Friday, 12 December 2014

چلتے ہو تو لاہور کو چلیے (قسط دوم)۔

0 آرا
گھر سے نکلتے وقت ارادہ تھا کہ بہاولپورسےجا کے بس پکڑتا ہوں، مگر راستے میں خیال آیا کہ  بس گزرنی تو یہیں سے ہے ، اس لیے فون کر کے  سیٹ بک کروا لی ، معلوم ہواکہ پونے نوبجے ڈائیوو دھنوٹ سے گزرے گی ۔

مانعِ وحشت خرامی ہائے جوگی کوئی نہ تھا، اس لیے آٹھ بجے دھنوٹ شہر پہنچ کرانتظارکو "وخت" میں ڈال دیا۔ ساڑھے آٹھ بجے تک غالب  کی غزل "زِ من گرت بود باور نہ انتظار بیا" کے پنجابی ورژن "میرے شوق دا نئیں اتبار تینوں ، آ جا ویکھ میرا انتظار، آجا" کا زیر لب ریاض کرتا  رہا۔ اور داد کےطور پہ خندہ پیشانی سے غبارِراہ پھانکتا رہا۔ اور جو بس پونے نو بجے پہنچنی تھی ، ساڑھےآٹھ بجےہی میرا انتظاردیکھنے آ گئی۔ بس کو خلافِ توقع وقت سے 15 منٹ پہلے آتا دیکھ  کر دل میں خیال آیا تھا کہ :۔
یہ فیضانِ غزل تھا، یا چھوٹے غالب کی کرامت
سکھائےکس نے ڈرائیور کو، انداز ِ برق رفتاری

دروازہ کھلا اور بس میں داخل ہوتے ہی کنڈکٹرصاحب نے مجھے 28 نمبر سیٹ کا راستہ دکھا دیا۔ سیٹ پر بیٹھ کرجب اطمینان میسر آیا  تو دوبارہ اسی نکتے پرغورو فکر میں ڈوب گیا کہ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے۔ کئی ممکنہ وجوہات سوچنے اور رد کرنے کے بعد  فدوی اس نتیجے پر پہنچاکہ اگرتان سین کا دیپک راگ گا کردئیے  جلانےاور اس کی بیٹی کاراگ ملہارگا کربارش  برسانےوالاواقعہ سچ ہے، تو پھریہ بھی کوئی نظر بندی یا شعبدہ نہیں۔ جیسے مہدی حسن صاحب  راگ گا کر شیشے کا گلاس چکنا چور کر دیتے  تھے، ویسے ہی چھوٹے غالب نے (اتفاقی طور پر ہی سہی) ایک نیا راگ ایجادکر کےنہ صرف موسیقی  پہ احسان کیابلکہ اس راگ کی بدولت بس کو  بہاولپور سے دھنوٹ 15منٹ پہلے بلانے کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ ہر چند کہ حاسدین میرے لحنِ داؤدی کو پھٹے بانس کی آواز قرار دینے سے نہیں چوکتے۔ مگر حقیقت تو اپنی جگہ حقیقت ہے۔  پس اپنی اس باکرامت ایجاد پر فدوی پھولانہ سمایااور فوراً سے پیشتر  نومولود راگ کو "راگ انتظاری"  کا نام  دے کر اس کے جملہ حقوق بحق  ِ خود محفوظ کر لیے ۔

اسی اثنا میں بس کہروڑپکا پارکرچکی تھی۔ فارغ بیٹھے بیٹھے جب کچھ اور نہ سوجھاتوموبائل نکال کر افی صاحب اور ارسل کو بذریعہ ایس ایم ایس اطلاع پہنچائی۔ پھرذوالقرنین کا نیرنگِ خیال آیامگرساتھ ہی یہ بھی یاد آیا کہ گزشتہ رات میری کال کے جواب میں ٹیلی نار کی ناری  نےکس رکھائی سے کہا تھا "آپ کے مطلوبہ نمبر سے فی الحال جواب موصول نہیں ہو رہا "۔ اسی  ادھیڑ  بن میں میلسی آ گیا۔  یہ شہردیکھنے کا اتفاق تو کبھی نہیں ہوا البتہ اس کا نام ہمیشہ  سے فدوی کی ضیافتِ طبع کا باعث رہا۔ نجانے اس پر وہ کون سی "میل ۔ سی" چپکی ہے جس کی وجہ سے اس کا نام میلسی پڑ گیا۔

میلسی میں بس دو منٹ کے نام پرپانچ منٹ رکی رہی۔ میں نے پردہ ہٹاکر کھڑکی سےباہر دیکھا تو  نظرملا کی دوڑ کی طرح سیدھی گیریژن  سینماپرجا پہنچی۔ گیٹ پر موجود بڑے سے بورڈ پر ایک ٹکٹ میں تین مزے کا مژدہ جلی حروف میں درج تھا۔ شان کی فلم  "غنڈہ ٹیکس" کے علاوہ بھارتی فلم "کِل دِل" کے پوسٹرز کے ساتھ "ہمراہ گیت مالا" کی نویدِ ٹھرک بھی نظر آئی۔

بھارتی فلموں میں تو مجھے کبھی دلچسپی نہیں رہی، البتہ پاکستانی فلمیں میری کمزوری رہی ہیں ۔  ایک زمانہ تھا جب میں فلاپ ترین اور فضول ترین فلم  بھی بڑے انہماک سے سینما پر دیکھا  کرتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ڈسپرین ٹیبلٹس کا ایک  پتہ جیب میں رکھ کےجاتاتھا۔ اسی زمانے میں "غنڈہ ٹیکس" نیو پیلس سینماکمالیہ میں پہلی بار دیکھی اور پھریہ تب سے میری پسندیدہ فلم ہو گئی۔ اس فلم کے اکثر مکالمے برسوں تک میرا  تکیہ کلام رہے۔ بس نجانے کب میلسی سے نکلی  اور وہاڑی پہنچ  گئی جبکہ میں اس دوران  ماضی کا موئنجوداڑو کھودتا رہا

0 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما