Monday, 24 December 2012

کیوں

0 آرا





اسرار الحق مجاز




آج شب جو چاند نے ہے روٹھنے کی ٹھان لی
گردشوں میں ہیں ستارے بات ہم نے مان لی
اندھیری سیاہ زندگی کو سوجھتی نہیں گلی
کہ آج ہاتھ تھام لو، اک ہاتھ کی کمی کھلی


کیوں کھوئے کھوئے چاند کے فراق میں ، تلاش میں ، اداس ہے دل
کیوں اپنے آپ سے خفا خفا ، ذرا ذرا سا ناراض ہے دل
یہ منزلیں بھی خود ہی طے کرے، یہ راستے بھی خود ہی طے کرے
کیوں تو راستوں پہ سہم سہم ، سنبھل سنبھل کے چلتا ہےیہ دل


زندگی سوالوں کے جواب ڈھونڈنے چلی
جواب میں سوالوں کی ایک لمبی سی لڑی ملی
سوال ہی سوال ہیں ، سوجھتی نہیں گلی
کہ آج ہاتھ تھام لو، اک ہاتھ کی کمی کھلی


جی میں آتا ہے ، مردہ ستارے نوچ لوں
ادھر بھی نوچ لوں، ادھر بھی نوچ لوں
ایک دو کا ذکر کیا، میں سارے نوچ لوں
کیوں تو آج اتنا وحشی ہے ،مزاج میں  مجاز ؔ اے غم ِ دل


دل کو سمجھانا ، کہہ دو کیا آسان ہے 
دل تو فطرت سے ، سن لو نا بے ایمان ہے
یہ خوش نہیں ہے ، جو ملا، بس مانگتا ہی ہے چلا
جانتا ہے ، ہر لگی کا درد ہی ہے بس اک صلہ
جب کبھی یہ دل لگا ، درد ہی ہمیں ملا


دل کی ہر لگی کا سن لو درد ہی ہے اک صلہ
 کیوں نئے نئےسے دردکے فراق میں ، تلاش میں ، اداس ہے دل
کیوں اپنے آپ سے خفا خفا ، ذرا ذرا سا ناراض ہے دل

0 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما