Tuesday, 2 December 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔۔ (10)۔

0 آرا

گزشتہ سے پیوستہ



ہجوم میں ہلچل مچ گئی ۔  اس ہلچل میں ایک شناسا نے مجھے  دیکھا تو میرے گلے  لگ گئے اور اظہارِ افسوس کیا۔ بس اس کا گلے لگنا تھا کہ لوگ مکھیوں  کی طرح مجھ پر ٹوٹ پڑے ۔ اس  سے پہلے بھی انہی لوگوں  کے درمیان کھڑا تھا ، لیکن مجھے  شکل سے کوئی نہ جانتاتھا۔ اب  سب  کی کامن سینس  نے بتا دیا شاید  کہ  یہ  ضرور پیر صاحب کے  صاحبزادوں  میں سے چھوٹا ہے ۔  اور پھر ایک کے بعد  ایک  کا سلسلہ  شروع ہو گیا۔  لوگ  بے تابی سے  مجھے  گلے ملنے اور اظہارِ افسوس کیلئے ٹوٹے پڑ رہے تھے ۔   کئی  بڑے بوڑھے بزرگ میرے گلے لگ کے دھاڑیں مار مار کے روتے رہے ۔ اور کئی بے چارے مجھے  بتا تے رہے کہ  ہم آپ کے مرید  ہیں ۔  اب پیر صاحب کے بعد آپ ہی  ہمارے لیے ہیں۔ سب کو صبر کی تلقین کرتے  اور "اللہ دی مرضی دے کم" کے جواب میں "ہاں جی ،  اس کی رضا میں ہم راضی" کہتے کہتے میرا  گلا  سوکھ گیا۔  مگر لوگ تھے کہ  تینوں  اطراف سے  امڈے پڑتے تھے ۔  میں نے  بازو کھول کر ایک ساتھ دو دو  کو  گلے ملنا شروع کر دیا۔ اور  لوگ بجائے ہمیں دلاسا  دینے کے میرے کندھے پہ سر رکھ کے روتے رہے۔   اچانک  عرفان  میرے قریب آیا  اور کہا  کہ  جنازہ  تو گیا۔  اب کیا کوٹ  والا  نہیں جانا کیا۔  یہیں  کھڑے رہے تو  یہ ہجوم نہیں کم ہونے والا۔  اس وقت مجھے  یاد آیا  ارے  ہاں۔  ہمیں تو حسب  الحکم  جنازہ اٹھا  کے جانا  تھا۔  بڑی مشکل سے منت  ترلہ کر کے  جان چھڑائی کہ اب مجھے دربار  شریف جانا  ہے تدفین کیلئے ۔
جونہی  نماز کے بعد جنازہ  اٹھایا  گیا۔  ابا  جی کے ارشاد  کے مطابق  ایک بکرے  کو  ذبح کر دیا  گیا تھا۔    اور اب جو دیکھا  تو اس کا گوشت  بھی کاٹا جا رہا تھا ۔   دریاں  بچھا دی گئیں تھیں اور لنگر جاری ہو چکا تھا۔ یہ سب  دیکھ کے اطمینان  کا سانس  لیتا  اندر  گیا تاکہ اماں جی کو بتا دوں  ۔ اندر جاتے ہی  خواتین مجھ سے  اظہار ِ افسوس  کیلئے امڈ پڑیں ۔ میں نے ہاتھ جوڑ کر  معذرت کی کہ  ابھی مجھے تدفین کیلئے جانا ہے ۔ یہ سب ہوتا رہے گا، ابھی مجھے اجازت دیجئے ۔  
 اماں  جی   نے کہا  کہ  عہد  نامہ  لیتے جاؤ  اور ان کے ہاتھوں  میں تھما کے رکھ دینا۔  اور  حسنین  سے کہنا کہ  تدفین کے بعد   کوئی  چیز منگوا کے بانٹ دے۔  یہ تاکید پلے باندھتا ،  باہر لپکا ، عرفان  موٹر سائیکل  پر تیار کھڑا  تھا۔  میں بیٹھا اور یہ جا وہ جا۔ ہمارا خیال  تھا کہ  ہم راستے میں  ہی جنازے  کے ساتھ  شامل ہو جائیں گے۔  لیکن حیرت انگیز طور  پر  ہم موٹر سائیکل  پر  بھی پیدل جانے والوں  کے قریب نہ  پہنچ پائے ۔  یہاں تک  کہ  جنازہ  کوٹ والا  گاؤں  میں ہماری  قدیمی آبائی مسجد کے  سامنے پہنچ کے رک چکا تھا۔ 
اس قدر  تیز رفتاری  پر  صرف مجھے ہی حیرت نہیں ہوئی ۔ بلکہ  کئی عینی شاہدین جنہوں نے  جنازہ  جاتے ہوئے دیکھا  تھا ان کے بیان کے مطابق  جنازہ  ایسا  محسوس  ہو رہا تھا  کہ  ہوا میں دوڑتا ہوا جا رہا ہو۔  اس  قدر تیز رفتاری  کے  ساتھ کہ   حیرت  ہوتی ہے۔
مسجد  کے سامنے  رکنے  کی ایک  وجہ تو یہ تھی  کہ  ہمارے ایک رشتہ دار  جو کہ شوگر  کے مریض ہیں انہوں  نے درخواست  بھجوائی تھی  کہ  مجھے آخری دیدار  سے محروم  نہ رکھا جائے ۔ دوسری وجہ یہ  تھی  کہ  جیسا کہ ابا جی  کا حکم تھا کہ  میرا جنازہ  میرے بیٹے اٹھا کے لے جائیں۔  اب یہاں  سے آگے  چند  میٹر  کے فاصلے  پر دربار  شریف تک   ہم بیٹے ہی لے جاتے ۔
سید ظفر  شاہ صاحب کو ان کا بڑا بیٹا  اٹھا  کر  لایا اور  انہیں آخری  دیدار کروایا  گیا۔   اس کے بعد   سرہانے  سید  حسنین بخاری  اور جنید بخاری  اور پائنتی کی جانب سے  فدوی  اور سید  شاہد  حسنین  نے  جنازہ اٹھایا  اور باآواز بلند  کلمہ شہادت  پڑھتے  دربار شریف کی جانب لے چلے ۔  دربار عالیہ کوٹ  والا  کے سامنے پہنچ کر    کچھ صاحبان  نے جنازہ  ہمارے کندھوں سے اپنے کندھوں پر لے لیا  اور  عین  دربار عالیہ کے سامنے  رکھ دیا۔     
دربار کے بائیں جانب  اپنی والدہ   کے پہلو  میں ان کی آخری آرامگاہ ان کی  زندگی میں ہی تیار ہو  چکی تھی ۔  ہم جس وقت پہنچے  اس وقت  حافظ صاحبان  اندر بیٹھے  تلاوت میں مصروف تھے ، اور سورۃ  دہر کی تلاوت   ہو رہی  تھی۔ (یعنی پارہ  29 کی ایک سورۃ اور تیسواں پارہ باقی  تھا ) کچھ ہی دیر میں قرآن مجید کا  ختم کر کے  حافظ رشید اور   حافظ سید ذیشان بخاری  باہر نکلے ۔
اس  کے بعد  یہ سوال  کھڑا ہوا کہ ابا  جی کو قبر میں کون اتارے  گا۔  سب سے پہلےبڑے بھائی  صاحب قبر میں اترے ،  لیکن  کچھ ہی دیر بعد  پسینہ پسینہ ہو کر باہر نکل آئے ۔  ان کا چہر ہ دیکھ کر  میں نے  جنید کے کان میں سرگوشی کی  کہ  حضرت  قبر دیکھ کر  حوصلہ  ہار بیٹھے  ہیں۔  حسنین بھائی قبر  سے نکل کر  پاس کھڑے بھی نہ ہوئے  ۔ بلکہ وہاں سے  دور جا کے  بیٹھ گئے۔  ہمارے  ایک چچا زاد  بھائی   جن کا  قبر میں میت اتارنے کا  وسیع تجربہ  ہے ۔ آگے بڑھے ۔  ہمیں ان کا  نام لے کر ابا  جی روکا تھا  کہ  اسے  میری قبر میں نہ اترنے دینا۔ (کیونکہ ہمارے خاندان  میں بزرگوں  کے  زمانے سے ہر قسم کی منشیات  اور تمباکو نوشی  سختی سے منع  ہے۔  جبکہ یہ صاحب عادی سگریٹ نوش تھے) جنید  نے روکا  تو  داڑھی  کو چھو کر منت  کرنے لگے کہ  میرے بھی چچا لگتے  ہیں،  خدا کا واسطہ  وغیرہ وغیرہ ، میں  نے پیچھے سے  بازو  پکڑ  کے  روک  لیا اور حسب عادت  سختی سے  کچھ کہنے ہی والا  تھا کہ  بڑے بھائی (جو کہ میری  عادت سے خوب واقف تھے) لپک کر آگے آئے  اور مجھے خاموش رہنے کا  اشارہ کیا ۔   قبر  کا داخلی  راستہ  جنید  کے  قوی ہیکل  جثے کے مقابلے میں بہت چھوٹا تھا۔  اس لیے  کزن صاحب قبر میں اترے  اور ان  کے بعد میں اترا۔ 

زمین  سے تقریباً    پانچ فٹ  نیچے   قبر  کے اندر  داخلے  کیلئے ایک  فٹ چوڑا  اور دو فٹ لمبا روشن دان  نما راستہ تھا۔   اس  سے قبر  کے فرش تک  مزید پانچ  فٹ گہرائی تھی۔ 

0 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما