Monday, 2 September 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط سیزدہم)

0 آرا

کیا غمخوار  نے رسوا، لگے آگ اس محبت کو


نشیب و فراز تو زندگی کا حصہ ہیں۔  اور  ہر عروج کو  زوال ہے ۔  اس  میں کسی کی شعوری یا لاشعوری کوشش کو چنداں دخل نہیں۔اپنے آپ  پہ اترانے  والا  انسان تو محض ایک کٹھ پتلی ہے ۔ کیا خوب فرمایا ہے مرزا غالب ؔ علیہ  الرحمۃ  نے :۔ 
نقل کرتا  ہوں  اسے  نامہ اعمال میں مَیں 
کچھ نہ کچھ  روزِ ازل  تم نے لکھا ہے تو سہی
آٹھویں  جماعت کے سالانہ امتحان  بورڈ آف ایجوکیشن فیصل آباد  کے زیر اہتمام ہونے  قرار  پائے  تھے ۔ اور گورنمنٹ ہائی  سکول  نمبر  ایک  ،  نزد پریم ستی  ٹرسٹ  کالج   امتحان گاہ مقرر ہوئی ۔ مولانا حضرات سر پہ ٹوپیاں  سجائے امتحان دینے پہنچ  گئے ۔  پہلا پرچہ  نہایت  ہی اچھا ہو ا۔   اور وہ  جو ایک ہوّا سوار  تھا وہ  بھی  اتر گیا ۔  نگران  بھی آلسی  تھے ۔ اور کوئی خاص سختی بھی نہیں تھی ۔  باقی سب پرچے  تو بغیر  بیرونی  ذرائع  کی مدد  سے  بہترین ہو تے رہے  ۔ مگر  ایک کمبخت ریاضی  سے جوگی  کی کبھی نہ بنی تھی ۔  اس لیےجس  دن  ریاضی کا پرچہ درپیش  تھا     وقتِ روانگی  "امام ضامن  "طور پر ٹیسٹ پیپر (جسے  طلباء  کی زبان میں "خلاصہ" کہا جاتا ہے ) ساتھ رکھ لیا ،تاکہ حوصلہ  رہے اور  یہ ریزرو  بوقتِ  ضرورت کام آئے ۔ اور کمرہ امتحان میں  داخل ہونے سے پہلے وہ ٹیسٹ  پیپر  مبینہ طور پر  امتحانی  فائل  کے اندر گھات لگا کے بیٹھ گیا ۔
پرچہ شروع  ہوا۔  سوالیہ پیپر  ہاتھ آیا تو ٹیسٹ  پیپر  ساتھ لے آنے پر افسوس  ہوا۔ کیونکہ آدھا پرچہ تو خالصتاً  اپنے  زورِ بازو  پہ حل کیا جا سکتا تھا ۔  لیکن اب خلاصہ   ساتھ آ ہی گیا  ہے  تو خیر  ہے ۔  اور  یہی تو خام خیالی تھی  کیونکہ   آج قطعاً خیر نہ تھی ۔تقدیر  حسبِ عادت  بندے  کی تدبیر  پر کھی کھی کھی  کیے    جا رہی تھی ۔
آدھا پرچہ  تو لگے ہاتھوں"ایمانداری بہترین حکمتِ عملی ہے " والے  مقولے  کو   مدنظر رکھ  کے  حل کر ڈالا   گیا ۔  اس  کے بعد  سپریم کورٹ  کی  طرح  نظریہ ضرورت کو  جواز  بنا کر  اپنی پوزیشن مستحکم رکھنے کیلئے ٹیسٹ  پیپر  سے  مدد  لینے  کا  "اصولی "فیصلہ  کیا گیا ۔  دیدہ  دلیری  ملاحظہ ہو  کہ  جوابی پرچے  کے  نیچے ٹیسٹ پیپر  پڑا  ہے ۔  جیسا کہ کسی  کن ٹُٹے عاشق  کا قول  ہے کہ "دل میں سجا رکھی ہے تصویر یار ۔   ذرا  سر جھکا کے  دیکھ  لیا " اسی  طرح نگران  صاحب کے گھومتے  ہی پرچہ اٹھا  کے نیچے سے  جواب دیکھ لیا ۔  زندگی  میں  پہلی بار نقل لگائی  تھی ۔  اور  خوشی بھی بہت  تھی  کہ ریاضی  نہیں سمجھ میں آتی تو نہ آئے ، ٹیسٹ پیپر زندہ  باد ۔ 
اسی  اثنا میں سنٹر  سپرنڈنٹ  صاحب حسبِ معمول رسمِ دستخطی  ادا کرنے کو اس  کمرے میں  داخل ہوئے  اور  ہمیشہ کی طرح ہر  ایک طالب علم  کے جوابی پرچے کے ماتھے پر دستخط کے نام  پر  لکیریں گھسیٹنے  میں مصروف ہو گئے ۔  دماغ  نے جوگی سے کہا  :۔ حالات اور احتیاط کا تقاضا ہے  کہ ٹیسٹ پیپر کا  تبادلہ  کر دیا  جائے  اور اس  کو عارضی  طور پر  گھٹنے  کے نیچے  پناہ گاہ میں بھیج دیا جائے ۔ یہ رائے مناسب بھی تھی ۔ مگر  ایک  کمبخت  دل بھی تو  انسان میں ہوتا  ہے جس  کے بارے میں مرزا  غالب ؔ علیہ  الرحمۃ  کا قول ِ فیصل ہے کہ :۔"  دوستدار  دشمن ہے  ، اعتمادِ دل معلوم"
اس منحوس  دوستدار  دشمن نے  دماغ پر  ڈرپوک  ہونے کی پھبتی  کسی  اور کہا کہ پہلے کبھی کسی نے اتنی  تلاشی  لی ہے جو آج  لے گا ۔ زیادہ  ہی خوف ہے  تو ٹیسٹ پیپر کو  پرچے کے  نیچے سے نکال  کر فائل کے اندر رکھ لو۔  اول تو  وہ کسی کی فائل کھول کے اندر دیکھ  ہی نہیں رہا ۔ دوم یہ سپرنڈنٹ کو ئی  مرزا  غلام احمد قادیانی تو نہیں کہ اسے الہام ہو جائے گاکہ جوگی کی فائل میں   ٹیسٹ پیپر پڑا ہے ۔ کمبخت کے  دلائل اتنے  زوردار تھے کہ جوگی  نہ چاہتے  ہوئے بھی دل  سے  متفق ہو گیا ۔  جونہی سپرنڈنٹ پہلی رو سے دوسری  رو میں مڑا  ،چشم  زدن  میں خلاصہ پرچے کے نیچے  سے  فائل کے اندر منتقل ہو گیا ۔  اور جوگی  دنیا  جہان  کی شرافت اور مسکینی  چہرے پر سجائے   پرچہ حل کرنے  کی  اداکاری  میں  مصروف  ہو گیا۔  آخر  کار  وہ منحوس  گھڑی آن پہنچی ۔ سپرنڈنٹ  نے  فائل  لے کر  پرچے پہ دستخط گھسیٹے  اور آگے بڑھ گیا ۔  جوگی  کا  رکا ہوا سانس  بحال ہوا اور ابھی کلمہ  شکر  منہ سے نکلا بھی نہ تھا  کہ سپرنڈنٹ واپس مڑا  اور  جوگی سے فائل کھولنے کو کہا ۔ 
اُس وقت  کی  کیفیات  کو حوالہ الفاظ کرنا بے حد مشکل ہے ۔ بس اتنا معلوم  ہے ، فائل کھلی ، اندر خلاصہ پڑا منہ چڑا رہا تھا ۔  سپرنڈنٹ  نے نام  پوچھا  اور کہا  یہ کیا حرکت ہے ۔؟؟  جواب  نہ ملنے پر  پیپر  چھین لیا اور کمرے سے دفع ہو جانے کا آرڈر دیا۔  یہ تو غالب کا حوصلہ  تھا  کہ فرمایا   :۔ "دے وہ   جس قدر ذلت ہم ہنسی میں  ٹالیں  گے" کیونکہ  "ان" کا پاسباں  غالب ؔ کا آشنا  نکل آیا تھا ۔ لیکن جوگی کیسے ہنسی میں ٹال دیتا جبکہ پاسبان تو کیا نگران بھی  آشنا نہ تھا اپنا ۔ منہ  بنائے  ، فائل بغل میں دبائے  ، بہت بے آبرو ہو کر  اس کمرے سے  ہم نکلے ۔ نجانے جنت سے  نکلتے وقت  حضرت  آدم علیہ السلام کی کیا کیفیا ت ہوں گی ۔
  باہر  اس سکول کے  ہیڈ  ماسٹرصاحب ٹہل رہے  تھے ۔ جوگی کو جو یوں  عربی اونٹ  کی  طرح  گردن اٹھائے باہر جاتے دیکھا تو وقت پوچھا ۔ معلوم ہوا  کہ  ابھی  آدھا وقت  بھی نہیں گزرا ۔  پھر تم کیوں جا رہے ہو ۔؟  چلو واپس جاؤ  ۔۔۔۔قاعدے کے مطابق آدھا وقت تو بیٹھو ۔ جوگی نے وضاحت کی  کہ جناب مجھےتو بیٹھے رہنے میں کوئی  اعتراض نہیں البتہ سپرنڈنٹ صاحب  کو ضرور  ہے ۔ ہیڈ ماسٹر صاحب ہنس پڑے اور جوگی کو ساتھ لیا  اور  خود کمرے میں دوبارہ بٹھا گئے ۔ نگران صاحب کی جو بے عزتی ہونی تھی وہ  تو سپرنڈنٹ  صاحب پہلے ہی  کر چکے تھے ۔ اس لیے  اب نگران صاحب جوگی کے سر پہ سوار رہے ۔ مگر  ملنگ کو کیا پرواہ  کیونکہ وہ  تو 80 نمبر  کا پرچہ حل کر  کے پُر باش تھا ۔  اب چاہے سر پہ بیٹھے  یا گود میں، میری جانے بلا ۔۔۔۔۔


ایک مرگِ ناگہانی اور  ہے 


نگران صاحب سے  جب کسی طرح بے عزتی ہضم نہ ہوئی(کاش کوئی  اسے  پروفیسر  حکیم سلیمان  کی پھکی  کھا نے کا صائب مشورہ  ہی دے دیتا )تو موٹر سائیکل پہ سوار ہو کے آ گئے۔ اور دو  گھنٹے  رشید صاحب کے آگے رونے روتے رہے  ۔  ان کے جانے  کے بعد جوگی کو  سمن جاری ہوئے  اور      مغرب  کے کھانے  کے بعدرشید صاحب کی عدالت  میں جوگی کی پیشی  ہوئی ۔اور انہوں نے دو اور  دو ملا کر چار گھنٹے(بزعمِ خودتو)خوب بے عزتی   کی ۔ مگر مردِ ناداں پہ اس کلام ِ نرم و نازک  کابھلا  کیا اثر ہونا تھا ۔ البتہ  افسو س  اس بات کا تھا  کہ رشید صاحب  کی زبانی  بے عزت ہونا پڑا ۔ اور شاید رشید صاحب کو بھی زیادہ  دکھ یہی تھا کیونکہ انہوں نے جوگی  کو کبھی اپنی اولاد سے کم نہ سمجھا تھا ۔  
اب کیا ہو سکتا تھا ۔ ہونی ہو چکی  تھی ۔ پرنس آف پرشیا والا خنجر  بھی ہاتھ میں  نہ تھا کہ وقت میں واپس جا کر  سب کچھ ٹھیک کر دیتا اور  پرانی کہانیوں کی طرح سب ہنسی خوشی  رہنے لگ جاتے ۔ بنی بنائی ساری عزت کا جنازہ  نکل چکا تھا ۔  لائق فائق  طلبا ء والی  فہرست  سے خارج کیے جا چکے تھے ۔   ساری شہرت اور مقبولیت کو دھبا  لگنا  تھاسو   لگ چکا تھا۔


اپنا نہیں وہ شیوہ  کہ آرام سے بیٹھیں


انتقامی  کاروائی  کے طور پر   بقیہ سارے پرچوں میں جوگی اور  وسیم  نے  ایک"اندازِتخریب کاری اور"کا  مظاہرہ  کیا۔  عربی  ، سائنس  اور انگلش  کے پرچوں  میں تو  سارے کمرے کے مددگار ہوئے ہی  مگر  معاشرتی علوم کے مضمون میں تو کوئی  شریکِ غالب نہ تھا ۔  اس  لیے پہلے آدھے گھنٹے  میں  اپنا پرچہ حل کر کے  فارورڈ کر دیا ۔قائد اعظمؒ کے چودہ نکات  والا سوال  طلبا ء  کے نزدیک  بہت دہشت ناک  ہوتا تھا ۔  رٹا مارنا چونکہ اپنی  فطرت میں بھی نہ تھا اس لیے قائداعظم  ؒ    کے چودہ نکات باریک باریک  لکھائی میں پیمانے پر لکھ کے  لےگئے اور نہایت اطمینان  سے پرچے میں لکھ دئیے ۔
جونہی نگران  مڑتا  ، پرچوں کا تبادلہ ہو جاتا ۔   اپنا پرچہ  لکھنے کے بعد  جوگی نے وسیم کا  پیپر  حل کیا ۔  اس کے بعد  ان  دونوں کے پرچے کمرے میں گردش کرنے لگے ۔ ہمارے پرچے کسی  کے پاس کسی  اور کے ہمارے پاس ۔  اور  یہ پہلا موقع تھا جب  جوگی کسی  پیپر  میں پورے تین گھنٹے ٹک کر بیٹھا ہو ۔  اس دن بلا مبالغہ  بارہ  نالائق طلبا ء کے پرچے  نگران  کے  ناک کے  نیچے بیٹھ  کر جوگی نے خود لکھے ۔ 

0 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما