Saturday, 13 December 2014

چلتے ہو تو لاہور کو چلیے (قسط سوم)۔

0 آرا
ڈرائیور نے وہاڑی شہر کو بائی پاس کیا ، اور بس کو سوئے لاہور رواں دواں رکھا۔ اب مجھے خیال آیا کہ یہ واقعی ڈائیوو ہے یا محض مونو گرام  چپکا کر شیر کی کھال میں گدھے والا معاملہ کیا ہوا ہے۔ اگرواقعی ڈائیوو ہےتو اب تک اس غیرتِ ِناہید کے درشن کیوں نہیں ہوئے جسے عرفِ عام میں بس ہوسٹس کہا جاتا ہے۔ اصولاً تو میرے سوار ہوتے وقت انہیں استقبال کیلئےکھڑا ہونا چاہیے تھا ،بے شک اہلاً و سہلاً مرحبا نہ بھی کہتی۔   مانا کہ ہماری نظراچھی خاصی کمزور ہے مگر چشمے پہ خواہ مخواہ تو پیسے خرچ نہیں کیے ناں......چشمے کا خیال آتے ہی فوراً چشمہ اتارا  اور بس کے لہراتے پردے سے صاف کیا، مبادا مطلوبہ منظر گردو غبارکی دھندلاہٹ کی بھینٹ چڑھ گیا ہو۔

نصف ایمان کے حصول کے بعد بھی ہنوزدلی دور بود۔ رہا نہ گیا توشتر مرغ کی طرح اچک اچک کے  ادھر ادھر نظر دوڑائی، لیکن گُل بکاؤلی نظر نہ آیا۔ بھلا ہودربان(گارڈ )کاجو "مجھے گدا سمجھ کے  چپ" نہ رہا۔ بلکہ پیاسا سمجھ کے اس بھلے مانس نے "مطلوب و مقصودِ مومن" کو بذریعہ کانا پھوسی اطلا ع بہم پہنچائی۔ حالانکہ ماضی بعید  میں اسی کے ایک  پیٹی  بھائی نے بڑے غالب کے ساتھ اس کے الٹ سلوک کیا تھا۔ پس نیوٹن  کے  تیسرے قانونِ حرکت کی پیروی میں اک پیرِمغاں  بلکہ "لیرِ مغاں" کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا، کی آمد ہوئی۔

نیم مردانہ نیم زنانہ صفات کی حامل ایک ہستی  ڈرائیور کے عین پچھلی سیٹ سے طلوع ہوئی۔ صورت گری تو بے شک اللہ تعالیٰ کی ہے مگراسے بگاڑنے کا کریڈٹ انسان کوجاتا ہے۔ ہرچندکہ محترمہ میک اپ کی بھرپور مدد سے 60 فیصد  خاتون نظر آ نے میں کامیاب تھیں اور زیرو نمبر کا چشمہ لگا کر اپنے تئیں پروفیسربھی سمجھ رہی تھیں۔ نسوانیت کااس قدر فقدان تھا کہ غالب کےمصرعہ "ہر چند کہیں کہ ہے ، نہیں ہے" کی ہوبہو تصویر تھیں۔ دوپٹے جیسی کوئی چیز آدھے سر پہ تھی توسہی لیکن اتنی مہین کہ"صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں" کی عملی تشریح سمجھ لیں۔ بادی النظر میں محسوس کیا جا سکتا تھا کہ مجبوراً دوپٹہ گوارہ کیاہوا ہے۔ جونہی ہاتھ میں ایکوافینا اور گلاس پکڑے آگے بڑھیں تو یکایک مجھ سے آگے 25 سیٹوں پر بیٹھے ہوئے نفوسِ ٹھرکیہ کو احساس ہوا کہ انہیں تو بہت پیاس لگی ہوئی ہے۔

اورمجھے اس وقت سمجھ آئی کہ غالب کے اس مصرعے "جی کس قدر افسردگی دل پہ جلا ہے"  میں کیا سائنس  ہے۔ جی جلنا ، دل جلنا ، رونگٹے کھڑے ہونا قبیل کے محاوروں سے اردو زبان کا دامن لبریز ہے البتہ ایک ضروری محاورے "رونگٹے  بیٹھ جانا" سے عاری ہے۔ فدوی  نے فی البدیہہ یہ محاورہ گھڑ کے اردو کو دان کیا۔ دل جلنے کا اثر یہ ہواکہ صبیح چہرہ دھواں دھواں ہو گیا ، اور  شکل پہ پھٹکار برسنے لگی۔ میر تقی میر سےاس وقت بے حسد محسوس ہوا ، کہ سارے "پنکھڑی  اک گلاب کی سی" نازکی کے حامل اور "چراغوں میں روشنی" دھندلا دینے والےحسین انہی کے زمانے میں کیوں تھے۔۔۔؟؟؟

میری یہ جھنجھلاہٹ بے وجہ نہ تھی۔ ایسا میرے ساتھ پہلی بار نہیں ہو رہا۔ اس کے پیچھے ایک پوری تاریخ ہے۔
اکثر بس ٹرمینل پہ بڑے بڑے سائن بورڈز  پہ تابڑتوڑ خوبصورت حسینہ کے فوٹو کے ساتھ، آپ کی ہمسفر لکھا دیکھ کر  ہمارا کنوارا دل مچل  مچل کر جوگ سے مرتد ہو جاتا۔ عاجز آ کر جب پوچھتا کہ 
دلِ ناداں تجھے  ہوا کیا ہے؟ 
جانتا ہے جیب میں پڑا کیا ہے؟

روٹھا روٹھا جواب آتا

 مانا  کہ ایکسٹرا  ہے ان کا کرایہ  غالب
دو ، تین سو زیادہ دینے میں برا کیا ہے؟

       اور یوں جب بھی دل کے کہنے میں آ کر   فیصل موورز یا ڈائیوو  پہ سفر کیا ، تو سارے  سفر کے دوران لالچی کتے والی کہانی پر سر دھنتا رہااور ہاتھ مسلتا رہا۔ اور انہی سفروں کے دوران ہی "قیامت ہے کہ ہووے مدعی کا ہمسفر  غالب" سمجھ میں آیا۔ سند باد جہازی کی طرح ہر سفر سے بخیر  واپسی کے بعد میں بھی سچے دل سے توبہ کرتا کہ اب فیصل موورز اور ڈائیوو کے  جھانسے میں نہیں آؤں گا۔ مگر اگلی باراسی امید  پہ کہ شاید اس بار............

اس اثنا میں بس بان محترمہ ہم تک پہنچ آئیں۔ چند شرارتی زلفیں دوپٹے کی آنکھ بچا کر پف کی صورت میں ماتھے پہ لہرا لہرا کر "لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم " گنگنا رہی تھیں۔ لیکن "میں نہ لگاؤں گا ہاتھ رے" پر ڈٹا رہا۔خواتین میں شاید  بندہ تاڑنےکی حس ہوتی ہے ، ایک نظر میں جان لیتی ہیں کہ کنوارہ ہے یا  بیوی زدہ.....لہذا  محترمہ نے فدوی کو قابلِ التفات سمجھا ، اور سیٹ کے ساتھ کمر ٹکا کےکھڑی ہو گئیں۔ حالیہ ساقی گری کے دوران یہ ان کا واحد وقوف تھا  حالانکہ میں عرفات نہ تھا۔ مگر میں تو ایسے انجان بن گیاجیسے مجھے ڈاکٹر نے پانی سے پرہیز  تجویز کیا ہو۔ آخر انہوں نے باقاعدہ پانی  آفرکیا۔ جسے میں نے شائستگی سے ٹھکرا دیا۔  میک اپ زدہ چہرے پہ حیرت کے تاثرات ابھر ے اوراپنا سا منہ لے کے آگے بڑھ گئیں۔ جلد ہی واپس آ گئیں، ایک بار پھر مجھے سےپانی  کیلئے پوچھا ، اور اس بار بھی میں نے پینے سے انکار کر دیا۔ شاید خاتون نے مجھے کوئی وہمی قسم کا بندہ سمجھا کہ جا کے دوسرا  گلاس لے آئیں ، پھر بھی میری ناں ہاں میں نہ بدلی۔

میری بے نیازی کو محترمہ نے ناک کا مسئلہ بنا لیا  یا پھر کوئی اور چکر تھا ، وہ جو پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے سیٹ سے اٹھنے کا نام نہ لے رہی تھی اب 15 منٹ میں ان کا تیسرا چکر  لگا اورمجھ سے پھر پوچھا ، میری تو جیسے پیاس ہی مر گئی  جیسے پطرس کی موسیقیت لالہ جی کی بات سنتے ہی مر گئی تھی۔ بس بورے والا پہنچ کر   رکی، اور سب مسافروں کو آدھے گھنٹے کی چھٹی دی گئی، کہ کھایا پیا ٹھکانے لگا سکیں ، اور اکڑی ہوئی ٹانگیں سیدھی کر سکیں۔
   
 اسی وقت ذوالقرنین کو بھی لمحاتِ فرصت میسر آئے اور اس کاجوابی ایس ایم ایس آیا ۔  تازہ ترین واردات کا دکھڑا اسے سنا کر میں نے دل کا بوجھ ہلکا کیا، اور ساتھ ہی داستاں سرائے میں ڈنر کی اطلاع دے کر جلانے کی کوشش کی، مگر  وہ چکنا گھڑا نکلا۔ اور میری کوشش بے کار گئی. وقت گزرتے پتا ہی نہ چلا۔ بس بورے والا سے بھی چل پڑی۔ مسافروں کی وقت گزاری کیلئے فلم باغبان چلا دی گئی۔ جبکہ میں ہیما مالنی والے مناظر کے علاوہ  باقی فلم دیکھنےکی بجائے کھڑکی سے باہر دیکھتا رہا۔ 

(جاری ہے)    

0 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما