Friday, 31 January 2014

یارانِ نکتہ داں (قسط ششم) زبیر حسین

3 آرا
میری  دوستوں  والی  تسبیح  کے   چھٹے   موتی کو زبیر حسین کہتے ہیں جبکہ  یہ خود کو زندگی  سمجھتے ہیں۔الامارات ائیر لائن میں انجینئر  ہیں  ۔ انٹر  نیٹ  پر  ایک ویب سائٹ "اردو  جواب " کے بانی  و منتظم  ِ اعلیٰ ہیں۔ان سے فون پر  صرف  ایک بار  ہی  بات ہوئی ہے ۔ اس لیے  ان کے  بارے  میں ذاتی طور پر تو فدوی  اندھیرے میں ہے  البتہ فکری طور پر  نہایت  اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ  ارسل مبشر ، ملک  حبیب اور  افتخار افی صاحب والی   فہرست  میں ان کا  نمایاں مقام ان کے  خلوص و بلند اخلاق  کی سب سے بڑی دلیل ہے  ۔ہو سکتا ہے کچھ لوگ یہاں  مجھ سے اختلاف کریں کیونکہ بعض لوگ زیادہ بولنے کو صفت  نہیں عیب سمجھتے ہیں۔ لیکن  میں ٹھوس وجوہات کی  بنا پر  زیادہ  بولنے والوں  پر کم بولنے والوں کی نسبت زیادہ  اعتماد کرتا ہوں ۔   ہو سکتا ہے کوئی  یہاں  میرے سامنے اولیا ء کرام کے یا شیخ  سعدی  ؒکے  کم بولنے  کی فضیلت  میں اقوال  پیش کرے ۔  اس سے پہلے میں بتا دوں کہ بے شک  زبان  انسان  کا تالا ہے ۔  جب تک یہ تالا لگا رہے  اندر کا انسان  چھپا رہتا ہے ۔  لیکن چھپنا دو قسم کا ہوتا ہے ۔  ایک  ڈرپوک  لوگوں کا چھپنا کہ کہیں کوئی  ہمارے اندر چھپے منافقت کے گند کو دیکھ نہ لے ۔  اور ایک ہوتا ہے  حیا دار  لوگوں  کا چھپنا ۔  لیکن وہ  چھپنا بقول داغ  ایسا  ہوتا ہے  کہ :۔ 

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے  ہیں

صاف چھپتے  بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
یہ بات تو  سب کو معلوم ہے  کہ حیادار لوگ  لازماً حسین بھی ہوتے  ہیں(یہاں حسن  ہر  معنوں  میں کہا ہے۔ اس کے علاوہ  میں حسین  مانتا ہی  صرف حیادار وں کو ہوں  )۔  یعنی  حسین  لوگ  حیا  اور  حسن کا پانی پت ہوئے ۔  حسن  کی  فطرت  ہے  ظہور  کرنا ۔   اور  حیا  کی فطرت ہے  حجاب  کرنا ۔  حسن اور  حیا  کی  اس زور  آزمائی  سے  شخصیت  میں وہ  توازن  آ جاتا ہےجسے   داغ نے "صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں" قرار دیا ہے ۔  جیسے  زمین  مرکز مائل  قوت  اور  مرکز  گریز  قوت  کی  زور آزمائی کے  نتیجے میں ہی  اپنے  مدار  پر  قائم  حرکت  میں ہے۔ 
اب جبکہ چھپنے  والوں  کی  اقسام   واضح ہو گئیں تو مناسب ہے  کہ  زیادہ  بولنے  والوں  کی اقسام  بھی  بیان کر دوں  تاکہ  کوئی ابہام  کسی   غلط فہمی  کا  باپ  نہ بن جائے۔  زیادہ  بولنا بھی  چھپنے  کی طرح  دو قسم کا ہوتا ہے ۔ 
ایک :۔ زیادہ  بولنا اور  اس  شوق  میں  اناپ  شناپ  بکنا
دوم:۔  زیادہ   بولنا مگر  اندر   اتنا  خزانہ    ہونا (حسین ہونا)کہ  دونوں  ہاتھوں  سے لٹائیں تب بھی  ختم نہ ہو ۔  اور   زبان  کی فریکوئنسی  اس قدر  سیٹ  ہونا(حیا  کا تقاضا) کہ زبان   پٹڑی  سے  اترنے  کا کوئی  امکان  ہی  نہ ہو۔
اب ان دونوں وضاحتوں    کے بعد فدوی  جبکہ  ثابت کر چکا ہے  کہ  کچھ لوگ  مجبوراً  زیادہ  نہیں بولتے کیونکہ ان کے  اندر  بولنے لائق کچھ  ہوتا ہی نہیں۔  کچھ لوگ اپنی منافقت  اور  علاوہ  ازیں فطری  خباثتوں   کے  ظاہر  ہوجانے  کے  ڈر سے زیادہ  نہیں بولتے ۔   اس  لیے  کم  بولنا بھی  صفت  تو نہ ہوا۔  پھر جب سب  کا  کم بولنا صفت نہیں تو کچھ لوگوں کا  زیادہ  بولنا  بھی    صرف تحقیق  کے  آلس  کی وجہ  سے عیب کیوں قرار دیا جائے ۔ ؟؟؟ جبکہ  یہ زیادہ  بولنا  ان  پر  خوب  خوب  جچتا ہو۔
شیخ سعدی  کے  ایک شعر کے  ترجمہ ہے :۔ " جس کا  حساب پاک  ہے اسے  محاسبہ  کا  کیا  خوف۔" پس  جس کا  اندر پاک  صاف  ہو  وہ  بھلا کس خوف  کے تحت اپناتالا کھولتے  ہوئے   گھبراہٹ  کا شکار  ہو۔  ارسل  مبشر  ہو  ملک  حبیب  ہوافتحار افی  صاحب  ہوں  یا  زبیر حسین  ۔ ان کے  بولنے  اور بے حد  اچھا  بولنے سے  میں اس نتیجے پر  پہنچا کہ  ایسے لوگ  کم از کم  منافق  کبھی  نہیں ہو سکتے۔  یہ  صفت (زیادہ بولنا  اور اچھا بولنا)صرف ان میں پائی  جاتی ہے  جن کا اندر پاک صاف ہو۔  اور یہ  وہی  صفائی  ہے جس کی  تاکید  حضرت  بابا بھلے شاہ  سرکار  ؒنے اپنے  کلام میں بھی فرمائی  ہے ۔
نماز پڑھن  کم  زنانہ ، روزہ  صرفہ  روٹی
اُچیاں بانگاں  او دیندے  ، نیت جنہاں  دی کھوٹی 
مکے دے ول اوہی  جاندے ، جیہڑے  کم دے ٹوٹی
او بھلیا  جے  توں  رب نوں ملنا  ، صاف کر اندر دی  کوٹھی 
(نماز پڑھنا کوئی  ایسامشکل  کام تو نہیں وہ تو عورتیں بھی پڑھتی ہیں۔  اور  روزہ  رکھنا  بھی  تو دراصل اپنا  فائدہ  ہے ۔ اونچی اونچی اذانیں وہ دیتے  ہیں جن کی نیت کھوٹی  ہو  (مراد ریا کار لوگ) مکے  کی طرف حج کو بھی وہی  جاتے  ہیں جو کام کاج سے جان چھڑاتے ہیں۔  پس یہ سب کام کرنے والا مردِمجاہد کہلانے کا حقدار  نہیں۔اور  نہ  ان کاموں  سے رب ملتا ہے ۔ ہاں اگر مردانہ  کمال  دکھانا ہے یا رب سے ملنے کی آرزو ہے  تو اپنا اندر صاف کر لو ۔ یہی تو  حقیقی  تصوف  ہے)۔

میرے  اس پیارے سے دوست زبیر میں صرف  یہی ایک  ہی  صفت نہیں۔  ان کی دوسری صفت  جانچنی  ہو تو  "اردو جواب" ویب سائٹ  کے شانِ نزول پر  غور کریں۔ 
ایک زمانہ تھا  کہ انٹر  نیٹ پر  اردو محض  دیوانے  کا خواب  تھی ۔ پھر  یونیکوڈ  اردو کی آمد کے  ساتھ  ہی انٹرنیٹ پر اردو  فورمز  بننے شروع ہو گئے ۔  حتیٰ کہ 2010 کے بعد تو یہ حال ہو گیا کہ   بقول  پطرس  بخاری :۔"کچھ عرصے بعد خون کی خرابی کی وجہ سے ملک میں جا بجا جلسے نکل آئے جس کسی کو ایک میز، ایک کرسی اور گلدان میسر آیا اسی نے جلسے کا اعلان کر دیا۔"( مرید پور کا پیر) ایسے ایسے  لوگوں  نے بھی  اردو فورم  بنا لیے  جنہیں واجبی  حد تک  بھی  اردو کے تین جملے مسلسل درست  بولنا  نہ  آتے ہوں گے۔ دنیا ئے  ہست و بود  میں مذہب  ، فرقہ ، ذات برادری  ، زبان، علاقے  کے نام سے  لوگوں کو ورغلایا جاتا ہے  انٹرنیٹ پر لوگوں کو  اردو کے  نام پہ  اکٹھا  کرکے اندر کھاتے اپنے  مذموم عزائم اور کریہہ  نظریات  کا  پرچار   کرنے  والے  سرگرم ہو گئے ۔کہیں آزادی  تحریر  و اظہارِرائے  کے نام پر  اسلام اور  پاکستان کے خلاف بکواس  کی جاتی  ہے اور جواب دینے والوں کو کتے کی طرح دُر دُر  کہہ کر  بھگا دیا جاتا ہے ۔چند  مفاد پرستوں کے حسنِ کرشمہ ساز  نے خرد کا نام جنوں رکھ دیا اور  جنوں کا نام  خرد رکھ  کے بدتہذیبوں کو اردو  کا ہیرو  بنا دیاہے۔ ایک طرف اتنی  روشن  خیالی کہ ایک شخص قرآن  مجید  میں اللہ تعالیٰ کی  نحوی اور  لغوی  غلطیاں نکالنے کے نام پر   اپنی  خباثت دکھا رہا ہے  اور  حضرت کے کان  پر جوں  نہیں رینگتی(العیاذباللہ)۔ وہیں یزیدیت  اور مطلق  العنانیت  کا وہ  عالم کہ کسی  بے چارے نے  ایڈمن  کی  کمینگی  پر  انگلی اٹھائی  تو  اس" سنگین ترین جرم"  کی پاداش  میں  اسے  عاق  کر کے دفع دور ہونے کا حکم ہے ۔ 
 یعنی کوئی اللہ  کی شان میں بکواس کرے اظہارِ رائے  کی آزادی ۔  کوئی رحمۃ للعالمین  کی شان میں گستاخی  کرے تو اظہار ِ رائے کی  آزادی ۔  کوئی  اسلام پر  بکواس کرے یا  نظریہ  پاکستان کے بارے میں بک بک کرے  ۔  یہ اظہارِرائے  اور  تحریر کی آزادی  اور انسان کا  بنیادی حق ہوا۔ اس سب سے  کسی  کو فرق نہیں پڑتا ۔  لیکن محض ایک ویب  سائٹ کے  مدیر  سے  اگر  کسی  نے  جواب دہی کا مطالبہ کیا تو  شاید عرش  ہل  گیا اور  کعبہ کے مینار  ٹیڑھے ہو گئے ۔ اب بندہ پوچھے کیا   وہ  بے حقیقت  انسان ان  کی نظر  میں اللہ  اور  اللہ  کے رسول  کی  نسبت  زیادہ  عزت والا  تھا۔۔۔؟؟؟؟(نعوذ باللہ)۔
   ((کاش  !!!!یہی  بات  ذوالقرنین  سرور  ، محمود مغل   اور عاطف بٹ  نے بھی  پوچھی ہوتی ۔۔۔۔))۔
میں نے کہا کہ بزم ِ ناز چاہیے  غیر سے  تہی  
سن کے ستم  ظریف نے  مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں

ایسے میں زبیر  بھائی  کو  اللہ  تعالیٰ کثیر  کثیر  جزائے  خیر  عطا فرمائے   جو اس چل سو چل اور بھیڑ  چال کا  شکار  نہیں ہوئے۔   انہوں نے خالصتاً سیکھنے  سکھانے کی غرض سے  "اردو جواب " کی بنا رکھی ۔  انٹر نیٹ پر بے شک ہر موضوع پر  بہت کچھ مل جاتا ہے مگر  اس  کیلئے گھنٹوں  خاک  چھاننے کے بعد  پھر  گوہر  مقصود کی  نشانی ہاتھ   آتی ہے ۔ اور پھر  اس آرٹیکل کو شروع سے  آخر تک پڑھنا پڑتا ہے ۔ اسی  مسئلے کا حل "اردو جواب"کی صورت میں ہے ۔ یہاں سوال کا دوٹوک  اور ٹو دی پوائنٹ  قسم کے جواب  مل جاتا ہے۔  یہ ایسا اوپن  فورم ہے کہ  جہاں ہر  کوئی  کسی  بھی موضوع پر(اخلاقیات  کے  دائرے میں)سوال کر سکتاہے۔ اور اگر  اسے "اردو جواب " پر  کسی  اور کے پوچھے  گئے سوال کا تسلی بخش اور  درست  جواب معلوم ہے تو وہ بلا تکلف جواب بھی دے سکتا ہے ۔ یعنی  یہ  ایک  ایسا   گوشہ  ہے  اور اردو زبان  میں  انٹر نیٹ پر  ابھی  تک  وہ واحد  ویب  سائٹ  ہے جہاں ہر بندہ  نہ صرف کچھ سیکھ سکتا ہے  بلکہ  اللہ کے دئیے ہوئے  علم میں سے اپنی  استعداد  کے مطابق  جواب  دے کر  کسی  کو کچھ سکھا   کر بہت سوں  کی  دعائیں بھی پا سکتا  ہے۔

پہلی بار زبیر  بھائی  سے  میری  ملاقات  اردو محفل  فورم پر ہوئی ۔ وہاں سے میرا "اردو جواب "پر جانا ہوا ۔  مجھے یہ  ویب سائٹ پسند آئی اور  میں نے  رکنیت حاصل  کر لی ۔  مجھے  اردو جواب کا سواں   رکن  ہونے کا اعزاز  ملا ۔ یعنی مجھ سے پہلے اردو جواب  کے 99 اراکین  تھے ۔   وقت کے ساتھ  ساتھ  "اردو  جواب " کا خوب  سے  خوب تر کا سفر جاری رہا ۔اور  یہ  زبیر  بھائی کا  بڑا پن  ہے  کہ  انہوں  نے  مجھ جیسےہیچمداں  کو اپنا  نمبر  دیا  پھرجب  چھٹی پر پاکستان تشریف  لائے  تو  فدوی  کے  ساتھ  ایک گھنٹہ  خوب  گپ  شپ  کی ۔اب  بھی  ابو ظہبی سے اکثر کالز  اور  میسجز  کے ذریعے  یاد فرماتے  رہتے ہیں۔
جی خوش  ہوا  حالی  ؔ سے  مل کر
ابھی  کچھ لوگ  ہیں   جہاں  میں

اس  نفسا  نفسی  کے  زمانے  میں جبکہ  انسانوں  کی  اکثریت  صرف  اس فکر میں ہے کہ  مجھے زیادہ  سے  زیادہ  فائدہ  کس کام سے  مل سکتا  ہے ۔  اس  زمانے  میں ایسے  پر خلوص  اور  بے لوث لوگوں سے  ملاقات  ہونا اور ان سے دوستی  ہونا   یقیناً  اللہ  کی  خاص رحمت ہے ۔ آج  کل  زمانے  کی برائیاں  کرنا فیشن بن چکا ہے  لیکن    کسی  کی  ایسی   گفتگو  کے دوران  میں زبیر  حسین جیسے  بے لوث اور  خالصتاً  خدمت ِ خلق اور  انسانیت  کی  بھلائی  کے جذبے سے سرشار  لوگوں  کی مثال دے کر   ہمیشہ  کہتا ہوں  کہ برائی  اور  اچھائی  کا توازن ہمیشہ  قائم  رہتا ہے ۔  ایسا  بالکل نہیں کہ  صرف برائی  ہی برائی ہو۔ جس قدر  برے لوگ ہوتے ہیں۔ اتنی  تعداد میں اچھے  لوگ بھی موجود رہتے  ہیں۔ ہو سکتا  ہے  ایسے  صاحبانِ کمال  ہماری  نظر سے  دور ہوں  لیکن   ہمیں چاہیے  کہ  ایسے لوگوں کو ہمیشہ  اپنے دل  سے   قریب  رکھا  کریں۔ کیونکہ  انہی  جیسے لوگوں کے دم سے انسانیت  کا  توازن  قائم  ہے ۔ 

3 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما