Sunday, 30 December 2012

سچ تو یہ ہے

0 آرا





سچ تو یہ ہے قصور اپنا ہے

چاند کو چھونے کی تمنا کی

آسمان کو زمین پر مانگا

پھول چاہا کہ پتھروں پہ کھلیں

کانٹوں میں کی تلاش خوشبو کی

آرزو کی کہ آگ ٹھنڈک دے

برف میں ڈھونڈتے رہے گرمی

خواب جو دیکھا

 چاہا سچ ہو جائے

اس کی ہم کو سزا تو ملنی تھی

سچ تو یہ ہے

 قصور اپنا ہے


0 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما