Friday, 10 January 2014

یارانِ نکتہ داں (قسط سوم) مبین افضل قادری

2 آرا
مبین افضل قادری

مرزا غالب ؔ کو تا زندگی یہی افسوس رہا کہ سچے موتیوں سے بھی زیادہ قیمتی  ان  کے کلام کا کوئی قدر دان نہیں ہے ۔  پھر  اللہ نے  منشی نبی بخش حقیرؔ  صاحب  سے ان کی  ملاقات کروائی ۔اور  منشی صاحب اپنی  سخن فہمی کی بدولت  غالب ؔ کے بہترین دوست ہو گئے ۔ غالبیات سے دلچسپی رکھنے والے جانتے ہیں کہ غالب منشی  صاحب کی دوستی کا کتنا دم بھرتے تھے ۔
چھوٹے غالب ؔ کے  بھی  اب  فیس  بک پر  کافی  سارے دوست تھے لیکن منشی  نبی بخش  صاحب جیسا  کوئی دوست نہ تھا  جسے حقیقی  سخن فہم   کہا  جا سکتا۔پھر  قدرت  نے  چھوٹے غالب ؔ کو  نئے زمانے کے منشی نبی بخش  سے  ملوایا۔  جن کا نام  اس زمانے  میں مبین افضل  قادری ہے ۔  حیرت  انگیز  بات یہ کہ جناب کا تعلق بھی  فیصل آباد  سے ہے ۔ حیرت انگیز  اس لیے  کہ میرے دوستوں کی اکثریت  فیصل آبادی ہی تھی اور ہے ۔ میری بے کار زندگی  میں سے جو چند لائقِ ذکر سال  گزرے  ہیں وہ بھی اسی  روای ، چناب کے دو آبے میں گزرے ہیں۔   اور فطری طور پر  بھی میری لائل پوریوں سے گاڑھی چھنتی ہے ۔  قریب  کی مثال ارسل مبشر کا تعلق بھی تو فیصل آباد کے مردم خیز  علاقے  سے  ہے۔   اب اللہ نے منشی نبی بخش  دیا تو وہ بھی فیصل آباد سے۔۔۔۔شالا  وسدا  رہے  فیصل آباد۔

علامہ اقبال نے اپنی ساری  شاعری  میں جس صالح جوان  کا  خاکہ  بیان کیا ہے ۔ مثلا ً  " ہے  وہی جوان قبیلے کی آنکھ کا تارا۔" اور  " ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند۔" وغیرہ  وغیرہ   اسے  میں ہمیشہ علامہ اقبال  کی فینٹاسی  سمجھتا تھا ،  کہ آج کل کے زمانے میں ایسے صالح شاہین بچے  بھلا کہاں ملتے ہیں۔ لیکن  مبین افضل قادری کی صورت میں جب اس صالح جوان کو مجسم دیکھا تو حیرانی  اور خوشی  کے عالم میں اپنے دل کے تیسرے خانے  کی چابی  مبین افضل کے حوالے دی ،  جیسے  شیخ  نصیر الدین  عرف کالے  میاں  صاحب نے  اپنا مکان  مرزا  غالب  کو  بغیر  کرائے  کے رہنے  کیلئے دے دیا تھا۔
بے حد سلجھا  ہوا   اور  سلیم فطرت   نوجوان  ،  اس قدر صالحیت کہ جھوٹ اور افسانہ محسوس ہو ۔ وسیع المطالعہ ، بلندپرواز تخیل ، اور سب سے بڑھ کر  سخن فہم ۔ انداز تکلم ایسا  کہ بولتے   جائیں بولتے جائیں اور  سننے والے کو بوریت نہ ہو۔ ایسی خصوصیات  تو  خیر  اکثر  منافق قسم کے لوگ بھی اپنی اداکاری  کی بدولت اپنے  اندر لیے پھرتے ہیں ، جن سے اردو محفل پر  کئی بار واسطہ پڑا ۔  لیکن مبین  کی سب  سے بڑی خصوصیت اس کی شفافیت اور قول و فعل میں حیرت انگیز حد تک مطابقت ہے ۔بلکہ میرے خیال  میں یہ  باطنی  طور پر اور  بھی زیادہ پیارا ہے بہ نسبت اپنے ظاہر کے۔
میں سمجھتا تھا  کہ شاید  میں ہی   مبتلائے حیرت ہوں ، مگر  ایک خاتون کے کمنٹ  سے  اندازاہوا  کہ ایک  میں ہی  نہیں   ہر  شخص  دانتوں میں انگلی  دابے اس بوالعجبی پر  ٹک  ٹک دیدم  ، دم نہ کشیدم   کی تصویر  ہے کہ "ایسا  بھی  کوئی ہو سکتا ہے اس زمانے  میں۔" مبین کی ایک پوسٹ پر  ان کا کمنٹ پڑھ کر اتنی ہنسی آئی کہ  پوچھیے مت ۔ کمنٹ  ملاحظہ ہو :۔ " شکل سے تو آپ  مولوی  لگتے ہو ،  لیکن آپ کی پوسٹیں، آپ کے کمنٹس پڑھ کر  آپ کی بے حد سلجھی ہوئی سوچ  اور آپ کے اعلیٰ اخلاق  کی داد دینی پڑتی ہے۔"یہ ہے ہمارا حال ۔ ہم ہر   داڑھی والے کو مولوی اور ہر نابینا کو حافظ صاحب سمجھ لیتے ہیں۔  اس میں تو خیر کوئی مضائقہ  نہیں حد تو تب ہوتی ہے جب ہم فقہ  کے مسائل اور دین  کی اختلافی باریکیاں  ہر  ایک داڑھی والے کو  مفتی  اور علامہ سمجھ کر  پوچھنا شروع کر دیتے ہیں۔  صرف اسی پر  بس نہیں پھر  اس لال بجھکڑ  کے بتائے اٹکل پچو کو قرآن حدیث سمجھ کر  اپنا دین اور عقیدہ خراب کر لیتے ہیں۔ یہ تو خیر  ایک جملہ معترضہ تھا ۔
کافی عرصہ مبین اور  میں دوست رہے ۔  اور  جب  میری مبین سے چیٹ ہوتی تھی تو پھر  موہے  یاد نہ رہتا   تھا کوئے ۔  چھاپ تلک سب چھین لیتے  یہ موسے باتاں کرائی  کے ۔  تصوف ، ادب ، مابعد الطبعیات ، شاعری پر  ہی بس نہیں بلکہ مبین وہ  واحد دوست تھا جس کے ساتھ میں سیاست پر  تبادلہ خیال کر لیتا تھا ۔ایک بار گپ شپ کے دوران  ڈاکٹر ذاکر نائیک کا ذکر آ گیا ۔  تو گپ شپ  ایکسپریس  اس طرف چل  نکلی  ۔  جب  بات ڈاکٹر صاحب کے  اس  بیان  " کربلا  ایک سیاسی  جنگ تھی ، جسے  مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔" پر  آئی تو مبین نے ایک بہت ہی خوبصورت کمنٹ کیا ۔ بولا:۔  "ہمارے  ابا جی فرماتے  ہیں کہ اللہ  تعالیٰ جب کسی کو ذلت   ورسوائی دینا چاہتا ہے تو زمین پر اتر کر  اس کے سر میں ڈنڈا مارنے نہیں آتا ۔ بس اس کی سوچ  کا رخ اُلٹا کر دیتا ہے۔ "اس وقت  سے آج  تک  اس  بات  پر سر دھنتے  دھنتے  گردن  کی   ایسی  تیسی  ہو گئی  ہے  ۔اور مجھے یہ  زبردست بات تا زندگی شاید  بھول نہ پائے ۔

 شانی اور ارسل  کی طرح اگر  مبین افضل    کوئی پھل ہوتا تو یقیناً  یہ انجیر  ہوتا۔ بہت ہی خاص اور بہت ہی قیمتی پھل  ۔  جس کا  نہ صرف  ذائقہ  منفرد  ہوتا ہے بلکہ اس  کے فوائد  اتنے ہیں کہ  باقاعدہ  ایک کتاب اس پر  لکھی جا سکتی ہے ۔ اور یقیناً اللہ کے نزدیک بھی وہ پھل خاص  ہوگا تبھی تو اللہ نے قرآن میں اسے  اپنی قسم کے لائق سمجھا ۔انجیر بچپنے  سے  ہی میرا  پسندیدہ ترین رہا ہے ۔ اس کا سب سے منفرد  اور خاص الخاص کمال  اس  کے  ذائقے  کی بوقلمونی  ہے ۔ اکثرپھل  مختلف  علاقوں اور مختلف آب و ہوا  کے باعث  اپنے  ہی  ہم جنس پھل  سے مختلف  ذائقے کے ہو  تے ہیں۔مثلاً ایک  ہی  قسم کا  مالٹا  مختلف  علاقوں  میں مختلف  ذائقے  کا  ہوتا ہے ۔  آم  کی بذاتِ خود کئی  اقسام ہیں۔    مگر  انجیر  کا کمال  یہ  ہے  کہ ایک   ہی درخت  پر  لگنے والا  ہر  انجیر  تو  دور  صرف  ایک  انجیر  بھی  اپنے  اندر  مختلف  ذائقوں  کا  جہاں چھپائے  ہوتا ہے۔ تجربہ  کرنے کا دل کرے  تو  ایک  انجیر  کے  بالفرض  دس  برابر ٹکڑے کر لیں۔  پھر  ان ٹکڑوں   کو مختلف  اوقات  میں یا     ہر روز  ایک  ٹکڑا  کھائیں ۔  آپ  خود محسوس  کریں  گے کہ    وہی  ایک انجیر  آپ کو دس گھنٹوں میں دس  لذت آفرین اچھوتے   ذائقوں سے روشناس کرائے گا۔
انجیر  کی  ایک اور   حیرت انگیز  خصوصیت    اپنی  آنکھوں سے دیکھنی ہو  تو  ایک زندہ   سانپ  کو  کسی  مٹی کی ہنڈیا   یا   کسی  بھی برتن میں رکھ کر  انجیر  کے درخت کی جڑ  (تھوڑی  سی مقدار) کچل  کر   اس  ہنڈیا یا برتن میں ڈال دیں ۔اور ڈھانپ دیں۔  اگر  شیشے کا برتن ہو تو اور بھی بہتر ہے تاکہ  آپ  یہ حیرت انگیز  تماشا دیکھتے  ہوئے  خود  کو  قدیم  رومن  ایمفی  تھیٹر  میں محسوس کر سکیں۔سخت  جان  سے سخت جان  اور زہریلے سے زہریلا  سانپ  بھی  زیادہ  سے زیادہ  ایک گھنٹے  میں  تڑپ  تڑپ کر  مر جائے گا۔  لیکن سانپ کا مرنا کمال نہیں بلکہ کمال یہ ہے  کہ سانپ سکڑ کر  اپنی   جسامت  اور وزن سے  آدھا یا اس سے  بھی کم رہ جائے  گا۔  
  انجیر کا  ایک اور کمال یہ ہے  جو کہ دنیا کے کسی اور پھل یا چیز  میں نہیں کہ یہ پکنے کے بعد  محفوظ  صرف ایک ہی صورت میں کیا جاسکتا ہے ۔  انجیر  کو  پکنے کے کے بعد نہ تو ریفریجریٹر  زیادہ دیر تک  محفوظ کر سکتا ہے نہ ہی کوئی کیمیکل ۔  اسے صفر  سے  کم درجہ حرارت پربھی   محفوظ نہیں کیا جا سکتا ۔  واحد صورت صرف  خشک کر کے محفوظ کر نے کی ہے ۔

مبین افضل کا ایک خوبصورت بلاگ بھی ہے ۔ لیکن  شاید  بال بچوں کی ذمہ داریوں میں انہیں کافی عرصہ  سے اسے اپ ڈیٹ کرنے کی فرصت  نہیں مل پائی ۔
  اس قدر گہری دوستی کے باوجود حیرت ہے  کہ ہم دونوں کو کبھی  فون پر  رابطہ کرنے کا خیال نہ آیا۔   پھر  ایسا  ہوا کہ  بالترتیب  فیس بک اور اردو محفل دونوں کا استعمال  مجھ  سے چھوٹ گیا اور  مبین سے رابطے کا یہ   اکلوتا ذریعہ بھی ہاتھ  سے  جاتا رہا ۔اب اس امید پر  یہ تذکرہ  لکھا  ہے  کہ شاید  یہ تحریر  مبین  کی نظر سے گزرے ۔اور  میں اس سے  دوبارہ   اس کی صحبت سے  فیضیاب  ہو سکوں۔

دو  افیمی  اپنی  ہی دھن  میں کہیں جا رہے تھے  کہ  ایک  کا  پیر  پھسلا  اور  وہ  گہرے گڑھے میں گر کے  ہائے  ہائے الاپنے  لگا۔  لیکن  دوسرے افیمی  کو  تھوڑا آگے  جانے  کے بعد  ہم سفر  کی  غیر موجودگی کا ادراک ہوا۔   پریشانی میں ادھر  ادھر  نظر دوڑائی اور چلایا  ، ارے دوست کہاں  ہو۔۔۔۔؟؟؟  گڑھے  میں گرے  افیمی نے مدد  کی  امید  میں پھیپھڑوں  کی پوری قوت  کے ساتھ   دہائی  دی کہ  "یار میں یہاں گڑھے میں ہوں ۔" افیمی نے یہ سن کر  اطمینان سے سر ہلایا  اور   کہا:۔ "اچھا دوست  میری  دعا ہے  جہاں رہو  ، خوش  رہو ۔" اور  آگے  چل پڑا
اس  افیمی کی طرح میری  بھی اللہ سے دعا ہے کہ میرا  یہ پیارا دوست جہاں بھی ہو اللہ کی رحمت کے سائے اور اس کی حفظ و امان  میں ہو ۔       

2 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما