Friday, 18 April 2014

الف نون 4(حصہ اول)۔

0 آرا

نیکسٹ ایڈونچر


نون نیلے  خواب کا آخری ٹوٹا تیسری بار سلو موشن میں دیکھ رہا تھا ۔ جب الف  نے اس کی  خوابگاہ (بیٹھک)کا دروازہ  تقریباً  دھڑدھڑا یا  ۔پہلی  سے چھٹی  تک  تمام  حسوں  کی متفقہ  گواہی  سے  نون سمجھ گیا کہ الف  ہی ہوگا۔ اس لیے  کروٹ  بدلی ، تکیہ سر پہ  رکھااور   سلسلہ خواب وہیں سے جوڑنے کی کوشش کی، جہاں سے الف  نے رنگ میں بھنگ ڈالا تھا ۔ باہر کھڑاالف بھی نون کی رگ رگ سے واقف تھا کہ اب  نون سر پہ تکیہ رکھ چکا ہوگا ۔ اس لیے اگلے ہی لمحے جب  یہ گھر کا  بھیدی محاورے میں ترمیم  کی پیشگی اطلاع دئیے بغیر  لنکا کی بجائے  دروازہ ڈھانے  پہ تل گیا ۔تومجبوراً نون کو خواب  ملتوی  کر کے  دروازہ کھولنا ہی پڑا۔
رسمی  کلمات  کا تکلف  توہمیشہ  سے ان کے درمیان دو ملاؤں میں مرغی کی طرح  حرام تھا ۔  پھاڑ کھانے  والی نگاہوں  سے الف  کو گھورکرنون غرایا :۔ "سمجھ  نہیں آتا کہ  تو عادت سے مجبور ہے  یا  پھر  صرف  میرے  رنگ  میں بھنگ ڈالنے کو ثواب کا کام سمجھتا ہے؟"۔
الف  پر  نہ تو نون کی ملامتی  نظروں نے اثر کیا نہ ہی   طنزیہ  الفاظ نے ۔نہایت  ڈھٹائی سے دروازے کے بیچ  میں ایفل ٹاور کی طرح جمے  نون کو ایک  ہاتھ سے  ہٹا یا  اور دوسرے  ہاتھ سے  ماتھے پر آئی زلفیں سنوارتا ہوا اندر  گھس گیا ۔قارئین  میں  سے اکثر کنوارے ہیں اور جو نہیں ہیں وہ  کبھی نہ کبھی تو کنوارے  تھے ۔ اس لیے  نون کے کمرے کا نقشہ کھینچنا  محض  طوالت  کو زحمت دینا ہوگا ۔ کیونکہ  کنواروں کی خوابگاہوں  کے منظر چند جزوی  تبدیلیوں  کے علاوہ  تقریبا ً ایک  جیسے ہی ہوتے ہیں۔
نون وہیں  دروازے  میں کھڑے کھڑے پھر  غرایا :۔ "ذلت مآب  جناب  الف  (۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)صاحب کیا آپ اپنی اس یقینی  بے وقت آمد  کی شانِ نزول  بیان کریں  گے یا میں آپ کو دھکے  دے  کر  نکالنے کے  بعد  اپنا  سلسلہ خواب  دوبارہ  جوڑنے  کی سوچوں۔۔؟
الف  جوابھی تک  کمرے میں تشریف رکھنے  کے لائق  کوئی جگہ  ہی ڈھونڈ رہا تھا ۔  نون کی بات پر مڑا  اور  ایک  اچٹتی نگاہ  اس  کی مہاتما  بدھ  کی طرح باہر  کو نکلی ہوئی پسلیوں  پر  ڈالی  اوربولا:۔ " خواب  میں شاید  دبنگ 3  کی شوٹنگ ہو رہی تھی  ۔ لیکن  اب تو  کم از کم ان بے زبانوں کاپردہ رکھ لو ۔ اس سے پہلے  کہ   دیکھ کر کسی اور   کی  ہنسی نکل جائے بہتر یہی ہے  کہ قمیض پہن کر  شرافت سے میری بات سن لو "۔
نون  کچھ کھسیا سا گیا ، اور  قمیض   پہننے میں ہی عافیت جانی ۔مگر  ڈھونڈنے  کے باوجود  بھی قمیض  کہیں نہ ملی ۔  کافی تلاش  بسیار  کے بعد  جب  الف  کے نیچے سے  قمیض برآمد ہوئی تو پہننے لائق نہ رہ گئی تھی۔ مجبوراً نون نے ایک چادر احرام کی طرح اپنے اوپر  اوڑھ لی ، اور اطمینان  سے بیٹھ کر  کان کھجاتے ہوئے  بولا :۔ " اگر تو ناشتے  کی امید  دل میں  چھپائے بیٹھا ہے  تو  یہ حسرت دل سے نکال  دے ، کیونکہ  آج میں  خود بھوک ہڑتال پر ہوں ۔ "
الف  نے جیسے نون کی بات سنی ان سنی کر دی اور بولا :۔اچھا  یہ جو  خواب  تو  دیکھ رہا  تھا ۔۔۔وہی  خواب تھا ناں  ۔۔۔۔  وہ  ۔۔۔۔ وینا ملک کے غسلِ  صحت  والا۔۔۔۔؟؟؟
نون کے رونگٹے کھڑے ہو گئے :۔ "اوئے  یہ تو دماغ میں  کب سے جھانکنے لگا۔۔۔؟؟؟  سچ  بتا ۔۔۔؟؟ تمہیں  اور کیا کیا معلوم ہوا  ہے۔۔۔؟ میرے دماغ  کے نہاں  خانوں  میں تو بہت کچھ ناقابل  تحریر اور ناقابلِ  تقریر  خناس  چھپا ہے ۔ کہیں وہ سب کچھ  تم نے جان تو نہیں لیا "۔
الف نے  کالر  سے  نادیدہ مٹی جھاڑی  اور گردن اکڑا کے بولا:۔ "مجھ  میں بہت سی شکتیاں(ماورائی طاقتیں)پوشیدہ ہیں۔ اور عیاں  ہونے کو بے تاب ہیں ۔  مگر  مسئلہ  ریپوٹیشن کا ہے ۔ محلے میں تو خیر  میری پہلے بھی  عزت نہیں تھی ۔ لیکن  تیری  ناکام  عشقیہ  وارداتوں کی وجہ  سےلوگ اب مجھے بھی   مشکوک نظروں سے گھورنے لگے   ہیں۔۔۔ (کھنکھارتے ہوئے )البتہ  اگر تم  میرا ساتھ دو  تو ہم  محلے کی ساری  چاچیوں ماسیوں  کا اعتماد  نہ صرف جیت سکتے ہیں ، بلکہ محلے  کے سب سے باعزت  افراد کے درجے  پر  بھی  بیک قلم  فائز  ہوسکتے ہیں۔"
الف کی تقریر  کا ہمیشہ کی طرح نون پر خاطر خواہ  اثر ہوا ۔  تھوک نگلتے  ہوئے  بولا:۔"یار تو  سچ کہہ رہا ہے  ناں۔۔۔؟؟کہیں مجھ  حرماں  نصیب کا  مذاق تو نہیں بنانے  آیا ۔۔۔؟؟
الف  جو کنکھیوں سے  نون  کے رد عمل  کا  بغور  جائزہ  لے رہا تھا ۔  نو ن کو مائل  بہ آمادگی پا کر  ایک دم ٹون بدل لی :۔ "ٹھیک ہے یار اگر  تمہیں   بھی مجھ پر یقین نہیں ہے  تو کوئی بات نہیں۔ میں نےتو   بس اول خویش بعد  درویش   پر عمل  کرنے کا سوچا تھا  کیونکہ  علم بغیر  عمل کس کام کا۔ ویسے میری پوشیدہ صلاحیتوں کا ایک ہلکا سا  ثبوت تو تم نے دیکھ ہی لیا ہے ۔(ٹانگ  پہ ٹانگ رکھ کے ) انشاء اللہ اب دنیا بھی دیکھ ہی لے گی ۔ اگر  تم  ساتھ نہیں دینا  چاہتے تو کوئی بات نہیں، میں کسی اور کو اپنے ساتھ  شامل کر لیتا ہوں ۔"
نون نے لپک  کر الف کا گھٹنا پکڑ  لیا :۔ " انسان بن یار ۔۔۔۔ میں نے بھلا کب انکار کیا تمہارا ساتھ دینے سے ۔۔۔  خیر یہ باتیں تو ہوتی ہی رہیں گی  ، چل  ابھی ناشتہ  کرتے ہیں۔ "
الف  نےفرمانبرداری  سے  اثبات میں سر ہلا دیا   ۔مگر  چند لمحے بعد چونک کر  بولا :۔ "بی بی  جی  کی  سرائیکی  سروس  کی  اطلاع  کے  مطابق    خالہ اینڈ کمپنی تو  چشتیاں  گئے  ہوئے ہیں۔ اور تو  آج  گھر  میں اکیلا ہے ۔    اگر  ناشتے سے مراد  تیرے ہاتھ  کے پکے  ہوئےبنگلہ دیش  کے  نقشے  ہیں  جنہیں تم  نہایت  ڈھٹائی سے   پراٹھے کہا کرتے ہو ۔ تو  خدا  کے واسطے    میری  دوستی  کا اتنا کڑا امتحان مت لو۔  مجھے جان دینا  قبول ہے مگر تیرے  ہاتھ  کا بنا  ناشتہ  کرکے  میں اپنے  ایمان  میں  خلل  اندازی  پر  بالکل آمادہ  نہیں۔"
 نون  بے چارگی سے  دانت پیس کر رہ گیا ۔  جوابی حملے کیلئے ابھی اپنابھونپو نما    منہ کھولا ہی تھا کہ دروازے  پر  ہونے والی دستک  نے  اس  کی توجہ اپنی جانب کھنچ  لی ۔  پھاڑ  کھانے  والے انداز میں  چلایا  :۔ " کس  خبیث  کی شامت آئی ہے ۔۔۔؟ کون مردود ہے ۔۔۔؟؟
"میں ہوں ۔۔۔ زرینہ ۔۔۔۔" سریلی آواز  میں جواب  آیا ۔ نون کو  تو خیر  بوکھلا نے کی عادت  تھی  ۔اس  غیر  متوقع  جواب  پہ الف  بھی  حیران  رہ گیا۔
نون  نے  جلدی سے دیوار گیر  آئینے میں دیکھ کر  اپنا  ہئیر  سٹائل  درست کیا اور بوتھے  پہ  دنیا  جہان کی مسکینی  سجا کے دروازہ کھول دیا ۔  باہر  مس  محلہ  یعنی زرینہ  ہاتھ میں ٹرے  اٹھائے  کھڑی تھی ۔  چائے دانی اور مگ تو  نظر آ رہا تھا البتہ  بذریعہ خوشبو معلوم  پڑا  کہ ایک پلیٹ میں گاجر کا   حلوہ اورکڑھائی  شدہ  رومال  میں خستہ اور کرارے پراٹھے  رکھے  ہیں۔
نون  حیرت کے مارے  بے ہوش ہونے کو تھاکہ  آج اس  بلا نے  خانہ ِٔانوری کو اپنے نزول کیلئے کیسے منتخب کر لیا ۔  ہمسائی  ہونے کے ناطے  نون نے  پہلی لائن زرینہ  پر ہی ماری تھی ۔ لیکن مسلسل  انگوٹھا دیکھنے کے بعداس نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ان تلوں  میں تیل نہیں۔  لیکن حالات ِ حاضرہ شاہد تھے کہ ان تلوں میں اتنا تیل ہے  کہ سعودی عرب اور مصر  کا  ساراتیل دیکھتے ہی شرم سے سوکھ جائے ۔نون ابھی اسی حساب کتاب اور حیرت کے گرداب میں تھا  کہ  زرینہ  نے کھنکھار  کر  اسے  دنیائے حقیقت میں واپسی پر مجبور  کر دیا ۔  شرما  کے بولا :۔ "اوہ جی !اس تکلف کی کیا ضرورت تھی ۔ ویسے مجھے معلوم نہیں تھا کہ  آپ میرا اتنا خیال رکھتی ہیں۔"زرینہ  کا منہ کچھ اور بن گیا اور ابرو  چڑھا کے  بولی :۔ "آپ کی اطلاع  کیلئے عرض  ہے کہ  یہ سب تکلف آپ  جناب  کیلئے  نہیں ہے ۔راستے سے ہٹیے ! ہونہھ ۔"کھسیا کر  نون  نے دروازے سے ہٹ  کر زرینہ  کو راستہ دیا ،  اسے یقین تھا کہ اس عزت افزائی  پر  الف  غالب ؔ  کا کوئی  شعر  ضرور جھاڑے گا ،  شعر نہ سہی کم از کم  ایک  مصرعہ  بطور جگت  ضرور  نذر کرے گا ، مگر  الف بے چارہ  خود  حیرت کے بحر اوقیانوس میں غوطے کھا رہا تھا  ۔جسے  نون نے اوور ایکٹنگ قرار دیااور    دانت  کچکچا  کراس کے کان  میں  تقریباً سرگوشی کی :۔ " اوئے  کمینے !  ہم سے بالا  ہی بالا  ستاروں پہ کمند ڈال  دی ۔۔۔ "
الف کے فرشتوں کو بھی   اس کا  شانِ نزول اور   پسِ منظر  معلوم نہ   تھا کہ یہ ماجرا کیا ہے ،  وہ  بے چارہ  ٹُک ٹُک دیدم  ، دم نہ کشیدم کی تصویر  بنا  بیٹھا  تھا ۔
 اس پراسرارخاموشی  کو بالاخر  زرینہ  کی سریلی آواز نے توڑا :۔"آپ کیلئے ناشتہ  ۔۔۔ "درمیان سے الف نے بات اچک لی :۔ "جی  شکریہ  ۔۔۔ مگر  آپ  کو  کیسے معلوم ہے  کہ گاجر  کا  حلوہ میری پسندیدہ ڈش ہے ۔ ؟"
زرینہ  کے  چہرے پر  حیرت امڈ آئی :۔ "ارے ۔۔۔ کمال ہے ۔۔۔ مگر  آپ کو  کیسے پتا چل گیا  کہ میں گاجر  کا حلوہ ہی لائی ہوں ۔۔؟؟
الف دل  میں ہنسا  :۔  (عقل  کی اندھی ! تمہاری  نظر  میری  طوطے  جیسی  ناک  پہ پڑی  ہوتی  تو  یوں  حیرانی  سے  یہ  بچگانہ  سوال نہ کرتی ۔  خیر  اب  قدرت  نے مفت   ایڈورٹائزنگ  کا  موقع  دے دیا  ہے  تو الف باؤ  یہ ضائع  نہیں جانا چاہیے ۔)اپنے  انداز  میں مزید  بے نیازی  پیدا کر لی  اور گردن اکڑا کے بولا:۔ "محترمہ مجھے تو یہ بھی معلوم ہے کہ گاجر کے حلوے کے علاوہ آپ  کے ہاتھ کے  بنے لذیذ  پراٹھے اور سونف والی دودھ پتی بھی   اس  وقت آپ  کے ہاتھ میں موجود  ٹرے میں پوشیدہ ہیں۔قدرت  نے  آپ  کے  ہاتھ  میں جو ذائقہ دیا  ہے   وہ  مجھ  پرروزِ روشن  کی  طرح   عیاں ہے "
زرینہ  تو  اچھلتے اچھلتے رہ گئی ۔ جبکہ  نون ایک طرف کھڑا   پر سوچ  نظروں  سے حالات کا  بغور جائزہ  لے رہاتھا ۔ جیسے اس ڈرامے کی تہہ  تک پہنچنے  کی کوشش  میں ہو مگر  کوئی سرا ہاتھ نہ آ رہاہو۔
الف  کا  خطاب بدستور   جاری  تھا :۔ " صرف یہی نہیں میں تو  ہاتھ  دیکھ  کر   دل کا  حال  بھی بتا سکتا  ہوں ۔  ۔۔۔" اتنے  میں زرینہ  کی اماں  کی آواز  آئی :۔ اری  زرینہ  کہاں  گئی ۔  اپنے ابا  کو  ناشتا دے ۔۔۔" اور زرینہ  کو  نہ چاہتے  ہوئے  بھی جاناپڑا ورنہ  آثار  تو  ایسے  تھے  کہ خالی  برتن  ساتھ لے  کے ہی  ٹلے گی ۔ جاتے جاتے عقیدت  بھری    نظروں سے الف  کو  دیکھا  اورفریفتہ لہجے  میں بولی    :۔ " اچھا   الف  جی !! ابھی آپ  ناشتہ  کیجیئے  میں پھر  کبھی  اپنا ہاتھ دکھانے  آؤں
گی۔  (منہ  بنا کر )یہ میری  اماں بھی  گھڑی گھڑی  آسمان سر پہ اٹھا لیتی ہے" ۔

(جاری ہے)

ا الف اور نون کے کرتوت نما کارناموں کا اگلا حصہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

0 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما