Monday, 8 April 2013

الف نون قسط 2 (حصہ اول) ۔

5 آرا

الف نون نیکسٹ ایڈونچر


یہ اس زمانے کی بات ہے جب کراچی سے بدھو لوٹ کے گھر کو آ چکے تھے ۔ چونکہ راوی کے قلم میں سیاہی نہ تھی اس لیے ستلج ، چناب کی مدد سے چین ہی چین لکھ رہا تھا ۔ کچھ تو سفر کی تھکان اور کچھ الف کا سد ابہار آلسی پن ، دن رات بستر پر ہی گزر رہے تھے ۔ مگر الف جھنجھلا کے سوچتا کہ سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے ۔ بندروں ، مینڈکوں سے اپنا شجرہ نسب ملانے والے تو بہت ہوئے مگر کسی کمبخت سائنسدان کو ہم آلسیوں کا خیال تک نہ آیا ۔ الم غلم مشینوں کی وہ بھرمار ہے کہ  دنیا "دی میٹرکس " کا سیٹ نظر آنے لگی ہے۔ مگر ابھی تک کسی کو اٹیچ کموڈ والی چارپائی ایجاد کرنے کی نہ سوجھی ۔ نہ چائینہ والوں کو ترس آیا نہ ہی جاپانیوں کو رحم آیا ۔یہ ستم کیا کم تھا کہ جہلم سے ستلج کا چین لکھنا برداشت نہ ہو سکا اور وہ بدخو عین غین لکھنے پر تل گیا ۔

ہوا یوں کہ ایک دوپہر جب الف شہتوت کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں بہتے کھال کے اوپر چارپائی ڈالے کسلمندی سے پڑا اینڈ رہا تھا کہ نون اس کی بو سونگھتا سونگھتا وہاں پہنچ گیا ۔ الف نے نون کو آتا دیکھ کر آنکھیں بند کر لیں اور سوتا بن گیا ۔ نون بھی گھر کا بھیدی تھا ، الف کی رگ رگ سے واقف تھا ، ٹک کے بیٹھ گیا ۔
شرافت سے ایک دو بار آوازیں دیں مگر جیسا کہ سیانے کہتے ہیں:۔ " سویا تو جگایا جا سکتا ہے لیکن جاگتے کو کوئی کیسے جگائے ۔"  لیکن وہ نون ہی کیا جو اتنی آسانی سے ٹل جائے ۔ ناک الف کے منہ کے قریب لایا ، ناک مروڑ کر سوں سوں کر کے سونگھا اور بولا :۔ 
" جو لسی پی کے سوتا رہے گا 
وہ بندہ تو کھوتے کا کھوتا رہے گا"
ضبط کے باوجود بھی الف کی بے اختیار ہنسی نکل گئی ۔ الف کے دانت نکلتے دیکھ کر نون کچھ پھیل کے بیٹھ گیا ۔ مگر اتنے سستے میں الف کہاں بخشنے والا تھا ۔منہ بنا کے گنگنایا :۔ "کتا پال کے شاکر کھیر پلا ، بے دید کنوں تاں ٹھیک اے۔" 
اس قدر عزت افزائی پر بھی جب نون کے ماتھے پر شکن نہ آئی تو الف کے کان کھڑے ہو گئے ۔ دل ہی دل میں "جل تو جلال تو آئی بلا ٹال  تو " کا ورد کرتے ہوئے پوچھا :۔ "آج صبح سویرے کیسے اپنی منحوس صورت کے درشن کروانے کی زحمت گوارہ فرمائی جناب نون صاحب  نے۔؟"
ان پے درپے حملوں سے نون بوکھلا سا گیا اور کھسیا کے بولا :۔ " کمال کرتے ہو یار ! اب اپنے جگری یار سے ملنے کیلئے بھلا مجھے کسی وجہ کی ضرورت ہو گی۔؟"
الف نے ماتھے پہ ہاتھ رکھ کے ادھر ادھر دیکھا اور بولا:۔ " کونسا یار۔۔۔؟؟؟ مجھے تو دور و نزدیک تمہارا کوئی یار نظر نہیں آ رہا ۔ کہیں سلیمانی توپی تو نہیں اوڑھ رکھی اس نے ۔؟"
"یار کیا ہو گیا ہے تمہیں ۔ اس قدر بے دید تو کبھی نہ تھا ۔ کراچی والوں کی صحبت کا اثر ہو گیا ہے جو تو اپنے لنگوٹیے یار سے ایسا ناروا سلوک کر رہا ہے ۔ " نون تڑپ کے بولا ۔
الف نے سرہانا اٹھا کر ایک طرف رکھا ، ٹیک لگائی اور اطمینان سے بولا :۔ "  میرا منہ کھلوا ۔۔۔۔ !! یاری دوستی کی قل خوانی تو اسی دن دتے کے گرم حمام پر تیرے ہاتھوں ہو گئی تھی ۔ اور اب تجھے ڈائیلاگ سوجھ رہے ہیں ۔۔۔؟؟"
بس چپ رہو ، ہمارے بھی منہ میں زبان ہے 
نون جیسے چمکارتے ہوئے بولا :۔ " یار وہ تو میں تمہیں تھوڑا تنگ کرنے کا لطف لے رہا تھا ۔ مگر تم تو سچ مچ مجھے اناتھ کر کےاکیلےاکیلے ہی کراچی دفع ہو گیا تھا ۔ خیر ۔۔۔۔۔۔ !! اب چھوڑو یہ ماضی کا منحوس تذکرہ ۔۔۔۔۔ چل جگر اب غصہ تھوک دے ۔۔۔۔۔"
اور  نون کو سرہانے کی پناہ لینی پڑی کیونکہ الف کا رخ اس کے منہ کی طرف تھا ۔ وہیں سے غرایا :۔ " بے ہودگی کے دیوتا میں نے اپنے منہ پر تھوکنے کو نہیں کہا ۔"
الف ہنسا :۔ " مجھے تو جو موزوں جگہ معلوم ہوئی وہیں تھوکنا تھا نا۔۔۔۔ "
نون کی جھنجھلاہٹ دیکھنے لائق تھی۔۔۔ دانت پیس کر بولا :۔ اب بندے دا پتر بن ۔۔۔۔۔ تین دن ہو گئے تجھے کراچی سے آئے ہوئے اور ذرا بھی تمہیں میرا خیال نہ آیا کہ تیرے یار پر کیا کیا قیامتیں بیت رہی ہیں ۔۔۔۔ تیرےبغیر میں کتنا اکیلا ہو گیا تھا ۔۔۔۔ " کہتے کہتے نون کا گلا رندھ گیا ۔
الف فوراً سنجیدہ ہو گیا :۔ تیری شکل پر تو سدا بارہ ہی بجے رہتے ہیں ، اور جیسا کہ اپنے استاد فرماتے ہیں :" جانوں کسی کے دل کی کیونکر کہے بغیر " اس لیے بہتر یہی ہے کہ بجائے پہیلیاں بجھوانے کی بجائے سیدھی طرح منہ سے پھوٹو کہ کس بلا نے اس بار خانہ ءِ انوری کا رخ کر لیا ہے ۔"
نون انیس سو باسٹھ کی فلمی ہیروئن کی طرح شرما کر بولا :۔ " بلا نہیں یار ۔۔۔۔ اس طرحدار حسینہ مہ جبینہ کا نام نامی رضیہ ہے ۔"
الف ہونقوں کی طرح نون کا منہ تکنے لگا ۔  جیسے بات اس کے سر سے گزر گئی ہو ۔ آخر نون نے لجاتے ہوئے وضاحت کی :۔ "مجھے ۔۔۔۔۔ مجھے  ناں ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔ مجھے ۔۔۔۔ پیار ہو گیا ہے ۔"
اتنا سننا تھا کہ الف میں جیسے امریش پوری کی روح حلول کر گئی ۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ ۔۔۔۔ جوتا اٹھایا اور ۔۔۔۔ موسلا دھار بارش کا سا سماں باندھ دیا۔ نون بے چارا اس آفت ِ ناگہانی سے ایسا بوکھلایا کہ اپنا بچاؤ بھی نہ کر سکا اور ۔۔۔۔"ارے یار ۔۔۔۔۔ ارے یار ۔۔۔۔" کرتا رہ گیا۔
اس فی البدیہہ پاپوش کاری کے باوجود بھی نون بے مزہ نہ ہوا ۔ بسورتے ہوئے بولا :۔ "تیرے سینے میں تو میڈ ان چائینہ دل فٹ ہے ، تو کیا چاہتا ہے کہ میں بھی تیری طرح خود ساختہ اور بلاوجہ جوگ کا روگ لگا لوں خود کو۔۔۔۔؟؟؟ آخر میرے بھی کچھ ارمان ہیں ۔۔۔ جو نکلنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔سنگدل آدمی ! کیا تو نہیں چاہتا تیرا یار سہرا باندھے اور تمہیں بھنگڑے ڈالنے کا موقع ملے ۔۔۔۔"
"بس۔۔۔۔ بس۔۔۔۔۔" الف گرجا۔:۔ "تنگ آ چکا ہوں میں تیرے ان ٹوپی ڈراموں سے ۔۔۔۔ ہر دو تین ماہ بعد تمہیں ایک تازہ پیار ہو جاتا ہے ۔"
نون کو تو جیسے پتنگے لگ گئے ۔ دو بدو بولا:۔ " سڑیل انسان ۔۔۔۔ اتنی جیلسی ۔۔۔۔ میرے فسانہ ہائے عشق سے تمہیں کیا نقصان ہوتا ہے جو تم اس قدر بھڑک رہے ہو ۔۔۔"
غصے کے مارے الف لال بھبھوکا ہو رہا تھا :۔  "الٹا چور کوتوال کو ۔۔۔۔ تیرے ہر نئے عشق پر ہر بار صرف میرا ہی تو نقصان ہوتا ہے ۔کیا خوب کہا ہے مرزا غالب نے
؎ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟
تیری محبتوں کا کوئی دی اینڈ ہو تو بندہ برداشت کرے ، مگر اس فلم کا تو کوئی اینڈ ہی نہیں ۔ ۔۔۔ شانی کا ابو ظہبی سے بھیجا واک مین تمہارے گزشتہ عشق کی بھینٹ چڑھ گیا ۔ جب تمہیں ماسٹر جی کی صاحبزادی سے عشق ہوا تھا   اور اسے غمگین گانے سنا کر رام کرنے کیلئے میرا مرحوم واک مین لے گیا تھا ۔"
نون فوراً بات کاٹ کر بولا :۔ " عشق میں یہ سب تو جھیلنا پڑتا ہے ۔۔۔ میری بھی تو ہڈیاں پسلیاں ٹوٹی تھیں اس سانحے میں  ۔۔۔۔ اس کا تمہیں کوئی افسو س نہیں ۔۔۔ ہونہہ !!"
"تمہاری پسلیاں تو پھر بھی جڑ گئیں نا ۔۔۔۔ مگر میرا میڈم نور جہاں سننے کا اکلوتا ذریعہ تو فی سبیل اللہ شہید ہو گیا ناں۔۔۔۔کاش اس کی آئی تجھے آئی ہوتی تو مجھےتیرے ساتھ بخشو کمہار کے گھر ذلیل نہ ہوتا پڑتا ۔ غضب خدا کا تمہیں تو لڑکی اور کھوتی میں بھی کوئی فرق نظر نہیں آتا ۔۔۔۔یاد آیا کچھ؟؟"الف کو موقع کیا ہاتھ آیا ۔ اگلے پچھلے سارے حساب بے باق کرنے بیٹھ گیا ۔
نون  کھسیا کر سر کھجاتے ہوئے بولا :۔ "اس خدائی خوار بخشو سے تو اللہ پوچھے ۔۔۔ بھلا کھوتی کا نام سوہنی رکھنے کی کوئی تک بنتی ہے بھلا۔۔۔؟"
"ہاں ۔۔۔۔ اور جناب ایسے ٹھرکی واقع ہوئے کہ صرف نام سن کر  سوہنی کے غائبانہ عشق میں گوڈے گوڈے دھنس گئے ۔۔۔"
نون نے بے اختیار ہاتھ جوڑ دئیے :۔ " بس کر دے یار ۔۔۔۔ بس کر دے ۔۔۔ تمہاری قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر اس بار کام بن گیا تو یہ میرا قطعی آخری عشق ہوگا ۔۔۔۔ لیکن ایسا تبھی ہوگا جب تم میرا ساتھ دو گے۔" نون کے چہرے پر مسکینی کا نور چھایا ہوا تھا۔
"ہوں ۔۔۔۔!!" الف کا سوچ میں ڈوبا ہنکارا فضا میں گونجا ۔"اچھا یہ بتاؤ کہ مبینہ بھابھی جی کا محل وقوع اور حدودِ اربعہ کیا ہے۔؟ "
الف کو مائل بہ آمادگی پا کر نون کی باچھیں پھیلنے لگیں :۔ " یہ ہوئی نا جگروں والی بات ۔۔۔۔ مجھے پتا تھا تیرا ۔۔۔۔۔ تو بس باہر سے ہی اخروٹ کی طرح سخت نظر آتا ہے ۔۔۔۔ اندر سے پورا خرگوش ہے ۔۔۔۔۔ میرا یار مجھے کسی مشکل میں اکیلا چھوڑ دے یہ ہو ہی نہیں سکتا ۔" نون کا بس نہیں چل رہا تھا کہ الف کا منہ چوم ڈالے ۔
اس قدر خوشامد سے الف بھی تھوڑا پھول گیا اور اترا کے بولا :۔ " بندے دا پتر بن اور میرے سوال کا جواب دے ۔"
"زیادہ توکچھ پتا نہیں ، بس اتنا پتا ہے کہ سکول میں استانی ہے ۔ اور ۔۔۔۔۔۔" نون ابھی آگے کچھ بتانے والا تھا کہ الف نے حسبِ عادت بات بیچ میں ہی اچک لی ۔اور کمر پہ ہاتھ رکھ کے کراہا:۔ " ہائےےےےے ۔۔۔۔ میری تو ابھی سے ہڈیاں دکھنے لگی ہیں ۔"
نون نے بڑی بوڑھیوں کی طرح ماتھا پیٹ لیا :۔ "کچھ تو عقل کو ہاتھ مار ۔ ابتدا سے ہی ایسی بدشگونی کی باتیں کر کے میرے عشق کا  انجام مشکوک نہ کر ۔"
الف ہنسا:۔ " ادھر سے بھی کوئی امید افزا حالات ہیں یا لکی ایرانی سرکس کے مسخرے کی طرح فقط تم ہی عشق کی یونی سائیکل چلانے پہ تلے ہو ۔؟"
"یار وہ مجھے دیکھ کر مسکراتی تو ہے ۔" نون گڑبڑا گیا ۔
"یہ تو کوئی بات نہ ہوئی ۔ تمہیں دیکھ کر تو اچھے بھلے شخص کی بلاوجہ ہنسی نکل ہی جاتی ہے ۔ اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ وہ تجھ پہ لٹو ہے ۔" الف تو باقاعدہ وکیلوں کی طرح جرح پر اتر آیا ۔
"یار وہ بار بار مجھے کن انکھیوں سے دیکھتی بھی تو ہے ۔ اور اپنی سہیلی سے کھسر پھسر بھی کرتی ہے ۔ " نون اپنے موقف پر مضبوطی سے ڈٹا ہوا تھا ۔
"ٹھیک ہے ۔۔۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔۔!! " الف نے ہاتھ اٹھا کر جیسے اعلان کیا ۔"مگر پہلے میں خود تسلی کروں گا ۔" 
اور اس طرح کنواروں کا یہ دو رکنی اجلاس اختتام کو پہنچا۔
اگلے دن ناشتہ نون کے ذمے تھااس نے الف نے ڈٹ کر ناشتہ کیا ۔ ناشتے کے بعد دن بھر کا شیڈول طے کیا گیا ۔ پروگرام کے مطابق  سکول سے چھٹی کے وقت  نون اور  الف ،  نون کے بھتیجے کو سکول سے لینے جائیں گے اسی بہانے استانی جی کا دیدار بھی کر لیا جائے گا ۔ نون کا دل آج گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ اٹکا ہوا تھا ۔ اور وقت  جیسے آج لنگڑا لنگڑا کر چل رہا تھا۔ چھٹی سے دو تین گھنٹے پہلے ہی نون نے تیار ہونا شروع کر دیا ۔ نون  مغلِ اعظم لٹھے کا کھڑکھڑا تا سوٹ پہنے تیار ہو کر باہر آیا ۔ اور اترا کے پوچھا :۔ " کیسا لگ رہا ہوں ۔۔۔؟  سچ بتانا ۔۔۔۔ "
اگر سچ ہی پوچھا ہے تو سنو ! دفنانے کیلئے تیار شدہ میت لگ رہے ہو ۔ کافور لگا لیتے تو بالکل زندہ لاش فلم کے ہیرو لگتے ۔" الف کی زبان سے تو توبہ ہی بھلی ۔
مگر نون آج کسی اور عالم میں تھا اس لیے کسی قسم کا برا منائے بغیر جیسے فیصلہ سنایا :۔"تم تو جلتے ہو ۔۔۔ میرے حسنِ جاں سوز ، اور خداد اد وجاہت سے ۔۔۔  پتا نہیں یہ  وحید مراد اور دلیپ کمار میں کون سے سرخاب کے پر لگے ہوئے تھے ۔ بس میں نے ہی پیدا ہونے میں دیر کر دی تھی ۔ ورنہ آج   دنیا میں ان کی بجائے میرے قصیدے پڑھے جاتے اور تمہیں  دنیا کے ہینڈ سم ترین ہیرو کا دوست ہونے کا شرف حاصل ہوتا ۔ آہ ۔۔۔۔!! تمہاری بدنصیبی کہ ایسا نہ ہو سکا ۔"پھر اپنے سراپے پر ایک تعریفی نظر ڈال کر پوچھا :۔ " کوئی کمی تو نہیں رہ گئی نا۔۔۔؟؟"
الف نےفوراً  ادھار چکائی  :۔ " باقی سب تو ٹھیک ہے ، مگر زرہ بکتر کی کمی ہے ۔۔۔ وہ بھی پہن کے آتے تو بہتر تھا ، ہنگامی حالات بھلا کوئی بتا کر نازل ہوتے ہیں ۔"نون کھسیا گیا اور ہی ہی ہی کر کے رہ گیا۔اور ہیکل اور جیکل کی یہ جوڑی  اپنے مشن پر روانہ ہو گئی ۔
جب بخشو کمہار والی گلی میں پہنچے تو گلی میں سوہنی ( گدھی )کو بندھا دیکھ کر الف کی رگِ ظرافت پھڑکی :۔ " وہ دیکھو ۔۔۔ تمہاری سابقہ محبوبہ اور میری نہ ہو سکنے والی  بھابھی ۔۔۔"
نون نے کھا جانے والی نظروں سے الف کو گھورا اور بولا :۔ "بکواس نہ کر یار۔۔۔"
نون کا رد عمل تو معمولی تھا مگر گدھی نے شاید "نہ ہوسکنے والی بھابھی " کا طعنہ سن لیا تھا اور ہضم کرنا مشکل تھا ۔ جیسے ہی الف اور نون اس کے قریب سے گزرنے لگے تو الف نے شرارت سے گدھی کی طرف جھک کےکہا:۔ " سلام عرض ہے سابقہ بھابھی جی ۔۔۔"اور بات سوہنی کی برداشت سے باہر ہو گئی ۔ اس نے ننجا  کا داؤ آزمایا اور گھما کے ایک دولتی الف کو جھاڑی ۔ الف اچھل کے دور جا گرا ۔ اب میدان میں صرف نون باقی رہ گیا ۔ سوہنی تھی یا پھولن دیوی ، نون کو بھاگنے کا موقع ہی نہ دیا ۔ اور ایسی فلائنگ دولتیاں جھاڑیں کہ کیا ننجا   ماسٹر جھاڑتے ہونگے۔ اور نون کے کورے کھڑکھڑاتے لٹھے کے سوٹ پر گوبر سے سندھی ٹانکے ، کشمیری ٹانکے جیسی کشیدہ کاری کر دی ۔ کوئی اور موقع ہوتا تو شاید نون مس رضیہ کے صدقے اکلوتے سوٹ کے لیرو لیر ہونے پر بھی صبر کے گھونٹ بھر لیتا۔ مگر نون کی اور اس سے زیادہ کھوتی کی بدقسمتی کہ عین اسی وقت کالج سے واپس آتی طالبات کا قافلہ وہاں سے گزرااور الف اور نون کی اس ہیئت کذائی پر بے اختیار قہقہے پھوٹ نکلے ۔ اب تو نون کو شفقت چیمہ بننے سے دنیا کی کوئی طاقت نہ روک سکتی تھی ۔ الف جو ایک طرف سے کمر سہلاتا ، کراہتا ہوا کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا تھا ، اتنی ساری لڑکیوں کے سامنے نقد بے عزتی پر اس کا دل چاہا کہ کاش ابھی سلیمانی ٹوپی ہوتی تو وہ اس منظر یوں غائب ہو جاتا جیسے پاکستان سے بجلی ۔۔۔۔ مگر "ہزاروں خواہشیں  ایسی " کی طرح ایک یہ کاش بھی کاش ہی رہی ۔
البتہ نون نے اٹھتے ہی بغیر ارد گرد کی پرواہ کیے کھوتی پر جوابی حملہ کر دیا ۔ اور جیٹ لی ، جیکی چن کی فلموں سے سیکھا سارا  مارشل آرٹ کھوتی کو خراجِ تحسین کے طور پر  پیش کردیا۔ تھک کر ہانپنے لگا تو سوہنی نے مخاطب ہو کر بولا:۔ " گدھے کی بچی ! میں کوئی تم سے کم  ہوں کیا۔۔۔؟؟"
اور تماشا دیکھتی لڑکیوں کے ماند ہوتے پھر سے بلند ہو گئے ۔الف کا دل تو جل کر کباب ہو گیا :۔ " ہونہہ ان کو بس کھی کھی کھی کرنے کا بہانہ چاہیے ۔۔۔" الف کو موقع واردات سے کھسک جانے میں ہی راہِ عافیت نظر آئی ۔ کان لپیٹ کر نکل لیا  ۔ پیچھے آتے قدموں کی آواز ظاہر ہے نون کے علاوہ کس کی ہو گی ۔
دونوں کے دل سے مشترکہ کلمہ شکر نکلا :۔ "شکر ہے محلہ دوسرا تھا ، ورنہ اپنے محلے میں تو ۔۔۔۔۔۔!!!"   

5 آرا:

  • 9 April 2013 at 17:25

    شہزادے مجھے خال خال ہی تم نے اس بابت بتایا تھا ۔سفری احوال نامہ کیا خوب لکھا ہے ، تم اگر مجھ ناچیزکی بکواس بھی تھوڑی دیر برداشت کر سکو تو عرض کروں گا کہ تم میں ایک خداداد تخلیقی وفور موجود ہے جسے تم زارسی محنت سے خاکہ نگاری یا رتمثیل نگاری کی دم توڑتی ہوئی صنف کو نیا جنم دے سکتے ہو۔۔

  • 5 May 2013 at 12:10

    بس آپ کی دعائیں سر پہ سایہ فگن رہیں
    تو یہ دودھ کی نہر بہا کے دکھا دیں گے
    جزاک اللہ حوصلہ افزائی بلکہ روح افزائی کیلئے
    آپ کے بچے جئیں

  • 8 May 2013 at 15:04
  • 17 May 2013 at 10:52

    اس سے تو کہیں اچھا تھا کہ تبصرہ ہی نہ کرتے

  • 20 May 2013 at 14:59

    "
    "زیادہ توکچھ پتا نہیں ، بس اتنا پتا ہے کہ سکول میں استانی ہے ۔ اور ۔۔۔۔۔۔" نون ابھی آگے کچھ بتانے والا تھا کہ الف نے حسبِ عادت بات بیچ میں ہی اچک لی ۔اور کمر پہ ہاتھ رکھ کے کراہا:۔ " ہائےےےےے ۔۔۔۔ میری تو ابھی سے ہڈیاں دکھنے لگی ہیں ۔"
    نون نے بڑی بوڑھیوں کی طرح ماتھا پیٹ لیا :۔ "کچھ تو عقل کو ہاتھ مار ۔ ابتدا سے ہی ایسی بدشگونی کی باتیں کر کے میرے عشق کا انجام مشکوک نہ کر ۔"
    الف ہنسا:۔ " ادھر سے بھی کوئی امید افزا حالات ہیں یا لکی ایرانی سرکس کے مسخرے کی طرح فقط تم ہی عشق کی یونی سائیکل چلانے پہ تلے ہو ۔؟"
    "یار وہ مجھے دیکھ کر مسکراتی تو ہے ۔" نون گڑبڑا گیا ۔
    "یہ تو کوئی بات نہ ہوئی ۔ تمہیں دیکھ کر تو اچھے بھلے شخص کی بلاوجہ ہنسی نکل ہی جاتی ہے ۔ اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ وہ تجھ پہ لٹو ہے ۔" الف تو باقاعدہ وکیلوں کی طرح جرح پر اتر آیا ۔
    "یار وہ بار بار مجھے کن انکھیوں سے دیکھتی بھی تو ہے ۔ اور اپنی سہیلی سے کھسر پھسر بھی کرتی ہے ۔ " نون اپنے موقف پر مضبوطی سے ڈٹا ہوا تھا ۔
    "ٹھیک ہے ۔۔۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔۔!! " الف نے ہاتھ اٹھا کر جیسے اعلان کیا ۔"مگر پہلے میں خود تسلی کروں گا ۔"
    اور اس طرح کنواروں کا یہ دو رکنی اجلاس اختتام کو پہنچا۔
    "

    اس پیرے نے اپنے سیاق و سباق میں وہ لطف دیا ہے کہ بس۔۔۔ خیال آفرینی ختم ہے تجھ پر یارا۔۔۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما