Friday, 28 November 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔ (جنازہ) ۔(9)۔

2 آرا

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارہ


۔71  سال  پہلے جو جسم اس دنیا میں آیا تھا ،  آج  وہ  اس دنیا سے جا رہا تھا۔  71  سال کا  یہ عرصہ  بہت ہنگامہ خیز گزرا۔ بچپن  اور جوانی کا ابتدائی  حصہ  آبائی گاؤں  کوٹ والا میں گزرا ۔ اس کے بعد  دادا جی  اپنی اولاد کو  ادھر لے آئے اور اپنی زمینوں  پر ہی گھر بنا لیا۔  تقریباً ایک ایکڑ  کے رقبے پر  ہمارا سادہ سا دیہاتی طرز کا گھر  پھیلا ہوا تھا۔ ہوش  سنبھالنے سے  لے کر  تیس سال کے  اس عرصے کے دوران   ابا جی کے شوقِ تعمیر  کے سبب   میں نے اس گھر کو کئی شکلیں بدلتے دیکھا۔ اس  ایک ایکڑ  کی حویلی  کو دور اندیش ابا جی  نے کبھی  ایک  مرکزی  حویلی نہیں بنایا ۔ بلکہ  جیسے  جیسے  بیٹوں کی شادیاں کرتے آئے  سب کا دو دو کنال کا  الگ الگ   پورشن بنتا  گیا۔اور اب یہ میرا  پورشن زیر تعمیر تھا کہ ان کا وقت پورا ہو گیا۔ کم از کم  45 سال سے  وہ  جس گھر  کی تعمیر  در تعمیر میں لگے رہے  ۔ آج اسی گھر سے  ان کی رخصتی کا وقت آ گیا  تھا۔ 
اور پھر وہ  وقت بھی  آیا  کہ جن بیٹوں کو انہوں نے  اپنے کندھوں پہ بٹھا کے  ایمانیات  اور کلمے سکھائے تھے  وہی بیٹے  انہیں اپنے کندھوں  پر اٹھا کے  اس  گھر سے  رخصت  کرنے  کیلئے   چاروں طرف سے  تیار  کھڑے تھے۔  آخری دیدار  ہو گیا۔  اور کلمہ شہادت  کی گونج  میں چار بیٹوں  نے  ان کا جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔  سرہانے  کی طرف سے  حسنین  بھائی  اور ماموں  تھے۔ پائنتی  کی طرف  جنید حسنین  اور  اویس  تھے۔  جنازہ  کو  کندھا دینے  والوں (رشتہ داروں) کی اس قدر کثرت تھی  کہ  جنازے کے نیچے  بندے  سے بندہ جڑا تھا۔  میرے لیے  اگلا قدم  اٹھانا مشکل ہوتا تھا  کیوں کہ  آگے پیر رکھنے  کی  جگہ سامنے والے کے پیر ہوتے تھے ۔  کلمہ شہادت  کے ورد  کے ساتھ جنازہ  آہستہ آہستہ  آگے بڑھتے بڑھتے  ڈیوڑھی تک آن پہنچا۔ اس دوران  کئی بیچارے  بھیڑ  کے سبب  گرے  ، کچھ لتاڑے  گئے ، لیکن  چارپائی  کے دونوں  طرف سے  یہی عالم رہا  کہ  حقیقتاً تل دھرنے کو  بھی جگہ نہ تھی۔

جونہی  ہم نے مین گیٹ پار کیا۔  اس  کے بعد  تو حد ہی ہو گئی۔  باہر  عوام کا اس قدر ہجوم تھا  ، اور سب اسی کوشش میں کہ کسی طرح جنازے کو کندھا دے سکیں۔  جتنے  بھی سید برادران  اب تک جنازہ اٹھا کے اندر سے آئے تھے  ، ان بے چاروں  کو  مکھن میں سے بال کی طرح الگ کر لیا گیا۔  اس کے بعد  جنازہ  جیسے  انسانی  ہاتھوں پہ تیرتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔  سڑک پہ  پارک کیے  موٹر سائیکلز  ایک طرف اور دوسری طرف  کھال۔دیوانگی  کا یہ عالم  تھا کہ    لوگ ہیں  پاؤں  کچلے جا نے کی  ، موٹر سائیکلز  کے ہینڈلز پیٹ میں لگنے ،  فٹ پیڈ  پنڈلیوں ، گٹوں پہ لگنے  کی پرواہ کیے بغیر    بس جنازہ  کو کندھا  دینے کے شوق چوٹیں  کھاتے جا رہے پھر بھی چلے جا رہے ہیں۔   یقین کیجئے  کہ  جب کھال کو پار کرنے لگے  تو  اس وقت یہ حال  تھا کہ  میرے ہاتھ چارپائی پر تھے  اور میرے دونوں  پیر ہوا  میں۔  لوگ تھے کہ بس اٹھا کے کوئی  جھٹکا لگے بغیر چند سیکنڈ میں کھال پار کر کے جنازہ  کیلئے مختص  کیے گئے  خالی ایکڑ  میں داخل ہو گئے ۔ 
میں تھا کہ گلا پھاڑ پھاڑ  کے سب کو  جنازہ کو راستہ دینے کا کہتا جا رہا تھا  ، اور لوگ تھے  کہ نہ  انہیں جوتوں  کی پرواہ تھی  ، نہ  ہی  دھول مٹی  کی۔  کئی بے چارے  اسی  دھکم پیل میں بری طرح گرے لیکن فوراً اٹھ کر  دیوانہ  وار جنازے کو ہاتھ لگانے کیلئے آگے بڑھے ۔ایسے مناظر  صرف سنے تھے ، پڑھے تھے  ۔ لیکن اپنی آنکھوں  سے دیکھنے کا  پہلی بار اتفاق ہوا  تھا۔  
آخر کار  جا کے جنازہ رکھ دیا گیا ۔   اور  رکھنے کے بعد معلوم ہوا  کہ باقی  تین بھائی  ، کزن  اور ماموں  وغیرہ  اس دھکم پیل میں کہیں پیچھے ہی رہ گئے ہیں۔  صرف میں اکیلا تھا  اور  دھاڑیں مار مار  کے بے قابو ہوتا ہجوم ۔   سابق وفاقی  پالیمانی سیکرٹری  نواب  امان اللہ  خان، نواب احسان  اللہ خان ، نواب سیف  اللہ خان ، نواب انعام  اللہ  خان  ،  اور  سید رضا شاہ گیلانی جیسی  سیاسی شخصیات  اور دبنگ  وڈیرے  کہ عام حالات  میں لوگ جن کے سامنے  سر نہیں اٹھاتے ، آج  انہی کو عام لوگوں کی طرح دھکے کھاتے دیکھا۔ لوگوں کو جیسے  آج  صرف  جنازے کو   ہاتھ لگانے  اور ابا جی کے  آخری دیدار  کے علاوہ  کسی چیز کی پرواہ نہیں۔  میرا گلا بیٹھ  گیا  چلاتے چلاتے ۔ ارے خدا کے بندو  ! دھکے  کھانے کی بجائے  ایک قطار میں سب لوگ  دیکھتے جائیں اور گزرتے جائیں۔  لیکن  کچھ  سمجھ دار لوگوں  کے علاوہ  کسی نے  اس التجا کی پرواہ نہ کی۔ حتیٰ کہ جب ایک صاحب کو جب میں نے کہا کہ دھکم پیل کی بجائے  قطار میں شامل ہو جاؤ  تو وہ مجھ سے ہاتھا پائی پر اتر آیا  کہ  تم کون ہوتے ہو ہمیں اپنے پیر کے  قریب آنے سے روکنے والے ۔  کوئی عام موقع ہوتا  تو یقیناً میں اس کا سر کھول دیتا ، لیکن   اس وقت  سب کی ایک ہی حالت تھی ۔  سبھی جذبات سے مغلوب ہو  چکے تھے ۔  اسی وقت کسی نے اسے  شاید میرا تعارف کرا دیا کہ  یہی  ان کا چھوٹا  بیٹا  ہے ، تو  وہ بھلا مانس  مارے شرمندگی کے   منہ لپیٹ کر  ہجوم میں غائب ہو گیا۔  بعد میں   مجھے سمجھ  آیا کہ  اس کا مقصد  صرف آخری دیدار ہی نہ تھا ، بلکہ  وہ چارپائی کی  اس پوزیشن پر آکر  جنازے کو کندھا دینا کا موقع  ڈھونڈ رہا تھا۔

پورا  ایک ایکڑ جسے لیزر لیولر  کے ذریعے  دو دن پہلے ابا جی کے کہنے پر جنازے کیلئے  خالی  چھوڑ  دیا گیا تھا۔  اب یہ سارا رقبہ  ایک سر ے سے دوسرے سرے تک  کندھے سے کندھا ملا کر  کھڑے  غمزدگان کی  15  صفوں   سے  بھر چکا تھا۔   سید سجاد  سعید  کاظمی شاہ  صاحب جتوئی سے دھنوٹ پہنچ چکے تھے ، اور ان  کے دھنوٹ  سے   یہاں پہنچنے میں بمشکل  پانچ منٹ  ہی لگے ہوں  گے۔  اور  ان پانچ منٹ سے پہلے جو فدوی نے خود  پہلی صف میں کھڑے ہو کر  15  صفیں گنی تھیں،  اب  امام صاحب کی آمد  تک  پیچھے دو  اور ہمارے آگے  ایک اور  صف  کا  اضافہ  ہو گیا تھا۔  پیچھے سر گھما کے دیکھا  ، تو سید رضا شاہ گیلانی  سابقہ  ایم پی اے (مستقل) کو   چوتھی  صف میں کھڑے دیکھا      ۔ نواب میرے والی صف یعنی دوسری صف میں تھے  ۔   اور  پیچھے  جہاں تک نظر جاتی  تھی سر ہی سر  تھے ۔ساڑھے  اٹھارہ  صفیں ،  اور کندھے سے  کندھا  ملا کر  کھڑے لوگ۔  ہجوم کا یہ عالم تھا  کہ بڑے بھائی  سید حسنین بخاری کو  بمشکل پہلی صف میں جگہ نصیب  ہوئی۔اگر  کم از کم    ، اور محتاط  ترین اندازے  سے  ایک صف میں700  بندے فرض کریں  تو کل تعداد  کا تخمینہ 13000 تک جا پہنچتا ہے ۔
دھنوٹ کی تاریخ  میں کئی پر ہجوم  جنازے  ہوئے ہوں گے۔ میں نے اپنی  زندگی میں دو  پر ہجوم جنازے دیکھے  جن کے بارے میں میرا خیال تھا کہ یہ  سب  سے  زیادہ پر ہجوم ہیں۔ ایک  تب  جب 2005 میں میری  نانی  اماں  کا انتقال ہوا اور سارا دھنوٹ  جنازے میں امڈ  آیا۔  دوسرا  جنازہ  بڑے ماموں جان کا دیکھا  تھا  کہ  جگہ  کی  کمی کے باعث جنازہ ہائی سکول  کے  گراؤنڈ  میں لایا  گیا۔  تب    تقریبا  ً  12 صفیں  ہوئی تھیں ، اور  جنازے  سے  تدفین  تک  دھنوٹ کا  مین روڈ   کئی گھنٹے  ٹریفک  گزرنے کے قابل نہیں رہا۔  پولیس نے    شہر کے باہر  ہی ٹریفک  روک رکھا تھا  ، تا وقتیکہ  تدفین  نہ ہوگئی۔ اور اب یہ تیسرا  بڑا  اور سب سے  بڑا جنازہ تھا۔  یہ  صرف میرا  ہی نہیں کہنا ، بلکہ  اسی دن اور  بعد  میں  کئی دنوں تک نہ صرف  دھنوٹ اور نواحات   میں یہی موضوع سخن  رہا کہ  پیر صاحب نے تو  بڑے  پیر صاحب کا بھی ریکارڈ توڑ دیا۔
13  مارچ  2014  کا  سہ پہر 3 بجے  کا سورج ، عین سامنے ، تپتی  زمین پر  پسینہ  پسینہ لوگ جنہیں  اپنا بھی ہوش  نہ تھاپتھرائی  آنکھوں سے  دم سادھے  کھڑے تھے  ۔  امام صاحب نے جنازے کی نیت اور تکبیروں کی ترتیب کی وضاحت  کی اور  سب  نے امام صاحب کے تکبیر کہتے ہی  اقتدا میں ہاتھ باندھ لیے۔ سلام  پھیرتے ہی  صفیں  توڑ دی  گئیں  اور دعا مانگی  گئی۔   اس کے بعد  امام   صاحب  نے کپڑا ہٹا کر  ابا جی  کا چہرہ دیکھا ۔   اپنا  ہاتھ ان کے ماتھے پر رکھ کر  آنکھ بند کر کے کچھ پڑھتے رہے ۔ اور کچھ دیر  بعد  ویسے ہی کپڑے سے ڈھانک دیا۔  بڑے بھائی  آگے بڑھے  اور  دست بوسی کے  بعد  صاحبزادہ  صاحب کے ہاتھ میں آمد کے شکریے کے طور  پر  ہزار  والے  کچھ نوٹ  دینے لگے  تو انہوں نے   ہاتھ سے روک دیا۔  اور فرمایا:۔ "ارے نہیں بھئی! مجھے  تو شاہ  صاحب کے جنازے میں شریک ہونے کی  سعادت نصیب ہوئی ہے " (اللہ  اللہ  اللہ۔۔۔۔  یہ غزالی  زماں رازی دوراں  حضرت  علامہ  سید احمد سعید کاظمی شاہ  رحمۃ اللہ  علیہ  کے صاحبزادے  کا  اپنے والد محترم  کے مرید  کے بارے  میں کہنا۔۔۔ ہم پر  اپنے  ابا جی  کے   نئے نئے  کمالات  منکشف ہو رہے تھے ) اس کے بعد  اپنی  جیب سے  کچھ نوٹ نکال کر  بڑے بھائی  کے ہاتھ میں تھما دئیے ۔ اور پھر وہ اپنی گاڑی  میں سوار  کر  تشریف لے گئے  ، اور  ہجوم میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ۔ 

2 آرا:

  • 4 December 2014 at 22:12
    Anonymous :

    عرش پر دھومیں مچیں وہ مومنِ صالح ملا
    فرش سے ماتم اٹھے وہ طیب و طاہر گیا

    اللہ اللہ۔۔۔۔۔۔ اللہ کے دوستوں کی کیا نرالی شان ہے
    نمازِ جنازہ میں لوگوں کی کثرت سے انکے درجات کی بلندی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے
    بے شک اللہ جسے چاہے عزت و مرتبہ عطا فرمائے یہ اس کا کرم ہے
    اللہ پاک انکے درجات کو بلند فرمائے اور ہمیں ایسے درویش صفت اللہ کے دوستوں سے محبت کرنے کی سعادت نصیب فرمائے آمین۔
    صاحبِ تحریر کے لئے ڈھیروں دعائیں
    جزاک اللہ۔

  • 6 December 2014 at 14:26

    تبصرے اور دعاؤں کیلئے بے ممنون و شکر گزار ہوں
    جزاک اللہ

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما