Monday, 1 April 2013

(نہایت) بے ادبی مشاعرہ

2 آرا

آج ٹی وی پر دیکھئےکل ٹی وی۔۔۔۔۔۔۔۔
عقل کے اندھے ناظرین کیلئے ، کل ٹی وی کی آزمائشی نشریات کا آغاز ہو چکا ہے۔
ملاحظہ فرمائیےایک منفرد ، بے باک ، اور خالصتاً بے ادبی مشاعرہ۔آپ نے کئی مشاعرے دیکھے ہونگے، لیکن یہ اپنی نوعیت کا انوکھا مشاعرہ ہےجو عالمِ بے ادبی میں تہلکہ مچا دے گا ۔ اس مشاعرہ کو آپ تک پہنچانے کیلئے ہمارے سر پہ احسان کیا ہےٹیلی مادہ نے۔۔۔۔۔۔
ٹیلی مادہ۔ موبائل صنعت میں زنانہ انقلاب۔ ٹیلی مادہ۔
جی ہاں ۔
وجودِ زن سے ہے ہر موبائل فون میں رِنگ
انسان چاند پر مٹر گشت کر آیا لیکن ہمارے دیس میں آج تک زنانہ موبائل سروس کا آغاز نہ ہو سکا ۔ مایوسی کی ایسی کوئی بات نہیں ۔ اب آپ کی خدمت میں پیش ہے ٹیلی مادہ۔صرف اور صرف ماداؤں کیلئے ،جسے مردوئےبھی عورت کی اجازت و مرضی سے چھو سکتےہیں ان ٹچ رہنے کیلئے۔۔۔۔
آئیے ہم ٹیلی مادہ کی سروس کے متعلق آپ کی بے جان کھوپڑی سے سر کھپانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اپنا موبائل ہاتھ میں لئے رہیں۔
خلا میں خالی گھورنے کیلئے صفر دبائیں۔
 کسی اور خلا کو گھورنے کیلئے دوبارہ صفر دبائیں ۔
خود سے ہم کلام رہنے کیلئےایک۔ کسی سے بے بات الجھنے کیلئے دو۔ تو تڑاخ و تلخ گوئی کیلئے تین  ۔ جن سے آنکھیں چار ہو چکی ہیں ان کیلئے چار۔ پانچوں گھی اور سر کڑاہی میں ڈالنے کیلئے پانچ۔ خالص نجی اور خفیہ باتوں کیلئے سکس ۔ہفتہ بھر مسلسل بکواس کرنے کیلئےسات۔ آٹھوں پہر جاگنے کیلئے آٹھ ۔ اور جو کام خوشی و شوق سےکرنا ہو لیکن دکھاوے کیلئے 
 No , No کرنے کو نو نو دبائیں۔
امید ہے آپ نے پوری سروس رٹ لی ہوگی


آئیے پیارے بے کل ، بے چین و بے قرار ناظرین مع غیر حاضرین! آپ کا میز پوش و میزبان چھوٹا غالبؔ آپ کی زہر آلود نظروں کے سامنے ہے  ۔ انتہائی عجلت یعنی خالص ایمر جنسی میں یہ محفلِ مشاعرہ لت پت کی جا رہی ہے کیونکہ شاعرانِ بے لگام  و بے ہنگم کی تعداد  حدود پار کر چکی ہے 
شاعر:۔ کیا کہا؟ حدود آرڈیننس کو پار کر گئی ہے؟
دوسرا شاعر:۔ حدِ بے ادبی ملحوظ رہے۔
چھوٹا غالب:۔ اس مشاعرے کو بلا مشاہرہ بطور حشر برپا کرنے میں شاعرانِ بے لگام کی بے وزن دولتیوں کا بڑا گہرا دخل ہے ۔۔ جن شاعرانِ بے لگام پر کڑا وقت پڑا ہو وہ اس مشاعرے میں نازل ہو سکتے ہیں لہذا بہت سےشاعرانِ بے لگام  خود ساختہ نام و نمود کی خاطر کود پڑے ہیں ۔
برداشت ہے تو برداشت کر۔ ورنہ ہارن دے کے پاس کر
مگر اس مشاعرے کے ضابطہ بد اخلاقی کا لحاظ رہے۔
پیارے بے کل ، بے چین و بے قرار ناظرین مع غیر حاضرین!آج کے اس مشاعرے میں صاحبِ صدر کے گھٹیا ترین و انتہائی ذلت آمیز منصب کیلئے جس شخصیت کا ذکر ِ ملامت ہے وہ نہایت بے حس و ڈھیٹ ترین شاعرِ بے ہنگم و بے لگام ثابت ہوتے رہے ہیں ۔صاحبِ صدر ہونے کی سب سے بڑی خصوصیت یعنی خراٹے دار نیند میں غوطہ زنی کی واردات کے ماہر و رسیا ہیں اور کسی مشاعرے کے دوران انہیں بیدار نہیں پایا گیا ۔ان سے اجازت لے کر مشاعرے کی کاروائی شروع کی جائے یہ امید ہی فضول ہے ۔لہذا مشاعرے کا تسلسل قائم رکھا جا سکتا ہے چاہے یہ اجازت دیں یا نہ دیں۔ اب رہ گیا ان کا خالص غیر ادبی و رسمی تعارف تو آپ اسے صرف وقت کے زیاں سے تعبیرکر سکتے ہیں  ۔
مشاعرے کے بے باکانہ آغاز سے پہلے میں ناچیز و حقیر بلکہ تقریبا ً فقیر آپ کی زد میں  ہوں ، جو دے اس کا بھی بھلا  اور جو نہ دے اس کا تو واقعی بھلا ہے۔
شاعر:۔ مانگ کیا مانگتا ہے اے سائل نا ہنجار۔
چھوٹا غالب:۔ صاحبِ صدر سے اجازت۔
لیکن ناظرین مع غیر حاضرین! آج کے مشاعرےکی صدارت  کیلئے بے ادب دنیا میں جن کا ڈنکا بج رہا ہے وہ خود ہی جبراً صدارت کیلئے مصر ہیں اور سر دھننے نازل ہیں  عالی جناب  شاعرِ ٹن باز ، احمق دراز ۔ لہذا اجازت کا فضول سا تکلف کیے بغیر اپنا کلام تھوکنا چاہتا ہوں ۔
ایک شاعر:۔ نازل ہو ، نازل ہو ۔ شوق سے تھوکیں تاکہ پھر دنیا آپ پر تھوکے۔
چھوٹا غالبؔ:۔عرض فرمایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
؎  ہو سکے گا نہ ہم سے کوئی معاملہ
چاہے ناہید  و نرگس ہو یا ہو نائلہ
ایک شاعر:۔ آج تو ساری مشوکاں دا ناں لے لیتا اے۔
دوسرا شاعر:۔ بڑی اونچی فلم نکلے ہو۔
خان صاحب:۔خوچہ وئی وئی کنہ یہ تو بڑا شہ معلوم اوتی اے۔
چھوٹا غالبؔ:۔
  اس قدر جھک گئے تیرے دیدار میں 
اب تو باقی رہے گا نہ کچھ فاصلہ

خان صاحب :۔ خوچہ یہ تو ام لوگ سے بی آگے جکتی اے۔
ایک شاعر:۔ واہ کیا جھکان ہے۔

چھوٹا غالبؔ:۔ آداب۔۔۔۔۔۔ اب انجام تو دیکھئے۔۔۔۔۔۔
اب تو انجام کا بھی نہیں ڈر ہمیں 
ہوگئی ہم سے کیسی خطا کاملہ

ایک شاعر:۔ واہ جی ، تسی تے وڈے اشتیاری نکلے۔۔۔ بلے بھئی بلے

چھوٹا غالبؔ:۔ آداب ، آداب ، جتنا داب سکے داب۔
اب اس مشاعرے کا شاہی طمنچہ جس شاعر ِ بے لگام کے منہ پر رکھنے جا رہا ہوں ، وہ ہمیشہ سے تعارف کے محتاج ہی رہے ہیں بچپن سے آج تک۔کیونکہ بچپن میں اپنا نام ہی مشکل سے ادا کرتے تھے۔ بڑے ہوئے تو بڑے مسائل پیدا ہوئے، والدین کیلئے۔لہذا کوئی فرق نہیں پڑے گا میں ان کا نام لوں ، نہ لوں  وہ نازل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔۔۔۔ان کا تخلص کیا ہے یہ آج تک خود ان کی سمجھ نہ آیا۔ بہرحال برداشت پر ناز ہے تو برداشت کیجئے۔مرزا ناک چنے چباوی

مرزا :۔ناکوں چنے چبواؤں  گا محبوب کو ہر دم
گر کر گلے لگاؤں گا محبوب کو ہر دم 

ایک شاعر :۔ابے کیا نالے میں گر پڑے تھے؟
دوسرا شاعر:۔نہیں نالہ ان پر آ گرا ہوگا۔
چھوٹاغالبؔ:۔حدِ بے ادب ، حدِ بے ادب۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی ان کا کلام چل رہا ہے۔

مرزا :۔بندر نے بھی نہ دکھایا ہوگا جو طویلہ
کرتب میں وہ دکھلاؤں گا محبوب کو ہردم 

ایک شاعر:۔ابے اس کی دُم پر پیر رکھو۔دُم  دبا دُم ، دُم دبا دُم۔
مرزا :۔ بھائی دُم پر نہیں دم پر۔۔  شعر قرض ہے
ایک شاعر :۔ کون سے بنک کا ہے؟
مرزا:۔ جب قرض چڑھے گا میرے سر پر جو زیادہ
اچھی طرح نچواؤں گا محبوب کو ہر دم

ایک شاعر:۔ دُر فٹے منہ
مرزا:۔ کیا آپ کے دل پر لگی جا کے؟ تو پھر لگائیں ٹھمکا۔
غالبؔ:۔شاعرانِ بے لگام اپنی حدود کو سامنے رکھیں۔ اور اب آپ پتلی گلی سے نکل لیں ۔
یہ تھے مرزا ناک چنے چباوی۔
اب جگر ، گردے ، پھیپھڑے سنبھال کر بیٹھئے۔
ایک شاعر:۔ کیا کسی قصائی کو بلایا ہے؟
غالبؔ:۔ اب آ رہے ہیں حضرت کریلا  نیم چڑھاوی
کریلا:۔ اماں  چڑھاوی نہیں ، چڑھوی
کریلا عرض کرے ہے
اب کیا چھپائیں آپ سے ، پالے ہیں ایسے روگ
کہتے ہیں کریلے کو سبھی نیم چڑھا لوگ

 شاعر:۔ارے بھئی یہ مطلع ہے یا مقطع؟
کریلا:۔ہونے کو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ درا صل آج مطلع ابر آلود تھا تو یہ دونوں کا مرکب ہے، اسے منقطع بھی کہہ سکتے ہیں ۔ جاہل لوگ اسے مُنَکا بھی بولتے ہیں ۔
ایک شاعر:۔ کچھ زیادہ ہی نیم چڑھا ہے
خان :۔ (نسوار دیتے ہوئے) خوچہ نسوار کاتی اے؟ بالکل اصل اے۔
کریلا :۔ خان! ایسی چیزیں آپ کو ہی راس آ سکتی ہیں ۔ ویسے بھی نسوار کا کریلے سے کیا میل؟۔۔۔۔
؎ ہم نے تو کمر باندھ لی محبوب کے آگے
چاہے رقیب کرتا پھرے دنیا بھر میں سوگ

ایک شاعر:۔ واوا بھئ واوا، رقیبِ روسیاہ کو کیا چماٹ ماری ہے
کریلا:۔ آداب، بہت زیادہ داب
صاحبِ صدر کیا آپ نے افیم چڑھائی ہوئی ہے؟۔۔۔۔۔ شعر عرض ہے؎
پیتا ہوں میں تو روز کریلے کا خود ہی جوس
انجام تو معلوم ہے، آغاز بھی ہے روگ

ایک شاعر:۔ واہ بھئی واہ، کیا شیر مارا ہے، ببر شیر ہے
دوسرا شاعر:۔ راج ببر کا بڑا بھائی لگتا ہے یہ تو۔
غالبؔ:۔ اپنا بے معنی کلام  لیے ہوئےیہ تھے کریلے وہ بھی نیم چڑھے۔
اب سلسلہ کلام کو ساکت وجامد کرنے آرہی ہیں ایک بہت بُڑھیا اور انتہائی بے باک شاعرہ۔جنہیں آپ نے اکثر ریڈیو پر دیکھا اور ٹی وی، اخبارات ، رسائل و جرائد پر سونگھا ہوگا۔نہایت چھچھورے ، اوباش ، تماش بین قسم کے شائقین جن کا شاعری سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا ، ان کی صرف ایک جھلک دیکھنے کیلئے اور اپنا ندیدہ پن فخریہ طور پر ظاہر کرنے چلے آتے ہیں ۔
ایک بار ان کے کسی سچے پرستار نے وفورِ جذبات سے بے قابو ہو کر بھری محفل میں ان کے گلے میں






جوتوں کا ہار ڈال دیا تھا ۔
جس پر دنیائے ادب ابھی تک سکتے میں ہےاور آج تک فیصلہ نہیں کر پائی کہ یہ خود ساختہ شاعرہ دیکھنے کی چیز ہیں یا بس یونہی اپنے گلے کا استعمال کرتی ہیں ، وطن عزیز کے سارے ہی چینلز ان کی شاعری سے زیادہ ان کو اہمیت دیتے ہیں اور اس لیے یہ آپکو ہر جگہ پڑی ہوئی ملتی ہیں ۔ لہذا میں آپ کی برداشت کی داد دیتے ہوئےدرمیان سے ہٹنے ہی میں عافیت سمجھتا ہوں ۔ بڑے لشکارے و ناز وانداز سےآ رہی ہیں محترمہ زہر آلودہ زہرؔ
زہر:۔آداب بجا لاتی ہوں 
سب بیک آواز:۔ وعلیکم آداب۔
زہر :۔صاحبِ صدر اگر ہوش میں ہیں تو شعر ملاحظہ ہو۔۔۔
میرا جلوہ کہیں دیکھا، گلا ایسا کہیں دیکھا 
میرا جوڑا کہیں دیکھا ، ملا ایسا کہیں دیکھا

خان:۔ (پھڑکتے ہوئے) وئی وئی ، خوچہ بی بی جان ! تم کیدر ریتا اے ؟ کسم نسوار کا ، ام نے تو ایسا کبی نئیں دیکا ۔ ابی ام تم کو دیکنا چاتی اے بوت ٹیم تک۔
زہر:۔ آداب ، ابھی نہیں ، ذرا صبر سے کام لیجئے، ابھی نہیں
ایک شاعر:۔ واقعی  زہر ہو تو ایسا
زہر :۔ آداب۔ عرض کیا ہے جسے اکثر طول دیتی رہتی ہوں ، ملاحظہ ہو

زہر آلودہ سی نظریں لئے پھرتی ہوں دنیا میں 
ستم اتنا کہیں دیکھا ، برا  ایسا کہیں دیکھا 

ایک شاعر:۔ واہ جی واہ، کیا ستم توڑا ہے آپ نے
خان:۔ خوچہ وئی وئی، اک ستم اور میری جان ابی ام باکی اے۔
زہر:۔ آداب، بہت آداب۔ لیکن ذرا صبر سے کام لیں ۔ 
آگے ملاحظہ ہو، مزید آگے دیکھیں ۔ تھوڑی اور توجہ دیں مجھ پر۔
شاعر:۔ جی ہاں ، ہمہ تن گوشت ہیں ۔ ہم تو ٹکٹکی باندھ کر آئے ہیں ۔
زہر:۔ بچہ بچہ ، بوڑھا بوڑھا ، حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، محلہ تو سارا جانے ہے
خان:۔ خوچہ وئی وئی ام تو جانتی اے۔آپ امارا تاریف کرتا اےبی بی جان ! لیکن کسی کو بولنا نئیں ، امارا اورت بوت جلدی شک کرتا اے
زہر:۔ آداب لیکن ذرا ٹھہر کر، اطمینان سے۔۔۔۔۔۔ شعر ملاحظہ ہو۔
پڑے رہتے ہیں  دھت  میرے اشعار کو سن کر
زہر ایسا کہیں دیکھا ، چڑھا ایسا کہیں دیکھا
میں نے یہ دوگنا مقطع کہا ہے ۔ اس کو دو مکھا یا دو مقطع کہتے ہیں ۔ جاہل اسے دو مٹکا کہتے ہیں۔
ایک شاعر:۔ واہ صاحب۔ واہ جی کیا زہر گھولا ہے۔جو بات ہے زہر آلود ہے۔کہیں صدر صاحب فوت نہ ہوجائیں
دوسرا شاعر:۔کیوں بھئی ایمبو لینس تو تیار ہے نا؟
زہر:۔ اس قدر کمزور صدر کیوں لایا جاتا ہے ؟ صدر تو وہ ہے جس پر کسی کے کلام کا اثر ہی نہ ہو۔ دنیا بک بک کرتی ہے تو کرتی رہےصدر آرام سے پڑ ا سوتا رہے۔ صبح جب تنبو والا آکر ٹھوکریں مارےتو پتہ چلے کہ صدر کیا ہوتا ہے
غالبؔ:۔ شکریہ ! آپ نے صدر کی شان میں جو نقشہ بازی کی۔
زہر:۔آداب ۔ لیکن ابھی نہیں ، مشاعرے کے بعد۔
غالبؔ:۔آپ کے سامنے بے لگام تھیں محترمہ زہر آلودہ زہر۔ جو مشاعرے میں زہر گھولنے پر مکمل عبور رکھتی ہیں  اور نہ جانےکب آپ کی زندگی میں زہر گھولنے میں کامیاب ہو جائیں ۔
زہر:۔ حد درجہ تعریف کا شکریہ ۔۔۔۔

غالبؔ:۔بے کل و بے چین ناظرین مع غیر حاضرین! ابھی یہ مشاعرہ جوں کا توں ہے، کہیں بھاگئےگا ہر گز نہیں ورنہ ہم مشاعرہ لیکر آپ کے گھر نازل ہو جائیں گےاور پورا کا پورا مشاعرہ آپ پر مسلط کر کے رہیں گے۔ آخر آپ کے ذوق کی قیمت بھی تو آپ ہی ادا کریں گےلہذا ہم آپ کے ساتھ ہیں بریک سے پہلے اور بعد بھی۔
اپنا بریک آئل لازمی چیک کرتے رہیں ، کم ہو تو فوری ڈالیں ورنہ نتیجہ میں  کلیجہ منہ کو آسکتا ہے،
ڈھیشوں
کتا مارکہ، بریک آئل یاد رکھیں
ڈھیشوں 

پیارےبے کل و بے چین ناظرین مع غیر حاضرین!ویلکم بیک  یعنی پچھلے دروازے سے خوش آمدید۔۔۔۔۔

اب آپ کی قوتِ برداشت کا کڑا امتحان ہے۔ اس مشاعرے کے بے حد بے لگام شاعر  آپ پر کودنے کیلئے لنگوٹ کس چکے ہیں ۔ازل سے تکلیف میں ہیں ۔بچپن میں متعدد بار سکول سے نکالے گئےاور یوں ان کا دل اس قسم کی لغویات سے اچاٹ ہو گیا ۔  ٹُن پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے معاشرے میں پھٹکارے جاتے ہیں ۔بس ذرا ان کے نام سے پکاریں اور پھر دیکھیں کرشمہ۔۔۔۔ یہ فیصلہ آپ پر ہے کہ انہوں نے کہاں تک چڑھائی ہوئی ہے۔  ۔۔۔۔استاد تیوری چڑھا پوری
استاد تیوری:۔ (تیوری چڑھاتے ہوئے) صاحبِ صدر ! کلام پیش کروں یا نہ کروں؟
غالبؔ:۔ ضرور کریں
استاد:۔۔۔۔
اس قدر میں نے کیا اس کا ذکر دنیا سے
کہ ہے مفرور میری جورو فکرِ دنیا سے
ایک شاعر:۔ کیا فوت ہوگئیں؟
استاد:۔ جی ہاں، ان کا نام تھا فوت بیگم ولد قضائے الٰہی۔۔۔۔۔۔۔
خان:۔خوچہ وئی وئی کنا، ام کو تمارا اورت کا بوت دک اوا، بے چارا جوان مر گیا۔
استاد:۔ لیکن وہ تو پہلے ہی سے فوت تھی۔۔۔۔۔۔۔ کلام تو سنئے ۔ ابھی مجھے ایک اور مشاعرے میں بھی جانا ہے
۔۔۔
تذکرے ہوتے رہے اس کی بدمزاجی کے
فوت بیگم جو ہوئی میری، شکر ، دنیا سے
ایک شاعر:۔ کیا غضب کا شیر ہے۔
خان:۔ خوچہ کدر اے؟ (جیب سے پستول نکال کر)ام ابھی فیر کرتی اے۔
استاد:۔ بھئی آگے سنیں گے یا میں چلوں ؟
غالبؔ:۔ استاد آپ اپنی تیوری چڑھائے رہیں ، اپنے کلام سمیت
استاد:۔ میں نے جب تیوری اپنی چڑھائی بیگم پر
اس قدر بکنے لگی لے کر مکر دنیا سے
خان:۔ اوئے خوچہ کیا بکتی اے۔ مکر و فریب تو امارا چوٹا باچا کا نام اے۔ ام نے سوچا توڑا موڈرن نام اے۔

غالبؔ:۔پیارےبے کل و بے چین ناظرین وغیر حاضرین! ابھی آپ نے موقع دیا استاد کو پوری تیوری چڑھانے کا ۔ اب آپ لوگ دم بخود ہو جائیں، نہ جانے آپ کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے کیونکہ آپ کو نسوار سنگھانے آرہے ہیں انتہائی بے لگام و ریشہ ختمی۔۔۔۔خوچہ خان گل قباچہ۔ جنہیں بچپن سے شاعری کی بے نسبت نسوار زیادہ چڑھی ہے۔ یہ جس مشاعرے میں جاتے ہیں ، اس کے اختتام پر فرش کو فینائل سے دھلوانا پڑتا ہے
خان:۔ خوچہ ام آپ لوگ کی بوت مشکوک اے کہ آپ ام لوگ کا سنتی ہے۔ ام آپ لوگ کو بولتی اے کہ ام جو لکتی اے ام کو خود سمجھ نئیں آتی
غالبؔ:۔ حضور ارشاد ہو ، یقیناً ہمارے بھی پلے کچھ نہیں پڑے گا۔
خان:۔ خوچہ اس کا نام نئیں لو، ام نے اس خانہ خراب ارشاد کا نوکری چوڑ دیا اے۔ امارا شیر دیکو۔۔۔۔۔۔
خوچہ گر تم پٹان ہوتی
چہ میں میربان ہوتی
ایک شاعر:۔ واہ خان صاحب خالص جرگہ کا شیر ہے
خان:۔ او خو آگے کا بی سنو۔۔۔۔۔۔
میں تیرا جان لیتی 
تو میرا جان اوتی 
تو بی بی جان بنتا
میں تیرا خان اوتی
ایک شاعر:۔ واہ خان صاحب کیا غضب کی سٹوری ہے۔
خان:۔ خوچہ جان، ابی تو کانی آگے چلتا اے۔۔۔۔۔
توڑا بچہ زیادہ اوتی
بڑا خاندان اوتی
ایک شاعر:۔ خان صاحب !ذرا ہلکا ہاتھ رکھیں۔۔
خان:۔ خوچہ امارا کانی اے، کسی چڑی چاپ کا نئی۔۔۔۔۔۔۔۔
کبی مجھ سے جھگڑا کرتی
تو بلائے جان اوتی 
خوچہ گر تم پٹان اوتی
چہ میں میربان اوتی
ایک شاعر:۔ واہ خان صاحب ! خالص نسواری کلام ہے

 غالبؔ:۔پیارےبے کل و بے چین ناظرین وغیر حاضرین! بے وقت کا بریک آ چکا ہے ۔
میں اگر عورت  ہوتا تو یہی کہتا کہ ہمارے ساتھ ہر گز نہ رہئے گا، کیونکہ ہمارے علاقہ میں پانی نہیں آتا

تابڑ توڑ تعمیراتی ادارہ پیش کرتا ہےچند نئے اور انہونےمنصوبے
الدھڑام پلازہ
زمیں بوس ٹاور
اور 
منہدم اسکوائر
  جیسے کامیاب شاہکاروں کے بعد سمندر پار سرمایہ کاروں کیلئے 
تیتر ٹاؤن  میں تصوارتی پلاٹس، اور خوابیدہ بنگلے
نہ پانی، نہ بجلی ، نہ گیس ، نہ ٹرانسپورٹ کا غم
جس میں آپ کے تیتر و بٹیر انتہائی عیش وآرام سے آکری سانسیں لے سکتے ہیں ۔
ہینگ لگے نہ پھٹکڑی ، اور رنگ آئے چوکھا۔
خرکار بینک کی کسی بھی شاخ پر لٹک کر بلیک میں قرعہ اندازی کا فارم آنکھ بند کرکے خریدیں 
اگر آپ کا قرعہ نہ نکلے تو آدھی رقم ڈوبنے کا غم نہ کریں ، بلکہ آدھی رقم بچنے کا شکر ادا کریں۔
ڈھیشوں


غالبؔ:۔پیارےبے کل و بے چین ناظرین وغیر حاضرین!آئیےوہیں سے  ازار بندباندھیں جہاں سے ٹوٹا تھا۔ آپس کی بات ہے ، مہنگائی کا دور ہے  لہذا پیوند کاری سے کام چلتا ہے۔  اس بے باک و بے لگام  مشاعرے میں عجیب و غریب بولیاں سننے کو مل رہی ہیں ۔ اب ہم ایسے شاعر کو دعوت دے رہے ہیں جنہیں بچہ بچہ  جانتا ہے کیونکہ ان کا کلام ناقابلِ برداشت اور ان کی بری عالمی شہرت کے صلہ میں ناقابلِ نشر و اشاعت قرار دیا جا چکاہے ۔ برداشت پر ناز ہے تو برداشت کیجئے۔ انہوں نے اپاچی قبائل کیلئے کئی قومی و ملی نغمات بھی  تخلیق کیے ہیں ۔
تو ملاحظہ ہو اپاچی ایوارڈ یافتہ شاعر استاد عجیب بھونکوی
استاد عجیب:۔صدر صاحب ! اب میں آپ کے سرھانے بھونکوں کہ نہ بھونکوں؟

شاعر:۔بھونکیں ، بھونکیں ضرور بھونکیں ۔
استاد عجیب:۔
میں نے بھونکا جو کبھی آپ نے سمجھا نہ کبھی
لاکھ بھونکا جو کبھی آپ نے دیکھا نہ کبھی
ایک شاعر:۔ واہ کیا لاچاری و مجبوری ہے
استاد عجیب:۔میرے بھونکے  پہ موقوف ہے یہ دل کی رونق
بھونک کر ٹوٹ گیا دل میرا سنبھلا نہ کبھی
ایک شاعر:۔واہ کیا لگاتا اور لاجواب بھونکا ہے آپ کے دل نے۔
خان:۔ خوچہ ام کو دیک کر بوت زیادا بونکتی اے، امارا تو گلی سے گزرنا بی مشکل اے۔
استاد عجیب:۔ مزید بھونکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؎
آپ گزریں کہ نہ گزریں  میں سدا بھونکوں گا
کہ عجب بھونکنے کا کام یہ روکا نہ کبھی
ایک شاعر:۔واہ استاد بھونکوی واہ ! آپ نے تو بھونکنے کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا
استاد عجیب:۔ اب میں بھونکوں کہ نہ بھونکوں
شاعر:۔ بھونکیں بھونکیں
غالب:۔ استاد عجیب بھونکوی صاحب !شاعری پہلے ہی آپ کے احسانات کے بوجھ تلے پس چکی ہے۔ لہذا آپ کا مزید احسان یہ ہوگا  کہ آپ اپنا بوریا بستر سمیٹ لیں  کیونکہ وقت کی قلت نے ہمیں ذلیل و خوار کر کے رکھ دیا ہے۔
پیارےبے کل و بے چین ناظرین وغیر حاضرین!انتہائی بے لگام شعرائے بے نیل و مرام نے کر دیا ہےجینا حرام ۔ اب میں صاحبِ صدر کی اجازت کے بغیر ایک بے سرے اور بے لگام شاعر کو پیش کر رہا ہوں جنہیں یہ خبط سوار ہے کہ وہ گلوکار شاعر ہیں ۔ لیکن دراصل انہیں خود بھی علم نہیں کہ گائیکی کیا ہے، یہ تو چیخنے ، چلانے ، اچھلنے ، کودنے  اور بلبلانے کو گلوکاری سمجھتے ہیں ۔ مجبورا ً  ہم مشاعرے کا شاہی طمنچہ علامہ سر دھنوی کے منہ سے لگاتے ہیں
علامہ :۔ بغیر عرض کیے کلام حاضر ہےکیونکہ میں کوئی منگتا فقیر نہیں ہوں کہ آپ جیسے کنگلے شعرا و شائقین کے سامنے عرض کروں  کہ عرض ہے یہ گلہ نہیں ، سمجھا ہے جتنا آپ نے اتنا تو بے سرا نہیں ۔ آپ جیسے بے سرے شائقین نے ہی مجھے علامہ سر دھنوی بنا ڈالا ہے ورنہ ہم بھی ہوتے کام کے ۔۔۔۔۔۔
سونگھیئے اور سر دھنئیے۔۔۔
ہم سے گایا نہ گیا ، ان سے بجایا نہ گیا 
ایک بھی سر کوئی ہم سے لگایا نہ گیا 
ایک شاعر:۔ وا جی ، کی کمال کیتا اے ، ایویں دھمال کیتا اے۔
علامہ :۔ آگے تو سر دھنئیے۔۔۔
یوں ہی بدنام رہے ہم تو سدا گانے میں
لے اٹھانی تھی جہاں، ہم سے اٹھایانہ گیا  
خان :۔ خوچہ ام بولتی اے کس کو کب اور کہاں اٹانا اے ، امارے کو بولو ام کام بلکل پکا کرتی اے۔
غالبؔ:۔خان صاحب یہ مشاعرہ تو آپ ہی نے اٹھایا ہے جب تک آپ جیسے بے لگام  و بے ہنگم شاعر نازل نہ ہوتے تو شاعری بے چاری ہمیشہ بری طرح  شرمائی اور نادم رہتی
علامہ:۔ آگے سونگھئیے اور سر دھنئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دھکے دیتے رہے ہم اپنی ہی دھن میں دھن کو
شور جتنا بھی کیا ، اور مچایا نہ گیا
غالبؔ:۔ہم سے گایا نہ گیا ان سے بجایا نہ گیا۔ ۔۔۔یہ تھے انتہائی بے سرے و بے ہنگم گلوکار نما شاعر جناب علامہ سر دھنوی ۔۔۔۔
اب ہم اپنے پیارے وطن کی مایہ ناز ملکہ ء شاعری  کو ہم نازل ہونے کی بھیک دیتے ہیں  ان کی شاعرانہ عظمتِ بے لگام  کی سند عالمی مشاعروں میں گم ہو چکی ہے۔انہوں نے اپنا تن، من اپنا برتن اپنا سالن غرض یہ کہ  اپنا سبھی کچھ خود فراموشی کی کیفیت میں اپنی بے ہنگم شاعری کے سپرد کر دیا ، یہاں تک نوبت آ چکی ہے کہ انہیں یہ بھی یاد نہیں رہتا  کہ یہ کس وقت کہاں ہیں ۔ان کے بے شمار تابڑ توڑ قسم ے دیوان یکے بعد دیگرے ردی فروشوں کے تھڑوں پر بآسانی دستیاب ہیں جنہوں نے دنیائے بے ادب میں کہرام مچا دیا ہے۔ گنجی ٹنڈ والے نقادوں نے انہیں بے تحاش  اپنے سروں پر چڑھانے کی ناکام کوششیں کیں اور اب یہ عالم ہے کہ کتب فروش خود کو ردی فروش  کہلانے میں بڑا فخر محسوس  کرتے ہیں ۔بصد ذلت و خواریہم انہیں پیش کرنے کیلئے خود کو انتہائی مجبور و بے بس پاتے ہیں ۔ جگر ، پھیپھڑے  اور گردے  سنبھالیں کہ آپ کا جینا حرام کرنےنازل ہوا چاہتی ہیں محترمہ نازک اندام بیماروی۔۔۔۔
نازک:۔ آداب بجواتی ہوں ، مجھے فخر ہے کہ میری بیماری کو آپ شاعری سمجھتے ہیں ۔ یہ سب آپ کی گھٹیا محبت کا ثبوت  ہے جسے میں تا زندگی سرمایہ ء پھٹکار محسوس کرتی رہوں گی۔ آج میں آپ کے چرنوں میں اپنی بدنامِ زمانہ غزل پیش کرتی ہوں جسے زمانہ شاعری کی بہتی ہوئی ناک کہتا پھرتا ہے۔ شاید یہ بے رومال زمانہ ہے۔۔۔۔۔۔۔
خود بخود پھیل گئی بات اس انگڑائی کی
اس نے کتے کی طرح میری پذیرائی کی
ایک شاعر:۔(قدموں میں لوٹنے کی کوشش میں)واہ جی واہ 
نازک:۔مزید ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔
جب بھی کیچڑ میں وہ لوٹا تو میرے پاس آیا 
بس یہی بات ہے بڑھیا میرے اس نائی کی
خان:۔ خوچہ وئی وئی ، یہ کونسا نائی اے، ام اس کا اجامت بنائے گی
ایک شاعر:۔ یہ سب کیچڑ کی کرامات ہیں ۔
نازک آداب بجواتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ مزید سنئے۔۔۔۔
میں ا سکا نام نہ لوں لوگ بو سے پہچانیں 
بات کہنے کی نہیں ، بات ہے قصائی کی
خان:۔ خوچہ بی بی جان ! تم ا س  کا نام ضرور لو ، کسم نسوار کا اس کو نئیں چوڑے گی۔
ایک شاعر:۔ خان صاحب صبر سے کام لیں ایسا وقت کسی پہ بھی آسکتا ہے۔
 غالبؔ:۔پیارےبے کل و بے چین ناظرین وغیر حاضرین!اب ہم سب مل کر صاحبِ صدر کو بیدار کرتے ہیں اور اس مشاعرے کا اختتامی ٹوکرا ان کے سر پر رکھتے ہیں ۔ان کی تعریف کرنا کچھ عجیب سا لگتا ہے کیونکہ انہوں نےا پنی سطحی اور بے ہنگم سے شعرا کے ہجوم میں کھلبلی سی مچا دی ہے۔ ان کے ناقدین میں تو جیسے جیسے صفِ ماتم بچھ گئی ہے اور کتب فروش حیران ہیں کہ ردی فروش ان سے آگے نکل گیا ۔میڈیا کےکارندے ان کے سامنے کشکول لیے پھرتے ہیں جیسا کہ مزاروں پر دیکھا جاتا ہے، ممکن ہے صاحبِ صدر آنکھ بچا کر تعویز گنڈوں کا کام بھی کرتے ہوں  لیکن سانوں کی۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں تو ان کی شاعری سے لچر پن کی حد تک عشقِ مجازی ہے۔۔۔۔۔۔۔
انجام خطاوی:۔ (آنکھیں ملتے ہوئے اٹھتے ہیں ) آن ، ہوں ، ہاں میں کہاں ہوں ، کیا مشاعرہ ابھی چالو ہے؟
نہایت کوفت محسوس ہوتی ہے جب مجھے نیند سے اغوا کیا جاتا ہے۔
 بہرحال۔ ۔۔۔ جو بچا تھا وہ لٹانے کیلئے آئے ہیں 
آخری گیت سنانے کیلئے آئے ہیں 
شیر ملاحظہ ہو
شعرا:۔ خطا فرمائیے ۔ خطا فرمائیے۔۔۔۔۔۔۔۔
صدر:۔ پٹ کے یوں ہم نے گال سہلائے
جیسے برکھا کی رت چلی آئے
شعرا :۔ واہ صاب، کیا پٹائی کی رت ہے
صدر:۔میں آپ کی داد کے ہر گز لائق نہیں کیونکہ پٹنا تو میرا محبوب مشغلہ ہے۔۔۔۔۔۔شیر حاضر ہے۔۔۔۔
راز داری سی راز داری ہے
مانگ کر ہم ادھار پچھتائے
خان :۔ خوچہ ! ام لوگ  کس لئے اے، جب بولو آپ کو سود پر ادھار دیتی اے ۔
صدر:۔ دراصل میں بچپن سے ہی حساب میں کمزور ہوں ، اور جسمانی طور پر بھی
شیر سونگھیئے۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنے اشعار ہم نے چوری کیے
پھر بھی احمق دراز کہلائے
غالبؔ:۔ واہ کیا سچا شعر ہے ، اعترافِ جرم ہو تو ایسا۔۔۔۔۔۔۔
صدر:۔ اب اجازت ہی مانگنی ہے  مجھے
بس صدارت کو آج بھر پائے 

غالبؔ:۔ (شعرا کا شور اور کھڑے ہو جانا دیکھ کر)پیارے بے کل ، بے چین و بے قرار ناظرین مع غیر حاضرین! ہم آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے اتنی توجہ اور انہماک سے اس انتہائی بے لگام ، بے ہنگم و بے ہودہ مشاعرے کو برداشت کیا 
یہ ہے انجامِ مشاعرہ
یار زندہ ، درگت باقی

پاکستان زندہ باد

2 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما