Friday, 28 December 2012

جانے کس واسطے

0 آرا



جانے کس واسطے 




جانے کس کی تلاش ان کی آنکھوں  میں تھی

آرزو کے مسافر بھٹکتے رہے

جتنے بھی وہ چلے

 اتنے ہی بچھ گئے راہ میں فاصلے

خواب منزل تھے اور منزلیں خواب تھیں

 راستوں سے نکلتے رہے راستے

جانے کس واسطے

 آرزو کے مسافر بھٹکتے رہے


0 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما