Friday, 21 November 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔۔ (7)۔

6 آرا
ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے

آدھی رات  ہوتے ہوتے  میں نے کمرہ خواتین سے خالی  کرا لیا کہ اب ہم خود تلاوت کریں گے۔اماں  نے کہا  بھی کہ بیٹا  دو  دن اور دو راتوں سے مسلسل  جا گ رہے ہو۔  تھوڑا سا آرام کر لو ، کیونکہ کل سے  قل خوانی تک  سب انتظامات آپ نے ہی  تو سنبھالنے ہیں۔  لیکن میں نے کہاکہ اماں  قرآن مجید  ساری اولاد کو ابا  جی نے  خود  پڑھایا تھا۔  اب اتنا تو ان کا  حق بنتا ہے کہ  ہم بھی  ان کیلئے تلاوت  کر لیں جبکہ ہمارے ساتھ ان کی یہ آخری رات  ہے۔  ہم تو پھر بھی سوہی لیں گے ۔  
وضو کر کے میں آیا  تو  میرے سوتیلے بھائی  (سید شاہد حسنین) تلاوت میں مصروف تھے ۔ میں نے بھی تلاوت شروع کر دی۔  جنید بھائی بھی تشریف لے آئے  اور رضائی اوڑھ کے زبانی ہی  تلاوت کرنے لگے۔کچھ دیر  بعد  سید  محمد  رضا بھی   آ گیا۔  اور ایک بجے تک تلاوت میں مصروف رہا۔پھر وہ بھی چلا گیا،  اور جنید  بھائی بھی تلاوت کرتے کرتے دیوار سے ٹیک لگائے سو گئے۔ اڑھائی  بجنے تک  شاہد بھائی کی  ہمت بھی جواب دے گئی ۔  دس پاروں کی تلاوت کے بعد بولے یار میری تو آنکھیں دھندلا رہی ہیں۔  میں نے کہا ذرا دیر  آرام کر لیں،  اور وہ کمبل میں گھستے ہی فراٹے  سے خراٹے مارنے لگے۔
اب میں تھا اور ابا  جی۔۔۔۔
گھڑی  کی سوئیاں  چلتی رہیں اور  میری تلاوت جاری رہی۔  تین بجے کے قریب مجھے عجیب  سا  محسوس  ہونے لگا۔  دروازہ  حالانکہ  بند تھا پھر بھی  دروازے سے  ایک کے بعد ایک  ٹھنڈے  جھونکے  آتے ہوئے محسوس ہوئے ۔  اور چند منٹ بعد  ایسا محسوس  ہوا  کہ  کمرہ لوگوں سے بھر گیا ہے ۔ حالانکہ  کمرے میں ہم چار  اجسام کے سوا کوئی نہ تھا۔ جن میں سے اباجی سمیت دونوں بھائی سوئے تھے، اور چوتھا میں۔  خالی  کمرہ جس میں صرف ایک  چارپائی پر ابا جی  لیٹے تھے کے سوا کوئی سامان  نہ تھا۔  فرشی نشست  تھی بیٹھنے کیلئے ۔ اور  کمرہ ایسے محسوس  ہو رہا تھا  کہ کافی تعداد میں لوگ اندر بیٹھے ہوں۔  پہلے تو مجھے اپنا وہم لگا،  لیکن جب  واضح طور پر  محسوس  ہونے لگا کہ ہمارے علاوہ بھی  اس کمرے میں کافی لوگ موجود ہیں، تو  سردی  کے  باوجود  بھی  مجھے پسینہ آ  گیا۔ پہنی ہوئی جرسی اتار  دی۔   حلق  میں   خشکی محسوس  ہوئی  تو گلاس  کی طرف  ہاتھ بڑھایا ۔  گلاس  کے علاوہ ڈیڑھ  لیٹر  کی پانی سے بھری بوتل  جو ساتھ  ر     کھ کے تلاوت کرنے بیٹھا  ،   خالی  تھی۔  
میں تلاوت  روک کے اٹھا  اور  ایک نظر ابا جی  کی طرف ڈالی ،  ان پہ رضائی  اور چہرے  پر  سفید کفن کی چادر  پڑی تھی ۔  میں باہر نکلا   کہ ایک چھوٹا  سا  وقفہ ہو جائے  اور اسی دوران خیال  بھی بدل جائے  گا۔  لیکن  باہرآکر  تو  یہ احساس  اور بھی قوی ہو گیا۔ ساڑھے تین کا وقت  تھا  ، چاروں طرف خاموشی کا عالم تھا ، سارا  صحن  خالی  تھا ، لیکن اس کے باوجود ایسا محسوس ہوا  کہ صحن لوگوں  سے بھرا ہوا  ہے۔  واش روم کی  طرف جانے کو قدم بڑھایا  تو  ایسا  لگا جیسے بہت بڑے ہجوم میں سے گزرنا پڑ رہا  ہو۔ دونوں کندھوں  سے  کچھ ٹکراتا  محسوس ہوتا  رہا۔   
دوبارہ  وضو کے  بعد  جب میں واپس آنے لگا تو  اس احساس  میں اور بھی اضافہ  ہو گیا۔  نہایت واضح  طور پر    کچھ لوگوں  کی نہ صرف  موجودگی  محسوس ہوئی  بلکہ  ہلکی ہلکی  سرگوشی نما آوازیں   بھی  محسوس ہوئیں۔  کمرے میں واپس آیا تو  کمرے کے  ماحول  میں ایک غیر محسوس  سی تبدیلی محسوس ہوئی ۔  آنکھیں دیکھنے سے قاصر تھیں لیکن چھٹی حس کا   مسلسل  بجتا الارم  کہہ رہا تھا کہ  یہ محض ایک وہم نہیں۔   دوبارہ  تلاوت کرنے کیلئے آلتی پالتی  مار کے بیٹھا تو  محسوس  ہوا  کہ بیٹھنے کو  جگہ تنگ  ہے۔  دونوں گھٹنوں اور کندھوں پہ  انتہائی  واضح طور پر  لمس  محسوس  ہونے لگا۔   جو لوگ  مجھ سے  ذاتی  طور پر  واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ  میں نہ تو اعصابی کمزوری کا مریض  ہوں  ، نہ  ہی کوئی  ڈرپوک  ۔  الحمد اللہ  بے خوفی  اور نڈر ہونے  میں فدوی  اپنے  والد صاحب  پر گیا ہے ،  لیکن  مجھے یہ اقرار  کرنے میں کوئی باک نہیں کہ  اس  وقت میں سچ مچ ڈر گیا تھا۔یہ اس قسم کا ڈر نہیں تھا، جیسا کہ  عمومی طور  پر لوگوں کو محسوس ہوتا ہے۔ اتنا  تو مجھے معلوم تھا  کہ کچھ  لوگ آئے  ہیں،  اور جس اعلیٰ مقام و مرتبے  کے لوگ تشریف لائے ہیں ،  یہ  اسی  دبدبے  کا  اثر تھا  ۔  نہ معلوم میں کن کن ہستیوں  کے ساتھ بیٹھا تھا۔  مزید  شدت سے میں نے  اپنی توجہ تلاوت کی طرف کر دی۔  چار بجے بجلی  چلی گئی اور اندھیرا ہوا  تو  معلوم ہوا  کہ  سارا کمرہ اندھیرا ہے سوائے  اباجی چار پائی  سے چھت تک کہ ایک  واضح سفید روشنی تھی ، اتنی واضح  کہ کفن کی چادر کے نیچے  سے پھوٹتی صاف  دکھائی دیتی تھی۔     میں نے سر جھٹکا  اور  ساتھ  پڑی ٹارچ روشن کر کے  تلاوت کا  سلسلہ  جاری رکھا۔  
تقریبا ً آدھے گھنٹےبعد باہر  سے آتی  آوازوں سے محسوس  ہوا کہ  اماں  جی وغیرہ اٹھ گئے  ہیں۔  اور کچھ دیر بعد  اماں  جی ، باجی ،  خالہ جی    وغیرہ   کی آمد ہوئی اور  کمرہ  پہلے کی طرح خالی  ہوگیا۔ اب وہ  احساس بھی  ختم ہو گیا۔لیکن  ابا جی  کی چارپائی  کو گھیرے ہوئے  روشنی کو سب نے دیکھا  ، اور  دم سادھ کے بیٹھ گئے۔ پھر آہستہ آہستہ  اور لوگ بھی اٹھ کے آنے لگے ، اور بجلی نہ ہونے کی وجہ  سے بیٹھے درود شریف کا  ورد کرتے رہے ۔ اور کچھ صرف میری تلاوت  ہی سنتے رہے۔  باجی اور اماں  نے  بہت کہا کہ  اب تم کچھ دیر وقفہ کر لو  اور اتنی دیر تک  آگےہم  پڑھ  لیتے ہیں ۔  لیکن  میں نے تلاوت جاری رکھی۔ چھ بجے حافظ ذیشان بھی  آگیا   اس نے  کہا ماموں  اب آگے  میں پڑھتا ہوں ۔  میں نے کہا  سورۃ یوسف تک پڑھ کے  میں اٹھتا ہوں۔  سوا  چھ بجے  میں نے  قرآن مجید  اور ٹارچ  ذیشان کے حوالے کیا  اور   پیچھے ہٹ کے دیوار سے  ٹیک لگا کے کمبل اوڑھ لیا۔ اتنی دیر میں سوئے ہوئے دونوں بھائی بھی جاگ گئے  ، اٹھے اور جا کے اپنے اپنے  گھر سو گئے۔ کچھ دیر بعد  خیال آیا  کہ  یہاں  آرام کرتا رہا تو                باہر  کے کام کون دیکھے گا۔ 
باہر نکلا  تو دانی آیا ہوا  تھا ، چاچو  چاول   بھگونے  کیلئے رکھ دیں ۔ دیگوں کے حساب سے  12 ، 12 سیر  چاول  بوریوں  میں ڈال کے ٹیوب ویل کے حوض میں جا کے رکھ دئیے  ۔ ابا جی  کاشاگرد  حافظ محمد رشید ،  اور کچھ اور حفاظ  کو بھیجا  کہ  وہ  ابا جی کی قبر کے  اندر  بیٹھ کر تلاوت  کرتے رہیں۔  

مشرق  سے  سورج طلوع ہو رہا  تھا ۔  اور ہماری یتیمی کی پہلی رات گزر چکی تھی۔ 

6 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما