میں ہیما مالنی والے مناظر کے علاوہ  باقی فلم دیکھنےکی بجائے کھڑکی سے باہر دیکھتا رہا۔ 

(جاری ہے)    

Friday, 12 December 2014

چلتے ہو تو لاہور کو چلیے (قسط دوم)۔

0 آرا
گھر سے نکلتے وقت ارادہ تھا کہ بہاولپورسےجا کے بس پکڑتا ہوں، مگر راستے میں خیال آیا کہ  بس گزرنی تو یہیں سے ہے ، اس لیے فون کر کے  سیٹ بک کروا لی ، معلوم ہواکہ پونے نوبجے ڈائیوو دھنوٹ سے گزرے گی ۔

مانعِ وحشت خرامی ہائے جوگی کوئی نہ تھا، اس لیے آٹھ بجے دھنوٹ شہر پہنچ کرانتظارکو "وخت" میں ڈال دیا۔ ساڑھے آٹھ بجے تک غالب  کی غزل "زِ من گرت بود باور نہ انتظار بیا" کے پنجابی ورژن "میرے شوق دا نئیں اتبار تینوں ، آ جا ویکھ میرا انتظار، آجا" کا زیر لب ریاض کرتا  رہا۔ اور داد کےطور پہ خندہ پیشانی سے غبارِراہ پھانکتا رہا۔ اور جو بس پونے نو بجے پہنچنی تھی ، ساڑھےآٹھ بجےہی میرا انتظاردیکھنے آ گئی۔ بس کو خلافِ توقع وقت سے 15 منٹ پہلے آتا دیکھ  کر دل میں خیال آیا تھا کہ :۔
یہ فیضانِ غزل تھا، یا چھوٹے غالب کی کرامت
سکھائےکس نے ڈرائیور کو، انداز ِ برق رفتاری

دروازہ کھلا اور بس میں داخل ہوتے ہی کنڈکٹرصاحب نے مجھے 28 نمبر سیٹ کا راستہ دکھا دیا۔ سیٹ پر بیٹھ کرجب اطمینان میسر آیا  تو دوبارہ اسی نکتے پرغورو فکر میں ڈوب گیا کہ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے۔ کئی ممکنہ وجوہات سوچنے اور رد کرنے کے بعد  فدوی اس نتیجے پر پہنچاکہ اگرتان سین کا دیپک راگ گا کردئیے  جلانےاور اس کی بیٹی کاراگ ملہارگا کربارش  برسانےوالاواقعہ سچ ہے، تو پھریہ بھی کوئی نظر بندی یا شعبدہ نہیں۔ جیسے مہدی حسن صاحب  راگ گا کر شیشے کا گلاس چکنا چور کر دیتے  تھے، ویسے ہی چھوٹے غالب نے (اتفاقی طور پر ہی سہی) ایک نیا راگ ایجادکر کےنہ صرف موسیقی  پہ احسان کیابلکہ اس راگ کی بدولت بس کو  بہاولپور سے دھنوٹ 15منٹ پہلے بلانے کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ ہر چند کہ حاسدین میرے لحنِ داؤدی کو پھٹے بانس کی آواز قرار دینے سے نہیں چوکتے۔ مگر حقیقت تو اپنی جگہ حقیقت ہے۔  پس اپنی اس باکرامت ایجاد پر فدوی پھولانہ سمایااور فوراً سے پیشتر  نومولود راگ کو "راگ انتظاری"  کا نام  دے کر اس کے جملہ حقوق بحق  ِ خود محفوظ کر لیے ۔

اسی اثنا میں بس کہروڑپکا پارکرچکی تھی۔ فارغ بیٹھے بیٹھے جب کچھ اور نہ سوجھاتوموبائل نکال کر افی صاحب اور ارسل کو بذریعہ ایس ایم ایس اطلاع پہنچائی۔ پھرذوالقرنین کا نیرنگِ خیال آیامگرساتھ ہی یہ بھی یاد آیا کہ گزشتہ رات میری کال کے جواب میں ٹیلی نار کی ناری  نےکس رکھائی سے کہا تھا "آپ کے مطلوبہ نمبر سے فی الحال جواب موصول نہیں ہو رہا "۔ اسی  ادھیڑ  بن میں میلسی آ گیا۔  یہ شہردیکھنے کا اتفاق تو کبھی نہیں ہوا البتہ اس کا نام ہمیشہ  سے فدوی کی ضیافتِ طبع کا باعث رہا۔ نجانے اس پر وہ کون سی "میل ۔ سی" چپکی ہے جس کی وجہ سے اس کا نام میلسی پڑ گیا۔

میلسی میں بس دو منٹ کے نام پرپانچ منٹ رکی رہی۔ میں نے پردہ ہٹاکر کھڑکی سےباہر دیکھا تو  نظرملا کی دوڑ کی طرح سیدھی گیریژن  سینماپرجا پہنچی۔ گیٹ پر موجود بڑے سے بورڈ پر ایک ٹکٹ میں تین مزے کا مژدہ جلی حروف میں درج تھا۔ شان کی فلم  "غنڈہ ٹیکس" کے علاوہ بھارتی فلم "کِل دِل" کے پوسٹرز کے ساتھ "ہمراہ گیت مالا" کی نویدِ ٹھرک بھی نظر آئی۔

بھارتی فلموں میں تو مجھے کبھی دلچسپی نہیں رہی، البتہ پاکستانی فلمیں میری کمزوری رہی ہیں ۔  ایک زمانہ تھا جب میں فلاپ ترین اور فضول ترین فلم  بھی بڑے انہماک سے سینما پر دیکھا  کرتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ڈسپرین ٹیبلٹس کا ایک  پتہ جیب میں رکھ کےجاتاتھا۔ اسی زمانے میں "غنڈہ ٹیکس" نیو پیلس سینماکمالیہ میں پہلی بار دیکھی اور پھریہ تب سے میری پسندیدہ فلم ہو گئی۔ اس فلم کے اکثر مکالمے برسوں تک میرا  تکیہ کلام رہے۔ بس نجانے کب میلسی سے نکلی  اور وہاڑی پہنچ  گئی جبکہ میں اس دوران  ماضی کا موئنجوداڑو کھودتا رہا

Tuesday, 9 December 2014

چلتے ہو تو لاہور کو چلیے (قسط اول)۔

2 آرا
حسب سابق یہ قصہ بھی غالب  سے شروع ہوتا ہے۔
جذبہ ویلفیئر  فاؤنڈیشن  کی  تقریبِ  حلف برداری  میں        میری  مسلسل  جملہ بازیوں سے تنگ آکر  ایک دوست  نے   "کَسِنور مغلوب علی الکلب" کے مصداق  مجھے  غالب کا طعنہ دے مارا ۔  جس  کا  خلاصہ  یہ  تھا "غالب  سے تمہیں  آج تک ملا ہی کیا  ہے ؟  " جواب میں  کہنے کوتو   بہت کچھ تھا ، لیکن وہ سب باطنی تھا۔   دنیاوی  دستور  اور دنیاوی  معیارات  کی  کسوٹی  پر  پورا اترنے  کیلئے میرے  پاس کوئی ظاہری   ثبوت نہیں  تھا۔ 
علامہ اقبال  کی طرح میری بھی شدید خواہش رہی ہے  کہ  "دیکھا ہے جو   میں نے اوروں کو بھی دکھا دے" مگر افسوس کہ زمانے کے انداز ہی نہیں معیار بھی  بدلے گئے۔ افسوس  کہ ظاہر پرست زمانے کو مرعوب  کرنے کیلئے  میرے پاس کوئی  ید بیضا نہیں  تھا۔  

جیسے تیسے  دن گزرا  اور وہ  رات  اسی پیچ و تاب میں گزری  کہ  میرا استاد  بھی کامل ۔  میری اپنے  عظیم   استاد سے محبت بھی سچی ۔ میرا غالب کی غالبیت  اور ان کے فضل و کمال  پہ  آنکھوں دیکھا یقین ۔ مگر ہائے یہ  بے بسی ۔۔۔۔کاش ۔۔۔!!!  میرے بس میں  ہو تو  ہر  انسان کی  وہ آنکھ میں وہ نور بھر دوں  جس سے وہ جہل کے  اندھیرے  چیر کر   عظمتِ  غالب کا اپنی  آنکھوں سے مشاہدہ   کرے اور  کہے  کہ "فبای  آلا ربکما تکذبن"۔

غالب کی غیرت تیموریہ جوش میں  آئی ۔۔۔
اور پھر کمال  ہو گیا۔۔۔۔
الحمد اللہ  اب میرے  پاس  واضح  ثبوت ہے  کہ  غالب سے مجھے نہ صرف  باطنی  بلکہ ظاہری طور بھی  بہت کچھ ملا ہے۔

افتخار افی  صاحب  کے اس  جملے کی  گونج تازندگی  میرے کانوں سےنہ جائے گی  جب انہوں نے کہا  کہ کل  ڈنر  داستان  سرائے  میں  کرنا ۔  اب اتنا بتاؤ کہ  لاہور  آ رہے ہو یا نہیں؟میرا  دل تو چاہا  کہ  چھلانگیں  لگاؤں  ، مگر  اس خیال  سے  باز رہا کہ کہیں  ڈارون  کی تھیوری کو  لوگ سچ نہ سمجھنے لگیں۔
اویس قرنی  ہمیشہ سے  اشفاق احمد صاحب  اور عالی جنابہ  محترمہ  آپا  بانو قدسیہ  صاحب   کا  مداح و پرستار تھا ،  مگر  اس جیسے  بے شمار گمنام   مداحین تصور میں  ہی   ان عظیم ہستیوں    کے سامنے  زانوئے  ادب تہہ  کر کے  دلِ ناداں  کو  بہلا لیتے ہیں جیسے ایک غربت  کی ماری مجبور ماں    ہنڈیا میں پانی ڈال کر بھوکے بچوں کو  بہلا رہی تھی۔اور  بانو  آپا  جی  کی خدمت میں حاضری کا موقع  نصیب ہوا تو  "چھوٹے غالب " کو۔

سمجھدار  وں کیلئے  یقیناً یہ اشارہ کافی تھا۔   جن کو سمجھ نہیں آئی  ان کیلئے مزید وضاحت کر دوں  کہ  نہ تو چھوٹا  غالب  ایک دو ہفتے  پہلے    بانو قدسیہ آپا  جی  کا پرستار ہوا  تھا اور  نہ ہی  افتخار  افی صاحب  سے نئی نئی دوستی ہوئی تھی۔  لیکن ذرا  ٹائمنگ دیکھئے ۔۔۔۔

جمعہ  21  نومبر  2014  کو 5 بجے لاہور پہنچنا تھا ۔ اور  جمعرات تھی  کہ گزرنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔  فیصل آباد  سے ارسل کے فون پہ فون آنے لگے۔  شانی ابو ظہبی میں  ہاتھ مل رہا تھا ،  اور  چھوٹا غالب  گھڑیاں گن رہا تھا۔
 سوچا  ذوالقرنین  کوبھی اطلاع دے دوں  ، اور اسے بھی  لاہور آنے کی دعوت دوں ۔  فون کیا تو  "جواب موصول نہیں ہو رہا " سن کے اپنا سا منہ لے کے رہ گیا۔ 

ساری رات  انہی سوچوں میں گزری کہ کیسا منظر ہو گا جب  یہ آنکھیں اس  ہستی کی  زیارت  سے مشرف ہو ں  گی جنہیں  ہمیشہ سے  آئیڈلائز  کرتا رہا۔   کیسے  انہوں بتاؤں  گا کہ کتنی عقیدت ہے مجھے  آپ سے۔ بہت سارے سوال  سوچے کہ  پوچھوں گا  یہ پوچھوں گا ،  یہ پوچھوں گا۔۔۔۔  اور صبح کی اذانیں ہونے لگیں ۔غسل  کے بعد  پتا چلا  کہ واقعی سردیاں  آ چکی ہیں ۔ ٹھٹھرتے کانپتے  رخت سفر باندھا۔  اماں کی دعائیں لیں اور  چل پڑا۔ 
ویسی ہی   صبح ہےجیسی کہ روز ہوتی تھی ۔ وہی مناظر ہیں جو  ہمیشہ  سے دیکھتا چلا آیا  ہوں ۔  مگر آج ان کے رنگ کچھ اور ہی ہیں ۔  مشرق سے ابھرتا سورج  آج کچھ زیادہ ہی چمکدار  اور خوبصورت لگ رہا ہے۔یہی کھیت   یہی سبزہ  چوبیس گھنٹے  پیش نظر رہتا ہے ، لیکن  آج ان کی ہریالی ہی نرالی  ہے۔  طبیعت  پہ عجب خمار سا چھایا  ہوا  ہے۔  جی چاہتا ہے  عادی  شرابیوں کی طرح  غل  غپاڑہ  کرنے لگوں ،  اتنا  ۔۔۔۔۔کہ  سب  کو خبر ہو جائے  کہ  آج  چھوٹا  غالب  بانو  آپا کے  حضور جا رہا ہے۔
  میں تیز چل رہا ہوں   یا میرے شوقِ  ملاقات  کے احترام میں زمین سمٹی جا رہی ہے  ،  پگڈنڈی  پہ اترا  تو  ارد گرد  پودے قطار باندھے  جیسے مجھے گارڈ آف آنر دے رہے  ہیں ۔  شبنم کے  قطرے  میرے  پیروں پہ نچھاور  ہو رہے ہیں،  میرے  غلیظ پاؤں  دھو رہے  ہیں کہ  آج چھوٹا  غالب  بانو آپا کے  
حضور  جا رہا ہے ۔

(جاری ہے)

کرم فرما