Tuesday, 25 December 2012

مرحوم کی یاد میں

2 آرا


پطرس بخاری صاحب اور مجھ میں اگراور کچھ مشترک مانا جائے یا نہ ، مگر ہم دونوں کا بخاری ہونا مجھ میں مزاح نگاری کےجراثیم پیدا کرنے کیلئے کافی تھا۔ وہ میرے پسندیدہ مزاح نگار بھی ہیں ، یہی بات ان کے مضمون "مرحوم کی یاد میں" کا پارٹ 2 لکھنے کا محرک بنی۔ اگر کسی نے داد میں ڈنڈی ماری تو خاکسار سے "برا" کوئی نہ ہوگا۔


ہمیں شروع دن سے ڈرائیوری سےنجانے کیوں نفرت رہی ہے(واضح رہے کہ نفرت ڈرائیوری سے ہے انسان سے نہیں )یہاں تک کہ گھر میں موجود ہوتے ہوئے بھی موٹرسائیکل تک چلانا سیکھنے کی کوشش نہیں کی۔
ایک دن میرے ایک عزیز (دانی)نے کہا چاچو آپ کوموٹرسائیکل تو ضرور سیکھنی چاہیے، بلکہ اس نیک کام کی ابتدا میں اپنے ہاتھوں سے کروں گا۔ جب ہم کسی طریقے سے رام نہ ہوئے تو موصوف نے کہا کہ اگر آپ کے پاس موٹرسائیکل ہوگی تو لڑکیاں بھی آپ میں (مزید ) زیادہ دلچسپی لیں گی۔ بس ا س کا یہ تیر نشانے پر بیٹھا اور ہم نے موٹرسائیکل سیکھنے کی حامی بھر لی۔دانی خود بھی موٹرسائیکل کابہت شوقین ہے ۔ بلکہ یہ کہنابے جا نہ ہوگا کہ دھنوٹ میں رینٹ اے موٹرسائیکل والوں کے کاروبار کا سارا دارومدار دانی پر ہی ہے۔ یہاں سب سے زیادہ گھنٹے رینٹ پر موٹرسائیکل لینے کا اعزاز بھی اسے حاصل ہے۔ عموماً 24 گھنٹے کیلئے موٹرسائیکل رینٹ پر لے لیتا ہے۔جب رینٹ اے موٹرسائیکل والوں کا کاروبار مندا ہو جائے تو دعا کرتے ہیں کہ "یا اللہ ! دانی چھٹی پر آجائے"۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
جب ہم نے موٹرسائیکل سیکھنے کا ارادہ کر ہی لیا تو موٹرسائیکل ملنے کا پہلا ٹارگٹ بڑا بھائی تھا۔ بڑے بھائی سے موٹرسائیکل مانگی تو اس نے ہمارے "نیک" ارادے کو بھانپتے ہوئےمعذرت کر لی اور کہا "بھئی ، مجھے ابھی اپنی موٹرسائیکل کی بہت ضرورت ہے، میں اسے تباہ نہیں کرنا چاہتا ۔"ہر طرف سے مایوس ہو کر دانی نے ہمیں رینٹ کی موٹرسائیکل کی راہ دکھلائی ۔
چنانچہ اگلے دن ہم دونوں نے موٹرسائیکل رینٹ پر حاصل کی ۔ دانی نے پہلے تو مجھے اپنے پیچھے موٹرسائیکل پر سوار کرکے دو تین چکر لگائےتاکہ ہمارے اندر ڈرائیوری کے جراثیم جاگ جائیں ۔ اور جب ہمارے اندر ڈرائیوری کے جراثیم جاگ اٹھے تو دانی نے موٹرسائیکل روکی اور ہمیں ڈرائیوری کےموضوع پر ایک بھرپور لیکچر دیا ، جس میں بتایا کہ پہلے چابی لگانی ہے، پھر کک مار کر موٹرسائیکل سٹارٹ کرنا ہے۔ پھر کلچ کو پکڑ کر پہلا گئیر لگانا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ کلچ چھوڑتے جانا ہے، موٹرسائیکل خود بخود چلنے لگے گی۔
اب ہم موٹرسائیکل پر سوار ہوئے جبکہ دانی میرے پیچھے بطور انسٹرکٹر سوار ہوا ۔ میں نے کک لگائی ، کلچ پکڑ کر گیئر لگایا ۔ اور جونہی کلچ چھوڑا دانی صاحب نیچے گر پڑے اور موٹرسائیکل اوپر کی طرف منہ کر کے یوں کھڑی ہوگئی جیسے ہم نے چاند کی طرف سفر کرنا ہو ۔ دانی اپنے کپڑوں سے گرد جھاڑ تا اٹھ کھڑا ہوا اور ہمیں بتایا کہ یہ کلچ کو یکدم چھوڑنے کا نتیجہ ہے۔ میں نے کہا "اس کا مطلب ہےاگر چاند پر جانے کا پروگرام ہو تو کلچ کو یکدم چھوڑ دو اور اگر زمین پر سفر کرنا مقصود ہو تو کلچ کو آہستہ آہستہ چھوڑو۔""بات تو آپ کی ٹھیک ہے" دانی نے بے چارگی سے کہا " لیکن خیال رہےبعض اوقات کلچ کو یکدم چھوڑنے سے چاند سے بھی آگے کا سفر طے ہو جاتا ہے"۔
اگلی دفعہ جب انہی مراحل سے گزرے تو کلچ کو چھوڑتے ہوئے میرا دل بہت ڈول رہا تھا ۔ جی نہیں چاہتا تھا کہ کلچ کو چھوڑوں ، لیکن پیچھے انسٹرکٹر کے روپ میں بیٹھا دانی مسلسل کلچ چھوڑنے کی آوازیں لگا رہا تھا ، اور کہہ رہا تھا اب کلچ کو چھوڑ بھی دیں ، یہ کلچ ہی ہےکسی لڑکی کا بازو نہیں ہے۔اس کی ضد پر میں نے دھیرے دھیرے کلچ چھوڑا تو موٹرسائیکل واقعی آہستہ آہستہ سڑک پر آگے بڑھنے لگی ۔ پھر انسٹرکٹر کی طرف سے آرڈر ہوا کہ اب کلچ کو دوبارہ پکڑو اور دوسرا گیئر لگاؤ۔ میں نے ایسا ہی کیا ۔ موٹرسائیکل پہلے کی نسبت تیز ہو گئی ۔ اس طریقے پر میں نے تیسرا اور چوتھا گئیر لگایا ۔
اب موٹرسائیکل ہوا سے باتیں کرنے لگی ، لیکن چونکہ مجھے موٹرسائیکلوں کی زبان نہیں آتی اس لیے مجھے بالکل بھی علم نہیں ہو سکا کہ موٹرسائیکل ہوا سے کیا کیا باتیں کر رہی ہے۔ ویسے میں نےاندازہ لگایا کہ موٹرسائیکل ہوا سے میری ہی چغلیاں کر رہی ہے۔ اتنے میں اگے ایک سپیڈ بریکر سر پر آ پہنچا ۔ ہمارے سر پر نہیں بلکہ میرا مطلب ہے کہ ہم سپیڈ بریکر کے عین قریب پہنچ گئے ۔ پھر کیا تھا ، موٹرسائیکل سپیڈ بریکر پر چڑھی اور پھر تین چار فٹ ہوا میں اچھلی ۔ اس لمحے میں خود کو جہاز میں سوار محسوس کر رہا تھا لیکن اگلے ہی لمحے جب موٹرسائیکل زمین پر اتری تو ہم دونوں دور تک گھسٹتے چلے گئے ۔ وہ تو اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ معمولی چوٹیں آئیں. . . اصولی طور پر تو دانی کو چاہیے تھا کہ موٹرسائیکل چلانے کا طریقہ مجھے بعد میں بتاتا لیکن اسے روکنے کا طریقہ پہلے بتاتا مگر اس کے سمجھانے کی ترتیب الٹ تھی، اسی لیے حادثے سے دوچار ہونا پڑا ۔"آج کیلئے اتنا کافی ہے ، اگلا سبق اگلے اتوار کو دوں گا" یہ کہہ کر دانی نے خودموٹرسائیکل چلائی ، میں پیچھے بیٹھا اور موٹرسائیکل اس کے مالک کو واپس کر دی گئی ۔
اگلے اتوار تک ہم ذہنی طور پر کافی حد تک موٹرسائیکل چلانے کیلئے تیار تھےاور ہم نے موٹرسائیکل کو روکنے کا طریقہ بھی سیکھ لیا تھا ۔ آج دانی میرے پیچھے انسٹرکٹر کے روپ میں بیٹھ کر بہت خوش تھا کیونکہ اس کی محنت رنگ لاچکی تھی اور اس کا "ہونہار"شاگرد موٹرسائیکل چلانے ہی والا تھا لیکن ہماری یہ خوشی بالکل عارضی ثابت ہوئی۔
ہوا یوں کہ گاؤں کے گندے نالے کے کنارے کے ساتھ ساتھ بنی پکی سڑک پر ہم جا رہے تھے۔ سامنے ہمیں ایک کسان بیل کو لے کر جاتا ہوا نظر آیا ، ساتھ میں اس کا کتا بھی تھا ۔ جب کتے نے ایک اناڑی ڈرائیور کو موٹرسائیکل چلاتے دیکھا تو اس کی رگِ کمینگی پھڑکی اور اس نے اعلانِ جنگ کرتے ہی یلغار کر دی۔ ہم نے بھی موٹرسائیکل کی سپیڈ بڑھا دی ۔ کتے کا منہ ہماری ٹانگ کےقریب سے قریب تر آتا جا رہا تھا اور ہم کتے سے بچنے کیلئے موٹرسائیکل تھوڑا تھوڑا مخالف سمت میں کرتے جارہے تھے۔ ہمیں ہوش اس وقت آئی جب موٹرسائیکل سڑک سے لڑھک کر گندے نالے میں جا رہی تھی ۔ دانی تو پچھلے اتوار سے چوکنا ہو گیا تھا ، اس نے جب موٹرسائیکل کو گندے نالے میں جاتے دیکھا تو چھلانگ لگا دی ، جبکہ ہم موٹرسائیکل سمیت گندے نالے میں جا گرے ۔
اب یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں کہ جب ہم گندے نالے سے نکلے تو انسان سے بھوت تک کا سفر ایک ہی جست میں طے کر چکے تھے۔ موٹرسائیکل اور دانی کو ایک دوسرے کے رحم وکرم پر چھوڑ کر ہم نے گھر کی راہ لی، جو کہ وہاں سے 10منٹ کی پیدل ڈرائیو پر تھا ۔ جب بھوت کے روپ میں گھر پہنچا تو اماں محترمہ نے سرے سے پہچاننے سے انکار کر دیا اور ہمیں اجنبی سمجھ کر خوب صلوٰتیں سنائیں ۔ ناچار سیدھا نل کے نیچے پہنچا ، جوں جوں پانی پڑتا گیا ہمارا چہرہ مبارک واضح ہوتا گیا۔ اماں بھی کچھ کھسیانی سی ہو گئیں ۔اورجیسے جیسےصورت حال واضح ہوتی گئی توپوں کا رخ دانی کی طرف ہوتا گیا ۔
گندے نالے سے موٹرسائیکل کو نکال کر مالک کے حوالے کرنےتک دانی پر جو بیتی وہ ایک الگ داستان ہے۔ اس کے بعد دانی نے کسی کو بھی ڈرائیوری کی فیلڈ میں اپنی شاگردی میں لینے سے پکی توبہ کر لی۔
اب ہم کار کی ڈرائیوری سیکھنے کیلئے پر تول رہے ہیں ۔ اگر کوئی صاحب ہمیں شاگرد بنانا چاہیں تو ان کی مہربانی ہوگی۔

2 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما